• اکتوبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
میاں محمد صدیق مغل قادری رضوی 9/11 دہلی کالونی کراچی نمبر 6 سے لکھتے ہیں:
"محترم و مکرم حضرت مولانا مفتی صاحب مدظلہ العالی۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ اکثر جگہ یہ رسم ہے کہ جب کسی کی وفات ہو جاتی ہے تو ابھی میت کو اول منزل بھی نہیں کیا جاتا کہ اہل میت کو کھانا وغیرہ پکوانے کی فکر اور میت کے اعزہ و اقارب و احباب کی عورتوں کے لیے پان چھالیہ وغیرہ کی فکر ہو جاتی ہے۔ اور بعد اول منزل کے قبرستان میں ہی اعلان دعوت کر دیا جاتا ہے کہ تمام شامل حضرات ٹکڑا توڑ کر جائیں۔ اس طرح پہلے ہی دن جبکہ اہل میت رنج و الم میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں اس طرح یہ اہتمام کرنا پڑتا ہے جیسے خوشی کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ پھر اسی طرح تیسرے دن پھر آٹھویں دن۔ اس طرح یہ سلسلہ چالیس دن تک چلتا رہتا ہے۔ بعد چالیس دن کے "چالیسویں" کے نام سے ایک دعوت اس طرح ہوتی ہے کہ اس میں پرتکلف کھانے، چائے، سگریٹ، پان چھالیہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شادی کی کوئی تقریب ہے۔
محترم آپ یہ فرمائیے کہ اہل میت کی طرف سے کھانے کی دعوت کرنا کیا شرعا جائز ہے، جبکہ اہل میت اس دعوت سے ذہنی اور مالی طور پر کافی پریشان اور زیر، بار ہوتے ہیں، وہ بھی مجبورا اس رسم کو نبھانے کے لیے قرض لیتے ہیں اور بعد میں قرض اتارنے کے لیے گھر کا سامان تک فروخت کرنا پڑتا ہے اور اس طرح مفلسی مستقل طور پر ان کے ہاں اپنا ڈیرہ ڈال لیتی ہے۔ اگر ان کو منع کیا جائے تو وہ جوابا کہتے ہیں کہ تم یہ چاہتے ہو کہ برادری میں ہماری ناک کٹ جائے اور تمام عمر ہم اپنے رشتہ داروں کے طعنے سنیں۔
  • دسمبر
1999
صفی الرحمن مبارک پوری
 "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ "
(اے ایمان والو!تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ شعار بن جاؤ)
اللہ تعالیٰ نے انسان میں خیر و شر دونوں کی صلاحیت رکھی ہے اور ہر شخص اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اپنے انداز فکر کے مطابق دونوں میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرتا ہے بلکہ مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اکثر لوگوں میں خیر و شر دونوں جمع ہوتے ہیں جو شخص خیر کی راہ اپنا تا ہے اس سے بھی فطری تقاضوں اور بشری کمزوریوں کی بنا پر بہت سی غلطیاں اور لغزشیں سر زد ہو جاتی ہیں اور جو شخص برائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ بھی بہت سے مواقع پر اچھے کام کر ڈالتا ہے۔