• دسمبر
2000
عبداللہ روپڑی
(داڑھی رکھنے کے بارے میں آج کل مسلمانوں میں بڑی غفلت پائی جاتی ہے ۔اور اب یہ غفلت اس حد تک بڑھ گئی ہے۔کہ عامۃ المسلمین میں داڑھی رکھنے کو شریعت کا حکم ہی نہیں سمجھا جا تا ۔بلکہ کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں گویا یہ صرف علماء یا مولوی حضرات کی ایک عادت یا رواج ہے اور یہ حکم ان لوگوں کے لیےہی ہے جو شریعت کی تبلیغ اور دین پڑھنے پڑھانے کا مشن سنبھالے ہوئے ہیں دوسری طرف مسلمانوں کی اکثریت اس جملہ سے شبہ کھاتے ہوئے کہ داڑھی سنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے اس کو صرف ایک مستحب امر سمجھتی ہے اور یہ قطعاًخیال نہیں کرتی کہ داڑھی نہ رکھنے پروہ اللہ کے ہاں پکڑے جائیں گے۔یہیں پر ہی بس نہیں بلکہ داڑھی رکھنے والے مسلمانوں کو اکثرتضحیک کا نشانہ بھی بنایا جا تا ہے علماء اور خطیب حضرات بھی اس مسئلہ میں عوامی رد عمل سے گھبراتے یا ملان کا خطاب ملنے کے ڈرسے اس مسئلے پر روشنی ڈالنے سے ہچکچاتے ہیں نتیجہ یہ کہ روز بروز یہ اسلامی شعار مسلمانوں میں متروک ہو تا جارہا ہے۔ اسی طرح بعض لوگ اپنی بے عملی کے بہانے کے طور پر چند روایتوں کو بھی پیش کر کے شرعی داڑھی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
داڑھی نہ صرف نماز، روزہ، اور حج کی طرح نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک عملی سنت ہے جس کو اپنانے کا شریعت میں واضح حکم دیا گیا ہے بلکہ اس کا تارک اللہ کے ہاں سخت سزا کا مستحق ہو گا۔ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق داڑھی مردکے لیے باعث زینت اور مو جب و قار ہے لہٰذا رضائے الٰہی کے طالبوں کو اسے بالکل نظر انداز نہیں کردینا چاہئے۔
  • اپریل
1982
چودھری عبدالحفیظ
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے بھی نقل کیا ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«خَالِفُوا الْمُشْرِكِيْنَ وَفِرُّوا اللِّحٰى وَاَحْفُوا الشَّوَارِبَ»