• اگست
2003
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال: اذان میں تثــویب یعنی 'ا لصلوٰۃ خیرمن النوم' کا فجر کی پہلی اذان میں کہا جانا سنت ہے یا دوسری اذان میں؟ ہفت روزہ 'الاعتصام' میں آپ نے اظہار فرمایا کہ کلماتِ تثـــویب اذانِ اوّل میں کہے جانے چاہئیں۔ اس پر میں نے اپنے اطمینان کے لئے آپ سے وضاحت چاہی تو آپ نے 'الاعتصام' مؤرخہ ۱۴؍ اگست ۱۹۹۸ء میں بحوالہ روایات مزید وضاحت کردی۔ میرا مقصد یہ تھا کہ سنت ِرسولؐ اور پھر تعامل صحابہؓ کا صحیح علم ہوسکے۔
  • اکتوبر
1988
اکرام اللہ ساجد
﴿ أَلَيسَ مِنكُم رَ‌جُلٌ رَ‌شيدٌ﴾

ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے لئے 16 نومبر سئہ 1988ء کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔۔۔لیلائے اقتدار کے پرستار لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر چکے ہیں اور ایک دوسرے کو نہ صرف دعوتِ مبارزت دے رہے ہیں، بلکہ کہیں کہیں باقاعدہ کشتیوں، ہاتھا پائی، توڑ پھوڑ اورفائرنگ وغیرہ کی خبریں بھی پڑھنے سننے میں آئی ہیں۔
  • نومبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
ظاہر ہے کہ کونی امور دنیا میں ان فطری قوانین کے مطابق سر انجام پاتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔۔۔ جبکہ ہر داعی کی ہر دعا قبول و منظور ہو جانے سے ان فطری قوانین میں خلل واقع ہوتا ہے۔ مثلا ہر آدمی مال و دولت چاہتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ ہر آدمی کی اس تمنا و خواہش کو پورا کر دیں تو انسان ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنے لگیں اور زندگی تباہ ہو جائے۔
  • اپریل
1980
ایم- ایم- اے
ماہنامہ  طلوع اسلام کے جولائی 1979ء کے شمارہ میں ’’آرٹ اور اسلام ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں آرٹ اور آرٹ میں سے موسیقی کو بلکہ مزا میر کو قرآنی فکر طے مطابق قابل قبول اور جائز ثابت کیا گیا ۔
ماہنامہ ‘‘ بلاغ القرآن اگست کے شمارہ میں جناب ایم ،ایم ،اے (سمن آباد ،لاہور ) نے ایک مضمون بعنوان ناچ گانا اور زبور مقدس لکھ طر طلوع اسلام کا تعاقب کیا اور یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم کی روسے موسیقی ایک لغو اور ناجائز  فعل ہے اور حقیقت یہ ہے کہ صاحب موصوف نے تعاقب کا پورا پورا حق ادا کردیا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا دونوں ماہنامے  (طلوع اسلام اور بلاغ القرآن ) بظعم خویش قرآنی فکر کے حامل ہیں ، دونوں احادیث و آثار اور تاریخ کا بیشتر حصہ وضعی قرار دیتے ہیں ۔ فہذا انہیں ناقابل حجت اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں ، ان میں سے صرف وہ حدیث یا وہ واقعہ ان  کے نزدیک  قابل اعتبار ہے جو ان کے زعم کے مطابق ہوں دونوں قرآن کریم کے معانی و مطالب کی تفہیم کے لئیے   تفسیرا القرآن بالقرآن پر زور دیتے ہیں لیکن ان قرآنی فکر کے حاملین کے فکر میں احادیث و آثار سے انکار کے بعد جس قدر تصنا و تخالف  واقع ہو سکتا ہے  وہ اس مضمون سے پوری طرح واضع ہوجاتا ہے ۔
اس مضمون میں چند باتیں ایسی بھی ہیں جو محل نظر ہیں ۔ لیکن ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مضمون کا پورا متن من وتن  جوالہ قارئین کرتے ہیں (ادارہ )
  • اپریل
2005
شیخ سلمان بن فہد
عصر حاضر ميں متعدد اسباب ہيں جو اس موضوع پرقلم اُٹهانے كا تقاضا كر رہے ہيں :
1۔ نااہل لوگوں نے علم و قابليت كے بغير شريعت ِخداوندى كے اُصول و فروع سے مسائل كے استنباط كى جسارت شروع كردى ہے- ان كى اكثريت نے حديث كے باريك اوربڑے بڑے مسائل ميں كريد اور تعمق شروع كردياہے -
  • جنوری
2006
شیخ سلمان بن فہد
یہ ہے کہ اپنی کشتی کو انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ظروف و حالات کے بہائو پر چھوڑ دیا جائے اور نصوص اور احکامِ شرعیہ کوعصری حالات کے تابع کردیا جائے باوجود اس کہ کہ یہ اشیا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مخالف ہوں ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ درحقیقت حالاتِ زمانہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے ماحول اور رسوم و رواج سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔ وہ آس پاس کے حالات سے موافقت کرنا اور اُنہیں اپنے حال پر برقرار رکھنا پسند کرتاہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی چیز اس کے رسوم و رواج سے متصادم ہو جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔
  • جنوری
1986
سعید مجتبیٰ سعیدی
محدث کی ماہ مئی و جون کی اشاعت میں ایک مضمون بعنوان ''عمامہ اور اتباع سنت'' شائع ہوا۔ جس میں مصنف نے شعب الایمان للبیہقی کے حوالہ سے عمامہ کی فضیلت میں ایک روایت ذکر کرنے کے بعد اطاعت النبی ﷺ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے عمامہ باندھنے پر زور دیا ۔ جہاں تک اطاعت نبیﷺ کا تعلق ہے، وہ تو ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس کی اہمیت سے انکار باعث کفر مگر جس چیز کو ثابت کرنےکے لیے انہوں نے
  • ستمبر
1983
ناصر الدین البانی
استاذ ناصر الدین البانی علمی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ان کا اسلوب تحریر او رطرز استدلال صرف کتاب اللہ اور سنت ِ رسول اللہ ﷺ پر مبنی ہے او ریہی مسلک اہل حدیث کا طرہ امتیاز ہے۔زیر نظر مقالہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو ہدایت اور ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین!واجبات مریض :مندرجہ ذیل ہدایت پر عمل کرنا ہرمریض کے لیے انتہائی ضروری ہے:1۔ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے
  • اپریل
2002
مبشر حسین
کسی بھی میت کو زیر زمین دفن کرنا فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے، اسی لئے دنیا میں سب سے پہلی میت کو زمین میں گڑھا کھود کر دفنایا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے ایک بیٹے (قابیل) نے دوسرے (ہابیل) کو ذاتی اَغراض کے لئے قتل کردیا پھر اسے یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ اس لاش کا کیاکیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو اپنی چونچ اور اپنے پاؤں سے زمین میں گڑھا کھودنے لگا ، ارشادِ باری ہے :
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
عزیز زبیدی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں؟

1. رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت اور حیثیت کیا ہے؟

2. چاند کو دیکھے بغیر محض جدید فنی طریقوں سے چاند کے ہونے کے فیصلہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
  • نومبر
1976
عزیز زبیدی
(1) دلالی:جہانیاں سے مولانا عبدالسلام او رمولانا حافظ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں کہ:

1۔ ہرملک میں دلالی کا جونظام رائج ہے بااجرت یا بلا اجرت وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

2۔ کیا آڑھتی بھی اس ضمن میں آئے ہیں یا نہیں؟ (مختصراً)
  • اگست
  • ستمبر
1978
عزیز زبیدی
شادی پر پیسوں کے لیے جوتا چھپانایا راستہ روکنا

ایک طالبہ لکھتی ہے کہ:

میرےبھائی کی شادی ہے، یہاں یہ رواج ہے کہ:
  • جون
1976
عزیز زبیدی
محترم جناب!

السلام علیکم ۔گاہےگاہے آپ کا رسالہ محدث نظروں سے گزرنا ہے جس میں باب الاستفتاء پر مفصل روشنی ڈالی جاتی ہے۔کافی عرصہ سے ان دوسوالوں نےدل ودماغ میں خلجان پیدا کررکھا ہے میں امید کرتا ہوں کہ آپ بواپسی ڈاک مطلع کریں جوابی لفافہ ارسال خدمت ہے۔
  • جولائی
  • اگست
1979
حسنین محمد مخلوف
سابق مفتی دیار مصر فضیلۃ الشیخ حسنین محمد مخلوف کا فتویٰ اسلام میں سنّت نبویؐ کا مقام نہایت ارفع و اعلیٰ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سنّت نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیمات کی شمع فروزاں سے بے اعتنائی کرکے کبھی جادہ مستقیم پر گامزن نہیں ہوسکتے کیونکہ رسول خدا ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ قرآن پاک کی ہدایت کے خدوخال کی نشاندہی کی۔ اگر ہم سنت نبوی کو یہ کہہ کر ترک کردیں کہ ہمیں کتاب مقدس کی ہدایت کے ہوتے ہوئے کسی اور ہدایت یا رہنمائی کی ضرورت نہیں تو سخت غلطی ہے
  • مارچ
  • مئی
1979
ادارہ
ہمارے بزرگ دوست ابو محمد سید بدیع الدین شاہ صاحب کتاب و سنت سے گہری عقیدت اور آزادانہ سوچ کے اعتبار سے ایک امتیازی حیثیت کےحامل ہیں۔ سعودی عرب کے طویل سفروں اور وہاں کے قیام نے شاہ صاحب موصوف کے توحیدی فکر کو مزید جلا بخشی ہے۔ الحمدللہ، کچھ عرصہ سے وہ سیاسی امور میں بھی خوب دلچسپی لے رہے ہیں او راس سلسلہ میں چند ایک پریس کانفرنسوں سے بھی خطاب کرچکے ہیں۔جس کاموضوع ''آئین شریعت''، ''اسلامی سزائیں'' اور اسلامی نظام کے دیگر پہلو'' ہیں۔ زیر نظر پریس کانفرنس منعقدہ 5 مارچ 1979ء بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ جس پر تعلیقات ہماری طرف سے ہیں۔
  • اگست
  • ستمبر
1978
برق التوحیدی
ہم پہلی اقساط میں متعدد مرتبہ یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ فقہ علی العموم اس قابل نہیں کہ اسے آج کے معاشرہ میں من و عن نافذ کردیا جائے لیکن فقہ حنفی کی شان تو کچھ نرالی ہی ہےکہ جس کی بنیاد 75 فیصد حیلہ سازی پر ہے اور حیل کےذریعےمجرم کو ''ادرؤا'' کے پردہ میں تحفظ بخشا جاتاہے لیکن نامعلوم ہمارےمہربان ایسی حیلہ سازی کو ختم کرنے کی بجائے الٹا امام بخاری وغیرہ ائمہ محدثین کو کیوں کوستے ہیں
  • جولائی
1978
برق التوحیدی
اقول: اس بات کی سطحیت پر کچھ کہے بغیر ہم قاضی صاحب کے دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ آپ نے پہلے ابو امیہ مخزومی کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام ابو حنیفہؒ کے قول کی ناجائز تائید کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں کوئی لفظ تک ایسا نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ قاضی کو رجوع عن الاقرار کے متعلق تلقین کرنی چاہئے بلکہ علامہ خطابی تو اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
  • اپریل
  • مئی
1984
سیف الرحمن الفلاح
5۔اسلامی فقہ نے فیصلہ دو منصفوں اور ججوں کے سپرد کیا ہے،ان میں سے ایک دنیوی ہوتا ہے جو ظاہری امور کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے،دوسرا اخروی ہوتا ہے،یہ حقیقت اور اصل واقعہ کے متعلق ہوتا ہے بخلاف وضعی نظام کے،کیونکہ اس میں عموماً ظاہری حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے خواہ نفس الامر کے خلاف ہو۔

6۔اسلامی فقہ کا قانون اخلاق کے مطابق ہوتا ہے اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے موافق!کیونکہ اخلاق سے انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
  • دسمبر
1978
برق التوحیدی
محترم قارئین کرام اس سے قبل آپ مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کرنے کے متعلق پڑھ چکے ہیں، اب ہم اسی قسط کے ساتھ متعلق دوسرے مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ اگر ایک قتل میں متعدد آدمی ملوث ہوں تو کیا ان میں سے ایک کو قتل کیاجائے گا یا تمام کو ..... لیکن اس مسئلہ کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ آدمی کو متعدد افراد مل کر برضا و رغبت قتل کرتے ہیں، دوسری یہ کہ ایک آدمی کو دوسرا مجبور کرتا ہے کہ تو فلاں آدمی کو قتل کردے او روہ کرہاً قتل کردیتا ہے تو کیا دونوں پر قصاص ہوگا یا صرف آمر یا مامور پر؟
  • مارچ
2017
طاہر الاسلام
جنگیں اگرچہ توپ و تفنگ سے لڑی جاتی ہیں لیکن ان کا اصل میدان عقائد و افکار کے مباحث ہیں۔ آج عالم کفر جہاں ملتِ اسلامیہ پر آتش و آہن کی بارش برسا رہا ہے وہیں اس کے تھنک ٹینکس ہمارے تصورِ زندگی اور مذہبی و معاشرتی اقدار کو بدلنے کے لیے بھی دن رات کوشاں ہیں۔ الفاظ و مصطلحات چوں کہ پوری تہذیب کی نمائندہ ہوتی ہیں، اسلیے انھیں بگاڑنے کے لیے وہ تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں؛
  • اگست
  • ستمبر
2002
منظور احسن عباسی
جو لوگ 'ادارئہ طلوعِ اسلام' کے اغراض و مقاصد اور مسٹرغلام احمدپرویز کے متعلق کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں، ان کو یقینا ادارئہ مذکور کے شائع کردہ پمفلٹ موسومہ 'اطاعت ِرسول 'کے نام سے بڑی حیرت ہوگی۔ لیکن یہ حیرت اسی قسم کی حیرت ہے جو مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت ِاحمدیہ کے ترجمان اخبار 'الفضل'کی ایک خصوصی اشاعت موسومہ 'خاتم النّبیین نمبر' کے نام سے ہوئی تھی۔
  • مارچ
2013
رضیہ مدنی
انسان میں گناہوں اور رذائل کی جانب رغبت کا میلان موجود ہے،انسان میں نفس امارہ ہرلمحہ اسے گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ جب سلیم الفطرت انسان کسی گناہ یا غلط کام کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ یہ جان رہا ہوتا ہے کہ وہ غلط کام یا ظلم وزیادتی اور فسق وفجور کررہا ہے، رسول اللّٰہﷺ کے طریقے کی مخالفت کررہا ہے اور اللّٰہ کے فرامین سے بغاوت کرکے اس کے قہر وغضب کو دعوت دے رہا ہے۔
  • مارچ
2007
عبداللہ روپڑی
ماں باپ اپنى زندگى ميں اپنى اولاد كو كئى چيزيں عنايت كرجاتے ہيں، ايسے ہى اُنہيں كسى بيٹے يا بيٹى سے طبعاً زيادہ محبت بهى ہوتى ہے ليكن اسلامى شريعت نے اس سلسلے ميں چند ايك اُصول مقرر فرمائے ہيں جن كو پيش نظر ركهنامسلم والدين كے لئے ضرورى ہے- اس نوعيت كے مسائل مسلم معاشرہ ميں اكثر وبيشتر پيش آتے رہتے ہيں، زير نظر مضمون ميں ايسے ہى احكام سوال وجواب كى صورت ميں بيان ہوئے ہيں۔
  • اکتوبر
2010
عبداللہ طارق
شرک اور اس کی ذیلی صورتوں سے بچنے کے لئے کتاب وسنت میں بے شمار ہدایات پائی جاتی ہیں، اور علماے کرام عوام الناس کو اس کی تلقین بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ سے بعض لوگوں نے شرک کی ایک خودساختہ تعریف متعین کرکے عوام الناس میں پائے جانے والی شرکیہ کوتاہیوں کو تحفظ دینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
  • مئی
2012
عبدالرحمن حذیفی
روافض کے باطل نظریات کے خلاف مسجد ِنبویؐ سے بلند ہونے والی مجاہدانہ صدا
1979ء كے انقلابِ ايران كے بعد پہلی بار 1998ء میں ایران کے صدر ہاشمی رفسنجانی نے سعودی عرب کا تفصیلی دورہ کیا جس میں سعودی نظام حکومت سے لے کر، عرب معاشرے اور سعودی شہروں دیہاتوں کی مشاہدے وزیارتیں بھی شامل تھیں۔