• مئی
2000
وحید بن عبدالسلام
(3)۔سحر تخیل(وہم میں مبتلا کرنے والا جادو)
فرمان الٰہی:۔
 قَالُوا يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى (87)
"کہنے لگے کہ اے موسیٰ علیہ السلام  ! یا تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ،جواب دیا کہ نہیں،تم ہی پہلےڈالو۔اب موسیٰ علیہ السلام   کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں"
سحر تخیل کی علامات:۔
1۔منجمد چیز کو متحرک اور متحرک کو منجمد دیکھنا۔
2۔چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا سمجھنا۔
3۔مختلف چیزوں کو ان کی حقیقت سے ہٹ کردیکھنا،جیسا کہ لوگوں نے دیکھا کہ رسیاں اورلکڑیاں دوڑتے ہوئے سانپ ہیں۔
  • اگست
2000
وحید بن عبدالسلام
(آٹھواں حصہ)                      
نظر بدکاعلاج

نظر بد کی تاثیر پر قرآنی دلائل:۔
1۔سورہ یوسف کی آیات 67،68 کا ترجمہ ملاحظہ کریں:
"اور (یعقوب علیہ السلام  ) نے کہا اے میرے بچو!تم سب ایک دروازے سے نہ جانا،بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا،میں اللہ کی طرف سے آنے والی چیز کو تم سے  ٹال نہیں سکتا،حکم صرف اللہ کا ہی چلتا ہے۔میر اکامل بھروسہ اسی پر ہے،اور ہر ایک بھروسہ کرنے کو ا ُسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔اور جب وہ انہی  راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیاتھا،گئے،کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کررکھاہے،وہ اس سے انہیں ذرا  بھی بچالے،مگر(یعقوب علیہ السلام  ) کے دل میں ایک خیال  پیدا ہوا جسے انہوں نے پورا کرلیا،بلاشبہ وہ  ہمارے سکھلائے ہوئے علم کے عالم تھے،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  ان دونوں آیات کو تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ یعقوب علیہ السلام   کے بارے میں  بتارہا ہے کہ انہوں نے جب"بنیامین" سمیت اپنے بیٹوں کو مصر جانے کے لیے تیار نہیں کیا تو انہیں تلقین کی کہ وہ سب کے سب ایک دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں،کیونکہ انہیں جس طرح کہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،محمد بن کعب رحمۃ اللہ علیہ ،مجاہد رحمۃ اللہ علیہ ،ضحاک رحمۃ اللہ علیہ ،قتادہ رحمۃ اللہ علیہ ،اورسدی رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہم کا کہنا ہے۔اس بات کاخدشہ تھاکہ چونکہ ان کے بیٹے خوبصورت ہیں،کہیں نظر بد کا شکار نہ ہوجائیں اور نظر کا لگ جانا حق ہے۔(118)