• دسمبر
2002
مبشر حسین
مضمونِ ہذا کی پہلی قسط محدث(جولائی ۲۰۰۲، ص۱۷تا۳۳) میں شائع ہوچکی ہے۔جس میں ''ندائے یارسول اللہؐ! الاستعانۃ والتوسل'' (از احمد رضا بریلوی، محمد عبدالحکیم شرف قادری) نامی کتابچہ کے ان دلائل پر تبصرہ کیا گیا ہے جنہیں غیر اللہ سے استعانت اور ذواتِ صالحہ سے توسل کے اثبات کے لئے پیش کیا گیا ہے۔
  • مئی
2003
ادارہ
ہمارے ادارہ کے فاضل رکن محترم ڈاکٹر صھیب حسن جو اسلامک شریعت کونسل، لندن کے سیکرٹری جنرل اور لندن میں قرآن سوسائٹی کے صدربھی ہیں، گذشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے۔لاہور میں آپ نے خطبہ جمعہ میں 'سانحۂ سقوطِ بغداد' پر جن خیالات کا اظہار کیا، وقت کی تنگ دامنی کے باوجود اس میں اہم نکات آگئے ہیں۔ آپ کا یہ خطاب ہدیۂ قارئین ہے۔ (محدث )
  • جون
1983
حافظ صلاح الدین
روزنامہ ''جنگ'' لاہورکی متعدد قسطوں پر مدیر ''رضوان'' لاہور جناب علامہ محمود احمد رضوی کا ایک مضمون شائع ہوا ہے ،'جو ہے تو کسی اور سلسلے میں' لیکن اس میں اس بہانے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارنا شرک نہیں ہے کیونکہ :''اگر غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارنا شرک ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ شروع سے یعنی صحابہ کرامؓ سے لے کر اب تک مسلمانوں کا اس پر اجماع و اتفاق رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مؤثر
  • جولائی
1983
صلاح الدین یوسف
یہ کہنا کہ ''اللہ تعالیٰ کو فاعل حقیقی مانتے ہوئے کسی کو مدد کے لیے پکارا جائے، تو یہ شرک نہیں۔'' تو عرض ہے کہ اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ دنیا میں شرک کا وجود کبھی رہا ہی نہیں ہے۔ اور قرآن کریم میں (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے خوامخواہ لوگوں کومشرک قرار دیا ہے۔قرآن مجید میں بڑی وضاحت کے ساتھ بار بار یہ بات بیان کی گئی ہے کہ عرب کے مشرکین جو دعوت توحید کے مخاطب اوّل تھے ، وہ یہ مانتے تھے کہ زمین