• مارچ
1983
محمد بن اسماعیل
جب آپ نے ان قواعد اور اصولوں کو پہچان لیا تو آپ یہ بھی جان لیں کہ اللہ نے عبادت کو کئی اقسام میں منقسم فرمایا ہے ۔کچھ ان میں اعتقادی ہیں جو دین کی بنیاد ہیں ۔مثلاً اس بات کا اعتقاد رکھے کہ وہ یقینی طور پر اس کا رب ہے۔ پیدائش اور امر کےمعاملہ پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔نفع و نقصان پر اسے مکمل دسترس ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کسی کو سفارش کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔
  • اپریل
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ سوال کریں کہ کیا یہ لوگ جو اولیاء کی قبور اور فاسق لوگوں کے متعلق ایسا عقیدہ رکھتے ہیں۔ کیا یہ ایسے مشرک ہیں جیسے بتوں کے متعلق عقیدہ رکھنے والے تھے؟جواب: تو ميں کہتا ہوں ہاں۔کیونکہ ان لوگوں نے بھی ایسے کام کیے جو ان لوگوں نے کیے او ریہ امور شرکیہ میں ان کے برابرہوگئے۔بلکہ ایسا فاسد عقیدہ رکھنے او ران کے مطیع ہونے او رعبادت کرنے میں ان سے بھی چند قدم اگے نکل گئے، تو ان میں کوئی 
  • جون
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ جو اہل قبور اور دیگرایسے لوگوں ، جو زندہ فاسق و فاجر او رجاہل ہیں، کے متعلق حسن عقیدت رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے، ہم تو صرف اللہ کی عبادت کرتےہیں، ہم ان کی خاطر نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، نہ حج کرتے ہیں، ہم یہ تمام امور اللہ کے لیے کرتے ہیں؟جواب: تو میں کہتا ہوں ، یہ عبادت کے مفہوم سے عدم واقفیت او رجہالت ہے کیونکہ میں نے جوذکیا ہے، یہ اس
  • جولائی
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ اس سے یہ لازم آتا ہےکہ تمام امت گمراہی پرمتفق ہوگئی کیونکہ وہ اس کو بُرا کہنے سے خاموش رہے؟ جواب: اجماع کی حقیقت یہ ہےکہ آنحضرتﷺ کے عہد مسعود کے بعد امت محمدیہ کے مجتہدوں کا کسی مسئلہ میں متفق ہونا ہے اور مذاہب کے فقہاء ائمہ اربعہ کے بعد اجتہاد کو محال تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی یہ بات غلط اور باطل ہے او رایسی بات وہی کہتا ہے جو حقائق سے بے خبر ہوتا ہے تاہم ان
  • مئی
  • جون
1995
اسرار احمد سہاروی
ازل سے ملتا ہے مجھ کو ذوق  لطف ربانی مرا دل بن گیا ہے مرکز انوار یزدانی
اسی نے نور بخشا ہے نگاہوں کو بصیرت کا جلاتا ہے وہی انساں کے دل میں شمع ایمانی
وہ دیتاہے دل کو آرزو فقر رسالت کی سکھائے ہیں اسی نے ہم کوانداز جہاں بانی
وہی کرتاہے روشن لطف سے تاریک سینوں کو نظر کو بخش دیتاہے کرم سے نور عرفانی
شعورذات کی دولت عطا کرتاہے انساں کو اسی کے در پہ جھکتی ہے شہنشاہوں کی پیشانی
  • جولائی
2012
عطاء الرحمن علوی
روزنامہ 'پاکستان' میں شائع ہونے والے شرک پرور مضامین کا ناقدانہ جائزہ
دین اسلام، دنیا کے تمام مذاہب سے منفرد اور ممتاز حیثیت کا حامل ہے اور ا ُس کی اساس و بنیاد بڑی ٹھوس اورمحکم ہے اور وہ 'توحیدِخالص' ہے۔ اس سے ہم کنار ہوئے بغیر سرخ روئی ناممکن ہے ۔تمام انبیا کی تبلیغ و مساعی کا مرکزی نکتہ توحید ہی رہا اور اُنہوں نے شرک کی خوب خوب مذمت کی ۔
  • دسمبر
1972
عزیز زبیدی
آزر، براہیم اور اسماعیل، اندازِ زیست سب کے جدا جدا، بات بُت فروش، بیٹا بُت شکن اور صاحبزادہ سر فروش۔ وہ مظاہرہ پرست، یہ خدا پرست اور تیسرا تسلیم و رضا کا پیکر۔ اپنا اپنا نصیب اور اپنی اپنی فطرت! ایک ہی درخت، کچھ کانٹے، کچھ پھول اور کچھ شیریں پھل۔