• دسمبر
1981
اکرام اللہ ساجد
پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے تینتیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ۔۔۔ اس دوران کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں اور مختلف نظامہائے حکومت آزمائے گئے، لیکن نہ تو کسی حکومت کو استحکام نصیب ہو سکا اور نہ ہی یہاں کوئی طرزِ حکومت کامیاب ہو سکا، بلکہ نت نئے تجربوں نے خود ملک کی سلامتی ہی کو داؤ پر لگا دیا ۔۔۔ چنانچہ جو لوگ 14 اگست سئہ 1947ء کو نقشہ دُنیا پر ایک نئی اسلامی مملکت کے وجود سے آشنا ہوئے تھے،
  • مئی
1990
عبدالرحمن مدنی
(((مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی جو جامعہ  لاہور اسلامیہ (رحمانیہ) کے مہتمم بھی ہیں۔جامعہ کے ایک شعبہ کلیۃ الشریعۃ 91 بابر بلاک نیو گارڈن ٹاؤن لاہور میں باقاعدہ ہر جمعہ خطبہ ارشا د فرماتے ہیں۔خطبہ ء جمعہ موقع کی مناسبت سے کسی دینی اور معاشرتی اصلاح کے موضوع پر ہونے کے علاوہ ملک وملت کے درپیش اہم علمی اور قانونی مسائل پر تبصرہ بھی ہوتا ہے۔ جن میں موصوف سامعین کی لمحہ بہ لمحہ حاضری بڑھنے کا لحاظ رکھتے ہوئے خطبہ کا ابتدائی حصہ عمومی رکھتے ہیں جس میں طلباء اور دین سے گہرا تعلق والے حضرات جو خطبہ شروع   ہونے سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔جبکہ خطبہ کا آخری حصہ اگرچہ اسی عمومی موضوع سے یک گونہ متعلق ہوتا ہے۔لیکن موصوف اس میں ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبصرہ کرتے ہیں۔لہذا اس  طرح آپ کا خطاب جامعیت کا حاصل ھوکر علمی رہنمائی اور اصلاحی وعظ کا کام کرتا ہے۔
  • جولائی
1982
ناصر الدین البانی
سید قطب طانقطہ نظر:

اخیر میں اسلامی دعوت کےبعض علمبرداروں کواس مسئلہ میں تنبیہ ہوا وہ ہیں استاذ کبیر سید قطب ﷫ موصوف نےجیل میں قرآنی فرید(1) یعنی ایک بےنظیر قرآنی گروہ کےزیر عنوان یہ بتلانے کی بعد کہ اس قرآن کی دعوت نےپوری اسلامی تاریخ بلکہ پوری انسانی تاریخ میں ایک ایسی بےنظیر اورممتاز نسل کوتیار کیا ہے
  • فروری
1978
ادارہ
مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لیے کافی ہے یا نہیں، یہاں بھی او روہاں بھی؟ زندگی کے جتنے شئون اور احوال و ظروف ہیں، وہ دینی ہوں یادنیوی ، معاشرتی ہوں یامعاشی، سیاسی ہوں یا اخلاقی، روحانی ہوں یا مادی ، ان سب پہلوؤں اور صورتوں میں وہی ذات یکتا اور داتا ہمیں بس کرتی ہے۔ یا دنیائے ہست و بود میں کوئی ایسا گوشہ بھی ہے
  • اپریل
1972
عبدالمنان راز
بے شک آنحضرت ﷺ سے پہلے انسان خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت سے آشنا تھا مگر اس بات سے پوری طرح واقف نہ تھا کہ اس فلسفیانہ حقیقت کا انسانی اخلاقیات سے کیا تعلق ہے۔ بلاشبہ انسان کو اخلاق کے عمدہ اصولوں سے آگاہی حاصل تھی مگر اسے واضح طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ زندگی کے مختلف گوشوں اور پہلوؤں میں ان اخلاقی اصولوں کی عملی ترجمانی کس طرح ہونی چاہئے۔