• اکتوبر
1994
عبداللہ زائد
خالق ارض وسماء نے کائنات رنگ وبو میں مختلف خاصتیوں کے حامل انسان پیدا کیے ہیں اور ان میں مختلف درجات وطبقات کا سلسلہ قائم کردیا۔ان میں سب سے اعلیٰ درجہ انبیاء کرام  علیہ السلام   کو عطا کیا اور ان میں امام الانبیاء علیہ السلام   اورافضل الانبیاء علیہ السلام   کےمقام پر ہمارے آقا ومولیٰ خاتم النبیین حضرت محمد ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کوفائد کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد تقویٰ وتورع کے لحاظ سے آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین   کامرتبہ اس کائنات میں سب سے بڑھ کر ہے۔ان کے بعد محدثین عظام اور علماء کرام کا مرتبہ ہے۔جنھوں نے اپنے آپ کو دین حق کی ترویج واشاعت کے لئے وقف کردیا اور وہ"إن العلماء ورثة الأنبیاء علیه السلام  " کےمعیار پر  پورے اترے۔
  • مارچ
1989
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب:
آپ کا نام مسلم اور باپ کا نام حجاج ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد القشیری النیشا بوری۔ آپ کی کنیت ابوالحسین اور لقب عساکر الدین ہے۔
ولادت:
ان کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ نے سئہ 206ھ بتلایا ہے (تہذیب الاسماء) لیکن ابن حجر وغیرہ نے سئہ 204ھ بتلایا ہے۔ لیکن ان کی صحیح تاریخ پیدائش سئہ 206ھ ہے، کیونکہ متاخرین میں سے ابن اثیر اور مولانا عبدالرحمن مبارک پوری کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
اساتذہ:
آپ نے بچپن سے علم حدیث کی سماعت شروع کی۔ 14 برس کی عمر میں ابتدائے سماع کی۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں " أول سماعة ثمانة عشرة ومأتين " انہوں نے حدیث کی پہلی سماعت سئہ 218ھ میں کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خراسان میں امام اسحق رحمۃ اللہ علیہ اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ سے سماعت کے علاوہ دیگر علمی مراکز کو بھی اپنے شرفِ ورود سے نوازا۔ ان کے اساتذہ میں ابوغسان بھی ہیں۔ عراق میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ، حجاز میں سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ، یحییٰ بن یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ، قتیبہ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اصحاب الحدیث سے استفادہ کیا۔
  • نومبر
1998
صلاح الدین یوسف
تا8اکتوبر1998ءہوٹل ہالیڈے اِن اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس،بنام۔امام ابو حنیفہ احوال وآثار اور خدمات۔۔۔۔منعقد ہوئی۔جس میں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے اہل علم وفکر بھی شریک ہوئے۔ہندوستان سے بھی4افرادپرمشتمل اہل علم کا ایک وفد کانفرنس میں شرکت کے لئے آیا،جس میں مولاناسلمان الحسنی الندوی تھے جو ندوۃالعلماءلکھنؤمیں استاذ،انجمن شباب المسلمین لکھنؤکے روح رواں اور مولانا ابو الحسن علی ندوی کے نواسے ہیں۔عالم عرب سے آنے والے مندوبین میں ڈاکٹر وہبہ الزحیلی(شام)تھے،جو عالم اسلام کی بڑی سربرآوردہ شخصیت،نہایت فاضل بزرگ اور متعدد علمی کتابوں کے مصنف ہیں،جن میں الفقہ الاسلامی وادلتہ اور التفسیر الوجیز جیسی فاضلانہ کتابیں شامل ہیں۔اسی طرح اور بھی مختلف ملکوں اور علاقوں کے اہل علم وفکرتشریف لائے۔
کانفرنس کی تین زبانیں تھیں۔(اردو،عربی اور انگریزی)ان تین زبانوں میں سے کسی بھی زبان میں تقریر یا مقالہ پیش کیا جاسکتا تھا،تینوں زبانوں میں بیک وقت ترجمے کی سہولت موجود تھی۔یعنی عربی تقریر یا مقالے کا اردو اور انگریزی ترجمہ اور اسی طرح انگریزی تقریر کا اردو،عربی اور اردو تقریر کا عربی اور انگریزی میں ترجمے کا انتظام تھا۔اس طرح کسی بھی زبان میں تقریر ہوتی،تمام شرکاءاس سے مستفید ہوسکتے تھے۔یوں نمائندگی اور وسیع انتظامات کے اعتبار سے بلاشبہ یہ ایک بین الاقوامی کانفرنس تھی۔
  • مئی
  • جون
1995
پروفیسر محمد یحییٰٗ
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  تصنیف و تا لیف کے "سلسلہ الذہب" کی ایسی درخشندہ و تا باں کڑی ہیں جن کی ضیا پا شیا ں افق عالم کو ہمیشہ منور رکھیں گی اور جن کے علم و ادرا ک کی فراوانیوں اور فضل و کمال کی وسعتوں سے کشورذہن مصروف استفادہ اور اقلیم قلب مشغول استفاضہ رہیں گے ۔ان کے جدا امجد شیخ الدین کو حنا بلہ کے آئمہ و اکا بر میں گردانا جا تا ہے اور اہل علم کے ایک بہت بڑے حلقے نے ان کو مجتہد مطلق کے پر شکوہ لقب سے ملقب کیا ہے ۔امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  جو فن رجا ل کے مستند امام ہیں ۔کتاب سیرا علا م النبلا ءمیں ان کا تذکرہ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔
انتهت إليه الإمامة في الفقه
کہ مسائل فقہ کے حل و کشود میں وہ مرتبہ امامت پر فائز تھے۔
امام تقی الدین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی ولا دت ایسے جلیل المرتبت خا ندا ن میں ہو ئی اور ایسے ماحول میں شعور کی آنکھیں کھولیں جہاں فضیلت و عرفان کا ہمہ گیر شامیانہ تنا ہوا تھا اور جہاں مجدوز کاوت کی خوشگوار گھٹا ئیں چھا ئی ہو ئی تھیں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے ان ہی پا کیزہ فضاؤں میں پرورش و پرواخت کی منزلیں طے کیں اور پھر اسی گلستان فضیلت کی شمیم آرائیوں میں عہد طفولیت سے نکل کر دور شباب میں قدم رکھا۔اب وہ جا دہ علم کے پر عزم را ہی تھے اور ان کی عزیمت و عظمت نے ان کو جا مع الحشیات شخصیت کے قالب میں ڈھا ل دیا تھا وہ بیک وقت عالم بھی تھے اورمعلم بھی محقق بھی تھے اور مصنف بھی مفسر بھی تھے اور محدث بھی فقیہ نکتہ ور بھی تھے اور ماہر اصول بھی مجا ہد بھی تھے اور مجتہد بھی مناظر بھی تھے اورجارح بھی حملہ آور بھی تھے اور مدا فع بھی واعظ شیریں بیاں بھی تھے اور مقرر شعلہ مقال بھی مفتی بھی تھے اور ناقد بھی شب زندہ دار بھی تھے اور سالک عبادت گذار بھی منطلقی بھی تھے اور فلسفی بھی ادیب حسین کلا م بھی تھے اور شاعر اعلیٰ مذاق بھی ۔۔۔جس طرح وہ کشور قلم و لسان کے شہسوار تھے اسی طرح قلیم سیف وسنان پر بھی ان کا سکہ رواں تھا اور ان سب کو ان کی اطاعت گزاری پر فخرتھا ۔ علوم کے سامنے قطار بنا کر کھڑے رہتے جب کسی مو ضوع پر گفتگو کرنا مقصود ہو تا تو متعلقہ علم اپنی ہمہ گیریوں کے ساتھ کو رنش بجا کر ان کے حضور میں حاضر ہو جا تا اور جب کسی معاملے کو ضبط تحریر میں لا نے کا قصد کرتے تو قلم نہا یت تیزی کے ساتھ صفحات قرطا س پر حرکت کنا ں ہو جا تا اور پھر آنا فا نا علوم و فنون کی بارش شروع  ہو جا تی اور پو ری روانی کے ساتھ مرتب شکل میں الفا ظ کا غز پر بکھیرتے چلے جا تے ۔وہ جلہ اور فرات کے سنگم میں پیدا ہو ئے تھے اور ان دونوں دریا ؤں کی روانی اور ان کی مو جیں اور اچھا لیں ان کے قلم و زبان میں سمٹ آئی تھیں ۔
  • اپریل
2002
محمد اسلم صدیق
یہ خبر نہایت غم و اَندوہ کاباعث ہے کہ عالم اسلام کے ممتاز عالم اوربیت اللہ کے امام و خطیب سماحة الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیل حفظہ اللہ ،جو ایک عرصہ امور حرمین شریفین کے چیئرمین بھی رہے اور تقریبا ایک سال قبل ان کے دامادمعالی الشیخ الدکتور صالح بن حمید کو ان کے انتظامی جانشین کے طور پر حرمین شریفین کے اُمور کا چارج دے دیا گیاتھا۔
0
ملک ظفر اقبال
ہر انسان کی زندگی کم و بیش پانچ حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپا اور موت کے بعد کی زندگی۔ آئین الہیہ نے اس کے مفید یا غیر مفید ہونے کا انحصار انسان کے اعمال پر رکھا ہے۔ لہذا میں اپنی تحریر کی مرکزی شخصیت کی زندگی کے جسمانی مراحل کی تفصٰل میں جانے سے پہلے اعمالِ حسنہ کے حوالے سے ان کے بارے میں اُن کی ہم عصر جلیل القدر شخصیتوں کی آراء سے اُن کے تعارف کا آغاز کرتا ہوں۔
حافظ ذہنی فرماتے ہیں:
"جید عالم، قیادت کی صلاحیتوں کا مالک، مصنف اور محی السنۃ تھے۔"
علامہ سبکی نے ان کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
"علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ محی السنۃ کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ دین کے معیار کی جھلک ان کے اقوال و افعال میں پائی جاتی تھی۔ علمِ تفسیر، حدیث اور فقہ میں انہیں غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔
متدین آباؤ اجداد کی دعاؤں کا ثمر تھے۔ اپنے والدین کی تمناؤں کے مطابق انہوں نے تمام زندگی تقویٰ اور کثرتِ نوافل کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ جامع القرآن والسنۃ تھے۔ فقہ پر بھی انہیں عبور تھا۔"
ابن العماد حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے بڑے نامور محدث، مفسر اور مصنفین میں سے تھے۔"
ابن خلکان ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
"تفسیر میں اُنہیں خصوصی ملکہ حاصل تھا۔ احادیث کے مشکل مقامات اور ابہامات کی وضاحت میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔ درسِ قرآن و حدیث کے اوقات میں باوضو رہنے کی پابندی کے علاوہ ہر وقت باوضو رہنا ان کی فطرتِ ثانیہ تھی۔ سادگی، خلوص، قناعت اور استقلال ان کا شعار تھا۔"
  • فروری
  • مارچ
1995
محمد افضل ربانی
مصطفی المنفلوطی 7جمادی الاولی 1293ھ بمطابق جون 1876ء کو منفلوط (11) میں پیدا ہوئے (2)احمد عبید نے آپ کی تاریخ پیدا ئش 1877ء بتا ئی ہے (3)جبکہ عمر فروخ کے نزدیک آپ 1875ء کو پیدا ہوئے۔(4)
منفلوطی کی والدہ ترک تھیں جبکہ آپ کے والد کا سلسلہ نسب حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے جا ملتا ہے ۔اس طرح آپ نیم ترک نیم عرب تھے (5)
آپ کا خاندان زہد و تقوی اور علم و عرفان کے باعث نہا یت معزز سمجھا جا تا تھا دوسال سے منفلوط کی سرداری آپ ہی کے خاندان میں چلی آرہی تھی آپ کے چچا ابرا ہیم لطفی منفلوط میں چیف جج کے عہد ہ پر فا ئز رہےجبکہ آپ کے والد محمد محمد لطفی منفلوط میں جج تھے(6)
منفلوطی نے قرآن مجید اور ابتدا ئی تعلیم مدرسہ جلال الدین السیوطی میں حاصل کی یہ مدرسہ اسیوط (7)میں واقع تھا 11سال کی عمر میں آپ نے قرآن مجید یاد کر لیا ۔جب آپ کی عمر 13 سال ہو ئی تو آُ الازھر الشریف چلے گئے ۔اور دس سال تک عالم اسلام کی اس ممتاز درسگاہ میں مختلف جید علماء سے اکتساب فیض کرتے رہے ۔اسی دوران آپ کو مفتی محمد عبدہ(8)کےحلقہ درس میں شمولیت کے مواقع ملے،اس طرح آپ مفتی صاحب سے خوب مستفید ہو ئے۔(9)
منفلوطی کے والد محمد محمد لطفی کی تین بیویاں تھیں پہلی بیوی سے مصطفیٰ (1) اور حسن پیدا ہو ئے ۔آپ کے والد نے اپنی پہلی بیوی(11) کو طلا ق دے دی اور فاطمہ عثمان نامی ایک خاتون سے شادی کر لی ۔آپ کے سوتیلے بھائی ابو بکر عمر اور عثمان انہی سے پیدا ہو ئے ۔(12)آپ کو والد نے تیسری شادی منفلوط کی ایک مالدار خاتون مسماۃ حمید علی ابو النصرسے  کی۔ ان سے کو ئی اولاد نہ ہوئی ۔منفلوطی کے بھا ئیوں میں حسن (سگے بھا ئی ) منفلوط کے معروف سردار تھے جبکہ سوتیلے بھا ئی ابو بکر جرید ۃ الاتحادکے چیف ایڈیٹر رہے ۔عمر اوائل شباب میں فوت ہو ئے اور عثان پیشہ معلمی سے منسک رہے(13)