• اکتوبر
1996
عبدالرؤف ظفر
اللہ تعالیٰ کی محبت کا اہل اور اس کے تعلق کا مستحق بننے کے لئے ہر مذہب نے ایک ہی تدبیر بتائی ہے کہ اس مذہب کے شارع اور طریقہ کے بانی کی تعلیمات پر عمل کیا جائے لیکن اسلام نے اس سے بہتر تدبیر یہ بھی اختیار کی ہے کہ اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ سب کے سامنے رکھ دیا ہے جس کو محفوظ طریقے سے ہر دور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بھی کیا گیا ہے۔ اور اس عملی مجسمے کی پیروی اور اتباع کو خدا کی محبت کے اہل اور اس کے تعلق کے مستحق بننے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ ﴿٣١﴾ (1)
"کہہ دیجئے اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا"
قرآن مجید میں ایک اور جگہ آیا ہے:
 لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ  ﴿٢١ (2)
"ضرور تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے"
انسانی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی نمونہ ملتا ہے۔ اس بات کا اقرار تو کافر بھی کرتے ہیں۔
چنانچہ برصغیر میں پٹنہ کے مشہور مبلغ ماسٹر حسن علی ایک رسالہ "نور اسلام" نکالتے تھے جس میں انہوں نے اپنے ایک تعلیم یافتہ ہندو دوست کی رائے لکھی کہ اس نے ایک دن ماسٹر صاحب سے کہا کہ "میں آپ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا سب سے بڑا کامل انسان تسلیم کرتا ہوں" ماسٹر صاحب نے پوچھا" ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا سمجھتے ہو؟" اس نے جواب دیا کہ "محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کسی دانائے روزگار کے سامنے ایک بھولا بھالا بچہ بیٹھا ہو، میٹھی میٹھی باتیں کر رہا ہو" انہوں نے دریافت کیا کہ "تم کیوں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کو دنیا کا کامل انسان جانتے ہو اس نے جواب دیا کہ مجھ کو ان کی زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور متنوع اوصاف نظر آتے ہیں جو تاریخ نے کسی ایک انسان میں یکجا کر کے نہیں دکھائے۔(3)
  • فروری
1986
غازی عزیر
تمام مستند احادیث اور روایات کے مطالعہ سے یہ بات وثوق کی حد تک پہنچ جاتی ہےکہ عہد نبویؐ اور خلفائے راشدینؓ کے ادوار خلافت میں تمام صحابہؓ و تابعینi کا اس سنت پر عمل رہا ہے، بعد کے ادوار میں بھی تمام اہل علم او رعامل بالحدیث طبقہ میں اس سنت پر سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا رہا ہے، نیز اس پر خود رسولﷺ کا عمل کرنا اور آج تک اس پر تواتر کے ساتھ عمل ہوتے چلے آنا بذات خود اس کی مشروعیت کی واضح دلیل
  • اپریل
1986
غازی عزیر
عقیقہ صرف بکری، مینڈھا اور دنبہ سے ہی کیا جانا چاہیے جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔بھینس ، گائے اور اونٹ ذبح کیے جانے کے متعلق کووی صحیح او رقابل اعتماد حدیث موجود نہیں ہے۔لہٰذا اس مسئلہ میں اکثر علمائے سلف و خلف، ائمہ حدیث اور مجتہدین کا عمل اور فتویٰ یہی ہے کہ بھیڑ،یا بکری یا دُنبہ کے علاوہ کسی دوسرے جانور سے عقیقہ کرنا سنت مطہرہ سے ثابت اور صحیح نہیں ہے۔عقیقہ میں اونٹ ذبح کرنے کے متعلق حضرت
  • مئی
1986
غازی عزیر
اگر ذبح کرنے والا شخص عقیقہ کے متعلق صرف نیت کرلے اور ''بسم اللہ اللہ اکبر'' پڑھ کر ذبح کرڈالے او رمولود کا نام نہ لے تو بھی عقیقہ ہوجائے گا۔
عقیقہ کے گوشت کی تقسیم اور استعمال
عقیقہ کے گوشت کی تقسیم و استعمال کے متعلق جو ذبیحہ اضحیہ کے احکام ہیں، وہی ذبیحہ عقیقہ کے بھی ہیں۔ یعنی اس میں سے خود اہل خانہ کھائیں،
  • جنوری
1986
غازی عزیر
یہ مضمون لکھنے کا داعیہ جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کا ایک فتویٰ پڑھ کر پیدا ہوا۔ جو آں موصوف نے ، ماہناہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی کے مجریہ ماہ جولائی 1985ء میں''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے مستقل عنوان کے تحت، ایک مستفتی کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا، انہوں نے لکھا ہے کہ:''جن جانوروں کی قربانی جائز ہے ان سے عقیقہ بھی جائز ہے۔بھینس بھی ان جانوروں میں شامل ہے۔اسی طرح جن جانوروں میں
  • دسمبر
2008
محبوب عالم فاروقی
رمضان المبارک کی بابرکت اور پُررحمت ستائیسویں رات کی گھڑیوں میں مسلمان اپنے ربّ کی رحمتوں ، مغفرتوں اور برکتوں کو سمیٹ رہے تھے کہ انہی لمحات میں سرگودھا کے بدبخت نے اپنے باپ کوعید کی خریداری کے لیے پیسے نہ ملنے پر قتل کردیا۔اسی طرح عید کے آٹھ روز بعد کراچی کے پوش علاقہ گلبرگ میں اعتزاز شاہ نامی شخص نے اپنے والدین ،بہن اور بھانجے کوموت کے گھاٹ اُتار دیا۔
  • اکتوبر
2008
شیخ سائد بکداش
سورة النور کی اس آیت: { وَلَا عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا۟ مِنۢ بُيُوتِكُمْ ...﴿٦١...النورسے یہ استدلال کرنا کہ (اللہ تعالیٰ نے یہاں اولاد کے گھروں کا تذکرہ نہیں کیا جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ گھر باپ دادا کے ہیں ۔( کا جواب امام قرطبی رحمة اللہ علیہ کی زبانی ملاحظہ فرمائیے :(اس آیت ِکریمہ سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے بھی کھا سکتے ہو جن گھروں میں تمہارے اہل اور اولاد رہتے ہیں،
  • جولائی
2008
شیخ سائد بکداش
اسلام ایک مضبوط ومستحکم خاندانی نظام کا حامل دین ہے جس میں حقوق و فرائض کی لمبی چوڑی تفصیلات ملتی ہیں اور انہی پر عمل بجا لاکر آج مسلمانوں میں رشتوں کا احترام اور اس کے نتیجے میں چین و سکون پایا جاتا ہے۔ موجودہ دورِ زوال میں آج بھی مسلم معاشرے اپنے اسی خاندانی نظام کی بدولت غیرمسلموں میں رشک کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں،
  • جون
1986
غازی عزیر
ختنہ (Circumcision)کا لغوی معنی ''قلفہ'' یعنی عضو تناسل کے اگلے حصہ کی جلد، جس کو انگلش (Prepuce)میں کہتے ہیں، کاٹ کر علیحدہ کرنا ہے۔ عام اصطلا ح میں یہ لفظ جلدکے اس حصے کے لیے بولا جاتا ہے جو حشفہ (Glans Penis)کے نچلے حصہ میں سمٹی ہوئی ہوتی ہے،جسے وہاں سے کاٹ کر جسم سے جدا کیا جاتا ہے۔ ختنہ ایک معمولی عمل جراحی ہے، کسی آلہ یا معدنی سلائی کی مدد سے حشفہ کے اوپر کی تمام جلد کو آگے کی
  • جولائی
1986
غازی عزیر
اکثر اسلامی ممالک میں ختنہ پیدائش کےبعد سات سے لے کر تیرہ سال تک مختلف عمروں میں کیا جاتا ہے مکة المکرمہ میں، جہاں رسم ختنہ کو ''طہار'' کہا جاتا ہے، بچوں کا ختنہ تین سے سات سال کی عمر میں ہوجاتا ہے۔بعض کے نزدیک ولادت کے بعد ساتویں دن ختنہ کروانا مستحب اور زیادہ افضل ہے۔ ان کی دلیل حضرت جابر ؓ کی یہ روایت ہے:''عق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن الحسن والحسن و ختنھما لسبعة ایام''