• دسمبر
2000
عبداللہ دامانوی
(جامعہ عربیہ،بنوری ٹاؤن کے ایک فتویٰ کا علمی وتحقیقی جائزہ)

چند دن قبل راقم الحروف نے ایک سائل کے جواب میں ایک فتویٰ جاری کیاتھا،جس میں واضح کیا تھا کہ ایک مرتبہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔سائل نے اپنے سوال میں پوچھا تھا کہ اس کےبیٹے نے اپنی پھوپھی کا ایک مرتبہ دودھ پیا ہے۔کیا ایک مر تبہ  دودھ پینے سے حرمت ر ضاعت ثابت ہوجائےگی؟اس کے جواب میں،میں نے صحیح وصریح احادیث کے ذریعے واضح کیا  تھا کہ بچہ جب تک پانچ مرتبہ کسی خاتون کا دودھ نہ پی لے تواس وقت تک حرمت ثابت نہیں ہوسکتی۔
لیکن اس فتویٰ پر جامعہ عربیہ ،بنوری ٹاؤن کے مفتی عبدالستار نے تعاقب کرتے ہوئے لکھا:
"واضح رہے کہ ایک مرتبہ دودھ پینے سے بھی حرمت  رضاعت ثابت ہوجاتی ہے ،اس پر قرآن پاک اور کثیر صحیح احادیث شریفہ سے قوی دلائل موجود ہیں۔جمہور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور جمہور اُمت کابھی یہی مسلک ہے"(ص2)
اس مسئلہ پر مفتی صاحب نے قرآن پاک اور احادیث صحیحہ سے جو قوی دلائل بیان کئے ہیں ،ان کا ذکر ہم بارہ صفحات  کے بعد کررہے ہیں جس کے ساتھ ساتھ نکتہ بہ نکتہ ان کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔احادیث صحیحہ سے یہ مسئلہ واضح ہے کہ پانچ مرتبہ دودھ پینے سے ہی حرمت ر ضاعت ثابت ہوتی ہے۔اور پانچ مرتبہ سے کم دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔چنانچہ اس سلسلہ کے چند دلائل پیش خدمت ہیں: