• جولائی
2005
حسن مدنی
يورپ ميں نكاح كے بغير جنسى تعلقات معمول كى بات ہے- نسب كے تحفظ كے ذرائع اختيار نہ كرنے كى بنا پر اُنہوں نے نسب كے تعين كے لئے طبعى ذرائع پرانحصار كرركها ہے، جس ميں جديد سائنسى طريقہDNA بڑا كارآمد ثابت ہوا ہے- وہاں جنسى بے راہ روى اس حد تك ہے كہ كوئى انسان يقين سے اپنے باپ كى نشاندہى نہيں كرسكتا، يہى وجہ ہے كہ اب باپ كے بجائے ماں كے نام كو زيادہ اہميت حاصل ہوتى جارہى ہے-
  • جولائی
1997
جسٹس احسان الحق
ابتدائیہ
متن کی روح کے مطابق ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کرنا مشکل کام ہے اور اگر متن کسی قانون دستاویز کا ہو تو کام مشکل تر ہو جاتا ہے۔ صائمہ کیس میں دئیے گئے مسٹر جسٹس احسان الحق چوہدری کے عربی اور انگریزی زبان میں لکھے گئے بہتر (72) صفحات پر مشتمل فیصلے کو اردو کے قالب میں ڈھالتے ہوئے راقم الحروف نے جہاں یہ کوشش کی ہے کہ ترجمہ جہاں تک ممکن ہو سکے، آسان الفاظوں میں کیا جائے۔ رواں دواں ہو ۔۔۔ اور با محاورہ ہو، وہاں یہ کوشش بھی شامل ترجمہ رہی ہے کہ یہ ترجمہ فیصلے کی لفظ بہ لفظ معنوی عکاسی کر سکے۔ یہاں یہ گزارش ضروری معلوم دیتی ہے کہ ہر زبان کی ایک اپنی تہذیب، ایک اپنا محاوراتی رچاؤ اور تمثیلاتی سبھاؤ ہوتا ہے۔
  • جون
1999
حسن مدنی
نکاح میں والدین کا کردار اور اولاد کے فرائض

حالیہ چند دنوں بعض اسلام بیزار خواتین کے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور اسلام کے خاندانی نظام پر حملہ کرنے کی مذموم کوششوں کے بعد مسئلہ نکاح کے اسلامی احکام نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے مسلسل فیصلہ جات نے بھی اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے ۔۔ اس خاص مرحلہ پر چند مخصوص احکامِ اسلامیہ کی بجائے بیسیوں ایسے عوام اور رویے ہیں جن کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جن میں اسلامی دلایت عامہ و خاصہ کا تصور، حضانت و کفالت کے مسائل، صلہ رحمی اور اطاعتِ والدین کے احکام، اولی الامر کی ذمہ داریاں اور اولاد کے فرائض کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشروں میں صدیوں سے چلے آنے والی قدروں کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے۔
  • اکتوبر
2000
نجیب الرحمن کیلانی
چند دنوں کی بات ہے کہ نماز عصر کے بعد ایک دوست پوچھنے لگے کہ اہل کتاب یعنی یہودو نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح کے بارے میں ذرا وضاحت کریں ۔ تفصیل پوچھنے پر انھوں نے بتا یا کہ میرا ایک دوست عرصہ بارہ سال سے جرمنی میں رہائش پذیر ہے وہاں جا کر اس نے دوسرے سال ہی ایک عیسائی عورت سے شادی کر لی تھی۔جب بھی کبھی وہ پاکستان آتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ میں دلی طور پر اس شادی سے مطمئن نہیں ہوں۔جب کہ وہ عورت اب تک اپنے دین یعنی عیسائیت پر قائم ہے اور بچوں کو بھی عیسائیت کی طرف مائل کر رہی ہے چونکہ ان کے بچے بھی ہیں اس لیے اس عورت کو چھوڑنا ممکن نہیں رہا۔ مزید تفصیل پر معلوم ہوا کہ یہ صرف اسی کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہاں کے مشنری ادارے فوراً اپنی لڑکیوں کا ان مسلمانوں سے نکاح کرا دیتے ہیں جو تلاش پر روزگار کے سلسلے میں وہاں جاتے ہیں اور جب یہ مسلمان واپس آتے ہیں تو ان عورتوں کو ویسے ہی چھوڑآتے ہیں اس طرح یہ صرف نام کے ہی مسلمان رہ جا تے ہیں وگرنہ ان کی تہذیب معاشرت لین دین اکل و شرب سب کچھ عیسائیوں جیسا ہی ہوتا ہے وہ اتوار کے اتوار گرجامیں تو بےشک نہیں جاتے مگر اپنی نمازوں سے ضروربیگانہ ہو جا تے ہیں اپنی عیسائی بیویوں کے ساتھ مل کر بلا جھجک خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب سے بھی دل بہلاتے ہیں یہ صرف جرمنی کا ہی واقعہ نہیں بلکہ گرین کارڈ اور نیشنلٹی کے چکر میں برطانیہ امریکہ الغرض دوسرے کئی ایک ممالک میں مسلمان اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں ۔
  • اکتوبر
1996
زاہد الراشدی
اس سلسلہ میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے "فیض الباری علی صحیح البخاری" میں فقہی مذاہب کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ کنواری لڑکی ولی کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی بلکہ ولی کی اجازت اور رضا کی صورت میں بھی ایجاب و قبول کا اختیار لڑکی کو حاصل نہیں ہے بلکہ اس کی طرف سے یہ ذمہ داری ولی سر انجام دے گا۔
2۔ احناف میں سے حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی رضا  کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی البتہ ولی کی رضا اور اجازت کی صورت میں ایجاب و قبول وہ خود کر سکتی ہے۔
3۔ امام اعظم حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر بھی کر سکتی ہے البتہ اسے اس طرح اپنا نکاح کرنے کی صورت میں "کفو" کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہو گا اور اگر اس نے ولی کی اجازت کے بغیر "غیر کفو" میں نکاح کر لیا تو ولی کو نہ صرف اعتراض کا حق ہے بلکہ وہ تنسیخ نکاح کے لئے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
# فقہ جعفریہ کے مطابق باکرہ کے لئے باپ یا دادا کی اجازت ہونا احتیاط واجب ہے (جامعۃ المنتظر، لاہور)
4۔ "کفو" کا مفہوم فقہائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں یہ ہے کہ کسی لڑکی کا نکاح ایسی جگہ نہ ہو جہاں لڑکی کا ولی اور اہل خاندان اپنے لئے عار محسوس کریں۔ "کفو" کے اسباب فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اپنے اپنے عرف اور ذوق کے مطابق مختلف بیان کئے ہیں جن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی اور اس کا خاندان جس سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں کے عرف اور معاشرتی روایات کے مطابق جو بات بھی ان کے لئے باعث عار سمجھی جاتی ہو وہ "کفو" کے اسباب میں شامل ہو گی کیونکہ "کفو" کی علت سب فقہاء نے "دفع ضرر عار" بیان کی ہے اور عار کے اسباب ہر معاشرہ اور عرف میں مختلف ہوتے ہیں۔