• دسمبر
2014
محمد نعمان فاروقی
اتحاد، اتفاق، وحدت اور یکجہتی بڑے مؤثراورمعنیٰ خیز الفاظ ہیں۔ ان کا ایک مفہوم تو قرآن وسنت میں بیان ہوا ہے، تودوسری طرف ان کا ایک مفہوم عوام میں بھی رائج ہے۔ زیر نظر مضمون میں دونوں میں فرق پیش کرنے کے بعد،اتحاد کا اصل مفہوم اور اسکے ثمرات کا ذکر کیا جائے گا۔ ان شاء اللّٰہ
  • اکتوبر
1996
عبدالرحمن مدنی
نکاح جو ایک خاندان کو تشکیل دیتا ہے، انبیاء کی سنت ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اہمیت دی کہ نکاح سے بے رغبتی کو اپنی ملت سے خروج قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسلام کے عائلی نظام کے اصولی مباحث کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں اس کی سیر حاصل تفصیلات موجود ہیں۔ خود تعامل امت بھی اس مقدس "رسم" کو تحفظ دئیے ہوئے ہے۔ مغربی سامراج کی اس قلعہ پر بیرونی یلغار کے علاوہ اندرون مشرق بھی اس کے ایجنٹ طرح طرح سے اسلامی تہذیب و ثقافت کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیں جس کا ایک حربہ خاندانوں میں منظم شادیوں کے بجائے معاشقے لڑا کر شریف گھرانوں کی بچیوں کی عصمت دری ہے۔ پھر بعض سادہ لوح لوگوں کو "دعوت کی نام نہاد آزادی" کے نعرہ سے ہمنوا بنانے کے لئے فقہائے امت میں اختلافات کا شوشہ بھی چھوڑا جاتا ہے حالانکہ کوئی دانا بینا مسلمان مفرور کی شادی کی حمایت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسی عرف شرعی کے پیش نظر سطور ذیل میں اسلام کے عائلی نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نظام کے جزوی مسائل کے لئے کتب احادیث کے متعلقہ ابواب ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ (مدیر)
  • جون
2000
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال۔میری شادی ام کلثوم سے 1971ء میں ہوئی جبکہ حق مہر صرف بتیس روپے مقرر ہوا۔گھریلو اختلافات کی وجہ سے میں نے 1986ء میں ایک طلاق دے دی تھی۔پھر کوئی طلاق نہ دی۔اس کے بطن سے ایک بچی بھی ہے۔چند  سال بعد 1990ء میں ،میں نے دوسری شادی کرلی۔تقریباً چھ سال بعد 1992ء میں ام کلثوم سے میں نے دوبارہ نکاح کرلیا۔آیا یہ شرعاً جائز تھا،کیا اس میں حلالہ کی ضرورت تھی یا نہیں؟(محمد گلزار،لاہور)
جواب۔اس شکل میں طلاق  رجعی کی صورت میں  علیحدگی ہوئی تھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ عدت کے اندرشوہر رجوع کرسکتا ہے۔اور عدت گزرنے کی صورت میں د وبارہ نکاح بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ بالفعل دوبارہ ام کلثوم سے نکاح ہوگیا ہے جو درست فعل ہے۔اس امر کی واضح دلیل حضرت معقل بن یسار کی ہمشیرہ کا قصہ ہے۔اس کے شوہر نے طلاق دے کر دوبارہ عدت کے بعد نکاح کرنا چاہا تو معقل درمیان میں رکاوٹ بن گئے
  • جولائی
1985
عبدالعزیز علوی
انہی مذکور الفاظ کے قریب قریب مذکورہ واقعہ للشعرانی ج1 مطبوعہ مصر ص163 میں بھی ہے۔لیکن کشف الغمہ میں اس کے راوی حضرت انس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو غسل دینے والی روایت کو موطااما م محمد میں اس سند اور الفاظ سے روایت کیا گیا ہے:
یعنی "عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  فرماتے ہیں۔کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعا لیٰ عنہا  حضرت ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کی بیوی نے ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ  کو غسل دیا۔تو فارغ ہوکر جو صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین  موجود تھے۔ان سے سوال کیا کہ "میں روزہ سے ہوں اور آج سخت سردی ہے کیا غسل دینے کی وجہ سے مجھ پر بھی غسل واجب ہے؟ سب نے متفقہ جواب دیا کہ، نہیں!" (چنانچہ) امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ ہم بھی اس کے قائل ہیں کہ عورت اپنے فوت شدہ خاوند کو غسل دے۔"
  • دسمبر
1970
عبدالغفار اثر
ہم ملت کے ہر درد، بہی خواہ مسلمان اور دین پسند جماعتوں کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ جہاں سوشلزم، ظالمانہ سرمایہ داری، غیر اسلامی نظریات اور دیگر قباحتوں کے خلا  ف اپنی سرگرمیاں مرکوز کر رہے ہیں وہاں ملک میں بڑھتی ہوئی عریانی، فحاشی، بے راہ روی، ننگے مناظر کی اعلانیہ نمائش اور شرمناک تشہیر و اشاعت کے خلاف بھی ایک متحدہ محاذ بنا کر اس کے قرار واقعی انسداد اور قلع قمع کے لئے میدان عمل میں نکل آئیں۔
  • ستمبر
2003
عطاء اللہ صدیقی
بر صغیر پاک وہند کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ ریاست کے قیام کا مقصد عظیم ہی یہ تھا کہ الگ سے ایک خطہ زمین مسلمانوں کو مل جائے جہاں وہ اپنے تہذیب وتمدن کو از سر نو قائم کر سکیں اور اپنی زندگیاں اسلام کے بتائے ہوئے سنہری اصولوں کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے گزار سکیں۔

آج جب ہم ۵۶برس کے بعد قیامِ پاکستان کے مقاصد اور پاکستانی معاشرے کی نہج کا باہمی موازنہ کرتے ہیں تو سخت پریشانی اور اُلجھن ہوتی ہے۔