Mohaddis-259-April-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مشہور امام کعبہ اور اُمورِ حرمین شریفین کے سابق چیئرمین

سماحة الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیل حفظہ اللہ کے فرزند ِاَرجمند

یہ خبر نہایت غم و اَندوہ کاباعث ہے کہ عالم اسلام کے ممتاز عالم اوربیت اللہ کے امام و خطیب سماحة الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیل حفظہ اللہ ،جو ایک عرصہ امور حرمین شریفین کے چیئرمین بھی رہے اور تقریبا ایک سال قبل ان کے دامادمعالی الشیخ الدکتور صالح بن حمید کو ان کے انتظامی جانشین کے طور پر حرمین شریفین کے اُمور کا چارج دے دیا گیاتھا۔ البتہ ان کے فرزند اَرجمند فضیلة الشیخ ڈاکٹر عمر بن محمد السبیل اپنے والد گرامی کے ہمراہ عرصہ دس سال سے حرم مکی کے امام چلے آرہے تھے ،کواس کبر سنی میں اپنے ہونہار لخت جگر کی دل فگار موت کے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا۔یاد رہے ڈاکٹر عمر السبیل ،جو ایک ماہ قبل کار کے ایک حادثہ میں اپنی بیوی بچوں سمیت شدید زخمی ہوگئے تھے اور اس وقت سے طائف کے ملٹری ہسپتال میں بے ہوش تھے ۔بالآخر وقت موعود آن پہنچا اور آپ اسی بے ہوشی کے عالم میں ۲/ محرم ۱۴۲۳ھ بمطابق ۱۵/مارچ ۲۰۰۲ء بروز جمعة المبارک ۴۵ سال کی عمر میں اس دنیائے فانی سے عالم جاودانی کی طرف رِحلت فرماگئے۔إنا لله وإنا إليه راجعون!

ہفتہ کے دن، عصر کی نماز کے بعد مسجد ِحرام میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور انہیں مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلامیں سپرد خاک کر دیا گیا، ہماری دعا ہے کہ اللہ انہیں اپنی آغوشِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی مغفرت فرما کر انہیں وسیع جنتوں کا مکین بنائے اور ان کے بزرگ والد اور پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے ۔ آمین!

مولد اور تعلیم تربیت

الشیخ عمر السبیل ۱۳۷۸ھ بمطابق ۱۹۵۸ء سعودی عرب کی قصیم ڈویژن کی بستی 'بکیریہ ' میں پیدا ہوئے۔علمی خانوادہ سے متعلق ہونے کی بناء پر بچپن ہی سے علومِ شریعت کی تحصیل میں مشغول ہو گئے۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی جامع مساجد میں بڑے علماء وشیوخ کے علمی حلقوں کے علاوہ اسلامی یونیورسٹی (محمد بن سعود) میں زیر تعلیم رہے۔آپ نے ۱۴۰۲ھ میں جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے علومِ شریعہ میں گریجویشن کے بعداسی جامعہ سے پہلے ایم اے کیا، جس میں آپ کے مقالہ کا موضوع أحکام اللقیط في الفقه الإسلامي(فقہ اسلامی میں 'گمشدہ' کے احکام)تھا پھر اسی یونیورسٹی سے فقہ میں ڈاکٹریٹ کا اعزازبھی حاصل کیا۔ قبل ازیں آپ موقع بہ موقع مکہ مکرمہ کے بزرگ علماء سے بھی فیض علم حاصل کرتے رہے ۔آپ کے حفظ قرآن کے استاذحافظ محمداکبر مدرس حرم مکی ہیں جن سے آپ نے روایت حفص عن عاصم کی اجازت بھی حاصل کی۔

شیخ کی عملی زندگی

گریجویشن کے فورا بعد ۱۴۰۲ھ میں ہی شیخ عمر جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامہ میں مدرس مقرر ہو گئے اوربعد اَزاں اسی یونیورسٹی کے کلیة الشریعہ میں اسسٹنٹ پروفیسربنا دیئے گئے۔ریاض سے مکہ مکرمہ مستقل طور پر منتقل ہونے کے بعد آپ جامعہ اُمّ القری کے کلیة الشریعہ میں پڑھاتے رہے اورشام کی شفٹ میں آپ پوسٹ گریجویشن کی کلاسیں بھی لیتے تھے۔ جامعہ اُم ّ القری میں تعلیم وتربیت کی خدمات کی انجام دہی کے دوران ہی آپ کا تقرر حرم مکی کے امام کے طورپر ہوا۔ علاوہ ازیں حرم مکی کے بابِ فہد کے قریب 'رواق عثمانی' میں آپ کا حلقہ درس بھی قائم تھا، جہاںآ پ عموماً بروز ہفتہ اور اتوار عصر کی نماز کے بعدعقیدہ میں کتاب 'قرة عيون الموحدين' اور فقہ میں امام راغب کی کتاب 'فقہ الہدایہ' کا درس دیا کرتے تھے ،جس سے سینکڑوں تشنگان علم فیض یاب ہوتے۔

شیخ کے اَساتذہ

شیخ عمر السبیل نے اسلامک یونیورسٹیوں سے طلب ِعلم کے علاوہ سعودی عرب کے مشہور علماء سے کسب ِفیض کیا ،جن میں ان کے والد گرامی سماحةالشیخ محمد بن عبدا للہ السبیل حفظہ اللہ،چیف جسٹس سماحة الشیخ عبد اللہ بن حمید ، مفتی اعظم سماحة الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز رحمہما اللہ اورکبار علما ء کونسل کے رکن شیخ عبداللہ بن غدیان حفظہ اللہ شامل ہیں۔

عادات وخصائل

شیخ جہاں ایک محقق عالم اور فقیہ ہونے کے علاوہ دعوت وتبلیغ کے جذبہ فراواں سے سرشار تھے وہاں آپ تحمل وبردباری اور عاجزی وانکساری کا بھی اعلیٰ نمونہ تھے۔ آپ کا دعوت وتبلیغ کا اندازاچھوتااور نہایت حکیمانہ تھا ۔گویا شیخ علم وعمل کی بے شمار خوبیوں اور صفات جلیلہ سے متصف تھے۔

ذیل میں ہم شیخ کے متعلق چند معاصرعلما کے تعریفی کلمات ذکر کرتے ہیں جو شیخ کی زندگی کے بعض گوشوں کو اجاگر کرنے میں ممد ومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

حال ہی میں امور حرمین شریفین کے چیئرمین کے منصب سے سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے چیئرمین مقرر ہونے والے معالی الشیخ ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید نے آپ کی وفات پر گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو ملت ِاسلامیہ کے لیے ایک حادثہ فاجعہ قرار دیاہے، فرماتے ہیں:

«کان الشيخ عمر السبيل رحمه الله من أهل الفضل والعلم ومن عقلاء الرجال وقد نشأ نشأة صالحة وقد رزقه الله علمًا وفقهًا»

" شیخ عمر السبیل رحمہ اللہ علم وفضل کے حامل اور ذہین وفطین لوگوں میں سے تھے ۔انہیں اللہ تعالی نے خیر وبھلائی کے ساتھ علم وفقہ کا خصوصی حظ عطا فرمایا تھا۔وہ وقت کے سختی سے پابند اور اعلیٰ باطنی وظاہری اوصاف سے آراستہ تھے،ان کی استقامت اور ہر دلعزیزی قابل رشک تھی"

مزید فرماتے ہیں:

" بلاشبہ الشیخ عمر السبیل کی وفات ملت ِاسلامیہ کے لیے عظیم خسارہ ہے ،لیکن ہم اللہ کے فیصلہ پر راضی ہیں اور وہی کہتے ہیں جو اللہ کو پسند ہے إنا لله وإنا إليه راجعون"

حسن خلق اور تواضع وانکساری

شیخ جہاں نیکی سے محبت کرنے والے،برائی سے نفور اور حسن خلق اور عاجزی وانکساری کا اعلیٰ نمونہ تھے وہاں ایک عالم باعمل اور ممتاز مبلغ و مصلح بھی تھے۔

مسجد ِحرام کے ایک اورممتاز خطیب اور امام فضیلة الشیخ عبد الرحمن السدیس نے آپ کی وفات پرگہرے رنج والم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :

" بلاشبہ آج ہم ایک عزیز بھائی ،صاحب بصیرت عالم اور فقیہ سے محروم ہوگئے ہیں،جنہوں نے اپنے علم کو حرم مکی کے منبر ومحراب کے لیے وقف کر رکھا تھا ۔ان کے علم وفضل سے بے شمار تشنگانِ علم سیراب ہوئے۔مرحوم حسن اخلاق کا مجسمہ ،انتہائی مشفق،بھلائی سے محبت کرنے والے اور اس کا پرچار کرنے والے تھے ۔آپ قرآن کریم کے حافظ، عالم اور اس کے احکام پر سختی سے کاربند تھے۔"

آپ کی وفات پر مسجد ِحرام کے سب سے بڑے موٴذن شیخ علی ملا نے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :

"شیخ ڈاکٹر عمر السبیل کی وفات ہمارے لیے ایک عظیم سانحہ سے کم نہیں۔مرحوم ضبط ِنفس اور تواضع وانکساری کی خصلت حمیدہ سے متصف تھے ۔علاوہ ازیں امانت ودیانت کے پیکر اور خیروبرکت کی علامت تھے ، تعلیم میں آپ کاانداز اچھوتا اور دعوت وتبلیغ میں اسلوب حکیمانہ تھا۔اسی بناء پر آپ ایک کامیاب مدرس اور طلباء میں ہردلعزیز استاد تھے۔

آپ اپنے والد سماحة الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیل (بیت اللہ کے دیرینہ امام اور خطیب ) کے ساتھ معہد حرمِ شریف میں بھی درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے جہاں طلبا کی ایک بڑی تعداد ان کے علم سے مستفید ہوتی رہی۔اس کے بعد آپ جامعہ اُمّ القری کے کلية الشريعة میں مسند ِ تدریس پر متمکن ہوئے۔

دعوت و تبلیغ کا منفرد اُسلوب

شیخ عمر السبیل اپنے دل میں اُمت کے لئے درد اور خیرخواہی کا جذبہ رکھنے والے ایک عظیم مبلغ تھے اور وہ تمام صفات آپ میں بدرجہ اتم موجودتھیں، جو ایک داعی کا طرئہ امتیاز ہوتی ہیں ۔چنانچہ فضیلة الشیخ ڈاکٹر محمد الخزیم نائب چیئرمین 'ادارة شو ٴونِ حرمین' نے آپ کی وفات پر گہرے رنج واَلم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :

"آج ہم ملت اسلامیہ کے ایسے فرزند ِارجمند سے محروم ہو گئے جو ا للہ کی اطاعت اور بیت اللہ کے جوار میں پروان چڑھے اور پھر بیت اللہ الحرام کی مسند ِامامت وخطابت پر متمکن ہوئے ۔آپ عفو ودرگزر اور شفقت و محبت میں اپنی مثال آپ تھے۔ دعوت الی اللہ میں ﴿دعُ إِلىٰ سَبيلِ رَ‌بِّكَ بِالحِكمَةِ وَالمَوعِظَةِ الحَسَنَةِ...١٢٥﴾... سورة النحل"کی عمدہ تصویر تھے۔ ہم ان کے خاندان اور والد ِگرامی الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیل کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔"

شیخ کی اصابت ِرائے

شیخ کی صفات میں ایک خوبی ان کی 'اصابت ِرائے' تھی۔ چنانچہ الشیخ علی بن مدیش (سابق رکن مجلس شوریٰ )نے آپ کی وفات پر ان جذبات کا اظہار کیا۔

"خطیب وامامِ حرم فضیلة الشیخ ڈاکٹر عمر بن محمد السبیل  اصحابِ فضل مشائخ میں سے تھے۔ آپ اصابت ِرائے کے حامل اور علم وعمل میں یگانہٴ روزگار تھے ۔مرحوم فقرا اور مساکین سے شفقت سے پیش آتے ،فقہی اور شرعی علوم پر مشتمل کتب کے مطالعہ کے بہت شائق تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی وسیع رحمت سے ڈھانپے اور ان کے اہل وعیال کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مسلمانوں کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔"

افراط وتفریط کے درمیان راہِ اعتدال کے حامل

شیخ عبد العزیز بن صالح الحمید(چیف جسٹس صوبہ قصیم)نے شیخ کی وفات کو ملت ِاسلامیہ کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے فرمایا :

"اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ کی وفات ملت ِاسلامیہ کے لیے ایک بڑا خسارہ اور عظیم حادثہ ہے۔ علم اور طلبا سے محبت اور کتاب اللہ سے شغف آپ کا امتیازی وصف تھا ۔آپ افراط وتفریط کے درمیان مسلک ِاعتدال کے حامل تھے۔آپ نے اپنے والد ِگرامی الشیخ محمد السبیل جو خود بہت بڑے عالم اور ۴۰ سال تک ادارہ حرمین کے چیئر مین کے فرائض انجام دیتے رہے، سے بہت زیادہ استفادہ کیا۔

ہم ان کے خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اللہ ان پر رحم فرمائے ۔انہیں وسیع باغوں میں جگہ دے اور ان کے اہل خانہ اور دوست واحباب کو صبر جمیل عطا فر مائے۔"

علم کی نشانی

ڈاکٹر محمد الخزیم نے شیخ کی وفات پر گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :

" آج ہم مسلمانوں کی ایک عظیم نشانی اور مسجد ِحرام کے امام سے محروم ہو گئے ہیں۔"

قحط الرجال کے جس دور سے آج ہم گزر رہے ہیں، شیخ علم وعمل کی حامل ہستی ملت ِاسلامیہ کے لیے بہت بڑا سہارا تھی۔ وہ تواپنا کام پورا کر کے چلے گئے ،اب ملت کے ذہین وفطین لوگوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان جیسی قد آورشخصیات کے خلا کو پر کریں۔ اور ضرورت ہے کہ موجودہ او ر آئندہ نسلیں ان علما کے خلوص ،تقویٰ، للہیت، محنت ومشقت اور علم وکردار کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں۔اور ملت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیں ۔

٭٭٭٭٭