پردہ نہ کرنے کی ایک سے ایک گیارہ وجوہات

خواتین کو اسلام نے پردہ کا پابند اس لئے کیا ہے کہ ان کی عزت و عفت پر کوئی حرف نہ آئے۔ جس طرح ملک کی اعلیٰ شخصیات کوبلٹ پروف گاڑی اور حفاظتی دستہ دے کر ان کو قید کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ان کی حفاظت مطلوب ہوتی ہے، اسی طرح ان گراں قدر موتیوں (خواتین) کو پردہ کے حفاظتی قلعہ میں قید نہیں کیا گیا بلکہ ان کی حفاظت کا سامان کیا گیاہے ۔

ان دنوں بعض آزاد خیال عورتیں پروپیگنڈہ سے متاثر ہوکر اسلامی اقدار کو پامال کررہی ہیں۔ اور پردہ کے خلاف درج ذیل تاویلیں، اعتراضات او رمجبوریاں پیش کرتی ہیں۔ آپ پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا یہ واقعی معقول ہیں... !!

(1) میں ابھی تک پردہ کی قائل نہیں ہوں

ایسی خاتون بتائے، کیا وہ بنیادی طور پر اسلام کی حقانیت کی قائل ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب 'ہاں' میں ہے کیونکہ اس نے کلمہ طیبہ پڑھ کر اللہ کی معبودیت اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اورشریعت اسلامیہ کا اقرار کیا ہے۔

ہمارا دوسرا سوال محترمہ سے یہ ہے کہ جب آپ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتی ہیں تو اللہ نے اپنے قرآن میں او ر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں پردہ کرنے کا حکم دیا ہے تو کیا آپ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے کی قائل ہیں؟ یقینا اس کا جواب 'ہاں' میں ہوگا تو پھر سچے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آجائے تو سَمِعْنَا وَاَطْعَنَا " ہم نے سنا او رمان لیا" کہا جائے اور حکم پر عمل کیا جائے، وگرنہ زبانی اِقرار کسی کام کا نہیں۔

اللہ عزوجل نے سورة الاحزاب کی آیات ۵۹،۵۳،۳۳،۳۲ اور سورة النور کی آیات ۳۱،۳۳ میں پردہ کا حکم دیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تاکید کی ہے۔مثلاً حدیث ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: "عورت سرتا پیر ستر (چھپانے کی شے) ہے" (ترمذی)۔ اگر یہ بہن واقعی اسلام کی قائل ہے اورنبی کریم کی اطاعت کا دم بھرتی ہے تو اسے اس سلسلے میں بھی اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کرنا چاہئے۔

(2) میں تو چاہتی ہوں مگر میرے گھر والے منع کرتے ہیں

"اللہ کی تابعداری کے خلاف کسی مخلوق کی تابعداری نہ کرو" (بخاری و مسلم)

اپنے گھر والوں، بزرگوں اور اساتذہ حتیٰ کہ والدین کا حکم آپ صرف اس صورت میں ماننے کی پابند ہیں جب تک وہ اسلامی احکام کے خلاف نہ ہو۔ قرآن کی آیات اور احادیث ِنبوی کی رو سے اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مقابلہ میں کسی اور کا حکم ماننا گناہ ہے۔

(3) میرے پاس برقعہ وغیرہ خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہیں

ہماری یہ بہن یا تو واقعی سچی ہے یا پھر حیلہ باز ہے اور اس کی مراد فیشن ایبل مہنگا برقعہ یا چادر وغیرہ ہے۔ اگر یہ واقعی سچی اور مخلص ہے تو اسے کم از کم یہ تو معلوم ہوگاکہ مکمل شرعی لباس کے بغیر باہر نکلنا منع ہے۔انتہائی مجبوری میں برقعہ نہ سہی اپنے دوپٹہ/چادر (جو بھی میسر ہو) سے مکمل گھونگٹ نکال کر باہر نکلے۔نیز اہل خیر کو چاہئے کہ جہاں وہ دیگر نیکیاں کرتے ہیں وہاں مسلم خواتین میں برقعہ/شرعی حجاب/ نقاب وغیرہ بھی تقسیم کریں تاکہ جو نہیں جانتے وہ بھی اس کی اہمیت و فرضیت کو جان لیں۔

جہاں تک ہماری بہن کا تعلق ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی شخصیت کا وقار زرق برق لباس او رمہنگے برقعہ/فیشن ایبل حجاب یا قیمتی نقاب سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں ہے۔ اصل عزت دار وہ ہے جو اللہ کے یہاں باعزت ہو۔ فرمانِ الٰہی ہے:

"تم میں زیادہ صاحب ِعزت اللہ کے ہاں وہ ہے جو زیادہ صاحب ِتقویٰ ہے" (الحجرات:۱۳)

(4) ہمارے یہاں گرمی زیادہ ہے

ہماری اس بہن کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد رکھنا چاہئے: "کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ زیادہ گرم ہے، کاش وہ سمجھ لیتے"(التوبہ:۸۱) صرف ٹھنڈے ٹھنڈے، آسان اور مرضی کے احکام ماننے سے جنت کا حصول ممکن نہیں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے :

:"جنت کومشکل کاموں میں چھپا دیا گیا ہے اورجہنم کو عیش وعشرت کے کاموں میں۔"(ابوداود)

(5) مجھے ڈر ہے کہ ایک بار پردہ کرنے کے بعد میں کہیں پردہ کرنا چھوڑ نہ دوں!

دیکھئے ہماری اس بہن کو شیطان نے کیسے اپنے جال میں پھنسایا ہے۔ اگر سوچ کا یہی انداز ہے تو کوئی کبھی نماز نہ پڑھے بلکہ کوئی بھی نیکی کا کام نہ کرے، یقینا نیکی پر ثابت قدمی کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور اس کے لئے وہ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں جن سے ثابت قدمی نصیب ہو، مثلاً: نماز کی پابندی اور مشکلات پر صبر کے ساتھ اللہ سے مددمانگی جائے (دیکھئے النساء: ۶۶) نیز یہ دعا کثرت سے کریں : ﴿رَ‌بَّنا لا تُزِغ قُلوبَنا بَعدَ إِذ هَدَيتَنا...٨ ﴾...سورة آل عمران

"اے ربّ! اب جبکہ تو نے ہمیں ہدایت دے دی ہے تو پھر ہمارے دلوں کوٹیڑھا نہ کرنا..."

نیکی میں اخلاص اور عزم پختہ ہو تو اللہ تعالیٰ ثابت قدمی عطا فرماتا ہے۔

(6) مجھ سے کہا گیا ہے کہ پردہ کرو گی تو کوئی شادی نہ کرے گا

کوئی ہماری اس بہن کو یہ سمجھا دے کہ جو شخص خود اللہ کے احکامات کا پابند نہ ہو، وہ کبھی اچھا شوہر ثابت نہ ہوگا، نہ وہ خود تانکا جھانکی سے پرہیز کرے گا اور نہ تمہیں دوسروں کی نگاہوں کا کھلونا بننے سے روکے گا۔ نیز جس گھر کی بنیاد گناہ پر ہو، وہ گھر دنیا و آخرت کی بربادی سے بچ نہ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل توملتی ہے لیکن آخر کار ایسے گھرانوں کا انجام بہت براہوتا ہے۔ اخبارات بے پردہ گھرانوں کے المناک قصوں سے بھرے ہوتے ہیں اور نگاہ ِعبرت چاہتے ہیں۔

یہ بھی ایک شیطانی خیال ہے وگرنہ کتنی باپردہ لڑکیاں ہیں جن کی شادی ہوگئی ہے اور کتنی بے پردہ ہیں جو شادی کیلئے پریشان ہیں کیونکہ شادی تو ایک نعمت ہے او راللہ جسے چاہے اپنی نعمتیں عطا کرتا ہے۔

(7) اللہ تعالیٰ نے مجھے حسن کی نعمت سے نوازا ہے، میں کیوں چھپاؤں؟

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں نعمت کے اظہار کی اجازت دی ہے، اگر بطورِ شکر ہونہ کہ بطورِ فخر وغرور فرمایا: ﴿وَأَمّا بِنِعمَةِ رَ‌بِّكَ فَحَدِّث ١١ ﴾... سورة الضحىٰ یعنی "اپنے ربّ کی نعمتوں کا ذکر کرو"

سبحان اللہ! ہماری یہ بہن قرآن کو حجت بنا رہی ہے اور خود قرآن میں پردہ کی پابندی کا حکم دینے والی آیات (النور:۳۱ اور الاحزاب:۵۳،۵۹ وغیرہ) کو پس پشت ڈال رہی ہے اور اگر واقعی اظہارِ نعمت مقصود ہے تو ایمان و ہدایت سے بڑھ کر نعمت کیا ہوگی اور اس نعمت کے اظہار کا تقاضا یہی ہے کہ

اولاً، قرآن و سنت کے ہر حکم پر بلا چوں چرا عمل کیا جائے اور پردہ کو اختیار کیا جائے۔

ثانیاً، جس اللہ نے حسن دیا اسی کے حکم کے مطابق صرف شوہر کے سامنے اس حسن کا اظہار ہوگا، باقی سے پردہ اختیار کیاجائے گا، اور یہی حیا ہے جو ایمان کا زیور ہے او رایمان سب سے بڑی نعمت ہے۔

(8) میں جانتی ہوں کہ پردہ فرض ہے ، جب مجھے توفیق ہوئی میں پردہ کرلوں گی!

یہ بھی ایک عجیب شیطانی وسوسہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ سمجھ دے دی کہ پردہ فرض ہے تو اب کس توفیق کا انتظار ہے؟ جب بھی ارادہ کرکے عمل شروع کردیاجائے تو توفیق ہوگئی اور اگر حیلے تراشے جائیں تو پھر ساری زندگی توفیق ہو ہی نہیں سکتی۔

(9) جلدی کیسی! ابھی میری عمر ہی کیا ہے؟ جب حج کرلونگی تو پردہ کرنے لگوں گی!

اے بہن، موت چھوٹے اوربڑے کو نہیں دیکھتی۔ اللہ سے ڈریے ،کہیں آپ کو یہ حیلہ بہانہ کرتے ہوئے بے پردگی یعنی اللہ کی نافرمانی کی حالت میں موت نہ آجائے۔ یاد رہے کہ موت کا فرشتہ آپ کی مرضی کا نہیں بلکہ اللہ کی مرضی کا پابند ہے۔ علاوہ ازیں پردہ پہلے فرض ہے اور حج بعد میں کیوں کہ حج تو استطاعت اور محرم کے ساتھ مشروط ہے۔

(10) ڈرتی ہوں کہ پردہ کرنے سے کسی مخصوص گروہ کی طرف منسوب کردیا جائیگا

اسلام کی نظر میں صرف دو گروہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے ایک 'حزب اللہ' یعنی اللہ کا گروہ؛ وہ اہل ایمان جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور دوسرا 'حزبِ شیطان ' یعنی شیطانِ مردود کا گروہ، وہ لوگ جو حیلے بہانوں سے احکامِ اسلام کا عملاً انکار کرتے ہیں۔ یہ تو خوشی نصیبی ہے کہ آپ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی جو کہ ان شاء اللہ تعالیٰ دنیا میں آپ کے جنتی ہونے کی علامت ہے۔ جبکہ جن کی نسبت شیطان کی طرف ہے اور اسی حالت میں وہ مرجائیں تو ان کے جہنمی ہونے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کردیا ہے۔ (دیکھئے سورئہ ص ٓ: ۸۵)

(11) پردہ تو اصل میں دل کا ہے!

اول: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اور صحابیات تو ظاہری پردہ (شرعی پردہ) بھی کیا کرتی تھیں۔ کیا آپ پر کوئی نیا حکم ناز ل ہوا ہے؟ قرآن و سنت میں دل کے پردے کی کوئی دلیل نہیں۔

دوم: پھر کل یہ بھی کہاجائے گا کہ نماز، روزہ، حج، نکاح بلکہ لباس کا پہننا بھی دل کا کام ہے ، تو یوں سارا دین مذاق اور کھیل بن جائے گا۔

سوم: حدیث ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: "بدن میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ صحیح ہو توتمام جسم صحیح ہوجاتا ہے اور وہ خراب ہو تو تمام جسم خراب ہوجاتا ہے، خبردار ! وہ دل ہے۔"(بخاری و مسلم) یعنی دل میں جو کچھ ہوتا ہے اس کا اثر جسم پرمرتب ہوتاہے۔اگر آپ کے دل میں پردہ ہے تو پھر اس کو باہر بھی نظر آنا چاہئے۔ ورنہ آپ اپنے دعویٰ میں سچی نہیں۔

چہارم: حکومت کوئی قانون جاری کرتی ہے۔ آپ اس کی مخالفت کریں اور کہیں کہ قانون کا احترام تو دل میں ہے تو کیا آپ کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے گا؟ مثلاً آپ ٹریفک کے اشاروں کی پابندی نہ کریں اور ٹریفک کانسٹیبل کے روکنے پر کہیں کہ قانون کا احترام تو دل میں ہے۔ تو کیا وہ آپ کا چالان نہیں کرے گا؟ یقینا آپ کا چالان بھی کیا جائے گا اور جرمانہ بھی کیا جائے گا۔ کیونکہ قوانین کی پابندی صرف دلوں میں نہیں بلکہ ظاہر میں بھی کرنا لازمی ہوا کرتی ہے۔

پردہ کی حکمت

فطری طور پر مردوں میں عورتوں کے لئے رغبت رکھی گئی ہے، جب وہ بے پردہ عورت کا عریاں جسم دیکھتا ہے تو شہوت و رغبت کوپورا کرنے کے لئے اس کی طرف لپکتا ہے۔ آج کل کے اخبارات اس بات پر گواہ ہیں کہ کس طرح مرد، بے پردہ سالی، بھابی، ہمسائی، اجنبی عورت کے ساتھ برے کام میں ملوث ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل کراچی ایئر پورٹ پر سندھ کی اعلیٰ شخصیت نے اپنی ناجائز خواہش کی تکمیل کے لئے ایک ایئرہوسٹس کو سمگلنگ کے جھوٹے الزام میں گرفتار کروا یا تاکہ ایئرہوسٹس کو اس تک پہنچایا جاسکے۔

( ہفت روزہ 'تکبیر' شمارہ ۵۲: مجریہ ۲۶/ دسمبر ۱۹۹۱ء)

پردہ کے احکامات

پردہ سے رخصت

محرم سے پردہ نہیں ہوگا۔ محرم میں ایسے تمام رشتہ دار شامل ہیں جن سے کسی عورت کا نکاح دائمی یا عارضی طور پر حرام ہو مثلاً باپ (سسر، دادا، نانا، پڑدادا، پڑنانا وغیرہ) حقیقی بیٹے (داماد، پوتے، پڑپوتے، نواسے ، پڑنواسے وغیرہ) سوتیلے بیٹے اور ان کی اولاد، بھائی (حقیقی و سوتیلے اوران کی اولاد)، بھتیجے، بھانجے، حقیقی چچا، حقیقی ماموں...

٭ رضاعی رشتہ داروں سے (جو رشتے نسب سے حرام ہیں، وہی رضاعت یعنی دودھ پلانے کے لحاظ سے بھی حرام ہیں)

٭ بچوں سے، جب تک ان کے شہوانی جذبات بیدار نہ ہوئے ہوں۔

٭ نوکر چاکر سے جب تک وہ ہم بستری کی خواہش نہ رکھتے ہوں مثلاً بچے یا بوڑھے۔ ان سب سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

٭ اضطراری حالت (طبی معائنہ، جنگ، حادثہ مثلا ً زلزلہ، آگ وغیرہ) میں پردہ کرنے کی چھوٹ ہوسکتی ہے۔

٭ بوڑھی عورتیں جو زیب و زینت سے دور رہیں اور ان کو کسی مرد سے خطرہ نہ ہو تو ان کے لئے پردہ نہ کرنے کی اجازت ہے۔ لیکن اگر پردہ کریں تو بہتر ہے۔

نوٹ: مندرجہ بالا جن لوگوں سے پردہ کی رخصت ہے، ان کے سامنے بھی ستر کو ڈھانپنا ہوگا (سوائے شوہر کے) یعنی ان کے سامنے صرف چہرہ او رہاتھ کھولنے کی اجازت ہوگی۔ گھر کے کام کاج مثلاً آٹا گوندھتے ہوئے کف اوپر کرنے یا فرش دھوتے ہوئے پائینچے اوپر چڑھا لینے کی گنجائش ہے۔

٭ مسلمان عورت ، دوسری عورت سے بھی ستر چھپائے گی جیسا مرد مسلمان مرد سے چھپائے گا۔

پردہ کی پابندی

تمام نامحرم رشتہ دار (دیور، جیٹھ، بہنوئی، چچا زاد بھائی، خالہ زاد بھائی، ماموں زاد بھائی، شوہر کا بھتیجا یابھانجا وغیرہ) سے، غیر رشتہ دار (شوہر کا دوست، سہیلی کا شوہر وغیرہ) سے ، ہیجڑوں سے، اور غلط قسم کی آوارہ اور مشتبہ مسلم اور غیر مسلم خواتین سے پردہ کرنا ہوگا۔

شرعی پردہ/حجاب کیا ہے؟

پردہ (حجاب) میں تمام جسم ہاتھ اور چہرہ سمیت چھپانا ضروری ہے اور یہ اس طرح ہو کہ جسم کے اعضا نظر نہ آئیں۔ چادر یا برقعہ چست نہ ہو اور لوگوں کو مائل کرنے والا نہ ہو۔ خوشبو لگا کر نہ نکلا جائے۔ لوچ دار ،شیریں، یعنی مردوں کو راغب کرنیوالی آواز، پاؤں کی جھنکار او ردلکش اداؤں سے پرہیز کیا جائے مرد اور عورتیں دونوں نگاہیں نیچی رکھیں۔ حدیث ِنبوی ہے: "نظر بازی آنکھوں کازنا ہے"(بخاری)

اسلام کے قانونِ حجاب کی برکات

'نو مسلم خواتین کے مشاہدات' کے نام سے چھپنے والی کتاب میں محترمہ خولہ نکاتا (جاپان) لکھتی ہیں:

"منی سکرٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ اگر آپ کو میری ضرورت ہے تو مجھے لے جاسکتے ہیں۔ جبکہ حجاب صاف طور پر یہ بتاتا ہے کہ 'میں آپ کے لئے ممنوع ہوں۔'

اپنامذہب تبدیل کرنے سے پہلے بھی کسی عورت کے جسم کو دیکھنا جو اس کی جلد سے چپکے ہوئے باریک لباس سے جھلکتا تھا، مجھے پریشان کردیتا تھا، مجھے محسو س ہوتا تھا کہ میں نے کوئی ایسی شے دیکھ لی جس کو مجھے دیکھنا نہیں چاہئے تھا۔ اگر یہ بات ایک عورت کو پریشان کرسکتی ہے تو مردوں کو کتنا متاثر کرتی ہوگی۔"

محترمہ لیلی لیسالوت و تمان (امریکہ) کہتی ہیں:

" جب میں حجاب استعمال کرنے لگی تو مجھے امن و امان کا سایہ مل گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ پردہ کے باعث تمام لوگ میرا احترام کرنے لگے ہیں۔اب مجھے کوئی تنگ نہیں کرتا تھا، نہ سڑک پر، نہ بس وغیرہ پر۔"

محترمہ ہدیٰ خطاب(برطانیہ) کا کہنا ہے:

"جو چیز مجھے اسلام کی طرف کھینچ لائی وہ پردہ تھا۔ مسلمان خواتین کا یہ سکارف اورلباس غیر مردوں کی نظر یں عورت کی طرف سے ہٹا دیتا ہے۔"
نیکی کی تم تصویر ہو، عفت کی تم تدبیر ہو!    ہو دیں کی تم پاسباں، ایمان سلامت تم سے ہے!
٭٭٭٭٭