Mohaddis-259-April-2002

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

٭حرمین کے علاوہ اعتکاف کا جواز ٭ مسئلہ رضاعت

٭ لڑکی کا رضامندی کے بغیر نکاح

٭سوال:کیا اعتکاف بیٹھنا صرف مسجد ِحرام اور مسجد ِنبوی کے ساتھ خاص ہے یا ہر مسجد میں بیٹھا جاسکتا ہے؟ بعض لوگ﴿وَأَنتُم عـٰكِفونَ فِى المَسـٰجِدِ...١٨٧ ﴾... سورة البقرة"سے مراد یہی دو مسجدیں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تثنیہ پر بھی جمع کا صیغہ بول دیا جاتا ہے۔

جواب:اعتکاف مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے ساتھ مخصوص نہیں ، اس آیت میں جمع کا اطلاق دو پر کرنا بھی بلادلیل ہے بلکہ آیت ﴿وَأَنتُم عـٰكِفونَ فِى المَسـٰجِدِ...١٨٧ ﴾... سورة البقرة" کے عموم کی بنا پر تمام مسجدوں میں اعتکاف کاجواز ہے۔ امام بخاری کی بھی یہی رائے ہے چنانچہ وہ اپنی 'صحیح' میں فرماتے ہیں:

«باب الاعتکاف فی العشر الأواخر والاعتکاف في المساجد کلها لقوله تعالٰی» ﴿وَلا تُبـٰشِر‌وهُنَّ وَأَنتُم عـٰكِفونَ فِى المَسـٰجِدِ...١٨٧ ﴾... سورة البقرة"

اس میں مساجد کے ساتھ کُلِّہَا کے اضافہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مسجدوں میں اعتکاف کا جواز ہے۔ اور تفسیر کشاف (۱/۲۵۸) میں اسی آیت کے تحت بیان ہوا ہے

«فيه دليل علی أن الاعتکاف لايکون إلا فی مسجد وأنه لا يختص به مسجد دون مسجد» "اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ مسجد کے بغیر اعتکاف ناجائز ہے۔ اور یہ کسی مسجد کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ سب مسجدوں میں جائز ہے۔"

امام قرطبی نے یہی بات سلف کی ایک جماعت سے نقل کی ہے۔ (تفسیر قرطبی :۲/۳۳۳)

فقیہ ابن رشد نے کہا: «فمن رجح العموم، قال: في کل مسجد علی ظاهر الاٰية» (بداية المجتهد: ۱/۳۱۳) "جس نے عموم کو ترجیح دی ہے ، اس نے کہا کہ ظاہر آیت کی بنا پر ہر مسجد میں اعتکاف کا جواز ہے۔"

٭ سوال: میری خالہ کی عدم موجودگی میں میری والدہ نے میری خالہ زاد کو رونے سے چپ کرانے کیلئے جبکہ اس وقت اس کی عمر ڈیڑھ برس تھی،اپنا دودھ صرف ایک بار پلایاتاکہ میری خالہ زاد رونے کی بجائے چپ کرجائے۔کیا اس خالہ زاد سے میرا نکاح ہوسکتا ہے، جبکہ دونوں خاندان اس کے بہت متمنی ہیں۔

جواب: ایسی صورت میں حرمت ثابت نہیں ہوتی، حدیث میں ہے «لاتحرم الرضعة أو الرضعتان»(مسلم:۳۵۷۸) رضعة کے معنی ہیں: ایک دفعہ دودھ پینا، جس کی صورت یہ ہے کہ بچہ ایک دفعہ پستان منہ میں لے کر چوسے، پھر اپنے اختیار سے بغیر کسی وجہ کے چھوڑ دے تو یہ ایک رضعة ہوا۔... اور دوسری حدیث میں ہے« لا تحرم المصّة والمصتان» (مسلم: ۳۵۷۵) اور مصة کا معنی بھی ایک دفعہ چوسنا ہے۔... اور تیسری حدیث میں ہے« لا تحرم الإملاجة والإملاجتان»(مسلم: ۳۵۷۶) اور إملاجة ایک دفعہ منہ میں پستان دینے کو کہتے ہیں۔ ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ بچہ جب ایک دفعہ دودھ پی کر خود بخود چھوڑ دے تو رضاعی معنی إملاجة ہے، اس طرح سے بچہ پانچ دفعہ کسی عورت کا دودھ پی لے تو پھر حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔ اور پانچ سے کم دفعہ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

اس بارے میں صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے وضاحت موجود ہے:

«کان فيما أنزل من القرآن عشر رضعات معلومات يُحرِّمن ثم نُسِخن بخمس معلومات فتُوفی رسول اللهﷺ وهي فيما يقرأ من القرآن» (مسلم: ۳۵۸۲)

"قرآنِ مجید میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ متعینہ طورپر دس بار دودھ پینا نکاح کو حرام کردیتا ہے۔ پھر یہ حکم پانچ بار دودھ پینے کے حکم سے منسوخ ہوگیا۔پس رسول اللہ کی وفات تک یہ آیتیں قرآن میں پڑھی جانے والی آیتوں میں شامل تھیں۔"

ان دلائل کی روشنی میں آپ اپنی خالہ زاد سے نکاح کرسکتے ہیں تھوڑا سا دودھ پینے سے وہ رضاعی بہن نہیں بنی، لہٰذا نکاح کا جواز ہے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیں : 'مسئلہ رضاعت' محدث، ستمبر ۲۰۰۰ء

٭سوال:مسجد کے نام وقف شدہ زمین کا کیا حکم ہے؟ جبکہ وقف شدہ جگہ پر مسجد کی تعمیر کی ضرورت نہ رہے۔ آیا وقف شدہ زمین کسی اور نیک کام میں استعمال ہوسکتی ہے یا فروخت کرکے کسی اور جگہ بھی مسجدتعمیر کی جاسکتی ہے؟

جواب: وقف شدہ چیزوں کو وقف ہی رہنا چاہئے، اگر موجودہ وقف کا مصرف نہ رہے تو دوسرے وقف میں اس کی قیمت کو استعمال کیا جاسکتا ہے یا پھر کسی بھی کارِخیر میں اس کی قیمت خرچ ہوسکتی ہے۔

٭سوال:مقتدی جماعت کی پہلی یا دوسری رکعت میں اس وقت شامل ہوا کہ امام صاحب سورئہ فاتحہ کے آخر تک پہنچ چکے تھے لہٰذا مقتدی نے صرف آمین امام کے ساتھ کہا۔اب مقتدی سورئہ فاتحہ کس وقت دہرائے یا اس کی ضرورت نہیں؟ کیا دعائے استفتاح اس صورت میں پڑھنا بھی ضروری ہے ؟

جواب: ایسی صورتمیں مقتدی فاتحہ پڑھنی شروع کردے، امام جس حالت میں بھی ہو (سکتہ یا قرأت) کیونکہ صحیح احادیث کی رو سے فاتحہ کے بغیر نماز کا وجود نہیں۔ ایسی حالت میں دعائے استفتاح نہ پڑھی جائے کیونکہ اس کا پڑھنا مستحب ہے ، واجب نہیں۔

٭ سوال: رکوع سے اٹھنے کے بعد نمازی اپنے ہاتھ کہاں رکھے؟

ثلاث رسائل فی الصلاة از عبدالعزيز بن عبدالله بن باز (ترجمہ: قاری محمد صدیق) میں پڑھا ہے کہ حالت ِقیام رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعدہاتھ سینے پر ہی باندھنے چاہئیں۔ انہوں نے حضرت سہیل بن سعد اور حضرت وائل بن حجر (سنن ابوداود) کی احادیث سے استدلال کیا ہے۔

جواب: رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ دینے چاہئیں، ہاتھ باندھنے کی کوئی واضح اور صریح نص موجودنہیں، ان حضرات کے دلائل کا انحصار غالباً عمومی عبارتوں پر ہے جو محل نزاع میں مفید نہیں۔ اس بارے میں ہمارے استاذ محدث روپڑی کا رسالہ 'ارسال اليدين بعد الرکوع' اور 'رفع الابهام' کے علاوہ پروفیسرحافظ عبداللہ بہاولپوری کے عربی و اردو رسائل ملاحظہ فرمائیں جو سوال اور جواب کی صورت میں ہیں۔ ان کتب میں شیخ ابن باز وغیرہ حضرات کے دلائل کا بطریق احسن جواب دیا گیا ہے ۔

٭سوال:سر میں تیل لگانا اور رات کو آنکھوں میں سرمہ لگانا سنت ِنبوی ہے یا نہیں؟

جواب: حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے اپنے سر مبارک پر تیل لگایاکرتے تھے۔ (مختصر شمائل محمدیہ: باب ماجاء فی ترجل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم)

رات کو آنکھوں میں سرمہ لگانے کا بھی احادیث میں ذکر ہے۔ (مختصر الشمائل المحمدیة: باب ماجاء فی کحل رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اور منتقی الاخبار: باب الاکتحال و الادهان والتطيب)

٭سوال: زیر ناف بالوں کی صفائی کیا حکم ہے، بال کہاں تک صاف کرنے چاہئیں؟ کیا فضلہ کے مخرج کے گرد بال صاف کرنے جائز ہیں؟

جواب: زیر ناف بالوں کا صاف کرنا ضروری ہے ،شرمگاہ کے اوپر اور قرب و جوار سے صفائی کی جائے، اسی طرح عورت کی شرم گاہ کے گرد بالوں کی صفائی بھی ضروری ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں : آگے پیچھے اور ان کے گرد صفائی کرنا مستحب ہے۔اسی طرح فتح الباری میں ہے : دُبر کے گرد بالوں کو صاف کرنا جائز ہے (۱۰/۳۴۳)۔ لیکن امام شوکانی فرماتے ہیں: دبر کے بالوں کی صفائی سنت سے ثابت نہیں۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہونیل الاوطار: ۱/۱۲۴)

٭ سوال: ناخن کاٹنے کامسنون طریقہ کیا ہے؟

جواب: امام نووی فرماتے ہیں:

"مستحب یہ ہے کہ پاؤں سے پہلے ہاتھوں کے ناخن اتارے جائیں۔ دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی سے شروع کرکے چھوٹی انگلی کی طرف آئے پھر انگوٹھے کاناخن اتارے پھر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرکے آخر تک اتار دے۔ پھر دائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور بائیں پاؤں کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے۔" (نیل الاوطار:۱/۱۲۴)

واضح ہو کہ یہتفصیل کسی حدیث سے معلوم نہیں ہوسکی تاہم آپ کی عادتِ مبارک تھی کہ کام دائیں طرف سے شروع کرتے اور اس کے برخلاف بائیں طرف سے۔ (نیل الاوطار، سبل السلام)

٭سوال: کیا مصافحہ اور معانقہ کرنا سنت سے ثابت ہے؟ مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا چاہئے یا دونوں سے بھی جائز ہے؟

جواب: مصافحہ اور معانقہ دونوں سنت ہیں، مصافحہ صرف داہنے ہاتھ سے ہونا چاہئے۔ملاحظہ ہو سنن ترمذی مع تحفة الاحوذی: ۷/۵۱۹، باب ماجاء فی المصافحة، باب ماجاء فی المعانقة والقُبلة

٭سوال: امام بخاری، علامہ وحید الزمان اور بعض علما دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کے قائل ہیں، میں نے اہل حدیث علما کے فتاویٰ میں ایک ہاتھ سے مصافحہ مسنون ہونا پڑھا ہے۔ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے،جواز ہے یانہیں؟

جواب:دو ہاتھوں سے مصافحہ کے لئے امام بخاری  کا استدلال ابن مسعود کی حدیث سے ہے، جس میں یہ ہے کہ تشہد کی تعلیم کے وقت میرا ہاتھ آپ کے دونوں میں تھا لیکن اس میں مصافحہ کا ذکر ہی نہیں بلکہ یہاں ہاتھوں کو پکڑنے سے آپ کا مقصود متعلّم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا تھا۔ جبکہ واضح منصوص احادیث میں صرف ایک ہاتھ سے مصافحہ کاذکر ہے۔ ( ملاحظہ ہو تحفة الاحوذی، طبع مصر :۷/۵۲۲)

٭سوال: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ننگے سر نماز بھی پڑھی ہے؟ اگر پڑھی ہو تو اس کو دلیل بنا کر ہمیشہ ننگے سرنما زپڑھنا، ٹوپی رکھ کر پڑھنے سے کتنا افضل ہے؟

جواب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا اوڑھ کرنماز پڑھی ہے جس کی صورت یہ بھی تھی کہ ایک کپڑے کی دونوں طرف مخالف سمت سے کندھے پر ڈال لیں یعنی اس کی دائیں طرف بائیں کندھے پر اور بائیں طرف دائیں کندھے پر،جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کے سر پر کچھ نہ تھا۔ نماز دونوں طرح پڑھنا درست ہے، سر ڈھانپ کر یا ننگے سرپڑھنا تمام محدثین کے نزدیک سنت میں داخل نہیں۔

٭سوال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جو آخری نما زباجماعت پڑھائی، وہ کون سی تھی؟

جواب: ظہر کی نماز ۔ (بخاری مع فتح الباری :۲/۱۷۵، باب انما جعل الامام ...الخ)

٭سوال: میرے والد نے میری بہنوں کی شادی لڑکے کی ذات اور کردار کو دیکھے بغیر محض زیادہ حق مہر کے لالچ میں ان کی مرضی کے بغیر کی ہے اور حق مہر بھی خود رکھا ہے۔ اسی طرح میری بڑی بہن کی شادی بھی اس کی مرضی کے خلاف ایک اَن پڑھ اور بے نماز شخص سے کردی ہے۔ ہمشیرہ اور سب گھر والے اس سے متنفر ہیں۔ لہٰذا اس سے طلاق کا مطالبہ کیا لیکن اس نے طلاق نہ دی۔ ہم نے اسے گھربلواکر طلاق نامہ پر زبردستی انگوٹھے لگوا لئے، کیا یہ طلاق صحیح ہے۔ اگر نہیں تو پھر ہم اس شخص سے کیسے چھٹکارا حاصل کریں؟

ثانیاً، میری آٹھ بہنیں ہیں، والد محض پیسوں کے لالچ میں بہنوں کی زندگی تباہ کررہا ہے۔ اس صورت میں، کیا میں والدہ اور بہنوں کے کہنے پر خود وَلی بن کر بہنوں کا نکاح کرسکتا ہوں۔ براہِ کرام قرآن و سنت کی روشنی میں ہمار ی راہنمائی فرمائیں۔

جواب: سنن ابوداود میں حدیث ہے: «عن ابن عباس قال أن جارية بکرا أتت رسول اللهﷺ فذکرت أن أباها زوجها وهی کارهة فخيرها النبیﷺ» (باب فی البکر يزوجها أبوها ولا يستأ مرها)

" حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ذکر کیا کہ میرا نکاح میرے باپ نے میری مرضی کے خلاف کردیا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار دے دیا کہ اپنے نکاح کو فسخ کرے یا قائم رکھے ۔"

اور صحیح مسلم میں ہے کہ "شادی شدہ عورت اپنے نفس کی ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری سے اس کا باپ اس کے نکاح میں اِذن مانگے اور اس کا اذن خاموشی ہے۔"

اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ صورت میں لڑکی نکاح ردّ کرسکتی ہے کیونکہ اس کی مرضی کے بغیر ہوا ہے اور پھر باپ نے اس پر زبردستی کی ہے جس کا اسے اختیار نہ تھا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں دو باب بایں الفاظ قائم کئے ہیں :« باب لاينکح الأب وغيره البکر والثيب إلابرضاهما»

"باپ وغیرہ کنواری اور بیوہ کا نکاح نہ کرے مگران دونوں کی رضا مندی سے۔"

«باب إذا زوّج الرجل ابنته وهی کارهة فنکاحه مردود»

"جب باپ اپنی بیٹی کا نکاح زبردستی کرے تو وہ مردود ہے۔"

اگر باپ حصولِ زر کا لالچی اور اولاد کا بدخواہ ہو تو اس کی ولایت ناقابل اعتبار ہے۔ طبرانی اوسط میں حدیث ہے :« لانکاح إلا بولی مرشد أوسلطان» ہدایت والے وَلی یا سلطان کے بغیر نکاح نہیں۔ بنا بریں اس کی جگہ بھائی ولی بن کر اپنی بہنوں کا نکاح دین دار افراد سے کرسکتا ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ اس بات کو خاندان کے ذمہ داروں یا چند دانا لوگوں کی موجودگی میں نکھار دیا جائے وگرنہ اولاد اپنی من مانی کے لئے ہر والد کو 'غیرمرشد' قرار دے کر فساد بھی پیدا کرسکتی ہے۔

جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے تو راجح مسلک کے مطابق زبردستی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ حدیث میں ہے کہ "میری اُمت سے خطا اور نسیان اور جس پر انہیں مجبور کیا جائے، ان کی ذمہ داری اٹھالی گئی ہے"۔(ابن ماجہ وغیرہ) اس سے معلوم ہوا کہ جبراً طلاق واقع نہیں ہوتی۔ منتقی الاخبار میں اس قسم کی متعدد روایات موجود ہیں۔مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو فتح الباری:۹/۳۹۰

علیحدگی کی صورت یہ ہے کہ عورت عدالت یا پنچایت وغیرہ میں اس عدمِ رضا کا اظہار کرے یہ کام اپنے آپ نہ کرے۔ جب عورت وَلی کے بغیر بذاتِ خود نکاح نہیں کرتی تو جدائی خود بخود کیونکر درست ہوگی حالانکہ جدائی کا معاملہ نکاح سے زیادہ نازک ہے۔ پس ضروری ہے کہ حسب ِاستطاعت باوثوق ذرائع سے علیحدگی ہو۔

٭٭٭٭٭