پاکستان میں مغرب کی تہذیبی یلغار کے تناظر میں ایک فکر انگیز تحریر

جنسی آوارگی، بیہودگی اور خرافات کو ذرائع ابلاغ کس طرح ایک 'مقدس تہوار' بنا دیتے ہیں، اس کی واضح مثال 'ویلنٹائن ڈے' ہے۔ یہ بہت پرانی بات نہیں ہے کہ یورپ میں بھی 'ویلنٹائن ڈے' کو آوارہ مزاج نوجوانوں کا عالمی دن سمجھا جاتا تھا، مگر آج اسے'محبت کے متوالوں' کے لئے 'یومِ تجدید ِمحبت' کے طور پر منایا جانے لگا ہے۔ اب بھی یورپ اور امریکہ میں ایک کثیر تعداد 'ویلنٹائن ڈے' منانے کو برا سمجھتی ہے، مگر ذرائع ابلاغ ان کے خیالات کو منظر عام پر نہیں آنے دیتے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اخلاقی نصب العین کے مقابلے میں ہمیشہ بے راہ روی کو فروغ دینے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں، شاید سطحی صارفیت کے تقاضے انہیں یہ پالیسی اپنانے پر مائل کرتے ہیں!!

پاکستان میں دیکھتے ہی دیکھتے جس طرح 'ویلنٹائن ڈے' مٹھی بھر اوباشوں کے حلقہ سے نکل کر جدیدنوجوان نسل اور مغرب زدہ طبقات میں پذیرائی حاصل کرچکا ہے، اس کی توقع ایک اسلامی معاشرے میں نہیں کی جاسکتی۔ اس سال 'ویلنٹائن ڈے' کو جس وسیع پیمانے پر اخبارات اور ذرائع ابلاغ میں 'پروجیکشن' ملی اور جس والہانہ انداز میں مختلف اداروں نے اسے ایک 'ہردل عزیز تہوار' کا رنگ دینے کی کوشش کی، اس کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ اندر سے اس قدر کھوکھلا ہوگیا ہے کہ اعلیٰ ثقافتی قدروں کے تحفظ کے لئے وسیع پیمانے پرتحریک چلانے کی ضرورت ہے۔

اس دفعہ پاکستان میں ویلنٹائن ڈے پر بے ہودگی کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ ۱۵ /فروری کو مختلف اخبارات نے بے حد رومانوی انداز میں ویلنٹائن ڈے کی رپورٹنگ کی۔ روزنامہ 'جنگ 'کے مطابق :

"صبح سے رات گئے پھولوں کا سفر جاری رہا۔ گل فروشوں کی چاندی رہی اور پھولوں کی دکانوں پررَش رہا۔ آج سرخ گلاب نہ ملنے پر دوسرے رنگوں کے گلاب خرید کر چاہے جانے والوں کو بھجوائے جاتے رہے۔ گل دستے ۱۰۰ روپے سے ۵۰۰ روپے تک بکتے رہے۔ رات کو بعض بڑے ہوٹلوں نے 'ویلنٹائن ڈنر' کا بھی اہتمام کیا۔"

یہ ایک نئی بدعت تھی جو اس سال دیکھنے میں آئی۔ نوائے وقت جیسے سنجیدہ اخبارنے بھی سرخی جمائی :

"ویلنٹائن ڈے' وفا کے عہد و پیمان، روٹھوں کو منایا گیا۔"

مزید تفصیلات کے مطابق گلاب کے پھول، کارڈز اور دیگر تحائف کے تبادلے ہوئے، موبائل فونز پر پیغامات دیئے گئے۔ انٹر نیٹ کلبوں پر رش رہا۔ نوائے وقت کی خبر کے مطابق ویلنٹائن ڈے منانے کے لئے ایک نوجوان شیخوپورہ کے گرلز کالج میں لڑکیوں کے کپڑے اور برقعہ پہن کر داخل ہوگیا۔ معلوم ہونے پر کالج کے سٹاف اور طالبات نے اس کی خوب چھترول کی اور پولیس کے حوالہ کردیا۔ پولیس نے بھی اس کی خوب تواضع کی۔ لاہور میں ایک گرلز ہائی سکول کی طالبہ کوپھول پیش کرنے والے ایک نوجوان طالب علم کا منہ کالا کرکے گدھے پربٹھا کر پورے محلہ کا چکر لگوایا گیا۔ پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں میں ویلنٹائن ڈے جوش و خروش سے منایا گیا۔

اس سال جنرل سٹوروں اور کتابوں کی دکانوں پر 'ویلنٹائن کارڈ' اس طرح فروخت ہوتے رہے جس طرح عید کارڈ فروخت ہوتے ہیں۔ ان سٹوروں پر 'کیوپڈ' کے بڑے بڑے نشانات سرعام آویزاں کئے گئے تھے۔ ماڈل ٹاؤن، ڈیفنس اور گلبرگ، لاہور کی بات تو الگ ہے۔ شہر کے چھوٹے چھوٹے محلات میں سرخ گلاب فروخت ہوتے رہے اور نوجوانوں کی ٹولیاں دن بھرپھول خریدتی رہیں اور انہیں کوئی سمجھانے والانہیں تھا کہ جس بات کو وہ 'محبت' سمجھ کر منا رہے ہیں، وہ درحقیقت شہوت رانی اور جنسی بے راہ روی کی علامت ہے، اس کا ان کی سماجی روایات اور اخلاقی قدروں سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ انگلش میڈیم سکولوں میں طلباء و طالبات اساتذہ کی 'رہنمائی' میں بلا روک ٹوک گلاب کے پھولوں کا تبادلہ کرتے رہے۔ لبرٹی مارکیٹ اور دیگر پوش علاقوں میں اوباش نوجوان راہ چلتی لڑکیوں کوپھول پیش کرکے چھیڑ خانی کرتے رہے، شریف زادیاں اس بداخلاقی کا جواب دینے کی بجائے عزت بچا کر وہاں سے بچ نکلنے میں عافیت سمجھتی رہیں۔

ہمارے بعض انگریزی اخبارات نے ویلنٹائن ڈے کو تشہیر دینے میں جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا، اسے نرم ترین الفاظ میں 'شرمناک' کہا جاسکتا ہے۔ ان اخبارات نے عاشقوں اور حیا باختہ لڑکیوں کے رومان انگیز پیغامات کو اشتہارات کی صورت میں شائع کیا۔ انگریزی روزنامہ 'دی نیوز' نے ان پیغامات پر مبنی دو مکمل صفحات شائع کئے۔ ان دو صفحات پر ۴۱۹ پیغامات شائع کئے گئے۔ روزنامہ 'ڈان' نے ۱۴/فروری کو دوصفحات مختص کئے جس میں ایسے بے ہودہ پیغامات شائع کئے گئے۔ معلوم ہوتا ہے، ہمارے انگریزی اخبارات کسی ضابطہ اخلاق کے پابند نہیں، نہ انہیں اس ملک کی نظریاتی اساس اور سماجی اقدار کا خیال ہے۔ وہ ا س ملک میں انگریزی زبان ہی نہیں، مغربی تہذیب کا پرچار بھی کررہے ہیں۔

۲۶/ فروری کو روزنامہ 'نوائے وقت' نے نمایاں خبر شائع کی کہ جہادی تنظیموں کی طرف سے نکالے جانے والے ۲۳ رسالہ جات پر حکومت پابندی لگانے کا فیصلہ کرچکی ہے کیونکہ وہ جہادی تبلیغ کررہے ہیں، مگر جنسی بے راہ روی کو فروغ دینے والے ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے پیغامات کو شائع کرنے کی اس ملک میں مکمل آزادی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب کوئی لڑکا کسی لڑکی سے عشق کے معاملے کو حتیٰ الامکان ظاہر نہیں کرتا تھا کیونکہ اس طرح کا اظہار سخت معیوب سمجھا جاتاتھا اور ایسی حرکت کے مرتکب نوجوانوں کی خوب درگت بنائی جاتی تھی، مگر آج یہ برا وقت بھی آگیا ہے کہ ہمارے اخبارات ایک 'نائکہ' کا پست کردار اداکرتے ہوئے عاشق و معشوق کے درمیان پیغام رسانی کا فریضہ انجام دینے میں کوئی باک نہیں سمجھتے بلکہ اسے محبت کرنے والے دلوں کی 'خدمات' سمجھتے ہیں۔ اخبارات کی طرف سے عشقیہ پیغامات کی اشاعت پاکستان میں اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ یورپ کے اخبارات نے یہ جدت نکالی تھی جس کو بلاچون و چرا ہمارے اخبارات نے اپنا لیا ہے۔ اس دفعہ تو یہ سلسلہ دو تین انگریزی اخبارات تک محدود رہا ہے، اگلے سال اردو اخبارات بھی شائد اس 'کارِخیر' میں پیچھے نہ رہیں۔

اسلام کے نام پر بننے والی اس مملکت ِخداداد میں لا دینیت اور جنسی بداعتدالیوں کوکس طرح تیزی سے پروان چڑھایا جارہا ہے، اس کااندازہ پاکستان کے عام شہری نہیں کر پارہے۔ جن لوگوں کو اس کا اندازہ ہے، وہ بھی اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتے ہیں۔ انگریزی اخبارات جن میں عشقیہ پیغامات کے لئے مکمل صفحے مختص کئے گئے، ان میں بازاری جملوں اور فلمی مکالموں کو شائع کیا گیاجن کے سرسری مطالعے سے بھی نوجوان نسل کے غلط رجحانات کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

قارئین کرام! محبت کے پیغامات بھیجنے والی یہ لڑکیاں اور لڑکے اسی پاکستانی معاشرے کے فرد ہیں۔ یہ مسلمان گھرانوں کی اولاد ہیں، یہودی یاعیسائی نہیں ہیں۔ مگر وہ جس جنون اور پاگل پن کا شکار ہیں، کیا ایک مسلمان گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا 'کنڈکٹ' (کردار) یہی ہونا چاہئے؟ اگر وہ گم کردہ راہ ہیں، تو اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت، تعلیمی ادارے، ذرائع ابلاغ، اساتذہ اور والدین، سب اپنی اپنی جگہ پراس قومی 'جرم' کے مرتکب ہوئے ہیں۔ آج اس ملک میں ویلنٹائن ڈے پر شہوت بھرے پیغامات کا آزادانہ تبادلہ ہورہاہے تو کل اسی پاکستان میں شہوانی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بچوں کی نسل بھی ضرور پروان چڑھے گی۔ یورپ یہ نتائج دیکھ چکا ہے، ہم بھی اس عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ یورپ میں بھی یہ سب کچھ ایک سال میں نہیں ہوگیاتھا، ان کے ہاں بھی خاندانی نظام کی تباہی اور جنسی انقلاب آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہوا۔ یورپ کے دانشور خاندانی نظام کی بحالی کی دہائی دے رہے ہیں، مگر اب پانی ان کے سروں سے گذر چکا ہے۔ ہمارے ہاں اس وقت محض ایک قلیل تعداد اس خطرناک اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوئی ہے، ہماری آبادی کی اکثریت اس آگ کی تپش سے اب تک محفوظ ہے۔ ابھی وقت ہے کہ آگے بڑھ کر چند جھاڑیوں کو لگی آگ کو بجھا دیا جائے، ورنہ یہ پورے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی...!!

ذرائع ابلاغ پر چھایاہوا ایک مخصوص گروہ ویلنٹائن ڈے کو 'یومِ تجدید ِمحبت' کے طور پر پیش کررہاہے۔ یہ 'محبت' جو ماضی قریب تک ایک 'محبوبہ' سے منسوب کی جاتی تھی، اب اسے 'عام' کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں ایک سازش کے تحت ویلنٹائن ڈے جیسی واہیات تقریبات کو رواج دیا جارہا ہے۔ ۱۵/ فروری کے اخبارات میں ایک نقاب پوش خاتون کی تصویر شائع ہوئی جسے اسلام آباد کے کسی پھولوں کے سٹال سے گلاب کے پھول خریدتے دکھایا گیا ہے۔ خاتون نے بادامی رنگ کا برقعہ لے رکھا ہے۔ یہ تصویر انگریزی روزنامہ دی نیوز کے علاوہ 'جنگ'، 'نوائے وقت'اور ' انصاف'میں بھی شائع ہوئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص ایجنسی نے کسی کرائے کی عورت کو برقعہ پہنا کراسے ویلنٹائن ڈے پر پھول خریدتے دکھایا ہے۔اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا کیاجائے کہ ویلنٹائن ڈے منانا کوئی بری بات نہیں ہے، اب تو پردہ پوش خواتین بھی یہ دن منانے لگی ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں یہودی خبررساں ایجنسیاں اس طرح کی حرکات کرتی رہتی ہیں۔

ہمارے اخبارات کے کلچرل رپورٹروں نے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے 'ویلنٹائن ڈے' کا اس مرتبہ ایسا پس منظر بیان کیا ہے جو ہمیں چند معروف انسائیکلو پیڈیا میں نظرنہیں آیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ نے اسطرح کی موضوع روایات کو خود گھڑ لیا ہے اور اسے پھیلا دیا ہے۔ 'جنگ' کے فلمی رپورٹر عاشق چودھری نے ۱۳/ فروری کے کالم میں اس نام نہاد تہوار کا پس منظر بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے :

"ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے مختلف روایات ہیں۔ سب سے مستند روایت یہ ہے کہ اس دن کا آغاز رومن سینٹ ویلنٹائن کی مناسبت سے ہوا جسے 'محبت کا دیوتا' بھی کہتے ہیں۔اس روایت کے مطابق ویلنٹائن کومذہب تبدیل نہ کرنے کے جرم میں پہلے قید میں رکھا گیا، پھر سولی پر چڑھا دیا گیا۔ قید کے دوران ویلنٹائن کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی۔ سولی پر چڑھائے جانے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کے نام ایک الوداعی محبت نامہ چھوڑا جس پر دستخط سے پہلے لکھا تھا: "تمہارا ویلنٹائن" ... یہ واقعہ ۱۴/ فروری ۲۷۹ء کو وقوع پذیر ہوا۔ اس کی یاد میں انہوں نے ۱۴/ فروری کو یومِ تجدید ِمحبت منانا شروع کردیا۔"

۱۴/ فروری ۲۰۰۲ء کے روزنامہ پاکستان میں بھی صفحہ اوّل پر بالکل یہی واقعہ بیان کیا گیا ہے مگر اس کا حوالہ بیان نہیں کیا گیا۔ انگریزی روزنامہ 'دی نیشن' کے رپورٹرنے ۱۴/ فروری کی اشاعت میں بالکل الگ کہانی بیان کی ہے۔ اس کے مطابق

"جب سلطنت ِروما میں جنگوں کا آغاز ہوا تو شادی شدہ مرد اپنے خاندانوں کو چھوڑ کر جنگوں میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے۔ نوجوان بھی اپنی محبوباؤں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ جنگوں کے لئے کم افراد کی دستیابی کی وجہ سے شہنشاہ کلاڈئیس (Claudius) نے حکم دیا کہ مزید کوئی شادی یا منگنی نہیں ہونی چاہئے۔ ویلنٹائن نامی ایک پادری نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ طریقہ سے شادیوں کا اہتمام کیا۔ جب شہنشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے ویلنٹائن کو قید کردیا۔ جو کچھ اس نے نوجوان عاشقوں کے لئے کیا تھا، اسے بعد ازاں یاد رکھا گیا اور آج اسی نسبت سے ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے۔"

یہ دونوں کہانیاں رومانوی افسانویت کے طبع زاد شاہکار معلوم ہوتی ہیں۔

مندرجہ بالا حوالوں سے قطع نظر 'بریٹانیکا' میں ویلنٹائن ڈے کا پس منظر مختلف انداز میں ملتا ہے:

"سینٹ ویلنٹائن ڈے کو آج کل جس طرح "Lovers Festival" کے طور پر منایا جاتا ہے یا ویلنٹائن کارڈز بھیجنے کی جو نئی روایت چل نکلی ہے، اس کا سینٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق یا تو رومیوں کے دیوتا لوپرکالیاکے حوالہ سے ۱۴/فروری کو منائے جانے والے تہوار ِبار آوری یا پرندوں کے موسم اختلاط (Mating season) سے ہے۔" (انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا)

۱۹۹۷ء میں شائع ہونے والے انسائیکلو پیڈیا آف کیتھولک ازم (Catholicism) کے بیان کے مطابق سینٹ ویلنٹائن کا اس دن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اصل بیان ملاحظہ کیجئے:

"ویلنٹائن نام کے دو مسیحی اولیا (Saints) کا نام ملتا ہے۔ ان میں سے ایک کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ روم کا ایک پادری تھا جسے رومی دیوتاؤں کی پوجا سے انکار کرنے پر ۲۶۹ء میں شہنشاہ کلاڈئیس (Cladius-II) II کے حکم پر موت کی سزا دی گئی۔ دوسرا طرنی (Terni) کا ایک بشپ تھا جس کو لوگوں کو شفابخشنے کی روحانی طاقت حاصل تھی۔ اسے اس سے بھی کئی سال پہلے 'شہید' کردیا گیا تھا ... آیا کہ ایک سینٹ ویلنٹائن تھا یا اس نام کے دو افراد تھے؟ یہ ابھی تک ایک کھلا ہوا سوال ہے۔ البتہ یہ ایک طے شدہ بات ہے کہ ان دونوں کا محبت کرنے والے جوڑوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ محبت کے پیغامات یا تحائف بھیجنے کا رواج بعد میں غالباً ازمنہ وسطیٰ میں اس خیال کے تحت شروع ہوا کہ ۱۴/ فروری پرندوں کی جنسی مواصلت کا دن ہے۔ مسیحی کیلنڈر میں یہ دن کسی سینٹ کی یاد میں تہوار کے طور پرنہیں منایا جاتا۔"

(The Harper Lollins Encyclopeadia of Catholicism: p.1294)

ویلنٹائن ڈے جیسے تہواروں کی تردید میں اس طرح کے تاریخی حوالہ جات کی ضرورت بھی نہیں ہونی چاہئے۔ مگر وہ لوگ جن کے ذہنوں میں ہوسناکی کے جذبات کے تحت پروان چڑھی ہوئی رومانویت نے ڈیرے جما رکھے ہیں، ان کی اطلاع کے لئے یہ وضاحت ضروری سمجھی گئی۔ فرض کیجئے مسیحی یورپ یا روم کی تاریخ میں ویلنٹائن نام کے کوئی 'شہید ِمحبت' گذرے بھی ہیں، تب بھی ہمارے لئے ایسے تہواروں کو منانا نرم ترین الفاظ میں ایک شرم ناک ثقافتی مظاہرہ ہوگا۔ امریکہ اور یورپ کے لغو جنس پرستوں کے ساتھ کندھا ملا کر چلنا ہمارے لئے کوئی باعث ِاعزاز امر نہیں ہے۔ ہمارا دین او رہماری تہذیب اس گراوٹ سے ہمیں بہت بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسلامی اخلاقیات اور ہندو تہذیب و تمدن کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، مگر قومی ہزیمت کے شدید احساس کے ساتھ میں یہ سطور لکھنے پراپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں کہ ویلنٹائن ڈے کے خلاف بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیموں نے جتنا ردِعمل ظاہر کیا ہے ، پاکستان کی دینی اور سیاسی جماعتوں کو اتنی بھی توفیق نہیں ملی۔ ہندو قوم پرست تنظیم شیوسینا نے لوگوں کو ویلنٹائن ڈے منانے سے باز رکھنے کے لئے دھمکی اور ترغیب دونوں طرح کی حکمت ِعملی اختیار کی۔ شیوسینا کے کارکنوں نے ویلنٹائن ڈے کے خلاف احتجاج کے انوکھے طریقے بھی آزمائے۔ ۱۳/ فروری کے روزنامہ 'جنگ' اور دیگر اخبارات میں شیوسینا کے کارکنوں کی ایک تصویر شائع ہوئی جس میں وہ اپنے چہروں پر کالک لگا کر ویلنٹائن ڈے کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں۔ اسی دن شیوسینا کے لیڈروں کے بیانات شائع ہوئے جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ وہ ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کو اُلٹا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویلنٹائن ڈے منانا فحاشی اور ہندو تہذیب واخلاقیات کے خلاف ہے۔شیوسینا پارٹی دہلی کے سربراہ بھگوان گومل نے کہا کہ ہم ۱۴ فروری کو دِلّی کے کالجوں، کارڈز شاپس اور گفٹ سنٹروں میں جائیں گے اور ہر قسم کا احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس موقع پر ویلنٹائن ڈے کارڈز نذرِ آتش کئے جائیں گے۔ بال ٹھاکرے جو شیو سینا کے سربراہ ہیں، پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے بمبئی میں کہا کہ ویلنٹائن ڈے کرپشن کلچر ہے جو مغربی ممالک سے درآمد کیا گیا۔ انہوں نے شیو سینا کے نوجوانوں کو ہدایت کی کہ وہ یہ دن منانے کی روک تھام کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مغرب کا فرض نہیں کہ وہ ہمیں بتائے کہ محبت کس طرح کرنی ہے۔(روزنامہ جنگ)

شیوسینا اور دیگر انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے اس ردعمل کی وجہ سے بمبئی، دہلی اور بھارت کے دیگر شہروں میں ویلنٹائن ڈے اس جوش و خروش سے نہیں منایا جاسکا جس کا مظاہرہ لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں کیا گیا۔ شیوسینا کے حوالہ سے ایک اور تصویر کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ۱۵/ فروری کو پاکستان کے اردو اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی جس میں دہلی میں شیوسینا کے کارکن ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ایک خاتون کو ویلنٹائن ڈے کے خلاف پمفلٹ دے رہے ہیں۔ ا س خاتون نے ہاتھوں میں پھولوں کا تازہ خریدا ہوا گلدستہ تھام رکھا ہے۔ (روزنامہ پاکستان) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیوسینا کے کارکنوں نے اس بے ہودہ تہوار کی مخالفت میں محض تشدد ہی نہیں، دلیل کاسہارا بھی لیا۔

مغرب کی طرف سے درآمد کردہ ویلنٹائن ڈے جیسے فحش انگیز، بے ہودہ تہوار ترقی پذیر بالخصوص اسلامی ممالک کی تہذیب و ثقافت کے لئے سنگین خطرات پیدا کررہے ہیں۔ یہ مغرب کی ثقافتی استعماریت جسے 'گلوبلائزیشن' کا خوبصورت نام دیا گیا ہے، کو آگے بڑھانے کاذریعہ ہیں۔ مغربی میڈیا اور انٹر نیٹ کی یلغار کی وجہ سے سعودی عرب جیسے کٹر اسلام پسند معاشرے بھی اپنی ثقافتی سرحدوں کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ اس سال سعودی عرب کی حکومت کو ویلنٹائن ڈے کی لعنت کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے سخت اقدامات اٹھانے پڑے۔ تین روز قبل ہی دکانوں اور مارکیٹوں میں سرخ گلاب، ٹیڈی بیئر اور ویلنٹائن کارڈز کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ ۱۳/ فروری کو سعودی پولیس نے مختلف دکانوں پر چھاپے مارکر ویلنٹائن گفٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔ (پاکستان: ۱۴/فروری)

البتہ عراق کے سیکولر صدر صدام حسین نے عراق پر ممکنہ امریکی حملہ کے باوجود عراقی قوم کو ویلنٹائن ڈے منانے میں مصروف رکھا۔ عراقی میڈیا نے یہ پراپیگنڈہ بھی کیا کہ عراقی عوام اس برس ویلنٹائن ڈے میں زیادہ دلچسپی اس لئے لے رہے ہیں کیونکہ وہ دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہاں زندگی معمول کے مطابق ہے اور امریکی دھمکیوں کا عوام پر کوئی اثرنہیں ہوا۔ (پاکستان) الحادپرست حکمران کسی قوم کو جہاد کے لئے تیار نہیں کرسکتے۔ اس طرح کی 'کھوکھلی زندہ دلی' کے اظہار سے کوئی قوم اپنا دفاع نہیں کرسکتی!!

پاکستانی معاشرے پراس وقت ایک وحشت انگیز بے حسی اور بے بسی کی کیفیت طاری ہے۔ ایک عام پاکستانی اپنی آنکھوں سے اسلامی اقدار کا جنازہ نکلتے دیکھ رہا ہے۔ مگر وہ آگے بڑھ کر کچھ کرسکنے کی ہمت نہیں پاتا۔ وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے، ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر مٹتی قدروں کے متعلق نوحہ خوانی تو ضرور کرتا ہے، مگر گلی سے باہر نکل کر اپنے دل کی بات کہنے کی جرأت نہیں کرتا۔ یا یہ وقت تھا کہ اسلامی حمیت سے سرشار نوجوان سینما گھروں اور نیو ایئر نائٹ منانے والے کلبوں کو بزورِ بازو ایسے کاموں سے روکتے تھے یا اب یہ صورت پیدا ہوچکی ہے کہ ویلنٹائن ڈے پر کھلے عام بے ہودگی کے خلاف معمولی سی صدائے احتجاج بلند کرنے والابھی کوئی نظر نہیں آتا۔ ہمارے خیال میں نہ پہلی صورت درست تھی اور نہ موٴخر الذکر حالت پسندیدہ ہے۔

پاکستان میں سیکولر اور اسلام پسند دونوں حلقوں نے افغانستان میں 'امریکہ گردی' کے غلط اثرات قبول کئے ہیں۔ سیکولر طبقہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اب پاکستان میں وہ جس قدر مغربی اقدار کو فروغ دے گا، اس کی مزاحمت نہیں کی جائے گی۔ جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اسلام پسند حلقوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی دعوت بھی نہیں دی جاسکتی۔ ایک اور غلط تاثر کو ختم کرنا بھی ضروری ہے ۔ پاکستان میں لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی ثقافت اور پاکستانی اقدار کا تحفظ محض دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ حالانکہ ہر مسلمان خواہ اس کا کسی بھی سیاسی جماعت یا طبقہ سے تعلق ہو، کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ثقافت کے تحفظ کے لئے مقدور بھر کوشش کرے۔ ہمارے اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ طالب علموں میں اسلامی اقدار کے متعلق محبت کے جذبات پروان چڑھائیں۔ ہم میں سے ہر شہری اگر اپنے محلے میں دعوت و ترغیب کا عمل شرو ع کردے، تویہاں ویلنٹائن ڈے منانے والے یوں دندناتے نظر نہیں آئیں گے۔ حکومت کو بھی نوجوانوں کو لہو و لعب اور جنسی بے راہ روی سے بچانے کے لئے موٴثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر گلاب کے پھول اور کارڈز کی خریدوفروخت پرپابند عائد کی جانی چاہئے۔ اخبارات میں ویلنٹائن اور کیوپڈ کے نشانات کے ساتھ اشتہارات اور پیغامات کی اشاعت ممنوع قرار دینی چاہئے۔

امریکہ اور برطانیہ میں شراب عام پی جاتی ہے، مگر ۱۸ سال سے کم عمرنوجوانوں کو شراب اور سگریٹ خریدنے کی اجازت ہے، نہ دکاندار انہیں یہ اشیا فروخت کرسکتے ہیں۔ امریکہ میں بعض ریاستوں نے شام کے بعد نوجوانوں کے گھر سے نکلنے پر پابندی عائد کررکھی ہے، حالانکہ وہاں ہر طرح کی آزادیاں میسر ہیں۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے بالکل درست کہا ہے کہ

"مغرب سے گہری وابستگی اور قربت کے طوفان کونہ روکا گیا تو مغربی فضولیات ہماری معاشرتی اقدار کو بہا لے جائیں گی۔ ویلنٹائن ڈے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انگریزی تہذیب کے ایام ہماری نئی نسل کے کردار کو مسخ کردیں گے۔ اس حوالے سے نئی نسل کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ مغرب اسلام سے چونکہ بہت خائف ہے، اسی لئے وہ ہمارے معاشرے میں ایسے تہواروں کو فروغ دے رہا ہے۔" (روزنامہ خبریں: ۱۵/ فروری ۲۰۰۲ء)

ابھی چند روز پہلے صدرِ پاکستان جناب پرویز مشرف نے مغربیت کے خطرناک اثرات سے بچنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا :

"مغربی طرزِ زندگی ہماری اقدار سے متصادم ہے۔ میں پاکستان کو اعتدال، رواداری، جمہوریت اور ترقی کی راہ پر لے جانا چاہتا ہوں، مغربیت (ویسٹرنائزیشن) کی راہ پر نہیں جو ہماری اقدار سے متصادم ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ پاکستان اپنی اقدار کے منافی روایات اپنا کر مغرب کی پیروی کرے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملک کی سماجی اور ثقافتی اقدار کا احترام ہو۔" (جنگ، خبریں: ۲۸/ فروری۲۰۰۲ء)

ویلنٹائن جیسے تہواروں کی حوصلہ شکنی بلکہ بیخ کنی کے لئے حکومت پاکستان کو بھرپور اقدامات کرنے چاہئیں۔ عوام کی بے ضرر تفریحی تقریبات میں حکومت کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے، مگر ایسی بے ہودہ سرگرمیاں جو اسلامی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیں، ان کے متعلق حکومت کو خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہئے۔

ایک مغرب زدہ اقلیت پاکستانی معاشرے کو اخلاقی زوال سے دوچار کرنے پر تلی ہوئی ہے تو حکومت اور عوام کو ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے سنجیدہ کاوش کرنی چاہئے۔ قرآنِ مجید سراسر ہدایت اور روشنی ہے، اس میں باربار راہِ راست سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا گیاہے: ﴿فَأَينَ تَذهَبونَ ٢٦ ﴾... سورة التكوير" یعنی تم صراطِ مستقیم چھوڑ کر کدھر بھٹکے جارہے ہو ؟

ویلنٹائن ڈے منانے والے مسلمانوں کو قرآنِ مجید کے ان الفاظ پر غور کرنا چاہئے۔

٭٭٭٭٭