(4) جنات پرستی

جن بھی فرشتوں کی طرح ایک غیر مرئی مخلوق ہے جو آگ سے پیدا کی گئی۔ انسان کی پیدائش سے پہلے یہی مخلوق اس زمین پر آباد تھی۔ یہ مخلوق بھی انسان کی طرح عقل و شعور اور اختیار و ارادہ رکھتی ہے اور اسی طرح شریعت کی مکلف ہے جس طرح انسان۔ ان میں نبوت کا سلسلہ جاری تھا جو انسان کی پیدائش کے بعد بنی نوع انسان میں ہی محدود ہوگیا۔ قرآن کریم میں سورہٴ جن سے ثابت ہے کہ بہت سے جن رسول اللہ سے قرآن سن کر آپ کی نبوت پر ایمان لائے تھے۔ انسان کے علاوہ دوسری صرف یہی مخلوق ہے جو مکلف ہے۔لہٰذا اس کابھی حشرونشر ایسے ہی ہوگا جیسے انسان کا۔نیز ان میں بھی توالد و تناسل کا سلسلہ ایسے ہی قائم ہے جیسے انسان میں۔ جنوں اور انسانوں میں فرق یہ ہے کہ

(1) انسان اپنا ایک مخصوص جسم اور شکل و صورت رکھتے ہیں، جبکہ جن اپنی شکل بدل سکتے ہیں۔

(2) انسانوں کی نسبت جن بہت زیادہ سریع السیرہیں۔ ان کی پرواز آسمانوں تک بھی ہوسکتی ہے، جبکہ انسان مادّی ذرائع کامحتاج ہے۔

(3) وہ انسان سے بہت زیادہ طاقتورہیں۔یہ حضرت سلیمان  کے تابع تھے توحضرت سلیمان نے بیت المقدس اور دوسرے بڑے مشکل ترین کاموں پر انہی جنات کو مامور کیا تھا اور جب حضرت سلیمان کو ملکہ سبا کا تخت منگوانے کا خیال آیا تو انہی جنوں میں سے ایک بڑے جن یا دیو (عفریت) نے اپنی خدمات پیش کی تھیں کہ وہ اسے چند گھڑیوں میں لاسکتا ہے۔

(4) مادّی پردے جنوں کی راہ میں حائل نہیں ہوتے کیونکہ وہ لطیف ہیں۔ لیکن انسان خاکی مخلوق اور کثیف ہے۔ مادّی پردے اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

ابلیس اسی نوع سے تعلق رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا بہت عبادت گزار ہونے کی وجہ سے فرشتوں میں داخل ہوگیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں تو اس کی انانیت کی رگ پھڑک اُٹھی کہ وہ اپنے سے بعد میں پیدا ہونے والی اور کم تر درجہ کی یعنی خاکی مخلوق کے آگے سرتسلیم کیوں خم کرے؟ چنانچہ صاف انکار کردیا جس سے ایک طرف تو اللہ کا نافرمان ہونے کی وجہ سے مردود قرار پایا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان اور ابلیس میں ہمیشہ کے لئے ٹھن گئی اور اولاد کا سلسلہ دونوں طرف چلتا ہے۔ اور تیسرا نتیجہ یہ تھا کہ جن (جسے عربی میں شیطان بھی کہتے ہیں) رقابت کی وجہ سے بحیثیت ِنوع بھی انسان کے درپے آزار ہی رہا ہے۔ اس سے انسان کو نفع تو کم ہی ہوگا، اکثر نقصان ہی پہنچا ہے۔

بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے انسان ہی کو اشرف المخلوقات بنایا تھا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جنوں پربھی انسان کی بالادستی قائم ہے۔ لیکن اسے انسان کی کم فہمی سمجھئے یا ستم ظریفی کہ انسان نے اپنی توہم پرستی اور عقیدئہ توحید میں کمزوری کی بنا پر شیطان کو ازسر نو اپنے آپ پر مسلط کرلیا اور اس سے پناہ مانگنے لگا۔ گویا اس نے اپنے اور معبودِ حقیقی کے درمیان ایک اور جنس کو بالاترہستی تسلیم کرلیا اور یہی اس کا صریح شرک تھا۔ قرآنِ کریم نے اس عقیدہ کو ان الفاظ میں ادا فرمایا ہے:

﴿وَأَنَّهُ كانَ رِ‌جالٌ مِنَ الإِنسِ يَعوذونَ بِرِ‌جالٍ مِنَ الجِنِّ فَزادوهُم رَ‌هَقًا ٦ ﴾... سورة الجن

"اور یہ کہ بعض انسانوں نے بعض جنوں کی پناہ پکڑنا شروع کردی تو اس سے ان کی سرکشی اور بڑھ گئی۔"

اللہ کے سوا کسی سے پناہ مانگنا صریح شرک ہے

اور ہم پہلے یہ تصریح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی غیر مرئی مخلوق کو اپنے سے بالاتر اور صاحب تصرف ہستی سمجھنا ہی اصل شرک ہے، چہ جائیکہ دفع مضرت کے لئے، اس سے پناہ بھی طلب کی جائے اور انسانوں کے اس فعل کو اللہ نے جنوں کی عبادت قرار دیا۔ ارشادِ باری ہے:

﴿بَل كانوا يَعبُدونَ الجِنَّ ۖ أَكثَرُ‌هُم بِهِم مُؤمِنونَ ٤١ ﴾... سورة سبا

"بلکہ وہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر ان پرایمان لائے ہوئے تھے۔"

پھر حضرت انسان نے اس استعاذہ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دیوی، دیوتاؤں اور فرشتوں کی طرح جنوں کا بھی اللہ تعالیٰ سے نسبی رشتہ قائم کردیا، جیساکہ ارشادِ باری ہے:

﴿وَجَعَلوا بَينَهُ وَبَينَ الجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَد عَلِمَتِ الجِنَّةُ إِنَّهُم لَمُحضَر‌ونَ ١٥٨ ﴾... سورة الصافات

"اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان نسبی رشتہ قائم کردیا، حالانکہ جن خوب جانتے ہیں کہ وہ بھی مجرم کی حیثیت سے (قیامت کے دن) پیش ہونے والے ہیں۔"

رجال الغیب

ایک تو حضرت انسان نے یہ کارنامہ سرانجام دیا کہ جنوں کو اپنے سرچڑھا لیا۔ دوسری طرف اس نے انہیں رام کرنے کے لئے کئی طرح کے اَوراد اور جنتر منتر بھی دریافت کر لئے اور ان کی روحوں کو جنہیں عام طور پر رجال الغیب کے نام سے پکارا جاتا ہے، مسخر کرکے کئی قسم کی شعبدہ بازیاں دکھانا شروع کیں اور اسی بنیاد پر سحر یا جادوگری کی عمارت قائم کردی۔ اور بالآخر علم سحر جس میں صرف شیطانی اور خبیث روحوں کا واسطہ ہوتا ہے، ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کرگیا جس کا مقصد محض لوگوں کو تنگ کرکے اور انہیں نقصان پہنچا کر اپنی ہیبت کا سکہ جمانا ہوتا ہے۔

جادو

جادو کا علم بھی حضرت سلیمان  (۹۵۰ ق م) سے بہت پہلے ایجاد ہوچکا تھا۔ اورآپ کے زمانہ میں یہ فن اپنے انتہا ئی عروج پر تھا۔ اس کے آغاز کی تاریخ کا تعین تو مشکل ہے تاہم اس کی قدامت کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ جو نبی بھی معجزہ لے کر آیا تو منکروں نے اسے جادو قرار دیا۔ حضرت موسیٰ ، حضرت سلیمان ، حضرت عیسیٰ  سب کو منکروں کی زبان سے 'ساحر' کا الزام سننا پڑا۔ حضرت سلیمان  کو جو معجزات عطا ہوئے تھے توجادوگروں نے یہ الزام لگایا کہ ان کی حکومت بھی جادو کے سہارے قائم ہے۔ جادو کو قرآن نے صریح کفر قرار 1دیا ہے اور اس کا مقصد واشگاف لفظوں میں بتلایا ہے کہ وہ محض ایذا رسانی ہے، اس میں بھلائی کا کوئی پہلو نہیں ہوتا۔ارشادِ باری ہے:

﴿وَيَتَعَلَّمونَ ما يَضُرُّ‌هُم وَلا يَنفَعُهُم...١٠٢ ﴾... سورة البقرة

"اور وہ لوگ کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے تھے۔"

اور حدیث میں جادو کو واضح طور پر شرک قرار دیا گیا ہے۔ سنن نسائی میں ابو ہریرہ سے مروی ہے:

«عن أبی هريرة قال رسول اللهﷺ: من عقد عُقدة ثم نفثها فيها فقد سحر ومن سحر فقد أشرک ومن تعلق شيئا وُکّل به» (کتاب المحاربہ، باب الحکم فی السحرة)

" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گرہ ڈال کر اس میں پھونک مارے، اس نے جادو کیا اور جس نے جادو کیا، اس نے بلا شبہ شرک کیا اور جس نے گلے میں کچھ لٹکایا تو وہ اسی پر چھوڑ دیا جائے گا۔"

اس حدیث سے معلوم ہواکہ جادو کے شرک ہونے میں کوئی شک نہیں۔ علاوہ ازیں مشکوک تعویذ لٹکانا بھی گناہِ کبیرہ ہے کیونکہ اس طرح وہ شخص اللہ کی حفاظت کے بجائے اس تعویذ سے حفاظت چاہتا ہے تو خدا اس کی حفاظت چھوڑ دیتا ہے۔

کہانت

کاہن علم غیب کی خبریں بتلاتے ہیں۔ان کا تعلق بھی شیطانی روحوں اور جنات سے ہوتا ہے اور چونکہ انبیاء و رسل بھی بعض غیب کی خبریں بتلاتے ہیں لہٰذا ان مقدس ہستیوں پر 'کاہن' کا الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے۔ بخاری باب الکہانةمیں ہے کہ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ

"کاہنوں کی باتوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: "ان کی باتیں محض لغو ہیں" لوگوں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کبھی تو ان کی بات سچ نکلتی ہے۔ آپ نے فرمایا: "ہاں! یہ بات وہ ہوتی ہے جو کاہن شیطان سے اڑا لیتا ہے اور یہ شیطان یا جن ملأِ اعلیٰ سے، پھر وہ اپنے ولی کے دوست کے کان میں پھونک دیتا ہے تو یہ لوگ اس میں جھوٹ ملالیتے ہیں۔" (بخاری، باب الکہانہ)

اس مضمون کو قرآن نے مختصراً یوں بیان فرمایا ہے :

﴿وَحِفظًا مِن كُلِّ شَيطـٰنٍ مارِ‌دٍ ٧ لا يَسَّمَّعونَ إِلَى المَلَإِ الأَعلىٰ وَيُقذَفونَ مِن كُلِّ جانِبٍ ٨ دُحورً‌ا ۖ وَلَهُم عَذابٌ واصِبٌ ٩ إِلّا مَن خَطِفَ الخَطفَةَ فَأَتبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ ١٠ ﴾... سورة الصافات

"اور (ہم نے آسمانِ دنیا کو) ہرشیطانِ سرکش سے محفوظ کردیا ہے۔یہ شیاطین ملأ اعلیٰ کی باتیں سن نہیں سکتے۔ ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں اور ان کے لئے پیہم عذاب ہے۔ تاہم ان میں سے اگر کوئی کچھ لے اُڑے تو ایک تیز انگارہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔"

کاہنوں کے پاس لوگ گم شدہ چیزوں کا پتہ لگانے اور اگلے پچھلے حال دریافت کرنے کے لئے رجوع کرتے تھے۔ جس کا مطلب یہ ہواکہ جو علوم اور پیشے ایسے ہی احوال سے وابستہ ہوں، وہ ناجائز ہیں۔ اور حدیث میں کاہن کی کمائی کو حرام قرار دیا گیا ہے:

«عن أبی مسعود الانصاری أن رسول اللهﷺ نهي عن ثمن الکلب ومهر البغی وحلوان الکاهن» (بخاری: کتاب البیوع، باب ثمن الکلب)

"ابومسعود انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کی خریدوفروخت، فاحشہ کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔"

بخاری میں ایک اور حدیث بروایت ِحضرت عائشہ صدیقہ یو ں ہے کہ

" حضرت ابوبکر کا ایک غلام تھا جو خراج ادا کرتا تھا اور آپ اس خراج سے کھا لیتے تھے۔ ایک دن وہ غلام کچھ لے کر آیا تو آپ نے اس سے کچھ کھا لیا۔ غلام نے کہا: آپ جانتے ہیں،یہ کیا ہے؟ حضرت ابوبکر نے پوچھا: یہ کیا؟ کہنے لگا: میں جاہلیت میں کہانت کرتا تھا۔ حالانکہ میں اچھی طرح جانتا بھی نہ تھا اور دھوکے سے کام چلاتا تھا۔ سو کسی نے مجھے اب اس کی اُجرت دی اور وہی اب آپ نے کھائی ہے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر نے قے کردی اور پیٹ میں جو کچھ تھا، سب نکال دیا۔" (مشکوٰة: کتاب البیوع، بحوالہ بخاری)

عقیدہٴ توحید کی مشکلات


یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ جب بھی کوئی نبی یا رسول آیا، اس کی مخالفت ہی کی گئی ہے اور اسے ساحر، کاہن اور طرح طرح کے القاب سے نوازا گیا اور یہ مخالفت ہے بھی ناگزیر۔ کیونکہ نبی آتا ہی اس وقت ہے جب کوئی قوم اپنی عادت و اَطوار میں انحطاط پذیر ہوچکی ہو۔ لہٰذا نبی کی آمد پر حق وباطل کی جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ جب ہم انبیا کی دعوت پر غور کرتے ہیں تو سرفہرست عقیدئہ توحید اور انبیا کی اطاعت نظر آتی ہیں۔ اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس عقیدئہ توحید کے وہ کون کون سے پہلو ہیں جو بناے مخاصمت بنتے رہے ہیں :

1۔ اللہ کا ربّ العالمین ہونا

ہم پہلے بتلاچکے ہیں کہ لفظ ربّ چار معنوں میں استعمال ہوتا ہے

(1) تربیت کنندہ، خبررساں، اِصلاح کنندہ اور کسی چیز کو تربیت کرکے حد کمال تک پہنچانے والا۔

(2) آقا جو صرف تربیت کا ذمہ دار ہو

(3) مالک جو اپنی مملوکہ چیز میں تصرف کا پورا پورا حق رکھتا ہو اور

(4) بمعنی قانون دہندہ یعنی اس کے احکام کی تعمیل مملوکہ چیز پر لازم ہو۔

اب اگر ان معانی کو مزید مختصر کیا جائے تو صرف دو مفہوم باقی رہ جاتے ہیں:

(1) تربیت کرنے اور جملہ ضرورتوں کا خیال رکھنے والا (2) ایسا مالک جس کی اطاعت لازم ہو۔

اب دیکھئے جہاں تک پہلے مفہوم کا تعلق ہے۔کفار اور مشرکین کو اس کے اقرار میں سرمو اِختلاف نہ تھا۔ قرآن میں ان لوگوں کے اقرار کو یوں بیان کیا گیا ہے:

﴿قُل لِمَنِ الأَر‌ضُ وَمَن فيها إِن كُنتُم تَعلَمونَ ٨٤ سَيَقولونَ لِلَّهِ ۚ قُل أَفَلا تَذَكَّر‌ونَ ٨٥ قُل مَن رَ‌بُّ السَّمـٰو‌ٰتِ السَّبعِ وَرَ‌بُّ العَر‌شِ العَظيمِ ٨٦ سَيَقولونَ لِلَّهِ ۚ قُل أَفَلا تَتَّقونَ ٨٧ قُل مَن بِيَدِهِ مَلَكوتُ كُلِّ شَىءٍ وَهُوَ يُجيرُ‌ وَلا يُجارُ‌ عَلَيهِ إِن كُنتُم تَعلَمونَ ٨٨ سَيَقولونَ لِلَّهِ ۚ قُل فَأَنّىٰ تُسحَر‌ونَ ٨٩ ﴾... سورة المومنون

"اے پیغمبر! ان سے کہو کہ زمین اور زمین میں جو کچھ ہے، وہ کس کی ملک ہے؟ بتاؤ، اگر تم جانتے ہو۔ کہیں گے کہ وہ اللہ کی ملک ہے، کہو: پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے؟ پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کا ربّ کون ہے، وہ کہیں گے اللہ، کہو: پھر بھی تم نہیں ڈرتے۔پوچھو : ہر چیز پر شاہانہ اختیارات کس کے ہیں اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا؟ فورا ً کہہ دیں گے کہ ایسی بادشاہی تو اللہ ہی کی ہے کہو پھر تم پر جادو کہاں سے چل جاتا ہے"

﴿قُل مَن يَر‌زُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَر‌ضِ أَمَّن يَملِكُ السَّمعَ وَالأَبصـٰرَ‌ وَمَن يُخرِ‌جُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَيُخرِ‌جُ المَيِّتَ مِنَ الحَىِّ وَمَن يُدَبِّرُ‌ الأَمرَ‌ ۚ فَسَيَقولونَ اللَّهُ ۚ فَقُل أَفَلا تَتَّقونَ ٣١ فَذ‌ٰلِكُمُ اللَّهُ رَ‌بُّكُمُ الحَقُّ ۖ فَماذا بَعدَ الحَقِّ إِلَّا الضَّلـٰلُ ۖ فَأَنّىٰ تُصرَ‌فونَ ٣٢ ﴾... سورة يونس

"ان سے پوچھوکہ تمہیں آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے؟ آنکھوں کی بینائی اور کانوں کی شنوائی کس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ کون ہے جو جاندار کوبے جان میں سے اور بے جان کو جاندار میں سے نکالتا ہے؟ کون ہے جو کائنات کا انتظام چلا رہا ہے؟ تو فورا ً کہہ دیں گے کہ اللہ۔کہو پھر تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟... ان تمام امور کو سرانجام دینے والا ہی تمہارا ربّ ِحقیقی ہے ، اللہ ہی ہے۔حقیقت کے بعد گمراہی کے سوا کیا باقی رہ جاتا ہے؟ پھر یہ ٹھوکر تمہیں کہاں سے لگ جاتی ہے کہ حقیقت سے پھرے جاتے ہو؟"

گویا ان کفار کو اس بات کا قطعاً انکار نہ تھا کہ ساتوں آسمان، زمین اور عرشِ عظیم کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ ہمیں بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔ اللہ کے علاوہ اور کوئی پیدا کرسکتا ہے اور نہ اس کائنات میں کسی چیز کا مالک ہے، وہی اکیلا کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔ رِزق بھی وہی مہیا کرتا ہے۔ نیز آسمان سے بارش وہی نازل کرتا ہے۔ کھیتی وہی اُگاتا اور ہوا وہی چلاتا ہے۔ غرضیکہ ربوبیت کے جتنے لوازم ہیں، ان میں کسی ایک پہلو سے بھی انہیں انکار2 نہیں تھا اور نہ ہی وہ ان تمام پہلوؤں میں کسی دوسرے الٰہ کو شریک کرتے تھے۔ اگر انہیں انکار تھا تو اس اقرار کے اس نتیجہ سے تھا جو اس اقرار کے بعد منطقی طور پر نکلتا ہے۔ اور وہ نتیجہ یہ ہے کہ اگر کائنات میں تصرفِ اُمور کے جملہ اختیارات کا مالک اللہ ہے تو تمہارے ان معبودوں کے پاس حاجت روائی اور مشکل کشائی کے اختیارات کہاں سے آگئے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان سوال و جواب کے بعد لاحقہ کے طور پر ﴿أَفَلا تَذَكَّر‌ونَ... فَأَنّىٰ تُسحَر‌ونَ ... فَأَنّىٰ تُصرَ‌فونَ﴾ جیسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں اور پوچھا ہے کہ اس اقرار کے بعد اس کے نتیجہ سے کیوں گریز کی راہیں اختیار کرنے لگتے ہو اور تمہاری مت کیوں ماری جاتی ہے۔ مثلاً ایک دانہ کی پیدائش کے لئے زمین، پانی، ہوا، سورج سب کو اس کی خدمت میں حصہ رسدی ادا کرنا پڑتا ہے اوریہ سب چیزیں میرے قبضہ قدرت میں ہیں تو پھر میرے بغیر کون تمہیں رزق مہیا کرسکتا یا داتا کہلا سکتا ہے؟

گویا ربوبیت کے پہلے مفہوم کے اقرار کے نتیجہ ہی کا نام 'الوہیت' ہے۔ پھر اگر ربّ تم ایک ہی مانتے ہو تو پھر تمہارے یہمعبود کدھر سے آگئے؟ بس یہیں سے مخاصمت شرو ع ہوجاتی تھی۔

رہا ربوبیت کا دوسرا پہلو یعنی زندگی کے ہر گوشہ میں قانون بھی اسی اللہ کا رائج ہونا چاہئے تو یہ پہلو مخاصمت کے لحاظ سے پہلے سے بھی شدید تر تھا۔ معاشرہ میں اللہ کے عطا کردہ قانون کی فرمانروائی سے جس شخص، طبقہ ، گروہ، یا ادارہ پر زد پڑتی تھی یا اسے اپنا اقتدار خطرہ میں نظر آتا یا اختیارات چھنتے نظر آتے تھے، وہ سب نبی کی مخالفت میں اُٹھ کھڑے ہوتے تھے۔گویا انبیا کی دعوت محض کلمہ توحید کے اقرار کا نام نہیں ہوتا بلکہ اقتدار و اختیار کی ایک مسلسل جنگ ہوتی ہے جو انبیاے کرام کی زندگی کو عمر بھر اجیرن بناکے رکھ دیتی ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : «أشد البلآء علی الانبياء ثم الأمثل فالأمثل»

"سب سے زیادہ مصائب انبیاء پر نازل ہوئے ہیں، پھر اس سے کم درجہ والوں پر، پھر اس سے کم درجہ والوں پر"

انبیاء کی دعوت کا آغاز ہمیشہ فَاعْبُدُوْا اللّٰهَ وَأَطَيْعُوْنِ سے ہوتا ہے جس کامطلب یہ ہے کہ اللہ کی پوری پوری محکومی اور غلامی اختیار کرو اور اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔ گویا نبی تو معاشرہ میں صرف ایک اللہ کی حاکمیت کا قانون رائج کرنا چاہتا ہے۔ اب اس بات سے جس جس کے مفادات مجروح ہوتے ہیں یا جس کسی کو اپنا وقار، اختیار یا اقتدار خطرہ میں نظر آتا ہے وہ سب نبی کے خلاف ایکاکرکے درپے آزار ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ﴿مَلَأُ الَّذينَ استَكبَر‌وا﴾ یعنی سردار یا سرکاری درباری قسم کے لوگ ہی انبیاء کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اب جن لوگوں کا معاشرہ کے ایک مخصوص حلقہ میں حکم چلتا ہے، لوگ ان کی بات مانتے اور انہیں بڑا اور سردار سمجھتے ہیں، وہ کب یہ چاہتے ہیں کہ ایک تو اپنی اس سرداری سے دست بردار ہوں، دوسرے الٹا نبی کے مطیع بن جائیں!!

یہی حال ان لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو محض نسلی تفوق کی بنا پر لوگوں میں ممتاز سمجھے جاتے ہیں اور ذات پات کی تمیز نے ان کو بلند مقام عطا کیا ہوتا ہے جس میں ان کا اپنا کچھ بھی دخل نہیں ہوتا۔ پھر جب کوئی نبی یہ کہتا ہے کہ سب انسان بحیثیت ِانسان ایک ہی سطح پر ہیں کیونکہ سب اللہ کی ایک جیسی مخلوق ہیں تو اونچی ذات والوں کو بھلا یہ بات کیونکر ٹھنڈی لگ سکتی ہے اور وہ اسے کیونکر برداشت کرسکتے ہیں کہ ایک قریشی اور ایک خزرجی، ایک برہمن اور ایک شودر، ایک چٹھہ اور ایک لوہار معاشرہ میں ایک جیسی نظر سے دیکھے جائیں؟

پھر یہی حال ایک آقا اور غلام، مالک اور مزدور، افسر اور ماتحت کا بھی ہے۔ نبی یہ کہتا ہے کہ یہ آقائی اور غلامی، افسری اورماتحتی تو ایک اضطراری امر ہے کہ اس کے بغیر دنیا کا نظام چل ہی نہیں سکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک آقا اپنے غلام کو، یا ایک مالک اپنے مزدور کو یا ایک افسر اپنے ماتحت کو اپنے سے حقیر سمجھنے لگے۔ عزتِ نفس کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔ آقا کو چاہئے کہ وہ اپنے غلام کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اور اس کے مفادات اور عزتِ نفس کا خیال رکھے۔ اللہ کا یہ قانونِ اخلاق تمام آقاؤں ، مالکوں اور افسر قسم کے لوگوں کو نبی کا دشمن بنا دیتا ہے۔

رہے بادشاہ اور حکمران تو نبی کی دعوت کی زد سب سے زیادہ ان پر پڑتی ہے۔ نبی یہ کہتا ہے کہ اپنی خود مختاری چھوڑ کر اللہ کا قانون اپنی ذات پر بھی لاگو کرو اور لوگوں میں بھی رائج کرو۔ کیونکہ ہم سب اس کے ایک ہی جیسے بندے ہیں۔

دعوتِ توحید کے یہی وہ نمایاں پہلو ہیں جن کی وجہ سے بعض انبیا کو ناحق قتل یا مظلومانہ طورپر شہید کیا جاتا رہا۔ بعض کے سروں پر آرے چلا ئے جاتے رہے اور اس مقدس طبقہ انبیا نے اپنی جان کی قربانی پیش کردی لیکن توحید کے ان تقاضوں میں کسی قسم کی کوئی کسر برداشت نہ کی۔

اب دیکھئے کہ اگر صرف عقیدئہ توحید کے اقرار کی بات ہوتی تو مادّہ پرستوں اور دہریوں کے ایک قلیل طبقہ کے علاوہ ہر دور کے لوگ اس کا اقرار کرتے ہی رہے ہیں اور اگر یہ محض بتوں، دیوتاؤں کی پرستش اور پوجا پاٹ اور ان سے استمداد واعانت کی بات ہوتی تو اس پر سمجھوتہ ہوسکتا تھا۔ اور ممکن ہے کہ مشرکین انبیا کی یہ بات بھی تسلیم کرلیتے کیونکہ یہ سب توہم پرستی کی بیماریاں ہیں اور ان کی عدم ادائیگی سے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا مگر یہاں تو بات ہی اور تھی۔ انبیا یہ چاہتے تھے کہ اپنے تمدن، اخلاق، معاشرت اور سیاست میں بھی اللہ کے قانون کی حکمرانی ہو۔ جس کی براہِ راست ان کے وقار، رسم و رواج، اختیار اور اقتدار پر زد پڑتی تھی جس پر وہ لوگ انبیا کے دشمن بن جاتے تھے۔

أولیاء من دون الله کی ضرورت

اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر دیوی دیوتاؤں، نبیوں اور اولیاؤں کی پرستش محض توہماتی بیماریاں ہیں۔ اگر فی الواقعہ ان چیزوں کی پوجا پاٹ، نذرونیاز اور عزت و تکریم کا کچھ فائدہ نہیں۔ تو اس پر مشرکین اس قدر بضد کیوں ہوتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس عقیدہ کو مشرکین اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یعنی ہماری اخلاقی، تمدنی، معاشرتی اور سیاسی زندگی میں جو کوتاہیاں اور خلا رہ جاتے ہیں، ان کے لئے ہمارے یہ الٰہ و اولیا، اللہ کے ہاں سفارش کردیں گے۔ گویا وہ اپنی مرضی و اختیارات اور رسوم و عادات سے دستبردار ہونا تو گوارا نہیں کرتے اور اس طرح جن گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، ا س کا حل شیطان نے انہیں بتلایا کہ کوئی وسیلہ تلاش کرلو جو اللہ سے سفارش کرکے تمہیں ایسے گناہوں کی عقوبت سے بچالے۔ لہٰذا وہ دیوتاؤں اور اولیاؤں کے اس درمیانی رابطہ کو خوش رکھنے اور ان کے سامنے سرعجزونیاز خم کرنے اور ان کی نذرو نیاز دینے پر عقیدةً مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے اسی عقیدہ کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

﴿وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّ‌هُم وَلا يَنفَعُهُم وَيَقولونَ هـٰؤُلاءِ شُفَعـٰؤُنا عِندَ اللَّهِ...١٨ ﴾... سورۃ یونس "یہ مشرکین اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ توان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور نہ ہی کچھ سنوار سکتی ہیں، پھر کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔"

انبیاء کی دعوت کی تعمیل کا آغاز نبی کی اپنی ذات سے ہوتا ہے اور اس دعوت کا مقصد چونکہ معاشرتی بگاڑ کی اصلاح ہوتا ہے لہٰذا اللہ کی حکمت اس با ت کی مقتضی ہوتی ہے کہ اس کی بعثت سے پہلے کی زندگی کو بھی معاشرتی خرابیوں سے محفوظ و مامون رکھا جائے۔ وہ اپنی بعثت سے پہلے کی زندگی میں بھی ایک راست گو اور راستباز انسان کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔ تاکہ جب وہ اس معاشرہ کے مسلمہ معتقدات کے خلاف لوگوں کو دعوت دے تو اس پر کذب و افترا کا الزام عائد نہ کیا جاسکے۔ پھر جب اس نبی کی دعوت کا آغاز ہوتا ہے تو اس پر صرف وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جو یا تو اس نبی کی راست گوئی اور راست بازی سے انتہائی متاثر ہوں، پھر وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جو معاشرہ کی ناانصافیوں کی چکی میں پس رہے ہوں اور تمدنی یا معاشرتی لحاظ سے کمزور یا حقیر سمجھے جاتے ہوں اور پورے معاشرہ کی مخالفت بھی اپنے سرمول لینے کو تیار ہوجائیں۔اور یہ تو ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد کم ہی ہوسکتی ہے !!


 

نوٹ

1.  ہرمس ایک عظیم فلاسفر اور حکیم تھا اور سکندر کی مجلس علمی کا قائد تھا۔ جب وہ دربار میں کھڑے ہوکر اس مجلس کے سامنے تقریر کرتا تو ایسے رموز ونکات بیان کرتا کہ کہ اہل مجلس اس کی عقل ودانش پر مبہوت رہ جاتے تھے۔ یونانی حکما اس پر بہت رشک کیا کرتے تھے۔

2.  مثلاً دولت کی الگ دیوی ہے جسے ’لکشمی‘ کہتے ہیں۔ پھر دیوتائوں کی بیٹیاں، بیٹے اور بیویاں بھی تجویز ہوئیں۔ اسی طرح ہند، مصر اور یونان میں ان چھوٹے خدائوں یعنی دیوتائوں (Gods) اور دیویوں(Godesses) کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچتی ہے۔