استعماری طاقتوں تنے آغاز ہی میں یہ بات محسوس کرلی تھی کہ مسلمان اپنے پختہ کردار، جاندار روایات اور بہترین تعلیمی نظام کی بنا پر غلام نہیں بنائے جاسکتے۔ اگر وہ عارضی طور پر چالاکی و عیاری کے ذریعہ غلام بنا بھی لئے جائیں، تب بھی ان میں خوئے غلامی پیدا نہیں کی جاسکتی۔ وہ صرف ربّ ِواحد کواپنا حاکم اعلیٰ سمجھتے ہیں اور کسی اپنے جیسے شخص کا غلام یا مفتوح بننا اپنی موٴمنانہ غیرت و حمیت کے منافی جانتے ہیں۔لہٰذان غیر ملکی آقاؤں نے برصغیر ہندوپاک میں اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے اپنے مخصوص مفادات کا حامل انگریزی نظام تعلیم رائج کیا۔ یہ نظام تعلیم جو کئی برسوں کی مسلسل غورو فکر اور سوچ بچار پر مشتمل تھا،اسے ۱۸۳۵ء میں "لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام" کے نام سے نافذ کیا گیا۔ اس نظام کے اہم خدوخال مندرجہ ذیل تھے :

1۔ تعلیم کا اصل مقصد یورپی ادب اور یورپی سائنس کا فروغ ہے۔

2۔ ذریعہ تعلیم انگریزی ہوگا۔

3۔ سرکاری خزانے کی تمام رقم صرف اسی تعلیم کے لئے مختص ہوگی۔ ہندوستان کے پرانے تعلیمی اداروں کو جو تھوڑی بہت اِمداد دی جارہی ہے، اسے بالکل ختم کردیا جائے گا۔

4۔ تعلیم کا مقصد یہ قرار دیا گیا کہ وہ سرکاری ملازمت کے لئے لوگوں کو تیار کرے۔ بالخصوصنچلی سطح کے انتظامی عملے (کلرک) کی فراہمی کابندوبست کرے۔

5۔ حقیقی اسلام کی تصویر مسخ کرکے غیر محسوس طریقے سے لادینیت کو فروغ دیا جائے۔

ساتھ ہی حکومت نے اعلان کردیا کہ ملازمت کے دروازے صرف ان لوگوں کے لئے کھولے جائیں جو نئی تعلیم سے آراستہ ہوں اور ان لوگوں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بالکل بند کردیئے جائیں جو پرانے نظام تعلیم کی پیداوار ہوں۔ میکالے نے اس موقع پر اپنی پالیسی کا مقصد صاف اور واضح انداز میں بیان کیا کہ

"ہمیں ایسی نسل تیار کرنا ہے جو دیسی آبادیوں کے لئے ہمارے افکار و نظریات کی ترجمان ہو۔ جو رنگ و نسل کے اعتبار سے بلا شبہ ہندوستانی ہو، مگر فکرونظر اور سیرت و اخلاق کے لحاظ سے خالص انگریز ہو اور برطانیہ کی سول ایڈمنسٹریشن میں ملازمت کی اہل ہو۔"

علاوہ ازیں وہ اہل ہند کو اس طرح ذہنی طور پر مرعوب کرکے اپنی برطانوی مصنوعات کی کھپت کے لئے مارکیٹ بنانا چاہتے تھے۔

بتدریج ارتقا

اور پھر اس کے بعد شعبہٴ تعلیم پر حکومت کی گرفت مضبوط ہونے لگی۔ نئے نظام کے تحت بہت سے پرائمری سکول اور ثانوی تعلیم کے ادارے قائم ہونے لگے۔ ۱۸۵۷ء میں 'انڈین یونیورسٹیز ایکٹ' پاس ہونے سے کئی یونیوسٹیاں بھی قائم ہوئیں۔ اس طرح پرائمری، ثانوی اور یونیورسٹیوں کی اعلیٰ تعلیم سے نئے تعلیمی نظام کو مکمل نشوونما کا موقع ملا اور مغربی طرز کی اعلیٰ تعلیم فروغ پانے لگی۔ تعلیم کا نظام جو برصغیر ہندوپاک میں مسلمانوں کے ہزار سالہ دورِ حکومت میں مکمل آزادی کی فضا میں پرورش اور نشوونما پا رہا تھا اور ہر ایک کے لئے مساوی تعلیم کے مواقع فراہم کرتا تھا، علاوہ ازیں اس میں تعلیم لازمی اور ہر ایک کے لئے مفت تھی۔ اربابِ حکومت اور عام دولت مند افراد تعلیم و تعلّم کے لئے فراخدلانہ امداد کررہے تھے۔ پھر تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ کسی کے ماتحت نہ تھا، جس میں استاد اور شاگرد کے درمیان گہرے روحانی روابط موجود تھے۔ یہ تعلیم مسجد، خانقاہ اور عام مدارس میں دی جارہی تھی۔ مگر اب یکسر سارا تعلیمی نظام تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ اب انگریز حکمرانوں نے مسلمانوں کے پرانے تعلیمی نظام کی بساط مکمل طور پر لپیٹ کر رکھ دی۔ مدارس کے لئے اہل خیر نے جو بڑی بڑی جائیدادیں وقف کررکھی تھیں، حکومت نے وہ جائیدادیں ضبط کرلیں۔فارسی زبان (جو اس وقت مسلمانوں کی سرکاری اور د فتری زبان تھی) کی تعلیم پورے ملک میں حکماً بند کردی گئی۔ اس طرح مدارس کا درسِ نظامی والا نظامِ تعلیم آدھا مفلوج ہوگیا یعنی اس کا دینی حصہ تو باقی رہ گیا مگر فارسی والاحصہ جو سرکاری اُمور کا ضامن تھا، کٹ کر گر پڑا۔

اب صرف وہ سخت جان مدارس باقی رہ گئے جو سیاست، تمدن اور معاش کی سخت مار کے باوجود بھی اپنے مقام سے نہ ہٹے۔ یہ نیا تعلیمی نظام ہندوؤں میں تو خوب مقبول ہوا مگر مسلمانوں نے اسے اللہ، رسول، آخرت اور اخلاقی اقدار کے منافی سمجھتے ہوئے، اسے اختیار کرنے میں حیل و حجت اختیار کی۔ انہیں انگریزی کی تعلیم پر اعتراض نہ تھا بلکہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے یہ فتویٰ بھی دیا تھا کہ "انگریزی زبان سیکھنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں۔" مگر مسلمانوں کا اصل اعتراض ہی یہ تھا کہ یہ نئی تعلیم سیکولر ہے جو مزاج، مقاصد، اپنے نصابِ تعلیم اور اپنے اجتماعی ماحول کے اعتبار سے دین اسلام اور اسلامی تہذیبی و اخلاقی اقدار سے دور لے جانے والی تھی اور اس کی روح پر مادّیت اور عیسائیت کا غلبہ تھا۔ اس کا مقصد بظاہر صرف انگریز کی ملازمت دلانا تھا اور بباطن پڑھنے والے مسلمانوں کو اسلام سے بیزار کرنا تھا۔ اکبر الٰہ آبادی مرحوم نے کیا خوب لکھا تھا :
مذہب چھوڑو، ملت چھوڑو، صورت بدلو، عمر گنواؤ
صرف کلرکی کی اُمید اور اتنی مصیبت توبہ توبہ!

مسلمانوں میں سرسید اس نئے نظام تعلیم کے سب سے بڑے موٴید تھے اورانہوں نے مسلمانوں کو قومی عصری ضروریات کو پورا کرنے اور سیاسی دھارے سے ہم آہنگ ہونے کے لئے جدید تعلیم کی ضرورت پر زور دیا اور چند جزوی ترمیمات کے بعد اسے اپنے قائم کردہ 'محمڈن اینگلو انڈین اورینٹل کالج' علی گڑھ میں نافذ کردیا۔

علی گڑھ کالج:علی گڑھ کے اورینٹل کالج نے تعلیمی دنیا میں جو خدمات انجام دیں، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر مجموعی حیثیت سے علی گڑھ کی تعلیمی تحریک کے نتائج مسلمانوں کے لئے تباہ کن ہی رہے۔ آج ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو جو فکری، تہذیبی، اخلاقی اور تعلیمی مسائل درپیش ہیں، بڑی حد تک علی گڑھ اور اس کے بنائے ہوئے ذہن کی پیداوار ہیں۔ مسلمانوں میں جدید تعلیم کا تناسب تو کچھ بڑھ گیا مگر جس مقصد کے لئے تعلیم دی جاتی ہے یعنی نظامِ تعلیم کو ملّی نظریات و روایات اور مقصد ِحیات سے ہم آہنگ کرنا، وہ اس میں مفقود ہے۔ آج ہزار خواہشوں کے باوجود تعلیم کی تشکیل جدید کی راہ میں جو رکاوٹ ہے وہ سرسید کے علی گڑھ کا پیدا کردہ مغربی تعلیم والا لادینی مزاج ہے۔

مسلمانوں کی دیگر علمی تحریکیں

تعلیم کے میدان میں علی گڑھ کے ساتھ ساتھ اس دور میں مسلمانوں میں اور بھی کئی تحریکیں اٹھیں۔ کئی نئے مدارس قائم کئے گئے مثلاً دارالعلوم دیوبند، ندوة العلما لکھنوٴ، جامعہ ملیہ دہلی وغیرہ، مگر یہ سارے تعلیمی ادارے اس مغربی زہر کا تریاق نہ کرسکے جو مغربی تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کو پلایا جارہا تھا۔ اس جدید مغربی تعلیم کا یہ نتیجہ برآمد ہواکہ مسلمانوں کا تعلیمی معیار انتہائی پست ہو کر رہ گیا۔ تخلیقی صلاحیتیں مفقود ہوگئیں۔ مغربی نقالی اور مغربی آقاؤں کی غیر مشروط وفاداری ہی جدید تعلیم کا طرہٴ امتیاز بنی۔

مسلمانوں کا تعلیمی نقصان

جس وقت انگریزوں نے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا تو جنرل 'سیل مین'(Seeleman) کی رپورٹ کے مطابق جو انیسویں صدی کی ابتدا میں مسلمانوں کے تعلیمی مقام و مرتبے کاذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

"دنیا میں ایسی قومیں بہت کم ہوں گی جن میں ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ تعلیم کا رواج عام ہو۔ ہر وہ شخص جسے ۲۰ روپے ماہوار کی ملازمت حاصل ہو، وہ اپنے بیٹوں کو کسی وزیر اعظم کے بیٹے کے برابر تعلیم دلواتا ہے۔ جو کچھ ہمارے بچے یونانی اورلاطینی زبانوں کے ذریعے سیکھتے ہیں، یہاں کے نوجوان وہی باتیں عربی اور فارسی کے ذریعے سیکھتے ہیں۔ سات سالہ نصاب کے مطالعہ کے بعد یہاں کا مسلمان نوجوان علم کی تمام شاخوں، گرامر، بلاغت، منطق وغیرہ سے قریب قریب اتنا ہی واقف ہوتا ہے جتنا آکسفورڈ کا اعلیٰ تعلیم یافتہ کوئی نوجوان۔ اور حیرت یہ ہے کہ یہ بھی اسی طرح سقراط، بقراط، ارسطو، افلاطون، جالینوس اور بوعلی سینا کے متعلق بڑی روانی سے گفتگو کرسکتا ہے۔" ('نظامِ تعلیم' از پروفیسر خورشید احمد :صفحہ ۷۸)

صرف بنگال کے علاقے میں انیسویں صدی کے آغاز میں ایڈم# کی مشہور رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ مدارس موجود تھے۔ مگر انگریزوں نے تعلیم کا حلیہ اتنا بگاڑا کہ جب وہ یہاں سے گئے تو پورے ملک میں خواندگی کامعیار 11.8% اور اسکول کے تعلیم یافتہ افراد کا تناسب صرف5%سے بھی کم تھا۔ کہاں 84% خواندگی کا معیار اورصرف بنگال میں ایک لاکھ مدارس اور کہاں یہ 11% معیارِ خواندگی اور پورے برصغیر میں ایک لاکھ چونسٹھ ہزار تعلیمی ادارے اور معیار بھی پست # بہ بین تفاوت از کجا تا کجا!

اوپر سے انگریزوں کے بے سروپا دعوے کہ انہوں نے ہندوستان کو تعلیم دی اور تہذیب سکھائی۔کیا یہی فروغِ تعلیم ہے؟ اگر یہ فروغِ تعلیم ہے تو تعلیم کی تباہی کس چیز کا نام ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کے ساتھ انگریزوں نے سوتیلی ماں والا سلوک کیا۔ محض سیاسی اغراض کے لئے اسے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا، جس نے جی حضوریے تو پیدا کردیے مگر ایسے انسان نہ پیدا کرسکا جوبدلتے حالات میں اپنے لئے آزادانہ فیصلے کرکے نئی راہیں نکال سکتے، جو ان کی کردار سازی کرسکتے۔ پھر انگریزی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا کر تعلیم یافتہ افراد کا رشتہ اپنے ہم وطنوں سے کاٹ کر مغربی دنیا سے جوڑ دیا گیا۔

موجودہ تعلیمی حالت

قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ نظامِ تعلیم جزوی تبدیلیوں کے ساتھ اسی طرح جاری رہا۔ اس وقت ہم ایک ایسے نظام تعلیم میں گھرے ہوئے ہیں جو ہمارے عقائد، اخلاقی و دینی اقدار، ثقافت، ملکی ضروریات ، روایات اور ہمارے ادب غرض ہر چیز کے لئے چیلنج ہے۔ ملک کا ہر فرد اور اربابِ اختیاربھی اس کے خلاف نوحہ کناں ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خود اس نظام کے تعلیم یافتہ افراد اس کی خامیوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ وہ خود مغرب سے مرعوب اور ان کے وفادار ہیں، وہ اس تعلیمی نظام کو جڑ سے اُکھاڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ وقتاً فوقتاً اصلاحِ احوال کے لئے اس میں اسلامیات کے ایک آدھ جزوی پیریڈ کی، کبھی ناظرہ قرآن کی اور کبھی برائے نام ترجمہ قرآن کی پیوند کاریاں ہوتی رہتی ہیں۔ مگر 'دِلی ہنوز دور است' والا معاملہ رہتا ہے۔

ہمارا اصل تعلیمی مسئلہ اس کے کسی ایک جز کی اصلاح نہیں بلکہ پورے نظامِ تعلیم کی اصلاح ہے۔ اس کے مقاصد، اس کا نصاب، اس کا ماحول، اس کا طریق تدریس،اس کی روح غرض ہر چیز تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات اس وقت تک پوری ہو نہیں سکتیں جب تک اس پورے نظام کو ازسر نو اسلامی بنیادوں پر استوار نہ کیا جائے، ہمیں اس مغربی تعلیمی نظام کو مٹانا ہے اور اس کی جگہ بالکل نیا نظام قائم کرنا ہے۔ جب تک پہلے اس کی تخریب اور ملی و قومی ضروریات کے مطابق تعمیر کا عمل بروئے کار نہیں لایا جاتا، ہمارے اسلامی مقاصد اور ضروریات ملکی کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مغربی علوم کے ساتھ اسلامیات یا دینیات کی پیوندکاری کو مضر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ایک طرف آپ ایک طالب علم کو تمام دنیوی علوم اس طریقے سے پڑھاتے ہیں کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ سارا کارخانہ بے خدا ہے اور خدا کے بغیر چل رہا ہے اور خوب کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ جو علم بھی وہ پڑھتا ہے، اس میں اسے کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوتاکہ اس کارخانہ دنیا میں یا کارخانہ زندگی میں کہیں خدا کا کوئی مقام ہے، کہیں رسول کامقام ہے، کہیں وحی کی حاجت ہے! سارے کے سارے نظامِ زندگی کو وہ اسی نکتہ نظر سے دیکھتا ہے!!

اس کے بعد یکایک آپ اسے دینیات کی کلاس میں لے جاکر اس کو بتاتے ہیں کہ خدا بھی ہے، رسول بھی ہے، وحی بھی آتی ہے اور کتابیں بھی آتی ہیں۔ آپ ذرا غور کیجئے کہ دنیا کے مجموعی تصور سے الگ اور بالکل بے تعلق کرکے یہ اطلاق جو آپ اس کو دے رہے ہیں، اس کو اس مجموعے میں آخر کہاں نصب کرے گا؟ کس طرح آپ کو طالب علم سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ کائنات اور زندگی کے بے خدا تصور کے ساتھ، دینیات کی یہ پوٹلی جو آپ الگ سے اس کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، اسے وہ کھول کر روز کے روز اپنے دوسرے اجزاے علم کے ساتھ ترکیب دیتا رہے گا اور خود بخود اپنے ذہن میں ایک باخدا تصور مرتب کرتا رہے گا؟"

پھر اس نظامِ تعلیم کے بارے میں خود قائداعظم نے یہ بات کہی تھی کہ

"ہمارے نظامِ تعلیم میں عرفانِ خدا کا تصور نہیں، منزلِ مقصود متعین نہیں اور معنوی بصیرت کا سرے سے فقدان ہے۔" (ہمارا نظامِ تعلیم از پروفیسر سعید اختر: صفحہ ۱۱۴،۱۱۵)

مغربی تعلیم کی ہیئت ِترکیبی

مغربی تعلیم قدیم یونانی و رومی افکار پر مبنی ہے۔ یونانی بت پرست مشرک تھے جبکہ رومی عیسائی، اس لئے یہ نظام تعلیم اپنے مضمرات کے لحاظ سے مذہب بیزار اورملحدانہ ہے۔ چونکہ عیسائیت کے عقائد اور تعلیم کی عقلی توجیہ ناممکن ہے۔ عقیدہٴ تثلیث اور کفارہ کے عقیدہ کو کوئی بھی معقول آدمی تسلیم کرنے سے ہچکچاتا ہے اور پھر اس کی تعلیم جامد اور ناقابل عمل ہے، سائنسی ترقی کا وہ ساتھ نہیں دے سکتی۔اس لئے انہوں نے "مذہب میں عقل کو دخل نہیں" کہہ کر مذہب کو انسانی زندگی کا ایک پرائیویٹ شعبہ قرار دیا اور علوم و فنون، جدید سائنس وٹیکنالوجی سے 'اللہ' کو خارج کردیا۔ انہوں نے سائنسی علوم میں حواس اور مشاہدہ کو ترجیح دی چونکہ اللہ کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ لہٰذا تمام سائنسی شاخوں میں اللہ کی قدرت کی بجائے نیچر (فطرت بمعنی قدرت) کا لفظ استعما ل کیا۔ اللہ کی خالقیت، ربّ کی ربوبیت کا انکار کردیا گیا۔ اس کی جگہ یہ کہا گیا کہ قانونِ فطرت یہ ہے کہ دنیا خود بخود وجود میں آئی ہے۔ انہوں نے وحی الٰہی سے اپنے آپ کومحروم رکھ کردنیا کے آغاز و انجام کے بارے میں اپنے خود ساختہ فلسفے گھڑے اور پھر اپنی معاشرت، سیاست اور معیشت کے لئے بھی تمام خود ساختہ قوانین ترتیب دیئے۔

اسلامی نظامِ تعلیم کی ہیئت ِترکیبی

اسلامی نظام تعلیم کی نوعیت اس سے مختلف تھی کہ مسلمان مفکرین اور علما اپنی کتب کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اورانبیا پر صلوٰة و سلام پڑھنے کے بعد اپنے مطلوبہ موضوع پر لکھنا شروع کرتے۔ پھر تمام فطری قوانین کی تشریح وحی الٰہی کی روشنی میں کرتے، ان کی کتب جا بجا اللہ کی قدرت کو نمایاں کرتیں۔ رسول کی محبت اُجاگر کرتیں، عوام میں اتباعِ رسول کا جذبہ اُبھارتیں، اسلامی شریعت کی حکمتیں اور برکتیں واضح کی جاتیں۔ان میں اخلاقِ عالیہ کو نمایاں کرنے کی کوشش ہوتی۔ اس طرح ان کتب سے استفادہ کرنے والا ایک طرف مخلص مسلمان ہوتا تو دوسری طرف اعلیٰ درجے کا عالم و فاضل بھی ہوتا۔

کوئی جتنابڑا عالم ہوتا اتنا ہی وہ عاجز، منکسر مزاج، اللہ و رسول کا فرمانبردار اورمخلوق خدا کا ہمدرد وغمگسار ہوتا۔ وہ آخرت کی جواب دہی کے شعور سے مالا مال ہوتا اور اُخروی رضا کے لئے علم کا فیض دوسرے لوگوں تک پہنچانا اپنی ذمہ داری سمجھتا اور عملی زندگی کے مسائل حل کرنے میں لو گوں کی حتیٰ الامکان مالی و اخلاقی مدد بھی کرتا تھا۔ پھر مسلمان بچوں کی تعلیم بھی اسی طرح کی ہوتی جو ان کو ابتدا ہی سے پکا مسلمان اور ہمدرد انسان بنانے والی ہوتی تھی۔

سیکولر نظام تعلیم اور اسلامی نظام تعلیم کا موازنہ

اسلامی تعلیم

1۔اس کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے اور علم حقیقی کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات ہے۔

2۔ اسلامی تعلیم آفاقی ہے۔

2۔ اسلا م میں حصولِ تعلیم ایک عبادت ہے۔

4۔ اس کا واضح نصب العین ہے۔ یعنی رضاے الٰہی کا حصول، اپنے دین کے مسائل و احکام سے واقفیت، اللہ پرایمان مضبوط ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ بیدار ہو اور آخرت کی جواب دہی کا شعور قوی تر و مضبوط ہو۔

5۔ا س سے روحانی اور مادّی دونوں آسودگیاں حاصل ہوتی ہیں، لہٰذا یہ تعلیم جامع اور مکمل ہے۔

6۔یہ اخلاق و کردار کی تعمیر اور بہترین سیرت کی تشکیل کرتی ہے۔

7۔ یہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی سکھاتی ہے، بلکہ اپنے نفس اور پھر جانوروں تک کے حقوق ادا کرنا سکھاتی ہے۔ اس طرح اپنے فرائض کی ادائیگی اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا شعور قوی تر کردیتی ہے۔

8۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں توازن اور اعتدال کا عنصر پایا جاتا ہے۔

9۔ ہر کام میں جزا وسزا اور آخرت کی جوابدہی کا عنصر انسان کو گناہ اور جرم کرنے سے روکتا ہے۔

10۔ یہ سیرت و کردار میں پختگی پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ امانت داری، صبر، محبت اور خدمت ِخلق جیسے بہترین اوصاف اُبھارتی ہے۔

11۔ یہ مساوات اور اُخوت اور بنی نوع انسان کی رضاے الٰہی کی خاطر خدمت کرنا سکھاتی ہے۔

12۔شرح خواندگی 100% کیونکہ سب مسلمانوں کو پڑھنے کا تاکیدی حکم ہے اور ہر مسلمان بچہ مساجد میں اتنا علم ضرور حاصل کرلیتا ہے، جس سے اپنی زندگی کے دینی و عملی مسائل حل کرسکے۔

13۔ اسلامی تعلیم لازمی، مفت اور یہاں یکساں تعلیمی مواقع سب کے لئے ہیں۔

14۔ یہ غوروفکر پر ابھارتی اور تخلیقی صلاحیتیں پیدا کرتی ہے۔

15۔ یہاں ہاتھ کی کمائی دست کاری اور صنعت و حرفت کی بڑی قدرو وقعت ہے۔

اسی طرح مغربی لادینی نظام تعلیم کے دیگر بے شمار نقائص ہیں۔

یہ مادّہ پستی کا محرک ہے

صرف ایک مقصد بنایا گیا ہے کہ پڑھ لکھ کر ملازمت حاصل کرنا یہی مقصد ِوحیدہے، اس تعلیم کا۔ اگر فارغ ہونے کے بعد جائز طریقے سے دولت ملے تو ٹھیک وگرنہ پھر لوٹ مار، چوری ڈاکہ سے مال حاصل کرنا ضروری ہے۔ دولت کے بغیر تعلیم بالکل ضائع اوربیکار سمجھی جاتی ہے اور اب تو یہ مادّہ پرستی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ اصل مقصود تو حصولِ ملازمت و دولت ہے۔ اس کے لئے سند کی ضرورت ہے اور سند امتحان میں کامیابی سے حاصل ہوتی ہے۔ اس سند کے حصول کے لئے امتحانوں میں ناجائز ذرائع بھی اختیار کئے جانے لگے، ڈگریاں فروخت ہونے لگیں، سندوں کی خرید و فروخت کے جعلی کاروبار ہونے لگے، پرچے بلکہ امتحانی سنٹرز تک بکنے لگے۔

اخلاقی فساد

اس تعلیم نے اتنے کڑوے کسیلے پھل دیے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کو، جو لاالہ الا اللہ کے نعروں اور وعدوں کے ساتھ وجود میں آیا تھا، اور جس کو اسلام کا قلعہ بننا تھا، لوٹ کھسوٹ، ڈاکہ زنی، چوری چکاری، بے حیائی، آوارگی فکرونظر، قتل وغارتگری، تشدد، دہشت گردی، اغوا برائے تاوان اور گینگ ریپ کا مرکز بنا دیاگیا۔ سیاسی طور پر، اخلاقی طور پر، مالی و معاشی میدان میں، معاشرتی زندگی میں، غرض ہر پہلو سے اسلامی نظریہ، مقصد اور نصب العین سے انحراف جاری رہا، اور اس انحراف کے ذمہ دار یہ پڑھے لکھے، اعلیٰ

تعلیم یافتہ صاحب ِاقتدار طبقہ ہے۔ اب یہاں مغربی جمہوریت اور مغربی سرمایہ داری کا دور دورہ ہے جو اپنے جملہ فسادات اور بڑھتے ہوئے جرائم کے ساتھ ہمارے دینی، ملکی اور قومی تقاضوں کو ملیا میٹ کررہا ہے۔ اس نے تو فکری غلاموں، ذ ہنی مجرموں، دہریوں، سیاسی ابن الوقتوں، اپنی تہذیب کے غداروں، میر صادق، میر جعفر کو ہی جنم دیا ہے۔ إلا ماشاء الله !

یہ دین بیزار نظامِ تعلیم ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا مروّجہ نظامِ تعلیم ٹھوس دینی تعلیم سے عاری اور اخلاقی اقدار سے خالی ہے۔ یہ سیکولر نظام تعلیم اللہ و رسول کی تعلیمات سے دور کرنے والا، ملحد اورمذہب بیزار بنانے والا ہے۔ دوسری طرف یہ اہل مغرب کی وفاداری کا دم بھرنے والا ہے۔ اس نے ملی غیرت، قومی حمیت، موٴمنانہ شجاعت و بے باکی کو ختم کرکے خوئے غلامی کومستحکم کیا۔ پنجاب یونیورسٹی کی انکوائری رپورٹ میں درج ہے

"درس گاہوں میں نہ وہ حیاتِ روحانی ہے جو طالب علموں میں سوزِ دوروں پیدا کرے، نہ وہ وحدتِ اجتماعی ہے جو اس کی وفاداری کو استواری بخش سکے، نہ وہ ذ ہنی و اخلاقی شعلہ ہے جو اس کے سینے میں ولولوں کے چراغ روشن کرے۔" ('پنجاب یونیورسٹی انکوائری رپورٹ' :صفحہ ۵۲)

اور علامہ اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا :
یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی!

اس سے زیادہ المیہ کیا ہوگا کہ ہمارے بچے، ہماری ذہانت، قابلیت، ہمارا سرمایہ، ہماری سرزمین ، مگر جو بچے ان جان گسل مالی و جانی محنتوں اور والدین کی بے پناہ قربانیوں کے بعد تیار ہورہے ہیں، وہ اسلام اور پاکستان کے وفادار نہیں بلکہ مغربی مفادات کے علم بردار اور مغربی آقاؤں کے وفادار ہیں۔ اس نظام کے تعلیم یافتہ لوگ صرف کلرک اور جی حضوریے بن سکتے ہیں جو ملکی تقاضوں کو نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ ان کوپورا کرسکتے ہیں۔ ہمارے وطن عزیز کو محض اعلیٰ تعلیم کی ضرورت نہیں بلکہ بنیادی اور معقول پیشہ وارانہ تعلیم کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں ماہرین زراعت، اعلیٰ سائنس دان، اعلیٰ دست کار اور صنعت کار کی ضرورت ہے۔ اچھے ڈاکٹر اور اچھے انجینئر ہماری بنیادی ضرورت ہیں۔ مگر اس تعلیم سے ایسے مخلص محب ِدین و وطن اور قومی تقاضوں کو پورا کرنے والے افراد پیدا ہونے ناممکن ہیں۔

اس تعلیم نے زندگی کو دو خانوں میں بانٹ دیا ہے

اسلام تو پوری زندگی کا پروگرام ہے، یہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ ہمارے روحانی و مادّی تقاضوں کو بیک وقت پورا کرتا ہے۔ اسلام زندگی کے ہر معاملے میں اپنے اصولوں کی حکمرانی چاہتا ہے۔ ایک مسلمان کا دین اس کی دنیا سے الگ نہیں، اس کی 'دینیات' اس کی 'دنیویات' سے متصادم نہیں۔ مگر یہ نظامِ تعلیم دین کو دنیاوی ترقیوں کی راہ میں حائل سمجھتے ہوئے اسے بالکل ذاتی اورپرائیویٹ مسئلہ سمجھتا ہے۔

مسلمانوں کو اس طرزِ تعلیم سے روشناس کرانے کا مقصد یہ تھا کہ اسلام صرف مسجد کے حجروں اور خانقاہوں میں مقید رہے اور مسلمانوں کی عام زندگی مغرب کے کافرانہ اصولوں پر چلتی رہے اوراجتماعی زندگی میں اسلام کوئی فیصلہ کن قوت نہ بن سکے۔

تعلیم پر دولت مندوں کی اجارہ داری

اس نظام تعلیم کی بنیادی خرابی یہ بھی ہے کہ یہ نظام، تعلیم پر چند دولت مندوں کی اجارہ داری قائم کرکے ملک کی ۹۰%آبادی کو علم سے محروم رکھتی ہے۔ تعلیم کے گراں قدر اخراجات ہیں۔ مہنگی فیسیں اورمہنگی کتب،اور عام آدمی کے لئے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ تعلیم تو قدرت کی وہ نعمت ہے جس تک ہر مسلمان کی رسائی ضروری ہونی چاہئے۔ کیونکہ طلب ِعلم کا فریضہ ہر مسلمان مرد و زَن پر واجب ہے۔ ہمارے بہت سے ذہین بچے محض دولت نہ ہونے کی بنا پر اقبال، اکبر، حالی، شبلی، نیوٹن، آئن سٹائن بنے بغیر خاک میں مل جاتے ہیں۔ ایسے مفلس اور تنگ دست لوگوں کی ذہنی قوتوں کو نشوونما دینے اور انہیں انسانیت کی خدمت میں استعمال کرنے کے لئے تعلیم کو مفت قرار دینا انتہائی ضروری ہے۔

ذریعہ تعلیم، انگریزی

1۔ محض اس لئے رکھا گیا کہ ایک غیر ملکی زبان کو بہت کم لوگ سمجھ سکیں گے۔ اس طرح ان کی شرحِ تعلیم کم رہے گی۔ لہٰذا ہمارے ماتحت رہیں گے اورمرعوب رہیں گے۔

2۔ زبان محض زبان نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے پورے لاؤلشکر یعنی تہذیب وثقافت سمیت آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ انگریزی خواں حضرات مغربی تہذیب اور مغربی طور اطوار پر دل و جان سے فریفتہ ہیں۔ یہ لوگ وہی بے راہروی، فحاشی اور عریانی یہاں بھی پھیلانا چاہتے ہیں۔

3۔ ان کے مرتب کردہ نصابات اور درسی کتب، انگریزی زبان میں تھیں اورجملہ علوم بھی انگریزی زبان میں، نتیجہ یہ ہوا کہ علم اورانگریزی کو لازم و ملزوم سمجھ لیا گیا اور عربی و فارسی اور اردو کی تعلیم کو پسماندگی اور دورِ قدیم کی یادگار قرار دے دیا گیا۔ اس سے مسلمانوں کا اپنے شاندار ماضی، آباؤ اجداد کے گراں قدر علمی ورثہ سے رشتہ ختم ہوگیا۔ تعلیم یافتہ طبقہ اس حد تک مرعوب ہوا کہ ہر وہ چیز جو مغرب سے آئے، وہ ترقی کا لازمہ سمجھی جائے اورہر دیسی و وطنی چیز ناقابل اعتبار بلکہ راندہٴ درگاہ ٹھہری۔ المیہ در المیہ یہ کہ خود یورپ نے ترقی انہی اسلامی علوم و فنون کے بل پر کی تھی اور مسلمان مفکرین ودانشوروں کی گراں قدر کتب سے خوب استفادہ کیا تھا جبکہ خود مسلمانوں کا رشتہ انگریزی زبان کے ذریعے انہوں نے اس شاندار علمی ورثہ سے کاٹ دیا اور ان اسلامی کتب کو اپنے کتب خانوں کی زینت بنا دیا۔ تاکہ نہ مسلمانوں کے پاس یہ کتابیں رہیں، نہ وہ ان سے استفادہ کرسکیں۔

بقولِ علامہ اقبال 
مگر وہ علم کے موتی، کتابیں اپنے آباء کی     جو دیکھیں ان کو یورپ میں، تو دل ہوتا ہے سی پارہ

مرعوبیت اور منافقت

مسلمانوں پر اپنا مغربی نظام تعلیم ٹھونسنے کے بعد عیسائی مشنریوں نے اسلام پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ نت نئے اعتراضات پیدا کئے مثلاً اسلام تاریک دور کے لئے آیا تھا۔ آج کا زمانہ جدید ہے، جدید دور میں عرب کے بدو دور کا دین اور بدویانہ تہذیب نہیں چل سکتی۔ ترقی کرنی ہے اور دورِ جدید کا ساتھ دینا ہے تو تمہیں ہماری تہذیب اور تعلیم پر 'آمنا و صدقنا' کہنا ہوگا۔ مغربی طرزِ فکر، مغربی لباس، مغربی آداب و اطوار اور رسوم و رواج کو اپنانا ہوگا۔

٭ ان مغربی آقاؤں نے اپنے دورِ حکومت میں اسلامی ممالک میں اپنے وفاداروں کو بڑی بڑی جاگیریں عطا کیں، مراعات دیں اوراپنے علاقے میں رہنے والے تمام عوام کو جو پہلے مسلمان ہونے کے ناطے ان کے بھائی بند اور مساوی تھے۔ اب ان کوکیڑے مکوڑوں کی طرح روندنے کی تلقین کی تاکہ عوام میں سے کوئی ان کی حکومت کے خلاف اُف تک نہ کرسکے۔

٭ خود انہوں نے ہمارے مالی وسائل جی بھر کر لوٹے اور مغرب میں پہنچائے۔ پھر اپنے ان وفاداروں کو اپنے ملک کے تمام وسائل جی بھر کو لوٹنے کی تربیت دی۔

٭ 'سول سروس' کے مقابلہ کے تمام امتحان انگریزی میں رکھے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ انگریزی خواں طبقہ اس کے ذریعہ حکمرانی کے تمام حساس اورکلیدی شعبے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ پھریہ انگریز آقا جاتے وقت اقتدار اپنے اسی وفادار انگریزی خواں طبقے کو دے کر گئے۔

یہ لوگ ہمیشہ اپنے آپ کو ملک میں اعلیٰ طبقہ اور عوام کو ادنیٰ طبقہ سمجھتے رہے اور آزادی کے بعد بھی اسی مغربی تہذیب و ثقافت کو اپنے ملک میں پھیلنے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ ان کے مقابلے میں جب بھی عوام میں سے کسی نے اپنے دینی و وطنی تقاضوں کو پورا کرنے کی بات کی یا اس کے لئے تحریک برپا کی وہ اپنے (مغرب کے وفادار) حاکموں کے نزدیک قابل گرفت اور گردن زدنی ٹھہرا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وطن عزیز کو نظریاتی اور تعلیمی لحاظ سے جب بھی راہِ راست کی طرف لانے کی کوشش ہوئی، اس حکمران طبقے اور بیوروکریسی نے اس میں گونا گوں قسم کی رکاوٹیں پیدا کیں اور اسلامی تحریک برپا کرنے والے قائدین کو غدار اور تہذیبدشمن ، دہشت گرد اور بنیاد پرست کہہ کر پابند ِسلاسل کردیا گیا۔

٭ پھر اس حکمران طبقے کو کمیشن دے کر، ان کے مغربی آقا سودی قرضے 'ایڈ'کے نام سے دے دے کرمسلمان ممالک کو اقتصادی جال میں گرفتار کرتے رہے اوران سے اپنے مفادات پورے کرواتے رہے۔ اب اگرچہ جمہوری طرزِ حکومت کی بنا پر حکمران ہر وقت بدلتے رہتے ہیں، مگر جو بھی آتا ہے وہ درحقیقت انہی مغربی آقاؤں کا مہرہ ہوتا ہے۔

اس وقت ہمارے وطن عزیز پاکستان کی سیاست یہی ہے کہ جو امریکہ کا وفادار ہے، وہی برسر اقتدار ہے اورجو حکمران ان کے مفادات سے ذرا سی سرتابی کرکے عوام کی خواہشات کے مطابق یا اپنے ملی و ملکی تقاضوں کے مطابق چلنا شروع کرے۔ فوراً گردن زدنی قرار پاتا ہے یا پھر اس کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جاتا ہے۔

٭ یہی وجہ ہے کہ ہمارے حکمران اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے اسلام کا نام بکثرت لیتے ہیں۔ اٹھتے بیٹھتے عوام کو مطمئن رکھنے اور اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے "اسلام ہمارا ضابطہ حیات ہے" اور" اسلام آج کے دور کے تمام لاینحل مسائل کے لئے نسخہ شفا ہے" جیسے دل پذیر بول بولتے رہتے ہیں اور اندر سے مغربی مفادات پورے کرتے رہتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ منافقت اسلامی ممالک میں بڑھتی ہی چلی جاتی ہے جبکہ اسلام حجروں اور خانقاہوں میں مقید ہوتا جاتا ہے۔

٭ لہٰذا پورا کاروبارِ حکومت مغربی قوانین (اینگلو سیکسن لاز)کے مطابق ہے۔

٭ آج تک ہمارا عدالتی نظام اسلامی نہیں بن سکا۔ ہمارا معاشی نظام سود در سود کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ قرضوں کی معیشت نے وطن عزیز میں مہنگائی، بے روزگاری کا بہت بڑا بحران پیداکررکھا ہے اور ہمارے تمام مالی وسائل یہ حکمران طبقہ لوٹ لوٹ کر مغربی ممالک میں جمع کرا رہا ہے۔

٭ ہمارا تعلیمی نظام ۵۴ سال گزرنے کے باوجود بنیادی طور پر لادین ہے۔ اس میں ملی و ملکی تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، نہ اس میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کا بندوبست ہے، نہ سائنسی تحقیق کا۔

٭ ہمارا پورا معاشرتی ڈھانچہ زیر و زبر ہوکر رہ گیا ہے۔ دینی تعلیم سے دوری اور ناواقفیت اوپر سے ڈش، ٹی وی، اورمیڈیا کی یلغار۔ مغربی ثقافت نے ہمیں سرتا پا جکڑ لیا ہے، وہ ہمارے بیڈ روم میں گھس آئی ہے۔ ان حالات میں ہماری تمام دینی اصطلاحات اپنا مفہوم بدل چکی ہیں اورملی تقاضے زیرو زبر ہوچکے ہیں۔

٭ آج تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب، بے دینی، بے حسی، بے غیرتی اور بے حمیتی ہے۔

٭ منافقت کا دل پذیر نام مصلحت کوشی اورباس کی جی حضوری ہے۔

٭ سود کی لعنت ہمارے معاشروں میں 'نفع'(Interest,Profit) کے دلکش نام سے نہ صرف رائج ہے بلکہ ہماری پوری معیشت کو کنٹرول کررہی ہے۔

٭ موسیقی جو در اصل بدروح کی غذ ا ہے، اب انسانی روح کی غذا باور کرائی جاتی ہے جبکہ مسلمان کے لئے ازروئے قرآنِ کریم ، اللہ کا ذکر روح کی غذا ہوا کرتا ہے۔

٭ عمل بالقرآن اب دورِ قدیم کی یادگار ہے۔ جمعہ کی چھٹی منسوخ اور اتوار تعطیل کا دن قرار پایا ہے۔

٭ سترو حجاب کو آج قیدکا نام دے کر عورت کو گھر سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ اسے مساوی حقوق کا جھانسہ دے کر طلب ِمعاش کا بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پر ڈالا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے خاندان کا شیرازہ بکھرتا جاتا ہے۔

٭ آج جہاد کو دہشت گردی اور بنیاد پرستی قرار دے کر اس کو ختم اور معطل کرنے کے پروگرام جاری وساری ہیں اور اس کی جگہ لڑکوں کو کھیلوں میں بری طرح پھنسا دیا گیا ہے جتنا ہندوستان کشمیریوں کو دباتا ہے، اتنے زیادہ کھیلوں کے میچ، پاکستان اورہندوستان کے درمیان ہوتے ہیں اور پھر صلح و آشتی، محبت، بھائی چارے اور تجارت و دیگر تعلقات کی باتیں ہوتی ہیں۔ اس بہانے "رام رام جپنا، پرایا مال اپنا" کا اُصول رکھنے والے ہندوستان کو ہم پر بالا دست بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ ان حالات میں کوئی محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کہاں سے آئے ؟

٭ افسوس جن بازووٴں کو حیدرِ کرار کی شمشیر آبدار بننا تھا وہ آج چھکے اور چوکے لگانے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔

٭ جن خواتین کو عفت و حیا کے ساتھ اپنے گھروں میں اگلی نسل کی بہترین تربیت کرنا تھا، اب وہ نت نئے ہیر سٹائل، گہرے میک اپ اور عریاں لباسوں کے ساتھ بیوٹی پارلروں اور بوتیکوں کی زینت بن رہی ہیں توکہیں دفتروں، ہوٹلوں، کلبوں اور طیاروں میں ملازمت کے دل پذیر نام سے مردوں کے دل لبھا رہی ہیں۔اس مخلوط تعلیم نے اور پھر مساوی ملازمتوں کے جھانسے نے نسوانی تقدس واحترام کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ تہذیب و ثقافت اورکلچر کے دلکش نام سے بدترین بے حیائی ہمارے اندر در آئی ہے۔ 'شوبز' ایک مقدس 'پیشہ' بن چکا ہے :

ناچ بیٹی کا ہے اور گانا باپ کا ہے اب یہی شعر و ادب ہے، یہی فنکاری ہے!

٭ اب والدین کوناراض کرکے محبت کی شادی جیسے گھمبیر مسائل آئے روز اخبارات کی زینت بنتے ہیں اور غیرت کے قتل جیسے مسائل بکثرت پیدا ہو رہے ہیں۔

٭ بے شمار 'عورت بگاڑ' تحریکیں وجود میں آچکی ہیں۔مسلمان ممالک میں بہت سی یہودی تنظیمیں این جی اوز کے نام سے معاشرتی اصلاح کی خاطر گھس آئی ہیں۔ ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ معاشرتی اصلاح کے نام سے وہاں کی حکومتوں سے گراں قدر مشاہرے لیں اور عوام کو دین سے متنفر اور اقوام متحدہ کے ملحدانہ مغربی رویے کو وہاں جاری و ساری کریں۔

پاکستان میں بھی ایسی بہت سی این جی اوز سرگرم عمل ہیں جو مسلمان عورتوں کو قاہرہ اور بیجنگ کانفرنس کے ایجنڈے کے مطابق مادر پدر آزاد بنانا چاہتی ہیں۔ پھر مردانہ ملازمتیں کرنے سے خواتین میں مردانہ پن پیدا کردیا گیا ہے۔ اب وہ نسوانی ذمہ داریوں کو بیکار کابوجھ سمجھتے ہوئے ان سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہیں اور مردانہ کاموں کو اپنے لئے باعث ِشرف سمجھتی ہیں۔ اوپر سے طرہ یہ کہ حکومت کی طرف سے خواتین کوسیاست میں گھسیٹنے کے قانون پیش کئے جارہے ہیں تاکہ کسی طور یہ خواتین گھر سے تو باہر نکل کر معاشرہ کی رنگینی میں اضافہ کریں۔

٭ یہ ٹی وی اور ریڈیو امربالمعروف اورنہی عن المنکر کا بڑا فریضہ اداکرسکتے تھے، یہ جدید ذرائع ابلاغ ہمارے معاشرے میں زبردست انقلاب لاسکتے تھے۔ مگر اس وقت ہمارے ذرائع ابلاغ مغربی گندگی کو تیزی سے ہمارے معاشرے میں فروغ دے رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا اورپرنٹ میڈیا دونوں ہی ایک طرف مسلمانوں میں غلط خبروں کے ذریعے افتراق و انتشار پھیلا رہے ہیں۔دوسری طرف ان کی فحش فلمیں، کارٹون، ماڈلنگ، ریکارڈنگ، شوبز ہماری آنکھ کا سرمہ بنے ہوئے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل لہو و لعب، تفاخر و تکاثر اور مال و متاع کی پجاری بن گئی۔ وہ رنگ، نسل زبان کے فتنوں میں گرفتار صوبائیت پرستی کا زہر پھیلانے میں مصروف، پاکستان کے مفادات کے خلاف سرگرمِ عمل ہے۔ اس وقت ہماری نوجوان نسل نہ اپنے کشمیری، فلسطینی، بوسنی اور افغانی بھائی بہنوں کی ٹیس کو سن سکتی ہے، نہ ان کے درد کو سمجھ سکتی ہے، نہ طیش میں خوفِ خدا دامن گیر ہوتا ہے، نہ عیش میں خدا کی یاد آتی ہے۔

آج ہماری زبانیں دین کی تعریف سے لبریز ہیں، خوفِ خدا کے بے شمار دعوے ہیں،عشق رسول میں محافل میلاد کے قیام ہماری بڑی متاع سمجھے جاتے ہیں۔ ہر پروگرام کے آغاز میں سوزوجذبہ سے تلاوتِ قرآن اور عقیدت سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہٴ نعت پیش کرنے کے بعد ہم مطمئن ہیں کہ ہم مخلص مسلمان ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ملک کا سپریم لا شریعت ِاسلامی کے بجائے برطانوی قانون ہے۔ آخر کیوں نہ ہو، ہمارے وکیل، ڈاکٹر، انجینئر اورجج وغیرہ سب اسی نظامِ تعلیم کے پڑھے ہوئے ہیں۔ مقدمات کے فیصلے اسی انگریزی قانون کے مطابق ہوتے ہیں۔ ہم میں کئی سلمان رشدی، تسلیمہ ناظر اور ثریا میر پیدا ہو رہے ہیں۔جو مسلمان ہونے کے باوجود اسلامی احکامات کا واضح مذاق اڑاتے نہیں شرماتے۔ توہین رسالت کرنے والے اعزازات پاتے ہیں اوردینی مسائل میں انگریزی آقاؤں کے مشورے پر کتر بیونت کرنے والے بیش قیمت انعامات 'فضل ربی' سمجھ کر وصول کرتے ہیں۔ یہ مذاق کب تک جاری رہے گا؟

سیکولر نظامِ تعلیم کے علاوہ دیگر غیرملکی سازشیں

مغربی تعلیم کے ذریعے مسلمانوں کے فکرونظر کے زاویے بدل کر ہمیں بے حد نقصان پہنچایا گیا۔ غیر ملکی استعمار نے مسلمانوں سے کیا لیا اور ان کو کیا دیا؟ یہ سوال بڑا دردناک ہے۔ کہیں شاطرانہ چالوں سے ، کہیں سنگینوں کے سائے میں اور غیر ملکی آقاؤں نے، دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کو پسپا کیا۔ مصر، افریقہ، برصغیر پاک و ہند ہر جگہ ان کی لوٹ مار کے طریقے تقریباً یکساں تھے۔ چند جزوی تبدیلیوں کے ساتھ ہر جگہ اپنی زبان اوراپنا نظامِ تعلیم رائج کرکے مسلمانوں سے ان کی اسلامی غیرت اور موٴمنانہ حمیت کوبے دینی اور بے حسی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی ملحدانہ دین بیزار نظامِ تعلیم سے مسلمانوں کو بامِ ثریا سے زمین پر د ے مارا گیا، عرش سے فرش پر گرا دیا گیا۔

1۔ مسلمانوں کا مرکز ِوحدت یعنی خلافت کا اِدارہ چھین لیا گیا اور اس کی جگہ مسلمانوں کوبے شمار چھوٹے بڑے ٹکڑوں میں تقسیم کردیا گیا۔ ان کی پالیسی ہی یہ تھی: Divide & Rule (ان کو ٹکڑوں میں بانٹ کر ان پرحکومت کرو)۔ عرب ممالک کو 'عرب لیگ' دے کر مسلم ممالک سے الگ کرکے ۲۲ حصوں میں بانٹ دیا اوراب ہر حصہ اپنے اپنے مفادات کا اسیرہے۔ اس وقت عالم اسلام تقریباً چھوٹے بڑے ۵۶ ملکوں پرمشتمل ہے۔جبکہ پہلے پورا عالم اسلام ایک وحدت کہلاتا تھا۔ اس وقت عیسائیوں کے لئے دنیا میں مرکز موجود ہے، یہودیوں کے لئے مرکز ہے۔ مگر عالم اسلام، دنیا میں اپنی کثیر تعداد اور متعدد ملکوں کے باوجود اس کا کوئی مرکز نہیں ہے جو مسلمانوں پر پیش آنے والے مسائل پر آواز اٹھا سکے۔ OICاس وقت اتنا بے وقعت ادارہ ہے کہ افغان امریکہ جنگ میں اس نے اپنی بے وقعتی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

2۔ خلافت کی جگہ ہمیں جمہوریت کے کھلونے سے بہلایا گیا۔ جس کا مقصد ہی نوابوں، جاگیرداروں اور وڈیروں کوبرسراقتدار لانا ہے۔ اس جمہوری نظا م کا خمیر ہی کچھ ایسا ہے کہ اس کے ذریعے کوئی دینی جماعت یا شخص آگے نہیں آسکتا۔

3۔ مسلمانوں سے جہاد چھینا گیا، اس غرض کے لئے اپنے وفادار غلام احمد قادیانی کو کھڑا کیا گیا جو انتہا درجے کا منافق تھا۔ اس نے نبوت کا سوانگ رچایا اوراپنی نئی شریعت میں جہاد کو موقوف قرار دیا۔ اس کے ذریعے مسلمانوں میں افتراق وانتشار پیدا کیا گیا۔ مجاہدین کو وہابی، بنیاد پرست، دہشت گرد وغیرہ جیسے کئی فرقوں میں بانٹ کر باہم دست و گریبان بنا دیا گیا۔ چند سال قبل قاہرہ میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں اسلامی ملک مصر کے دارالخلافہ میں خود مسلمان حکمرانوں نے اسلامی دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے لائحہ عمل طے کیا۔ ان کو مجاہدین کی سرگرمیاں تو دہشت گردی نظر آتی ہیں مگر کشمیر، افغانستان، بوسنیا، فلسطین، چیچنیا اور افغانستان میں سربوں، یہودیوں، روسیوں، ہندوؤں اور امریکیوں کے مظالم نظر نہیں آتے، نہ یہاں کی مسلم ماؤں بہنوں کی دلدوزچیخ و پکار سنائی دیتی ہے۔

4۔ یواین او کے ذریعے یہودیوں اور عیسائیوں کو ہم پر تسلط جمانے کا خوب موقع ملا۔بڑے سے بڑا اسلامی ملک کس طرح امریکہ بہادر کے آگے ہاتھ باندھے کھڑا نظر آتا ہے۔ ان کا دست نگر اور غلام بن چکا ہے۔ پھر اسی یواین او یعنی اقوامِ متحدہ کی آڑ میں ہمیں بے پناہ مالی، صحافتی، تعلیمی، تہذیبی، غرض ہر محاذ پر زبردست نقصان پہنچایا گیا۔ کہیں مسلمانوں پر اغیار کے ظلم و ستم کابازار گرم ہوا۔ یواین او کے قوانین کی رو سے کوئی مسلمان ملک متاثرہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا۔

5۔ تمام ذرائع ابلاغ پر یہود کا کنٹرول ہے۔ اسلامی ممالک کے تمام مالی وسائل پر ان کو دسترس حاصل ہوچکی ہے۔ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف کے ذریعے ہمارے معاملات کنٹرول کئے جارہے ہیں۔ مسلمان جوہری توانائی کے محتاج ہیں مگر حیلے بہانوں سے ان کے جوہری پلانٹوں کو تاخت و تاراج کردیاجاتاہے۔ مبادا مسلمان کوئی قوت نہ بن جائیں۔پاکستان کی اکلوتی جوہری قوت کے خلاف آئے روز سازشیں اور پابندیاں کھڑی کی جاتی ہیں۔

تعلیمی پالیسی برائے سال 1997ء تا 2010ء

پاکستان کی نئی سرکاری تعلیمی پالیسی جوفی الوقت نافذ ِعمل ہے، حسب ِسابق وہ رواں مغربی تعلیم ہی کا تسلسل ہے۔ یہ پالیسی آئین پاکستان کی دفعہ ۳۱ اور ۳۷ (جو تعلیم سے متعلق ہیں) کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس پالیسی میں

1۔ ذریعہ تعلیم اُردو زبان کونہیں بنایا گیا۔ انگریزی، اُردو یا مادری زبان کہہ کر معاملہ پھر مبہم کردیا گیا ہے۔ زبان فقط اظہارِ خیال ہی کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ اپنی قوم کی صدیوں پر محیط دینی، معاشی، معاشرتی اور اخلاقی قدروں کی امین ہوتی ہے۔ یکساں ذریعہ تعلیم پورے ملک میں اتحاد، یکجہتی اور استحکام پیداکرنے کا ضامن ہوتا ہے۔ جبکہ مختلف ذریعہ ہاے تعلیم کی موجودگی ایک طر ف خود تعلیم کے معیار کو پست کرنے کا سبب ہے۔ دوسری طرف ملک میں لسانی اور صوبائی تعصب کو پروان چڑھانے کا باعث بنتی ہے اور وطن عزیز کو انتشار اور افتراق کی راہ پر ڈالتی ہے۔

لہٰذا حکومت سے گذارش ہے کہ وہ کلاس اوّل سے لے کر میٹرک تک صرف اردو کو ذریعہ تعلیم بناکر دستوری تقاضا بھی پورا کرے اور معیارِ تعلیم کو بھی بلند کرنے کا کردار ادا کرے۔ اس سے ملک میں یکساں طرزِ فکر اور اتحاد و یکجہتی پیداہوگی۔

2۔ پرائمری تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میٹرک پاس اساتذہ بچوں کو کیا سکھائیں گے۔ اعلیٰ قابلیت کے حامل تربیت یافتہ اساتذہ کو پرائمری تعلیم کے لئے تعینات کیا جائے۔ ان کے معقول مشاہروں کا بندوبست ہو۔اساتذہ کی تعداد بڑھائی جائے۔ اساتذہ اور بچوں کی نسبت۱:۲۰ ہونی چاہئے۔ تاکہ وہ بچوں کا کام ذاتی نگرانی میں پوری توجہ سے چیک کریں، ہاتھ پکڑ پکڑ کر ان کی لکھائیں درست کروائیں۔ درست تلفظ، ہجے، املا، گنتی، بنیادی حساب... ان سب کاموں کے لئے پرائمری کی سطح پر زیادہ اساتذہ کا تقرر لازمی ہے۔نیز خوشخطی سکھانا، قرآن پاک ناظرہ، تجوید کے ساتھ پڑھانا، عربی کا بنیادی تعارف وغیرہ پوری توجہ اور مہارت سے دینا ضروری ہے۔ ہر استاد زیادہ سے زیادہ ۲۰،۲۵ بچوں تک صحیح کام کروا سکتا ہے۔

پرائمری سطح کے اساتذہ کی تربیت پر بھی مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے لئے سنجیدگی سے زیادہ بجٹ مختص کیا جائے اور اس کا کم از کم نصف پرائمری تعلیم کے لئے وقف ہو۔

3۔ طلبہ کو انفرادی و اجتماعی زندگی کتاب و سنت کے مطابق گزارنے کے قابل بنانا ہمارے دستور کا تقاضا ہے۔ لہٰذا نظریاتی جہت کی طرف توجہ دینے کی بڑی ضرورت تھی، مگر اس سے صرفِ نظر کرکے تعلیم کو صرف برائے حصولِ معاش کی پالیسی دی گئی ہے،یہ بنیادی نصب العین سے انحراف ہے۔ ہماری تعلیم کو ملک کے نظریاتی تحفظ کا ضامن ہونا چاہئے۔ لہٰذا جو نئے نصابات مدون کئے جائیں، بیجنگ اور قاہرہ کانفرنسز کے ایجنڈے کے بجائے اسلام کی روشنی میں مرتب کئے جائیں۔

4۔ بی ایس سی/بی اے کا کورس چار سالہ کرنے سے تعلیم کا دورانیہ بہت لمبا ہوجائے گا۔ اس طویل دورانئے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز سمسٹر سسٹم کے ذریعے اور معروضی سوالات کے ذریعے تعلیم کو جاندار بنانے کی ضرورت ہے۔

5۔ آج کل اکیڈمیوں کی وَبا زوروں پرہے۔ تمام طلبہ ٹیوشن پر زور صرف کرتے ہیں اور تعلیمی اداروں کا کردار کم سے کم تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے کہ اکیڈمیوں اور ان گرانقدر ٹیوشنز کو حکماً بند کردیا جائے اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی پروموشن ان کی بہتر کارکردگی سے وابستہ کردی جائے۔

6۔ راولپنڈی میں جو خواتین یونیورسٹی قائم کی گئی ہے، اس کا ماحول مغربی اور نصاب بھی مغربی ہے۔ عورتوں کے حوالے سے نصاب کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ پھر صرف ایک یونیورسٹی بہت کم ہے۔ علاوہ ازیں چاروں صوبوں میں بھی ایک ایک خواتین یونیورسٹی ، خواتین کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے اور ان میں نسوانی تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب مقرر کئے جائیں۔

7۔ میٹرک، ایف اے/ ایف ایس سی اور بی اے/بی ایس سی کی سطح پر انگریزی کو لازمی قرار دینے سے ہمارے ملک کا بہت قابل جوہر ضائع ہورہا ہے۔ اس کو ایک اختیاری مضمون قرار دینے سے ہمارے وطن عزیز کے بیشتر نوجوانوں کا بھلا ہوگا اور تعلیمی معیار ان شاء اللہ بڑھے گا۔ شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہوگا خود سائنسی علوم و فنون کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ اعلیٰ درجے کی سائنسی علوم پڑھنے کے لئے طلبہ کے لئے الگ انگریزی کے کورسز قائم کئے جاسکتے ہیں۔

8۔ میٹرک کی سطح پر ترجمہ قرآن پڑھانے کا فیصلہ خوش آئند تھا مگریہ سلسلہ کلاس ششم سے شروع کرکے میٹرک تک کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ صرف دوسال میں مکمل قرآن پاک کا ترجمہ پڑھانا عملاً ناممکن ہے۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس نصاب کو توسیع دینے کی بجائے اس میں ہی کمی کردی گئی، جس پر تمام دینی جماعتوں نے خوب احتجاج بھی کیا ۔ اس پر مزید یہ کہ اب سورة الانفال اور سورة التوبہ کو نصاب سے نکالنے کے احکامات صادر کئے جارہے ہیں۔

9۔ ہر طالب علم کو اپنے عظیم الشان ماضی سے لازماً روشناس کروانے کے لئے مطالعہ پاکستان کی تدریس کے لئے بھی خصوصی بندوبست کیاجائے۔ ہر طالب ِعلم کو اتنا ضرور معلوم ہو کہ الجبرے میں کوئی عمرخیام اور خوارزمی بھی تھا۔ کیمیا میں کوئی ابن حیان بھی تھا، فلسفے میں کوئی ابن رشد اور ابن سینا بھی تھا۔ اس طرح نوجوانوں کو ہر شعبہٴ علم میں اپنا حصہ لازماً نظر آنا چاہئے۔

10۔ ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا ہتھیار 'انفارمیشن میڈیا' ہے جس کا سفر پرنٹ میڈیا سے شروع ہوا تھا اور جس نے انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کی ثقافت، معیشت اور معاشرت کو زیر کرلیا ہے۔ جسے موجودہ دور میں ترقی یافتہ ممالک تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے استعمال کررہے ہیں اور اس طرح انفرمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے نفسیاتی فتوحات کا عمل جاری ہے۔ ہمیں بحیثیت ِقوم اپنے لئے ایک واضح راہِ عمل متعین کرنی چاہئے۔

برس ہا برس کی تحقیق کے بعد مغربی دنیا نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی بدولت وہ مقام پیدا کرلیا ہے کہ وہ ساری دنیا کی معیشت اور سیاست پرقابض ہوچکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی تعلیم و تحقیق کے شعبوں پر خصوصی توجہ دیں اور مغربی دنیا کی تحقیق سے فائدہ اٹھا کر تحقیق کی نئی جہتیں تلاش کریں جس سے ہمیں اپنے معاشی و معاشرتی مسائل حل کرنے میں مدد ملے۔

ہم نئی تحقیقات اور کتب و رسائل کو انٹرنیٹ کے ذریعے حاصل کرکے ان کے قومی و علاقائی زبانوں میں تراجم کا بندوبست کرسکیں تو کوئی وجہ نہیں کہ چند ہی سالوں میں وطن عزیز میں موجود ٹیلنٹ سے بھرپور استفادہ نہ کرسکیں اور مختلف شعبوں میں ایسے ہزاروں ڈاکٹر عبدالقدیر تلاش کرلیں جن پر ہماری آنے والی نسلیں فخر کرسکیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہماری تاریخ ایسے افراد کے عظیم الشان کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ جنہوں نے قوم کو نہ صرف شعور بخشا، انہیں اعتماد کی دولت سے مالا مال کیا، ملک و ملت کی بقا اور استحکام کی خاطر جہاد بالقلم اور جہاد بالسیف کیا۔

مثبت شرح خواندگی میں اضافے کے لئے تجاویز

اگر ہم واقعی فروغِ تعلیم کے لئے مخلص ہیں تو ضروری ہے کہ یہ مہم ایک مشن اور عبادت سمجھ کر انجام دی جائے :

1۔ تعلیمی اداروں کو آزاد فضا مہیا کی جائے اور ان کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک کیا جائے۔

2۔ مسجد مکتب سکیم رائج کی جائے۔ پرائمری تعلیم کے فروغ میں اس سے بہت مدد ملے گی۔

3۔ ذریعہ تعلیم اپنی قومی زبان اردو کو قرار دیا جائے اور ساتھ کلاس سوم سے عربی لازمی قرار دی جائے۔ کلاس ششم سے انگریزی شروع کی جائے۔ علاوہ ازیں میٹرک کی سطح پر صوبائی زبانوں میں سے کسی ایک کا (اپنی زبان کے علاوہ) لینا بھی ضروری قرار دیا جائے تاکہ بین الصوبائی روابط کو فروغ حاصل ہو، ان میں ہم آہنگی پیدا ہوسکے۔

انگریزی میٹرک تک لازمی رہے، آگے انٹر اور بی اے/بی ایس سی کی سطح پر اختیاری قرار دی جائے بیشتر طلبہ انگریزی کی رکاوٹ کی بناپر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نشوونما دینے سے عاجز رہ جاتے ہیں۔

4۔ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے لازم قرار دیا جائے کہ

ا․ وہ نماز، رو زہ اور اسلامی احکامات کے پابند ہوں۔

ب․ قرآن پاک ناظرہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن پاک کا ترجمہ جانتے ہوں۔ بی اے تک ان کی تعلیم کا اقدام خوش آئند ہے، لیکن شنیدہے کہ اس میں بھی تبدیلی کے لئے حکومت نے سمجھوتہ کرلیا ہے ، اس معیار کو کم کرنے سے وطن میں تعلیم یافتہ اور باشعور سیاست کے رجحان میں کمی واقع ہوگی کیونکہ اس سے کم تعلیمی قابلیت کے حامل اراکین قانون سازی میں موٴثر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کو اس پر سٹینڈ لینے کی ضرورت ہے۔

ج․ ان کے لئے اپنے اپنے حلقہ میں کم از کم چارپرائمری سکول اور دو ہائی سکول (ایک لڑکوں کے لئے ، ایک لڑکیوں کے لئے) قائم کرنا لازم قرار دیا جائے۔

5۔ اساتذہ کی تقرری میں ان کے تعلیمی کوائف و قابلیت کے ساتھ ساتھ ان کے کردار اور نظریاتی وابستگی کوبھی ملحوظ رکھا جائے۔ اگر کوئی استاد کسی بھی وقت دین کے خلاف ہرزہ سرائی کرے یا حب الوطنی کے منافی کوئی بات کہے یا کسی سرگرمی میں حصہ لیتا ہوا پایا جائے، تو اسے معطل کرد یا جائے۔

باقی رہے مالی معاملات، تو جب اصحابِ خیر حکومت کو تعلیم کے معاملے میں مخلص پائیں گے تو پھر اس کارِخیر میں حصہ ڈالنا وہ اپنے لئے باعث ِفخر خیال کریں گے۔ وما علينا الا البلاغ