اسلامی ممالک کی صورت حال عام طور پر یہ ہے کہ مغرب کی تقلید میں انہوں نے بھی تعلیم کے لیے مخلوط کالج اور یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بنا لیے جن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے اور رہتے سہتے ہیں- پارکوں میں وہ جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ بیہودہ اور فحش حرکات کرتے ہیں، وہ یقیناً ایک مسلم معاشرے کے لیے باعث شرم اور نہایت قابل مذمت ہے- آپ دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات نوجوان لڑکیاں اتنا باریک لباس پہنچتی ہیں کہ ان کاسارا جسم اندر سے دکھائی دیتا ہے-پھر ہم کہتے ہیں کہ اس نے ابھی ریاضی کے مشکل ترین مسائل حل کرنے ہیں، کیمیا گری کے فنون سیکھنے اور کتابوں کی شروحات کامطالعہ کرناہے- اےعقل کے اندھے اس بات کو اپنے ذہن میںسوچ کہ اس نوجوانی کی عمر میں تیری نوجوان بیٹی کیا چاہتی ہے- ہم نے اس اختلاط باہمی کوسفر و حضر، سکول و کالج، نہروں کے کناروں، پارکوں کے سبزہ زار او رپہاڑوں کی چوٹیوں تک پہنچا دیا او رہم نے اس چیز کو تہذیب و تمدن، ثقافت اور کلچر کاخوشنما نام دے دیا-چنانچہ اس طرح دوسری رکاوٹ بھی ختم ہوگئی-
تیسرے رکاوٹ بدنامی اور رسوائی کاڈر تھا: لیکن ہماری حالت رفتہ رفتہ تبدیل ہوتی گئی-بالآخر نوجوان طبقہ اس حد تک پہنچ گیا کہ انوہں نے گناہوں پر شرمسار ہونے کی بجائے ایسی عادتوں پر فخر وغرور کرناشروع کردیا اورنیک باز لڑکے لڑکیاں ان میں نکو بن گئے- حالانکہ ایک وہ وقت تھا کہ لوگ گناہ کرکے شرمسار ہوتے اور لوگوں سے اپنے گناہ کو چھپانے کی کوشش کرتے اور اگر ان سے اس بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ انکارکردیتے جبکہ آج صورت حال یہ ہے کہ ایسے فحش واقعات کو اخبارات، ڈائجسٹ اورناولوں کی زینت بنایا جاتا ہے اور عام طور پر ایسے لچر اور بیہودہ لٹریچر کو لوگ بڑے شوق سے خریدتے اور پڑھتے ہیں کیونکہ اس میں جنسی جذبات کو بھڑکانے والامواود ہوتا ہے-
ایسا فحش لٹریچر جس قدر آج مارکیٹ میں دستیاب ہے، اتنا پہلے کبھی نہیں تھا- رہی سہی کسر ہمارے معاشرے کے رائٹروں، صحافیوں او رکالم نگاروں نے نکال دی- وہ اداکاروں اور اداکاراؤں کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں اور انہیں قومی ہیرو قرار دینے کی کوشش میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیتے ہیں-میں نے کچھ عرصہ قبل ایک ایسے ادیب کے ایک کالم کا مطالعہ کیا، جو مجھ سے علم و فضل سے بہت آگے ہے- انہوں نے اپنے کالم میں ایک بدکار اداکار جو کہ مرچکا ہے، کی بڑی تعریف و توصیف کی ہے-ایک دوسرے ادیب نے ایک اور اداکار (آسکر ولڈ) کی بڑی لمبی چوڑی تعریف کی ہے- اب ظاہر بات ہے کہ جو آدمی ایسے فلمی اداکاروں کے اخلاق و کردار کا مطالعہ کرے گا، تو اس کے ذہن پر بھی ویسے ہی بُرے اثرات مرتب ہوں گے- آ ج ہم دیکھ رہے ہیں کہ فلمیں دیکھنے کی وجہ سے چھوٹے بچوں میں بھی وہی حرکتیں آگئی ہیں، جو وہ فلموں میں نظارہ کرتے ہیں او رہم نے اس بات کو بالکل فراموش کردیا ہے کہ گناہ کی تشہیر کرنا اسلام کی نظر میں دوسرا بڑا جرم ہے، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گناہ کے مرتکب ہونے والے کو اپنے گناہ پر پردہ ڈالنے اور اللہ سے توبہ و استغفار کا حکم دیا ہے- لیکن دیکھئے، آج فلموں میں بے حیائی اور فحاشی کا کردار ادا کرنے والے کس قدر ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ اپنے گناہ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر باعث شرم بات یہ ہے کہ فلموں میں کام کرنے والی عورتیں اپنی بدکاری اور زناکاری کو اپنے باعث فخر سمجھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم نے بڑی عزت حاصل کی ہے- گویا وہ بے غیرتی کو اپنے لیے عزت قرار دیتی ہیں- میں نے شام کی دو ادیب لڑکیوں کا قصہ پڑھا، ان میں سے ایک نے اپنے کالم میں اپنے عاشق کا تذکرہ کیا ہے، جس کے ساتھ اس نے عقد شرعی کے بغیر خفیہ تعلقات قائم کررکھے تھے، ان کا نام 'جارج' اور اس کی معشوقہ جو اس سے بھی بے شرم اور بے حیا تھی، اس کا نام 'فردوموسہ' تھا-بہرحال ہمارے اس طرز عمل سے تیسری رکاوٹ بھی ختم ہوگئی-
چوتھی رکاوٹ بیماری کاڈر اور خوف تھا: ڈاکٹر حضرات آئے اور انہوں نے برملا کہاکہ زنا کاری و بدکاری کی وجہ سے بیمار ہونے والو! ہمارے پاس آؤ، ہم تمہارا علاج کریں گے، ان بیماریوں سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں- ہمارے پاس پنس لین، ٹیرامائسین اور ابلی سین جیسےٹیکے موجود ہیں، جنہیں لگاتے ہی مریض ٹھیک ہوجاتا ہے- ان کے علاوہ اور بھی ایسی ادویات ہمارے پاس موجود ہیں جوان امراض کے لیے نہایت ہی مفید ہیں- جب بھی تمہیں زناکاری او ربدکاری کی وجہ سے کوئی بیماری لگے تو تم ہماری خدمات حاصل کریو، ہم تمہارا علاج کرکے تمہیں ٹھیک کردیں گے اور اگر کوئی عورت زنا کی وجہ سے حاملہ بھی ہوگئی ہو تو کوئی بات نہیں، ہم بغیرتکلیف کے اس کا حمل ضائع کردیں گے او رکسی کو کانوں کان بھی خبر نہیں ہوگی- چنانچہ میڈیکل کی اس ترقی سے بیماری کا ڈر اور رسوائی کا خوف بھی دور ہوگیا-
پانچویں رکاوٹ تھا حکومت کاڈر اور تعزیرات کا خوف: واقعہ یہ ہے کہ جب حکومت امرباالمعروف و نہی عن المنکر کا شرعی فریضہ ادا کرے اور شریعت محمدی کے مطابق فیصلے کرے اور شرعی تعزیرات و حدود کو نافذ کرے تو یقیناً جرائم نہ ہونے کے برابر ہوں گے، لیکن اگر اسلامی قانون اور شرعی تعزیرات کو چھوڑ کر مغربی قوانین کا سہارا لیا جائے جیسا کہ آج کل اکثر اسلامی ممالک میں ہورہاہے تو جرائم پر قابو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے- کیونکہ مغربی قوانین کی حالت یہ ہے کہ اگر ایک سطر کا قانون ہے تو بعد میں اس میں دو صفحے کی ترمیم ہوگی- مغربی قانون میں اگر زنا عورت کی رضا مندی سے کیا جائے تو نہ کوئی مقدمہ ہوگا اور نہ کوئی سزا ہوگی اور یہ مغربی قانون کی نحوست ہے کہ مغرب میں بیٹا، ماں سے او رباپ بیٹی سے زنا کررہا ہے جو اتنا گھناؤنا جرم ہے کہ کوئی دین دار اور بااخلاق آدمی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا- آپ حیران ہوں گے کہ مغرب میں زنا کاری اور بدکاری کی سزا ایک ہزار روپیہ چوری کرنے سے بھی کم ہے- ہم خاموش تماشائی بنے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور ہمارے علماء، مفتی اور حکمرانوں نے حالات سے صلح کرکے اس ساری صورت حال کو قبول کرلیا ہے- چنانچہ پانچویں رکاوٹ بھی ختم ہوگئی-
چھٹی رکاوٹ تھی، اللہ کا ڈر اور جہنم کاخوف: ہم نے اپنے اولاد کو شروع سے ہی دینی تعلیم اور اسلامی تربیت سے دور رکھا اور اس کے دل سے خوف خدا اور جہنم کا ڈر فراموش کردیا- آج صورت حال یہ ہے کہ نئی نسل کے نوجوان بیٹے کو مسجد کے رستے کا ہی پتہ نہیں ہے- ہاں اگر کبھی کبھار اس کاباپ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر اپنے ساتھ مسجد میں لے جائے تو ممکن ہے وہ نماز پڑھ لے، ورنہ اسے نہ مسجد کا پتہ ہے اور نہ وہ نماز کو جانتا ہے- اس طرح یہ مضبوط ترین رکاوٹ بھی پاش پاش ہوگئی- پھر ہم نے انہیں یہ درس دیا کہ تم مادر پدر آزاد ہو- جہاں چاہو گھومو، پھرو اور انہوں نے یہی کیا-
آج دیکھئے کہ جو عورت 06 یا 07 سال اپنے بھائی ، باپ اور چچا کے ساتھ پردے کی حالت میں بھی باہر نکلنے سے حیا محسوس کرتی تھی، آج وہ باریک کپڑے زیب تن کرکے اور میک اپ کرکے بڑے فخر کے ساتھ سرعام بازاروں اور پارکوں میں تمام لوگوں کو دعوت گناہ دیتی پھرتی ہے- میں وہی کچھ لکھ رہا ہوں جو اپنے معاشرے میں دیکھتا ہوں- دنیا میں جتنے بھی ادیان ہیں، قطع نظر اس کے کہ وہ صحیح ہوں یا باطل ہوں، ان تمام ادیان میں ایک بات مشترک پائی جاتی ہے وہ یہ کہ کوئی عورت بن سنور کر اپنا حسن و جمال اور جوانی کا جادو لوگوں پر نہ چلائے- ایک دفعہ بیت المقدس کے دروازے پر یہ اعلان لکھا ہواپایا گیا کہ کوئی عورت زیب و زینت اختیارکرکے ننگے منہ اور باریک کپڑے پہن کر گرجا میں نہ آئے بلکہ عورتیں لمبے اورموٹے کپڑے پہن کر سادگی کی حالت میں گرجا میں آیا کریں- جب عورت نے اوپر اور نیچے سے کپڑا چھوٹا کرنا شروع کردیا یعنی آدھے بازؤں والی قمیص پہننے لگی او رپنڈلیوں سے اوپر تک شلوار پہننے لگی تو آہستہ آہستہ اس نے اپنے سارے کپڑے اتارنے شروع کردیئے حتی کہ سمندر کے کنارے پر پہنچ کر اس نے اپنے سارے کپڑے اتار پھینکے اور شرم و حیا کو خیر باد کہہ دیا-
کیا یہ اس اکیلی نوجوان لڑکی کا قصور ہے اور کیا یہ صرف نوجوان لڑکے کا ہی گناہ ہے-ایک طرف اس کے اندر طبع شہوت کا طوفان، پھر شادی پر قدغنیں او ردوسری طرف بُرائی کی فطری کشش، پھر برہنہ لڑکیوں کے غول کے غول جو سربازاردعوت گناہ دے رہی ہیں- آپ کاکیاخیال ہے آخر کب تک وہ اپنے آپ کو ایسے ماحول میں بچا کر صبر سے کام لیتا رہے گا؟ ایسے ماحول میں وہ نوجوان اپنے سبق اور کتاب پرکیسے توجہ دے گا-حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑا مشکل اور کٹھن مرحلہ ہے اس کی اصلاح اور علاج کے لئے تو سارے معاشرے، حکومت، تمام قوموں، اہل علم، اصحاب قلم اور خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیمیوں کو مل جل کر کام کرناچاہئے-
ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عالمی این جی اوز فضول بکواسات او ربیہودہ لغویات میں مصروف ہیں اور فحاشی و بےحیائی کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں- وہ یہ نہیں سوچتیں کہ خطرہ حوا کی بیٹی کے لیے ہے او رقربانی کا بکرا بھی حوا کی بیٹی کو ہی بننا ہے، حالانکہ عالمی این جی اوز کی اصل ذمہ داری یہ تھی کہ وہ مظلوم عورتوں کے حق میں آواز اٹھاتیں لیکن کیا آج تک انہوں نے عورت کی عزت کی حفاظت کے لئے کوئی مہم جوئی کی ہے- حوا کی بیٹی بلکہ انسانیت کی سب سے بڑی تذلیل یہ ہے کہ جب کوئی عورت چند ٹکوں کے لئے اپنے جسم غیرمرد کے حوالے کردیتی ہے-نسوانی حقوق کی یہ نام نہاد تنظیمیں عورت کی اس تذلیل کے خلاف میدان عمل میں کیوں نہیں آتیں- اس لئے کہ اس بے حیائی اوربے غیرتی کو مغرب نے یہ کہہ کر سند جواز عطا کردی ہے کہ یہ عورت کا حق ہے کہ اپنے جسم کو جیسے چاہے استعمال کرے- اہل مغرب نے بھی یہ جواز اس لئے تراشا ہے کہ اسی طرح ہوس پرست مردوں کی تسکین کو قانونی تحفظ مل سکتا ہے اور مرد کے لیے عیاشی کرنے کی راہ کشادہ ہوسکتی ہے- مجھے حیرانگی ہوتی ہے جب عورتیں اپنے اس استحصال کے خلاف یک آواز نہیں ہوتیں!!
خط لکھنے والے کی بیٹی تو خاندان کی عزت کو پامال کرگئی لیکن میں اپنی بات کو آپ کے سامنے اس لیے پیش کررہا ہوں کیونکہ بے حیائی کا یہ سیلاب میرے اور آپ کے گھر کی طرف بھی بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ خطرہ ہے کہ وہ میری اور آپ کی بیٹی کو اپنی لپیٹ میں لے کر غرق کردے گا-
یہ ایسی آگ ہے جوہر گھر میں جل رہی ہے یا جلنے والی ہے اور ایسا سیلاب ہے جو ہر شے کو غرق آب کررہا ہے-یہ ایسا طاعون ہے جو ہر طرف پھیل رہا ہے اور ہم اس کی پرواہ کئے بغیر بڑے آرام و سکون سے بیٹھے اپنے بے بسی کا تماشا دیکھ رہے ہیں- ہم اس آگ کو بجھانے میں اپنا کردار کیوں ادا نہیں کرتے؟ بلکہ ہم جلتی آگ پرمزید تیل ڈال رہے ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ یقیناً اس آگ کی تپش اور حرارت ہمارےگھروں کو بھی جلا کر راکھ کردے گی- جب ہم خود جلتی آگ پر تیل ڈال رہے ہیں تو پھر اس کی تباہی سے بچنے کی اُمید کرنا کار عبث ہے-
یہ کیسے ہوسکتا ہے اے دانش مندو ! مجھے بتاؤ، تم کس طرح اس آگ سے محفوظ رہو گے۔

٭٭٭٭٭