یونانی فلسفی ارسطو نے کہا تھا کہ انسان 'سماجی حیوان' ہے جو سماج کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا، اسے ہر صورت میں اپنے جیسے انسانوں سے ربط و تعلق استوار رکھنا پڑتا ہے۔ اہل مغرب کو ارسطو کایہ حکیمانہ قول اس قدر پسندآیا ہے کہ انہوں نے اس کی بنیادپر اپنا پورا فلسفہ حیات مرتب کرنے کی کوشش کی ہی۔ وہ اسے ایک'آفاقی حقیقت'کا درجہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ذہین دماغوں نے ہمیشہ انسان کے اندر انسانیت تلاش کرنے کی بجائے اس کے اندر چھپی ہوئی حیوانیت کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک حیوانیت کے مقابلے میں 'انسانیت' ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔ انسانیت کو وہ محض ایک لبادہ، تکلف اور تصنع ہی سمجھتے ہیں۔
مغرب میں صدیوں سے قائم انسان کے بارے میں اسی تصور کا نتیجہ ہی تھا کہ جب چارلس ڈارون نے اپنی شب و روز کی 'تحقیق'اور عرق ریزی کے بعد بندر کو انسان کا 'جدامجد' قرار دیا تو اہل مغرب نے انسانی ارتقا کے اس واہیات فلسفہ کو ردّ کرنے کی بجائے اسے خاصی پذیرائی بخشی۔ سگمنڈ فرائیڈ نے ۱۹۰۰ء میں اپنا معروف تحلیل نفسی کا نظریہ پیش کرکے انسان کے اندر جنس یا حیوانی جبلت کو انسان کا محوری و مرکزی جذبہ قرار دیا تو اہل مغرب نے بے حد ہیجان خیز اسلوب میں اس اچھوتے اکتشاف کو خوش آمدید کہا۔
جنسی جبلت کو تقدس عطا کرنے والا یہی فلسفہ ہی تو تھا جس نے ۱۹۶۰ء کے عشرے میں یورپ وامریکہ میں جنسی انقلاب برپا کردیا۔ تب سے اہل مغرب صرف فکری اعتبار سے ہی نہیں، عملی اعتبار سے بھی ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں کہ انسان بنیادی طور 'حیوان' ہی ہے۔ پاکستان میں اگر کسی کو اب تک اہل یورپ کی حیوانیت پسندی کے بارے میں کچھ شک تھا، تو افغانستان میں ان کی وحشت وبربریت کے ہولناک مظاہرے کے بعد یہ شک باقی نہیں رہنا چاہئے!!
مغرب کے سیاسی فلاسفروں نے ارسطو کے فلسفہ میں معمولی سا ردّوبدل کرنے کی کوشش کی ہے۔ کسی نے انسان کے سیاسی اُمور سے غیر معمولی شغف اور سیاسی اداروں پر اس کی بے حد زیادہ انحصاریت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے 'سیاسی حیوان' قرار دیا۔ ۱۹۹۵ء میں امریکہ کے ایک پروفیسر کی کتاب نے فروخت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ اس کا عنوان تھا "The Moral Animal" یعنی انہوں نے انسان کو 'اخلاقی حیوان' کے درجہ پر فائز کردیا۔ گویا یہ سابقے ہی بدلے گئے، 'حیوان' کا لفظ ابھی تک 'متفق علیہ' چلا آتا ہے۔
گذشتہ چالیس برسوں میں ذرائع ابلاغ نے مغربی معاشرت کو جس انداز میں متاثر کیا ہے، اس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔ایک یورپی اور امریکی شہری شاید سماج سے کٹ کر کچھ عرصہ گزارنے میں بہت دِقت محسوس نہ کرے، سیاسی اداروں سے بھی وہ کچھ دیر کے لئے انقطاعِ تعلق کرسکتا ہے بشرطیکہ ارتباطی (Interactive) ٹیکنالوجی سے اس کا تعلق ٹوٹنے نہ پائے۔ یورپ میں بہت سے ہپی افراد کو آپ جنگلوں میں پڑا ہوا پائیں گے، ان کے پاس بہت معمولی سا سامانِ زیست ہوتا ہے، مگراس مختصر سے زادِ راہ میں ریڈیو یا موبائل فون ان کے پاس ضرور ہوگا۔ ایسے افراد کے لئے نہ تو سماج 'ناگزیر' ہے اور نہ ہی ریاستی ادارے ان کی مجبوری ہیں۔ مغربی سماج میں پروردہ ایک شخص ممکن ہے غیر معمولی حالات میں کچھ دن بغیر خوراک کے بھی زندہ رہ لے، مگر ذرائع ابلاغ سے زیادہ دیر جدائی بہت کم لوگ برداشت کرپائیں گے۔
مغربی تہذیب و ثقافت کی صورت گری میں میڈیا نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ ان کے تہذیبی رویے، ان کا انفرادی و اجتماعی طرزِ عمل، سوچوں کے زاویے، ان کی بودوباش اور سماجی اقدار، ان کی معاشی فکر اور سیاسی حرکات، غرضیکہ ان کی حیاتِ قومی کا کوئی پہلو، کوئی گوشہ اور کوئی انداز ایسا نہیں ہے جسے ذرائع ابلاغ نے تشکیل (Shape)نہ دیا ہو۔ دورِ حاضر میں مغرب کا تہذیبی و تمدنی ارتقا درحقیقت وہاں کے ذرائع ابلاغ کے ارتقا سے براہِ راست وابستہ ہے۔ وہاں سائنسی و صنعتی ترقی ہوش رُبا رفتار سے آگے نہ بڑھ پاتی، اگر میڈیا کی طرف سے اس کو دھکا (Push) میسر نہ آتا۔نت نئی ایجادات اگر سامنے آرہی ہیں اور معاشرتی زندگی کا حصہ بنتی جاتی ہیں، تو ان کی تیز رفتار معاشرتی مقبولیت بھی میڈیا کے ذریعے کی جانے والی مارکیٹنگ و اشتہار بازی کی مرہونِ منت ہے۔ مغرب کی صنعتیں کبھی بھی وسیع پیمانے پر پیداوار نہ دے سکتیں، اگر ان کو جذب کرنے کے لئے صارفیت کا وسیع نیٹ ورک موجود نہ ہوتا اور پورے گلوب پر پھیلا ہوا صارفین کا نیٹ ورک میڈیا کے ذریعے مربوط و منضبط ہے۔ عالمی بستی کا موہوم یاحقیقی تصور بھی ذرائع ابلاغ کے بغیر ناقابل تصور ہے!!
مغربی سماج کا فرد عالم بیداری کا ایک ایک لمحہ میڈیا پر انحصاریت اور وابستگی کے عالم میں گزارتا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی پہلا کام ساتھ پڑے ہوئے ریموٹ کے ذریعے ٹیلی ویژن کا سوئچ آن کرنا ہوتا ہے۔ خوراکی ناشتہ سے پہلے ابلاغی ناشتہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے جب تک نیند غالب نہیں آتی، انگلیاں ریموٹ کے بٹن کے آس پاس تو رہتی ہیں، اسے 'آف' نہیں کرپاتیں۔ گھر سے دفتر کا سفر ہو، یا دفتر سے مختلف مصروفیات اور فرائض منصبی کی انجام دہی کا معاملہ ہو، ریڈیو سیٹ، کمپیوٹر، ٹیلی فون، اخبارات، کتابیں، آلاتِ موسیقی، غرض درجنوں ذرائع ابلاغ صبح سے لے کر شام تک اس کی زندگی کے ایک لازمی جز کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ ۲۴ گھنٹوں میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں نشریات کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہو۔ اب تو ایک نہیں سینکڑوں ٹی وی نیٹ ورک صبح شام پروگرام پیش کرتے رہتے ہیں۔
جدید معاشرے میں سماجی رشتوں کی جگہ بھی بہت حد تک ذرائع ابلاغ نے لے لی ہے۔ خاندان کے مختلف افراد کی باہمی ملاقات میں بھی ٹیلی ویژن چلتا رہتا ہے۔ بچوں کے لئے ٹیلی ویژن نے والدین کے علاوہ ایک دلکش اور دلچسپ گائیڈ کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں بچے ماں باپ کی باتوں کو ٹی وی وغیر ہ سے زیادہ وقت دیتے ہوں۔ دوست کا کردار توبہرحال میڈیا اداکرتا ہی ہے۔میڈیا سے دوستی ایک خبط سے کم نہیں، اس کی موجودگی اچھے خاصے قریبی دوستوں کی یاد بھلا دیتی ہے۔ دوستوں سے دوستی نبھانے میں بھی میڈیا برابر کا شراکت دار ہوتا ہے۔ شاید ہی نوجوانوں کی کوئی دوستانہ مجلس ایسی ہو جس میں وقت گزاری کے لئے میڈیا کا استعمال نہ کیا جاتا ہو۔
اس طولانی تمہید کے بعد میرا خیال ہے کہ اب مجھے وہ بات کردینی چاہئے جو وجہ تحریر مضمون ہذا ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج کا مغربی انسان 'ابلاغی حیوان' ہے۔ وہ انسان اور حیوان کے باہمی تعلق کو ڈارون اور فرائیڈ کی آنکھ سے دیکھنے کو تیار نہیں ہے۔ لیکن مجھے حسن ظن ہے کہ اہل مغرب اس ترکیب کو اپنے حق میں تعریف و توصیف پر ہی محمول کریں گے۔ وہ اپنی زندگی میں ذرائع ابلاغ کے تعلق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ 'سماجی حیوان' کے ساتھ ساتھ انہیں اگر 'ابلاغی حیوان' کے اعزاز سے بھی سرفراز کردیا جائے تو آخر انہیں پریشانی کیا ہوسکتی ہے؟ آپ امریکہ اور یورپ میں کسی بازار میں کھڑے ہو کر عام آدمی سے سوال کیجئے کہ آیا وہ ذرائع ابلاغ کے بغیر زندہ رہ سکے گا، تو گمانِ غالب ہی نہیں، راقم کویقین کامل ہے کہ ۹۹․۹۹ فیصد افراد نہ صرف اس کا جواب 'نہیں' میں دیں گے بلکہ سوال پوچھنے والے کی ذہنی صحت کے متعلق اپنے خاص اسلوب میں تشویش کا اظہار بھی ضرور کریں گے۔ میرے بس میں ہوتا تو میں ۹۹․۹۹ فیصد کی بجائے ۱۰۰ فیصد ہی لکھ دیتا مگر جہاں انسان ہوں، وہاں کچھ نہ کچھ استثنائی صورتوں کی گنجائش بہرحال رکھنی پڑتی ہے۔
ابھی تک ہمارے استدلال کا دائرہ مغربی فرد کو ہی محیط رہا ہے۔ زیر بحث معاملے میں اہل مغرب کی تحدید و تخصیص ان کے خلاف کسی تعصب کی بنا پر نہیں ہے۔ ہمیں تسلیم ہے کہ مشرق میں بھی اب اچھے خاصے 'ابلاغی حیوان' پیدا ہوگئے ہیں۔ لاہور جیسے شہر میں تو ایسے چند ایک نہیں، سینکڑوں گھرانے ضرور مل جائیں گے جن کا طرزِ معاشرت تہذیب ِمغرب کی مخلصانہ پیروی کا مکمل نمونہ نظر آئے گا۔ لیکن جب مشرق و مغرب کی تہذیبوں کا وسیع تناظر میں موازنہ کیا جاتاہے ، تو پھر اس محدود اقلیت کو استثنائی درجہ میں ہی رکھا جاسکتا ہے۔ ان کا طرزِ زندگی پورے معاشرے کی اجتماعی صورتحال کا آئینہ دار نہیں ہے۔ البتہ مغرب کے ابلاغی حیوانوں اور ان بدیسی ابلاغی حیوانوں میں ا یک واضح اور اُصولی فرق پایا جاتاہے۔ جہاں مغرب کے ابلاغی حیوان اپنی ابلاغی ضروریات کے لئے خود کفیل ہیں، وہاں ہمارے مشرقی ابلاغی حیوان اپنے ابلاغی 'چارہ' کے لئے اہل مغرب پر بری طرح انحصار کرتے ہیں۔ انہیں مشرقی ذرائع ابلاغ کی طرف سے پیش کردہ ابلاغی چارہ قطعاً پسند نہیں ہے، نہ ہی یہ اسے اپنی شناخت کا ذریعہ بنانا پسند کرتے ہیں۔ جو سکہ بند ابلاغی حیوان ہیں، آپ انہیں مشرقی ذرائع ابلاغ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے شاذ ہی دیکھیں گے۔ یہ واضح رہے کہ 'چارہ' کا لفظ 'حیوانیت'کی جانب ان کے میلانِ طبع کی بنا پر ایک تقابلی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، یہاں اس کے لغوی معانی مقصود نہیں ہیں۔
ہمارے ہاں ابلاغی حیوانوں کی اچھی خاصی تعداد کا تعلق طبقہ اشرافیہ سے ہے۔ ان میں سے مختلف انواع و اقسام کے ابلاغی حیوان آپ کو مل جائیں گے۔ زیادہ تر اپنے آپ کو لبرل، ترقی پسند اور ماڈرن کہلانا پسند کرتے ہیں، حقیقت ِحال چاہے اس کے برعکس کیوں نہ ہو۔ مقامی معاشرے کی جو قابل ذکر روایت یا سماجی قدر ہے، اس میں انہیں رجعت پسندی کی بو آتی ہے۔ وہ اپنی خوشی سے نہیں بلکہ بامر مجبوری اس بدقسمت زمین کو اپنے وجود کے زیر بار احساں رکھے ہوئے ہیں۔ جونہی وہ مجبوریوں کی قید سے آزاد ہوتے ہیں، یورپ یا امریکہ کی طرف عازمِ سفرہوتے ہیں۔
مجھے بدیسی ابلاغی حیوانوں کے ایک مخصوص گروہ کا ذکر خاص طور پرکرنا ہے۔ یہ صحیح معنوں میں'ابلاغی حیوان'کی تعریف پر پورا اترتے ہیں کیونکہ ذرائع ابلاغ سے ان کا اٹوٹ انگ رشتہ ہے بلکہ یہ ذرائع ابلاغ پر بہت حد تک چھائے ہوئے بھی ہیں۔ ٹیلی ویژن اور انگریزی اخبارات بالخصوص ان کی آماجگاہیں بنی ہوئی ہیں۔ یہ دانشور، سکالر، انٹیلکچولکہلوانے میں نہ صرف فخر محسوس کرتے ہیں، بلکہ بلاشرکت غیرے اس کے اصل مصداق ہونے پر اصرار بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے 'دانشوری' کو اس طرح قبضہ قدرت میں لے رکھا ہے جس طرح کسی کتاب کا مصنف'جملہ حقوق محفوظ' لکھوا کر کتاب درازی (Pirating) کے ممکنہ خطرات سے کتاب کو اپنے تئیں تحفظ عطا کرتا ہے۔ انٹرنیٹ، ای میل اور اس طرح کی دیگر سائنسی ایجادات نے ان ابلاغی حیوانوں کا کام بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اب وہ معمولی سی کاوش کے بعد امریکہ، برطانیہ یا یورپ کے کسی بھی اخبار سے کوئی مضمون، کالم، یا رپورٹ 'ڈاؤن لوڈ' کرلیتے ہیں اور حسب ِضروت اس میں معمولی ردّوبدل یا مکمل ہی اپنے نام پر شائع کردیتے ہیں۔
یہ بات افراد کے ساتھ ساتھ ابلاغی اداروں پر بھی صادق آتی ہے۔ ہمارے انگریزی اخبارات میں شائع شدہ اکثر خبریں غیر ملکی خبررساں ایجنسیوں کی ارسال کردہ ہوتی ہیں۔ وہ ان کی صداقت میں ذرہ برابر شک نہیں کرتے، اس لئے بغیر کسی تحریف کے من و عن شائع کردیتے ہیں۔ ہمارے ذرائع ابلاغ پر چھایا ہوا ابلاغی حیوانوں کا یہ طبقہ مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے حاصل شدہ ابلاغی چارے کی ہوبہو نقالی اور جگالی کو ہی بلاغت و ابلاغ کی معراج سمجھتا ہے!!
اس فکری غلامی کے باوجود اس طبقہ کو دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں رواداری، روشن خیالی، ترقی پسندی اور جدیدیت کا علم بلند کئے ہوئے ہے۔ اپنے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والوں کو یہ رجعت پسند، دقیانوس، 'آؤٹ آف ڈیٹ'، عصر حاضر کے تقاضوں سے نابلد، جاہل، مولوی، ملا، ترقی مخالف اور علم دشمن جیسے القابات سے نہایت تواتر سے نوازتے رہتے ہیں۔
حیوانی ابلاغ
مغرب و مشرق میں پائے جانے والے ابلاغی حیوانوں کے اس اجمالی تذکرے کے بعد 'حیوانی ابلاغ' کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ مضمون ناقص و نامکمل رہے گا۔ 'حیوانی ابلاغ' سے مراد کوئی مخصوص طبقہ، کلاس یا گروہ نہیں ہے۔ یہ دراصل وہ حکمت ِعملی، طریقہ کار اور Approach ہے جس میں ذرائع ابلاغ پر قابض طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ اور سوچ کے فروغ کے لئے میڈیا کواستعمال کرتے ہوئے ابلاغی حیوانوں کے فکروعمل کو مطلوبہ ڈھانچے و منصوبے کے تحت تشکیل دیتا ہے۔حیوانی ابلاغ سے مراد ایسا مواد، انفارمیشن اور نظریات ہیں جن کے پھیلانے سے انسانی معاشرے میں تعمیری عمل کی بجائے تخریبی سوچ ، منفی طرزِ عمل اور حیوانیت فروغ پاتی ہے۔ مغربی میڈیا بے حد جارحانہ طریقے سے'حیوانی ابلاغ' کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مغرب کی ایسی پالیسی کی وجہ سے ذرائع ابلاغ استعماری قوتوں کے ہاتھ میں بے حد موٴثر کارگر ہتھیار کا کام کررہے ہیں۔ دیگر کئی شیطانی ہتھکنڈوں کی طرح 'حیوانی ابلاغ'کی ایجاد و اختراع کا سہرا بھی یہودیوں کے سر ہے۔ 'حیوانی ابلاغ'کی مختلف صورتیں قابل مشاہدہ ہیں۔ آج پوری دنیا میں جو Pornography (فحاشی) کا سیلاب آیا ہوا ہے، یہ 'حیوانی ابلاغ'کی ہی بدترین صورت ہے۔ جنسی خواہشات و حیوانیت کو بھڑکا کر پورے معاشرے کواخلاقی زوال سے دوچار کرنا اس حیوانی ابلاغی مہم کا اصل مقصد ہے۔
اس حیوانی ابلاغ نے مغرب میں جنسی آوارگی کو 'تہذیب' کا نام دے کر وہاں کے خاندانی نظام کو تباہی کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک حیوانی ابلاغ کی وہ صورت ہے جسے 'نفسیاتی سرد جنگ' کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے پس پشت سیاسی مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔ غلط اور جارحانہ پراپیگنڈہ کے ذریعے مخالف قوموں کے مورال کو تباہ کیا جاتا ہے، ان کا امیج خراب کرکے انہیں قابل نفرت بنا دیا جاتا ہے، حقائق کو چھپا کر جھوٹ اور غلط بیانی کا طومار باندھا جاتاہے۔ مگر یہ کام بڑی فریب کاری اور چالاکی سے کیا جاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ جانبدارانہ ابلاغ کا تاثر قائم نہ ہو۔
آج امریکہ اور یورپی ممالک اپنے سیاسی اور استعماری مقاصد کی تکمیل کے لئے حیوانی ابلاغ کی اس حکمت ِعملی کو نہایت تواتر سے استعمال کررہے ہیں۔ مغربی تہذیب کو پوری دنیا پرغالب کرنے اور کمزور قوموں کے استحصال کے لئے اس طریقہٴ کار کوبروئے کار لایا جارہا ہے۔ اس حیوانی ابلاغی مہم پر سینکڑوں ابلاغی نیٹ ورک کام کررہے ہیں، ہزاروں اخبارات، ریڈیو سٹیشن، ٹیلی ویژن اور رسائل اس مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں پر سالانہ کئی ارب ڈالر خرچ کردیئے جاتے ہیں۔
مسلمان اس 'نفسیاتی سردجنگ' کا طویل عرصہ سے تختہٴ مشق بنے ہوئے ہیں۔ اس کی ابتدا تو بہت پہلے ہی ہوگئی تھی، مگر اس کا پہلا اہم مظاہرہ جنگ ِعظیم اوّل کے دوران ترکی کے خلاف مغربی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈہ کی صورت میں سامنے آیا۔ ارضِ فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے لئے اسی حیوانی ابلاغ کی حکمت ِعملی اپنائی گئی۔ اسرائیل کے قیام کے بعد تو اس شیطانی مہم میں سال بہ سال شدت پیدا ہوتی گئی۔
اس ابلاغی خباثت کا تازہ ترین نشانہ 'طالبان'بنے ہیں۔ طالبان کی طرف سے نفاذِ شریعت کی جدوجہد اور اسلامی ریاست کا قیام مغربی تہذیب کے لئے خطرے کی گھنٹی قرار پایا، لہٰذا اسلامی ریاست کے نوزائیدہ درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ عسکری مہم جوئی سے پہلے طالبان کے خلاف مسلسل پراپیگنڈہ مہم شروع کی گئی۔ مغرب کے تمام ذرائع ابلاغ نے اس حیوانی ابلاغ میں بھرپور حصہ لیا۔ انہیں بدنام کرنے کے لئے ذلیل اور پست ہتھکنڈے استعمال کئے گئے۔ امن عامہ کے قیام، عدل و انصاف کی فراہمی، قانونی مساوات کے قیام، انتظامی سادگی اور نیکی کے فروغ، ڈرگ مافیا کی سرکوبی اور افغانستان کو اسلحہ سے پاک کردینے کے عظیم الشان کارناموں کو پس پشت ڈال کر طالبان کی طرف سے معمولی درجہ کی سخت گیری اور نفاذی حکمت ِعملی کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔ ڈاڑھی اور برقعہ جو کہ صدیوں سے افغانیوں کی تہذیب کا جزوِلاینفک رہے ہیں، کو طالبان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کے لئے بھرپور استعمال کیا گیا۔ چند مٹھی بھر مغرب زدہ عورتوں کو شریعت کی حدود میں لانے کی کارروائی کو کروڑوں افغان عورتوں پر ظلم و ستم قرار دے کر مغربی ذرائع ابلاغ نے شیطانی پراپیگنڈہ مہم جاری کی۔ کبھی موسیقی پر جزوی پابندی کو طالبان کی وحشیانہ پالیسی قرار دیا گیا تو کبھی طالبان کے جہادی کارناموں کو بنیاد پرستانہ قرار دے کر ان کا امیج خراب کیا گیا۔ ۱۱/ ستمبر کے واقعات کے بعد تو طالبان اور اسامہ بن لادن کے خلاف اس قدر شدید پراپیگنڈہ کیاگیاکہ یورپ و امریکہ میں طالبان اور اسامہ بن لادن کے خلاف نفرت کا لاوا اُبل پڑا۔نتیجتاً وہاں کا عام آدمی طالبان کو آسیب اور عذاب سمجھنے لگا !!
پاکستان کے مغرب زدہ ابلاغی حیوان بھی اس شیطانی مہم میں کود پڑے۔ انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ یہ پراپیگنڈہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔ آج ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقہ میں طالبان کے خلاف جونفرت اور ناپسندیدگی کے جذبات پائے جاتے ہیں، یہ ان کی آزادانہ سوچ کا نتیجہ نہیں ہیں۔ یہ مغرب کی طرف سے آنے والا ابلاغی چارہ ہی ہے جس کی یہ جگالی کررہے ہیں۔ ہمارے نام نہاد دانشو ر طالبان کو اگر 'ظالمان' کہہ رہے ہیں تو اس کی وجہ بھی ان کی وہی ابلاغی محکومی ہے۔ ان کی سوچیں مغرب کے حیوانی ابلاغ کے زہریلے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔
مسلمان ملکوں کے حکمران مغرب کی حیوانی ابلاغی مہم کے زیر اثر ہیں۔ ان میں سے سب امریکہ کی دھونس کا شکار نہیں ہیں، بہت سے ایسے بھی ہیں جو طالبان کے خلاف زہریلے پراپیگنڈہ کو درست سمجھتے ہیں۔ ملت ِاسلامیہ اس افسوسناک صورتحال سے کبھی باہر نہیں نکلے گی جب تک کہ وہ اپنا جوابی ابلاغی نیٹ ورک قائم نہیں کرلیتی جس کے ذریعے مغربی ذرائع ابلاغ کے پراپیگنڈہ کا توڑ کیا جاسکے۔ الجزیرہٹیلی ویژن نے افغان جنگ میں طالبان اور اسامہ بن لادن کا موقف پیش کرکے مغربی ذرائع ابلاغ کو کافی پریشان کیا ہے۔ مگر یہ محض ایک 'ابلاغی جزیرہ' تھا جو مغربی ذرائع ابلاغ کے ابلاغی سمندر میں نبرد آزما ہونے کی پوزیشن میں نہیں۔

٭٭٭٭٭