٭حضرت ایوب کی بیماری کی نوعیت ٭ آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا
٭ گنا کی اُدھار اور موجودہ قیمت میں فرق ٭ والدین کی ناراضگی میں اولاد کا فرض
٭سوال: حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کی نوعیت کیا تھی؟ کیا یہ صحیح ہے کہ ان کے سارے جسم میں کیڑے پڑگئے تھے اور سارا جسم خراب ہوگیا تھا؟
جواب:قرآن مجید کے بیان سے واضح ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کسی شدید ترین بیماری میں مبتلا تھے لیکن یہ ذکر نہیں کہ وہ کون سی بیماری تھی۔بعض اہل علم نے کہا ہے کہ غالباً حضرت ایوب علیہ السلام کسی سخت جلدی مرض میں مبتلا تھے۔ بائبل کا بیان بھی یہی ہے کہ سر سے پاؤں تک ان کا سارا جسم پھوڑوں سے بھر گیا تھا۔ تفسیر ابن کثیر اور تفسیر خازن وغیرہ میں سوال میں مذکور اشارات موجود ہیں مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی مستند بات وارد نہیں تاہم بالاجمال صحیح حدیث میں ہے: «أشد الناس بلاء الأنبياء» "لوگوں میں شدید ترین آزمائشیں انبیاء علیہم السلام پر آئی ہیں۔"
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ایسی بیماری جس سے لوگ نفرت کا اظہار کریں، نبوت کے منافی ہے مثلاً پھوڑے نکل آنا، قوتِ سمع و بصر کا متاثر ہوجانا وغیرہ۔ کیونکہ انبیاء کی حیثیت راہنما کی ہے اور دعوت وتبلیغ کی خاطر عوام سے میل جول کی ضرورت ہے۔ نبی کو جب نفرت آمیز اَمراض لاحق ہوں تو کون اس کے قریب آئے گا؟ ایسی حالت میں نبی کماحقہ دعوتی واجبات ادا نہیں کرسکتا، اس لئے رسولوں کے لئے ضروری ہے کہ بہترین حالت اور خوبصورت ترین ہیئت میں ہوں۔ البتہ بتقاضا بشریت امراض کا لاحق ہونا درست ہے، بشرطیکہ متنفر کرنے والی نہ ہوں۔ (تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام الرحمن : حاشیہ۵/۲۵۳)
میرے خیال میں مذکورہ وجوہات میں سے بعض محل نظر ہیں کیونکہ اللہ مختارِ کل ہے، وہ جیسے چاہے بندوں کی آزمائش کرے، کوئی اسے پوچھنے والا نہیں﴿لا يُسـَٔلُ عَمّا يَفعَلُ وَهُم يُسـَٔلونَ ٢٣ ﴾... سورة الأنبياء
حضرت یعقوب علیہ السلام کی بصارت ضائع ہونے کا قصہ تو قرآن میں موجود ہے تو پھر انکار کیسا! بہر صورت حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری معمولی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ وہ سخت تھی، اسی وجہ سے تو قرآن نے ان کا لقب 'صابر' رکھا ہے :
﴿إِنّا وَجَدنـٰهُ صابِرً‌ا ۚ نِعمَ العَبدُ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ ٤٤ ﴾... سورة ص
"بے شک ہم نے ایوب کو صابر پایا ، بہترین بندہ جو ہروقت رجوع کرنے والا تھا۔"
٭سوال:آنکھیں کھول کرہی نماز پڑھنی چاہئے یا بند بھی کی جاسکتی ہیں؟ نص صریح کیا ہے؟
جواب: حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إذا قام أحدکم في الصلاة فلا يغمض عينيه» (رواہ الطبراني في معجمه) یعنی "تم میں سے جب کوئی آدمی نماز میں ہو تو وہ اپنی آنکھیں بند نہ کرے۔" بعض سلف بھی اس بات کے قائل ہیں لیکن اس حدیث کے بارے میں امام عبدالرحمن بن ابی حاتم فرماتے ہیں کہ ہذا حدیث منکر "یہ حدیث منکر ہے" منکر ضعیف کی اقسام میں سے ایک ہے، لہٰذا یہ حدیث ناقابل استدلال ہے۔
بیہقی اور مستدرک حاکم میں روایت ہے: «کان ﷺ إذا صلی طأطأ رأسه ورمی ببصرہ نحو الأرض» "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو سر جھکاتے اور نگاہ زمین کی طرف رکھتے" (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: صفة الصلاة للالبانی، صفحہ ۵۸)
٭ سوال:ایک عالم نے یہ بتایا کہ پہلی اولاد اگربچی ہو تو وہ اللہ کی طرف سے خیروبرکت کا ذریعہ ہوتی ہے، کیا اس کے متعلق کوئی حدیث ہے؟
جواب: ایسی کوئی روایت نہیں کہ پہلی اولاد بچی ہو تو خیر و برکت کا ذریعہ بنتی ہے۔ویسے مجموعی طور پر بیٹیوں کو باعث ِرحمت سمجھنا چاہئے کیونکہ حدیث میں آتا ہے
"جو شخص تین بیٹیوں کی پرورش کرے پھر ان کو ادب سکھائے اور ان پر شفقت کرے تو اللہ نے اس کے لئے جنت واجب کردی ہے ۔" (مشکوٰة: حدیث ۴۷۴۵)
اس فرمانِ نبوی کی رو سے بیٹی کو باعث ِ رحمت قرار دیا جاتا ہے۔
٭ سوال:ایک محلہ کے قریب حکومت نے کچھ جگہ قبرستان کے لئے وقف کی ہے مگر اس محلہ کے لوگ اب دوسرے علاقہ کے لوگوں کو میت دفن کرنے سے منع کرتے ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں میں اس کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔
جواب: وقف دو قسم کا ہوتا ہے، ایک عمومی اور دوسرا خصوصی۔ عمومی میں سب کا حق برابر ہوتا ہے جیسے مسجد ہے۔ جبکہ خصوصی وقف کے حقدار مخصوص افراد ہوتے ہیں۔
بالا صورت میں جگہ چونکہ حکومت نے دی ہے لہٰذا ا س کی حیثیت کو دیکھنا ہوگا۔ اگر تو مخصوص محلہ کے لئے دی ہے تو وہ دوسروں کو روک سکتے ہیں اور اگر سب کے لئے دی ہے تو کسی کو روکنے کا حق نہیں۔
٭ سوال:قبرستان ہموار کرکے رہائش گاہ بنانا یا برائے ضرورت مکان تعمیر کرنا کیسا ہے ؟
جواب:مسلمانوں کے قبرستان کو ہموار نہیں کرنا چاہئے اور نہ وہاں رہائش کا سوچنا چاہئے۔البتہ اگر نشانات مٹ چکے ہیں تو وہاں رہائش اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ قبرستان میں خریدا ہوا مکان اگر بے نشان جگہ پر ہے تو اس کا کوئی حرج نہیں او راگر وہاں آثار موجود ہیں تو پھر وہاں رہائش اختیار کرنا درست نہیں۔
٭سوال:زوجین بذریعہ طلاق ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں، ان کی بالغ اولاد بوجوہ والدہ کے پاس ہے۔ جن اسباب و حالات کی بنا پر طلاق واقع ہوئی، ان میں اولاد کا بھی ایک کردار ہے۔ اب باپ اولاد کواپنے پاس رکھنا چاہتا ہے اور تمام فرائض شرعی (ان کی شادی، ملازمت اور جائیداد کی تولیت وغیرہ) خود انجام دینے کا خواہشمند ہے، مگر اولاد اپنی مطلقہ ماں کی حمایت میں اپنے والد کو والد ماننے اور اس کی تمام تر جائیداد کو اپنی جائیداد تسلیم کرنے اور لینے سے علیٰ الاعلان انکاری ہے۔اس صورت میں باپ کو اپنی اولاد کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے اوراپنی جائیداد کے بارے میں کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔ (ایم صدیق مان، گوجرانوالہ)
جواب:بلاشبہ اولاد کا انتساب باپ کی طرف ہے، بوقت ِضرورت وہی اس کے نفقہ اورخرچہ کا ذمہ دار ہے۔ اولاد کو چاہئے کہ والد کے حق کی ادائیگی میں اس کا ساتھ دیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکے۔اور اگر وہ اس کے لئے آمادہ نہ ہوں تو وہ کبیرہ گناہ کے مرتکب اوراللہ کے ہاں جوابدہ ہوں گے۔
جبکہ دوسری طرف والدہ کے حق کی ادائیگی میں بھی بخل نہیں ہونا چاہئے۔ اگر والدہ نیکی میں کوتاہی کرے تو اولاد کو چاہئے کہ والدہ کو اچھا کردار اختیار کرنے کی تلقین کرے، نہ کہ اس کی حمایت میں اپنے آپ کو برباد کرلیا جائے۔ تاہم والد کو چاہئے کہ اللہ کے حضور بکثرت ان کی ہدایت کے لئے دعا گو ہو۔
زندگی میں والد کو اپنی جائیداد میں تصرف کا کل اختیار ہے لیکن اولاد کو محروم کرنے کی نیت سے نہیں۔ اولاد نافرمانی کے باوجود اس کی جائیداد سے محروم نہیں ہوگی کیونکہ شریعت میں جن اسباب کی بنا پر ورثا کو محروم کیا جاسکتا ہے، وہ ان میں نہیں پائے جاتے اور وہ تین ہیں: غلامی، قتل، اختلافِ دین ۔
واضح ہے کہ والد کے دل و دماغ میں جب اولاد کی خیرخواہی کا احساس پیدا ہوگا تو یقینا وہ اولاد کیلئے رشد وہدایت کی دعا کرے گا پھر بھی اولاد اس کی بات نہیں مانتی تو وہ ربّ کے حضور بری الذمہ قرار پائے گا ۔
٭ سوال:ایک شخص نے حالت ِنشہ میں اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں دو دفعہ طلاق طلاق کہہ دی بعد میں صلح ہوگئی۔ عرصہ دو سال بعد گھریلولڑائی میں پھر ایک مرتبہ طلاق کہہ دیا، کتاب و سنت کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ کیا تین طلاقیں ہوگئیں یا رجوع ہوسکتا ہے؟
جواب:نشہ کی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی، چنانچہ امام بخاری ترجمة الباب کے عنوان کے تحت ذکر فرماتے ہیں:« وقال عثمان ليس لمجنون ولا لسکران طلاق وقال ابن عباس طلاق السکران والمستکره ليس بجائز»" حضرت عثمان نے فرمایا: "دیوانے اور نشہ والے کی طلاق واقع نہیں ہوتی اور ابن عباس نے کہا: نشے والے اور جس پر زبردستی کی گئی ہو ، ہردو کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
لہٰذانشہ کی حالت میں دی گئی طلاق تو واقع نہیں ہوئی البتہ بعد میں جوایک دفعہ طلاق کہا، وہ واقع ہوچکی ہے لیکن یہ طلاقِ رجعی ہے جس کا مطلب یہ کہ عدت کے اندر رجوع ہوسکتا ہے اور عدت گزرنے کے بعددوبارہ نکاح کا جواز ہے۔ اِس مقام پر تین طلاقوں کے مسئلہ کی بحث کو چھیڑنا بلا محل ہے جو لائق التفات نہیں۔
٭ سوال: آج کل گنے کے سیزن میں حکومت نے گنے کی قیمت ۳۵ روپے فی من مقرر کررکھی ہے۔ لیکن شوگر ملیں کاشتکاروں کونقد ادائیگی نہیں کرتیں بلکہ دو تین ماہ،بعض اوقات سال بھر ادائیگیاں روکے رکھتی ہیں۔ کاشتکاروں کو ذاتی بیسیوں ضرورتیں ہوتی ہیں جس کے لئے انہیں گنے کی نقد قیمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے وہ سستے نرخوں پر گنا کسی دوسرے آدمی کو فروخت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
جس کی صورت یہ بنائی جاتی ہے کہ کاشتکار شوگر مل کو گنا دے کر سی پی آر (ایک رسید) حاصل کرلیتا ہے۔ اس سی پی آر پر گنا فروخت کرنے والے کانام و پتہ، گنے کا وزن اور قیمت درج ہوتی ہے۔ کاشتکار یہ سی پی آر شوگر مل سے حاصل کرکے کسی دوسرے آدمی کونقد ادائیگی اور کم قیمت پر فروخت کردیتا ہے۔
مثال کے طور پر سی پی آر پر گنے کا وزن ۴۰۰ من اور قیمت ۳۵ روپے فی من درج ہے جو مذکورہ شوگر مل کی طرف سے واجب الادا ہوتی ہے۔ لیکن کاشتکار یہ گنا ۳۰ روپے فی من کے حساب سے کسی دوسرے آدمی سے نقد رقم وصول کرکے سی پی آر اُسے دے دیتا ہے اور پھر خود یہ آدمی شوگر مل سے اصل رقم جو سی پی آر پر درج ہوتی ہے (یعنی ۳۵ روپے فی من) اُسے حاصل کرنے کا انتظار کرتا ہے۔
سوال :یہ ہے کہ گنے اور سی پی آر کی مذکورہ صورت میں خرید و فروخت جائز ہے؟ مدلل جواب تحریر فرمائیں۔ (ثناء اللہ ، کوٹ رادھا کشن)
جواب: اس صورت میں سی پی آر کی حیثیت نقدی کی ہے جبکہ دوسری طرف بھی نقدی ہے۔ لہٰذا دونوں کی حیثیت سونے اور چاندی جیسی ہے جن میں نقدکمی بیشی اور اُدھار دونوں طرح ناجائز ہے۔ اس بنا پر گنا کی قیمت ۳۵ روپے کے بجائے ۳۰ روپے وصول کرکے سی پی آر دوسرے کے سپرد کردینا ناجائز ہے، البتہ برابری کی صورت میں جواز کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ جس طرح کہ سونے چاندی کی خریدوفروخت نقد برابری کی صورت میں جائز ہے۔ تاہم اس میں یہ اشکال باقی رہتا ہے کہ سی پی آر میں اگر کوئی غلطی ہوئی تو جس کے نام یہ جاری ہوا ہے، خریدنے والے کو اس کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے ، اس بنا پر مکمل قبضہ کی شرط نہ پائی گئی جو اسلامی خرید وفروخت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
بعینہ یہی اشکال برابری کی صورت میں بھی وارد ہوتا ہے۔ اس بنا پر علیٰ الاطلاق اس بیع سے احتراز کرنا چاہئے۔ لہٰذا ایسے حاجت مند کو چاہئے کہ شوگر ملز کے باہر ہی خریدارتلاش کرلے تاکہ بروقت اس کی غرض پوری ہوجائے۔ اور اگر سی پی آر پختہ کار گارنٹی ہے، کوئی بھی اسے کیش کرا سکتا ہے یہاں تک کہ غلطی کی اِصلاح کرنا بھی اصل مالک سے رجوع کئے بغیر ممکن ہے یا اس کی احتیاج باقی نہیں رہتی تو اس صورت میں رقم کی برابر کی شکل میں کوئی کلام نہیں، ورنہ اصل یہی ہے کہ دع ما یریبہ الی مالا یریبہ ، یعنی شبہ والی شئ کے لین دین کرنے سے بچنا چاہئے۔
٭ سوال:گائے یا بھینس آٹھ مہینہ کی مدت کے اندر مردہ بچہ پیدا کرے تو اس کے د ودھ کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:جانور کا بچہ جب مردہ پیدا ہوجائے تو اس کا دودھ پینا جائز ہے کیونکہ اصل اباحت ہے اور کسی نص میں ممانعت وارد نہیں۔
٭ سوال:بچے کے کان میں اذان کتنے دن کے اندر کہی جائے؟ آیا دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اِقامت یا دونوں میں اذان دی جائے؟ (ڈاکٹر حق نواز قریشی، راولپنڈی)
جواب:اس بارے میں جو حدیث وارد ہے، اس میں یہ ہے کہ دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اِقامت اور اس میں ہے کہ ولادت والے دن اذان کہی جائے۔ لیکن اس حدیث کو علامہ البانی  نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ( سلسلة الاحادیث الضعیفة: ۱/۴۹۳)
٭ سوال:ایک بے اولاد عورت جس کا خاوند، چار بھائی اور چار بہنیں زندہ ہیں۔ اس نے اپنا مکان مالیتی پندرہ لاکھ روپیہ چھوٹی بہن کے نام ہبہ کردیا ہے۔ آیا اس سے دوسرے وارثوں کی حق تلفی تو نہیں ہوتی؟ (مرزا محمد عنایت اللہ)
جواب: صحت کی حالت میں آدمی اپنے مال کا کل یا بعض حصہ ہبہ کرسکتا ہے، چاہے کسی وارث کو دے یا غیر وارث کو، البتہ اولاد میں برابری ضروری ہے۔ جیساکہ مشہور حدیث ہے کہ حضرت عمر نے اللہ کی راہ میں آدھا مال دیا اور حضرت ابوبکر نے سارا دیا۔ تفصیلی قصہ امام ابوداود نے بسند حسن اپنی سنن میں بیان کیا ہے۔ (باب الرخصة فی ذلک ۲/۵۴ مع عون المعبود) اس سے معلوم ہواکہ ایسا تصرف درست ہے۔
٭ سوال: والد صاحب کے پلاٹ کی وارث تین بیٹے، تین بیٹیاں اور بیوی ہیں۔ اب اگر والدہ بغیر کچھ دیے بیٹیوں سے دستبرداری چاہیں تو شرعاً ان کوکیا تقاضے پورے کرنا ہوں گے یا بھائی بہنوں کو بغیر کچھ دیے اپنے حق میں دستبرداری چاہیں تو کس طرح ہوگی؟
جواب :احادیث میں ہے کہ والد کے لئے ضروری ہے کہ ہبہ میں اولاد کے درمیان مساوات کا اہتمام کرے۔ علماء سلف نے فرمایا:ہبہ میں جو حکم والد کا ہے، وہی والدہ کا ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ اولاد کے ناطے سے دونوں برابر ہیں، لہٰذا والدہ دو صنفوں میں سے کسی ایک صنف کو کوئی شے ہبہ نہیں کرسکتی۔ اس لحاظ سے والدہ بیٹیوں سے پلاٹ اپنے حق میں ہبہ کروا کے صرف بیٹوں کو دینے کی مجاز نہیں کیونکہ اسے تمام اولاد میں برابری کا حکم ہے۔ ہاں البتہ بھائی اگر بعض بہن بھائیوں کو کچھ دینا چاہے تو اس کی اجازت ہے کیونکہ مساوات کا حکم صرف اولاد میں ہے۔

٭٭٭٭٭