ع یہی توحید تھی، جس کو نہ تو سمجھا، نہ میں سمجھا !
توحید
'توحید'کا لغوی معنی کسی چیز کوایک بنانا اور اس کا شرعی مفہوم، اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات وصفات میں یکتا سمجھنا ہے۔ توحید کی ضد الإشراك باللہ یعنی اللہ کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کو بھی حصہ دار سمجھنا ہے۔ 'الإشراك باللہ' کو مختصر الفاظ میں 'شرک'بھی کہا جاتاہے۔ توحید کے اثبات سے شرک کا ردّ از خود ہوجاتا ہے۔ شرک کی جملہ اقسام سے اجتناب سے ہی عقیدئہ توحید میں پختگی اور استحکام پیداہوتا ہے۔
قرآن میں توحید کا لفظ نہیں آیا مگر احادیث میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ امام بخاری نے تو اپنی صحیح میں ایک مستقل کتاب کا نام ہی 'کتاب التوحید' رکھاہے۔ قرآن مجید میں توحید کے بجائے اللہ کیلئے 'اَحد' اور 'واحد' کے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ہیں یا پھر شرک اور اس کی معروف اقسام کا ذکر کیا گیا ہے۔
توحید کی اہمیت
اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ ان باتوں سے ہوتا ہے کہ
٭ تمام انبیائے کرام نے سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کا سبق دیا۔
٭ توحید ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس سے انبیا نے ایک بگڑی ہوئی قوم کی اِصلاح کا آغاز کیا۔
٭ توحید ہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کے اقرار پر کوئی شخص اسلام کے حصار میں داخل ہوتاہے۔
٭ توحید ہی وہ اہم موضوع ہے جس کاذکر صراحةً یا اشارةً قرآن کریم کے ہر صفحہ میں ملتا ہے۔ پھر اس کی تفصیلات احادیث میں بکثرت مذکور ہیں۔
٭ اسی موضوع پر علماے حق اور مفکرین اسلام ہر دور میں زبان و قلم سے جہاد کرتے رہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ کرتے رہیں گے۔
٭ ساتھ ہی ساتھ یہ عقیدئہ توحید ہی ایسا نازک موضوع ہے کہ اس میں تھوڑی سی کمی بیشی سے انسان ایسا مشرک ٹھہرتا ہے جس کی نجاتِ اُخروی کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ‌ أَن يُشرَ‌كَ بِهِ وَيَغفِرُ‌ ما دونَ ذ‌ٰلِكَ لِمَن يَشاءُ...٤٨ ﴾... سورة النساء
"اللہ تعالیٰ یہ گناہ کبھی نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ (اورگناہ) جس کو چاہے گا بخش دے گا۔"
انہی وجوہات کی بنا پر عقیدئہ توحید شیطان کا اصل ہدف ہے۔ وہ اس میں طرح طرح سے رخنہ اندازیاں کرکے خیالات کا رخ موڑتا اور ایک ہدایت یافتہ انسان کو پھر سے شرکیہ افعال میں مبتلا کردیتا ہے۔جس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انبیا کے رخصت ہونے کے بعد ان پر ایمان لانے والوں میں سے بھی اکثر لوگ مشرک ہی رہتے یا بن جاتے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَما يُؤمِنُ أَكثَرُ‌هُم بِاللَّـهِ إِلّا وَهُم مُشرِ‌كونَ ١٠٦ ﴾... سورة يوسف
"اور ان میں سے اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے مگر اللہ کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔"
عقیدہ توحید میں پختگی سے نجاتِ اُخروی تو قرآن کریم کی بہت سی آیات سے ثابت ہے۔یہ فائدہ مسلم، لیکن کبھی آپ نے یہ بھی سوچا ہے کہ اس عقیدئہ توحید کے انسانی زندگی پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ایک مشرک کی زندگی اور ایک موٴحد کی زندگی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اس عقیدہ سے بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کیونکر ہوتی ہے۔نیز یہ عقیدہ عالمی قیامِ امن کے سلسلہ میں کیاکردار ادا کرتا ہے؟ یہ اور اس جیسے دوسرے سوالات کا جواب دینے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں۔
شرک کی بنیاد توہم پرستی ہے!
انسان فطرتاً توہم پرست واقع ہوا ہے۔ اور اس توہم پرستی کا ٹھیک ٹھیک علاج عقیدہٴ توحید ہے۔ شیطان کا انسان کو گمراہ کرنے اور مشرک بنانے کا سب سے موٴثر حربہ یہ ہے کہ وہ انسان کی اس توہم پرستی کو ہوا دیتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی توہم پرستی کی وجہ سے انسان خوفِ غیر اللہ میں مبتلا ہوجاتاہے۔ اللہ کے سوا دوسری چیزوں سے اپنے فائدہ کی توقعات وابستہ کرنے لگتا ہے۔ بس یہی دو چیزیں یعنی دفع مضرت اور جلب ِمنفعت یا نقصان اور تکلیف کا ڈر اور کسی بھلائی اور فائدہ کی توقع ہیں جو انسان کو شرک کی بے شمار قسم کی خار زار وادیوں میں کھینچ لاتی ہیں۔ مثلاً مظاہر پرستی، کواکب پرستی، بت پرستی، ملائکہ پرستی، جنات پرستی، عقل پرستی، ذہن پرستی، اولیا پرستی، قبر پرستی، آبا پرستی، احبار پرستی، حتیٰ کہ خود پرستی سب شرک ہی کی شاخیں ہیں۔پھر یہ شاخیں اور کئی چھوٹی شاخوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ ان سب شاخوں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بالآخر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کا جذبہ محرکہ یہی مذکورہ دونوں باتیں یا ان میں سے کوئی ایک ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
﴿قُل أَتَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَملِكُ لَكُم ضَرًّ‌ا وَلا نَفعًا...٧٦ ﴾... سورة المائدة
"(اے پیغمبر) ان سے کہہ دو کہ تم ایسی چیزوں کی پرستش کیوں کرتے ہو جنہیں تمہارے نفع ونقصان کاکچھ بھی اختیار نہیں۔"
اور مشرکین کی اس توہم پرستی کا عقلی اور مشاہداتی جواب یہ دیا کہ اللہ کے سواباقی چیزیں جنہیں تم اپنا مددگار سمجھتے ہو وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کی بھی مالک نہیں تو پھر وہ تمہارا کیابگاڑ یا سنوار سکتی ہیں۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے
﴿قُل أَفَاتَّخَذتُم مِن دونِهِ أَولِياءَ لا يَملِكونَ لِأَنفُسِهِم نَفعًا وَلا ضَرًّ‌ا...١٦ ﴾... سورة الرعد
"(اے پیغمبر!) ان سے کہہ دو کہ اللہ کے سوا جن کو تم نے اپنا مددگار بنا رکھا ہے ، وہ تو اپنے بھی نفع ونقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔"
اس دنیا میں اگر کوئی سب سے بلند مقام ہستی ہوسکتی ہے تو وہ اللہ کا رسول ہی ہوسکتا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ سے براہِ راست بھی تعلق ہوتا ہے اور جبریل کے واسطہ سے بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسی بلند ہستی بھی نہ اپنے نفع و نقصان کی خود مالک ہوتی ہے، نہ ہی کسی دوسرے کو کچھ فائدہ یا نقصان پہنچاسکتی ہے۔تو پھر دوسری چیزوں کا ذکر ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ سے فرماتے ہیں:
﴿قُل إِنّى لا أَملِكُ لَكُم ضَرًّ‌ا وَلا رَ‌شَدًا ٢١ ﴾... سورة الجن
" ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان یا بھلائی کاکچھ اختیار نہیں رکھتا۔"
توحید و شرک سے متعلق چند شرعی اصطلاحات
مناسب ہوگا کہ شرک کی مختلف اقسام بیان کرنے سے پیشتر ان چند الفاظ کا لغوی مفہوم بیان کردیا جائے جو شرک کے بیان میں تکرار سے آتے ہیں اور شرعی اصطلاح کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں اور وہ ہیں: عبد اور عبادت ...دین... ربّ... الٰہ... اللہ... جبت... طاغوت... حنیف
1۔ عبد:بمعنی بندہ، غلام ، محکوم(عباد اور عبید) اور عبادت کا لفظ عموماً تین معنوں میں قرآن میں آیا ہے
(1) بمعنی بندگی، غلامی اور محکومی ... جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
﴿فَقالوا أَنُؤمِنُ لِبَشَرَ‌ينِ مِثلِنا وَقَومُهُما لَنا عـٰبِدونَ ٤٧ ﴾... سورة المومنون
"فرعون کے درباری کہنے لگے: بھلا ہم ایسے دو آدمیوں (موسیٰ و ہارون ) پرایمان لا ئیں جن کی قوم ہماری غلام ہے۔"
اب یہ تو ظاہر ہے کہ آج تک شیطان کی کسی نے پوجاپاٹ نہیں کی، نہ ہی اسے کسی نے کبھی آقا سمجھا، لہٰذا یہاں مفہوم، شیطانی وساوس کی پیروی ہی ہوسکتی ہے۔
اور عَبَّد بمعنی کسی دوسرے کو محکوم اور غلام بنانا۔ موسیٰ  نے فرعون کو مخاطب کرکے فرمایا:
﴿وَتِلكَ نِعمَةٌ تَمُنُّها عَلَىَّ أَن عَبَّدتَ بَنى إِسر‌ٰ‌ءيلَ ٢٢ ﴾... سورة الشعراء
"اور (کیا) یہی احسان ہے جو تو مجھ پر رکھتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔"
(2) بمعنی سر عجزو نیاز خم کرنا...معروف معنوں میں پوجا پاٹ اور پرستش کے وہ طریقے جومشہور ہیں۔ (عبادت، جمع عبادات) خواہ یہ اللہ کی ہو یا کسی دوسرے کی ۔جیسا کہ قرآن میں ہے:
﴿قالوا نَعبُدُ أَصنامًا فَنَظَلُّ لَها عـٰكِفينَ ٧١ ﴾... سورة الشعراء
"ابراہیم کی قوم کہنے لگی کہ ہم تو بتوں کو پوجتے ہیں اور ان (کی پوجا) پر قائم ہیں۔"
(3) بمعنی محض اطاعت اور فرمانبرداری جیسے ابراہیم  نے اپنے باپ سے فرمایا:
﴿يـٰأَبَتِ لا تَعبُدِ الشَّيطـٰنَ...٤٤﴾... سورة مريم
"اے میرے والد! شیطان کی اطاعت نہ کیجئے۔"
2۔ دین: دین کالفظ چارمعنوں میں مستعمل ہوتا ہے اور یہ لغت ِاضداد سے بھی ہے۔
دین کا معنی (1) مکمل حاکمیت بھی ہے اور (2) مکمل عبودیت بھی ۔ ارشادِ باری ہے
﴿أَلا لِلَّهِ الدّينُ الخالِصُ...٣ ﴾... سورة الزمر
"غور سے سن لو کہ خالص عبادت صرف اللہ ہی کو زیبا ہے۔"
اس آیت میں دین کا لفظ دونوں معنوں میں آیا ہے جو آپس میں متضاد ہیں۔ اس آیت کا اگر یوں ترجمہ کیا جائے کہ مکمل حاکمیت اللہ ہی کے لئے ہے،تو بھی مفہوم وہی نکلتا ہے یعنی اس کے بندے اس کی مکمل حاکمیت سمجھیں اور اس کی مکمل اطاعت و عبادت کریں۔
(3) قانونِ جزا وسزا جیسے سورئہ یوسف میں فرمایا:
﴿ما كانَ لِيَأخُذَ أَخاهُ فى دينِ المَلِكِ...٧٦ ﴾... سورة يوسف
"شاہی قانون کے لحاظ سے یہ ناممکن تھا کہ یوسف  اپنے بھائی کو اپنے ہاں روک لیتے"
(4) مکافاتِ عمل... یعنی قانونِ جزاوسزا کے مطابق اس کا عملی نفاذ۔جیسے فرمایا:
﴿مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ ٤ ﴾... سورة الفاتحة
"(وہ اللہ) جزا و سزا کے دن(قیامت کے دن) کا مالک ہے۔"
درج ذیل آیت میں دین کا لفظ یہ دونوں مفہوم ادا کررہا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿فَلَولا إِن كُنتُم غَيرَ‌ مَدينينَ ٨٦ تَر‌جِعونَها إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ٨٧ ﴾... سورة الواقعة
"پھر اگر تم سچے ہو اور تم پر ہمارا قانونِ جزاوسزا لاگو نہیں ہوسکتا تو تم اس (مرنے والے کی روح کو) واپس پھیر کیوں نہیں لیتے۔"
گویا دین کا لفظ ایک مکمل نظام کی نمائندگی کرتا ہے اور مذکورہ بالا چار وں معانی اس کے اجزائے ترکیبی ہیں یعنی (1) مکمل حاکمیت یا اقتدارِاعلیٰ (2) حاکمیت کے مقابلہ میں مکمل تسلیم و اطاعت (3) وہ نظامِ فکروعمل جو اس حاکمیت کے زیر اثر بنے اور (4) وہ جزاو سزا جو حاکم اعلیٰ کی طرف سے اطاعت کے صلہ یا سرکشی کی پاداش میں دی جائے، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
3۔ ربّ: کا لفظ چار معنوں میں آیا ہے:
(1) ربّ (مصدر) بمعنی کسی کو پرورش کرکے حد ِکمال تک پہنچانا اور اس کی جملہ ضرورتوں کا خیال رکھنا (مفردات)۔ مگریہ لفظ عموماً بطورِاسم فاعل ہی استعمال ہوتاہے جیسا کہ فرمایا:
﴿الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ٢ ﴾... سورة الفاتحة
"سب تعریف اللہ ہی کو سزا وار ہے جو تمام جہانوں کا پرورش کنندہ ہے"
اس لحاظ سے الربّ صر ف اللہ تعالی ہی ہوسکتا ہے اور اس لفظ کا مصدر ربوبیة آتا ہے۔ اور اس کی جمع نہیں آتی۔
(2) یعنی آقا و مالک جو کسی کی تربیت کاذمہ دار ہو۔ان معنوں میں ا س کا مصدر ربوبیة کے بجائے ربابیة آتا ہے۔جمع أرباب( المفردات) قرآن میں ہے:
﴿يـٰصـٰحِبَىِ السِّجنِ أَمّا أَحَدُكُما فَيَسقى رَ‌بَّهُ خَمرً‌ا...٤١ ﴾... سورة يوسف
"(یوسف نے کہا) اے میرے جیل کے رفیقو! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔"
(3) بمعنی صرف مالک جسے اپنی مملوکہ چیز میں تصرف کا پورا پورا اختیار ہو۔ جیسے ربّ الناقة بمعنی اونٹنی کا مالک۔ ربّ ا لکعبة بمعنی بیت اللہ کا مالک ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ درج ذیل آیت میں مستعمل ہوا ہے: ﴿فَليَعبُدوا رَ‌بَّ هـٰذَا البَيتِ ٣ ﴾... سورة قريش
"تو لوگوں کو چاہئے کہ وہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر (کعبہ) کے مالک کی عبادت کریں"
(4) چوتھا معنی'قانون دہندہ' اس کی پوری تصریح ایک حدیث میں مذکور ہے۔ عدی بن حاتم جو پہلے عیسائی تھے، ۹ ہجری میں اسلام لائے۔ان کے اسلام لانے کے بعد جب سورئہ توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی
﴿اتَّخَذوا أَحبارَ‌هُم وَرُ‌هبـٰنَهُم أَر‌بابًا مِن دونِ اللَّهِ وَالمَسيحَ ابنَ مَر‌يَمَ وَما أُمِر‌وا إِلّا لِيَعبُدوا إِلـٰهًا و‌ٰحِدًا...٣١ ﴾... سورة التوبة
"ان (عیسائیوں) نے اپنے علما اور مشائخ کو اللہ کے علاوہ اپنا ربّ بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ انہیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔"
تو عدی بن حاتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاکہ وہ لوگ (عیسائی) اپنے علماء و مشائخ کی عبادت تو نہیں کرتے، آپ نے فرمایا:
«بلیٰ إنهم حرموا عليهم الحلال وأحلوا لهم الحرام فاتبعوهم فذلك عبادتهم إياهم» ( ترمذی، ابواب التفسیر)
"کیوں نہیں، وہ علماء و مشائخ ان کے لئے حلال کو حرام قرار دیتے اور حرام کو حلال۔پھر وہ ان کی پیروی کرتے بس یہی چیزان کی عبادت ہے۔"
اور یہ واضح ہے کہ حرام کو حلال کرنے اور حلال کو حرام کرنے کا مسئلہ خالصتاً تشریعی امور سے تعلق رکھتا ہے۔ تشریعاسلامی قانون کو کہا جاتاہے۔
4۔ الٰہ: اِلٰہ کا لفظ ہرمعبود پر بولاجاتاہے۔ خواہ وہ معبود برحق ہو یا باطل ۔چنانچہ اللہ کے لئے بھی یہ لفظ قرآن میں بکثرت استعمال ہوا ہے اور دوسرے ہر طرح کے معبودانِ باطل کے لئے بھی۔ اور اہل عرب سورج کو اِلٰهَة کہہ کرپکارتے تھے کیونکہ انہوں نے سورج کو معبود بنارکھا تھا۔(مفردات از امام راغب)۔ سورج عربی زبان میں بطورِ موٴنث استعمال ہوتا ہے اوراِلٰہ کی مونث اِلاَھَة آتی ہے۔
اب اس لفظ اِله کی لغوی لحاظ سے خصوصیات درج ذیل ہیں:
(1) اَلِهَ اَلَهًا سرگشتہ شد (حیران ہوا)
(2) اَلِهَ اِلَيْهِ ترسید و پناہ گرفت (اس سے ڈرا اور اس کی طرف پناہ پکڑی)
(3) اَلَهَه امان و زنہار داد (ا س نے اسے امان اور حفاظت دی)
(4) اَلِهَ اِلاَهَةً پرستید(اس کی پرستش کی) (منتہی الادب)
(5) بعض کے نزدیک لفظ اِلٰه دراصل وِلاَہٌ تھا، ہمزہ کو واؤ سے بدل کر اِلٰهٌ بنا لیا اور وَلِهَ بمعنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بے خود ہونا( اردوزبان میں لفظ والہانہ محبت مشہور ہے)۔ اور چونکہ مخلوق کو اپنے إلہ سے بہت محبت ہوتی ہے۔ اس لئے اسے اِلٰه کہا گیا (مفردات)
(6) بعض کے نزدیک لفظ اِلٰه لَاهَ يَلُوْهٌ لِيَاهًا سے ہے بمعنی پردہ میں چھپ جانا (مفردات)
ان سب معانی کوسامنے رکھا جائے تو ایک معبود (الٰہ)میں درج ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے :
(1) اتنی طاقت رکھتا ہو کہ شر سے پناہ دے سکے، گویا وہ کوئی بالادست ہستی ہی ہوسکتی ہے۔
(2) اس کی اس مشکل کشائی اور پناہ دہندگی ظاہری اسباب و علل پر منحصر نہ ہو بلکہ مستور و محجوب ہو۔ گویا یہ پناہ دہندگی یا حجت براری حیران کن طریقہ سے ہو۔
(3) پھر ایسی ہستی سے اس کے طالب کا اشتیاق و محبت تو ویسے ہی ایک ناگزیر امر بن جاتاہے۔
(4) تخلیق کرنے کی صلاحیت
﴿إِنَّ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لَن يَخلُقوا ذُبابًا وَلَوِ اجتَمَعوا لَهُ...٧٣﴾... سورة الحج
"جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔"
(5) جو خود مخلوق ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا
﴿أَيُشرِ‌كونَ ما لا يَخلُقُ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ ١٩١﴾... سورة الاعراف
"کیاوہ ایسی چیزوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ خود پیدا کئے ہوئے ہیں۔"
(6) جو کھانا کھاتا ہو، وہ الٰہ نہیں ہوسکتا
﴿مَا المَسيحُ ابنُ مَر‌يَمَ إِلّا رَ‌سولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّ‌سُلُ وَأُمُّهُ صِدّيقَةٌ ۖ كانا يَأكُلانِ الطَّعامَ...٧٥ ﴾... سورة المائدة
" مسیح بن مریم کچھ نہیں سوائے اللہ کے پیغمبر کے، ان سے پہلے بھی رسول گزرے۔ ان کی ماں صدیقہ تھیں۔ وہ دونوں تو کھانا کھاتے تھے۔"
گویا اللہ تعالیٰ ربّ بھی ہے اوراِلٰہ بھی۔ ربّ: اس لحاظ سے وہ کائنات کی جملہ اشیا کا پروردگار بھی ہے اور مالک بھی اور ان اشیا میں ہر طرح کے تصرف کا پورا اختیار رکھتاہے اور اِلٰہ: اس لحاظ سے کہ حقیقتاً وہ ہی حاجت روائی اور مشکل کشائی کی طاقت رکھتا ہے کیونکہ اُمورِ کائنات میں تصرف کا اختیار صرف اسی کو حاصل ہے۔ پھر اَحکم الحاکمین بھی وہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قانون سازی کے جملہ اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں اور حاکمیت ِاعلیٰ بھی اسی کو سزاوار ہے۔
5۔ اللہ: بعض اہل لغت کا خیال ہے کہ لفظ اللّٰه، اِلٰهٌ سے ہی بنا ہے۔ وہ یوں کہ پہلا ہمزئہ وصلحذف کرکے اس پر 'اَل' تعریف کا داخل کرکے لفظ 'اللہ' بنا ہے۔'اِلٰہ' اسم نکرہ ہے جس کے معنی ہیں کوئی سا معبود۔ اور 'اللہ' اسم معرفہ ہے جس کے معنی ہوئے خاص معبود یاحقیقی معبود۔ اس خیال کے مطابق اکثر اہل لغت اسے 'ال ہ' کے تحت لائے ہیں۔
اس کے برعکس بعض علما اس خیال کے سخت مخالف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اِلٰہ پر 'اَل' داخل کرنے سے سینکڑوں ہزاروں 'الہوں' میں سے کون سے الہ پرزور دینامقصود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'اللہ' ایک ایسا کلمہ ہے جو شروع ہی سے عربی زبان میں موجود تھا۔ نہ یہ کسی لفظ سے مشتق ہے ، نہ اس سے کوئی دوسرا لفظ مشتق ہے۔ گویا 'اللہ' اسم مُرْتَجَل ہے، عَلَم ہے اور جامد للفرد۔ عربوں کا اللہ کے متعلق تصور یہ تھا کہ وہ ہی معبود برحق ہے۔ وہی کائنات کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ وہی دعا اور پرستش کا اصل مستحق اور نفع و ضرر کا مالک ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ان کے ان معتقدات کا ذکر کئی مقامات پر دہرایا گیا ہے۔
6۔ جبت: جِبْت کے معنی صاحب' منتہی الادب' نے یوں لکھے ہیں: "بت و کاہن و فال گری و جادو وجادوگر، وآنکہ وراں خیر نبا شد ازہر چیز غیر باری تعالیٰ کہ آں را پرستش نمایند" یعنی بت اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا پرستش کی جائے۔نیز کہانت، جادو، فال گیری اور ہر وہ چیز جس میں خیر نہ ہو۔ یہ لفظ دراصل اوہام و خرافات کے لئے ایک جامع لفظ ہے جس میں جادو، ٹونے، ٹوٹکے، جنتر منتر، سیاروں کی تاثیرات، سعد و نحس کے تصورات و توہمات اور گنڈے، تعویذ اور نقش وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔
7۔ طاغوت:بمعنی "لات و عزیٰ و جادو و جادوگر، کاہن و دیو و ہرباطل و بت و ہرچہ بدی راسر شایک و ہرچہ جز خدا است کہ اورا پر ستند و سرکش" (منتہی الادب) گویا طاغوت ہروہ باطل یا سرکش طاقت ہے جس نے خدا کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کی ہو اور بندگی کی حد سے تجاوز کرکے خداوندی کا علم بلند کیا ہو، خواہ یہ کوئی ایک شخص ہو یا گروہ یا ادارہ یا حکومت ہو۔ ارشادِ باری ہے
﴿أَلَم تَرَ‌ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتـٰبِ يُؤمِنونَ بِالجِبتِ وَالطّـٰغوتِ...٥١ ﴾... سورة النساء "کیا تم نے ان لوگوں پر غور کیا جنہیں کتاب اللہ کا ایک حصہ ملا ہے لیکن وہ جبت اور طاغوت کو مان رہے ہیں۔"
اس آیت میں'کتاب اللہ' کے ایک حصہ سے مراد وہ حصہ ہے جو تمدنی، اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی احکام پرمشتمل ہے۔
8۔حنیف:حنف (ضد جنف، طرفداری کرنا) بمعنی دوسرے راستے چھوڑ کر یکسو ہوکر دین کی راہ اختیار کرنا (جمع، حنفاء) اور اس سے مراد وہ شخص ہے جونہ تو اللہ کے سوا کسی کو اِلٰہ مانتا ہو نہ ربّ، نہ جِبت کو تسلیم کرتا اور ایمان رکھتا ہو اور نہ طاغوت کے آگے جھکے۔ ارشادِ باری ہے:
﴿وَما أُمِر‌وا إِلّا لِيَعبُدُوا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ حُنَفاءَ...٥ ﴾... سورة البينة
"اور انہیں تو صرف یہ حکم دیا گیا تھاکہ یکسو ہوکر دین کو اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اس کی بندگی کریں۔"
شرک کی تعریف اور اقسام
شرک کی مختصر الفاظ میں جو تعریف کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ "اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں کسی کو حصہ دار بنایا جائے۔" لیکن یہ تعریف اتنی مختصر ہے کہ اس کو پھر کئی عنوانوں میں تقسیم کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً ًذات میں شرک، عبادات میں شرک، تعریف میں شرک، علم میں شرک، عادات میں شرک ۔ لیکن اس کے بعد بھی شرک کے کئی ایسے گوشے باقی رہ جاتے ہیں جو ان عنوانات کے تحت نہیں آتے، حالانکہ وہ کتاب وسنت سے ثابت ہیں۔
شرک کی ایک تعریف جو قرآن کے مفہوم کو بہت حد تک ادا کر دیتی ہے ، یہ ہے کہ
"انسان اپنے کسی بھی طرح کے فائدے کے حصول یا تکلیف کے دفیعہ کیلئے اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو... خواہ وہ چیز جاندار ہو یا بے جان ، حاضر ہو یا غائب، مردہ ہو یا زندہ...پکارے ، اس کی طرف رجوع کرے اور اس سے توقعات وابستہ رکھے، جب کہ اس کے ظاہری اسباب معدوم ہوں"
(1) کواکب پرستی اور مظاہر پرستی

تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی مشہور اقسام میں سے مظاہر پرستی اور کواکب پرستی کاآغاز سب سے پہلے ہوا اور اس کی ابتدا عراق سے ہوئی۔ عراق میں اکثر مطلع صاف رہتا تھا۔ اکثر لوگ رات کو سیاروں کی چال اور حرکات کا مطالعہ کرتے اور اس میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے ہزارہا سال پیشتر یہ دریافت کرلیا تھا کہ سورج اور چاند کی طرح اور بھی بہت سے سیارے مشرق سے مغرب کی طرف مصروفِ سفر رہتے ہیں۔ پانچ مشہور سیارے یعنی عطارد،زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل جنہیں 'خمسہ متحیرہ' بھی کہتے ہیں،ان کے علم میں آچکے تھے۔ وہ ان سیاروں کی چال سے رات کے اوقات کا صحیح صحیح تعین بھی کرلیتے تھے اور سمت کا تعین کرنے کے بھی قابل ہوچکے تھے۔ اس کے ساتھ وہ ان اجرام کے بعض دیگر اثرات سے بھی واقف تھے مثلاً سورج کی وجہ سے دن رات پیداہوتے اور چاروں موسم وجود میں آتے ہیں جن سے طرح طرح کی فصلیں اور پھل پکتے ہیں۔ زندگی کے لئے روشنی اور حرارت نہایت ضروری ہے جو سورج سے حاصل ہوتی ہے۔ رات کو ہم چاند اور ستاروں سے روشنی حاصل کرتے ، رات کا تعین کرتے اور رات کو دورانِ سفر سمت معلوم کرتے ہیں۔
نیز جن دنوں میں چاند زائد النور ہوتا ہے، پھلوں میں رس تیزی سے بڑھتا ہے اور جب ناقص النور ہوتا ہے تو یہ رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ یہ اثرات تو بالکل واضح تھے۔لیکن انسان نے بعض توہمات کی بنا پر ان سیاروں کے انسان کی انفرادی زندگی پر بھی طرح طرح کے اثرات تسلیم کرنا شروع کردیئے۔ وہ اپنی زندگی اور موت، مرض اور صحت، رزق کی وسعت اور تنگی اور ایسے ہی کئی دوسرے اُمور کو بھی سیاروں کی چال سے منسوب کرنے لگا۔ جس کا لازمی تصور یہ نکلا کہ انسان نے ان سیاروں کی تعظیم شروع کردی اور ان کے لئے از راہِ عجز و نیاز اپنا سرتسلیم خم کردیا۔
حضرت ادریس  اور کواکب پرستی : ان توہمات اور گمراہیوں کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی بذریعہ وحی رہنمائی فرمائی اور اسی دور میں حضرت ادریس  (اصل نام اخنوخ ۳۵۰۰ ق م) کو مبعوث فرمایا ۔ چونکہ یہ ابتداے آفرینش کا دور تھا، لوگوں کے علم نے ابھی کچھ ترقی نہ کی تھی، لہٰذا ادریس  کو بذریعہ وحی چند علوم سکھلائے گئے۔ چنانچہ کپڑا بننے اور کتابت کے موجد اور اُستادِ اول آپ ہی ہیں۔ آپ علم ہندسہ اور علم حساب کے بھی ماہر تھے۔ من جملہ دیگر علوم کے آپ کوعلم نجوم کی پوری ماہیت، سیاروں کی گردش اور کشش وغیرہ کا علم بھی عطا کیا گیاتھا۔ ان علوم کے ساتھ ساتھ آپ فصاحت، علم لغت اور فن تقریر میں اتنے ماہر تھے کہ انہیں 'ہر مس* الہرامسہ' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے سیاروں کی اس قسم کی تاثیر سے متعلق لوگوں کے عقائد ِباطلہ کی پرزور تردید کی اور انہیں سمجھایا کہ یہ اجرام تو محض بنی نوع انسان کی خدمت پر مامور ہیں، انسان ان کا خادم نہیں ہے۔ اصل مقصودِ کائنات انسان ہے، نہ کہ اجرامِ فلکی۔ یہ اجرامِ فلکی تو انسانی زندگی سے بہت پہلے اپنے فرائض کی بجاآوری پر اس طرح مجبور اور بے بس تھے جس طرح آج ہیں۔ بھلا ان سیاروں کی حرکات کا انسان کے بگاڑ اور سنوار سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ گویا انسان کو اس کی عظمت ذہن نشین کراکے ایسے حقیر توہمات سے نجات دلائی۔
حضرت ابراہیم  کا زمانہ : جب حضرت ادریس  کی رحلت کو کچھ عرصہ گزر گیاتو سیاروں کی گردش کے انسانی زندگی پر اثرات کے توہمات پھر انسانی ذہن میں راہ پانے لگے۔اب کی بار انسان پرشیطان کا یہ حملہ پہلے سے شدید تر اور سہ گونہ تھا۔ ایک تویہ کہ ان توہمات نے عراق کے علاوہ مصر، یونان اور ہندوستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور دوسرے یہ کہ ان توہمات کو باقاعدہ ایک نظام کی شکل دے دی گئی۔ ہرسیارے کے لئے ایک الگ دیوتا God یعنی چھوٹا خدا تجویز ہوا جو بڑے خدا کا مددگار سمجھا جاتا تھا۔ پھر ان کی شکلیں تجویز کی گئیں اور ان کے مجسمے تیار کئے گئے جو گاڑے بھی جاسکتے تھے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی کئے جاسکتے تھے۔ خواہ یہ پتھر کے ہوں یا کسی دوسری دھات یا لکڑی کے اور تیسرے یہ کہ اب ان دیوتاؤں کے آگے صرف سرتسلیم ہی خم نہیں کیاجاتا تھا بلکہ ان کے حضور چڑھاوے بھی چڑھائے جانے لگے اور قربانیاں بھی پیش کی جانے لگیں۔ جن کا خون ان دیوتاؤں کے مجسّموں یا بتوں پر مل دیا جاتا تھا اور سمجھا جاتا تھاکہ اس طرح ان کے یہ دیوتا خوش ہوں گے اور ہمیں کسی طرح کی تکلیف نہ پہنچائیں گے۔ ان بتوں کی اس ایذا رسانی کے عقیدے کو قرآن کریم نے درج ذیل آیت میں بیان فرمایا ہے:
﴿إِن نَقولُ إِلَّا اعتَر‌ىٰكَ بَعضُ ءالِهَتِنا بِسوءٍ...٥٤ ﴾... سورة هود
"(قوم ہود نے کہا: اے ہود!) ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا (کر دیوانہ کر) دیا ہے۔"
حضرت ابراہیم  کی بعثت :اس نجوم پرستی کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسی قدرجلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم (۲۰۰۰ق م) کو اسی علاقہ بابل میں مبعوث فرمایا۔ اس وقت عراق کا پایہٴ تخت بابل اور نمرود حکمران تھا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ حضرت ابراہیم  اس سلطنت کے سب سے بڑے شاہی پروہت، نجوم پرست اور بت تراش 'آزر' کے ہاں پیدا ہوئے۔ آزر کا اصلی نام تارخ تھا لیکن بت گری اور بت فروشی کی وجہ سے آزر مشہور ہوگیا تھا۔* ا ن دنوں مندوروں میں سیاروں کے دیوتاؤں کے موہوم شکلوں کے مجسّمے رکھے جاتے۔نیز ان کے علاوہ دیگر مظاہر قدرت مثلا آگ، پانی، بادل وغیرہ کے دیوتاؤں کے مجسّمے بھی موجود تھے۔ اور ان کے لئے ایسی تمام رسوم بجا لائی جاتی تھیں جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سزاوار ہیں۔
حضرت ابراہیم  بچپن ہی سے قوم کی اس نجوم پرستی اوربت پرستی سے بیزار تھے۔ سیاروں کے ایسے اثرات تسلیم کرنے کے لئے آپ کی طبیعت قطعاً آمادہ نہ ہوتی تھی۔ آپ نے پہلے کسی ایک سیارے کا بغور مطالعہ اور مشاہدہ کیا۔پھر چاند اور اس کے بعد سورج کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ اس مطالعہ نے آپ کو سیاروں کے اثرات سے بغاوت پر آمادہ کردیا۔ آپ نے دیکھا کہ یہ اجرام خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، اپنے فرض کی ادائیگی میں مجبورو بے بس ہیں۔ ان کا اپنا ذرّہ بھر بھی اختیار نہیں ہے۔ آپ سوچتیتھے کہ بھلا ایسی مجبور و بے بس اشیا خدائی اختیارات کی حامل کیسے ہوسکتی ہیں اور میرا کیا بگاڑ یاسنوار سکتی ہیں۔ آپ کی طبیعت اس جستجو میں رہتی کہ ایسی ذات کا پتہ لگائیں جو ان اجرامِ فلکی کی اور خود ہماری بھی نگران اور مربی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور بذریعہ وحی اس اضطراب کو دور کرکے یقینی علم عطا فرمایا۔بقول ارشادِ باری تعالیٰ
﴿وَكَذ‌ٰلِكَ نُر‌ى إِبر‌ٰ‌هيمَ مَلَكوتَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضِ وَلِيَكونَ مِنَ الموقِنينَ ٧٥ ﴾... سورة الانعام
"اسی طرح ہم نے ابراہیم  کو کائنات کے عجائبات دکھلا دیئے تاکہ اسے یقینی علم حاصل ہو۔"
کواکب پرستی کے خلاف جہاد: چنانچہ آپ نے علیٰ الاعلان نجوم پرستی اور ان عقائد ِباطلہ کی تردید اور مخالفت شروع کردی۔جس کے ردّعمل کے طور پر باپ نے آپ کو گھر سے نکال دیا اور قوم نے ملک بدر کردیا۔ مگر آپ جہاں کہیں بھی گئے، اپنا مشن اور توحید کا درس جاری رکھا۔ ہجرت کے علاوہ بھی آپ کو اس مشن کے نتیجہ کے طور پر ایک دفعہ بہت بھاری قیمت یعنی جان کی قربانی بھی ادا کرنا پڑی۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ آپ کی قوم میں "انفرادی زندگی پر سیاروں کے اثرات کا عقیدہ" راسخ ہوچکا تھا اور وہ ہر کام میں سیاروں کی چال ملاحظہ کرکے ان سے اچھے اور بُرے نتائج اخذ کرتے اور ان پر عمل کرتے تھے۔ ایک دفعہ قوم نے نوروز کے دن (جو اُن کے ہاں بڑا متبرک دن تھا جبکہ سورج برج حمل میں داخل ہوتا ہے) ان بتوں کے حضور نذرونیاز پیش کرنے کے بعد ایک میلہ پرتفریحی تقریبات منانے کا پروگرام بنایا۔یہ لوگ حضرت ابراہیم  کو پیچھے نہ چھوڑنا چاہتے تھے،کیونکہ ان کی طرف سے انہیں کچھ 'خطرہ' بھی تھا۔ جب ان لوگوں نے آپ کو ساتھ چلنے پر مجبور کیا تو آپ کو ایک عجیب ترکیب سوجھ گئی جو ان لوگوں کے عقیدے کے عین مطابق تھی۔ آپ نے فوراً سیاروں کی توجہ کی اور کہا کہ "میں تو عنقریب بیمار ہونے والا ہوں" تمہارے رنگ میں بھنگ پڑ جائے گا، لہٰذا مجھے جانے پر مجبور نہ کرو۔ آپ کی یہ ترکیب کا رگر ثابت ہوئی اور وہ لوگ آپ کو پیچھے چھوڑ کر میلہ پر چلے گئے۔
بعد میں وہی ہوا جس کا انہیں خطرہ تھا۔ حضرت ابراہیم  نے تبر(کلہاڑا) لے کر ان کے سب دیوتاؤں کو پاش پاش کردیا۔ البتہ سب سے بڑے 'خدا' کو چھوڑ دیا اور تبر اس کے کندھے پر رکھ کر چلے گئے۔ تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ گویا اس بڑے خدا نے دوسرے سب چھوٹے خداؤں کا کام تمام کیا ہے۔ اور یہ تمام خدا حضرت ابراہیم  کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔
حضرت ابراہیم  کا یہ کارنامہ پوری قوم اور ان سب خداؤں کے لئے کھلا ہوا چیلنج تھا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ کارنامہ حضرت ابراہیم  ہی کا ہوسکتا ہے۔ انہیں برسرعام بلوایا گیا تو آپ نے برملاکہہ دیا کہ یہ سب ماجرا اس بڑے خدا سے پوچھ لو۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کہ اب کیا کہیں؟ آخر بولے: "ابراہیم  یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ یہ خدا بولتے نہیں۔" یہ جواب گویا قوم کی ذہنی شکست تھی۔ تاہم انہوں نے اپنے دیوتاؤں کی وکالت کی خاطر ابراہیم  کو اس جرم کی پاداش میں آگ میں زندہ جلا دینے کا فیصلہ کیا۔ اور ایک بڑا الاؤ تیار کرکے اس میں حضرت ابراہیم  کوپھینک دیا گیا۔ لیکن اس اللہ نے، جس پر آپ ایمان رکھتے تھے ، آپ کو زندہ و سلامت آگ سے نکال لیا۔ آپ کے آگ سے زندہ سلامت بچ نکلنے کا واقعہ قوم کے لئے دوسرا بڑا چیلنج تھا۔ لیکن ان کی بے بسی نے ان کو دوبارہ نگونسار کردیا۔ حضرت ابراہیم  نے اپنے قول و عمل سے بت پرستی اور نجوم پرستی کے خلاف جو تحریک چلا ئی تھی، وہ کامیاب رہی۔ بہت سے لوگ حقیقت کو پاگئے اور ایسے عقائد ایک طویل مدت کے لئے سرد پڑگئے۔
حضرت سلیمان  :(۹۵۰ق م) آپ فلسطین وشام کے فرمانروا بھی تھے اور نبی بھی۔ آپ کی حکومت عقبہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان ایام میں یمن کے علاقہ سبا میں ایک عورت (جس کا نام بلقیس بیان کیاجاتا ہے) حکمرانی کرتی تھی۔ یہ ملکہ اور اس کی رعایا تمام کے تمام سورج پرست تھے۔ اس قوم کے مورِثِ اعلیٰ کا نام عبد ِشمس (بندئہ آفتاب یا سورج کا پرستار) تھا اور لقب سبا تھا۔ بنی اسرائیل کی روایات میں یہ بیان کیاگیا ہے کہ جب ہدہد سلیمان  کا خط لے کر پہنچا توملکہ سبا سورج دیوتا کی پرستش کے لئے جارہی تھی۔ سلیمان  نے اس مشرک قوم کے خلاف جہاد کا ارادہ کیا، لیکن یہ ملکہ کی دانشمندی تھی کہ وہ خود ہی مطیع و منقاد(فرمانبردار) ہوکر سلیمان  کے پاس حاضر ہوگئی ۔اس کے بعدوہ خود اور اس کی قوم سب اس مشرکانہ فعل سے تائب ہوکر اسلام میں داخل ہوگئے۔
مجوس: دورِ نبوی میں بھی ایک اور مستقل فرقہ یا مذہب کا وجود بھی ملتا ہے جو خود تو اپنے آپ کو 'زرتشت' کہتے ہیں، لیکن قرآن نے انہیں 'مجوس' کے لفظ سے پکارا ہے۔یہ فرقہ ایران و عراق کے علاقہ سے تعلق رکھتا تھا اوریہ لوگ اپنے آپ کو حضرت نوح  کا مرید بتلاتے ہیں اور نوح کے علاوہ دیگر انبیا کے دشمن ہیں۔ اس فرقہ کے رہنما مانی اور متروک تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ خدا ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ ایک نور یا روشنی کا خدا جسے وہ 'یزدان' کہتے تھے اور نیکی اور بھلائی کے تمام امور و افعال اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ دوسرا تاریکی یا ظلمت کا خدا جسے وہ 'اہرمن' کہتے تھے، اور برائی کے تمام امور و افعال اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ ان کی الہامی کتابوں کا نام 'زند'اور 'اوستا' ہے۔ یہ لوگ سورج اور آگ کی پرستش کرتے تھے۔ آگ کے بڑے بڑے الاؤ تیار کرتے اور اسے بجھنے نہیں دیتے تھے۔
ان زرتشتیوں کے ایک ضمنی فرقے کا عقیدہ یہ تھا کہ یزدان اور اہرمن دونوں خدا ہم مرتبہ ہیں لیکن یہ دونوں ایک الٰہ اعلیٰ کے ماتحت ہیں جس نے سب سے پہلے انہیں پیدا کیا۔
دورِ فاروقی میں جب یہ علاقہ اسلام کے زیر نگین آگیا تو اس مذہب کا زور ختم ہوگیا لیکن کچھ نہ کچھ اثرات باقی چھوڑ گیا۔ خلیفہ مامون الرشید عباسی کے دور میں شیعہ مذہب کے چند غالی فرقے ایسے عقائد کا شکار ہوگئے تھے۔ ہندوستان کی تاریخ میں مغل بادشاہ' اکبر' جس نے دین الٰہی رائج کیا،پکا سورج پرست تھا جو دن میں چار دفعہ سورج کی پرستش کرتا تھا۔ اکبر ہندو عقائد کواکب پرستی سے سخت متاثر تھا، کیونکہ اس نے کئی ہندو عورتوں سے شادی کی تھی۔
نجوم پرستی کا نیا دور : لیکن مرورِ زمانہ کے ساتھ ایسے عقائد نے پھر سے راہ پائی بلکہ شیطان نے اس مشرکانہ نظام کومنظم کرنے کے نئے گوشے بھی تلاش کر لئے۔ نجوم پرستی یا علم جوتش کا علم نجوم، علم ہیئت سے گہرا تعلق ہے۔ ۵۹۰ ق م میں یونان کے ایک حکیم فیثا غورث نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج متحرک نہیں بلکہ ساکن ہے۔ اور زمین ساکن نہیں بلکہ کئی سیاروں سمیت سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ لیکن اس کے دو صدی بعدیعنی چوتھی صدی ق م میں بطلیموس فلاسفر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین ساکن اور سورج متحرک ہے۔ اس نظام میں زمین کو صرف ساکن ہی نہیں بلکہ جملہ سیارگان کا مرکز ِعام قرار دیا گیا ہے۔ اس نظام میں ۱۳ کرے مقرر کئے گئے ہیں۔ پہلا کرہ آب جو زمین کے ۴/۳ حصہ کو محیط ہے۔ دوسرا کرئہ ہوا ، تیسرا فضا کا اور چوتھا حرارت کا کرہ ہے۔ ا س کے بعد ۹ فلک آتے ہیں۔ پہلے فلک پرچاند، دوسرے پر عطارد، تیسرے پر زہرہ، چوتھے پر سورج، پانچویں پر مریخ، چھٹے پر مشتری اور ساتویں پر زحل ہے۔ آٹھویں فلک کو فلک ِثوابت اور فلک البروج بھی کہتے ہیں۔اسی فلک کو ۱۲ حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصہ کو ایک برج قرار دیا گیا ہے اور فلک نہم کو فلک ِاطلس کہتے ہیں۔ اس نظام کی رو سے آٹھوں افلاک اور ساتوں سیارے، اگرچہ اپنی الگ الگ حرکت بھی رکھتے ہیں تاہم فلک ِنہم کی حرکت ِوضعی سے وابستہ ہیں اور ساتوں سیاروں کی حرکت سالانہ ہر ایک فلک ِخاص کی حرکت سے تعلق رکھتی ہے۔
بطلیموس کا یہ نظریہ جو اس نے اپنے استادوں اور پیشرؤوں ارسطو اور برخس کی مدد سے مرتب کیا تھا، چار دانگ عالم میں بہت مقبول ہوا۔ مصر، یونان، ہند وغیرہ سب ممالک میں اس نظریہ کو قبولِ عام حاصل ہوا۔ یورپ میں ۱۵۰۰ء تک اسی نظریہ کی تعلیم دی جاتی رہی ہے اور ہندوستان میں آج تک جنتریاں وغیرہ اس نظام کے مطابق مرتب ہوتی ہیں۔
سیارے اور ہفتہ کے دن: یہ نظریہ پہلے سے بھی بڑھ کر مشرکانہ عقائد اپنے ساتھ لایا۔ افلاک اور سیاروں کے ایسے مخصوص اثرات تسلیم کرلئے گئے جو انسانی زندگی پر ہر وقت پڑتے ہیں۔ ہفتہ کے سات دنوں کے نام اظہارِ عقیدت کے طور پر انہیں سات سیاروں یا ان کے دیوتاؤں کے نام پر رکھے گئے۔ اہل یونان و روم ان معتقدات میں پیش پیش تھے۔ان کے ہاں دنوں کے ناموں کی سیاروں سے مناسبتکچھ اس طرح ہے۔ انگریزی زبان میں:
(1) سورج کو اور اسی طرح اس کے دیوتا کو' سن' (Sun) اور اتوار کو (Sunday) کہا جاتاہے۔ یعنی سورج دیوتا کا دن۔
(2) چاند کو اوراسی طرح اس کے دیوتا کو 'مون' (Moon) اور سوموار کو (Monday) کہاجاتا ہے یعنی چاند دیوتا کا دن۔
(3) مریخ کو (Mars)لیکن اس کے دیوتا کو 'ٹو' (Tiw) لہٰذا منگل کو (Tuesday) کہا جاتا ہے یعنی مریخ دیوتا کا دن۔
(4) عطارد کو اور اس کے دیوتا کو بھی 'ویڈن' (Weden) اور بدھ کو (Wednesday) کہا جاتا ہے یعنی عطارد دیوتا کا دن۔
(5) اسی Weden دیوتا کا ایک بیٹا تھار(Thor) تسلیم کیا گیا جو گرج یا رعد کا دیوتا بنا۔ اسے مشتری کا دیوتا بھی قرار دیا گیا۔ اسی نسبت سے جمعرات کو (Thursday) کہتے ہیں۔
(6) اور اسی Weden دیوتا کی بیوی کا نام فرگ (Frigg)یا فرگا (Frigga) تجویز ہوا، اسے جونو (Jono)کہتے ہیں۔ یہ زہرہ سیارہ کی دیوی تھی اور اسی نسبت سے جمعہ کے دن کو (Friday) کہتے ہیں۔ زہرہ کا مالک دیوتا کی بجائے دیوی تجویز کرنے کی شاید یہ وجہ ہوکہ اس کو ایک خوبصورت سیارہ تصور کیا جاتا ہے۔
سیاروں کے ہمہ گیر اثرات
ہند کے لوگ ان معتقدات میں اہل مغرب سے بھی کچھ آگے بڑھ گئے تھے۔ انہوں نے دنوں کے نام سیاروں کی نسبت سے تجویز کرنے کے علاوہ ان میں سعد و نحس کی تمیز بھی قائم کردی۔ مثلاً زحل کو ہندی میں سینچر کہتے ہیں، اسی نسبت سے ہفتہ کا نام سنیچروار تجویز ہوا۔ اس سیارہ کو منحوس خیا ل کیا جاتا ہے۔ پھر ہر انسان کے نام کی کسی مخصوص سیارہ سے نسبت قائم کی گئی۔ گویا اس انسان پر اس منسوب سیارہ کے اثرات دوسرے سیاروں کی نسبت زیادہ تسلیم کئے گئے۔ اس طرح زہرہ کو ہندی میں شکر کہتے ہیں، لہٰذا جمعہ کا نام شکر وار تجویز ہوا۔مشتری کو برہسپت کہتے ہیں۔ جمعرات کا دن اس سیارہ کا تسلیم کیا گیا اور اسے برہسپت وار یا ویر وار کہتے تھے۔ یہ سیارہ سعد ِاکبر تسلیم کیا جاتاہے۔ گویا جس شخص کی اس سیارہ سے نسبت ہو، وہ بہت نیک بخت ہوگا۔ عطارد کو ہندی میں بدھ اور اس سے منسوب دن کو بدھوار کہتے ہیں اور اس سیارہ سے تعلق رکھنے والا انسان علم و دانش سے بہرہ ور ہوگا۔ مریخ کوہندی میں منگل کہتے ہیں۔اور منگل کا دن اسی سے منسوب ہے۔ مریخ کو منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ سوموار کا دن چاند سے منسوب ہے اور اس سے نسبت رکھنے والے شخص میں نرمی اور جمال پایا جاتا ہے۔ اتوار سورج کا دن ہے اور اس سیارہ سے تعلق رکھنے والا شخص عموماً بہادر اور پرشکو ہ ہوتا ہے۔
مزید ستم یہ ہوا کہ انفرادی اثرات کے علاوہ ان سیاروں کے زمین اور اہل زمین پر مجموعی اثرات بھی معتقدات میں شامل ہوگئے۔ مثلاً دولت، زراعت، معدنیات اور کپڑے کا مالک سورج کو تسلیم کیا گیا، حالانکہ ان کی الگ الگ دیویاں بھی موجود ہیں۔ مشتری کو یعنی برہسپت کو سیلاب اور بادلوں کا مالک۔ مریخ یعنی منگل کو پھلوں کے رسوں کا مالک، زحل یا سینچر کو غذا کا مالک اور عطارد کوتمام پھلدار درختوں اور پودوں کا مالک سمجھا جانے لگا۔ ان معتقدات کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم ہیئت یا علم نجوم سے زیادہ ایک دوسرا علم یعنی علم جوتش یا 'علم اثراتِ نجوم' فروغ پاگیا۔ بادشاہ اور حکمران لوگ کسی بھی مہم یا سفر پر روانہ ہونے سے پیشتر نجومیوں سے زائچے تیار کروا کے یہ معلوم کرتے تھے کہ ان کا یہ سفر یا مہم کن حالات پر منتج ہوگی۔
لوگوں کی دلچسپی بڑھتی گئی تو اس کے نتیجہ میں پیشہ ور نجومیوں کی ایک فوج ظفر موج معرضِ وجود میں آگئی جو لوگوں کے زائچے تیار کرکے انہیں غیب کی خبریں مہیا کرنے لگی۔ آج کل بھی ہماری اردو زبان میں ایسے بے شمار محاورات زبان زد ہیں جو ان معتقدات کی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں۔مثلاً "ستارئہ قسمت کا گردش میں ہونا" یا 'فلک کے رفتار کی چیرہ دستی' وغیرہ۔ حتیٰ کہ ہمارے شعر و ادب میں بھی یہ تصورات نفوذ کرگئے۔ بقولِ غالب

رات دن گردش میں ہیں سات آسمان
ہو کر رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

اسلام اور کواکب پرستی
جب اسلام آیا تو اہل عرب دوسرے دیوتاؤں اور دیویوں کے علاوہ سیاروں سے منسوب دیوتاؤں اور دیویوں کی پرستش بھی کرتے تھے۔ سورج کو عربی میں شمس کہتے ہیں اور یہ لفظ بطورِ موٴنث استعمال ہوتا ہے چنانچہ اہل عرب سورج کے دیوتا کو دیوی 'الاہہ' (جوکہ الٰہ کی موٴنث ہے)کہتے تھے۔ اسی طرح ستارہ 'شعریٰ' کا ذکر بھی قرآنِ کریم میں موجود ہے جس کی پرستش کی جاتی تھی۔ اسلام نے سیاروں سے منسوب جملہ معتقدات پرکاری ضرب لگائی۔ چند معروف پہلو درج ذیل ہیں:
(1) سیاروں کی خدائی
اسلام نے انسان کو تمام کائنات سے اشرف تسلیم کرتے ہوئے بلند ترین مقام بخشا ہے۔ ان سیاروں کی خدائی یا دیوتائی تو درکنار وہ تو ان اجرامِ فلکی کو انسان کا خادم قرار دیتا ہے۔ ارشادِ باری ہے :
﴿وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الشَّمسَ وَالقَمَرَ‌ دائِبَينِ ۖ وَسَخَّرَ‌ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ‌ ٣٣ ﴾... سورة ابراهيم
" اور اللہ تعالیٰ نے چاند اور سورج کو تمہاری خدمت پر مامور کردیا ہے جو ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اسی طرح دن اور رات کو تمہاری خدمت کے لئے لگا دیا گیا ہے۔"
ایک دوسرے مقام پر فرمایا کہ صرف ان اجرامِ فلکی ہی کی کیا بات ہے ، ہم نے تو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، تمہاری ہی خدمت پر مامور کیا ہے:
﴿أَلَم تَرَ‌وا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ‌ لَكُم ما فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ...٢٠ ﴾... سورة لقمان "کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو اللہ نے تمہارے کام میں لگا دیا ہے۔"
(2) سیاروں کی تاثیر تسلیم کرنا واضح شرک ہے
دورِ نبوی کا واقعہ ہے کہ ایک رات بارش ہوئی جو عرب جیسے بے آب و گیاہ ملک میں ایک عظیم نعمت متصور ہوتی تو صبح آپ نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (حدیث ِقدسی):
«وأصبح من عبادي موٴمن بي وکافر بالکواکب، فأما من قال: مُطِرنا بفضل الله ورحمته فذلك موٴمن بي وکافر بالکواکب وأما من قال مُطِرْنا بنوء کذا وکذا فذلك کافر بي وموٴمن بالکواکب» ( متفق علیہ)
"میرے بندوں میں کچھ لوگ مجھ پر ایمان لائے اور سیاروں (کی تاثیرات ) سے منکر یا کافر ہوئے یعنی جس شخص نے یہ کہا کہ ہم پر یہ بارش اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لایا اور سیاروں کا منکر ہوا اور جس نے یہ کہا کہ ہم پریہ بارش فلاں سیارے کے فلاں برج میں داخل ہونے سے ہوئی تو وہ میرا منکر ہوا اور سیاروں پر ایمان لایا۔"
گویا سیاروں کے اثرات کو تسلیم کرنا اور خدا پر ایمان لانا دو مخالف اور متضاد چیزیں ہیں جن میں سے صرف ایک ہی چیز قبول کی جاسکتی ہے۔ جو مسلمان ہے وہ سیاروں کے اثرات کو تسلیم نہیں کرسکتا اور جو سیاروں کے اثرات کو تسلیم کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ آج ہمارے اسلامی معاشر ہ میں یہ مشرکانہ رسم عام ہوچکی ہے اور اب تو اچھے خاصے دین دار افراد بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ
"میرا سٹار چونکہ فلاں ہے ، اس لئے مجھ میں فلاں خاصیت پائی جاتی ہے۔"
یہ بھی انسانی زندگی میں ستاروں کے اثرات تسلیم کرنے کا واضح مظہر ہے، جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
(3) علم نجوم اور علم غیب
علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے، اللہ کے سوا دوسروں کے لئے علم غیب کی تردید قرآن کریم میں بہت سی آیات سے ثابت ہے وہ ﴿لاَ يَعْلَمُ الْغَيْبَ إلاَّ هُوَ﴾کہہ کر غیب کی خبریں بتلانے والے سب علوم (جیسے رَمل ، جفر، جوتش، کہانت) کو وہمی اور باطل قرار دیتاہے اور قرآن نے عقلی دلیل یہ پیشکی ہے کہ جو شخص غیب جانتا ہو، اسے تلاشِ معاش کے لئے دَر دَر کی ٹھوکریں کھانے کی اور محنت ومشقت کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ اعلان کردیجئے
﴿وَلَو كُنتُ أَعلَمُ الغَيبَ لَاستَكثَر‌تُ مِنَ الخَيرِ‌ وَما مَسَّنِىَ السّوءُ...١٨٨ ﴾... سورة الاعراف
"(اے پیغمبر!) آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں بہت سا مال و دولت اکٹھا کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی گزند نہ پہنچتا۔"
اس آیت میں علم غیب کے دو فائدے بتلائے گئے ہیں: (1) حصولِ رزق کے لئے محنت و مشقت کی ضرورت نہیں رہتی اور (2) یہ کہ ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، کیونکہ وہ اس کا تدارک پہلے ہی سوچ لیتا ہے۔ گویا قرآن نے غیب دانی کے لئے ایک معیار بتلادیا ہے۔
کہانت، رمل، جفر اورغیب دانی کے مدعی دوسرے علوم : اسی معیار کے لحاظ سے غیب دانی کا دعویٰ کرنے والے دوسرے علوم مثلاً جفر، رمل، کہانت اور فال گیری وغیرہ سب باطل ٹھہرتے ہیں کیونکہ یہ علوم جاننے والے عموماً فٹ پاتھ پر بیٹھ کر زائچے بناکر پیسے کماتے،انگوٹھیاں اور تعویذ بیچتے ہی نظر آتے ہیں۔ اگر ان علوم میں کچھ صداقت ہوتی تو یہ لوگ ایسے مفلوک الحال نظر نہ آتے۔
اور شرعی لحاظ سے یہ علوم اس لئے باطل ہیں کہ ان کا تعلق یا غیب دانی سے ہوتا ہے یا بعض اشیا کی تاثیرات سے اور یہ دونوں باتیں شرعی نقطہ نظر سے غلط ہیں۔ قرآن ایسے ہی علوم کو جِبتسے تعبیر کرتا اور ان پریقین رکھنے کو کفر و شرک بتلاتا ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ ان علوم کے اثرات بعض دفعہ واضح طور پر ظہور پذیر ہوجاتے ہیں جیسے کاہن کی خبریں کبھی سچی بھی نکل آتی ہیں ورنہ یہ پیشے دنیا سے معدوم ہوجاتے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض دفعہ سچی ہوتیں ہیں توبسا اوقات غلط بھی ثابت ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا ان علوم کا اعتبار کیا رہا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ کسی چیزکا ثابت ہونا اور چیز ہے اور اس کا شرعی نقطہ نظر سے جائز ہونا اور چیز۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ جادو یا دیگر شیطانی تصرفات سے کسی کو بھی انکار نہیں، لیکن ان کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں۔
(4) ہفتہ کے دنوں کے نام
ہندی یا بکرمی تقویم اور یورپی یا عیسوی تقویم دونوں میں ہفتہ کے دنوں کے نام دیوتاؤں اور سیاروں کی فرمانروائی کی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں جبکہ اسلامی یاہجری تقویم میں ہفتہ کے ناموں میں شرک، نجوم پرستی یا بت پرستی کا شائبہ نہیں پایا جاتا۔ اس تقویم میں ہفتہ کے دنوں کے نام یہ ہیں:
يوم الجمعة      يوم السّبت           يوم الأحد           يوم الإثنين                  يوم الثّلثاء                      يوم الأربعاء         يوم الخميس
جمعہ              ہفتہ                      پہلا دن                    دوسرا دن                   تیسرا دن                            چوتھا دن            پانچواں دن
اگرچہ موجودہ سائنسی دورنے بھی ستاروں کی تاثیرات اور اس جیسے دوسرے توہمات کو باطل قرار دیا ہے، تاہم ابھی تک ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے مضامین سے پر جنتریاں ابھی تک چھپتی ہیں اور جوتشی، نجومی وغیرہ بھی اپنی دکانیں سجائے اکثرنظر آجاتے ہیں۔
(2) اولیا پرستی اور قبر پرستی
اِن تاریخی ذرائع سے جو انسان کے علم میں آئے ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے ساتویں پشت پر حضرت ادریس  کا زمانہ ہے اور ان انبیا کے درمیان تقریباً ساڑھے تین ہزار سال کا فاصلہ ہے اور حضرت نوح  حضرت آدم سے دسویں پشت پر ہیں اور حضرت ادریس  اور حضرت نوح کے درمیان وقفہ تقریباً دو ہزار سال ہے۔ حضرت نوح  کی اپنی عمر (ہزار سال) قرآنِ کریم سے ثابت ہے۔
کواکب پرستی اور مظاہر پرستی کا آغاز تو حضرت ادریس  کی بعثت سے پہلے ہوتا ہے جبکہ اولیا پرستی کے آغاز کا سراغ حضرت نوح  کی بعثت سے بہت پہلے ہوا تھا۔ چنانچہ جب نوح نے اپنی قوم کوبت پرستی سے روکا تو انہوں نے کہا کہ
﴿وَقالوا لا تَذَرُ‌نَّ ءالِهَتَكُم وَلا تَذَرُ‌نَّ وَدًّا وَلا سُواعًا وَلا يَغوثَ وَيَعوقَ وَنَسرً‌ا ٢٣ ﴾... سورة نوح
"اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ودّ، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا"
اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری ابن عباس سے روایت کرتے ہیں (علاوہ ازیں یہ روایت مسلم، نسائی اور احمد میں بھی مذکور ہے) کہ
«إن هؤلاء صالحين في قوم نوح فلمّا ماتوا عکفوا علیٰ قبورهم ثم صوروا تماثيلهم فعبدوهم ثم صارت هذه الأوثان في قبائل العرب» (بخاری، کتاب التفسیر)
"یہ سب (پانچوں بزرگ) قومِ نوح کے نیک لوگ تھے۔ جب وہ مرگئے تو لوگ ان کی قبروں پرمراقبے کرنے لگے۔ پھر ان کے مجسّمے بنائے اور عبادت کرنے لگے۔ پھر یہی بت عرب کے قبائل میں پھیل گئے۔"
اور کتب ِتفاسیر میں ان کی مزید تشریح یوں ملتی ہے کہ یہ لوگ حضرت نوح کے آباؤ اجداد میں سے تھے اوراتنے نیک تھے کہ انہیں دیکھ کر خدا یاد آتا تھا اور ذوق عبادت بڑھتا تھا۔ جب وہ یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے تولوگوں کو اس کا بہت افسوس ہوا۔ وہ اکثر ان کی قبروں پر جاتے اور وہاں بیٹھ کر ان کی یاد تازہ کرتے تھے۔ بعد میں ان کی قبروں پر اعتکاف بیٹھنے کی رسم جاری ہوگئی۔ آخر میں شیطان نے ان کویہ پٹی پڑھائی کہ ان کی قبروں پر جانے کی زحمت بھی کیوں گوارا کرتے ہو، ان کی مورتیاں بنالو جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان مورتیوں کو دیکھ کر تم میں وہی ذوقِ عبادت پیدا ہوگا، جو تمہیں ان کو زندگی کی حالت میں دیکھنے سے پیدا ہوتا تھا۔ چنانچہ قوم اس چال پر لگ گئی۔ انہوں نے ان بزرگوں کی مورتیاں بنا کر اپنی مساجد میں رکھ لیں اور انہیں دیکھ کر محو ِعبادت رہتے، پھربعد کے آنے والے لوگوں نے ان مورتیوں ہی کو پوجنا شروع کردیا۔
ان تصریحات سے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
(1) یہ 'اولیاء اللہ' نوح  کی بعثت سے صدیوں پہلے فوت ہوچکے تھے اور جب نوح  مبعوث ہوئے تو اس وقت یہ قوم ان کے بتوں کی عبادت کرتی اور اپنے ان معتقدات پر راسخ ہوچکی تھی۔
(2) شیطان نے جب کبھی شرک یا کسی دوسری برائی کی راہ انسان کو سجھائی ہے تو اس کا کوئی پہلو خوبصورت بناکر اسے اپنے دامِ تزویر میں پھنسایا ہے۔
(3) مظاہر پرستی کی دو شکلیں ہیں: ایک، براہِ راست اس چیز کے سامنے سرعجزونیاز خم کیا جائے جیسے سورج، آگ، کسی خاص درخت یاحیوان (مثلاً گائے) کے سامنے، دوسرے، اس کا بت بنا کر اس کے سامنے تعظیم و آداب بجا لائے جائیں جیسے سورج دیوتا، لکشمی دیوی وغیرہ۔ اسی طرح اولیا پرستی کی دو قسمیں ہیں: ایک قبر پرستی ، دوسرے بت پرستی۔ گویا بت پرستی ان دونوں میں قدرِ مشترک ہے
مظاہر (کواکب) پرستی اور اولیا پرستی میں مشترک اقدار
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی ان مختلف اقسام میں چندباتیں ایسی ہیں جو ہر قسم کے مشرکوں کے عقائد میں داخل ہیں اور وہ یہ ہیں:
1۔ روح کا تعلق
ایک مظاہر پرست جب کسی بت کی پوجا کرتا ہے تو اس اعتقاد کے ساتھ کرتا ہے کہ یہ بت تو صرف پتھر یا دھات کا بت ہے۔ اس کی بذاتِ خود کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ جس چیز یا دیوتا کا یہ بت ہے، اس کی روح کا تعلق اس بت سے بدستور قائم ہوتا ہے۔ اور جب بھی کوئی نیا بت اس دیوتا کی مخصوص شکل کے مطابق بنایا جاتا ہے تو اس نئے بت سے بھی اس دیوتا کی روح کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا جب ہم اس بت کوپکارتے ہیں تو اس دیوتا کی روح قریب سے ہماری آواز سنتی ہے، پھر اس کا مداوا کرتی ہے۔ بعینہ اس طرح کا عقیدہ ایک قبر پرست کا ہوتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ فوت شدہ بزرگ کی روح کا تعلق اس کی قبر سے بدستور قائم رہتا ہے۔ اور جب ہم ان کی قبر پر حاضری دیتے ہیں تو ان کی روح ہم سے خوش ہوتی ہے اور جب انہیں پکارتے ہیں تو وہ اس کا مداوا کرتے ہیں۔
قرآن ان دونوں قسم کے نظریات کو باطل قرا ردیتا ہے۔ مظاہر کا اس لئے کہ وہ بے جان اور انسان کے خادم ہیں۔ ان میں زندگی یا روح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سورج اگر ہمیں حرارت بخشتا ہے اور اس سے فصل پکتے یا بعض دوسرے فوائد حاصل ہوتے ہیں تو اس میں اس کا اپنا کچھ کمال نہیں کیونکہ یہ تاثیریں اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہیں۔ جیسے زہر انسان کو ہلاک کرتا ہے یا شہد شفا بخشتا ہے تو اس میں زہر یاشہد کا اپناکچھ کمال نہیں۔
اور اولیاء اللہ کی رو حیں تو ہوتی ہیں مگر وہ مرنے کے بعد اعلیٰ علیّیین میں پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ ان کا اپنی قبر سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ لہٰذا قبر پرست جو انہیں پکارتے ہیں، وہ تو ان کی پکار کوسن بھی نہیں سکتے۔ چہ جائیکہ ان کا جواب دیں یا تکلیف کامداوا کریں۔ چنانچہ ارشاد ِباری ہے:
﴿وَمَن أَضَلُّ مِمَّن يَدعوا مِن دونِ اللَّهِ مَن لا يَستَجيبُ لَهُ إِلىٰ يَومِ القِيـٰمَةِ وَهُم عَن دُعائِهِم غـٰفِلونَ ٥وَإِذا حُشِرَ‌ النّاسُ كانوا لَهُم أَعداءً وَكانوا بِعِبادَتِهِم كـٰفِر‌ينَ ٦ ﴾... سورة الاحقاف
"اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جوایسے کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے اور انہیں ان کے پکارنے کی خبر بھی نہ ہو۔ اور جب لوگ (قیامت کو) اکٹھے کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کردیں گے۔"(الاحقاف:۵، ۶)
اس آیت سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
(1) یہاں من دون اللہ سے مراد صرف 'فوت شدہ بزرگ' ہی لئے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ مظاہر قدرت سورج، چاند، آگ، درختوں وغیرہ کا حشر و نشر سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی ان کی دشمنی کا کچھ نقصان پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی دوستی کا کچھ فائدہ۔
(2) یہ 'فوت شدہ بزرگ' پکارنے والے کی پکار کو قیامت تک نہیں سن سکتے تو پھر بھلا اسکا مداوا کیا کریں گے؟
(3) ان 'فوت شدہ بزرگوں' کو پکارنے والا گمراہ ترین انسان ہوتا ہے۔
(4) قرآن کریم نے اس پکار یا دعا کو عبادت کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان کو پکارنا 'شرک' ہے۔
2۔ نظامِ کائنات
ان دیوتاؤں، جھوٹے خداؤں یا اولیاؤں کے جو از میں مشرکین کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ کو اپنی مملکت کا نظام چلانے کے لئے امیروں وزیروں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر نظامِ حکومت چل ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی اس نظام کائنات کو چلانے کے لئے اپنے ماتحت مختلف ہستیوں کو مقرر کررکھا ہے اور انہیں کچھ نہ کچھ اختیارات تفویض کررکھے ہیں۔ جو مختلف امورِ کائنات کی نگرانی کا کام سرانجام دیتے ہیں۔
خدا تعالیٰ نے مشرکین کی اس دلیل کو بھی باطل قرار دیا ہے۔ کیونکہ ایک بادشاہ آخر ایک کمزور سا انسان ہوتا ہے اور اکیلے نظامِ مملکت چلانا اس کے لئے ناگزیر ہے۔ وہ نہ تو ہر کسی کی بات سن سکتا ہے، نہ اس کا مداوا کرسکتا ہے ، نہ ہی اپنی مملکت کے ہر کونے میں بذاتِ خود پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ایسے تمام نقائص سے پاک ہے۔ وہ خالق ہے مخلوق نہیں۔ وہ مقتدرِ اعلیٰ ہے کمزور نہیں۔ لہٰذا اس نظامِ مملکت کے چلانے کے لئے کسی مددگار کی بھی ضرورت نہیں، وہ ہر جگہ حاضر بھی ہے اور ناظر بھی ۔ ہر ایک کی ہر جگہ سے پکار سن بھی سکتا ہے اور ا س کا مداوا کرنے کا بھی اسے مکمل اختیار ہے۔لہٰذا اسے ماتحت افسران کی کوئی ضرورت نہیں۔ارشادِ باری ہے:
﴿وَقُلِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى لَم يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَهُ شَر‌يكٌ فِى المُلكِ وَلَم يَكُن لَهُ وَلِىٌّ مِنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّر‌هُ تَكبيرً‌ا ١١١ ﴾... سورة الاسراء
"اور کہو کہ سب تعریف اللہ ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹابنایا ہے، نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے، اور نہ ہی وہ عاجز و ناتواں ہے کہ اس کا کوئی مددگار ہے، اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔"
3۔ توسل
نظامِ کائنات سے متعلق یہ تصور قائم کرنے کے بعد شیطان نے ان مشرکوں کو یہ راہ سجھائی کہ جس طرح ایک بادشاہ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے اپنے قریبی افسروں سے تعلق پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ان چھوٹے خداؤں (نبیوں یا اولیاؤں سے رابطہ قائم رکھناضروری ہے تاکہ ہماری ضروریات باضابطہ طور پر (Through Proper Channel) شرفِ پذیرائی حاصل کرسکیں اور ہم اللہ کے قریب ہوسکیں۔مشرکین کے اس عقیدہ کواللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
﴿وَالَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ما نَعبُدُهُم إِلّا لِيُقَرِّ‌بونا إِلَى اللَّهِ زُلفىٰ...٣ ﴾... سورة الزمر
" اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا دوست بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں)، ہم تو ان کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے قریب کردیں۔"
ایسے ہی درمیانی رابطہ کو جو کسی کے لئے ذریعہ قرب بن سکے، عربی زبان میں 'وسیلہ' کہتے ہیں۔ اور توسل بھی قرب کا ذریعہ تلاش کرنا ہے۔ مشرکین مکہ بھی وسیلہ سے یہی چھوٹے خداؤں کا درمیانی رابطہ مراد لیتے تھے ۔ دورانِ حج وہ تلبیہ اس طرح پڑھا کرتے تھے :
«لَبَّيْکَ، اَللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ، لَبَّيْکَ لاَشَرِيْکَ لَکَ لَبَّيْکَ۔ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْك لاَشَرِيْکَ لَکَ» (بخاری: ۱۵۴۹)
یعنی وہ حقیقی معبود اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے تھے۔ صرف اس قسم کے 'توسل' کی بنا پر انہیں مشرک قرار دیا گیا۔مشرکین کی اس دلیل کا ردّ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کا مثبت جواب یہ دیا کہ تمہاری دعا و فریاد سننے کے لئے بھی کسی درمیانی واسطہ کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میں تو تمہاری رگ ِجان سے بھی تم سے نزدیک تر ہوں۔ ارشاد باری ہے:
﴿وَإِذا سَأَلَكَ عِبادى عَنّى فَإِنّى قَر‌يبٌ ۖ أُجيبُ دَعوَةَ الدّاعِ إِذا دَعانِ...١٨٦ ﴾... سورة البقرة
"اور (اے پیغمبر) جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو ان سے کہہ دو کہ میں قریب ہی ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔"
اللہ تعالیٰ سے کی ہوئی دعا بعض دفعہ قبول ہوجاتی ہے اور بعض دفعہ نہیں بھی ہوتی۔ دعا کے قبول نہ ہونے کے بھی کئی اسباب ہیں، جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ دعا قبول ہو یا نہ ہو، ہمیں یہ حکم دیا گیاہے کہ اگر ایک جوتی کا تسمہ بھی مانگیں تو اسی اللہ سے مانگیں۔ اس قسم کا توسل بہرحال اللہ تعالیٰ کو سخت ناگوار ہے۔ اور وسیلہ کی جائز اور صحیح تر صورت یہ ہے کہ اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنایا جائے۔ یعنی اگر ہم نیک عمل کریں گے تو خود بخود اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا جائے گا۔ جیسا کہ ارشادِ باری ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابتَغوا إِلَيهِ الوَسيلَةَ وَجـٰهِدوا فى سَبيلِهِ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ٣٥ ﴾... سورة المائدة "اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ نجات پاؤ۔"
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جوں جوں انسان تقویٰ اختیار کرتا جاتا ہے، اللہ کا قرب حاصل کرتا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور نجات پانے کا بہترین ذریعہ تو 'جہاد' ( دین کو غالب کرنے کی محنت) ہے۔
4۔ سفارش
تمام مشرکین میں چوتھی قدرِ مشترک سفارش یا شفاعت ہے جو ان کے نظامِ کائنات والے مزعومہ عقیدہ کی ایک کڑی ہے۔ شفاعت کا اطلاق عام طور پر دفع مضرت کے لئے درمیانی رابطہ تلاش کرنے پر ہوتا ہے۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جس طرح ایک مجرم انسان کو تھانے یا عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اپنے بچاؤ کے لئے کسی سفارش کی ضرورت ہوتی ہے،اسی طرح ہم جیسے گنہگاروں کو اس حقیقی معبود کی عدالت میں حاضر ہونے سے پیشتر ان چھوٹے خداؤں (یعنی دیوتاؤں یا اولیاؤں) کی سفارش بھی ضروری ہے۔ اسی ضرورت کے تحت ان معبودوں کے آگے سرعجز ونیاز خم کرتے ہیں، چڑھاوے چڑھاتے اور قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ اور ہروہ کام کرتے ہیں جو معبودِ حقیقی کے لئے سزاوار ہیں تاکہ یہ معبود ہم سے خوش رہیں اور ہماری سفارش کردیں۔مشرکین کے اس عقیدہ کو اللہ نے ان الفاظ میں ادا فرمایا ہے
﴿وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّ‌هُم وَلا يَنفَعُهُم وَيَقولونَ هـٰؤُلاءِ شُفَعـٰؤُنا عِندَ اللَّهِ ۚ قُل أَتُنَبِّـٔونَ اللَّهَ بِما لا يَعلَمُ فِى السَّمـٰو‌ٰتِ وَلا فِى الأَر‌ضِ...١٨ ﴾... سورة يونس
" اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں، جو نہ تو ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور نہ سنوار سکتی ہیں۔ پھر کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہکے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ ان سے کہہ دو: کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبردیتے ہو،اس کے علم میں آسمانوں اور زمین میں جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔"
آیت ِبالا سے معلوم ہوا کہ مشرکین کا یہ عقیدئہ شفاعت سرتاپا باطل ہی باطل ہے جس میں ذرّہ بھر بھی حقیقت نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوسرے مقام پر فرماتا ہے :
﴿مَن ذَا الَّذى يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ...٢٥٥ ﴾... سورة البقرة
"کسی کی مجال ہے کہ وہ اللہ کے ہاں کسی کی سفارش کرسکے، اِلا یہ کہ اللہ کو خود منظور ہو۔"
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایسے عقیدئہ شفاعت پر تکیہ کرنا باطل اور عبث ہے۔ کیونکہ جس 'بزرگ' سے ایسی توقع وابستہ کی جارہی ہے، اسے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا اپنا انجام کیا ہوگا؟پھر وہ دوسروں کو کیا ضمانت دے سکتا ہے یا دوسرے اس سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ البتہ اس آیت میں إلا بإذنہ کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس ' کلیةً' میں کچھ گنجائش موجود ہے۔ یعنی کسی خاص بزرگ کی کسی خاص گنہگار کے حق میں سفارش قبول بھی ہوسکتی ہے اور اس کی شرائط درج ذیل ہیں:
(1) سفارش کنندہ کو روزِقیامت اپنی نجات اور خدا کی خوشنودی کا یقین ہوچکا ہو۔
(2) جس کی سفارش کی جارہی ہے، وہ نہ تو مشرک ہو اور نہ ہی عادی مجرم۔
(3) ایسی سفارش بھی کسی زور یا دباؤ کے تحت قبول نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا زور نہیں۔ وہ سب سے زیادہ زورآور اور غالب ہے۔ یہ سفارش بھی سفارش کی التجا اور اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کے نتیجہ کے طور پر مقبول ہوسکتی ہے اور یہی إلا باذنہ کا مطلب ہے۔ اور اسی طرح کی سفارش انبیاء اور صالحین کریں گے جو مقبول ہوگی۔
دورِ نبوی کا ایک واقعہ ہے ، قحط سالی کا دور تھا۔ ایک گنوار رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور بارش کے لئے دعا کرنے کی التجا کی اور کہا کہ «إنا نستشفع بك علی الله ونستشفع بالله عليك»
یعنی "ہم آپ کی اللہ کے ہاں سفارش چاہتے ہیں اور اللہ کی سفارش آپ کے ہاں"۔
گنوار کی اس بات پر آپ لرزہ براندام ہوگئے اور سبحان اللہ، سبحان اللہ کہنے لگے۔ مشیت ِالٰہی کے آثار آپ کے چہرہ سے واضح طور معلوم ہونے لگے۔ پھر آپ نے اس گنوار کو کہا کہ تم کیسے بیوقوف ہو اور اللہ کو کسی کے ہاں سفارشی نہیں بناتے، تم اس کی عظمت کو کیا جانو۔ اس کی شان بہت بڑی ہے۔ اس کا عرش اس کے آسمانوں پر ہے۔ اور اپنے ہاتھ کوقبے کی شکل بناکر سمجھایا اور کہا کہ اس کا عرش اللہ کی عظمت کی وجہ سے یوں چرچربولتا ہے جیسے اونٹ کا پالان سوارکے بوجھ سے"(سنن ابو داود: حدیث ۴۱۰۱)
اس حدیث کی روشنی میں آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ روزِ قیامت سفارش کون کرسکے گا اور کس صورت میں کرسکے گا؟
(3) ملائکہ پرستی

فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک غیر مرئی اور نوری جاندار مخلوق ہے جن پر ایمان لانا 'ایمان بالغیب' کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ ایمان لانا صرف ہم مسلمانوں پر ہی فرض نہیں بلکہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھاکیونکہ اس کا ذکر تمام سابقہ الہامی کتابوں میں ملتا ہے۔
فرشتے بھی جسم رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض دو پروں والے، بعض چار پروں والے، بعض چھ پروں والے اور بعض کے پر اس سے بھی زیادہ ہیں۔ وہ آسمانوں کی طرف چڑھتے بھی ہیں اور آسمانوں سے زمین کی طرف اُترتے بھی ہیں۔ ان میں عقل و شعور تو ہے مگر اِرادہ و اختیار نہیں۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل پر ایسے ہی مجبور وبے بس ہیں جیسے سورج اور چاند وغیرہ۔ گویا ان کی اطاعت تسخیری ہے اختیاری نہیں۔ وہ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں،نہ ہی ا ن میں نسل کشی یا توالدو تناسل کا سلسلہ قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں ہر ایک کو الگ الگ ہی پیدا کیا ہے۔ ان کی تعداد بے حد و حساب ہے۔ یہ فرشتے اپنا الگ الگ تشخص اور نام بھی رکھتے ہیں۔
ان فرشتوں کا کام تدبیر اُمورِ کائنات ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نہ سرمو تجاوز کرسکتے ہیں نہ تقصیر، یہی ان کی عبادت ہے۔ بلکہ کام کی نوعیت کے لحاظ سے بعض فرشتے دوسروں سے افضل ہیں۔ حضرت جبرئیل  کے ذمہ ایک اضافی ڈیوٹی یہ بھی تھی کہ وہ انبیاء و رسل تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے تھے۔عزرائیل جاندار مخلوق کی اَرواح قبض کرنے پر مامور ہیں۔ میکائیل  بادلوں پر مامور ہیں۔جس وقت اور جس مقام پر اور جتنی اللہ تعالیٰ چاہے، وہاں اتنی ہی بارش ہوتی ہے۔ حضرت اسرافیل کی ایک اضافی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ پہلی دفعہ صور میں پھونکیں گے تو روئے زمین پر کوئی جاندار مخلوق باقی نہ رہے گی اور دوسری دفعہ اس وقت پھونکیں گے جب میدانِ محشر قائم ہوگا۔ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے بدستور لگے رہتے ہیں جو ان کے نیک اور برے اعمال کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ دوزخ پر بھی تندخو قسم کے فرشتے مقرر ہیں۔ قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اُٹھائے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے ان کی بھی کئی قسم کی ذمہ داریوں کا پتہ چلتا ہے۔ فرشتے یہ کام کیسے سرانجام دیتے ہیں؟ یہ ہمیں معلوم نہیں، نہ ہم یہ جاننے کے مکلف ہیں۔
ایسامعلوم ہوتا ہے کہ ہندی، مصری اور یونانی تہذیب میں دیوتاؤں اور دیویوں کا عقیدہ اسی عقیدئہ ملائکہ سے ماخوذ ہے جو کئی لحاظ سے غلط ہے، مثلاً:
(1) دیوی دیوتاؤں میں نرو مادہ کا سلسلہ موجود ہے، لیکن فرشتوں میں نرومادہ کی سرے سے کوئی تمیز ہی نہیں․
(2) دیوی دیوتاؤں میں توالد و تناسل کا سلسلہ بھی موجود ہے جیسا کہ ویدن (Weden) کی ایک بیوی تسلیم کی جاتی ہے جس کا نام فرگ (Frigg) یا فرگا (Frigga) ہے۔ اور ان کے بیٹے کا نام تھار (Thor) لیکن فرشتوں میں توالد و تناسل کا کوئی سلسلہ نہیں۔
(3) دیوی دیوتاؤں کو صاحب ِاختیار و ارادہ مخلوق تسلیم کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے الجھتے، لڑپڑتے ایک دوسرے پر غالب ہوتے ہیں لیکن فرشتے ان باتوں سے پاک ہیں۔
(4) دیوی دیوتا اپنے پجاریوں کی عبادت سے خوش ہوتے اور ان کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کی طاقت رکھتے ہیں کیونکہ صاحب ِاختیار و ارادہ ہیں۔ لیکن فرشتے تو صاحب ِاختیار و اِرادہ ہیں ہی نہیں، لہٰذا اُن سے ایسی توقعات عبث ہیں۔
غالباً انہی وجوہ کی بنا پر مسلمانوں کے ایک عقل پرست فرقہ نے ملائکہ سے کائنات کی تسخیری قوتیں مراد لی ہیں لیکن یہ تعبیر بھی غلط ہے کیونکہ صریح نصوص کے خلاف ہے۔
کہاجاسکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسی مقتدرِ اعلیٰ ہستی ہے جیسا کہ اس کی صفات بیان کی جاتی ہیں تو اسے تدبیر اُمور کائنات میں فرشتوں سے بھی مدد لینے کی کیا ضرورت تھی؟ نیز یہ کہ اگر نظامِ کائنات ایسے ہی چل رہا ہے تو پھر ملائکہ کے بجائے دیوتاؤں کا نام لے لینے سے کیا فرق پڑ جاتاہے؟ تو ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ لفظ 'شریک' کا اطلاق صرف اس وقت ہوتا ہے جب وہ' مشرک' صاحب ِارادہ بھی ہو۔ میں اگر قلم اور دوات سے کچھ لکھتا ہوں تو یہ قلم اور دوات میرے شریک نہیں بلکہ آلہ کار ہیں۔ اسی طرح ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کے آلہ کار کی حیثیت تو دی جاسکتی ہے، شریک کی نہیں۔ اس کے برعکس دیوی دیوتا چونکہ صاحب ِاختیار و ارادہ تسلیم کئے گئے ہیں، اس لئے ان کی حیثیت شریک ِکار کی ہے نہ کہ آلہ کار کی۔
اِس صریح فرق کے باوجود انبیاے سابقہ کی اُمتوں پر اسی یونانی، مصری اور ہندی تہذیبوں کا اتنااثر پڑا کہ وہ ملائکہ کو بھی وہی کچھ کہنے لگے جو دیوی دیوتاؤں سے سمجھا جاتا تھا۔ ان فرشتوں میں نسلی امتیاز بھی قائم کیا گیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی اولاد سمجھا جانے لگا۔ مزید ستم یہ کہ وہ ان فرشتوں کو زیادہ بیٹیاں یا بیویاں ہی قرار دیتے تھے۔ اور یہی'فرشتیاں' ان کے معبود تھے۔ قرآنِ کریم نے ان مشرکین عرب کے اس عقیدہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
﴿وَجَعَلُوا المَلـٰئِكَةَ الَّذينَ هُم عِبـٰدُ الرَّ‌حمـٰنِ إِنـٰثًا...١٩﴾... سورة الزخرف
"ان لوگوں نے فرشتوں کو، جو دراصل رحمن کے بندے ہیں، دیویاں بنا رکھا ہے۔"
اِن مشرکین کاایک دیوتا 'ہبل' تھا۔ ابوسفیان سپہ سالارِ مشرکین مکہ نے جنگ اُحد کے اختتام پر أعلیٰ الھبل کہہ کر اس کے نام کا نعرہ لگایا تھا لیکن زیادہ تر ان کی دیویوں کی ہی پرستش ہوتی تھی۔ ایک دیوی کا نام 'لات' (الٰہ کا موٴنث) تھا جسے اللہ تعالیٰ کی بیوی سمجھا جاتا تھا۔دوسری دیوی کا نام 'عزیٰ' (عزیز کی موٴنث) اور تیسری کا نام 'منات' تھا جو غالباً اللہ تعالیٰ کی لڑکی سمجھی جاتی تھی۔
لات کا استھان طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پجاری اور اس حد تک معتقد تھے کہ عام الفیل میں جب ابرہہ ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی کرنے آیا تو ان ظالموں نے محض آستانہ لات کو بچانے کی خاطر اور مکہ کا رستہ بتلانے کے لئے اپنے آدمی فراہم کئے حالانکہ باقی اہل عرب کی طرح اہل ثقیف بھی یہ مانتے تھے کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے۔
عزیٰ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلةمیں تھا۔ قریش اور دوسرے قبائل عرب اس کی زیارت کو آتے، نذریں چڑھاتے اور اس کے لئے قربانیاں کرتے تھے۔ کعبہ کی طرح اس کی طرف بھی قربانی کے جانور لے جائے جاتے اور تمام بتوں سے بڑھ کر اس کی عزت کی جاتی تھی۔
'منات' کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے 'قدید' کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ اور اوس وخزرج کے لوگ اس کے بہت معتقد تھے۔اس کا حج اور طواف کیا جاتا اور قربانیاں چڑھائی جاتیں۔ بیت اللہ کا حج کرنے والے جب طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہوجاتے تو وہیں سے 'منات' کی زیارت کے لئے لبیک پکارنا شروع کردیتے۔ اس طرح اس 'دوسرے حج' کرنے والوں کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے انہیں شرکیہ عقائد و افعال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿أَفَرَ‌ءَيتُمُ اللّـٰتَ وَالعُزّىٰ ١٩ وَمَنو‌ٰةَ الثّالِثَةَ الأُخر‌ىٰ ٢٠ أَلَكُمُ الذَّكَرُ‌ وَلَهُ الأُنثىٰ ٢١ تِلكَ إِذًا قِسمَةٌ ضيزىٰ ٢٢ ﴾... سورة النجم "بھلا تم نے اس لات اور عزیٰ اور تیسری منات دیوی پربھی کچھ غور کیا۔ کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں اللہ کے لئے ؟ یہ تو سخت ناانصافی کی بات ہوئی!"
ان آیات کی رو سے مشرکین عرب تین کبیرہ گناہوں کے مرتکب تھے: (1) غیر اللہ کی پرستش جو کہ قطعاًناقابل معافی گناہ ہے۔ (2) اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ٹھہرانا، جو شرک کی سب سے بڑی قسم ہے۔ (3) اور اولاد بھی وہ جسے وہ اپنے لئے قطعاً پسند نہیں کرتے۔

٭٭٭٭٭