تیسرے ہزاريہ میں اُمت مسلمہ كو درپيش چیلنجوں كى تعداد روز افزوں ہے- ان میں سے خطرناک چیلنج امريكہ كا 'نيو ورلڈ آرڈر' ہے- ا س نظام كے تقاضوں كو پورا كرنے كے لئے وہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی تمام معاشرتی بیماریوں كو جو مغربی معاشرہ كو گھن كى طرح چاٹ رہى ہیں ، تمام تہذیبوں میں داخل كرنا چاہتا ہے!!

سوويت يونين كے سقوط كے بعد اسلام ہى ا س كے راستہ كا سب سے بڑاپتهر ہے- جس كو ہٹانے كے لئے 20ويں صدی كى چھٹى دہائی میں باقاعدہ عملی کاوشوں كا آغاز ہوا اور 1965ء میں دوسری مسكونى کانفرنس میں يہ منصوبہ بنایا گبا كہ تیسرے ہزاريہ كا استقبال اس حال میں كيا جائے كہ اسلام دنیا كے نقشے سے مٹ چكا ہو- اس کنونشن میں طے پايا كہ تمام چرچز كو كیتھولك روما كے تحت ايك ہى صف میں دشمن كے خلاف متحد كيا جائے اوركنونشن میں اسلام كو اپنا واحد دشمن قرار ديا گبا- نيزيہ طے كيا گبا كہ 20 ويں صدی كى آٹھویں دہائی میں بائيں بازو كى قوتوں كا قلع قمع كيا جائے گا اور 90 كى دہائى میں اسلام كو جڑ سے اكهاڑ پهينكا جائے گا-

اس كے بعد 1978ء میں امريكہ كے شہر كولوراڈو میں ايك اور كانفرنس منعقد ہوئی جس میں عیسائيوں كے 150/ايسے پادرى شريك ہوئے جو تنصیری سرگرميوں میں سپیشلسٹ تهے۔ اس كانفرنس میں 40/مقالے پيش كئے گئے ،جن كا مشترك موضوع يہى تها كہ مسلمانوں كو عیسائی بنانے كے لئے كيا طريقہ ہائے كار اختيار كئے جائيں ؟

پورے ايشيا كو امريكى استعمار كے تحت لانے كے لئے 12/ دسمبر 2002ء كو واشنگٹن كے ايك تهنكرز فورم كے سامنے امريكى وزيرخارجہ كولن پاول نے ايك منصوبہ پيش كيا جس كو 'امريكى مشرقِ وسطى شراكت برائے جمہوريت و ترقى 'كا ايك پرفريب نام ديا گيا-

اس منصوبہ ميں ايشيا اور خصوصاً عرب ممالك كو دہشت گردوں كا اصل گڑھ قرا رديا گيا اور خاص طو رپر جمہورى اقدار كے فقدان ،آبادى ميں غيرمنظم اضافہ اور 'فاسد' نظامِ تعليم كو اس نام نہاد دہشت گردى كى جڑ قرار ديا گيا- اور اس مزعومہ مرض كے لئے جو علاج تجويز كيا گيا، وہ امريكہ كى استعمارى سوچ كا واضح آئينہ دار ہے كہ مختلف عرب ممالك ميں ايسے تعلیمى ادارے قائم كئے جائيں جو مغربى اقدار پر مبنى امريكى نظام تعليم كے حامل ہوں اور ان اداروں كے اساتذہ امريكى جامعات كے تربيت يافتہ ہوں - پهر مغربى تہذيب ميں رنگى ہوئى اس پود كو اہم سياسى و حكومتى عہدوں پر پہنچنے ميں مدد دى جائے تاكہ مستقبل ميں وہ امريكى پاليسيوں كے كل پرزے بن سكيں ۔

نيز امريكى وزارت خارجہ كى زير نگرانى امريكى كتب كا ترجمہ كركے خطہ كے مركزى اداروں تك پہنچايا جائے اور طے شدہ پروگرام كے تحت ان ممالك كے زيادہ سے زيادہ افراد كو امريكہ ميں سياسى ،اقتصادى ،معاشرتى اور تعلیمى تربيتى كورس كروا كر واپس ان كے ملك بهيجا جائے- عرب خواتين كو سياسى اور اقتصادى خصوصاً پارليمنٹ ميں نماياں نمائندگى كے لئے كميشن اور كميٹياں تشكيل دى جائيں - واضح رہے كہ اس منصوبہ كو2006ء تك مكمل كرنے كے لئے 2/ارب ڈالر كا بجٹ مختص ہوا ہے-

اس پروگرام كو نافذ كرنے كے لئے خطے كے ممالك كو چار گروپوں ميں تقسيم كيا گيا ہے :
(1) سعودى عرب اور مصر كى حكومتوں سے تعرض نہ كرتے ہوئے اُنہيں امريكہ كى زيرنگرانى مندرجہ بالا اصلاحات كو خود نافذ كرنے كا پابند بنايا جائے گا- عراق، شام، ليبيااورايران جيسے ممالك ميں عسكرى قوت كے بل بوتے ان اصلاحات كو نافذ كيا جائے گا-

عراق پر قبضہ اس استعمارى تسلسل كا نقطہ آغاز تها- اب اس كے بعد شام، ليبيا اور ايران پر جارحيت كے لئے منصوبہ سازى ہورہى ہے-

(2) بحرين، كويت، مراكش اور تيونس وغيرہ جيسے جو ممالك ان اصلاحات پرعمل پيرا ہيں ،اُنہيں ديگر ممالك كے لئے بہترين مثال بنايا جائے گا-

(3) قطر ، اُردن اور یمن جیسے ممالك جو عملاً امریكہ كے حلیف بن چكے ہيں ، وہ ہرامريكى پروگرام كونافذ كرنے كے پابند ہوں گے –

وہ اندرونى معاملات يا قومى مختارى ميں مداخلت جيسى اصطلاحوں كوآڑ نہيں بناسكتے۔

ان تمام مقاصد كو بروئے كار لانے كے لئے مغربى طاقتوں نے ايك طرف عسكرى ميدان سجايا- جس كا مقصد مسلمانوں كے تمام وسائل پرقبضہ كے ذريعے دنیا پر عملاً حكمرانى كا راستہ ہموار كركے مغربى تہذيب كو تمام دنيا پر غالب كرنا تها - پھر اس عسكرى برترى كى چھترى تلے مشنرى اداروں اور اين جى اوز كا جال پهيلايا، جس كا كام عسكرى جارحيت زده مفلوك الحال مسلمانوں كوتعليم، صحت، خوراك ، لباس اورانسانى ہمدردى كے پس پردہ مغربى تہذيب كے رنگ ميں رنگنا اور مقدس تبليغ كے ذريعے مسلمانوں كو عملاً عيسائى بنانا تها۔

تنصیرى تحريك اور اس كے مشنرى اداروں كا يہ كردار اب كهل كر سامنے آگيا ہے۔ مغربى جامعات ميں متعدد تحقیقى مقالے اسى حقيقت كا بين ثبوت ہيں !!

1976ء ميں سوئٹزر لينڈ میں شمباسی Chambasy كے مقام پر ورلڈ كانگريس آف جنيوا اور اسلامك فاوٴنڈيشن لسٹر كے تحت جو كرسچین مسلم مشاورت ہوئى تهى، اس كے اعلاميہ كا يہاں تذكرہ مناسب رہے گا، جس ميں مشنرى اداروں كے اس گھناوٴ نے كردار كا اعتراف چوٹى كى عیسائى مشنرى قيادت نے ان الفاظ ميں كيا تها:
"مسیحى شركا اپنے مسلمان بهائيوں سے ان زيادتيوں پر ہمدردى كا اعلان كرتے ہيں جو مسلم دنيا كے ساتھ نو آباد كاروں او ران كے شركاے جرم كے ہاتهوں ہوئى ہيں ۔كانفرنس آگاہ ہے كہ مسلم عیسائى تعلقات بے اعتمادى، شبہات اور خوف سے متاثر ہوئے ہيں - اپنى مشتركہ بھلائى كے لئے تعاون كرنے كے بجائے مسلمان اور عیسائى ايك دوسرے سے اجنبى اور عليحدہ رہے ہيں - استعمار كى ايك صدى كے بعد جس كے دوران بہت سے مشنريوں نے جانتے بوجھتے يا لاعلمى ميں نو آبادياتى طاقتوں كے مفادات كى خدمت كى، مسلمان عیسائيوں سے تعاون ميں ہچكچاہٹ محسوس كرتے ہيں جن سے وہ اپنے اوپر ظلم كرنے والوں كے آلہ كار كے طور پر لڑے- گو كہ ان تعلقات ميں نيا ورق اُلٹنے كا وقت یقینا آگيا ہے، ليكن مسلمان اب بهى قدم اٹهاتے ہوئے ركتے ہيں ، كيونكہ مسیحى اداروں كے بارے ميں ان كے خدشات موجود ہيں - اس كى وجہ يہ ناقابل ترديد حقيقت ہے كہ بہت سى مسیحى مشنرى خدمات كو آج بهى ناپسنديدگى كا حامل قرار ديا جاتاہے- انہوں نے مسلمانوں كى جہالت، تعليم، صحت، ثقافتى اور معاشرتى خدمات كى ضرورت، مسلمانوں كے سياسى بحران اور دباوٴ، ان كى معاشى محتاجى، سياسى تقسيم، عمومى كمزورى اور زد پذيرى كا فائدہ اٹهاتے ہوئے مقدس تبلیغ كے علاوہ دوسرے طريقوں سے بهى عیسائى آبادى ميں اضافہ كيا- ان ميں سے بعض خدمات كے بارے ميں حال ہى ميں معلوم ہونے والى اس بات نے كہ ان كے رابطے بڑى طاقتوں كى خفيہ ايجنسيوں سے ہيں ، پہلے سے موجود خراب صورتِ حال كو مزيد خراب كردياہے- كانفرنس خدمات كے اس طرح كے غلط استعمال كى سختى سے مذمت كرتى ہے- (كانفرنس كى روداد ، جلدIXV ، اكتوبر 1976ء)


( تعليم اور سامراجى يلغار، از پروفيسر خورشيد احمد، ترجمان القرآن اپريل 2003ء)

اس اعلاميہ سے بخوبى اندازہ كيا جاسكتا ہے كہ ايك طرف مشنرى تحريك مسلمانوں سے مشنرى اِداروں كى طرف سے كى گئى زيادتيوں پر ہمدردى كا اظہار كرتے ہوئے برادرانہ تعلقات كى خواہاں ہے ،تاكہ منافقت كے اس پردہ ميں زيادہ موٴثر انداز ميں اپنے مقاصد كو بروئے كار لايا جاسكے اور دوسرى طرف وہ برملا اپنى مشنرى سرگرمياں جارى ركهے ہوئے ہے -

آج ايك دفعہ پهر مغربى سامراج دنيا كے وسائل پر قبضہ كے ذريعہ پورى دنيا خصوصاً مسلم ممالك پر عملاً حكمرانى او راپنى تہذيب كو غالب كرنے اور عظيم تراسرائيل كے منصوبے كو پروان چڑهانے كے لئے اپنے تمام لاوٴ لشكر ميدان ميں اُتاركر دوبارہ صلیبى جنگوں كا آغاز كرچكا ہے- پہلے وسطى ايشيا كے قدرتى وسائل كى طرف ہاتھ بڑهانے كے لئے افغانستان كے لاكهوں بے گناه افراد پر قيامت بپا كى گئى -پهر عراق جو سعودى عرب كے بعد دنيا كے سب سے بڑے تيل ذخائر كا حامل ہے ،جس كى مقدارتقريباً 1200/ ارب بيرل ہے، ان ذخائر پر قبضہ كرليا- جس ميں ديگر مالى مفادات كے علاوہ معروف تحقيقاتى رپورٹ رابرٹ ڈرينس كے بقول يہ مفاد بهى پيش نظر تها كہ"اگر ہم عراق پر قبضہ كرليں تو قطر وبحرين پر قبضہ كے بعد سعودى عرب اور متحدہ عرب امارات پر قبضہ آسان ہوگا- اس مقصد كے حصول كے لئے عراق ميں آتش وآہن كى بارش ميں لاكهوں بے گناہ جانوں كو آگ اور خون كا غسل ديا گيا- 32 دن تك جديد ترين اسلحہ، كروز اور ڈيزى كٹرجيسے ہلاكت خيزبموں سے خونِ مسلم كى ارزانى كى سقوطِ بغداد كى تاريخ ايك دفعہ پهر دہرائى گئى -اور اب ايسے تمام ممالك كو انجامِ بد سے دوچار كرنے كے منصوبے بن رہے ہيں جو امريكى او ربرطانوى سامراج كے مقاصد كے سامنے مزاحم ہوسكتے ہيں -

مغربى تہذيبى يلغار كو زيادہ موٴثر كرنے اورمسلمانوں كو عيسائى بنانے كے لئے اس عسكرى محاذ كى چھترى تلے ايك فكرى محاذ بهى افريقہ اور ايشيا كے ترقى پذير ممالك ميں اپنے گهناوٴنے اقدامات ميں پورى تندهى كے ساتھ سرگرم ہے- دونوں محاذوں كے تهنك ٹینكس كے آپس ميں گهرے روابط ہيں - جہاں عسكرى يلغار ہوتى ہے وہاں فوراً بعد فكرى يلغار كا آغاز كرديا جاتاہے۔

مشنرى سرگرمياں ؛ مقبوضہ عراق ميں

محدث كے شمارہ جنورى 2004ء ميں افریقہ ميں مشنرى سرگرميوں كى ايك تفصيلى رپورٹ پيش كى گئى تهى- اس مضمون ميں عراق ميں مسلم تہذيب كو انجام تك پہنچانے كے لئے عیسائى مشنرى تحريك كے كردار كو زير بحث لايا جارہا ہے كہ وہ كس طرح انسانى ہمدردى اور داد رسى كے پردہ ميں مسلمانوں كو عیسائى بنانے كا گهناؤناكهيل رہى ہيں ۔اور كس طرح بڑے بش كى بات كو عملى جامہ پہناياجارہا ہے جو اس نے 1991 ء ميں امريكى عراقى جنگ ميں كہى تهى كہ" اب عراق كى راكہ پر ايك نئى تہذيب كى بنياد ركهى جائے گى -"

درج ذيل معلومات سعودى عرب سے شائع ہونے والے عربى ہفت روزہ 'الدعوة' (شمارہ مئى،جون 2003ء)كے واشنگٹن اور قاہرہ كے نمائندگان كى رپورٹوں سے ماخوذ ہيں -

حقيقت يہ ہے كہ مسلمانوں كو عيسائى بنانے كا منصوبہ عراق پراتحادى يلغار كے منصوبے كے ساتھ ہى طے پاگيا تها- اور عراق پر اتحادى افواج كے غاصبانہ تسلط سے قبل تنصیرى تنظیمیں اپنا كردار ادا كرنے كے لئے عراقى حدود پر منتظر كهڑى تهيں كہ شايد وہ كفرو اسلام كے اس معركہ ميں كامياب ہوجائيں ،جہاں ڈيزى كٹر بم ناكام ہوگئے ہيں - عراقى حدود پر مشنرى تنظيموں كى اس قدر بهرپور تيارى يہ ظاہر كرتى تهى كہ مسلمانوں كو عیسائى بنانے كے لئے فكرى يلغار كى منصوبہ بندى بهى عسكرى يلغار كى طرح پہلے سے ہى كرلى گئى تهى، تاكہ آتش و آہن كى جنگ كے فورا ً بعد عقيدہ وايمان كى جنگ كا آغاز كيا جاسكے اور عسكرى، اقتصادى اور فكرى تمام محاذوں پرمسلمانوں كو امريكہ كا دست ِنگر بننے پر مجبور كرديا جائے- انسانى ہمدردى اور مصیبت زدہ معاشرہ كى داد رسى كے پردہ ميں يہ مشنرى تنظيميں مسلمانوں كو حلقہ بگوشِ عيسائيت كرنے كا گهناوٴناكردار ادا كر رہى ہيں - انہى ميں سے بعض تنظيموں نے اپنے اوپر اقوامِ متحدہ كے نام كا خول بهى چڑہا ركها ہے -

جذبہ ہمدردى اور انسانى داد رسى كے پردہ ميں عراق كو عيسائى اسٹيٹ بنانے كى سازش

رياست ہائے متحدہ امريكہ ميں عیسائى فرقہ پروٹسٹنٹ كى ايك متعصب اور بنياد پرست تنظيم 'سانٹ مارٹن بورسن' كے سربراہ فرینكلن گراہم نے اتحادى افواج كے عراق پر حملہ سے قبل انٹر نيٹ ويب سائٹ پر اس بات كا برملا اظہا ركرديا تها كہ ہمارى تنظيم عراق ميں داخل ہونے كے لئے سرحدوں پركهڑى كسى موقع كى منتظر ہے- امريكى ويب سائٹس كے مطابق گراہم ايك مذہبى آدمى ہے جو ہروقت مسلمانوں كے درميان فتنہ اور شرانگيزى كے لئے سرگرم رہتا ہے- حتىٰ كہ خود مسیحیوں كا بهى يہى خيال ہے كہ يہ ايك انتہا پسند مذہبى آدمى ہے جس نے گيارہ ستمبر كے واقعہ كے بعد اسلام اور مسلمانوں كو شديد تنقيد اور سب و شتم كا نشانہ بنايا ہے -

اس نے تنظيم كے ہيڈكوارٹر 'بون' جو كہ متحدہ امريكہ كى رياست ساوٴتھ كيرولينا South Carolina كا ايك مشہور شہر ہے، سے ريڈيو سٹيشن سے ان خيالات كا اظہار كيا :

"ہمارے مشنرى گروپ تنصیرى مہم كى سرپرستى كے لئے عراق كى طرف متوجہ ہوچكے ہيں ،جن كا مقصد عراق پہنچ كر عراقيوں كو بچانا ہے اور عیسائى ہونے كے ناطے ہم يہ كام يسوع مسيح كے نام پر كررہے ہيں -"

اس نے مزيديہ كہا كہ

"ميرا يہ پختہ عقیدہ ہے كہ جب ہم اپنے كام كا آغاز كرديں گے تو عنقريب خدا ہميں ضرور ايسے مواقع فراہم كرے گا كہ ہم دوسروں كو خدا كے بيٹے يسوع مسيح كے بارے ميں بتا سكيں -"

اس نے بارہا دفعہ يہ كہا كہ

"اسلام امن و سلامتى نہيں ، بلكہ تشدد كى تعليم ديتا ہے-"

گيارہ ستمبر2001ء كے واقعہ كے دو ماہ بعد ٹيليويژن چينلNBC پر گفتگو كرتے ہوئے اس نے كہا :

"اسلام ايك فسادى اور شرير مذہب ہے-"

امريكى قيادت ، خصوصاً صدر جارج بش كے ساتھ بهى فرینكلین گراہم كا گهرا رابطہ ہے- ان كے مختلف پروگراموں ميں يہ باقاعدہ شريك ہوتا ہے- ايك امريكى عہدہ دار نے ايك نيا عہدہ سنبهالنے پر پارٹى دى تو فرينكلين گراہم نے اس كے اختتام پر دعا كروائى-

جنگ سے قبل اس تنظيم كے ايك ركن ايفنگيزبشت كندى نے كہاتها كہ

" ايك مشنرى گروپ عموماًسات افراد پرمشتمل ہوتا ہے- جبكہ رياست ہائے متحدہ امريكہ كے اندر اور باہر اس تحريك كے 16 ملين پيروكار موجود ہيں ۔ يہ تنظيم ايك عرب ملك ميں بہت بڑے گودام كى مالك ہے اور اس نے خيراتى سازوسامان كا ايك بہت بڑا ذخيرہ وہاں جمع كرليا ہے اور اب وہ اس سامان كو عراق منتقل كركے عراقى شہروں اور ديہاتوں ميں تقسيم كرے گى ۔"

اس نے مزيد يہ كہاكہ

" ہم اس حقيقت كو چھپانے كى كوشش نہيں كرتے كہ ہمارا ادارہ بلاشبہ ايك مسیحى مشنرى ادارہ ہے-ليكن كسى اسلامى ملك ميں مشنرى كام كرنا اتنا آسان نہيں ہے۔ ہميں اميد ہے كہ عراق ميں موجودمسیحیوں كا ايك بہت بڑا گروہ مستقبل ميں ہمارے ساتھ تعاون ميں ايك اہم كردار ادا كرسكتا ہے۔"

رفاہى اُمور كے حوالہ سے ايفن نے كہاكہ

" ہم بغداد، بصرہ اور عراق كے تمام علاقوں ميں پہنچیں گے۔ہم روزانہ دس ہزار سے زائد افراد كو كهانامہيا كرنے كى صلاحيت ركهتے ہيں -كئى گروپ وہاں ہمہ وقت نئے نئے محاذ كهولنے كيلئے متحرك ہوں گے-جہاں نيا محاذ كهلے گا وہاں فوراً ايك اور مشنرى گروپ بهيج ديا جائے گا."

ترجمہ كامنصوبہ

Islam.com ويب سائٹ نے ذكر كيا ہے كہ دو امريكى مشنرى تنظيموں نے يہ اعلان كيا ہے كہ ہم كئى ايسے گروہ تشكيل دے رہے ہيں جو حاليہ جنگ كے اختتام پرعراق ميں داخل ہوكر وہاں كے باشندوں ميں دين مسيح كى نشرواشاعت كا فريضہ انجام ديں گے-

حرنامى ايك مترجم نے كہا كہ

"ہمارى ان تنظيموں نے تبشيرى لٹريچر كو انگلش سے عربى ميں منتقل كرنے كے لئے مترجمین كے متعدد گروہ تشكيل ديئے ہيں اور ايشيا كے كئى ممالك اس تبشيرى لٹريچر كا ہدف ہوں گے۔"

ان دونوں تنظيموں نے واشگاف الفاظ ميں كہا ہے كہ ہمارا اوّلين مقصدعراقى عوام كو كهانا، رہائش اور ديگر ضروريات زندگى مہيا كرنا اور 98 فيصدمسلم آبادى كے درميان عيسائيت كى تبليغ كرنا ہے۔

اوكلوہاما سالانہ معمدانى جنوبى كانفرنس ميں شعبہ حادثات كے ڈائريكٹر سام بوٹرن نے اعلان كيا ہے كہ يہ تنظيم عراق ميں رفاہى اُمور كى انجام دہى كے لئے ہمہ وقت خدمات انجام ديتى ہے اوريہ انسانيت كى عظيم خدمت كے علاوہ خدا كى محبت كو پهيلانے كا ايك اہم موقعہ بهى ہے-انٹرنيشنل مشنرى كميٹى جو 'موٴتمر معمدانى جنوبى 'كى ذيلى تنظيم ہے ، كے ترجمان نے كہاكہ

"آج عراقى باشندوں كى جسمانى ضروريات كے متعلق گفتگو آخر كار عراقى باشندوں كى ہمارے مذہب كے بارے دلچسپى پر منتج ہوگى - "

اسى حوالہ سے امريكہ ميں اسلامى تعلقات عامہ كى كميٹى كے ترجمان جناب ابراہيم ہارون نے كہا كہ فرينكلين گراہم كا يہ واضح عقيدہ ہے كہ عراق كے خلاف جنگ دراصل اسلام كے خلاف جنگ ہے- انہوں نے عراق ميں انسانيت كى خدمت كى كوششوں ميں فرينكلين كى شركت كا يہ كہتے ہوئے انكار كيا ہے كہ

"ايسا شخص جواسلام كو دين شرير قرار ديتا ہے، ا س سے قطعاً خيركى توقع نہيں كى جاسكتى- عراق كى طرف اس كى توجہ كا مقصد وہاں عيسائيت پهيلانا ہے-"

سينكڑوں عيسائى مشنرى عراقى شہروں ميں گھس گئے !

اتحادى قوتوں كے ہاتهوں صدام حسين اور بعث پارٹى كى حكومت كے خاتمہ كے بعد عراق شديد مشكل اور مضطرب حالات سے دوچار ہے- سارا نظام اور سركارى ادارے شكست وريخت كا شكار ہيں ۔ ہرطرف اتحادى فوجيں دندناتى پهر رہى ہيں -اتحادى افواج اپنے تمام تر دعوؤں كے باوجود تاحال قيامِ امن ميں ناكام رہى ہيں ، اُلٹا عراقى عوام كو صدام سے نجات دلانے كے دعوے كرنے والا امريكہ آج انہيں كے سينوں پر گوليوں كى بارش كررہا ہے- اقتصادى اور معاشى حالات انتہائى دگردوں ہيں - ہسپتال اور صحت كے مراكز كى بدترين حالت، لباس ، غذا اور صحت كى بنيادى سہولتوں سے محرومى نے عراق كے اجتماعى حالات كو بدترين بنا ديا ہے-

تنصيرى گروہ جو سقوطِ بغداد سے قبل اور بعد اس پورى صورتِ حال كى مسلسل نگرانى كررہے تهے اورانہوں نے سقوطِ بغداد سے قبل ہى انسانى ہمدردى اور دادرسى كے پردہ ميں عیسائیت كى تبلیغ كے لئے عراق ميں داخل ہونے كے تمام سامان مكمل كر لئے تهے - اب وه دهڑا دهڑعراق ميں داخل ہو رہے ہيں - اب وہ حكومتى اہلكاروں سے برملا كہتے ہيں كہ ہم عراقى باشندوں كو عیسائى بنانے جارہے ہيں - رياست ہائے متحدہ امريكہ كى تمام پروٹسٹنٹ تنظيموں نے اب اپنے اس خبث ِباطن كو ننگا كرديا ہے۔

اس كا اندازہ فرينكلين گراہم كے اس بيان سے كيا جاسكتا ہے كہ

"امريكى اور برطانوى افواج كے غلبہ كے بعد ہمارا تنصيرى عمل بڑى تيزى سے شروع ہوچكا ہے"

اس نے واضح الفاظ ميں كہا :

"ہمارى تنصيرى جدوجہد كا ابهى يہ پہلا مرحلہ ہے- اب ہميں كوئى اس كام سے روك نہيں سكتا- اب ہميں كسى كے سامنے كوئى وضاحت پيش كرنے كى ضرورت ہے، نہ ہم امريكى اور برطانوى افواج كے محتا ج ہيں ۔"

پروٹسٹنٹ فرقہ كى دو بہت بڑى تنظيموں 'موٴتمر معمدانى جنوبى 'اور 'سانٹ مارٹن بورسن'كے علاوہ كئيديگر مشنرى تنظيموں نے عراق ميں پھیلى ہوئى سياسى اور اقتصادى ابترى، غربت ، بيمارى ، شدت ِبهوك اور پياس ميں بلكتے بچوں كے والدين كى بے بسى جيسى صورت حال سے فائدہ اٹها كر انسانى ہمدرى كى آڑ ميں عراقى باشندوں كو عيسائى بنانے كا گهناوٴنا عمل انتہائى تيز كر ديا ہے -

اس كے علاوہ عراق كے پروٹسٹنٹ، آرتهوڈكس اور كيتهولك چرچز بهى تبشيرى سرگرميوں ميں نہايت تندہى سے مصروفِ عمل ہيں -

تبشيرى سرگرميوں ميں مصروفِ عمل تين گروہ
اس وقت جوعیسائى تنظیمیں ، مشنرى ادارے اور اين جى اوز مسلمانوں كو عیسائى بنانے ميں سرگرم عمل ہيں ،ان ميں بنيادى طور پر تين طرح كے لوگ شامل ہيں :

پہلى قسم:  ان فوجيوں پر مشتمل ہے جو اتحاد ى افواج كے ٹينكوں پر سوار ہوكر عراق ميں داخل ہوئے- انہيں امريكى اور برطانوى قيادت و سيادت كى حمايت اور پشت پناہى حاصل ہے اور يہ وہ لوگ ہيں جن كى قيادت موٴتمر معمدانى جنوبى اور فرينكلين گراہم انسٹيٹيوٹ كررہا ہے-

دوسرى قسم:   ان تنصيرى اداروں پرمشتمل ہے جنہيں عراق ميں مقيم مسيحى اقليت كى پشت پناہى حاصل ہے ،خصوصاً بصرہ اور كركوك كے علاقے جو عیسائى فرقہ 'آشوريہ 'كا مركز ہيں - تركمانيوں سميت ان كى تعداد 5 فيصد سے زائد نہيں ہے اور يہ لوگ پروٹسٹنٹ، كیتھولك اور آرتهوڈكس مختلف فرقوں ميں بٹے ہوئے ہيں - انگريزى استعمار انتظامى معاملات كے سلسلے ميں ہميشہ ان پرانحصار كرتا رہا ہے يا ان يہوديوں پر جو عراق ميں آباد ہيں -

1948ء تك ان يہوديوں كى تعداد ايك لاكھ اٹهارہ ہزار سے زائد تهى،جن ميں سے 77 ہزار يہودى صرف عراق كے دارالحكومت بغداد ميں آباد تهے- ملكى معيشت، بنكوں اور ماركيٹ شيئرز پر ان كا تسلط تها-1948ء ميں صہیونى رياست كے قيام كے بعد يہ لوگ عراق چهوڑ كر چلے گئے -صرف گنتى كے چند يہودى باقى رہ گئے تهے جن كى تعداد 50سے متجاوز نہ تهى۔

تيسرى قسم:   'بين الاقوامى چرچز كميٹى'كى ہے، جو طبى اور غذائى امداد كے پردے ميں عیسائيت كا پرچار كررہى ہے- عراق كے موجودہ حالات، طبى سہولتوں كى ناگفتہ بہ حالت، بهوك اور پياس سے بلك بلك كر جان دينے والے بچوں كى كثرت جو پہلے 8 فيصد تهى،2002ء كى مردم شمارى كے مطابق يہ تعداد بڑھ كر 34 فيصد ہوگئى۔ اس كے بعد اس ميں مزيد اضافہ ہوا اور صدام حكومت كے خاتمہ كے بعد بچوں كى شرحِ اموات ميں بڑى تيزى سے اضافہ ہوا ہے- ان تمام حالات سے فائدہ اٹها كر مشنرى ادارے لوگوں كو عيسائى بنانے كى سرتوڑ كوششيں كررہے ہيں -

تنصيرى تنظيموں كو درپيش مسئلہ

ايك شدید مشکل جو ان تنصيرى اداروں كے لئے سد ِراہ بنى ہوئی ہے، وہ یہ ہے كہ عراق كى ٪95 آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے-اسلامی بيدارى روز بروز بڑھ رہى ہے، سامراج كے تسلط كے خلاف جہادی روح بیدار ہورہى ہے ، اسلامی نشاة ِثانيہ كى اس لہر نے مساجد كو عراقيوں كا مرکز بنا ديا ہے - وہ اپنے دين اور عقیدہ پر فخر كرتے ہیں – ایسی حالت میں انہیں اسلام سے بر گشتہ كرنا خاصا دشوار ہے- ليكن خطرہ يہ ہے كہ كہيں مسلمان پهوٹ اور انتشار كا شکار نہ ہوجائيں اور امريكى اور برطانوی سامراج كى آلہ كار حکومت عراقی عوام پر مسلط نہ ہوجائے-

عراق كى آبادی 26 ملين سے زائد ہے جن میں 60 فیصد شیعہ اور 35 فيصدسنى ہیں یعنی كل آبادی كا 95 فیصد مسلمان ہیں ،باقی پانچ فیصد 'آشوری اور تركمان' ہیں ۔

عراقی معاشرہ میں 80فيصد عرب اور 15 فیصد كرد ہیں - باقی تركمان ہیں يا آشوری اور ان كے ساتھ معمولی سى تعداد ارمنوں كى ہے-يہ تمام عیسائى گروہ عراق میں حکومت كے خواب ديكھ رہے ہیں - ارمن انتہائی قلیل تعداد میں ہونے كے باوجود 98 فیصد عراقی معاشرہ پرحكومت كرنا چاہتے ہیں ۔اور اپنے استحکام كے لئے آرمینیا سے توقعات وابستہ كئے بیٹھے ہیں -آرمینیا كا چرچ عراقی اور تركى ارمنوں كے استحکام كے لئے برملا اپنا کردار اداكررہا ہے- اسی طرح آشوری بھى اپنی الگ مملکت كے خواب ديكھ رہے ہیں - ادھر تركى كى تركمانوں كے لئے حمایت بهى كسى سے مخفی نہیں ہے-اس سے معلوم ہوتا ہے كہ امريكہ عراق كو تين حصوں میں تقسیم كرنے كے منصوبے پر بڑی تيزى سے پیش رفت كررہا ہے -

اس مذہبی قومى اورعلاقائى صورتِ حال نے عراق كے داخلى حالات كو اور زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر بنا ديا ہے اور چرچز كو ان حالات سے فائدہ اٹھانے كا موقع فراہم كرديا ہے-

اگرچہ پروٹسٹنٹ، كیتھولك، آرتهوڈكس فرقوں كے درمیان بهى بہت گهرے اختلافات ہیں جس كى وجہ سے وہ باہم برسرپيكار اور دست و گریبان رہتے ہیں - ليكن اسلام كے خلاف محاذ آرائى میں يہ باہم متحد ہیں - اور بڑے بڑے شہروں میں ادارے قائم كر كے قبضہ كى کوشش جس كا مقصود مذہبی اورقومى تعصبات كو ہوا دينا ان مشنريوں كے انتہائی خطرناک اور گهناوٴنے کردار كى غمازى كرتا ہے-

درج ذیل ادارے خاص طور پر تبشیری لٹریچر كے ذریعے عیسائیت كا پرچار كر رہے ہیں :

'كتابِ مقدس انٹر نيشنل تنظیم ': امريكى اخبار 'نيوز ويك' نے امريكى چرچز كے مسلمانوں كو عیسائی بنانے كے منصوبوں سے پردہ اُٹهاياہے اور ايك تفصیلی رپورٹ میں كہا ہے كہ اس تنظیم نے عربی زبان میں 10 ہزار پمفلٹ عراق بهيج كر تقسیم كئے ہیں ،جن كا عنوان يہ تها كہ

"يسوح مسيح امن و سلامتی كے علم بردار ہیں ۔"

نيزرپورٹ میں يہ بتایا گيا تها كہ يہ تنظیم مزید 40 ہزار نسخے تیار كرنے كا عزم رکھتی ہے، ان كے علاوہ انگریزی زبان میں ان پمفلٹوں كى تعداد ناقابل شمار ہے۔

اس جمیعت نے اپنے ان ان ذيلى رفاہی اداروں كے نام شائع نہیں كئے جو عراق میں ان کتابوں كى تقسیم كا كام انجام دیں گے-

'مسيحى متحدہ محاذ' :  مشہور تنظیم 'مسيحى متحدہ محاذ' كے ترجمان رابرٹ فيزر لين نے كہا كہ

"عنقریب عیسائی مبلغين تك يہ پیغام پہنچ جائے گا كہ و ہ مسيحى چرچ كے تحت اپنی مشنرى سرگرمیاں انجام دیں گے-"

اس كا مطلب يہ تها كہ لفظ تنصير (لوگوں كو عیسائی بنانا) انتہائی بدنام ہوچكا ہے ، لہٰذا ہمیں اس مسئلہ سے نپٹنے كے لئے انتہائی محتاط رہنا ہو گا-

'انٹرنیشنل تنصير كميشن ':  كميشن كے ترجمان مارك گيللى نے واضح الفاظ میں يہ كہا كہ

" عراق میں کتاب مقدس كے نسخوں كى ترسیل كا كام عنقریب پايہٴ تكميل تك پہنچ جائے گا-"

اس سے اس كا اشارہ كميٹى كى طرف سے عراق میں بهيجے جانے والے خوراک كے ان پيكٹوں كى طرف تها جن پر كتابِ مقدس كى تعلیمات درج ہیں -

شمالی عراق كى صورتِ حال

عراقی سرحد پر واقع تركى كے علاقہ' شرناق' كے ايك عہدیدار نے مشرقِ وسطىٰ كى خبر رساں ایجنسی كے نامہ نگار كوبتايا كہ حال ہى میں 800 مشنری، كرد باشندوں كو عیسائی بنانے كے لئے شمالی عراق میں داخل ہوئے ہیں - نيزاس نے بتایا كہ ويٹى كن كميٹى 'نے عیسائی مشنريوں كو شمالی عراق میں منتقل كرنے كے لئے شام كے شہر حلب كو اپنا مرکز بنایا ہے ،جہاں ايك بہت بڑا چرچ عیسائیت كى تبلیغ میں سرگرم ہے- تركى ذرائع نے اس حقیقت سے پردہ اُٹهايا ہے كہ تركى امن فورسز نے عراق، تركى سرحدی علاقہ میں تورات كے 10986 نسخے ضبط كئے ہیں - جنہیں شامی سرحد پر واقع تك كى ايك بندر گاہ سے عراقی سرحد پر واقع تركى كے شہر شرناق میں منتقل كرنے كا كام مكمل ہوچكا تها اور اس كے بعدانہيں شمالی عراق میں پہنچانا مقصود تها -

نيز تركى ذرائع نے وضاحت كى كہ سرحدی شہر سیلوبى سے شمالی عراق كے راستے میں زبور كے نسخوں كى ايك بہت بڑى تعداد قبضہ میں لی گئی ہے- ترك ذرائع نے مزيد اشارہ كيا كہ ہارون مالول اور دانیال صدوحى جو دراصل اسرائیلی باشندے ہیں ، نے ايك ايكسپورٹ کمپنی كے ساتھ زبور كے انہی نسخوں كوشرناق اور شرناق سے شمالی عراق منتقل كرنے معاہدہ كيا ليكن تركى كے خفیہ حفاظتی عناصر نے زبور كے ان تمام نسخوں كو ضبط كرليا اور اس گهناوٴنے منصوبہ میں ملوث دونوں اسرائیلی باشندوں كو گرفتار كرليا۔

عیسائیوں مشنريوں كى منصوبہ بندى اور اسے نافذ كرنے كا طريقہ كار!
اب ہم يہ بتاتے ہیں كہ يہ عیسائی مشنرى اپنے مقاصد كو بروئے كار لانے كے لئے كيسے پلاننگ كرتے ہیں اور پهر اس منصوبہ بندى كو كيسے كارگاہ عمل میں لاتے ہیں ؟

نیوز ایجنسی 'ايسوسى ايٹڈ پريس 'نے بتایا كہ تنصيرى جماعتوں نے اپنے تئيں يہ دعویٰ كيا ہے كہ

" گیارہ ستمبر كى چيرہ دستيوں اور حالیہ جنگ كے نتیجہ میں پیدا ہونے والے كشيدہ حالات كے باوجود ہم مختلف ذرائع ابلاغ كى مدد سے پہلے ہى مرحلہ میں عراق اور دیگر مسلم ممالک میں مسلمانوں كو عیسائی بنانے میں كافى حد تك كامياب رہے ہیں -"

نيز عیسائی تنظیموں نے يہ دعویٰ كيا ہے كہ

"آخر كار ہم مختلف مسلم علاقوں میں سینکڑوں مسلمانوں كو عیسائی بنانے میں كامياب ہوگئے ہیں -"

ليكن يہ ابهى دعویٰ ہى ہے، اندرونِ عراق سے كسى صحافی يا ميڈيا كے ذرائع نے اس بات كا كوئى ذکر نہیں كيا۔
ايك اور نيوز ایجنسی نے بتایا كہ تنصيرى جماعتوں كے ارکان دين اسلام كا بهى بہت زیادہ مطالعہ كرتے ہیں ۔
اپنی کتب كا عربی زبان میں ترجمہ كرتے ہیں ،تاکہ زیادہ موٴثر انداز سے مسيحى تعلیمات كو پهيلا يا جا سكے -اور كئى مشنری تنظیمیں بعض اسلامی تعلیمات كے لبادے میں تبشیری مہم انجام دے رہى ہیں اور تبلیغ كے لئے بالکل وہی انداز اختياركئے ہوئی ہیں جو مسلمان تبلیغ اسلام كيلئے كرتے ہیں ۔
ان تبشیری تنظیموں نے يہ طے كر ركها ہے كہ جب بهى مسلمانوں كے ساتھ ساتھ مباحثہ يا مناظرہ كا موقع آئے تو وہ اپنے تنصيرى حملوں كو صرف حضرت عيسىٰ كے تذکرہ پر مرکوز ركهيں كہ اسلام بهى عيسىٰ كو بحیثیت پیغمبر اورمسيحى مذہب كوبحيثيت دين كے تسلیم كرتا ہے-
اُمت مسلمہ كے خلاف صلیبیوں اور ملت ِكفريہ كى يہ روز بروز بڑھتی ہوئی جارحانہ كاروائياں اس بات كا واضح ثبوت ہیں
كہ يہ دراصل كفر اور اسلام كى جنگ ہے اور اسلام كو دنياكے نقشہ سے مٹانے كے منصوبہ كو پروان چڑهايا جا رہا ہے۔