277-Feb2004

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

دنيا كے تمام مذاہب ميں اسلام كى ايك مابہ الامتياز خصوصیت يہ ہے كہ اس نے تمام عبادات و اَعمال كا ايك مقصد متعین كيااور اس مقصد كو نہايت صراحت كے ساتھ ظاہر كرديا- نماز كے متعلق تصريح كى:

﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ‌﴾ (العنكبوت:٤٥)

"یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے-"

روزے كے متعلق فرمايا:

﴿ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ

"روزے كے ذريعہ تم لوگ پرہيزگار بن جاوٴ گے-"

زكوٰة كى نسبت بيان كيا :

﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُ‌هُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا﴾ (التوبہ:١٠٣)

"آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں"

مختلف احاديث نے اس سے زيادہ تصريح كردى:

الصدقة أوساخ المسلمين... توٴخذ من أغنيائهم وتردّ على فقرائهم

"صدقہ مسلمانوں كا ميل ہے، ان كے دولت مندوں سے لے كر ان كے محتاجوں كو دے ديا جاتا ہے-"

اسى طرح اللہ تعالىٰ نے حج كے فوائد و منافع كو بهى نہايت وضاحت كے ساتھ بيان فرما ديا:

﴿لِّيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُ‌وا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ﴾ (الحج:٢٨)

"اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقرره دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں-"

حج اور بين الاقوامى تجارت

اس آيت ميں قرآنِ حكیم نے جن فوائد كو حج كا مقصد قرار ديا ہے، ان سے اجتماعى واقتصادى فوائد مراد ہيں ، اور يہ حج كاايك ايسا اہم مقصد ہے كہ ابتدا ميں جب صحابہ كرام  نے دينى مقاصد كے منافى سمجھ كر اسے بالكل چهوڑ دينا چاہا تو اللہ نے ايك خاص آيت نازل فرمائى:

﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّ‌بِّكُمْ﴾ (البقرة:١٩٨)

"تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناه نہیں -"

قرآنِ حكیم كا عام طرزِ خطاب يہ ہے كہ وہ جزئيات سے كسى قسم كا تعرض نہيں كرتا- اس كى توجہ ہميشہ اہم باتوں كى طرف مبذول رہتى ہے-اس بنا پر خداوند ِتعالىٰ نے جس قسم كى تجارت كو حج كا مقصد قرار ديا اور اس كى ترغیب و حوصلہ افزائى كى، وہ عرب كى اقتصادى و تمدنى تاريخ ميں ايك نئے باب كا اضافہ تها- عرب اگرچہ ايك باديہ نشين اور غير متمدن قوم تهى، تاہم معاش كى ضرورتوں نے اس كو تمدن كى ايك عظيم الشان شاخ يعنى تجارت كى طرف ابتدا ہى سے متوجہ كرديا تها- قريش كا قافلہ عموماً شام وغيرہ كے اَطراف ميں مال لے كر جايا كرتا تها، اور ان لوگوں نے وہاں كے رہنے والوں سے مستقل طرز پرتجارتى تعلقات پيدا كرلئے تهے- خود مكہ كے متصل عكاظ اور ذوالمجاز وغيرہ متعدد بازار قائم تهے اور وہ حج كے زمانے ميں اچهى خاصى تجارتى منڈى بن جاتے تهے- پس اہل عرب كو نفس ِتجارت كى طرف متوجہ كرنے كى چنداں ضرورت نہ تهى، ليكن اسلام جو عظيم الشان و عالمگیر مدنيت پيدا كرناچاہتا تها، اس كى گرم بازارى كے لئے عكاظ، ذوالمحیۃ اور ذوالمجاز كى وسعت كافى نہ تهى، وہ دنيا كى تمام متمدن قوموں كى طرح تجارت بين الاقوام كا مستقل سلسلہ قائم كرنا چاہتا تها، كيونكہ وہ ديكھ رہا تها كہ عنقريب آفتابِ اسلام حجاز كى پہاڑيوں سے بلند ہوكر تمام بحر وبر پر چمكنے والا ہے!!

پس اس آيت ِكريمہ ميں جن اقتصادى و تجارتى فوائد كى طرف اشارہ كيا ہے، وہ ايك وسيع بین الملی تجارت كا قيام ہے- ورنہ اہل عرب جس قسم كى تجارت كرتے تهے، وہ تو ہرحالت ميں قائم ركهى جاسكتى تهى، اور قائم تهى- البتہ تجارت بين الاقوام كا سلسلہ بالكل قيامِ امن و بسط ِعدل و اجتماعِ عام پر موقوف تها، اس لئے جب كامل امن و امان قائم ہوگيا اور حج نے راستے كے تمام نشيب و فراز ہموار كرديے تو اس وقت اللہ نے مسلمانوں كو تمدن كى اس منفعت ِعظیمہ كى ترغيب ِعام دى۔

مقاصد ِاعلىٰ و حقيقيہ

ليكن اس تصريح و توضيح كے علاوہ قرآنِ حكيم كا ايك طرزِ خطاب اور بهى ہے جو صرف خواص كے ساتھ تعلق ركهتا ہے- قرآنِ حكيم كا عام انداز بيان يہ ہے كہ وہ جن مطالب كو عام طور پر ذہن نشين كرنا چاہتا ہے يا كم از كم وہ ہر شخص كى سمجھ ميں آسكتے ہيں ، ان كو تو نہايت كهلے الفاظ ميں ادا كرديتا ہے- ليكن جن مطالب ِدقيقہ كے مخاطب صرف خواص ہوتے ہيں اور وہ عام لوگوں كى سمجھ ميں نہيں آسكتے، ان كو صرف اشارات و كنايات ميں ادا كرتا ہے-

مقاصد ِحج ميں 'تجارت' ايك ايسى چيز تهى جس كا تعلق ہر شخص كے ساتھ تها، اور اس كے فوائد و منافع عام طور پر سمجھ ميں آسكتے تهے، اس لئے خدا نے اس كو نہايت وضاحت كے ساتھ بيان فرما ديا- ليكن حج كا ايك اہم مقصد اور بهى تها جس كو اگرچہ صراحتاً بيان نہيں كيا گيا، ليكن قدم قدم پر اس كى طرف اس كثرت سے اشارے كئے كہ اگر ان تمام آيتوں كو جمع كرديا جائے تو كئى صفحے صرف انہى سے لبريز ہوجائيں ...!!

حقائق و معارفِ الٰہيہ كے اظہار ميں قرآن حكیم نے عموماً اسى قسم كا طرزِ خطاب اختيار كياہے جس سے باوجود ايہام كے حقيقت كا چہرہ بالكل بے نقاب ہوجاتاہے: ﴿وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ﴾(العنكبوت:٤٣) سفر حج درحقيقت انسانى ترقيوں كے تمام مراحل كا مجموعہ ہے-اس كے ذريعہ انسان تجارت بهى كرسكتا ہے، علمى تحقيقات بهى كرسكتا ہے، جغرافيہ اور سياحت ِعلمیہ كے فوائد بهى حاصل كرسكتا ہے، مختلف قوموں كے تمدن و تہذيب سے آشنا بهى ہوسكتا ہے، ان ميں باہم ارتباط و علائق بهى پيدا ہوسكتے ہيں ، اشاعت ِمذہب و تبلیغ حق و معروف كا فرض بهى انجام دے سكتا ہے، سب سے آخر اور سب سے بڑھ كر يہ كہ تمام عالم كى اصلاح و ہدايت، و انسدادِ مظالم و فتن، وقلع و قمع ِكفار و مفسدين ، و اعلانِ جہاد فى سبيل الحق والعدالة كے لئے بهى وہ ايك بين الملى مركز و مجمع ِعمومِ اہل ارض كا حكم ركهتا ہے-

اُمت ِمسلمہ

ليكن ان تمام چيزوں سے مقدم اور ان تمام ترقيوں كا سنگ ِبنياد ايك خاص اُمت ِمسلمہ اور حزبُ اللہ كا پيدا كرنا اور اس كا استحكام و نشوونما تها-

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیهما السلام نے حج كا مقصد اوّلين اسى كو قرار ديا تها:

﴿رَ‌بَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِ‌نَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّ‌حِيمُ﴾ (البقره:١٢٨)

"اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اوﻻد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہے-"

ليكن جس قالب ميں قوميت كا ڈهانچہ تيار ہوتا ہے، اس ميں دو قوتيں نہايت شدت اور وسعت كے ساتھ عمل كرتى ہيں : آب و ہوا اور مذہب- آب و ہوا اور جغرافيانہ حدودِ طبیعیہ اگرچہ قوميت كے تمام اجزا كو نہايت وسعت كے ساتھ اِحاطہ كرليتے ہيں ، ليكن ان كے حلقہ اثر ميں كوئى دوسرى قوم نہيں داخل ہوسكتى۔ يورپ اور ہندوستان كى قديم قوميت نے صر ف ايك محدود حصہ دنيا ميں نشوونما پائى ہے، اور آب و ہوا كے اثر نے ان كو دنيا كى تمام قوموں سے بالكل الگ تھلگ كرديا ہے- ليكن مذہب كا حلقہ اثر نہايت وسيع ہوتا ہے- وہ ايك محدود قطعہ زمين ميں اپنا عمل نہيں كرتا بلكہ دنيا كے ہر حصے كو اپنى آغوش ميں جگہ ديتا ہے- كہ آب و ہوا كا طوفان خيز تصادم اپنے ساحل پر كسى غيرقوم كو آنے نہيں ديتا مگر مذہب كا اَبر ِكرم اپنے سائے ميں تمام دنيا كو لے ليتا ہے- حضرت ابراہیم علیہ السلام جس عظيم الشان قوم كا خاكہ تيار كررہے تهے-اس كا مايہٴ خمیر صرف مذہب تها، اور اس كى روحانى تركيب عنصر آب وہوا كى آميزش سے بالكل بے نياز تهى- جماعت قائم ہوكراگرچہ ايك محسوس مادّى شكل ميں نظر آتى ہے، ليكن درحقیقت اس كا نظامِ ترکیبی بالكل روحانى طریقہ پر مرتب ہوتا ہے- جس كو صرف جذبات وخيالات، بلكہ عام معنوں ميں صرف قوائے دماغیہ كا اتحاد و اشتراك ترتيب ديتاہے۔اس بنا پر اس قوم كے پيدا ہونے سے پہلے حضرت ابراہیم عليہ السلام نے ايك مذہبى رابطہ اتحاد كے سررشتہ كو مستحكم كيا :

﴿ إِذْ قَالَ لَهُ رَ‌بُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَ‌اهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

"جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہوجا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا-" (البقرة:١٣١،١٣٢)

نشاة ِاولىٰ

ليكن جماعت عموماً اپنے مجموعہ عقائد كو مجسم طور پر دنيا كى فضاے بسیط ميں دیكھنا چاہتى ہے اور اس كے ذريعہ اپنى قوميت كے قديم عہد ِمودّت كو تازہ كرتى ہے، اس لئے انہوں نے اس جديد النشاة قوميت كے ظہور و تكميل كے لئے ايك نهايت مقدس اور وسيع آشيانہ تيار كيا :

﴿وَإِذْ يَرْ‌فَعُ إِبْرَ‌اهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَ‌بَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ (البقرة:١٢٧)

"ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے-"

يہ صرف اينٹ پتهر كا گهر نہ تها بلكہ ايك روحانى جماعت كے قالب كا آب و گل تها، اس لئے جب وہ تيار ہوگيا تو انہوں نے اس جماعت كے پيدا ہونے كى دعا كى : ﴿رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ﴾ اب يہ قوم پيدا ہوگئى اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنى آخرى وصيت كے ذريعہ اس روحانى سررشتہ حيات كو اس كے حوالے كرديا:

﴿وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَ‌اهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾ (البقره:١٣٢)

"اور ابراہیم  اور یعقوب دونوں نے اس روحانى طریقہ نشوونما كى اپنے اپنے بيٹوں كو وصیت كى كہ خدا نے تمہارے لئے ايك برگزيدہ دين منتخب فرما ديا ہے، تم اسى پرقائم رہنا-"

﴿إذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ إذْ قَالَ لِبَنِيْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ بَعْدِيْ قَالُوْا نَعْبُدُ إلٰهَكَ وَإلٰهَ اٰبَائِكَ إبْرَاهِيْمَ وَإسْمَاعِيْلَ وَإسْحٰقَ إلٰهً وَّاحِدًا وَّنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ

"اسی کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اوﻻدکو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرمالیا ہے، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا -" (البقرہ:١٣٣)

آثارِ قائمہ و ثابتہ

اب اگرچہ يہ جماعت دنيا ميں موجود نہ تهى اور اس كے آثارِ صالحہ كو زمانے نے بے اثر كرديا تها :

﴿تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ﴾ (البقرة:١٣٤)

"یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کیا وه ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے-"

ليكن اس كى تربيت و نشوونما كا عہد ِقديم اب تك دستبردِ زمانہ سے بچا ہوا تها، اور اپنے آغوش ميں مقدس يادگاروں كا ايك وسيع ذخيرہ ركهتا تها- اس كے اندر اب تك آبِ زمزم لہريں لے رہا تها، صفا و مروہ كى چوٹيوں كى گردنيں اب تك بلند تهيں ، مذبح ِاسماعیل اب تك مذہب كے گرم خون سے رنگین تها، حجر اسود اب تك بوسہ گاہ خلق تها، مشاعر ِابراہیم اب تك قائم تهے، عرفات كے حدود ميں اب تك كوئى تبديلى نہيں كى گئى تهى، غرض كہ اس كے اندر خدا كے سوا سب كچھ تها اور صرف اسى كے جمالِ جہاں آرا كى كمى تهى-اس لئے اس كى تجديد و نفخ ِروح كے لئے ايك مدت كے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام كى دعا كا سب سے آخرى نتيجہ ظاہر ہوا- اُنہوں نے كعبة اللہ كى بنياد ركهتے ہوئے دعا كى تهى:

﴿رَ‌بَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (البقرة:١٢٩)

"اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے-"

چنانچہ اس كا ظہور وجودِ مقدس حضرت رحمتہ للعالمين و خاتم المرسلين عليہ الصلوٰة والتسليم كى صورت ميں ہوا، جو ٹهيك ٹهيك اس دعا كا پيكر و ممثل تها :

﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾ (الجمعة:٢)

"وہی ہے جس نے ناخوانده لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے-"

پس اُنہوں نے جو قوم پيدا كردى تهى، اس كے اندر سے ايك پیغمبر اُٹها- اس نے اس گهر ميں سب سے پہلے خدا كو ڈهونڈنا شروع كيا، ليكن وه اينٹ پتهر كے ڈھیر ميں بالكل چھپ گيا تها- فتح مكہ نے اس انبار كو ہٹا ديا تو خدا كے نور سے قنديل ِحرم پهر روشن ہوگئى- وہ قوم جس كے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائى تهى، اس پیغمبر كے فیض صحبت سے بالكل مزكىٰ وتربيت يافتہ ہوگئى تهى- اب ايك مركز پرجمع كركے اس كے مذہبى جذبات كو صرف جلا دينا باقى تها- چنانچہ اس كے خانہ كعبہ كے اندر لاكر كهڑا كرديا گيا، اور اس كى مقدس قديم مذہبى يادگاروں كى تجديد و احيا سے اس كے مذہبى جذبات كو بالكل پختہ و مستحكم كرديا، كبهى ان سے كہا گيا :

﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْ‌وَةَ مِن شَعَائِرِ‌ اللَّـهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ‌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾ (البقرة:١٥٨)

"صفااور مروه اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، اس لئے بیت اللہ کا حج وعمره کرنے والے پر ان کا طواف کرلینے میں بھی کوئی گناه نہیں -"

كبهى ان كو مشعر حرام كى ياد دلائى گئى:

﴿فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَ‌فَاتٍ فَاذْكُرُ‌وا اللَّـهَ عِندَ الْمَشْعَرِ‌ الْحَرَ‌امِ ﴾ (البقرة:١٩٨)

"جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو-"

خانہٴ كعبہ خود دنيا كى سب سے قديم يادگار تهى، ليكن اسكى ايك ايك يادگار كو نماياں تر كيا گيا:

﴿فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَ‌اهِيمَ﴾ (آل عمران:٩٧)

"جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں، مقام ابراہیم ہے-"

ليكن جو لوگ خدا كى راہ ميں ثابت قدم رہے، ان كے نقش پا سجدہ گاہ خلق ہونے كے مستحق تهے، اس لئے حكم ديا گيا :

﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌اهِيمَ مُصَلًّى﴾ (البقرة:١٢٥)

"تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو-"

مادّى يادگاروں كى زيارت صرف سيرو تفريح كے لئے كى جاتى ہے، ليكن روحانى يادگاروں سے صرف دل كى آنكھیں ہى بصیرت حاصل كرسكتى ہيں - اس لئے ان كے ادب و احترام كو اتقاء و تبصر كى دليل قرار ديا گيا :

﴿وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ‌ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ (الحج: ٣٢)

﴿وَمَن يُعَظِّمْ حُرُ‌مَاتِ اللَّـهِ فَهُوَ خَيْرٌ‌ لَّهُ عِندَ رَ‌بِّهِ﴾(الحج: ٣٠)

"اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت وحرمت کرے اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے یہ ہے- اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے-"

آنحضرتﷺ ان مقدس يادگاروں كے روحانى اثر و نفوذ كو دلوں ميں جذب كر دينا چاہتے تهے، اس لئے خاص طور پر لوگوں كو ان كى طرف متوجہ فرماتے رہتے تهے:

(هذه مشاعر ابيكم ابراهيم)

"خوب غور سے ديكهو اور بصيرت حاصل كرو، كيونكہ يہ تمہارے باپ ابراہیم كى يادگاريں ہيں "

اعلانِ تكميل

جب اسلام نے اس جدید النشاة قوم كے وجود كى تكمیل كردى اور خانہ كعبہ كى ان مقدس يادگاروں كى روحانيت نے اس كى قوميت كے شيرازہ كو مستحكم كرديا، تو پهرملت ِابراہیمى كى فراموش كردہ روِش دكها دى گئى :

﴿فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَ‌اهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِ‌كِينَ﴾ (آل عمران:٩٥)

"تم سب ابراہیم حنیف کے ملت کی پیروی کرو، جو مشرک نہ تھے-"

اب تمام عرب نے ايك خط ِمستقیم كو اپنا مركز بناليا، اور قديم خطوط منحیہ حرفِ غلط كے طرح مٹا ديئے گئے- جب يہ سب كچھ ہوچكا تو اس كے بعد خداے ابراہیم و اسماعيل  كا سب سے بڑا احسان پورا ہوگيا :

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

"آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا-" (المائدة:٣)