لفظ ِ 'عيد' عود سے مشتق ہے، جس كا معنى لوٹنا اور بار بار پلٹ كر آنا ہے- اس كا نام عيد اس لئے ہے كہ يہ ہر سال لوٹ كر آتى ہے اور كسى بهى چيز كے پلٹ كر آنے ميں كوئى نہ كوئى حكمت پنہاں ہوتى ہے اور عيد كے ہر سال لوٹ كر آنے ميں بهى دنيا بهر كے مسلمانوں كو يہ سبق ياد دلانا مقصود ہوتا ہے كہ وہ جاہلیت كے اَطوار و عادات اور اہل جاہلیت كى تہذيب و ثقافت كو چهوڑ كر اپنے اصل اسلام كى طرف لوٹ آئيں، كيونكہ اسى سے ان كى كهوئى ہوئى عزت بحال ہوسكتى ہے- اقوامِ عالم پر قيادت كا حق جو ان سے چھن چكا ہے اور لوگوں كى صحيح رہنمائى كا دامن جو ان كے ہاتھ سے چهوٹ چكا ہے، تب نصیب ہوگا جب مسلمان، غير مسلموں كى نقالى چهوڑ كر حقيقى دين و شریعت كى طرف پلٹ آئيں گے، اور اس بات كو سمجھ جائيں گے كہ اسلام، تمام مذاہب ِعالم سے بلند و بالا ہے، اور يہ اللہ تعالىٰ كا اپنے بندوں كے نام ايسا پيغام ہے جو جاہلیت كى آميزش اور اہل جاہلیت كے رسم و رواج كى ملاوٹ كو ہرگز قبول نہيں كرتا، دين اسلام ميں كوئى بهى شخص آدها مسلمان آدها انگريز، اور آدها تيتر آدها بٹير بن كر ان بركات كو ہرگز حاصل نہيں كرسكتا جن كا وعدہ اللہ تعالىٰ نے اسلام كے ماننے والوں سے كيا ہے- اسلام كى بركات كے حصول كا صرف ايك ہى ذريعہ ہے كہ اہل اسلام كفر و جاہلیت كى خاردار واديوں سے دامن چهڑا كر اپنے اصل دين كى طرف لوٹ آئيں، تب ہى انہيں عيد كى خوشياں منانا زيب ديتا ہے!! يہ وہ سبق ہے جسے ذہن نشين كرانے كے لئے عيد كا دن ہر سال پلٹ كر آتا ہے-

رسول اللہﷺ جب مكہ مكرمہ سے ہجرت كركے مدينہ منورہ تشريف لائے تو آپ نے ديكها كہ ان ميں كهيل كود اور خوشى منانے كے لئے دو دن 'نور روز اور مہر جان' كے نام سے مقرر ہيں- آپ نےان سے پوچها:

يہ تہوار كيسے ہيں؟ انہوں نے كہا:

"كنا نلعب فيهما في الجاهلية"

اے الله كے رسولﷺ! بہ دن جاہلیت سے ہمارے ہاں لہو و لعب كے لئے مخصوص چلے آ رہے ہیں، آپ نے فرمایا:

"قد أبدلكم الله بهما خيرا منهما يوم الأضحىٰ و يوم الفطر" (سنن ابى داود)

"اللہ نے تمہيں جاہلیت كے ان تہواروں سے كہيں بہتر عیدالفطر اور عيدالاضحى كے دو دن عطا فرمائے ہیں-"

آپ كا مقصد بہ تها كہ جاہلیت كے تہواروں كو چھوڑ كر اسلامی شعائر كو اپنایا جائےپیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک لمحہ كے لئے بهى دین اسلام میں جاہلیت كى آمیزش كو گوارا نہ كيا، اور انسانی برادری كے ساتھ مل كر چلنے كو اہمیت نہیں دى، اظہار ِ مسرت كى خاطر جاہلیت كے تہوار ترك كر كے اسلامی عیدوں كو پیش فرمایا، جو نتائج و مزاج كے اعتبار سے جاہلیت كے تہواروں سے كہيں بہتر ہیں، كيونكہ كفر و جاہلیت كى خوشی كى تقریبات میں شرم و حيا اور عفت وعصمت كى پامالی كے سب سامان ہوتے ہیں؛ مے نوشى، رقص و سرور كى محافل میں جنسی اختلاط جیس خرافات جبین انسانیت كو داغدار كرتى ہیں- اسلام آیا تو اس نے خوشی كے دو دنوں كو برقرار ركها، ليكن جاہلیت كى رسومات و خرافات كا خاتمہ كر كے ان كى جگہ عبادات اور سجود و صلوٰة كو رائج كرديا-

يومِ عيد كے ہر سال پلٹ كر آنے میں وقت كے حكمرانوں كے لئے بهى درسِ عبرت ہے كہ وہ اہل جاہلیت كے ساتھ مصالحت اور ان سے اتحاد كى پینگیں ڈالنے كى بجائے اپنے اسلام كى طرف لوٹيں اور ايك ايسى ریاست میں جو اسلام كے نام پر وجود میں آئی ہے، دستورِ اسلام كا نفاذ كريں اور مسلمانوں كا سربراہ ہونے كى حیثیت سے اپنی ذمہ داريوں كا احساس كريں- اسلام غیرت مندوں كا دين ہے، اسے ائمہ كفر كى چوکھٹ پر ذلیل نہ كريں، اور كسى بهى جامع مسجد میں عيد كى نماز ادا كرتے وقت وہ پیغمبر اسلام كے اس فرمان كو عملى جامہ پہنانے كا عہد كريں كہ "اسلام غالب ہونے كے لئے آيا ہے" ... لہٰذا اسے مغلوب نہ ہونے دیں-

دوسری طرف عوام جب نمازِ عيد سے فارغ ہوكر اپنے گهروں كو واپس لوٹيں تو وہ اپنے گهروں سے جاہلیت كے تمام عادات و اثرات كے استیصال كا عہد كريں، كيونكہ وہ اپنے گهروں كے سربراہ اور منتظم ہیں "كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته" (الحديث) اور وہ اس بات كو پورے يقين و اعتماد سے لیں كہ ان كى بچیوں اور عورتوں كى عزت اور ان كى عفت وعصمت كى حفاظت عریانی اور اپنے محاسن كے اظہار میں نہیں لہٰذا انہیں با پردہ ہوكر گهروں سے نکلنے كى تلقین كريں، گهر سے نکلنے سے لے كر واپس لوٹنے تك شیطان صفت لوگوں كى بُرى نگاہوں سے محفوظ رہنے كے لئے وہ حضرت فاطمہ  اور حضرت عائشہ كى زندگیوں كو اپنے لئے آئيڈيل بنائیں-

نوجوانوں كو فرنگی تہذیب و ثقافت سے فریفتگی كى بجائے وہ انہیں اسلامی تعلیمات كى روشنی میں زندگی گزارنے كا عادی بنائیں كيونكہ مغربی تہذیب و تمدن مارمنقش كى طرح بظاہر دلکش نظر آتى ہے، جبکہ وہ اخروی زندگی كے لئے سم قاتل كى حیثیت ركهتى ہے-

عيدالاضحى مسلمانوں كے لئے خوشی كا پیغام لے كر لوٹتى ہے اور حقیقی خوشی ان لوگوں كے لئے ہے جنہوں نے اپنے آپ كو تقویٰ كى خوبی سے آراستہ كرليا اور قربانی كے دن جانور كے گردن پرچُهرى چلانے سے پہلے اپنے نفس اَمارہ كے گلے پر چُهرى چلا كر اپنے جان و مال كو اور اپنی خواہشات كو اللہ تعالیٰ كے دين كے لئے قربان كرنے كا عہد كرليا-

رسول اللہﷺ سے صحابہ كرام نے دريافت كيا: "اے اللہ كے رسول! يہ قربانى كيوں كى جاتى ہے- آپ نے فرمايا: (سنة أبيكم إبراهيم عليه السلام) "قربانى كرنا ابراہیم عليہ السلام كى سنت ہے-" حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام جن كى سنت كو اہل اسلام كے لئے دين كا شعار بنا ديا گيا ہے، ان كى زندگى كو سامنے ركهيں تو معلوم ہوتا ہے كہ انہوں نے اللہ تعالىٰ كى اطاعت و فرمانبردارى كے لئے اور اس كے دين كى سربلندى كے لئے بے شمار مشكلات كا سامنا كيا- گهر سے نكلے، اپنے وطن سے بے وطن ہوئے، آگ ميں پھینك ديئے گئے ليكن يہ سب كچھ انہوں نے اپنے ربّ كى خاطر برداشت كيا، اس پر اللہ تعالىٰ نے آپ كو وہ عزت عطا كى جس كا تصور نہیں كيا جاسكتا تها، لہٰذا جو شخص بهى دين اسلام كى سربلندی كى خاطر تکلیف اٹھاتا ہے اللہ تعالىٰ اس كى آخرت بهى درست كرديتا ہے اور اس كى دنیا بهى مثالی بنا ديتا ہے، اللہ تعالىٰ مسلمان عوام اور حکمران طبقہ كو غلبہٴ اسلام كى خاطر محنت كرنے كى توفیق مرحمت فر مائے- آمین! محمد رمضان سلفى ( مدير كلية الشريعة، جامعہ لاہور الاسلاميہ)