ثقافت اور کلچر کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ وہ زندگی کی روحانی، فکری، مذہبی اور اخلاقی قدروں کی مجسم تصویر کا نام ہے۔ سچائی، حسن، خیرمحض، انصاف اور محبت اِسی کلچر کی کرنیں ہیں ۔ ثقافت نام ہے ایک طرزِفکر، تخلیقی روایت اور طرزِ معاشرت کا ، جس میں زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ راست بازی، نگاہ کی بلندی اورکردار کی پاکیزگی قرار پاتی ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں ، پیغمبروں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ بلند قدروں کا بنیادی سر چشمہ خدا کی ذات ہے جو تمام چیزوں کاپیمانہ ہے:God is the measure of all things اس کی وجہ یہ ہے اگر آدمی کا رشتہ خدا سے ٹوٹ جائے تو پھر وہ تخیل کی دنیا میں پرواز کرتا ہوا حقائق اور انسانیت سے تغافل بھی برت سکتا ہے۔
انیسویں صدی کے معروف انگریز شاعر اور فلسفی میتھوآرنلڈ نے ثقافت کے فکری پہلو کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا تھا : "Culture is the creation of the best minds"
یعنی "ثقافت بہترین اذہان کی تخلیق کا نام ہے۔"

پروفیسر کرار حسین لکھتے ہیں :
"کلچر ایک ملغوبہ ہے، مذہب +ہسٹری + جغرافیہ کا۔ ہندووٴں کے کلچر اور ہمارے کلچر میں صرف جغرافیہ دونوں طرف ہے۔ ہسٹری اور مذہب ہمیں جدا کرتے ہیں ۔"
معروف جرمن موٴرخ و فلسفی اسوالڈ سپنگلرکا کہنا ہے کہ
"ثقافت (کلچر) مافوق الطبیعات اَفکار پر یقین رکھنے کا نام ہے جن کے لئے انسان اپنی جان بھی دے سکتا ہے۔ "

نامور مصری ادیب ڈاکٹر طہٰ حسین کے بقول :
"کلچر یا ادب ایک بلند قدر ہے جو کسی نظریہ کی آلہ کار نہیں بنتی۔"
ڈاکٹر رشید جالندھری صاحب کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ
"کلچر کا تعلق اپنی سرزمین، مقامی رہن سہن، رسم و رواج اورزبان و ادب سے بھی ہوتا ہے۔"
جو لوگ کلچر کو محض رقص و سرودتک محدود سمجھتے ہیں اور جن کا تخیل کلچر کے متعلق طوائف کے کوٹھے کے حدود اربعہ کے باہر سوچنے سے قاصر ہے، ان کے لئے کلچر کا مندر جہ بالا سطور میں پیش کردہ تصور شاید قابل فہم نہ ہو۔ ایسے افراد جو ہر طرح کے لہوولعب اور خرافات کو قومی کلچر بناکر پیش کرتے ہیں ، ممکن ہے ان کے اَذہان بھی کلچر کے اس ارفع تصور کو قبول کرنے میں تامل محسوس کریں ، مگر حقیقت یہ ہے کہ کلچر کا حقیقی تصور یہی ہے جس کا خلاصہ اس مضمون کی تمہید کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

تہوار ایک ایسا موقع ہے جو کسی خاص حوالہ کے ساتھ کسی مذہب کے پیروکار اپنے کیلنڈر کے مطابق ہر سال مناتے ہیں ۔یہ حوالہ کسی تاریخی واقعہ کی یاد میں ہوسکتا ہے، اور کوئی مذہبی فریضہ اس کی شکل میں ممکن ہو سکتا ہے،لیکن ایک حقیقت جو کہ ہر جگہ درست نظر آئے گی وہ یہ ہے کہ تہوار ایک تاریخی عمل کی حیثیت سے مذہب اور مذہب کے پیروکاروں کے لیے یگانگت اور مذہبی وحدت کی بہت عظیم بنیاد ہے اور تاریخی طور پر ہمیشہ زندہ رہنے والی مثال ہے۔عمومی طور پر مذہب سے منسلک تہوار معاشرتی رنگ میں ڈوب کر بھی واضح رہتے ہیں ۔تہوار منانے کے طریقے مختلف اقوام میں مختلف ہوتے ہیں ۔ہندووٴں میں تہوار منانے کے خاص طریقے ہیں ۔ ہندووٴں کے تہواروں کے نام تو وہی ہیں لیکن ان کے طریقے بدل گئے ہیں ۔بعض تہواروں کے منانے کے طریقے میں برائے نام فرق کر دیا گیا ہے اور بعض کو مذہبی اُمور میں بہ تغیر نام شامل کر دیا گیا ہے۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں :
" تہوار منانے کے طریقے دنیا کی مختلف قوموں میں بے شمار ہیں ۔کچھ میں صرف کھیل کود اور راگ رنگ اور لطف وتفریح تک ہی تہوار محدود رہتا ہے۔کہیں تفریحات تہذیب کی حد سے گزر کر فسق وفجور اور ناشائستگی کی حد تک پہنچ جاتی ہیں ۔کہیں مہذب تفریحات کے ساتھ کچھ سنجیدہ مراسم بھی ادا کیے جاتے ہیں ۔ اور کہیں ان اجتماعی تقریبات سے فائدہ اُٹھا کر لوگوں میں اعلیٰ درجہ کی روح پھونکنے اور کسی بلند نصب العین کے ساتھ محبت اور گرویدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ غرض ہر ایک قوم کا تہوار منانے کا طریقہ گویا ایک پیمانہ ہے جس سے آپ اس کے مزاج اور اس کے حوصلوں اور اُمنگوں کو اعلانیہ ناپ کر دیکھ سکتے ہیں ۔ جتنی بلند روح کسی قوم میں ہو گی، اتنے ہی اس کے تہوار اخلاقی اعتبار سے مہذب اور پاکیزہ ہوں گے۔ اس طرح اخلاقی اعتبار سے کوئی قوم جتنی پست ہو گی وہ اپنے تہواروں میں اتنے ہی مکروہ مناظرپیش کرے گی۔"
اسلامی تہوارایک عجیب ثقافت ،شان، شائستگی اور اخلاقی بلندی کے حامل ہوتے ہیں ۔اس میں نہ لہو ولعب ہوتا ہے ، نہ گھٹیا تفریحات ۔ان کا بنیادی نصب العین ملت ِاسلامیہ میں اتحاد، بھائی چارہ، محبت اور یگانگی پیدا کرنا اور پاکیزہ اطوار دیناہے۔

بسنت اور آزاد روی

ہمارے ہاں دانشوروں کا ایک مخصوص طبقہ بسنت کو 'ثقافتی تہوار' کا نام دیتا ہے۔ مگر گذشتہ چند برسوں سے 'بسنت' کے نام پر جو کچھ کیا جارہا ہے، اسے زندگی کی روحانی، فکری اور اخلاقی قدروں کی مجسم تصویر نہیں بلکہ 'تذلیل' کہا جانا چاہئے۔
بسنت کے موقع پر جس طر ح کی 'ثقافت' کا بھرپور مظاہرہ کیا جاتا ہے، کوئی بھی سلیم الطبع انسان اسے 'بہترین اذہان کی تخلیق' نہیں کہہ سکتا۔
بسنت ایک ایسے طرزِ معاشرت کو پروان چڑھانے کاباعث بن رہا ہے جس میں کردار کی پاکیزگی کی بجائے لہوو لعب سے شغف، اوباشی اور بے حیائی کا عنصر بے حد نمایاں ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے بسنت کو زبردستی لاہور کے ایک ثقافتی تہوار کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ تاریخی طور پر بسنت ایک ہندووٴانہ تہوار ہی تھامگر جو رنگ رلیاں ، ہلڑ بازی، ہاوٴ ہو، لچرپن، بے ہودگی، ہوسناکی، نمودونمائش اور مادّہ پرستانہ صارفیت بسنت کے نام نہاد تہوار میں شامل کردی گئی ہے، اس کا تاریخ سے کوئی تعلق ہے، نہ اہل پاکستان کی ثقافت اسے کبھی گوارا کرسکتی ہے۔ یہ بالکل نئی شروعات ہیں جنہیں تفریح و ثقافت کے نام پر پاکستان میں متعارف کرایا جارہا ہے۔ لاہوری بسنت کا اہم ترین مظاہرہ 'بسنت نائٹ'کو دیکھنے میں آتا ہے۔ بسنت نائٹ جسے 'شب ِعشرت' کہنا زیادہ مناسب ہے، پندرہ بیس سال پہلے اس کا وجود تک نہ تھا اور آج اس کے بغیر شاید بسنت کا سارا فیسٹیول 'پھیکا اور بے مزہ' نظر آئے۔

بسنتی تماش بینوں کے لئے 'بسنت نائٹ' ہی سب سے پرکشش اور ان کی ہوسناکی کی تسکین کا موٴثر ترین ذریعہ ہے۔ 2000ء سے سرکاری سرپرستی نے اس ہوش ربا شب ِ عشرت کے رنگ ِحنا کو اور بھی چمکا دیا ہے۔ بسنتی پروانے شب ِبسنت کو تابناک شمع سمجھ کر اس پر ایسے جھپٹتے ہیں کہ اہالیانِ لاہورکی زندگیاں اجیرن بنا دیتے ہیں ۔ لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک کااتنا بڑا اژدہام کبھی نظر نہیں آتا۔ دور و دراز سے بسنتی پروانے شب ِبسنت کی بھیگی منور زلفوں کے معمولی لمس کی حسرت دلوں میں لئے دیوانہ وار لاہور پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، اندرونِ لاہور ہوٹلوں ، بڑے پلازوں اور بعض زندہ دلانِ لاہور کے مکانات کی چھتیں بسنت نائٹ کو طوائف کے کوٹھے اور انگریز دور کے جمخانہ جیسے میکدے سے زیادہ بارونق نظر آتے ہیں ۔

بسنت نائٹ کو بازار ی عورتیں جسم فروشی سے چاندی بناتی ہیں تو لاہوریے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑے تاجروں کو اپنے مکانات کی چھتیں کرائے پر دے کر ایک ہی رات میں لاکھوں کی کمائی کرتے ہیں ۔ کئی کئی ہفتے پہلے ان چھتوں کے سودے ہوجاتے ہیں ۔ اندرونِ لاہور کی چھتیں بسنت نائٹ منانے کے لئے پچاس ہزار سے لے کر10 لاکھ تک بک کی جاتی ہیں ۔ ان چھتوں پر صرف لذتِ کام و دہن کا ہی اہتمام نہیں ہوتا، ذوقِ سماعت کے لئے راگ رنگ اور ہوس ناک نگاہوں کی تسکین کا بھی پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ شراب و کباب، موسیقی، پری زاد چہرے، رقص، جلوے؛ غرض کیا کچھ نہیں ہوتا۔ بسنت نائٹ، شب ِغنا اور شب ِگناہ کابہت ہی کریہہ منظر پیش کرتی ہے۔

لاہور شہر کے ہوٹلوں کی چھتیں ہی نہیں ، کمرے بھی بسنتی ذوق کے مطابق آراستہ کئے جاتے ہیں ۔ شام ڈھلتے ہی ان چھتوں پر راگ رنگ، ناوٴ و نوش ، موسیقی اور پتنگ بازی شروع ہوجاتی ہے۔ ایسی محفلوں میں شراب پانی کی طرح چلتی ہے۔ بسنت نائٹ پران ہوٹلوں میں کمروں کے نرخ چار پانچ گنا بڑھ جاتے ہیں ۔ باذوق تماش بین ایسے ہوٹلوں میں اپنی چاہت کے کمروں میں قیام کے لئے لاکھوں روپے خرچ کرنے سے بھی پس و پیش نہیں کرتے۔ ان ہوٹلوں کی راہداریوں میں جا بجا نشے میں دھت جوڑے جھولتے لڑکھڑاتے نظر آتے ہیں ۔ لاہور شہر میں جنسی بے راہ روی کتنی ہے، اور بازاری عورتوں کے لاوٴ لشکر کس قدر زیادہ ہیں ، اس کا اندازہ اگر کوئی کرنا چاہے تو بسنت نائٹ سے زیادہ موزوں شاید کوئی دوسرا موقع نہ ہو۔

بسنت اور ملٹی نیشنل کمپنیاں

بسنت کے موقع پر مال روڈ، جیل روڈ، گلبرگ بلیووارڈ، فیروز پور روڈ اور دیگر اہم شاہرات پتنگوں کی شکل کے بورڈوں اور اشتہارات سے مزین کردی جاتی ہیں ۔ ان شاہراہوں پر سفر کرنے والے کی نگاہیں ان پتنگوں سے چھٹکارا نہیں پاسکتی۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات بھی ایسے اشتہارات اور بسنتی پروگراموں کو بھرپور کوریج دیتے ہیں ۔ پی ایچ اے اور دیگر سرکاری اداروں کے تعاون سے بڑے زبردست 'ثقافتی' پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں ۔ شاہی قلعہ، حمام، ریس کورس اور دیگر مقامات پر رنگا رنگ تقریبات کی جاتی ہیں جن پر لاکھوں روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سرکاری ادارے اپنے بجٹ سے یہ رقم خرچ نہیں کرتے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور کاروباری ادارے یہ پروگرام سپانسر کرتے ہیں ۔ 2003ء میں بسنت کے موقع پر کوکا کولا نے 45لاکھ روپے اور پیپسی کولا نے 35 لاکھ روپے کی خطیر رقم اس طرح کے پروگرام اور شاہراہوں کو سجانے کے لئے عطیات کے طور پر دی۔ یہ وہ اعدادوشمار ہیں جو پی ایچ اے نے صوبائی اسمبلی کے ایک معزز رکن کے سوال کے جواب میں دیئے۔ سوا ل پیدا ہوتا ہے کہ یہ کثیر القومی تجارتی ادارے پاکستان کے ایک نام نہاد ثقافتی تہوار کی رونق کو دوبالا کرنے کے لئے اس قدر فیاضی اور سخاوت کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں ؟ اس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ انہیں ہماری ثقافت سے کوئی دلچسپی نہیں ،درحقیقت وہ ایک ایسی ثقافت کو فروغ دینا چاہتے ہیں جو اُن کی تجارت کو پروان چڑھا سکے۔

مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے اُصولوں کو فروغ دینے والی یہ کمپنیاں تجارت کے ساتھ ساتھ ثقافتی لبرل ازم کا ایجنڈا بھی رکھتی ہیں ۔ ان کا کاروبار مغربی کلچر کو پروان چڑھائے بغیر فروغ نہیں پاسکتا۔ یورپ اور امریکہ میں ان یہودی تاجر اداروں نے پہلے ایک مخصوص لبرل کلچر کو ترقی دی، بعد میں اس موزوں کلچر کی وجہ سے ان کا کاروبارخوب چمکا۔ آج صور ت یہ ہے کہ امریکہ میں پیاس بجھانے کے لئے شاید ہی کوئی امریکی سادہ پانی کا گلاس پئے۔ کوکا کولا اور اس طرح کے مشروب ہی ان کے لئے پانی کی جگہ لے چکے ہیں ۔ پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں ان مغربی مشروبات کی کھپت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

مغربی سرمایہ دارانہ نظام نے جس صارفیت کوجنم دیا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو خاندانی ماحول سے نکال کر بازار اور منڈی کے مخلوط ماحول میں لاکھڑا کیا جائے جس میں لہوولعب، فارغ البالی اور جنسی بے راہ روی کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ امریکی تھنک ٹینک ان ملٹی نیشنل اداروں کوثقافتی ایجنڈا بھی سونپتے ہیں ۔ ترقی پذیر ممالک کے کلچر کو مغربی کلچر کے مطابق ڈھالنا ان کے اس ایجنڈے کا اہم نکتہ ہے۔ پاکستان میں میکڈونلڈ نقصان میں جارہا ہے، مگر وہ اپنے کسی بھی سیل پوائنٹ کو بند نہیں کررہے۔ امریکہ سے آنے والے ایک باخبر پاکستانی کا کہنا ہے کہ میکڈونلڈ نے پاکستان میں اپنے ریستوران کا جال بچھا کر امریکہ میں اچھی خاصی subsidy (امداد)حاصل کی ہے۔

ان کا ثقافتی ایجنڈا یہ ہے کہ پاکستانیوں کو مشرقی کھانوں سے بیزار کرکے امریکی کھانوں کی رغبت دی جائے۔ امریکہ دنیا میں سیاسی نظام کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی اقدار کو بھی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ مگر افسوس ہمارے پالیسی ساز اس خطرناک ایجنڈے کا اِدراک کرنے سے قاصر ہیں ۔ وہ محض اس بات پر ہی خوش ہیں کہ انہیں بسنت منانے کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیاں کروڑوں روپے دے رہی ہیں اور ان کی جیب سے کچھ خرچ نہیں ہورہا۔ ان سکوں کی جھنکار میں پاکستان پرغیرمحسوس طریقے سے جو ثقافتی یلغار کی جارہی ہے، اس کے خطرناک مضمرات سے چشم پوشی بے حد افسوس ناک ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں بسنتی تہوار کے ذریعے کس طرح کا کلچر پروان چڑھانا چاہتی ہیں ، اس کا اندازہ ان کی طرف سے دیئے گئے اشتہارات اور جابجا نصب کردہ بسنتی بورڈوں پر درج شدہ ان نعروں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

2003ء کے بسنت کے موقع پرپیپسی کولا نے اپنے بورڈوں پر یہ نعرہ درج کیا :

سارے لہور دی اِکو ٹور پیپسی گڈیاں ، بھنگڑے ڈور

بسنت مناواں ، پینگاں پاواں کھابے کھاواں ، موج اڑا واں

ایک اور ملٹی نیشنل کمپنی نے کپڑے کے بسنتی بینروں سے لاہور شہر کو سجا رکھا تھا اس پر تحریر تھا :

رقص میں ہے سارا جہاں

یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں کھابے کھانے اور موج اُڑانے کا کلچر پروان چڑھا کر پاکستان کی نوجوان نسل کو اس کی فکری اَساس اور ان بلند ثقافتی قدروں سے محروم کرنا چاہتی ہیں جن کے بغیر کوئی بھی قوم ثقافتی عروج حاصل نہیں کرسکتی۔ ان بلند ثقافتی اقدار کا ذکر اس مضمون کی تمہید میں کردیا گیا ہے، قارئین خود ہی موازنہ کرلیں ۔
بسنت پر انسانی جانوں کا زیاں
بسنت کے پردے میں پاکستان میں رقص و سرود، لہوولعب اور بے حیائی کو فروغ دینے کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیاں بھاری سرمایہ کاری کررہی ہیں ۔ بسنتی لہوو لعب کے بڑھتے ہوئے رجحان سے جہاں ہماری ثقافتی اقدار کا جنازہ نکل رہا ہے، وہاں قاتل بسنت کے ہاتھوں اپنی جانیں ہار جانے والوں کے جنازے بھی سال بہ سال اُٹھ رہے ہیں ۔ دھاتی ڈور سے شہ رگ کٹنے کے واقعات پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ بسنت کے دنوں میں چھتوں سے گر کر اور گاڑیوں سے ٹکرا کر مرنے اور زخمی ہونے والوں کا ذکر بھی کچھ کم روح فرسا نہیں ہے۔ کاش کہ فلڈ لائٹوں کی مصنوعی چکا چوند روشی میں پتنگ بازی کا شغل برپا کرنے والوں کو احساس ہوتا کہ کتنے معصوم شہری موت کے اندھے غار میں اُتر جاتے ہیں ۔

بسنت کے موقع پر کتنے لوگ ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں ، اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا تو بہت مشکل ہے ۔گزشتہ چند سالوں سے اخبارات میں دھاتی تار کی و جہ سے بجلی کا کرنٹ لگنے اور شہ رگ پر ڈور پھرنے کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی خبریں شائع ہوئی ہیں ،مگر بسنت کے موقع پر چھتوں سے گر کر، گاڑیوں سے ٹکرا کر اور دیگر وجوہات سے زخمی ہونے والوں کے حتمی اعداد وشمار کو جمع کرنا بے حد مشکل ہے۔ 20/فروری 2000ء کو روزنامہ انصاف نے 1995ء سے لیکر 2000ء تک بسنت کے دنوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق :

سال                        ہلاکت                           زخمی                           سال                          ہلاکت                          زخمی

1995ء                     6                               200                           1998ء                        6                           500

1996ء                     7 (2بچے)                  250                          1999ء                         3                           675

1997ء                     3                               800                           2000ء                        8                           713

2003ء میں لاہور میں 10 قیمتی جانیں بسنت کی 'خوشیوں 'کی نذر ہوئیں ۔ جبکہ 300سے زائد افرا د زخمی ہوکر اور اندھی گولیوں کا نشانہ بن کر ہسپتالوں میں پہنچے۔ نوائے وقت کی خاتون مضمون نگار رفیعہ ناہید پاشا نے 19/ جنوری2004ء کو گذشتہ تین برسوں کے دوران پتنگ بازی کے باعث پیش آنے والے چند دلخراش واقعات کی رپورٹ پیش کی ہے۔ اسے پڑھ کر ایک حساس آدمی جذبات پرقابو نہیں رکھ سکتا۔ وہ لکھتی ہیں :
"2 جولائی 2003ء کے صر ف ایک ہفتے میں تین افراد قاتل ڈور کا شکار ہوئے۔ 14سالہ طالب علم ندیم حسین شام کو ٹیوشن پڑھ کر موٹر سائیکل پر گھر واپس آرہا تھا، اس کی گردن پر کٹی پتنگ کی ڈور پھر جانے سے اس کی شہ رگ کٹ گئی۔ اس سے پہلے کہ کوئی مدد کو آتا وہ کلمہ چوک کے قریب جان جانِ آفرین کے سپرد کرچکا تھا۔ لاش گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ وہ میٹرک کے امتحان کی تیاری کررہا تھا اور ماں بہنیں جنہوں نے اس کے تابناک مستقبل کے حوالے سے کئی خواب دیکھ رکھے تھے، اس کی کتابیں ہاتھ میں لئے بے بسی سے آنسو بہاتی رہیں ، جوان بیٹوں کے لاشے وصول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ادھیڑ عمر ماں لاش سے لپٹ کر دیر تک روتی رہی۔"


اسی طرح

"مکھن پورہ کا رہائشی مبین شاہد اپنی اہلیہ اور تین سالہ بیٹے فہیم کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر سسرال جارہا تھا کہ اچانک مزنگ کے قریب فہیم خون میں لت پت ہوگیا۔ دونوں میاں بیوی وحشت سے چیخ و پکار کرنے لگے تو علم ہوا کہ ڈور بچے کی شہ رگ کاٹ چکی ہے۔ چند لمحوں کے اندر اندر فہیم نے باپ کی گود میں تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔" (نوائے وقت)
معروف کالم نگار حسن نثار نے 'بسنتی قتل عام' کے عنوان سے تحریر کردہ کالم میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا :

" ایک اور حادثہ کا میں جزوی طور پر عینی شاہد ہوں ، میں نے کلمہ چوک کے قریب معصوم خون کا وہ بہت بڑا دھبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ، جس کا تعلق ایک ایسے نو عمر لڑکے سے تھا جو کئی بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کے ناطے پورے خاندان کی جان تھا اور یہ جان بھی بے رحم ڈور نے لے لی۔اک اور گھر کا چراغ پتنگ بازی نے گل کر دیا۔"(جنگ:2/جولائی 2003ء)

علیٰ ہذا القیاس پتنگ بازی کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے کس کس کا نام لیا جائے۔ خود حکومت ِپنجاب نے حال ہی میں صوبائی اسمبلی میں ایک رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں جو رپورٹ دی ہے، اس کے الفاظ ملاحظہ کیجئے:

"پتنگ بازی کے نتیجہ میں لاہور شہر میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق بسنت کے دوران صرف لاہور شہر میں 42/افراد ہلاک ہوئے جبکہ 425/ افراد زخمی ہوئے۔ لیکن حکومت ِپنجاب کی طرف سے پتنگ بازی پر پابندی عائد کرنے کے بعد ان قیمتی جانوں کا ضیاع تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ موٹر سائیکل سوار نوجوان گلے پر ڈور پھرنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔ لیکن حکومت کی طرف سے دھاتی تار اور کیمیکل ڈور پر پابندی لگنے کے بعد یہ اموات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔" (اسمبلی ریکارڈ)

یاد رہے کہ یہ جواب اسمبلی میں 17/اکتوبر 2003ء کو داخل کرایا گیا اور 12/جنوری 2004ء کوزیربحث لایا گیا۔ ایک طرف رفیعہ ناہید پاشا کی طرف سے بیان کردہ دلخراش واقعات اور حکومت ِپنجاب کی رپورٹ ہے، مگر دوسری طرف ہمارے پیش نظر ایک صوبائی وزیر کا بیان ہے۔ موٴرخہ 8/جنوری 2004ء کو ایک مقامی ہوٹل میں بسنت فیسٹیول کے آرگنائزر کی طرف سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انسانی جانوں کے حوالے سے فرمایا:

"اس سے کہیں زیادہ ہلاکتیں ، ڈکیتیوں ، ٹریفک حادثات اور خود کشیوں میں ہوتی ہیں ، ا س پر کوئی نہیں بولتا۔" (نوائے وقت)

مجھے یاد ہے کہ معروف کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی نے بھی 2001ء میں روزنامہ 'پاکستان' میں شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں بسنت کے جواز میں کچھ اس طرح کا استدلال پیش کیا تھا، مگر 2003ء کے بسنت کے موقع پر انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ بسنت جیسی عوامی تفریح کو مافیا نے اپنی عیاشی اور نمودونمائش کا ذریعہ بنا لیا۔ (کالم موٴرخہ:17/ فروری 2003ء)

اگر غور کیا جائے تو ڈکیتیوں ، ٹریفک حادثات اور خود کشیوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور پتنگ کی ڈور سے شہ رگ کٹ کر مرنے والوں میں ایک اُصولی فرق ہے۔ ٹریفک حادثات ہوں یا ڈکیتیاں ، ان میں ذمہ دار افراد کو اسی وقت یا بعد میں گرفتار کیا جاسکتا ہے اور ان پرمقدمہ دائر ہوسکتا ہے۔ مگر لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں گذشتہ تین سالوں میں 42/افراد پتنگ بازی کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں مگر آج تک کسی بھی 'قاتل ڈور' کے پس پشت ہاتھ پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکا، اور نہ ہی اس کا مستقبل میں کوئی امکان ہے۔

پھر ٹریفک اور پتنگ بازی ایک جیسے اہم نہیں ہیں ۔ شہر میں ٹریفک تو ناگزیر ہے، مگر پتنگ بازی کے بغیر نہ صرف یہ کہ گذارا ہوسکتا ہے بلکہ گذشتہ چند ماہ کی پابندی کے دوران عوام نے بہت سکھ پایا ہے۔ پھر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ٹریفک کے حادثات میں ہونے والی ہلاکتیں لاہور جیسے گنجان آبادی کے شہر میں نہیں ہوا کرتیں ، یہ ہائی ویز پرتیز رفتاری سے ہوتی ہیں ۔ شہر میں تیز رفتار ٹریفک کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے ہلاکتوں کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی طرح اگر شہری آبادی میں پتنگ بازی سے ہلاکتوں کا خدشہ ہو تو اس پر پابندی ضرور لگنی چاہئے۔ ٹریفک حادثات اور بسنتی حادثات کو ایک ہی میزان میں تولنا غیر منطقی اور غیر عقلی استدلال ہے!!

لاہور کی نئی بسنت

2000ء سے لاہور میں بسنت منانے کے طور طریقوں ، اندز و اطوار اور لہوو لعب کے اُسلوب میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ پہلا سال تھا جب پی ایچ اے اور دیگر سرکاری اداروں نے بسنتی پروگراموں کا نہ صرف بھرپور اہتمام کیا بلکہ ملٹی نیشنل اداروں اور تجارتی کمپنیوں کو بسنتی ثقافت کے فروغ میں والہانہ کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی۔ بسنت مافیا نے سرکاری شرکت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بسنت میں ایسی ایسی خرافات بھی شامل کردیں جن کا 'سرسوں کے پھول کی خوشبو' یا عوام کی 'صاف ستھری' تفریح سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس سے پہلے شہر کی عیاش اشرافیہ ناوٴ و نوش اور رقص وسرود کی جو محفلیں کوٹھیوں اور حویلیوں کی چاردیواری میں برپا کرتی تھی، اب اس کا اہتمام ہوٹلوں ، ریستورانوں ، بلند وبالا عمارتوں اور بازاری پلازوں کی چھتوں پربے حد ہنگامہ خیز انداز میں کیا جانے لگا۔ اب تماش بینوں کو بسنتی مجرے دیکھنے یا بسنتی لباس میں گڈے اُڑاتی پری جمال تتلیوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے یوسف صلاح الدین جیسے 'شرفا' کی حویلیوں کے طواف کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ اب تو ہر دوسرے ہوٹل یا پلازے کی چھتیں مجرہ گاہ کا منظر پیش کرنے لگیں ۔ سینکڑوں نہیں ، بلکہ ہزاروں نو دولتیوں نے بسنت کو 'طوائف' سمجھ کر اس پراپنے سرمائے کی یلغار کردی۔ پھر ان لوگوں نے ان چھتوں پر جواں جسموں کی وہ وہ منڈیاں لگائیں کہ یوسف صلاح الدین جیسے روایتی بسنت کے عاشق شرفا بھی اس کودیکھ کر شاید شرما جائیں ۔

اس تبدیلی کو نذیر ناجی جیسے سیکولر کالم نگار نے بھی محسوس کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

"بسنت ہر سال نئے زور اور نئی توانائیوں کے ساتھ آنے لگی ہے اور مجھے ہر بار یوسف صلاح الدین یاد آتے ہیں ۔ لاہور بلکہ پاکستان میں بسنت کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اسے گلی محلوں کے تہوار سے اوپر اٹھا کر پاکستان کی اشرافیہ اور پھر عالمی سطح تک لانے میں یوسف صلاح الدین نے پہلا اور بنیادی کردار ادا کیا۔ اُنہی کی دعوتوں پر لاہور کے ایلیٹ نے بسنت منانا شروع کی ... اور پھر تہوار کے پھیلتے رنگ چاروں طرف چھا گئے۔ یوسف صلاح الدین آج بھی اپنی حویلی میں بسنت مناتے ہیں لیکن سرمائے کی یلغار نے انہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔"(روزنامہ جنگ:12/فروری2003ء)

نذیر ناجی جیسے دانشور تو شاید بسنت کے پھیلتے رنگوں کے سحر سے باہر آنے کو تیار نہیں مگر یہی وہ 'نئے دور کا بسنت' ہے جس نے پاکستان کی ثقافتی قدروں کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے اور جس کی وجہ سیہر اس پاکستانی کا چین غارت ہوگیا ہے جو اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کو یوں نیست و نابود ہوتے دیکھ کر خون کے آنسو روتا ہے۔

بسنت کا 'نیا زور' اور 'نئی توانیاں ' دیوانہ وار آگے بڑھتی رہیں ۔ بالآ خر 2002ء میں یہ ہنگامہ کلائمکس (Climax) کو چھوتا دکھائی دیا۔ اس سال بسنت کے نام پر وہ ہڑبونگ مچا جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ پہلے بسنت صرف ایک دن منائی جاتی تھی، اس سال تین دن تک یہ شور شرابہ جاری رہا۔ بسنت مافیا نے نئی خرافات متعارف کرائیں ۔ نئے نئے بے ہودہ بسنتی گیتوں سے محلے اور بازار گونجنے لگے۔ Tango نام کی ایک تجارتی کمپنی نے شہر میں جابجا ٹرالر کھڑے کئے جن پر کرائے کے لڑکے اور لڑکیاں 'نچ پنجابن نچ' جیسے بیہودہ گیت پر مجنونانہ ڈانس کرتے۔ ماڈل ٹاوٴن، خالد مارکیٹ میں اس کمپنی کا ٹرک مسجد سے محض 20 فٹ کے فاصلہ پر کھڑا کیا گیا۔ اذان اور نماز کے وقت بھی یہ لوگ 'نچ پنجابن نچ' کی مستی میں مبتلا رہے۔ متعدد سپیکروں کی کان پھاڑنے والی آواز، بے ہودہ گانوں اور لچر ڈانس سے مقامی آبادی کو اس قدر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کہ شہریوں نے اشتعال میں آکر اس ٹرالر پر ہلہ بول دیا اور اسے زبردستی بند کرایا۔ یہ تو محض ایک مثال ہے ورنہ شہر بھر میں بیہودگی اور لچرپن کا راج تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کی ثقافت کی جڑیں اکھاڑنے اور مغرب کی بیہودہ لبرل تہذیب کورواج دینے کا پروگرام بنایا گیا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے بسنت کو ایک Cover کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

2002ء میں 17/ فروری کو لاہور میں بسنت منائی گئی۔ اس سال سب سے زیادہ Vulgur(بے ہودہ) تقریب کا اہتمام ایک این جی او نے شاہی قلعہ میں کیا۔ قومی اخبارات نے اس تقریب کی جو تفصیلات شائع کیں ، اسے پڑھ کر ہر شخص بخوبی اندازہ کرسکتا ہے کہ ہمارے ہاں بسنت کے نام پر کس طرح کا کلچر پروان چڑھانے کی کاوش کی جارہی ہے۔ روزنامہ پاکستان نے 19/ فروری 2002ء کو اس واقعہ کی خبر صفحہٴ اوّل پر شائع کی۔ اس خبر کی نمایاں سرخی یہ تھی: "شاہی قلعہ میں کھلم کھلا شراب چلی..."

مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیے:

"لیٹن رحمت اللہ آئی ہسپتال کے زیراہتمام شاہی قلعہ لاہور میں عطیات اکٹھے کرنے کے لئے بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا جہاں سرعام شراب تقسیم کی گئی۔ روزنامہ پاکستان کی تحقیق کے مطابق ایل آر بی ٹی (لیٹن رحمت اللہ بینوولینٹ ٹرسٹ) کے زیراہتمام جمعہ کو شاہی قلعہ میں تقریب منعقد ہوئی اور اس پروگرام کے دعوتی کارڈ چھ ہزار روپے فی کس کے حساب سے فروخت کئے گئے۔ اس تقریب میں وفاقی وزیرپٹرولیم عثمان امین الدین مہمانِ خصوصی تھے۔ شاہی قلعہ کے وسیع باغ میں رات دیر گئے تک جاری رہنے والی اس تقریب میں سینکڑوں 'مخیر' حضرات نے شرکت کی۔ کھانے کے ہر میز پر 2/ افراد کی گنجائش تھی۔ جبکہ ہر میز کے ساتھ وافر مقدارمیں شراب سجائی گئی تھی۔ شرکا تقریب میں موسیقی کے پروگرام کے ساتھ شراب نوشی سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔"

روز نامہ پاکستان کی اس تحقیقاتی رپورٹ کے یہ الفاظ غور سے پڑھنے کے لائق ہیں :

"اس پارٹی میں ایک اعلیٰ سرکاری عہد یدار نے غیر ملکی مہمانوں کو فخر سے دکھاتے ہوئے کہا کہ آپ خود دیکھ لیں : کہاں ہے بنیاد پرستی اور انتہا پسندی؟ پاکستان ایک لبرل اور اعتدال پسند معاشرہ ہے...!!"

روزنامہ پاکستان نے اسی روز مولانا عبدالرحمن اشرفی، مفتی غلام سرور قادری، مولانا سمیع الحق، منور حسن، مولانا امجد خان اور دیگر تقریباً 20 علماء کے نام بھی شائع کئے جنہوں نے اس پروگرام کے ذمہ داران کی شدید مذمت کی اور کہا کہ شراب کو خیرات کا ذریعہ بنانا جائز نہیں ۔

ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے بیان دیا کہ

"اگر ایسا پروگرام ہوا ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، انہوں نے کہا جو کچھ ہوا میرے علم میں نہیں ۔ اگر اس تقریب میں سرعام شراب تقسیم کی گئی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف تحقیق کر کے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیرات کے نام پر شراب کی محفلیں منعقد کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔" (روزنامہ پاکستان: 19/ فروری2002ء)

بعد میں اس واقعہ کے متعلق کوئی تحقیق یا کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟ اس کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔

روز نامہ نوائے وقت نے 19/ فروری 2002ء کے اداریے میں بسنتی خرافات کا نوٹس لیتے ہوئے تحریر کیا:

"اس پر مستزاد یہ کہ شاہی قلعہ لاہور کی تقریب میں شراب وافر مقدار میں تقسیم کی گئی اور 2/افراد کی ہرمیز کے ساتھ شراب سجائی گئی تھی۔ ان سب حقائق کے پیش نظر یہ کہنا مناسب ہے کہ تعیش پسند طبقے نے مال خوب لٹایا اور حکومتی پابندیاں پتنگوں کے ساتھ اُڑا دیں یا ناوٴو نوش کی نذر کردیں ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان تقریبات میں غیر ملکی سفیروں کو بلا کر پاکستان کی عشرت پسندی کا ایسا مظاہرہ کیا گیا جو ملک و قوم کی تہذیبی روایات کے خلاف تھا۔جرمنی کے سفیر نے کہا کہ "ہمارے ملک میں بھی پتنگ بازی ہوتی ہے مگر پاکستان میں انوکھی ہے۔"

چین پتنگ بازی کو رائج کرنے والا ملک شمار ہوتا ہے لیکن جو عیاشی لاہور میں دیکھی گئی اس کا متحمل چین جیسا ملک بھی نہیں ہے... بسنت ہندووٴں کا تہوار ہے لیکن بھارت میں بسنت عام معمول کا دن تھا۔ پاکستانیوں نے اسے 'ہائی جیک'کرکے لہوولعب کے فروغ کا وسیلہ بنایا۔ اخبارات میں خواتین کے بھنگڑے کی جو تصویریں چھپیں ، غیرت کے منافی ہیں ۔ یہ قوم کش عیاشی اس طبقے کی ہے جس نے حرام مال افراط سے جمع کیا ہے اور اب اس حال مست قوم کا تہذیبی مزاج لبرل ازم کی طرف لانے کے لئے برسرعمل ہے۔ امریکہ جس لبرل ازم کو فروغ دینا چاہتا ہے وہ پورے ڈھول ڈھمکے کے ساتھ یہاں وارد ہوچکی ہے۔ اور اس کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے۔"

ایک سال بعد نوائے وقت کے احتجاجی نوٹ میں مزید تلخی پیدا ہو گئی :

" پچھلی تین بسنتوں کے دوران لاہور جیسے علمی وتہذیبی شہر کا جو حال ہوا وہ بیان سے باہر ہے۔شراب کے جام پر جام لنڈھائے گئے۔ حکمرانوں کی موجودگی میں مقامی اور دوسرے شہروں سے آئے ہوئے 'معززین' نے وہ حرکات کیں کہ ان کے ذکر سے بھی تعفن محسوس ہوتا ہے ۔یہاں تک کہ خالد حسن جیسا لبرل اور سیکولر خیالات رکھنے والا دانش ور انگریزی روزنامے ڈان میں یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ بسنت کے روز لاہور'کوٹھے' میں تبدیل ہو چکا تھا۔" (ادارتی نوٹ:3/جولائی 2003ء)

لبرل کلچر کی ایک جھلک

حالیہ برسوں میں بسنت کے جنوں نے ہمارے معاشرے کی صدیوں سے مسلمہ سماجی وثقافتی اقدار کو شکست و ریخت سے دوچار کردیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورتیں پتنگ بازی کے شغل میں شریک نہیں ہوتی تھیں ۔ عورتوں اور لڑکوں کا چھت پر جاکر پتنگ کی ڈور پکڑنا یا 'بوکاٹا' کے نعروں میں شامل ہونا بے حد نازیبا اور گری ہوئی حرکت سمجھی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ چھتوں پر مرد یا جواں لڑکے ہی پتنگ بازی کا شغل برپا کرتے دکھائی دیتے تھے۔ عام آدمی کی غیرت گوارا نہیں کرتی تھی کہ وہ اپنی بیوی، بیٹی یا بہن کو اس لہوولعب میں شانہ بشانہ شریک دیکھ سکے۔ مگر اب تو معلوم ہوتا ہے کہ شرم و حیا کے تمام پردے گرا دیے گئے ہیں ۔ چھتوں پر عورتیں بسنتی لباس پہن کرنہ صرف سرسوں کی فصلیں لگاتی ہیں بلکہ باپ، بھائی اور غیر محرم مردوں کی موجودگی میں 'بوکاٹا' کے نعرے لگاتی ہیں ، پتنگ باز سجنا کے گیت گاتی ہیں ، اور ترنگ میں آکر بھنگڑا بھی ڈال لیتی ہیں ۔

بسنت کے موقع پر قریبی چھتوں پر لڑکے اور لڑکیوں کے غول در غول عشق و فسق کی آتش کو ہوا دینے میں بے حد ساز گار ماحول مہیا کرتے ہیں ۔ اس لبرل ماحول میں پتنگیں اُڑانے اور آنکھیں لڑانے کا شغل دونوں جاری رہتے ہیں ۔ ہمارے شاعروں نے بھی بے حد مزے لے کر اس عشق بازانہ پتنگ بازی کو موضوعِ سخن بنایا ہے۔ بعض شعرا کی شاعری کا بسنتی رنگ ملاحظہ کیجئے۔طارق کھوکھر نامی شاعر کی نظم کا عنوان ہے: 'چھت پر آنا اچھا لگتا ہے' ؛کہتے ہیں :

صبح کو اس کا چھت پر آنا اچھا لگتا ہے دھاگے سے سب کچھ کہہ جانا اچھا لگتا ہے

دن کو نہ تیرا چھت سے جانا اچھا لگتا ہے پتنگ کے سنگ خود لہرانا اچھا لگتا ہے

شام کو تیرا چھت پر آنا اچھا لگتا ہے سب کچھ آنکھوں میں کہہ جانا اچھا لگتا ہے

ایک دوسرے شاعر شاہد کریم انجم بسنت کے موقع پر چھتوں پر انجام دی جانے والی 'ثقافتی' سرگرمیوں کا حال یوں بیان کرتے ہیں :

کتنی سج دھج سے آئی میرے شہر میں آج بسنت زندہ دل لوگوں کے دل پر کرتی ہے راج بسنت

اک اک لمحہ گزر رہا ہے کتنا حسینوں پر ہر کوئی ڈورے ڈال رہا ہے چھت پر کھڑا حسینوں پر

آنکھوں آنکھوں میں ہی لاکھوں یہاں پیچے لگتے ہیں نظروں کی قاتل ڈوری سے یہاں پر گڈے کٹتے ہیں

پیلے رنگ کے طوفانوں میں سبھی ارمان مچلتے ہیں جس جانب بھی دیکھیں ، دل کے چور نکلتے ہیں !

باقر نقوی نام کے شاعر کا کلام دیکھئے:

کیا مزہ ہے بسنت کی بہار میں سجنی کے دیدار میں !

دیر تک پتنگ اُڑائے رکھنا اس کے انتظار میں

چھت پر نظریں جمائے رکھنا اس کے انتظار میں

('بسنت لاہور کا ثقافتی تہوار'،نذیراحمد چوہدری، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور)

اچھے اچھے شرفا اس لبرل کلچر کے سیلاب میں خس و خاشاک کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں ۔ اجتماعی پتنگ بازی کا بدترین پہلویہی ہے کہ اس کی وجہ سے اجتماعی آوارگی جنم لے رہی ہے مگر اس کا احساس نہیں کیا جارہا۔ اس فسق و فجور سے بھرپور ماحول میں منائی جانے والی بسنت کو جو دانشور ہمارے 'قومی و ثقافتی تہوار' کا نام دیتے ہیں ، ان سے گذارش ہے کہ وہ اپنی اس رائے کو دینی حمیت اور قومی غیرت کے آئینے میں لمحہ بھر کے لئے ضرور دیکھیں ۔ دینی راہنماوٴں کو 'بے روح مذہبیت' اور 'قدامت پرستی' کا طعنہ دینے کی بجائے مناسب ہوگا کہ وہ بسنت کے دل دادہ ان شعرا کے اشعار پر غور فرمائیں ۔ کاش کہ وہ قوم کو اس ثقافتی لبرل ازم کے عذاب سے نجات دلانے میں فکری راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے!!

بسنت اور ہمارے دانشورصحافی

روزنامہ نوائے وقت، بسنت مخالف تنظیموں ، سماجی راہنماوٴں اور دینی حلقوں کی طرف سے بسنت کو ہندوانہ تہوار قرار دے کر اس کے خلاف شدید احتجاج کیا جارہا تھا۔ اسی لئے بسنت کے حامی دانشوروں نے ان تقریبات کے لئے 'بسنت' کا نام استعمال کرنے سے گریز کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے احتیاط کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسے 'پتنگ میلہ' اور 'جشن بہاراں ' جیسے نام عطا کئے۔ اس طرح کا معذرت خواہانہ طرزِ عمل بالخصوص ایسے دانشوروں اور صحافیوں کی طرف سے سامنے آیا، جو ہمیشہ دائیں بازو میں شامل رہے ہیں ۔ ان کی جانب سے نیمے دروں نیمے بروں والا انداز اپنایا گیا۔

ان حضرات نے 'جشن بہاراں ' میں 'پرزور شرکت' بھی فرمائی اور اسے 'اخلاقی حدود کا پابند' رکھنے کی تلقین بھی فرماتے رہے۔ اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے اپنے عزائم کا اظہار بھی فرماتے رہے اور ساتھ ہی بسنت کو ہندوانہ تہوار کہنے والوں کو 'بے روح مذہبیت' اور 'قدامت پرستی' کا شکار ہونے کے طعنے بھی دیتے رہے، علمائے کرام کو 'وسیع النظر ہونے' کی تلقین بھی فرماتے رہے، ساتھ ہی نوجوانوں کو سمجھاتے رہے کہ پاکستان کی بنیادی شناخت اس کے نظریہ کے حوالے سے ہے۔ اپنی سرپرستی میں 'دل ہوا بوکاٹا' جیسے گانوں پرنوجوانوں سے بھنگڑے بھی ڈلواتے رہے اور ساتھ ہی اپنے اخبار کے اداریے میں یہ تبلیغ بھی جاری رکھی: "ہماری تقریبات بے خدا معاشروں کی تقریبات سے مختلف ہونی چاہئیں اور نظر بھی آنی چاہئیں ۔"

روزنامہ 'پاکستان' کے محترم مدیر صاحب کے فکری اضطراب کا عظیم نمونہ ان کا وہ اداریہ ہے جو 19/فروری 2002ء کو 'پتنگ میلہ؛ بسنت یا جشن ِبہاراں ' کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس اداریے کے کچھ حصے ہم قارئین کی دلچسپی کے لئے نقل کردیتے ہیں ، باقی حصے اگر ہوسکے تو پڑھنے کی زحمت وہ خود گوارا کرلیں :

"یہ 'پتنگ میلہ' جسے بسنت کا نام بھی دیا جاتا ہے اور 'جشن بہاراں ' کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے اب لاہور شہر کی تہذیبی شناخت بن چکا ہے ... ایک طرف قوم کا بڑا حصہ بحیثیت ِمجموعی اس میلہ کو قومی تہوار بنا چکا ہے تو دوسری طرف اس پر تنقید بھی جاری ہے۔ روزنامہ پاکستان کے مارکیٹنگ کے شعبے کی طرف سے بھی اس بار اس 'میلے' میں پرزور شرکت کی گئی ... ہمارے متعدد قارئین ہم سے بار بار پوچھ رہے ہیں کہ آپ کی رائے کیا ہے اور نظریہ کیا ہے؟ آپ تو اس ہنگامے میں شریک نظر آرہے ہیں ۔" ہم نے ضروری جانا کہ اس موقع پر چند اُمور کی وضاحت کردی جائے اور اپنی رائے کو کھول کر اپنے قارئین کے سامنے رکھ دیا جائے..."

اداریے کے مندرجہ بالا حصہ پر ہم اختلافِ رائے کا حق استعمال کرتے ہوئے پہلے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بقیہ حصے کو بعد میں نقل کریں گے۔ 'پتنگ میلہ' کی ترکیب مروّج نہیں ہے۔ اسے بسنت کا نام دیا نہیں جاتا، یہ شروع ہی سے 'بسنت' ہی کہلاتا ہے۔ اسے لاہور شہر کی 'تہذیبی شناخت' کہنا بھی تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ قابل اعتماد ماخذوں کے مطابق قیامِ پاکستان سے پہلے لاہور کے مسلمانوں کی 'بسنت' میں شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔ آج بھی اندرونِ شہر ہزاروں بزرگ موجود ہیں جو یہ بتاسکتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی چند نوجوان تھے جو منٹو پارک میں پتنگ بازی کا شغل کرتے تھے یا کچھ لوگ مزنگ میں یہ کام کرتے تھے مگر ان کی اس حرکت کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ یہ بات بھی درست نہیں کہ "قوم کا بڑا حصہ بحیثیت ِمجموعی اس میلے کو قومی تہوار بنا چکا ہے۔" لاہور شہر میں بسنت کے مخالف افراد لاکھوں میں ہیں ۔ ایک مقامی سطح کی تقریب کو 'قومی تہوار' نہیں کہا جاسکتا۔ بسنت جیسے متنازع فیہ لہوولعب پر مبنی پروگرام کو قومی تہوار کہنا مناسب نہیں ہے۔

روزنامہ پاکستان کے مذکورہ اداریے کے بقیہ حصے ملاحظہ فرمائیے :

(1) " بسنت یا جشن بہاراں یا پتنگ میلہ کے نام پر منایا جانے والا یہ تہوار کسی بھی طور کسی مذہب کے ساتھ وابستہ نہیں ہے۔ نہ یہ کرسمس ہے، نہ دیوالی اور نہ ہولی۔ یہ ایک غیر مذہبی تہوار ہے جسے طویل عرصہ سے منایا جارہا ہے۔

(2) پتنگ کسی ہندو کی ایجاد ہے نہ سکھ کی۔ اسے سینکڑوں سال سے مشرق کے آسمان پراڑایا جارہا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اسے اہل چین نے ایجاد کیا۔

(3) کوئی بھی ثقافتی تہوار اچھا یا برا نہیں ہوتا، اسکو منانے کے طریقے اسے اچھا یا بُرا بناتے ہیں .

(4) مسلمانوں نے اپنی پندرہ سو سالہ تاریخ میں مختلف مقامات پر مختلف مقامی تہواروں کو 'مشرف بہ اسلام' کیا، انکے منانے پر پابندی نہیں لگائی، البتہ انہیں اخلاق کا جامہ پہنا دیا․

(5) ہر بات کو کفر اور اسلام کا جھگڑا بنانے کی روش نے ہمیں ماضی میں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اس لئے علمائے کرام اور مذہبی راہنماوٴں کو اس سے گریز کرنا چاہئے اور اگر لوگ خوشیوں کے چند لمحے سمیٹنا چاہیں تو ان کے خلاف تلوار لے کر کھڑے نہیں ہوجانا چاہئے۔

(6) جہاں لہو و لعب کوحلال نہیں کیا جاسکتا، وہاں ہر شے کو لہو و لعب قرار بھی نہیں دیا جاسکتا۔ اسلام کی تلوار کو وہاں چلانا چاہئے جہاں اسلام کو ضرورت ہو، تلوار لے کر چلنے والے کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند کو دین کا مسئلہ بنا دے۔"

محترم اداریہ نویس نے مندرجہ بالا سطور میں جو باتیں کی ہیں ، ان میں بہت سی اُصولی طور پر درست ہیں ، مگر بعض کے متعلق تبصرہ اور اعتراض کی گنجائش موجود ہے۔ مثلاً:

(1) یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ بسنت ہندوانہ تہوار رہاہے۔ راقم الحروف نے محدث کے انہی صفحا ت میں اپنے ایک مضمون 'بسنت، محض موسمی تہوارنہیں !' میں سکھ، ہندو اور انگریز موٴرخین کی آراء کو پیش کردیا ہے جنہیں دیکھ کر کوئی بھی حقیقت کا متلاشی اصلی بات کو سمجھ سکتا ہے۔ البیرونی کی رائے ہو یا فرہنگ ِآصفیہ میں اندراج، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بسنت بنیادی طور پر ہندوانہ تہوار ہے۔ راقم کا یہ مضمون 'محدث' (فروری 2001ء) کے علاوہ روزنامہ پاکستان میں بھی 2002ء کے بسنت کے موقع پر شائع ہوا۔ روزنامہ نوائے وقت نے 9/ فروری 2003ء کی اشاعت میں تاریخی حقائق کو مفصل طور پر شائع کرکے دکھا دیا کہ بسنت کا پس منظر ہندوانہ تہوار کا ہے۔ البتہ یہ معاملہ الگ ہے کہ کوئی بسنت مناتا ہے، مگر اسے ہندوانہ تہوار نہیں سمجھتا۔

(2) پتنگ بازی پر یہ اعتراض کسی نے وارد نہیں کیا کہ یہ کسی ہندو کی ایجاد ہے۔ اصل اعتراض یہ ہے کہ لاہور میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کا آغاز گستاخِ رسول حقیقت رائے دھرمی کے میلے سے ہوا۔ تاریخی طور پر یہ بات ثابت ہے۔ سکھ اور ہندو موٴرخین کو بھی اس سے انکار نہیں ہے۔ یہاں روزنامہ نوائے وقت کی رپورٹ 'بسنت کیا ہے؟' کے متعلقہ حصہ کو نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے :

"بسنت اور پتنگ دو الگ الگ مشرکانہ عقائد اور تہواروں کا حصہ ہیں ۔ لیکن ان دونوں کا باہم ربط و تعلق کیسے ہوا۔ اس کا پس منظر ہم مسلمانوں کے لئے اس قدر غیرت آموز ہے کہ اگر ہم میں ذرّہ برابر بھی دینی حمیت ہو تو بسنت اور پتنگ کے قریب بھی نہ پھٹکیں ۔ درحقیقت ایک گستاخِ رسول حقیقت رائے دھرمی کو نسبت پنچمی کے روز اس کے جرم کی پاداش میں پھانسی دی گئی تھی۔ سکھوں نے بالآخر اس کا بدلہ ان تمام مسلمانوں کوبے دردی سے قتل کرکے لیا جواس وقوعہ میں کسی نہ کسی طریقے سے ملوث تھے۔ انتقام لینے کی خوشی میں سکھوں اور ہندووٴں نے حقیقت رائے دھرمی کے میلے کے روز اس کی سمادھ پر پتنگیں اڑائیں ۔ کیونکہ اس کی پھانسی کا دن بسنت پنچمی تھا۔ اس لئے لاہور میں جو سکھوں کا پایہٴ تخت تھا، بسنت و پتنگ لازم و ملزوم سمجھے جانے لگے۔" (نوائے وقت : 9/فروری 2003ء)

مشتاق پھلروان، جو پتنگ بازی کے حامی ہیں ، لکھتے ہیں :

"بعض قبائل میں پتنگ کے بھجن گائے گئے۔ پتنگ کو دیوتا مانا گیا۔ اس سے دعائیں اور مرادیں مانگی جاتی تھیں ۔ یہ اعتقاد بھی دیکھا گیا کہ پتنگ سے بھوت پریت نہیں آتے۔ (کتابچہ :بسنت و پتنگ)

(3) اسلامی نقطہ نظر سے کسی بھی تہوار کی اچھائی یا برائی کا تعین کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی فکری بنیاد کو پرکھا جائے۔ اسلام نے اچھے تہوار (عیدین) خود بتا دیئے ہیں ، اس کے علاوہ کسی ایسے ثقافتی تہوار کو مسلم معاشرہ کے لئے قابل قبول نہیں قرار دیا جاسکتا، جس پر کسی دوسری قوم یا مذہب کی چھاپ ہو۔ بسنت کی فکری بنیاد اور اس کے منانے کاطریقہ دونوں ہی قابل اعتراض ہیں ۔

(4) تاریخی طور پر یہ بات درست نہیں ہے کہ اسلام نے اپنی پندرہ سو سالہ تاریخ میں مختلف مقامات پر مختلف مقامی تہواروں کو 'مشرف بہ اسلام' کیا، انہیں اخلاق کا جامہ پہنانے کی بات تو دورکی ہے۔مسلمانوں نے آٹھ سو برس تک سپین پر حکومت کی، انہوں نے کبھی عیسائیوں کے تہوار کرسمس کو 'مشرف بہ اسلام' کرنے کی کوشش نہ کی۔ انہوں نے فارس پر قبضہ کیا جو آج تک چلا آتا ہے، مگر کبھی انہوں نے پارسیوں کے کسی تہوار کو 'اخلاقی جامہ' پہنا کر نہیں منایا۔ مسلمان بادشاہوں نے نوروز جیسے سالِ نو کے معروف تہوار کو بھی کبھی نہیں منایا۔ ہندوستان میں بھی مسلمانوں نے ہندووٴں کے کسی تہوار کو اپنانے کی کوشش نہ کی۔ دو قومیتوں کی متصادم فطرت کے عنوان سے انگریز موٴرخ مرے ٹائٹیس کہتا ہے:

"بارہ طویل صدیوں تک اسلام ہندوستان میں ہندومت کے ساتھ ساتھ رہا۔ بارہ صدیوں تک دونوں قومیں ایک جانب قومیتی اولوالعزمیاں اور دوسری جانب قومیتی تحفظ کے فطری جذبے کی آویزش، اکثر و بیشتر چپقلشوں اور تنازعوں کا باعث بنی رہی اور آج تک جاری ہے۔" (انڈین اسلام: صفحہ 176، 1930ء)

جرمن فلاسفر اوسوالڈ اسپینگلر کے بقول: "ایک مذہبی ثقافتی قوت کے لحاظ سے اسلام بیشتر حیثیتوں میں ہندومت کی عین ضد ہے۔" (زوالِ مغرب)

پروفیسر عزیز احمد جو اسلامی کلچر پر اتھارٹی مانے جاتے ہیں ، اپنی معرکہ آرا تصنیف 'برصغیر میں اسلامی کلچر' میں لکھتے ہیں :

"ثانوی ہندوستانی ماحول اور نسلی اثرات سے گھرے رہنے کے باوجود ہندوستان میں اسلام نے ان تمام صدیوں میں اپنا غیر ملکی انداز برقرار رکھا۔ بقول جادوناتھ سرکار: ہندوستانی مسلمان بحیثیت ِکل بدیسی ذہن رہا۔ وہ محسوس کرتا تھا کہ وہ تھاتو ہندوستان میں لیکن اس کا جز نہیں تھا۔" (صفحہ :110)

(5) بلا شبہ اگر لوگ خوشیوں کے چند لمحے سمیٹنا چاہیں تو ان کے خلاف تلوار لے کر کھڑے نہیں ہونا چاہئے۔ مگر محترم اداریہ نویس یہ توبتائیں کہ جب ایک طبقے کی خوشیاں منانے کا انداز دوسرے طبقہ کے لئے عذاب بن جائے تو پھر کیا کیا جائے۔ جب بسنت کے نام پر لہوولعب اور شاہی قلعہ جیسے پروگرام ہونے لگ جائیں تو کیا پھر بھی چشم پوشی کی جائے؟ بسنت کے مخالف صرف علما ہی تونہیں ہیں ، نوائے وقت جیسے اخبارات، سماجی تنظیمیں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ۔ خوشیاں سمیٹنے کے اور بھی تو بہت طریقے ہیں ، آخر ہندوانہ تہوار پر ہی اصرار کیوں کیا جائے!!

(6) ہمارا بھی نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر شے کو لہوو لعب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مگر گذشتہ چند برسوں میں 'بسنت' کے 'قومی تہوار' کا مشاہدہ کرنے والا کون سلیم الطبع شخص ہے جو اسے لہوو لعب نہیں سمجھتا؟ اگر کوئی شخص اسے لہوولعب نہیں سمجھتا، اسے چاہئے قرآن و سنت میں لہوو لعب کے تصور کا خود مطالعہ کرلے۔

ان معروضات کے بعد روزنامہ پاکستان کے اداریے کے یہ الفاظ دیکھئے:

"ہمارے نظریات اور خیالات واضح ہیں ۔ اسلام ہمارا سرمایہٴ حیات ہے اور ہماری کل کائنات ہے۔ اسلامی اقدار کا فروغ، ان کی پاسبانی اور ترجمانی ہمارے لئے وجہ اعزاز اور وجہ افتخار بھی۔ اسلام ہی ہماری منزل اور اسلام ہی ہماری آرزو ہے لیکن ہم بے روح مذہبیت اور قدامت پرستی کو اسلام قرار دینے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔"

محترم اداریہ نویس کے جذبات قابل تعریف ہیں ، مگر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے فرض کرلیا ہے کہ بسنت کی مخالفت کرنے والے سب لوگ 'بے روح مذہبیت' اور 'قدامت پرستی' کا شکار ہیں ۔ بسنت کے نام پر لہوولعب، خرافات، شراب و کباب اور ایک ہندوانہ تہوار کی مخالفت کو وہ جو چاہیں نام دیں ، ہم اسے ثقافتی لبرل ازم سمجھتے ہیں اور اسے اسلامی ثقافت قرار دینے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔

اس اداریے کا آخری حصہ بھی قابل توجہ ہے :

"ہم پاکستان کے انتہائی ممتاز دانشور جناب اشفاق احمد سے متفق ہیں کہ یہ تہوار پتنگ میلہ ہے ... یاد رکھئے 'پتنگ میلے' یا 'جشن بہاراں ' کے خلاف محاذ بنانا کارِ لاحاصل ہے، اسے اخلاقی حدود کا البتہ پابند رہنا چاہئے۔ ... 'پتنگ میلے' یا 'بسنت' میں جہاں حدود سے تجاوز کیا جائے، وہاں عصائے احتساب کو گردش میں آنا چاہئے۔"

ہمارے خیال میں اس طرح کے لبرل ثقافتی فیسٹیول کواخلاقی حدود کا پابند بنانے کی خواہش ناقابل عمل ہے۔ اس طرح کے وسیع پیمانے پر ثقافتی ہنگامہ آرائی کو عصائے احتساب کو گردش میں لاکر کنٹرول کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ کسی کام کی کھلم کھلا آزادی دے کر اسے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا صرف ایک ہی علاج ہے کہ اس طرح کے غیر اخلاقی، سماج دشمن، انسانی جانوں کے لئے خطرناک پروگرامات کی شروع ہی سے بیخ کنی کی جائے۔

پتنگ بازی کے حق میں دلائل

پتنگ بازی پر پابندی اُٹھانے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ پتنگ سازی ایک صنعت کا درجہ اختیار کرچکی ہے اور اس سے سینکڑوں خاندانوں کے روزگار وابستہ ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پتنگ اور ڈور کے کاروبار میں ہزاروں لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع ہیں ۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ لاہور جیسے شہروں میں کیا ایسے کاروبار کو جاری رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے جس کے نقصانات بھی بہت ہیں ۔

جب بھی کوئی ریاست کسی نفع بخش کاروبار یاپیشے کو معاشرے کے اجتماعی مفادات سے متصادم محسوس کرتی ہے، تو اس پر قانونی پابندیاں عائد کردیتی ہے، اس وقت یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس پابندی سے کتنے خاندانوں کا روزگار متاثر ہوگا۔ صوبہ سرحد کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان رہنے والے ہزاروں خاندان ایسے ہیں جو پوست (Poppy)کی کاشت سے ہزاروں روپے کی ماہانہ آمدنی حاصل کررہے تھے اور ان کا بظاہر کوئی متبادل ذریعہ معاش بھی نہیں تھا۔ مگر چونکہ اس سے ہیروئن پیداہوتی ہے، اس لئے اسے معاشرے کے لئے خطرناک سمجھ کر اس پر پابندی عائد کردی گئی۔

ابھی چند سال پہلے میاں نوازشریف کی حکومت نے شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ شادی گھروں اور دیگر متعلقہ اداروں نے اس پر کافی احتجاج کیا اور سینکڑوں خاندانوں کے روزگار متاثر ہونے کا واویلا بھی بہت مچایا گیا، مگر چونکہ یہ پابندی معاشرے کے اجتماعی مفاد میں تھی، اسے سماجی حلقوں نے سراہا۔حال ہی میں لاہور میں ویگنوں کو ختم کر کے بڑی بسوں کو چلانے کی اجازت دی گئی ہے ۔حکومت کے اس فیصلے سے سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے ہوں گے، اگر لاہور میں شراب کی کھلے عام اجازت دی جائے تو سینکڑوں خاندان شراب بنانے کو ذریعہ معاش بنا لیں گے۔مگر کیا محض چند سو خاندانوں کومعاشی وسائل فراہم کرنے کے لئے پورے معاشرے کونقصان پہنچانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟

آخر اس استدلال کا اطلاق نام نہاد پتنگ سازی کی صنعت پر کیوں نہیں کیا جاتا۔ مزید برآں پتنگ اور ڈور کا کاروبار چند ہفتوں پر محیط ہوتا ہے، بہت کم لوگ ہیں جو سارا سال اسی کاروبار سے وابستہ رہتے ہوں ۔

پتنگ بازی اور بسنت منانے کے حق میں دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بسنت کے موقع پر اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ نجانے کس طرح اَعدادوشمار جمع کئے جاتے ہیں ، مگر کہا جاتا ہے کہ ہر سال تقریباً دو ارب روپے کا کاروبار ہوتاہے۔ اس کاروبار کی نوعیت کیا ہے؟ ہر سال کروڑوں روپے پتنگ اور ڈور پر خرچ کردیئے جاتے ہیں ، کروڑوں روپے کھابے اُڑانے میں ضائع کردیئے جاتے ہیں ، شراب وسیع پیمانے پر فروخت ہوتی ہے، ہوٹلوں کا کاروبار خوب چمکتا ہے۔ لاکھوں روپے لاہور کی شاہراہوں کو سجانے پر خرچ ہوجاتے ہیں ، عمارتوں کی آرائش کے لئے لاکھوں کا خرچہ ہوتاہے، موسیقی، راگ رنگ، اورمغنیات پر کروڑوں کا خرچ اُٹھتا ہے، بسنتی لباس تیار کرانے میں عورتیں بے دریغ خرچ کرتی ہیں ، یہ لباس شاید ایک دن ہی پہنا جاتا ہے۔ گھر گھر ضیافتیں اُڑائی جاتی ہیں ۔ کیا ان میں سے کوئی ایک خرچ بھی ایسا ہے جسے تعمیری کہا جاسکے۔ یہ سب اسراف و تبذیر، فضول خرچی اور عیاشی کے زمرے میں آتے ہیں ۔ عیاش اور متمول طبقہ بسنت کے موقع پر گوشت اور دیگر اشیاے ضرورت کا اس قدر زیادہ استعمال کرتا ہے کہ اس سے مارکیٹ کئی ہفتے متاثر رہتی ہے۔ طبقہ امرا کی انہی بے جا عیاشیوں کی وجہ سے گوشت جیسی اہم چیز غریب آدمی کی قوتِ خرید میں نہیں رہی۔

ایک ایسی قوم جس پر 36/ ارب ڈالر کا قرضہ واجب الادا ہو، اس کے لئے اس طرح کے غیر تعمیری مصارف پر ایک دن میں اربوں روپے اُڑانا باعث ِفخر نہیں ، باعث ِشرم ہی ہے پتنگ بازی کے لئے استعمال ہونے والے سامان کا بہت سارا حصہ بھارت سے درآمد کیا جاتا ہے۔ ہمارے ماہرین معاشیات کو چاہئے کہ وہ قوم کو صحیح حقائق سے آگاہ کریں تاکہ بسنت مافیا نے اربوں روپے کے کاروبار کا جو ڈھونگ اورفسوں رچا رکھا ہے، اس کی حقیقت بھی واضح ہوجائے۔ جس قوم کی 34 فیصد آبادی خط ِافلاس سے بھی نیچے زندہ رہنے پر مجبور ہو، اس قوم کی اشرافیہ کے لئے یہ بسنتی تعیشات وجہ افتخار نہیں ہوسکتے!!

مزید برآں لیسکو کے چیئرمین اور لاہور کے ضلعی ناظم کے بیان کے مطابق گزشتہ سال دھاتی تار کی وجہ سے بجلی کی ہونے والی ٹرپنگ سے لیسکو کو اڑھائی ارب کا نقصان اٹھانا پڑا۔

(پتنگ بازی پر پابندی کیوں ؟ از میاں عامر محمود ، روزنامہ پاکستان :یکم جولائی 2003ء)

بجلی کی بار بار ٹرپنگ سے گھریلو اشیا اور صنعتوں کی پیداوار کو پہنچنے والے نقصان کا تو اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ دوارب کے کاروبار کی بات کرنے والوں کوان نقصانات کوسامنے رکھ کر معاشی میزانیہ مرتب کرنا چاہیے۔

2003ء میں بسنت کو لاہور میں جوش وخروش سے منایا گیا،مگر سرکاری سرپرستی میں قدرے کمی آ گئی۔ دھاتی ڈور کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کا شدید ردّ عمل بھی سامنے آیا۔بسنت کے بعد بھی جب ہلاکتوں اور واپڈا کے نقصانات کا سلسلہ جاری رہا تو ضلعی حکومت اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور ہو گئی۔ یکم جولائی 2003ء سے پتنگ بازی پر پابندی لگا دی گئی۔میاں عامر محمود نے اس پابندی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو ماہ میں پتنگ بازی کی وجہ سے 17 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور گزشتہ سال لیسکو کو اڑھائی ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

یہ بات حیران کن نہیں کہ اس پابندی کو ان دانشوروں نے بھی سراہا جنہوں نے بسنت کو قومی وثقافتی تہوار کے طور پر منانے کے لیے سو سو تاویلات پیش کی تھیں ۔ ذرائع ابلاغ نے اور سماجی حلقوں نے بھی اس پابندی کو نگاہِ تحسین سے دیکھا۔اس کے علاوہ لاہور کی خونی بسنت (9/فروری 2003ء) کے بعد راولپنڈی ،گوجرانوالہ ،قصور اور حافظ آباد کے ضلعوں کے ناظمین نے اپنے اپنے ضلع میں بسنت منانے پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی۔

درج ذیل منتخب بیانات اور رپورٹوں سے مثبت عوامی رد عمل کو بخوبی جانچا جا سکتا ہے:

پابندی پرخیر مقدمی بیانات

(1) پی ایچ اے کے سربراہ کامران لاشاری نے اس پابندی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ

"جو مزاجِ حکومت میں آئے ہمارا سرتسلیم خم ہے۔ پابندی پر میرا تبصرہ صرف اتنا ہے کہ ہم سرنگوں کردیں گے۔" (نوائے وقت :3/ جولائی 2003ء)

(2) "پتنگ بازی پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔" (وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا بیان شائع شدہ جنگ: 2/ جولائی 2003ء)

(3) ضلعی حکومت لاہور نے انسانی جانیں بچانے کے لئے صحیح وقت پر صحیح قدم اٹھایا۔

(نوائے وقت: 2/ جولائی 2003ء)

(4) بے گناہ بچوں اور نوجوانوں کے خون سے پہلے ہی پتنگ بازی پر پابندی لگنی چاہئے تھی۔

('انصاف' سروے: 2/ جولائی 2003ء)

(5) پتنگ بازی پر پابندی؛ ایک مستحسن فیصلہ۔ (روزنامہ 'دن' کا اداریہ، 2جولائی 2003ء)

(6) "میاں عامر محمود نے عوامی مفاد میں ایک انسانی قدم اٹھایا ہے تو اسے اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹ جانا چاہئے اور بے شک میاں عامر محمود اس سلسلہ میں مبارکباد اور شاباش کا مستحق ہے کہ اس نے ووٹ بنک اور مافیا کی پروا کئے بغیر معصوم اور بے گناہ شہریوں کے قتل عام کو لگام دینے کا آغاز کیا۔"

(حسن نثار کا کالم 'چوراہا' روزنامہ 'جنگ' 'قتل عام اور میاں عامر' 2/ جولائی 2003ء)

(7) "پتنگ بازی پر پابندی ضلعی حکومت کا پسندیدہ اقدام ہے۔ لیکن اس پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ ہوا تو یہ ضلعی حکومت کی بدنامی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ہم والدین سے بھی گذارش کریں گے کہ وہ اپنے بچوں کو پتنگ بازی کے فصول شوق سے منع کریں ۔ سماجی انجمنوں کے راہنماوٴں ، علماے کرام اور معاشرہ کے بااثر افراد کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔" (روزنامہ 'پاکستان' کا اداریہ، یکم جولائی 2003ء)

(8) پتنگ بازی پر پابندی لگانے سے ہم ضلعی ناظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ ایسی پابندی پورے ملک میں لگائی جائے۔ (انجمن تاجرانِ گلبرگ، ایکسپریس،یکم جولائی 2003ء)

(9) حکومت تین ماہ کی بجائے ہمیشہ کے لئے پتنگ بازی اور ڈور بنانے پرپابندی عائد کرے۔ پتنگیں بنانے اور اُڑانے والوں کو پھانسی دی جائے۔

(اینٹی کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن۔ 'پاکستان' یکم جولائی 2003ء)

(10) ہمارے اس اقدام کا عوام نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ خیر مقدم کیا ہے۔

(11) "بہر کیف بعد از خرابی بسیار ہماری بلدیاتی حکومت نے اس طرف توجہ دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ فی الحال تین ماہ کے لئے اس خون ریزی کا سامان بند رکھا جائے گا۔ اگر میاں عامر صاحب اس حکم پر عملدرآمد کرالیتے ہیں تو ان کو لاہوریوں کی طرف سے شاباش ملنی چاہئے۔" (عبدالقادر حسن، جنگ کالم،26/ جون 2003ء)

(12) طویل عرصے بعد یہ پہلی اتوار تھی جب لوگوں نے چھٹی کا دن اپنے گھروں میں آرام سے گذرا۔

( کالمعباس اطہر 'کنکریاں ': 8 جولائی 2003ء)

(13) میاں عامر کو مبارکباد کہ انہوں نے اہل لاہور کو ایک عذاب سے بچایا۔

(عبدالقادر حسن، جنگ کالم، 9/ جولائی 2003ء)

(3) پتنگ بازی پر پابندی کو لاہوریئے قبول نہیں کریں گے۔ (مخالفت میں واحد آواز)

(یوسف صلاح الدین، ایکسپریس:2 جولائی 2003ء)

پتنگ بازی پر پابندی

اگست 2003ء میں لاہور سٹی گورنمنٹ نے لاہور شہر میں پتنگ بازی پر دوماہ کے لئے پابندی لگا دی۔ سماجی حلقوں نے اس فیصلے کوبے حد سراہا اور مطالبہ کیا کہ یہ پابندی مستقل بنیادوں پر عائد کردی جائے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا مگر ضلعی حکومت نے بجلی ٹرپنگ، پانی کی بندش اور پتنگ بازی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے اَعدادوشمار کو اپنے دفاع میں ایں طور پیش کیا کہ ہائی کورٹ نے اس پابندی کو برقرار رکھنے کی اجازت دی۔ عوام الناس نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ مگر بسنت اور پتنگ بازی کی حامی تنظیموں اور اداروں کی طرف سے اس پابندی کے خلاف احتجاج جاری رہا۔

ضلعی حکومت کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جسے پتنگ بازی پر پابندی کے بارے میں سفارشات مرتب کرنے کو کہا گیا۔ ضلعی ناظم میاں عامر محمود اس کمیٹی کے سربراہ تھے، دیگر ارکان میں سینیٹر خالد رانجھا، عارف نظامی، ضیاء شاہد، مجیب الرحمن شامی، ابتسام الٰہی ظہیر، مقصود احمد قادری، حیدرعلی مرزا، خالد سلطان، کائٹ ایسوسی ایشن کے ملک شفیع اور میاں عبدالوحید شامل تھے۔ موٴرخہ 8/جنوری 2004ء کوکمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کیں جس میں اتفاق رائے سے یہ مطالبہ شامل تھا کہ محض جشن بہاراں کے لئے مذکورہ پابندی غیر مشروط طور پر نہ اٹھائی جائے، دھاتی تار اور تندی کے استعمال کے باعث ہونے والے نقصان کی روک تھام کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔

کمیٹی کے 8/ارکان نے پتنگ بازی پر پابندی مستقل طور پر برقرار رکھنے اور دس ارکان نے کھیل کے قواعد و ضوابط وضع کرکے اس کی اجازت دینے کے حق میں رائے دی۔ کمیٹی نے تجویز کیا کہ لاہور کی حدود میں پتنگ بازی پر مستقل طور پرپابندی عائد کردی جائے، تاہم شہر سے باہر کھلے میدانوں مثلاً جلوپارک، رائے ونڈ لاہور، لاہور پارک، ڈیفنس گراوٴنڈ، شاہدرہ گراوٴنڈ وغیرہ تک محدود کردیا جائے۔ دھاتی تار استعمال کرنے والوں سے جرمانہ وصول کیا جائے۔ ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، وزراء، سرکاری افسران اور دیگر معروف شخصیات پتنگ بازی کی سرگرمیوں سے خود کو علیحدہ رکھیں تاکہ میڈیا ان سرگرمیوں کی نمایاں کوریج نہ کرسکے۔ موٹا دھاگہ استعمال کرنے پر پابندی کے علاوہ ان دنوں کے بعد سارا سال پتنگ اور ڈور کی خریدوفروخت پر مکمل پابندی عائد ہو۔ (نوائے وقت:9/جنوری 2004ء)

مذکورہ بالا کمیٹی کی سفارشات کے علیٰ الرغم حکومت پنجاب نے 20/ جنوری 2004ء سے 20/ فروری 2004ء تک پتنگ بازی سے پابندی اٹھانے کا اعلان کیا۔ البتہ دھاتی ڈور اور تندی کے استعمال پر پابندی کو بدستور برقرار رکھا۔ (نوائے وقت:15/جنوری 2004ء)

سنا ہے کہ ضلعی ناظم میاں عامر محمود اس پابندی کو اٹھانے کے حق میں نہیں تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی بھی بسنت اور پتنگ بازی کے حامی نہیں ہیں ۔ 2003ء کی بسنت کے موقع پر انہوں نے اپنے آپ کو بسنتی پروگراموں سے الگ تھلگ رکھا۔ وہ کسی بھی پروگرام میں شریک ہوئے، نہ ہی انہوں نے سرکاری طور پر بسنت کی سرپرستی کی۔

20/جنوری 2004ء کو پتنگ بازی پر پابندی اُٹھائی گئی۔ اس کے بعد آنے والے پہلے اتوار (25/جنوری) کو تین ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں ۔ 20/سالہ ناصر جاوید دھاتی تار والی پتنگ پکڑتے ہوئے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔شاد باغ کا ایک نوجوان علی موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ اس کے گلے میں پتنگ کی دھاتی تار پھر گئی۔(جنگ) درایں اثنا فیروز پور روڈ پر ایک موٹر سائیکل سوارسکندر اکرام کی گردن ڈور کی زد میں آکر کٹ گئی۔(نوائے وقت)

 حکومت ِپنجاب کو چاہیے کہ وہ شہریوں کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے پتنگ بازی پر پابندی اُٹھانے کے فیصلہ پر نظر ثانی کرے۔

بسنت اور پتنگ بازی جیسے جان لیوا شغل پر پابندی عائد ہونی چاہیے، کیونکہ...

(1) ہندوٴ وں کے موسمی تہوار بسنت کا بنیادی فلسفہ اسلام کے ثقافتی نصب العین کے منافی ہے۔

(2) بسنت کے پردے میں پاکستان میں مغربی لبرل ازم کو فروغ دیاجا رہا ہے۔

(3) بسنت اور پتنگ بازی کی وجہ سے انسانی جانیں غیر محفوظ ہیں ۔

(4) پتنگ بازی کی وجہ سے واپڈا جیسے قومی اداروں کو اربوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

(5) بسنت کا نام نہاد تہوار اسراف وتبذیر اور فضول خرچی کا باعث بنتا ہے۔

(6) بسنت کے موقع پر ہلڑ بازی اور شور سے سماجی سکون تلپٹ ہوتاہے۔

(7) یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ لاہور میں بسنت پنجمی کا میلہ گستاخِ رسول حقیقت رائے دھرمی کی یاد میں شروع ہوا۔مسلمانوں کی دینی حمیت سے بعید ہے کہ وہ اس طرح کے میلے کو منائیں ۔ (محمد عطاء اللہ صدیقی)