میں نے آج سے ۳۱ سال پہلے ریڈیو دمشق سے اس موضوع پر گفتگو کی تھی اور خیال یہ تھاکہ مدت بیت گئی،عصری تقاضوں سے اس کی مناسبت ختم ہوگئی اور یہ موضوع ایک قصہ پارینہ بن گیا ہے۔ ایک دن اپنے لکھے گئے کالموں کی ورق گردانی میں میرا یہ پرانا کالم میرے ہاتھ لگا۔جب میں نے اس کامطالعہ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ موضوع پرانا نہیں بلکہ نیا اور تازہ ہے۔گویا گذشتہ ۳۰ سالوں سے اصلاح کی جانب ہماری ذرا بھی پیش رفت نہیں ہوئی اور ہمارے خطبے ،وعظ و ارشاد اور مقالات وغیرہ سببے کار گئے۔ زمانہ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا۔ شایدہزارقارئین اور سامعین میں سے ایک بھی ایسانہیں جس نے اسے پڑھ یا سن کر اپنی اصلاح کی ہو۔اس لئے میں سمجھتا ہو کہ اس موضوع کا فائدہ اپنی جگہ اب بھی برقرار ہے ۔ الحمدللہ... جس طرح کل اس کے مفید ہونے کی اُمید تھی، آج بھی اس کے مفید ہونے کی اُمید ویسے ہی موجود ہے۔
میں خوب جانتا ہوں کہ اس موضوع پر بڑی طویل گفتگو ہو چکی ہیں۔ لیکن میں کیا کروں جب میں اپنے محلے میں لوگوں کو آگ میں جلتا دیکھتا ہوں اور مجھے ہرگھر سے آگ کے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔میں نے دعوت دی لیکن کسی نے میری دعوت پر لبیک نہ کہا ۔ میں نے آگ بجھانے کے لئے مدد طلب کی لیکن کوئی بھی میری مدد کو نہ پہنچا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ بس میں نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے اور اب میں جاکر سوجاؤں اور کمبل اوڑھ کر اس میں اپنا چہرہ چھپا لوں؟بے شک صحافی ، منبر کے خطیب اور سکول کے ٹیچر اور ہروہ آدمی جو اصلاح کے کام میں حصہ داربننے کی استطاعت رکھتا ہے، کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اصلاح کے اس کام میں اپنی سر توڑ محنت کو ہر حال میں جاری رکھے ، اگرچہ اس کی یہ محنت جلد ثمر آور ثابت نہ ہو۔ اور یہ نہیں کہنا چاہئے کہ لوگ اکتا گئے ہیں۔
میں کوئی گلوکار تو نہیں جو لوگوں کو ہنسا کر ان کی اکتاہٹ کو دور کرنے کا سامان کر وں اور نہ میں کوئی بھانڈ ہوں کہ لوگوں کو خوش کرتا پھروں ۔ میں تو ایک طبیب ہوں اورلوگوں کا علاج کرنا چاہتا ہوں۔ اگر ایک طبیب کے پاس ایک ہی مرض میں مبتلا ۲۰ مریض آجائیں تو کیا وہ طبیب اکتا کر اپنا کلینک بند کردے اور ان سے کہے کہمیں تو اس مرض کا علاج کرتے کرتے تنگ آگیا ہوں ،جاوٴ کوئی اور مرض لے کر آوٴ ، ورنہ میرے کلینک سے چلے جاؤ۔
ریڈیو پروگرام کے سلسلے میں میرے پاس مختلف طرح کے رسائل و خطوط آتے تھے ۔ایک دن ایک خط آیا ،جس کے لکھنے والے کو میں نہیں جانتا تھا اور نہ ہی اس خط میں کوئی ایسی بات تحریر تھی جس سے پتہ چل سکے کہ اس کا لکھنے والا کون ہے۔ خط میں اس آدمی نے جو واقعہ تحریر کیا وہ اس قدر کربناک تھا کہ اس کی سطروں سے آنسوؤں کے قطرے ٹپک رہے تھے اور اس سے جلے ہوئے دل کی بو سونگھی جاسکتی تھی۔چنانچہ لکھتا ہیکہ وہ ایک گمنام مگر صالح اور دیندار آدمی ہے اور ایک باعزت عہدے پر فائز ہے لیکن اس کی بیٹی برے راستے پر چل نکلی اور جاکر برے لوگوں سے مل گئی۔بالآخر وہ شرم و حیا کے پردے چاک کرکے بدنامی اور رسوائی کے گڑھے میں گرگئی اور جو بھی نوجوان لڑکی برے راستے کی راہی بنے گی، بالآخر اس کا یہی انجام ہوگا کہ وہ بدنامی اور گمراہی کی دلدل میں گر کر تباہ و برباد ہوجائے گی۔
اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ اس تمام بگاڑ کا پہلا سبب ہمارے سکول،کالجز ہیں اور دوسرا سبب ہماری یونیورسٹیاں،جہاں مخلوط نظام تعلیم رائج ہے۔ اس نے سکول ، کالجزاوریونیورسٹیوں کو اپنی لعن طعن کا نشانہ بنایاجو نوجوان لڑکیوں کو مردوں کے ساتھ اختلاط اور ان کے پہلو میں بیٹھ کر ان کے ساتھ گفتگو کا درس دے رہی ہیں اوریہی گفتگو بعد میں ایک بہت بڑے فتنے کا نقطہ آغازثابت ہوتی ہے ۔ اس نے پورے خط میں یہی رونا رویا کہ ہمارا معاشرہ ہی نوجوان نسل کی تباہی اوربے را ہ روی کا ذمہ دار ہے ۔
میں نے اسی دن اس کو خط لکھا اور اس سے کہا " میں سمجھتا ہوں کہ تو بڑا دکھی اور مصیبت زدہ آدمی ہے۔ لیکن میں اب کیا کرسکتا ہوں جب معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہے ؟ تو نے اس وقت کیوں نہ مجھے لکھا جب معاملہ ابھی ابتدائی مراحل میں تھا؟جب گھر میں آگ بھڑک اُٹھی اور رات کی تاریکی میں سیلاب آگیا،جلنے والا جل گیا اور ڈوبنے والا ڈوب گیا تو بتاوٴ اب میں کیا کرسکتا ہوں؟
جب مریض مرنے کے قریب پہنچ چکا یا موت کی آغوش میں چلا گیا تو اب ڈاکٹر کو بلا کر کیا کرو گے ؟ مرض کے آغاز میں ہی طبیب کو کیوں نہ بلایا گیا ،جبکہ مرض تھوڑا تھا اور شفا کی امید قوی تھی۔ میرے بھائی! اب میں تیرے لئے کچھ نہیں کرسکتا ۔ ہاں تیرے دکھ، صدمے اور مصیبت پر تیرے ساتھ تعزیت کرتاہوں اور اس عظیم صدمے پر تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے صبرواستقامت کا سوال کرتاہوں۔
اگر مجھ سے اس کی مصیبت اور پریشانی کا علاج نہیں ہوسکا تو بہرحال مجھے ان لوگوں کا علاج تو ضرور کرنا ہیجو ابھی تک اس حالت اور انجام سے دوچار نہیں ہوئے۔اور جو اس گمراہی کے عمیق غار میں گرنے کے لئے بے تاب ہیں ۔
اگر مجھے اس بات کی حیا نہ ہوتی کہ میں بھی اس معاشرے کا ایک فرد ہوں یا میں اس تکلیف دہ صورت حال کومزید تکلیف دہ نہ بنا دوں تو میں ضرور کہتا کہ اے لڑکی کے ماں اورباپ! اس کربناک صورتحال کے ذمہ دار تم خود ہو ۔ اگر لعن طعن کرنا جائز ہوتا تو تمام لوگوں سے زیادہ لعنت کے سزاوار تم تھے۔ اگر تم اپنے گھر اور اپنی بیٹی کی نگرانی کرتے اور اپنی لڑکی کے معاملہ میں غفلت و سستی نہ کرتے اور اپنی لڑکی کے اُٹھنے بیٹھنے ، چلنے پھرنے اور آنے جانے پر کڑی نظر رکھتے اور اسے زرق برق اور تنگ لباس پہنا کر ننگے منہ باہر نہ نکلنے دیتے اور اسے اپنے گھر کی نوکرانیوں کے حوالے ہی نہ کردیتے تو شاید آج تمہیں اس ذلت و رسوائی کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔
میں سکول کو بری الذمہ قرا ردیتا ہوں، نہ معاشرے کو بے قصور سمجھتا ہوں۔ والدین، اساتذہ، صحافی اور علما اور دیگر لوگ جن کے ہاتھ میں معاشرہ کی باگ ڈور ہے، سب اپنی اپنی جگہ مسئول اور ذمہ دار ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان تمام لوگوں میں سے سب سے آخری اور ہلکی ذمہ داری اس راہ گم کردہ لڑکی پر عائد ہوتی ہے۔ بہرحال ہم بے حیائی، فحاشی اور فسق و فجور کو ہر حال میں اور ہر جگہ پر اور ہر ایک کے لئے ناپسند کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر مرد و عورت کے اندر جنسی خواہش کو پیدا فرمایا اور اس جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک طریقہ کار متعین کیاجس کے اندر رہ کر مرد اور عورت اپنی جنسی پیاس بجھا سکتے ہیں اور وہ طریقہ کار شرعی نکاح کا ہے۔ جس طرح پانی نہر کے کناروں کے درمیان چلتا رہے تو ٹھیک رہتا ہے اور اس سے زیادہ فائدہ حاصل کیاجاسکتا ہے لیکن اگر نہر کا بند ٹوٹ جائے تو یہی پانی تباہی اور بربادی پھیلا دے گا کیونکہ اس نے اپنی اصل گزر گاہ کو چھوڑ دیا ہوتا ہے۔ چنانچہ نہرکا بند ٹوٹنے سے کھیتیاں غرق ہوجاتی اور فصلیں اور نسلیں برباد ہوجاتی ہیں۔مرد اور عورت کی جنسی خواہش کو کنٹرول کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نکاح کرنے کا حکم دیا اور یہ نکاح ان کے جنسی جذبات کے لئے فطرتی گزرگاہ ہے اور جو فطرتی گزرگاہ اختیار نہیں کرے گا، ظاہر بات ہے وہ سرکشی اور طغیانی کا شکار ہوگا یعنی زناکاری اور بدکاری کی دلدل میں گر جائے گااور یہی زناکاری پورے معاشرے کے لئے بربادی کا موجب بن جائے گی۔ أعاذنا الله منه
چنانچہ ہم نے یہی کیا ،اللہ تعالیٰ کی فطرت کی مخالفت کی اور طبعی گزرگاہ کو بند کردیا،اسے تمام حدودو قیود سے آزاد کر دیا اور شہوت کے اسسیل بلا کو اس کے بہاوٴ پر چھوڑ دیا کہ وہ جیسے چاہے شہروں کو برباد اور نسلوں کو تباہ کرتا پھرے۔جب ہم نے دیکھا کہ یورپ اور امریکہ کے لوگ یہی کچھ کرتے ہیں تو ہم نے کہا کہ یہی لوگ مہذب شہری ہیں ،ہم بھی یہی کریں گے۔ چنانچہ ہم لاشعوری طور پر اپنی اسلامی تہذیب وتمدن، ثقافت اور کلچر کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کے دلدادہ ہوگئے۔
ہم نے نوجوان لڑکی سے کہا کہ شادی کی ابھی ضرورت نہیں ہے، شادی کے ذریعے بھی نوجوان حرام کاری میں پڑسکتے ہیں اس لئے کہ والدین بہت زیادہ حق مہر طلب کرتے ہیں،انہوں نے اپنی بیٹیوں کو نفع بخش تجارت کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ والدین نے اپنی نوجوان بیٹی کو صحیح معنوں میں شریف اور پاکدامن بنانے میں اپنا وہ کردار ادا نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا۔ ہم نے نیک فرمانبردار اور متقی آدمی کو اپنی بیٹی کا نکاح دینے سے انکار کردیا اور اپنی بیٹی کو شتر بے مہار چھوڑ دیا کہ وہ جیسے چاہے اپنی زیب و زینت اور حسن و جمال کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں پر اپنی خوبصورتی اور جوانی کا جادو چلاتی پھرے۔
بسا اوقات والدین محض اپنی بیٹی کی ملازمت کی تنخواہ کا طمع کرتے ہوئے اس کی شادی نہیں کرتے۔ اگر کوئی انہیں یہ کہہ دے کہ آپ کی بیٹی جوان ہے، اس کی شادی کردیں تو والدین آگے سے جھٹ کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی ہے اور ہم اس کے بارے میں آزاد ہیں۔ ہم جب چاہیں جہاں چاہیں اور جیسے چاہیں اس کی شادی کریں یا نہ کریں کسی کو کیا اعتراض ہے۔
میرے عزیز مخاطب ! تو اس بارے میں آزاد نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم کا پابند ہے۔ تیرے بیٹیکوئی گائے اور بکری تو نہیں کہ تو اس کا مالک ہے ، چاہے اسے فروخت کردے، چاہے اپنے پاس رکھے، بلکہ وہ بھی تیری طرح کا ایک انسان ہے۔ اللہ نے اس کی مصلحت کی خاطر تجھے اس پر وَلی اور نگران بنایا ہے تاکہ تو اسے ہر اس کام سے بچائے جو اس کے دینی اور دنیوی مفاد کے خلاف ہو۔ نکاح کے سلسلہ میں ولایت کی وہی اہمیت ہے جو گاڑی میں بریک کی ہوتی ہے، وہ گاڑی کوایکسیڈنٹ اور شجر و حجر اور درودیوار کے ٹکرانے سے روک لیتی ہے۔
بعض والدین نے نکاح مشکل اور زنا آسان کردیا ہے اور قربانی کا بکرا نوجوان بیٹی کو بننا پڑتا ہے۔ آوار مزاج نوجوان لڑکا اسے بہلا پھسلا کر اس سے زنا کرلیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ لڑکی حاملہ ہوجاتی ہے اور اس سے بدکاری کرنے والا لڑکا چپکے سے نکل جاتا ہے اور اس گھناوٴنے جرم کی سزا اکیلی لڑکی کو بھگتنا پڑتی ہے، اب بدنامی کا دھبّہ اس کی پیشانی پر لگ جاتا ہے اور معاشرہ میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نکاح کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر اسی زانی لڑکے سے کہا جائے کہ تو اپنی گرل فرینڈ سے شادی کرلے تو وہ بھی یہ کہہ کر انکار کردے گا کہ اگر یہ میرے ساتھ خفیہ تعلقات قائم کرسکتی ہے تو اس پر کیا اعتبار کہ اس نے کسی اور سے خفیہ تعلقات قائم نہ کئے ہوں۔ بالآخر نوجوان لڑکا توبہ کرلیتا ہے اور معاشرہ اس کے جرم کو فراموش کرکے اس کی توبہ تو قبول کرلیتا ہے لیکن ستم ظریفی کہ لڑکی کے گناہ کو معاشرہ کبھی معاف نہیں کرتا۔ اب وہ نوجوان لڑکی جائے توکہاں جائے اور نکاح کرے تو کس سے کرے کیونکہ اسے کوئی نکاح میں لینے والا نہیں ہے اور دوسری طرف زنا آسان اور شادی مشکل ہے اور پھر جوانی کی وجہ سے جنسی خواہش بھی اپنے جوبن پر ہے اور بدکاری و زنا کاری سے روکنے والا بھی کوئی نہیں ہے!!
آپ کہیں گے، کیا ہم نے شادی سے منع کیا ہے۔ جی ہاں! آپ نے ہی شادی سے منع کیا ہے۔ لیکن زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے آپ نے شادی کومشکل بنا دیا ہے۔
جنسی رغبت ۱۵ سال کی عمر میں شروع ہوجاتی ہے اور ۲۵ سال کی عمر تک اپنے عروج پرپہنچ جاتی ہے۔ اگر نوجوان اس عرصے میں شادی کرنا چاہیں تو کیسے کریں جبکہ ابھی اِن کی تعلیم باقی ہے اور اگر وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے یورپ اور امریکہ چلا جائے تو یہ عرصہ مزید لمبا ہوجائے گا۔ اب بتائیے اس دوران وہ نوجوان کیا کرے گا ؟اگر وہ شادی کرنے کا ارادہ کر بھی لے تو اس کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے اتنا مال کہاں سے لائے گا ۔وہ بڑی عمر کو پہنچنے کے باوجود بھی بچوں میں شمار ہوگا ،کیونکہ ابھی تک اس کی شادی نہیں ہوئی ۔بڑا لمبا تڑنگا جوان ہے اور بڑے مہنگے کپڑے پہنتا ہے لیکن وہ کما نہیں سکتا۔ حالانکہ آج سے ۶۰ یا ۷۰ سال پہلے اس عمر کا نوجوان صاحب ِکسب اور صاحب ِاولاد ہوتا تھا۔ اگر بالفرض اس کے پاس مال بھی موجود ہو تو کیا اس کے والدین اس کی شادی کردیں گے؟نہیں ! ہرگز نہیں ۔اس لئے میں یہ کہوں گا کہ اس مشکل کاسبب دراصل لڑکیوں کے والدین ہیں جنھوں نے اپنی بیٹیوں کے لئے نکاح جو کہ حلال ہے ، کے علاوہ باقی تمام حرام کاموں کو آسان بنا دیا ہے۔
آج اسلامی ممالک کی حالت ہر ایک کے سامنے ہے۔ ان ممالک میں نوجوان لڑکیاں زیب وزینت سے آراستہ ہو کر گھروں سے باہر نکلتی ہیں اور لوگوں کو فتنے میں ڈالتی ہیں اور اگر ان کے والدین سے کوئی نیک فرمانبردار اور متقی آدمی نکاح طلب کرے تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتاہے جو کسی عربی قیدی کے ساتھ اسرائیل میں کیا جاتاہے۔
والدین نکاح کا پیغام بھیجنے والے پر بڑے بھاری بوجھ ڈال کر، بار بار اس کے گھر میں آکر ، عمدہ کھانے تناول کرکے اور قیمتی تحفے تحائف وصول کرکے اس کا ستیاناس کردیتے ہیں۔ بالآخر وہ بیچارہ تھک جاتا اور شکست خوردہ ہو کر بیٹھ جاتا ہے یا پھر وہ صبر تحمل سییہ تمام بھاری اخراجات برداشت کرتا رہتاہے اور جو اس نے اس دن کے لئے مال جمع کیا تھا، وہ سارے کا سارا شادی سے پہلے ہی ختم ہوجاتا ہے اور وہ بیچارہ نہایت غربت و افلاس یا مقروض ہو کرازدواجی زندکی کے میدان میں قدم رکھتا ہے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہپہلے دن ہی سے لڑائی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں ۔اور جب گھرمیں لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں تو پھروہاں سے خیر و برکت رخصت ہوجاتی ہے اور گھر جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے ۔
والدین نے اللہ کے حکم کو پس پشت ڈالا اور عورتوں نے پردہ ترک کردیا ۔اب صورتحال یہ ہے کہ نوجوان لڑکیاں گھروں سے میک اپ کرکے ننگے منہ اور ننگے سر باہر نکلتی ہیں اور نہایت باریک لبا س پہن کر اپنے جسم کے مخصوص اعضا کی لو گوں کے سامنے بر سرعام نمائش کرتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی بندئہ خدا اس لڑکی سے شادی کرنا چاہے اورپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اجازت کے مطابق نکاح سے پہلے اسے دیکھنا چاہے تو لڑکی کے والدین لڑکی دکھانے سے انکار کردیتے ہیں ۔یاد رکھو! جو شخص شریعت کے اس حکم کو اپنے لئے باعث ِعار سمجھتا ہے یا اس کومعیوب قرار دیتا ہے یا اس کو اپنی شایانِ شان نہیں سمجھتا تو گویاا س نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ٹھکرا دیااور ایسی چیز کو برا سمجھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحسن قرار دیا ہے اور یہ سمجھا ہے کہ گویا وہ اخلاق و کردار کے اعتبار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غیرت مند ہے تو ایسے آدمی کواپنے دین و ایمان کی خیر منانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اگر ایک چیز ہمارے لئے حرام ٹھہرائی ہے تواس کا متبادل ہمارے لئے حلال قرا ردیا ہے، جو اس ضرورت کوپورا کرنے کے لئے کافی ہے اور اس کا قائم مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اگرزنا کو حرام کیا ہے تو اس کا نعم البدل نکاح کو حلال کیا ہے ، حالانکہ جو کام شادی شدہ مرد و عورت کرتے ہیں، وہی کام زانی مرد اور عورت کرتے ہیں۔ پھرنکاح کے موقع پرشادی والے گھر چراغاں کیوں کرتے ہیں؟ اور کارڈ چھپوا کر لوگوں کو شادی کی تقریب میں شرکت کی دعوت کیوں دیتے ہیں ؟لیکن زنا کا اِرادہ رکھنے والا آدمی رات کی تاریکیوں میں چھپ چھپا کر اپنی آشنا کو تلاش کرتا ہے کہ اسے کوئی انسان دیکھ نہ سکے۔
ان دونوں کی مثال یوں سمجھئے کہ جیسے کوئی آدمی ہوٹل میں گیا اور بڑے آرام سے کرسی پر بیٹھ گیا اور ہوٹل والے سے کہا کہ مجھے فلاں چیز کھانے کے لئے چاہئے ۔وہ ہوٹل والا اس کی خواہش کے مطابق کھانا لے آیا اس نے بڑے آرام و سکون سے وہ کھانا کھایا اور ایک وہ چور ہے جس نے ہوٹل سے کھانا چوری کرلیا، لوگ اسے بار بار کہتے رہے کہ یہ کھانا تیرے لئے حرام ہے، تیرے لئے اس کا کھانا جائز نہیں ہے وہ جلدی جلدی گرم کھانا صحیح طرح چبائے بغیر ہی کھا جاتاہے اور بسا اوقات گرم کھانا اس کے حلق میں پھنس جاتا ہے اور وہ اس کے سینے تک ہی رک جاتا ہے، وہ نہ ایسے کھانے سے سیر ہوتا ہے اور نہ اسے ایسا کھانا کوئی مزہ دیتا ہے۔زنا جو کہ حرام ہے، اس سے بچنے کے لئے شریعت نے نکاح کا حکم دیا ،لیکنہم نے نکاح مشکل اور زنا آسان کرلیا ... دیکھئے شریعت نے غیر محرم مرد کا غیر محرم عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا حرام قرار دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
"جب کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرتا ہے توتیسرا ان کے درمیان شیطان ہوتا ہے"
ہمارے ہاں ایسی مغرب زدہ عورتیں بکثرت ہیں جواپنی کہی بات کا مطلب تک نہیں جانتیں صرف اہل یورپ کی نقالی کرتیں اور ان کی زبان بولتی ہیں، اسی استدلال سے مسلح ہیں۔ انہوں نے نہ خلوص سے اسلام کا مطالعہ کیا ہے، نہ اس سے کوئی خیرخواہی رکھتی ہیں۔ ایسی بیگمات کہنے لگیں : یہ کیسی رجعت پسندی ہے کہ عورت پر کیسی ناروا پابندیاں لگا دی گئی ہیں کہ وہ پردہ کرے اور چاردیواری کے اندر رہے۔
اب مغرب یہ پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ تم نے عورت کی آزادی سلب کرلی ہے۔ تم نے عورت کوقید کرکے اس سے دشمنی کا ثبوت دیا ہے، غرض اسی طرح کی بے ہودہ بکواس کی جاتی ہے ۔یہ مغرب کی وظیفہ خوار بیگمات ان باتوں کی حقیقت سمجھے بغیر محض رٹی رٹائی باتیں کرتی رہتی ہیں۔ جو انہیں مغرب سکھاتا ہے، وہی کچھ وہ آکر یہاں کہتی ہیں ۔
ہم صاف کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ کی قسم !ہم عورت کے دشمن نہیں،بلکہ عورت کے محافظ ہیں اور ہمیں تم سے زیادہ عورت کی عزت و عظمت کاعلم ہے۔ہم عورت سے نفرت نہیں ،بلکہ محبت کرتے ہیں ۔ہم عورت کو ظلم و تشدد سے بچاتے ہیں اور بدقماش اور بدکار افراد سے اسے پناہ دیتے ہیں ۔ لیکن تم نے ہماری ان باتوں کی تصدیق نہ کی اور ان حقائق کو نہ سمجھا اور بھولی بھالی عورت کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو گئے۔ عورت نے تمھارے دھوکہ میں آکر مخلوط نظام کو تہذیب ِعین سمجھ لیا ۔اب عورت پردہ سے بے نیاز ہو کر اکیلی ڈاکٹر کے کلینک میں اس کے ساتھ رہنے لگی ۔وہ اکیلی تاجر کے سٹور پر کام کرنے لگی، سب آنے جانے والوں سے باتیں کرنے لگی، اس کے ہاتھوں کو چھوا گیا اورگویا وہ بازاروں کی نمائش بن کر رہ گئی ۔
سکولوں کالجوں میں نوجوان لڑکیاں، لڑکوں کے ساتھ مل جل کر رہنے لگیں ۔اس کام کی ابتدا نرسری سکول سے ہوئی۔ اس وقت ہم نے کہا کہ یہ چھوٹے بچے اور بچیاں ہیں، انہیں تو خاص باتوں کا پتہ ہی نہیں۔ ہم مان لیتے ہیں کہ ایسے ہی ہوگا ۔ لیکن لڑکی کی شکل صورت اور اندازِ تکلم لڑکوں کے ذہن پر نقش نہیں رہتا؟ جب وہ بڑے ہوجائیں گے ،کیا انہیں بچپن کی یادیں بھول جائیں گی؟کیا نرسری سکول میں پڑھنے والے بچے اور بچیاں بلوغت کو نہیں پہنچتے اور لوگوں سے جو کچھ وہ سنتے ہیں، کیا وہ باتیں ان کے ذہن پر نقش نہیں ہوتیں؟ فلموں اور ڈراموں میں جو بے حیائی اور فحاشی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں،کیا وہ ان کے جنسی میلان کو مہمیز نہیں دیتے؟

٭٭٭٭٭