12-Mohaddis-255-Des-2001

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

رمضان المبارک میں نیکی کا اجر کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ رغبت رکھنے والے ہر انسان کے لئے بھلائی کے تمام دروازے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اسی بابرکت مہینہ میں قرآنِ مجید نازل ہوا۔ اس کا پہلا حصہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے آزادی کا ہے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں جبکہ شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتاہے۔"(مسلم:۲۴۹۲)
رمضان المبارک اور پانچ خصوصیات
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"میری اُمت کو رمضان المبارک میں پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو پہلی کسی بھی امت کے حصہ میں نہیں آئیں:
1) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ محبوب ہے۔
2) روز داروں کے لئے فرشتے استغفار کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ روزہ افطار کرلیں۔
3) اللہ تعالیٰ روزانہ جنت کو مزین کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:
"میرے نیک بندوں سے عنقریب آزمائش ختم ہوگی اور وہ تیرے اندر داخل ہوں گے۔"
4) شیاطین کو بند کردیا جاتاہے، وہ عام دنوں کی طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کرسکتے۔
5) رات کے آخری پہر لوگوں کی بخشش کی جاتی ہے۔ (مسند امام احمد:۷۸۵۷)
روزہ کی فضیلت
روزہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔"(البخاری:۱۹۰۱)
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"پنجگانہ نماز ایک سے دوسری تک، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک گناہ معاف کرنے کا سبب ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہ سے بچا جائے۔"(مسلم:۲۳۳)
روزہ کی فضیلت یہ بھی ہے کہ ا س کا اجر و ثواب لامحدود ہے بلکہ روزہ دار کو بغیر حساب کے اجر عطا فرمایا جائے گا۔ حدیث ِقدسی ہے کہ
" روزہ کے علاوہ بنی آدم کے ہر عمل کا اجر ہے روزہ صرف میرے لئے اور میں ہی ا س کا اجر دوں گا... روزہ ڈھال ہے پس جو کوئی روزہ رکھے تو وہ فحش کاموں سے باز رہے اور اگر کوئی اسے تنگ کرے یا لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے اور روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: ایک روزہ افطار کرتے ہوئے اور دوسری (روزِ قیامت) اللہ ربّ العالمین سے ملتے ہوئے۔" (مسلم:۲۷۰۰) اور دوسری حدیث میں ہے کہ
"بنی آدم کے ہر نیک عمل کو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے مگر روزہ (کے ساتھ یہ معاملہ نہیں) میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گاکیونکہ اس (روزہ دار) نے میری وجہ سے کھانا پینا چھوڑ رکھا تھا۔"(مسلم:۲۷۰۱)
مذکور احادیث سے روزہ کی فضیلت درج ذیل وجوہ سے ثابت ہوتی ہے :
1) تمام عبادات میں سے اللہ تعالیٰ نے روزہ کے اجروثواب کو اپنے ساتھ خاص کیا ہے کیونکہ روزہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے جس سے دوسرا کوئی مطلع نہیں ہوسکتا۔ انسان چاہے تو چھپ کر کھا پی سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی خوشنودی کے خاطر وہ ایسا نہیں کرتا گویا کہ روزہ ایک خالص ترین عبادت ہے۔
2) اللہ نے روزہ کا اجر وثواب بغیر حساب وکتاب دینے کا وعدہ کیا ہے کیونکہ روزہ دار کو بھوک، پیاس، کمزوری بدن جیسے حالات سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ کہ روزہ دار میں صبر کی تمام قسمیں جمع ہوجاتی ہیں۔
3) روزہ گناہوں سے بڑی مضبوط ڈھال کا کام دیتا ہے۔
4) اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ دار کی بہت ہی قدر و منزلت ہے حتیٰ کہ اس کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔
5) روزہ دار کو روزہ کھولتے ہوئے دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں:
(i) افطار کی خوشی (ii) جب اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچے گا تو روزہ رکھنے کی وجہ سے خوش ہوگا۔
لیلة القدر کی فضیلت
رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں ایک ایسی عظیم رات ہے کہ اس کی بندگی ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی بڑھ کر ہے۔اللہ جل شانہ نے اس رات میں قرآن مجید کو لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل کیا۔جہاں سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر اس مقدس کتاب کا نزول ہوتا رہا۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں
"بے شک ہم نے اس (قرآن کو) لیلة القدر میں نازل کیا۔ اور تم کو کیا معلوم کہ لیلة القدر کیا ہے؟ لیلة القدر ہزار مہینوں کی بندگی سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں اور یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے۔" (سورة القدر)
لیلة القدر کی فضیلت درج ذیل وجوہ کی بنا پر ثابت ہوتی ہے
1) اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر قرآنِ مجید کو نازل فرمایا جو انسانیت کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
2) یہ رات ہزار مہینوں کی بندگی سے بھی بڑھ کر فضیلت کی حامل ہے۔
3) اس میں رحمت کے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔
4) یہ رات سلامتی ہی سلامتی ہے اور لوگوں کو عذاب سے بچانے کاذریعہ ہے۔
5) اس رات کی فضیلت میں ایک مکمل سورت نازل کی گئی جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔
6) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو آدمی شب ِقدر کو ایمان اور احتساب کے ساتھ گزارے تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔"(بخاری:۲۰۱۴)
لیلة القدر میں اللہ تعالیٰ بڑے بڑے گنہگاروں کو معاف فرما کر ان کے لئے اعلیٰ جنتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جس نے لیلة القدر کو توبہ کی اور اپنے مالک کو راضی کرلیا اور بدبخت ہے وہ انسان جس نے اس رات کو بھی رمضان المبارک کی طرح غفلت میں گزار دیا۔
روزے کا حکم
روزہ ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر صحت مند، مقیم، بالغ، عاقل مسلمان مرد و عورت پر فرض کیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"جو تم سے اس مہینہ کو پالے تو اسے چاہئے کہ روزہ رکھے۔" (البقرہ:۱۸۵)
مریض، مسافر، حائضہ عورتیں اور نفاس والی عورتیں مستثنیٰ ہیں جن کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
دخولِ رمضان کی تحقیق
رمضان المبارک کے شروع ہونے کا فیصلہ دو طرح سے ہوسکتا ہے۔
1) چاند نظر آجائے: رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "جب تم چاند کو دیکھو تو روزہ رکھو۔" (البخاری:۱۹۰۰)
اس کی صورت یہ ہے کہ ایک عاقل، بالغ، صاحب ِامانت و دیانت آدمی یہ گواہی دے دے کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ سنن ترمذی میں حدیث ہے
"رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور عرض کیا: یارسول اللہ ! میں نے (رمضان کا) چاند دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا :کیا تو گو اہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ؟ اس نے کہا: ہاں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا ہاں، آپ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو اور لوگوں میں اعلان کردو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔"(الترمذی:۶۹۱)
2) زمانہٴ حاضر میں اگر حکومت کی طرف سے ریڈیو، ٹی وی یا دیگر ذرائع سے چاندنظر آنے کا اعلان کردیا جائے تو شرعی طور پر اس اعلان پر عمل کرنا واجب ہے۔ (فتویٰ شیخ ابن عثیمین، مجالس:۱۴)
3) سابقہ مہینہ کے ۳۰ دن پورے ہوجائیں۔
فرمانِ نبوی: "اگر تمہیں چاند نظر نہ آسکے تو پھر تیس دن پورے کرلو"(مسلم:۲۵۱۰)
روزہ کو مشروع قرار دینے کی حکمت
1) قربت ِالٰہی: ر وزہ قربت الٰہی کا ذریعہ ہے، کیونکہ مسلمان محبوب و مرغوب کھانوں کو اس لئے ترک کردیتا ہے کہ اس کا مالک اس سے راضی ہوجائے اور اس کی قربت نصیب ہو۔
2) تقویٰ کا سبب: روزہ رکھنا تقویٰ کا سبب ہے۔ فرمانِ الٰہی کا ترجمہ ہے:"اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم متقی بن جاؤ" (البقرہ:۱۸۳)
اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "جو آدمی فحش گوئی اور برے اعمال کو ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔" (البخاری:۱۹۰۳)
3) غوروفکر: روزہ رکھنے والے کو غورفکر کا موقع میسر آتا ہے۔ کیونکہ لذات بھرے کھانے غفلت کا سبب بنتے ہیں۔ اسی لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے موٴمن کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ کم کھاتا ہے۔ (ابن ماجہ:۳۲۵۶)
4) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر : عموماً انسان کو جب آسائش اور آرام ملتا ہے تو وہ تنگدستی والے ایام بھول جاتا ہے۔ روزہ کے دوران جب بھوک اور پیاس کی شدت محسوس ہوتی ہے تو ان لوگوں کی حالت جاننے کا بڑا سنہری موقع ملتا ہے جن کو اللہ نے مال و دولت کی نعمت سے محروم رکھا ہے۔
5) ضبط ِنفس: روزہ کی حکمت یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس پر کنٹرول اور صبر کی مشق کرتا ہے اور پھر اس کے لئے اپنے آپ کو نیکی کی طرف چلانا انتہائی آسان ہوجاتا ہے۔
6) کسر نفسی: روزہ انسان کو تکبر اور غرور سے دور کرتا ہے اور اس کا دل نرم ہوتا چلاجاتا ہے۔
7) طبی فوائد: روزہ کی وجہ سے معدہ، جگر وغیرہ بہت سی بیماریوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
روزے کے آداب
1) روزہ کی نیت: روزہ دار کو چاہئے کہ وہ روزہ کی نیت کرے جیسے کہ رسول ا نے حکم دیا ہے(ترمذی:۷۳۰) نیت کے لئے کوئی الفاظ ثابت نہیں، نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔
2) سحری کھانا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سحری کھایا کرو،بے شک سحری میں برکت ہے۔"(البخاری:۱۹۲۳)
3) سحری میں تاخیر: سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے سحری تاخیر سے کھانا چاہئے۔(البخاری:۱۹۲۱)
4) واجبات کی ادائیگی: روزہ کا چوتھا ادب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ واجبات کی پابندی کرے۔ جن میں سب سے پہلے فرض نماز ہے، روزہ دار کو چاہئے کہ نماز کی شروط، ارکان، واجبات کا مکمل خیال رکھتے ہوئے نماز ادا کرے۔
5) افطار میں جلدی: روزہ دار کو افطار میں جلدی کرنا چاہئے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجھے وہ بندے بہت محبوب ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں ۔(مسند احمد)
6) محرمات سے اجتناب: روزہ دار کو چاہئے کہ اس کام سے بچ جائے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا: جھوٹ، غیبت، چغل خوری، ملاوٹ، موسیقی وغیرہ سے مکمل اجتناب کرے۔ مذکورہ محرمات کا ذکر ہم نے اس لئے کیا ہے کہ روزہ دار عام طور پر ان میں ملوث رہتا ہے۔ ورنہ دیگر حرام کاموں سے بھی بچنا ضروری ہے۔
7) افطار کے وقت دعا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، افطاری پرکی گئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ:۱۷۵۳)
8) شکرالٰہی: روزہ دار کو چاہئے کہ وہ روزہ رکھنے کی توفیق پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے۔
روزہ دار کو مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کرنا چاہئے
(1) قرآنِ مجید کی تلاوت: قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ عظیم کتاب ہے انسان کی تمام پریشانیوں کا حل اس کتاب میں موجود ہے اس کے ایک حرف کی تلاوت دس نیکیوں کا باعث ہے۔ لہٰذا رمضان المبارک میں ہمیں زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآن مجید کا اہتمام کرنا چاہئے۔
تلاوت کی دو قسمیں ہیں
(i)تلاوتِ حکمی: یہ ہے کہ انسان قرآن مجید میں دی گئی تمام خبروں کی تصدیق کرے اور قرآنِ مجید کے احکامات کی مکمل پابندی کریں۔
(ii) تلاوتِ لفظی: قرآن مجید کے الفاظ کی تلاوت کرنا۔انسان یہ سوچ کر کتاب اللہ کی تلاوت کرے کہ یہ مالک ِارض و سما کا کلام ہے۔ حضرت ابی اُمامہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قرآن مجید کی تلاوت کیا کرو،قیامت کے روز یہ انسان کی شفاعت کرے گا۔" (مسلم:۸۰۴)
(2) صدقہ کرنا: رسول ا رمضان المبارک کے دوران کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں۔ (البخاری:۱۹۰۲)
(3) ذکرالٰہی: روزہ دار کو کثر ت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہئے۔ فرمان الٰہی ہے :
"یاد رکھو! دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہی مطمئن ہوتے ہیں۔" (الرعد:۲۸)
(4) قیامِ رمضان: اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان پرپانچ نمازیں تو فرض کی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ سنن اور نوافل کے اہتمام کو بھی پسند فرمایا ہے۔ نمازِ تراویح نفلی نماز کی ایک شکل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ تراویح کا اہتمام فرمایا مگر اس خوف سے کہ کہیں یہ میری اُمت پر فرض نہ ہوجائے۔ تین دن کے بعد اس کو ترک کردیا۔ یہ نماز انتہائی فضیلت کی حامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کے فرض ہونے کا خوف چونکہ ختم ہوچکا تھا، اس لئے عمر بن خطاب نے لوگوں کو اس کے اہتمام کا حکم دیا۔ حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق نے تمیم داری اور ابی بن کعب کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھائیں۔ (موٴطا امام مالک: ۲۵۳، صلاة تراویح لشیخ عطیہ سالم:۶،۷)
سلف صالحین ان رکعات کو بہت لمبا کرتے تھے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہماری اکثر مساجد میں نمازِ تراویح کی ادائیگی اور قرآن مجید کی تلاوت اتنی تیزی کے ساتھ کی جاتی ہے کہ اللہ ہی معاف فرمائے۔ یہ عمل قطعاً مناسب نہیں ہے۔
کسی آدمی کو یہ لائق نہیں ہے کہ نمازِ تراویح سے پیچھے رہے۔ عورتوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ نماز گھر میں ادا کریں لیکن اگر وہ مسجد میں آکر نمازِ تراویح ادا کرنا چاہیں تو ان کو منع نہیں کرنا چاہئے۔بشرطیکہ وہ مکمل پردہ اور اسلامی حدود کے اندر رہ کر مسجد میں آئیں۔
5) صلاة ِوتر: صلاة وتر رات کی نماز ہے ا س کا وقت عشا کی نماز کے بعد سے لے کر صبح کی اذان سے پہلے تک ہے اور رات کا آخری پہر افضل وقت ہے۔ اگر انسان کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کو اُٹھ نہیں سکے گا تو اسے عشا کی نماز کے بعد ہی وتر ادا کرلینا چاہئے۔ رمضان المبارک میں عام طور پر یہ نماز صلاةِ تراویح کے فورا ً بعد ادا کرلی جاتی ہے جیسا کہ سائب بن یزید  کی حدیث میں مذکور ہے۔
6) اعتکاف: آخری دس دنوں میں اعتکاف کرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور یہ عمل انتہائی فضیلت والا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف کیا۔ (البخاری)
اعتکاف سے مراد یہ ہے کہ انسان یکسوئی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے لئے لوگوں سے علیحدہ ہوجائے۔ یاد رہے کہ اعتکاف مسجد میں ہوگا۔ معتکف زیادہ سے زیادہ ذکر الٰہی، تلاوتِ قرآن، و عظ نصیحت، نماز، عبادت کااہتمام کرے اور فضول باتوں سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔ ہاں ضرورت کے پیش نظر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔دلیل اس کی یہ حدیث ہے کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے کہ اُم المومنین صفیہ  آپ کے پاس تشریف لائیں اور آپ سے گفت و شنید کے بعد گھر تشریف لے گئیں۔ (البخاری: ۲۰۳۸) معتکف اپنے بدن کا کچھ حصہ مسجد سے باہر نکال سکتا ہے۔جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے
"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو وہ مسجد سے اپنا سر گھر کی طرف نکالتے، میں ان کے سر کو دھوتی اور کنگھی کرتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔" (البخاری:۲۰۲۸)
اعتکاف کے لئے خیمہ لگایا جاسکتا ہے اور اس میں صبح کی نماز کے بعد داخل ہونا سنت ہے۔ (مسلم: ۲۷۷۷) ہمارے ہاں اس معاملہ میں اِفراط و تفریط ہے۔ ہماری بعض مساجد میں تو معتکف بالکل پردہ کرلیتے ہیں اور کسی سے بات تک نہیں کرتے اور دوسری طرف بعض مساجد میں اعتکاف بیٹھنے والے فضول گپیں ہانکتے رہتے ہیں۔ تلاوتِ ذکر اور عبادت کی انہیں توفیق نہیں ہوتی ایسے معلوم ہوتا ہے گویا وہ اعتکاف میں نہیں ہیں۔ ان دونوں گمراہیوں سے اللہ ہمیں بچائے۔ آمین
7) لیلة القدر کی تلاش: لیلة القدر کو ۲۷ ویں شب کے ساتھ خاص کرنے کی شریعت میں کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے بلکہ لیلة القدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں طاق راتوں کے اندر تلاش کرنا چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو فرمایا کہ
"لیلة القدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو" (مسلم :۲۷۵۴)
لیلة القدر کو مخفی رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ پتہ چل سکے کہ کون ہے جو رضائے الٰہی کے لئے اس کی تلاش کے شوق میں پورے سال میں صرف پانچ راتیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے گزارتا ہے اور کون ہے جو غفلت کی نیند سوتا رہتا ہے؟
وہ لوگ جن پر روزہ فرض نہیں!
1) کافر: کافر پر روزہ نہیں اگر وہ دورانِ رمضان مسلما ن ہوجائے تو گذشتہ روزوں کی قضا اس پر نہیں ہے۔
2) غیربالغ: غیر بالغ افراد پر روزہ فرض نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تین قسم کے لوگوں پر سے قلم اُٹھالی گئی ہے۔ سو یا ہوا انسان حتیٰ کہ وہ جاگ جائے۔ چھوٹا بچہ حتیٰ کہ وہ جوان ہوجائے، مجنوں حتیٰ کہ وہ صحت مند ہوجائے۔ (ابوداود: ۴۳۹۸)
یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ صحابہ اپنے بچوں کو روزہ رکھواتے اور انہیں اپنے ساتھ مسجد میں لے جاتے اور ان کے کھلونے بھی ساتھ لے لیتے۔ جب بچے بھوک کی وجہ سے پریشان ہوتے تو وہ کھلونے ان کے آگ رکھ دیتے تاکہ بچے مشغول ہوجائیں، اس لئے ہمیں بھی اپنے بچوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب دینا چاہئے تاکہ بالغ ہوکر انہیں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
3) مجنون: مجنون پر روزہ فرض نہیں جس طرح پہلے حدیث میں گزر چکا ہے۔ کیونکہ مجنونآدمی کو اپنے دماغ پر کنٹرول نہیں وہ تو کسی بھی عبادت کی نیت تک نہیں کرسکتا۔
4) روزہ رکھنے سے عاجز: وہ بوڑھا آدمی جو بالکل لاغر ہوچکا ہے اور اس میں روزہ رکھنے کی سکت نہیں ہے۔ اسی طرح اس مریض پربھی روزہ نہیں ہے جو انتہائی لاغر ہوچکا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
"اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے" (البقرة:۲۸۶)
مگر وہ ہر روزے کے بدلہ میں ایک مسکین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائیں گے۔ ہاں اگر مریض کے صحت مند ہونے کی امید ہو تو وہ روزہ کی قضا ادا کرے گا۔
5) مسافر: مسافر پر بھی روزہ نہیں ہے۔ سفر ختم ہونے کے بعد اس کے ذمہ قضا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "جو کوئی تم میں سے مریض یا مسافر ہو تو وہ دوسرے ایام میں گنتی کو پورا کرے۔" (البقرة: ۱۸۵) سفر میں روزہ رکھنا بھی ثابت ہے۔ حضرت سعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے، نہ ہی تو روزہ دار روزہ چھوڑنے والوں کو عیب دار گردانتے تھے اور نہ ہی روزہ چھوڑنے والے روزہ داروں پر عیب لگاتے تھے۔ (الترمذی:۷۱۲)
6) حائضہ عورت: حائضہ عورت پر بھی روزہ رکھنا فرض نہیں ہے حدیث ِمبارکہ ہے کہ
"کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت ایام ماہواری میں ہو تو وہ نہ ہی نماز پڑھے گی اور نہ ہی روزہ رکھے گی، یہ اس کے دین کا نقصان ہے۔ " (البخاری: ۱۹۵۱)
7) نفاس والی عورت: نفاس والی عورت بھی مذکورہ دلیل کی بنا پر روزہ نہیں رکھے گی۔ دونوں قسم کی عورتیں روزہ کی قضا دیں گی۔
8) حاملہ یا دودھ پلانے والے عورت : عورت جو حاملہ ہو یا بچے کو دودھ پلاتی ہو اور روزہ رکھنے کی صورت میں اسے اپنی یا بچے کی جان ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو اس پر بھی روزہ فرض نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مجبوری کی حالت ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔"
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ دونوں عورتوں کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دی ہے۔( ترمذی: ۱۶۶۸)
روزوں کی قضا
مریض، مسافر، حائضہ اور نفاس والی عورت ہر چھوڑے ہوئے روزے کی قضا دے گی۔ یہ روزے آئندہ رمضان سے پہلے پہلے رکھنے ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
"رہ جانے والے روزوں کی گنتی پوری کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتے ہیں اور تنگی کو پسند نہیں فرماتے۔" (البقرة:۱۸۵)
اگر کسی آدمی پر روزوں کی قضا ہو اور وہ روزے رکھنے سے پہلے فوت ہوجائے تو اس کے ولی کو چاہئے کہ مطلوبہ روزے رکھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "جب کوئی آدمی فوت ہوجائے اوراس کے ذمہ روزوں کی قضا ہو تو اس کا ولی روزے رکھے۔" (مسلم : ۲۶۸۷)
روزہ توڑنے والے اُمور
(1) ہم بستری: بیوی سے ہم بستری سے نہ صرف روزہ ٹوٹ جائے گا بلکہ اس کی قضا کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔ اور وہ کفارہ ایک گردن آزاد کرنا یا متواتر دو ماہ کے روزے رکھنا یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے۔ ( البخاری: حدیث ۱۹۳۷)
(2) اخراجِ منی: اگر روزہ دار اختیاری طور پر منی خارج کر دے تو اس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ چاہے منی کا اخراج مباشرت ، بوس و کنار، لمس یا دیگر کسی طریقہ سے ہو۔
البتہ اگر سوتے ہوئے محض تفکر یا بے اختیاری میں منی خارج ہوجائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " فقط خیالات اور تفکرپر موٴاخذہ نہیں ہوتا یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرے۔"(متفق علیہ)
(3) عمداًکھانا پینا: جان بوجھ کر کوئی چیز کھانے یا پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یعنی وہ خوراک جوپیٹ میں پہنچ جائے، چاہے منہ کے راستے سے ہو یا ناک کے راستہ سے پہنچے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا ترجمہ یہ ہے: "اور فجر کے وقت جب تک سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح نہ ہوجائے، کھاؤ پیو پھر رات تک روزہ کو مکمل کرو۔" (البقرہ: ۱۸۷)
البتہ بھول کرکھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : "جس نے روزہ کی حالت میں بھول کر کھا پی لیا ہو تو وہ اپنا روزہ پورا کرے یہ تو اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا پلایا ہے۔" (متفق علیہ) یاد رہے کہ طاقت کا ٹیکہ بھی روزہ توڑنے کا سبب ہے۔ (دیکھئے فتاویٰ شیخ عثیمین، مجالس ۶۶)
(4) حیض اور نفاس کے خون کا اخراج: حیض اور نفاس کے خون کے اخراج سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے جس طرح پہلے حدیث گزر چکی ہے۔
روزہ دار کے لئے جائز امور
(1) آنکھوں میں دوا ڈالنا یا سرمہ لگانا : ابوداود میں موجود روایت جس سے یہ مطلب اخذ کیا جاتا ہے کہ روزہ دار کو سرمہ لگانا منع ہے، ضعیف ہے۔ اس کے متعلق یحییٰ بن معین  فرماتے ہیں: ھذا حدیث منکر "یہ منکر حدیث ہے۔"
(2) مسواک کرنا: حضرت عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ کئی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ وہ روزہ کی حالت میں مسواک کررہے تھے۔ (البخاری مع الفتح:۴/۲۰۱)
(3) حالت ِجنابت میں سحری: حالت ِجنابت میں انسان سحری کھا سکتا ہے، اس کے بعد وہ غسل کرے۔(ترمذی:۱۷۰۲)
(4) بوس وکنار: جس آدمی کو اپنے نفس پر مکمل کنٹرول ہو اور اس کو حد سے گزرنے کا خطرہ نہ ہو تو وہ اپنی بیوی سے بوس و کنار کرسکتا ہے۔(البخاری: ۱۶۸۴،۱۶۸۷)
(5) نہانا یا سر پر پانی ڈالنا: روزہ دار کے لئے غسل جائز ہے۔ (البخاری: ۱۹۳۱)
٭ رمضان کے استقبال کیلئے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔ (الترمذی:۶۸۴)
ماہِ صیام کے آخری دس دن
رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اللہ تعالیٰ لاتعداد لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کردیتے ہیں۔ ا س لئے انسان کو اگرچہ پورے رمضان میں ہی نیک اعمال کی مکمل سعی کرنا چاہے مگر آخری دس دنوں میں خصوصی طور پر اعمالِ صالحہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اتنی عبادت کرتے تھے کہ اس طرح کسی اور دنوں میں نہیں کرتے تھے۔(مسلم:۲۷۸۰) اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں راتوں کوجاگتے اور عبادتِ الٰہی کے لئے کمر باندھ لیتے اور اہل خانہ کوبھی جگا لیتے تھے۔ (مسلم :۲۷۷۹)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں انتہائی مختصر وقت کے لئے دنیا میں بھیجا ہے۔عنقریب ہی ہم خالق کے حضور کھڑے ہوکر اپنے اعمال کا حساب و کتاب دینے والے ہیں اس لئے ماہِ رمضان کے لئے مناسب تیاری کریں اور پورا مہینہ خاص طور پر آخری دس دنوں میں بھرپور کوشش کرکے مالک ِارض و سما کو خوش کرلیں۔

٭٭٭٭٭