مسلمانو! آج ایک عظیم او ربابرکت مہینہ تم پر سایہ فگن ہے یعنیرمضان کا مہینہ، دن کوروزہ داری اور رات کوعبادت گزاری کا مہینہ، تلاوتِ قرآن سے دلوں کو منور کرنے کامہینہ، دلوں کی تشنگی کو تلاوتِ قرآن سے سیراب کرنے کا مہینہ، دلوں کی بنجر زمین کو تلاوتِ قرآن سے شگفتہ و شاداب کرنے کا مہینہ۔ دلوں پر گناہوں کی جمی ہوئی سیاہی کو دھوکہ دینے کامہینہ، گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا مہینہ، صدقات و خیرات سے روح و قلب پر چھائی خشک سالی کو دور کرنے کا مہینہ۔
یہی ہے وہ مہینہ جس میں جنتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ یہی مہینہ ہے جس میں نیکیوں کا ایک لشکر ترتیب دیا جاتا ہے، سالوں کی پھیلی ہوئی بدیوں کو شکست دی جاتی ہے۔یہی مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا کرتے ہیں، درجات بلند کردیئے جاتے ہیں اور گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔یہی وہ عہد ِمقدس ہے جس میں اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے اور خدا کے بندوں کو طرح طرح کے عطیات سے نوازا جاتا ہے، یہی وہ ماہِ مبارک ہے جس کے روزوں کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کا رکن ٹھہرایا، جس کے روزے پیغمبر نے خود رکھے اور لوگوں کو رکھنے کا حکم دیا اور بتایا کہ جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان اور احتسابِ نفس کے ساتھ رکھے، خدا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردے گا۔
اسی مہینے میں وہ مقدس رات ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ بڑا بدبخت ہے وہ شخص جو اس کی بے پایاں سعادتوں سے محروم رہا۔ اے لوگو! اخلاص کے ساتھ صیام و قیام کے اہتمام میں اپنی جان کو کھپا دو۔ یہی وقت ہے نیکیوں میں آگے بڑھنے کا۔اللہ کے حضور تمام برائیوں سے سچی توبہ کرنے میں جلدی کرو۔ بھلائی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے خیر خواہی اور تعاون کرو۔ امربالمعروف کی نصیحت اور نہی عن المنکر کی تلقین کرو۔ اسی میں کامیابی کا راز اور اجر ِعظیم کا وعدہ ہے۔
روزہ میں بے شمار فوائد اور عظیم حکمتیں پنہاں ہیں۔ روزہ ہی ہے جونفس کو غلاظتوں، اخلاقِ رذیلہ اور کبروبخل ایسے اوصافِ ذمیمہ سے پاک کرتا ہے، پھر روزہ ہی وہ عمل ہے ، جس سے انسان کے اندر صبر، بردباری، جودوسخا اور نفس کو مغلوب کرنے کی قوت جیسی صفاتِ حمیدہ پیداہوتی ہیں۔
روزے کے تربیتی پہلو
(1) روزہ سے عبادت میں انہماک او ربندگی کو صرف اللہ کے لئے خالص کردینے کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے، کیونکہ روز اللہ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے اور اخلاص اللہ کی قربت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس عمل اور مشقت کا کوئی فائدہ نہیں جوعمل سے خالی ہو کیونکہ اللہ اپنے ساتھ کسی غیر کی شرکت کو پسند نہیں کرتا۔ اور صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لئے کیا گیا ہو۔
(2) روزہ نفس کے تقاضوں اور جسم کے ناجائز میلانات کا مقابلہ کرنے کی قوت پیدا کرتاہے اور روزہ ہی سے انسان میں قوتِ ارادی پیدا ہوتی ہے۔ جب روزہ دار دن کے وقت اپنے آپ کو حلال چیزوں سے بھی روکتا ہے تو اس سے اس کے اندر یہ قوت پیدا ہوتی ہے کہ باقی اوقات میں اپنے آپ کو حرام چیزوں سے بھی روکے۔
(3) روزہ انسان کو صبر اور ضبط نفس کا عادی بناتا ہے جس سے اس کے اندر یہ قوت پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقصد کے راستے میں درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرسکے۔
(4) روزہ پورا مہینہ انسان کے تمام اعضاکی تربیت اور اس کے دل کا بائی پاس کرکے تمام اعضا اور دل کو گناہوں کامقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔
(5) روزہ انسان کی تربیت اس طرز پر کرتا ہے کہ ہرانسان اپنے اختیار سے دستبردار ہوکر اپنے آپ کو مقتدر اعلیٰ ہستی کے سپرد کردے اور اپنی پوری زندگی قانونِ الٰہی کے تابع کردے۔
روزہ پورا مہینہ تمام بدن کی تربیت کرتا ہے اور نفس کو دنیاوی آلائشوں سے آزاد کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان معمولات کا عادی ہوجاتا ہے۔ روزہ صرف پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت کو کنٹرول کرنے کا نام نہیں، بلکہ حقیقت میں روزہ یہ ہے کہ انسان اپنے جسم کے انگ انگ کو ان تمام چیزوں سے روک دے جن کو اللہ نے حرام ٹھہرایاہے۔ یہ کیاہوا کہ جسم کا پیٹ تو بھوکا رہے، لیکن دل کے شکم اور باقی اعضا کو گناہ کی کثافتوں سے آسودہ اور سیر ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ شرمگاہ کے ساتھ ساتھ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ اورپاؤں کو بھی گناہوں سے آلودہ ہونے سے بچانا ضروری ہے۔
(5) روزہ جاہلوں کے ساتھ بردباری کا درس ہے۔ روزہ دار سے جب کوئی جھگڑتا ہے ، گالی دیتا ہے یا اسے جوش دلاتا ہے تو وہ غصے کو پی جاتا، بردباری کا مظاہر کرتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ بھائی میرا روزہ ہے، لہٰذا میں تجھ سے الجھنے کا روادار نہیں ہوسکتا ہے۔
روزہ، روزے دار کے دل میں محتاج اور تنگ دست کے لئے شفقت اور رحم دلی کے جذبات پالتا ہے، جب وہ بھوک کی تلخی کو محسوس کرتا ہے تو اس کے اندر تنگ دستوں کے لئے رحم کا جذبہ انگڑائیاں لیتا ہے اور وہ فورا ً ان کے لئے دست تعاون دراز کردیتا ہے، پھر زکوٰة ِفطر جو اُمت ِمسلمہ کے ہر فرد پر لازم، نے اس پہلو کو اور زیادہ مضبوط کردیا ہے۔ یہ تربیت ِافراد کا ایک اہم پہلو ہے جیسے مسلمانوں کے درمیان عام کرنا اشد ضروری ہے ، اس سے مودّت و محبت اور اُخوت کا تعلق مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگا۔
روزہ، روزہ دار کو بتاتا ہے کہ خلوصِ نیت سے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے سے کون سی چیز موٴمن کے لئے اللہ کی توفیق اور مدد سے باعث ِفرحت و سرور ہوتی ہے۔ موٴمن خود بخود اس فرحت اور سکون کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یوں خبر دی ہے:
«للصائم فرحتان إذا أفطر فرح بفطره وإذا لقی ربه فرح بصومه»(مسلم)
"روزہ دار کو دو خوشیاں نصیب ہوتی ہیں، ایک اس وقت جب وہ روزہ افطار کرتاہے اور ایک اس وقت جب وہ اپنے ربّ سے ملاقی ہوگا تو روزہ کی وجہ سے فرحت و انبساط محسوس کرے گا۔ "
فرمانِ الٰہی ہے:
﴿قُل بِفَضلِ اللَّهِ وَبِرَ‌حمَتِهِ فَبِذ‌ٰلِكَ فَليَفرَ‌حوا هُوَ خَيرٌ‌ مِمّا يَجمَعونَ ٥٨ ﴾... سورۃ یونس
"اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ لوگوں کو بس اللہ کے اس انعام او ررحمت پر خوش ہوجانا چاہئے، وہ اس (دنیا) سے بدرجہا بہتر ہے جس کو یہ جمع کررہے ہیں۔"
اس میں ان بے شمار گمراہ کن تصورات اور غلط نظریات کی تصحیح کردی گئی ہے جو دنیوی سازوسامان میسر آنے پر خوش ہوتے ہیں اور اس کے چھن جانے پر غمگین ہوجاتے ہیں۔
(8) روزہ، روزہ دار کے دل میں اجتماعیت کے تصور کومستحکم کرتا ہے، کیونکہ چہار سو عالم میں بسنے والے مسلمان ایک ہی مہینہ میں روزہ رکھتے ہیں اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ خیر روزہ کے سبب سے ہے۔
ماہِ رمضان نسل ورنگ کے اختلاف کے باوجود پورے عالم میں بسنے والے مسلمان بھائیوں کو اس عبادت میں شریک کرلیتا ہے جس سے مسلمانوں کے اندر وحدتِ ملت کا شعور مزید مستحکم ہوجاتا ہے اور وحدة المسلمین کے شعور کا پروان چڑھنا تربیت ِمعاشرہ کا انتہائی اہم پہلو ہے۔ جس سے مسلمانوں کے درمیان انفرادی اور اجتماعی سطح پر تعلقات اور روابط مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں۔
روزہ او رامراضِ جلد
ماہرامراض جلد ڈاکٹر محمد الظواہری کہتے ہیں:
"ماہِ رمضان کی سخاوت جلدی امراض کو بھی شامل ہے، کیونکہ بعض جلدی بیماریاں روزہ کی وجہ سے ٹھیک ہورہی ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غذا اور انسان کو جلدی بیماریاں کے لاحق ہونے کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے۔ وہ اس طرح کہ ایک مدت تک کھانے او رپینے سے رک جانے کی وجہ سے جسم میں پانی او رخون کی مقدارکم پڑ جاتی ہے جس سے جلد بھی متاثر ہوتی ہے اور اس میں بھی خون اور پانی کی مقدار قدرے کم ہوجاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امراضِ معدہ کے خلاف جلد کی قوتِ مدافعت بڑھ جاتی ہے۔ اور امراضِ معدہ کے علاج کے سلسلے میں جلد کی قوتِ مدافعت ہی دراصل وہ بنیادی فیکٹر ہے جس پر یہ اعتماد کیا جاسکتاہے کہ اب مریض جلد صحت یابی سے ہمکنار ہوجائے گا۔"
روزہ سے متعلق بعض طبی مسائل
(1) دانت اکھڑ جانے یا داڑھ نکلوانے کی وجہ سے جاری ہونے والا خون، اسی طرح نکسیر سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، بشرطیکہ روزہ دار خون کو نگلنے سے ممکن حد تک احتراز کرے کیونکہ یہ غیر اختیاری فعل ہے۔ اور روزہ دار کے ارادہ کے بغیر روزہ نہیں ٹوٹے گا، نہ ہی اس سے روزہ کی قضا لازم آئے گی۔
(2) انجکشن (ٹیکہ) جو غذائیت کا کام دے او رکھانے پینے سے کفایت کرجائے مثلاً گلوکوز وغیرہ سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ یہ دراصل کھانے پینے کے قائم مقام ہے اور اس کا مقصد معدہ میں غذا پہنچانا ہے۔ البتہ اگر انجکشن غذائیت کے کام نہ آئے مثلا کلوروفارم وغیرہ یا نشہ آور ٹیکہ وغیرہ تو ایسے انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(3) آنکھ، کان، جلد،دُبر وغیرہ غذا پہنچانے کا راستہ نہیں ہیں، لہٰذا کان یا آنکھ میں دوائی کے قطرے ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے اس کا اثر حلق میں بھی محسوس ہو۔
(4) روزہ کی حالت میں گردوں کی واشنگ کروانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ اس حالت میں خون کے ساتھ غذائی اور دوسرا مواد بھی شامل ہوجاتا ہے۔
(5) خون کا عطیہ دینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ کیونکہ یہ سینگی لگوانے کی طرح ہے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، البتہ ٹیسٹ کے لئے تھوڑا سا خون نکالنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
(6) جب حمل ساقط ہوجائے اور اس سے خون نکل آئے تو دیکھا جائے گا کہ اگر تو وہ جنین جو ساقط ہوا ہے، خون کے لوتھڑے یا بوٹی کی شکل میں تھا جس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ انسانی تخلیق کا آغاز ہوچکا تھا تو یہ خون نفاس کا خون نہیں ہوتا لہٰذا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
لیکن اگر ساقط جنین کی حالت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی تخلیق کی ابتدا ہوچکی تھی تو یہ خون نفاس ہوگا لہٰذا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس حالت میں عورت کے لئے روزہ رکھنا او رنماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔
(7) حاملہ عورت اگر طاقت ور ہے اور روزہ رکھنا اس کیلئے باعث ِمشقت اور ضعف نہیں تو اسے روزہ رکھنا چاہئے۔ لیکن اگر وہ کمزور ہے اور روزہ کی مشقت برداشت نہیں کرسکتی توروزہ چھوڑ سکتی ہے۔
مریض اور بوڑھے کی روزہ کی قضا
اگر کوئی قابل اعتماد، ایمان دار او راپنے فن میں ماہر مسلمان ڈاکٹر یہ رپورٹ دے کہ اس مریض کے شفایابی کی امید نہیں او ریہ مستقبل میں یہ مریض (یابوڑھا) ہرگز روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہوسکے گا تو اس کو چاہئے کہ ہر روزہ کے بدلے کسی مسکین کو روزہ افطار کروائے۔ لیکن اگر ڈاکٹر رپورٹ دے کہ مریض کی صحت یابی کی اُمید ہے او ریہ آئندہ روزہ رکھنے کے قابل ہوجائے گا۔ ایسا مریض جب شفایاب ہوجائے تو اس پر چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا ضروری ہوگی۔
جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ البتہ (طبیعت کی خرابی کی وجہ سے) خود بخود قے آجائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ جب قے بے قابو ہوجائے تو روزہ دار کو چاہئے کہ اسے نکلنے کے لئے چھوڑ دے۔ ا س کا روزہ اس وقت درست ہوتا ہے جب تک قے خود بخود نکلتی رہے اور اس میں اس کا اپنا عمل دخل نہ ہو۔ (کتاب مسائل من الصيام ازمحمد بن صالح العثیمین)

٭٭٭٭٭