( نو طبع شدہ تفسیر تیسیر القرآن سے اِنتخاب )
(1)﴿وَإِن خِفتُم أَلّا تُقسِطوا فِى اليَتـٰمىٰ فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُ‌بـٰعَ ۖ فَإِن خِفتُم أَلّا تَعدِلوا فَو‌ٰحِدَةً أَو ما مَلَكَت أَيمـٰنُكُم ۚ ذ‌ٰلِكَ أَدنىٰ أَلّا تَعولوا ٣ وَءاتُوا النِّساءَ صَدُقـٰتِهِنَّ نِحلَةً ۚ فَإِن طِبنَ لَكُم عَن شَىءٍ مِنهُ نَفسًا فَكُلوهُ هَنيـًٔا مَر‌يـًٔا ٤ ﴾... سورة النساء
اور اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں اُن سے انصاف نہ کرسکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں، دو، دو، تین، تین، چار، چار تک نکاح کر لو لیکن اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔ یا پھر وہ کنیزیں ہیں جو تمہارے قبضے میں ہوں بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ بات قرین صواب ہے
نیز عورتوں کو ان کے حق مہر بخوشی ادا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تمہیں چھوڑ دیں تو تم اسے مزے سے کھا سکتے ہو
]۶[ یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں کو ان سے ناانصافی کرنے سے روکا گیا ہے اور فرمایا کہ اگر تم صاحب ِجمال لڑکی کا اتنا مہر ادا کر سکو جتنا باہر سے مل سکتا ہے تو تم اس سے نکاح کر سکتے ہو ورنہ اور تھوڑی عورتیں ہیں، ان میں سے اپنی حسب ِپسند چار تک بیویاں کر سکتے ہو۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ ان میں مساوات کا لحاظ رکھو اور اگر یہ کام نہ کر سکو تو پھر ایک بیوی پر اکتفا کرو، یا پھر ان کنیزوں پر جو تمہارے ملک میں ہوں۔ مندرجہ ذیل دو احادیث بھی ان اَحکام پر روشنی ڈالتی ہیں :
1۔ حضرت عبداللہ بن عمر  کہتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی  جب اسلام لائے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا :"ان میں سے کوئی سی چار پسند کر لو (باقی چھوڑ دو)"۔ (ابن ماجہ: کتاب النکاح، باب الرجل يسلم و عندہ أکثر من أربع نسوة)
2۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ جس کے نام قرعہ نکلتا، اسے اپنے ہمراہ لے جاتے اور آپ ہر بیوی کی باری ایک دن اور ایک رات مقرر کرتے تھے۔" (بخاری: کتاب الہبہ، باب هبة المرأة لغير زوجها)
البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بالکل الگ ہے کیونکہ آپ کی ازواجِ مطہرات اُمت کی مائیں ہیں جو کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کر سکتی تھیں، لہٰذا جتنے نکاح آپ ا کر چکے تھے وہ سب آپ ا کے لیے حلال اور جائز قرار دیئے گئے۔
اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اسلام میں تعدد ِاَزواج کی کوئی حد نہیں اور قرآن میں جو دو دو تین تین، چار چار کے الفاظ آئے ہیں، یہ بطور محاورئہ زبان ہیں یعنی دو دو کی بھی اجازت ہے، تین تین کی بھی اور چار چار کی بھی، اور اسی طرح پانچ پانچ اور چھ چھ کی بھی فصاعداً۔ یہ استدلال دو وجہ سے غلط ہے: ایک یہ کہ اگر اجازت ِعام ہی مقصود ہوتی تو صرف ﴿ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ﴾ کہہ دینا ہی کافی تھا۔ چار تک تعین کرنے کی قطعاً ضرورت نہ تھی اور دوسرے یہ کہ سنت نے چار تک حد کی تعیین کر دی تو پھر اس کے بعد کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کوئی دوسری بات کرے۔ جیسا کہ اوپر حضرت عبداللہ بن عمر  کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
یہ لوگ تو وہ تھے جو اِفراط کی طرف گئے اور کچھ لوگ تفریط کی طرف چلے گئے کہ عام اُصول یہی ہے کہ صرف ایک عورت سے شادی کی جائے، ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "اگر تمہیں خدشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔" پھر اسی سورہ کی آیت نمبر ۱۲۹ میں فرمایا کہ "اگر تم چاہو بھی کہ اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کرو تو تم ایسا نہ کر سکو گے۔" گویا آیت نمبر ۳ میں تعددِ ازواج کی جو مشروط اجازت دی گئی تھی وہ اس آیت کی رو سے یکسر ختم کر دی گئی۔ لہٰذا اصل یہی ہے کہ بیوی ایک ہی ہونی چاہئے۔
یہ استدلال اس لحاظ سے غلط ہے کہ اسی سورت کی آیت ۱۲۹ میں آگے یوں مذکور ہے "لہٰذا اتنا تو کرو کہ بالکل ایک ہی طرف نہ جھک جاؤ اور دوسری کو لٹکتا چھوڑ دو۔" اور جن باتوں کی طرف عدمِ انصاف کا اشارہ ہے وہ یہ ہیں کہ مثلاً ایک بیوی جوان ہے، دوسری بوڑھی ہے۔ یا ایک خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت یا قبول صورت ہے۔ یا ایک کنواری ہے دوسری ثیب (شوہر دیدہ) ہے۔ یا ایک خوش مزاج ہے اور دوسری تلخ مزاج یا بدمزاج ہے۔ یا ایک ذہین و فطین ہے اور دوسری بالکل جاہل اور کند ذہن ہے۔ اب یہ تو واضح بات ہے کہ اگرچہ ان صفات میں بیوی کا اپنا عمل دخل کچھ نہیں ہوتا، تاہم یہ باتیں خاوند کے لیے میلان یا عدمِ میلان کا سبب ضرور بن جاتی ہیں۔ اور یہ فطری اَمر ہے، اسی قسم کی ناانصافی کا یہاں ذکر ہے۔ اور چونکہ اس قسم کے میلان یا عدم میلان میں انسان کا اپنا کچھ اختیار نہیں ہوتا لہٰذا ایسے اُمور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی گرفت اور موٴاخذہ نہیں۔ خاوند سے انصاف کا مطالبہ صرف ان باتوں میں ہے جو اس کے اختیار میں ہیں۔ جیسے نان و نفقہ، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور شب بسری کے سلسلہ میں باری مقرر کرنا وغیرہ۔ کون نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے حضرت عائشہ  سے زیادہ محبت تھی اور اس کی وجوہ یہ تھیں کہ آپ کنواری تھیں، نو عمر تھیں، ذہین و فطین اور خوش شکل تھیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے کہ "یا اللہ ! جن باتوں میں مجھے اختیار ہے، ان میں سب بیویوں سے میں یکساں سلوک کرتا ہوں اور جو باتیں میرے اختیار میں نہیں تو وہ مجھے معاف فرما دے۔"
تفریط کی طرف جانے والے لوگ دراصل تہذیب ِمغرب سے سخت مرعوب ہیں جن کے ہاں صرف ایک ہی بیوی کی اجازت ہے۔ آج کل اس طبقہ کی نمائندگی غلام احمد پرویز صاحب فرما رہے ہیں۔ انہوں نے اس آیت میں 'یتامی' کا لفظ دیکھ کر تعددِ ازواج کی اجازت کو ہنگامی حالات اور جنگ سے متعلق کر دیا چنانچہ 'طاہرہ کے نام خطوط' کے صفحہ ۳۱۵ پر فرماتے ہیں :
"مطلب صاف ہے کہ اگر کسی ہنگامی حالت مثلاً جنگ کے بعد جب جوان مرد بڑی تعداد میں ضائع ہو چکے ہوں اور ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ معاشرہ میں یتیم بچے اور لاوارث جوان عورتیں شوہر کے بغیر رہ جائیں تو اس کا کیا علاج کیا جائے۔ اس ہنگامی صورت سے عہدہ برآ ہونے کیلئے اس کی اجازت دی جاتی ہے کہ ایک بیوی کے قانون میں عارضی طور پر لچک پیدا کر لی جائے۔"
پھر آگے چل کر﴿فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ مَثنىٰ وَثُلـٰثَ وَرُ‌بـٰعَ﴾ کے معنی بیان فرماتے ہیں کہ
"ان میں سے ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں نکاح کر لو۔ اس طرح انہیں (اور بیواؤں کی صورت میں ان کے ساتھ ان کے بچوں کو بھی) خاندان کے اندر جذب کر لو۔ یہی ان سے منصفانہ سلوک ہے۔ یہ مسئلہ اگر دو دو بیویاں کرنے سے حل ہو جائے تو دو دو کر لو اور اگر تین تین سے ہو تو تین تین اور چار چار سے ہو تو چار چار ... یہ تو رہا اجتماعی فیصلہ" (طاہرہ کے نام خطوط :ص ۳۱۶)
اب یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہنگامی حالات اور جنگ کی قید آ کہاں سے گئی؟ کیا ہنگامی حالات یا جنگ کے بغیر کسی معاشرہ میں یتیموں کا وجود ناممکن ہے؟ یا قرآن کے کسی لفظ سے ہنگامی حالات یا جنگ کا اشارہ تک بھی ملتا ہے؟
خیر اس بات کو بھی جانے دیجئے ،ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ پرویز صاحب بجا فرما رہے ہیں تو اس کے مطابق صرف جنگ ِاُحد ہی ایسی جنگ قرار دی جا سکتی ہے جو پرویز صاحب کے نظریہ کا مصداق بن سکے کیونکہ اس میں ستر مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ دوسری کسی بھی جنگ میں مسلمانوں کا اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس جنگ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کی تعداد سات سو تھی اور منافقین کو بھی مسلمانوں میں شامل سمجھا جائے تو ایک ہزار تھی۔ اور یہ وہ تعداد تھی جو میدانِ جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے ورنہ سب مسلمانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔ اور ان میں سے ستر مسلمانوں کے شہید ہونے سے ستر عورتیں بیوہ ہوگئیں (کیونکہ پرویز صاحب کے نظریہ کے مطابق اصل صرف یک زوجگی ہے)۔ اب ان میں ان کی یتیم اولاد یعنی جوان لڑکیاں ... اس تعداد کو چار گنا کر دیجئے ... یعنی تقریباً ۳۰۰ عورتوں کی شادی کا مسئلہ تھا اور بقول پرویز صاحب چونکہ یہ اجتماعی مسئلہ تھا لہٰذا ڈیڑھ ہزار مسلمانوں میں سے صرف تین سو مسلمانوں کے مزید ایک بیوی کر لینے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا تھا اور یہ کام ہو بھی حکومتی سطح پر رہا تھا۔ پھر جب سارے مسلمانوں کو دو دو بھی حصہ میں نہ آ سکیں تو تین تین اور چار چار عورتوں سے نکاح کے کیا معنی؟
اور یہ اجتماعی فیصلہ والی بات بھی عجیب قسم کی دھاندلی ہے۔ قرآن کہہ رہا ہے﴿فَانكِحوا ما طابَ لَكُم﴾یعنی مسلمان انفرادی طور پر جس جس عورت کو پسند کریں، اس سے نکاح کر لیں اور آپ اسے اجتماعی فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ سو یہ ہے پرویز صاحب کی قرآنی بصیرت، جو دراصل اس مغربی تخیل کی پیداوار ہے جس میں ایک سے زائد بیویوں سے نکاح کو مذموم فعل سمجھا جاتا ہے۔
بات بالکل صاف تھی کہ اسلام نے حکم تو ایک بیوی سے نکاح کر لینے کا دیا ہے۔ البتہ اجازت چار بیویوں تک ہے۔ تعدد ِازواج اجازت ہے، حکم نہیں۔ اور اس اجازت کی وجہ یہ ہے کہ قرآن ہر ایک کے لیے اور ہر دور کے لیے تاقیامت دستور ِحیات ہے۔ لہٰذا کسی بھی ملک اور کسی بھی دور کے لوگ اپنے اپنے رسم و رواج یا ضروریات کے مطابق اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ملک پاکستان میں عورت کی علیحدہ ملکیت کا تصور نہیں۔ مرد اگر گھر والا ہے تو عورت گھر والی ہے، لہٰذا یہاں اگر کوئی دو بیویاں کر لے تو بے شمار پریشان کن مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہاں اگر کوئی دوسری یا تیسری بیوی کرتا ہے تو یقینا کسی خاص ضرورت کے تحت کرتا ہے اور ملک کی ۹۵ فیصد آبادی اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھاتی اور ایک ہی بیوی کو درست سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس عرب میں آج بھی بیوی کی الگ ملکیت کا تصور موجود ہے۔ لہٰذا وہاں چار تک بیویاں کرنے پر بھی بیویوں کی باہمی رقابت اور خاوند کو پریشان کرنے والے مسائل بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر وہاں طلاق کو بھی کوئی ایسا جرم نہیں سمجھا جاتا جس سے دو خاندانوں میں ایسی عداوت ٹھن جائے جیسی پاکستان میں ٹھن جاتی ہے۔ لہٰذا وہاں نصف سے زیادہ آبادی قرآن کی اس اجازت سے فائدہ اُٹھا رہی ہے۔ لہٰذا شرعی لحاظ سے نہ پاکستان کے رواج کو مورد ِالزام ٹھہرایا جا سکتا ہے اور نہ عرب کے رواج کو۔
ایک سے زیادہ بیویوں کو مذموم فعل سمجھنے کے اس مغربی تخیل کی بنیادیں دو ہیں: پہلی بنیاد: فحاشی، بدکاری، داشتائیں رکھنے کی عام اجازت اور جنسی آوارگی ہے جسے مغرب میں مذموم فعل کی بجائے عین جائز بلکہ مستحسن فعل سمجھا جاتا ہے۔ اور دوسری بنیاد: مادّیت پرستی ہے۔ جس میں ہر شخص یہ تو چاہتا ہے کہ اس کا معیار ِزندگی بلند ہو اور اولاد کو اعلیٰ تعلیم دلائے مگر ان باتوں پر چونکہ بے پناہ اخراجات اٹھتے ہیں جو ہر انسان پورے نہیں کر سکتا، لہٰذا وہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہی نہ ہو یا کم سے کم ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا معاشرہ تو ایک بیوی بھی بمشکل برداشت کرتا ہے اور وہ بہتر یہی سمجھتا ہے کہ بیوی ایک بھی نہ ہو اور سِفاح یا بدکاری سے ہی کام چلتا رہے۔ لیکن اسلام سب سے زیادہ زور ہی مرد اور عورت کی عفت پر دیتا ہے اور ہر طرح کی فحاشی کو مذموم فعل قرار دیتا ہے اور معیارِ زندگی کو بلند کرنے کی بجائے سادہ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے، اسی لیے اس نے اقتضاء ات اور حالات کے مطابق چار بیویوں تک کی اجازت دی ہے۔ اب بتائیے کہ اس مغربی تخیل اور اسلامی تخیل میں مطابقت کی کوئی صورت پیدا کی جا سکتی ہے؟
اسی مغربی تخیل سے اور بعض 'مہذب خواتین' کے مطالبہ سے متاثر ہو کر صدر ایوب کے دور میں پاکستان میں مسلم عائلی قوانین کا آرڈیننس ۱۹۶۱ء پاس ہوا۔ جس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگر مرد شادی شدہ ہو اور دوسری شادی کرنا چاہتا ہو تو وہ سب سے پہلے اپنی پہلی بیوی سے اس دوسری شادی کی رضامندی اور اجازت تحریراً حاصل کرے، پھر ثالثی کونسل سے اجازت نامہ حاصل کرے اور اگر ثالثی کونسل بھی اجازت دے تو تب ہی وہ دوسری شادی کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس آرڈیننس کی شق نمبر ۲۱ اور ۲۲ سے واضح ہوتا ہے۔ گویا حکومت نے نکاحِ ثانی پر ایسی پابندیاں لگا دیں کہ کوئی شخص کسی انتہائی مجبوری کے بغیر دوسرے نکاح کی بات سوچ بھی نہ سکے اور عملاً اس اجازت کو ختم کر دیا جو اللہ تعالیٰ نے مرد کو دی تھی۔ کیونکہ کوئی عورت یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ اس کے گھر میں اس کی سوکن آ جائے۔
اب جو لوگ دوسری شادی کرنا چاہتے تھے اور پہلی بیوی کے رویہ سے نالاں تھے یا کسی اور مقصد کے لیے دوسری شادی ضروری سمجھتے تھے، انہوں نے اس غیر فطری پابندی کا آسان حل یہ سوچا کہ پہلی بیوی کو طلاق دے کر رخصت کر دیا جائے اور بعد میں آزادی سے دوسری شادی کر لی جائے۔ اس طرح جو قانون عورتوں کے حقوق کی محافظت کے لیے بنایا گیا تھا، وہ خود انہی کی پریشانی کا موجب بن گیا۔ کیونکہ اللہ کے احکام کی ایسی غیر فطری تاویل اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اور ایسے معاشرہ کو اس کی سزا مل کے رہتی ہے۔
پھر کچھ دریدہ دہن مغرب زدہ آزاد خیال عورتوں نے یہ اعتراض بھی جڑ دیا کہ یہ بھلا کہاں کا انصاف ہے کہ مرد تو چار چار عورتوں سے شادی کر لے اور عورت صرف ایک ہی مرد پر اکتفا کرے؟ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ایسا اعتراض کوئی ایسی حیا باختہ عورت ہی کر سکتی ہے جو یہ چاہتی ہے کہ اسے بھی بیک وقت کم از کم چار مردوں تک سے نکاح کی اجازت ہونی چاہیے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جنسی خواہش جیسے انسانوں میں ہوتی ہے ویسے ہی حیوانوں میں بھی ہوتی ہے۔ اور مرد کو تو چار بیویوں کی اجازت ہے جبکہ ہم گوالوں کے ہاں دیکھتے ہیں کہ اگر ایک گوالے نے بیس بھینسیں رکھی ہوئی ہیں تو بھینسا صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ کیا کبھی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی گوالے نے بھینسے تو بیس رکھے ہوں اور بھینس صرف ایک ہی ہو خود ہی غور فرما لیجئے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
بات دراصل یہ ہے کہ مرد تو اپنی جوانی کے ایام میں اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہر وقت مستعد ہوتا ہے مگر عورت کی ہرگز یہ کیفیت نہیں ہوتی۔ ہر ماہ حیض کے اَیام میں اسے اس فعل سے طبعاً نفرت ہوتی ہے۔ پھر مرد تو صحبت کے کام سے دو تین منٹ میں فارغ ہو جاتا ہے اور اس سے آگے اولاد کی پیدائش میں کچھ حصہ نہیں ہوتا۔ جبکہ عورت کو حمل قرار پا جائے تو پورے ایامِ حمل میں، پھر اس کے بعد رضاعت کے ایام میں بھی وہ طبعاً اس فعل کی طرف راغب نہیں ہوتی۔ البتہ اپنے خاوند کی محبت اور اصرار کی وجہ سے اس کام پر آمادہ ہو جائے تو اور بات ہے اور بسا اوقات عورت انکار بھی کر دیتی ہے لیکن مرد اتنی مدت صبر نہیں کر سکتا۔ اب اس کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں۔ یا تو اور نکاح کرے یا پھر فحاشی کی طرف مائل ہو۔ اور اسلام نے پہلی صورت کو ہی اختیار کیا ہے۔
پھر مرد اگر چار بیویاں بھی رکھ لے تو اس سے نہ نسب میں اختلاط پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی میراث کے مسائل میں کوئی اُلجھن پیش آتی ہے۔ جبکہ عورت اگر دو مردوں سے بھی اختلاط رکھے تو اس سے نسب بھی مشکوک ہو جاتا ہے کیونکہ نسب کا تعلق مرد سے ہے، عورت سے نہیں۔ اور میراث کے مسائل میں بھی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اب ان باتوں کو درخور اعتناء نہ سمجھئے اور صرف اس بات پر غور فرمائیے کہ اگر عورت کو چار شوہروں کی اجازت دی جائے تو وہ رہے گی کس کے گھر میں؟ اور کون اس کے نان و نفقہ اور اس کی اولاد کے اِخراجات کا ذمہ دار بنے گا؟ پھر کیا ایک شوہر یہ برداشت کر لے گا کہ اس کی بیوی علیٰ الاعلان دوسروں کے پاس بھی جاتی رہے۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ آپ شریعت کو بالائے طاق رکھئے اور چار شوہروں والی بات کا تجربہ کر کے دیکھئے کہ اس سے کس طرح ایک معاشرہ چند ہی سالوں میں تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔ کوئی اسلام سے انکار کرتا ہے تو کرے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شرعی اَحکام انسانی مصالح پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔
اب اس مسئلہ پر ایک اور پہلو سے غور فرمائیے۔ اس حقیقت سے تو سب لوگ آشنا ہیں کہ جوانی کے ایام میں ہر شخص میں شہوانی جذبات اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر نوجوان اور تندرست مرد اس قابل ہوتا ہے کہ کم از کم ایک دن میں ایک بار جماع کرے تب بھی اس کی صحت خراب نہ ہو۔ اور اگر اس جذبہ شہوانی کو طویل مدت تک دبائے رکھا جائے تو اس سے انسان کے بیمار پڑ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان حالات میں انسان کے سامنے تین ہی راستے ہوتے ہیں :
پہلا یہ کہ اس جذبہ کو مختلف تدبیروں سے دبا دیا جائے۔ خواہ یہ خصی ہونے سے ہو یا انتہائی قلیل خوری سے۔ جیسا کہ جوگی، سادھو یا رُہبان قسم کے لوگ کرتے ہیں۔ اس طریق کے غیر فطری ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور اس کا سب سے بڑا نقصان نسل انسانی کا انقطاع ہے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ فحاشی چور دروازے تلاش کرنے لگتی ہے۔ اس قسم کے لوگ تقدس کے پردوں میں زنا کاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عیسائی مذہب میں اس کا رواج عام تھا۔ ایسے درویش قسم کے مرد اور عورتیں جو ساری عمر جنسی جھمیلوں سے آزاد رہ کر کلیسا کی خدمت کے لیے مامور ہوتے تھے، ان میں خفیہ طور پر حرام کاری کا وسیع سلسلہ پایا جاتا تھا اور حرامی بچوں کو مختلف طریقوں سے ٹھکانے لگا دیا جاتا تھا اور ایسے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات پر آج بھی ثبت ہیں۔
دوسرا راستہ یہ ہے کہ شہوانی خواہشات کو بلاجھجک کھلے بندوں پورا کیا جائے۔ اہل مغرب کے ادیب قسم کے لوگوں نے نکاح کی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک صدی سے زیادہ عرصہ اس مہم پر صرف کیا اور بالآخر وہ ایسی فحاشی کو عام کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان لوگوں کا طرزِ استدلال یہ تھا کہ انسان کی تین ضرورتیں لابدی ہیں: بھوک، نیند اور جنسی ملاپ۔ ان کو اگر پورا نہ کیا جائے تو انسان کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ نیند تو بہرحال اپنا حق وصول کر ہی لیتی ہے۔ بھوک کا معاملہ یہ ہے کہ اگر وہ بھوک کے وقت گھر پر نہیں تو بازار سے، ہوٹل سے، عزیز و اقارب سے، جہاں بھی وہ ہو اپنی یہ ضرورت پوری کر ہی لیتا ہے اور اس کے لیے وہ محض اپنے گھر کا محتاج نہیں ہوتا۔ تو جیسی ضرورت غذائی بھوک کی ہے ویسی ہی جنسی بھوک کی بھی ہے لہٰذا صرف اپنی بیوی سے ہی ملاپ کا تصور غیر فطری ہے۔ نیز اگر کسی کو بیوی بھی میسر نہ آ سکے تو وہ کیا کرے؟
اس استدلال میں غذائی بھوک اور جنسی بھوک کو ایک ہی سطح پر رکھ کر پیش کیا گیا ہے حالانکہ یہ بات اُصولی طور پر غلط ہے اور اس کی وجوہ درج ذیل ہیں :
1۔ غذائی بھوک کا اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ پیٹ کا تنور غذا سے پر کیا جائے لیکن جنسی بھوک کا علاج فطرت نے از خود کر دیا ہے۔ جب انسان میں مادہ منویہ زیادہ ہو جائے تو بذریعہ احتلام یہ مادّہ خارج ہو جاتا ہے اور یہ جنسی بھوک از خود کم ہوتی رہتی ہے۔
2۔ جنسی بھوک کو کم خوری اور روزہ رکھنے سے بھی کم کیا جا سکتا ہے لیکن غذائی بھوک کا شکم پروری کے سوا کوئی علاج نہیں ہوتا۔
3۔ غذائی بھوک از خود پیدا ہوتی ہے جبکہ جنسی بھوک کو بہت حد تک خود پیدا کیا جاتا ہے۔ آپ خود کو شہوانی خیالات اور ماحول سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور اگر آپ شہوانی جذبات کے ماحول میں مستغرق رہنے کے بجائے دوسرے مفید کاموں میں اپنے آپ کو مصروف رکھیں گے تو یہ جنسی بھوک بیدار ہی نہ ہوگی۔ اور اگر شہوانی خیالات اور ماحول میں مستغرق رہیں گے، فحش قسم کا لٹریچر اور ناول پڑھیں گے،سنیما اور ٹیلی ویژن پر رقص و سرود کے پروگرام دیکھیں گے، زہد شکن قسم کے گانے سنیں گے اور جنسی جذبات کو ہیجان میں رکھنے والے ماحول میں رہیں گے تو یہ جنسی بھوک اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ گویا اس جنسی بھوک کو پیدا کرنا نہ کرنا، اعتدال پر رکھنا اور پروان چڑھانا بہت حد تک انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے جبکہ غذائی بھوک پر کنٹرول انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا․
ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے کیا یہ بات کافی نہیں کہ آج کے معاشرہ میں بھی آپ کو ایسے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان اور عفیف بچے کافی تعداد میں مل سکتے ہیں جن کی بیس پچیس برس کی عمر تک شادی نہیں ہوتی اور ان کی زندگی بے داغ ہوتی ہے۔ حالانکہ جنسی جذبات دس گیارہ سال کی عمر کے بعد بیدار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
اور تیسرا راستہ دونوں کے درمیان اعتدال کا ہے جو اسلام نے اختیار کیا ہے کہ شہوانی جذبہ چونکہ فطری جذبہ ہے لہٰذا اِسے روکنا غیر فطری بات ہے۔ تاہم اسے ایسا بے لگام بھی نہیں چھوڑا گیا جس سے معاشرتی بنیادوں کے انجر پنجر ہی ہل جائیں بلکہ اسے نکاح کی شرائط سے پابند بنا دیا گیا ہے۔ اور یہ بات تو ہم پہلے واضح کر چکے ہیں کہ شہوانی ہیجان مرد میں اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات ایک بیوی اس کا ساتھ نہیں دے سکتی۔ لہٰذا فحاشی اور بے حیائی سے اجتناب کے لیے تعدد ِازواج ضروری تھا اور یہی راستہ فطری اور اسلامی ہے اور اسی راستہ کو اکثر انبیاءِ کرام نے اختیار کیا ہے جو مختلف اَدوار میں انسانی معاشرہ کی اصلاح کے لیے مبعوث ہوتے رہے ہیں۔ اور اس سے ان لوگوں کے نظریہ کی تردید بھی ہو جاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں اصل حکم صرف ایک عورت سے نکاح کا ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ معاشرہ کا ایک نہایت اہم اور بنیادی مسئلہ ہے لہٰذا اگر اسلام یک زوجگی کا قائل ہوتا تو اس کے متعلق نہایت واضح اور صریح حکم کا آنا لابدی تھا اس لیے کہ عرب میں تعدد ازواج کا رواج اس قدر زیادہ تھا کہ اسلام کو اس میں تحدید کرنا پڑی۔
(7) یتیم لڑکیوں اور ان کے حق مہر کا بیان شروع ہوا تو عام عورتوں کے حق مہر کے متعلق بھی تاکید فرما دی کہ ان کے حق مہر انہیں برضا و رغبت پورے کے پورے ادا کر دیئے جائیں۔ ہاں اگر وہ از خود بلاجبر واِکراہ اپنی خوشی سے یہ حق مہر یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیں تو وہ تمہارے لیے حلال اور طیب رزق ہے لیکن ان کا حق مہر یا اس کا کچھ حصہ معاف کرانے میں ہیرا پھیری سے ہرگز کام نہ لیا جائے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حق مہر کتنا ہونا چاہیے؟ اس سلسلہ میں سب سے پہلے ہمیں سنت ِنبوی کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ چنانچہ ابو سلمہ  بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ  سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا مہر کتنا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ "بارہ اوقیہ چاندی اور نش" پھر حضرت عائشہ  نے مجھ سے پوچھا، جانتے ہو 'نش' کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ تو کہنے لگیں: نش سے مراد نصف ہے اور یہ کل ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی یا پانچ سو درہم ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں کے لیے یہی حق مہر تھا۔" (مسلم: کتاب النکاح، باب الصداق)
اسی سلسلہ میں دوسری روایت اس طرح ہے کہ ابو العجفاء کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب  نے اپنے خطبہ کے دوران لوگوں سے فرمایا کہ "دیکھو! عورتوں کے حق مہر بڑھ چڑھ کر نہ باندھا کرو، کیونکہ اگر مہر بڑھانا دنیا میں کوئی عزت کی بات ہوتی یا اللہ کے ہاں تقویٰ کی بات ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حقدار تھے۔ اور میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کا یا اپنی کسی بیٹی کا حق مہر بارہ اوقیہ چاندی سے زیادہ باندھا ہو۔" (ترمذی: ابواب النکاح، باب ماجاء فی مهور النساء)
ہم ان دونوں روایات میں سے مسلم میں حضرت عائشہ  والی حدیث کے مطابق ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی (ایک اوقیہ = ۴۰ درہم) یا ۵۰۰ درہم والی روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔ درہم چاندی کا ایک سکہ تھا۔ جس کا وزن ۲/۱ ۔۴ ماشہ چاندی تھا۔ اس حساب سے یہ ۵۰۰ x ۲/۹x ۱۲/۱= ۲/۳۷۵=۲/۱۔۱۸۷ تولے چاندی ہوئی اور اگر موجودہ حساب سے ۱۵۰ روپیہ فی تولہ فرض کیا جائے تو یہ آج کل /=۲۸۱۲۵ روپے پاکستانی بنتے ہیں۔
اور اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ ۲۰ درہم= ایک دینار۔ اور دینار ۲/۱۔۳ ماشہ سونے کا سکہ تھا۔ اس لحاظ سے یہ ۲۰/۵۰۰= ۲۵ دینار ہوئے۔ جن کا وزن ۲۵ x ۲۴/۷ تولے بنتا ہے اور اگر ایک تولہ سونا کا نرخ ۴۵۰۰ روپے فی تولہ لگایا جاے تو یہ /=۳۲۸۱۲ روپے پاکستانی بنتے ہیں اور اگر ان دونوں رقموں کا اوسط نکالا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کا پاکستان کی موجودہ کرنسی کے حساب سے تیس ہزار روپے حق مہر مقرر کیا تھا اور یہ وہ رقم ہے جس کے متعلق حضرت عمر  نے فرمایا تھا کہ لوگو! اس سے زیادہ حق مہر نہ باندھا کرو۔
اب اسی سے متعلق ایک تیسری روایت بھی ملاحظہ فرمائیے۔ جب حضرت عمر  لوگوں سے یہ خطاب فرما رہے تھے تو ایک عورت پکار اٹھی (کیونکہ یہ بات عورتوں کے حقوق سے تعلق رکھتی تھی) کہ "تم یہ کیسے پابندی لگا سکتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے:﴿وَءاتَيتُم إِحدىٰهُنَّ قِنطارً‌ا...٢٠ ﴾... سورة النساء " "یعنی اگرچہ تم اپنی کسی بیوی کو خزانہ بھر بھی بطورِ حق مہر دے چکے ہو" عورت کی یہ بات سن کر حضرت عمر  بے ساختہ پکار اٹھے۔ "پروردگار! مجھے معاف فرما، یہاں تو ہر شخص عمر  سے زیادہ فقیہ ہے۔" پھر منبر پر چڑھے اور کہا
"لوگو! میں نے تمہیں چار سو درہم سے زیادہ حق مہر باندھنے سے روکا تھا۔ میں اپنی رائے واپس لیتا ہوں۔ تم میں سے جو جتنا چاہے، مہر میں دے۔"
ان احادیث کے علاوہ ایک اور متفق علیہ حدیث ہمیں حضرت عبدالرحمن بن عوف  سے متعلق ملتی ہے کہ انہوں نے ایک کھجور کی گٹھلی بھر سونا حق مہر کے عوض ایک انصاری عورت سے نکاح کیا تھا لیکن یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہ گٹھلی کتنی بڑی یا چھوٹی تھی اور اس کا وزن کتنا تھا۔ سونا چونکہ سب سے وزنی دھات ہے اس لیے گمان یہی ہے کہ وہ بھی چھ سات تولے سونے کے لگ بھگ ہوگی۔
اور کم سے کم حق مہر کے متعلق بھی ایک حدیث تقریباً سب کتب ِحدیث میں موجود ہے کہ "ایک عورت نے اپنا نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اتنے میں ایک شخص بول اٹھا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ نہیں چاہتے تو اس عورت کا مجھ سے نکاح کر دیجئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تمہارے پاس حق مہر دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ وہ کہنے لگا: کچھ نہیں ماسوائے اس چادر کے جو میں نے لپیٹ رکھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چادر تم رکھو گے یا اسے دو گے؟ جاؤ کوئی لوہے کی انگوٹھی ہی ڈھونڈ لاؤ۔ وہ گیا لیکن اسے وہ بھی نہ ملی اور واپس آ گیا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ کچھ قرآن یاد ہے؟ کہنے لگا: ہاں! فلاں فلاں سورت یاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا وہی سورتیں اس کو (بطورِ حق مہر) زبانی یاد کرا دینا۔"
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک لوہے کی انگوٹھی بھی حق مہر ہو سکتی ہے۔ اس حدیث سے بعض فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ حق مہر کی کم از کم حد رُبع دینار یا پانچ درہم ہے اور بعض یہ حد نصف دینار یا دس درہم قرار دیتے ہیں۔
ان تمام احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حق مہر خاوند کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے جس پر فریقین راضی اور مطمئن ہوں اور آج کل پاکستانی کرنسی کے حساب سے اس کا درمیانی سا معیار تیس ہزار روپے ہے۔
اس تحقیق کے بعد اب اپنے ہاں کے رواج کی طرف آئیے کہ اس معاملہ میں بھی لوگ کس طرح اِفراط و تفریط کا شکار ہیں۔ ایک قسم تو ان لوگوں کی ہے جو شادی پر تو لاکھوں کے حساب سے خرچ کر دیتے ہیں مگر جب حق مہر کی باری آتی ہے تو کہتے ہیں کہ حق مہر شرعی باندھ دیجئے اور شرعی حق مہر سے ان کی مراد ۳۲ روپے ہوتی ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ حساب کسی عالم نے اس دور میں لگایا ہوگا جب متحدہ ہندوستان میں ایک روپے کا چار سیر دیسی گھی مل جاتا تھا۔ ملازمین کی تنخواہ ۲ روپے ماہوار سے لے کر ۴ روپے تک ہوتی تھی اور سونے کا بھاؤ تقریباً پانچ روپے تولہ ہوتا تھا یعنی اس وقت بھی ۳۲ روپے کا چھ سات تولے سونا آ جاتا تھا۔ اب صورتِ حال یہ ہوئی کہ روپے کی قیمت تو ہزار گنا گر چکی ہے مگر ۳۲ روپے لوگوں کو اسی زمانہ کے یاد ہیں۔ یہ لوگ تو تفریط کی طرف چلے گئے۔
دوسرا گروہ ایسا ہے کہ جو شوہر کی حیثیت سے بہت زیادہ حق مہر کا مطالبہ کر دیتے ہیں۔ مثلاً شوہر کی حیثیت دس پندرہ ہزار سے زیادہ نہیں لیکن وہ مطالبہ ایک لاکھ کا کر دیتے ہیں اور زبانی یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ رقم لینی دینی کس نے ہے۔ ہماری غرض تو صرف یہ ہے کہ نکاح نامہ میں اندراج ہو جائے اور اس بھری مجلس میں ذرا ہماری شان بن جائے۔ باقی نکاح کے بعد میاں بیوی اکٹھے ہوں گے تو ہماری لڑکی یہ رقم بخش دے گی۔ یہ لوگ اِفراط کی طرف جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ شریعت میں ایسی حیلہ سازیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ حق مہر لڑکی کی طرف سے معاف کروانا غلط اور گناہ کی بات ہے۔ ہاں اگر وہ کسی کے دباؤ کے بغیر اپنی رضا و رغبت سے حق مہر سارا یا اس کا کچھ حصہ معاف کر دے تو یہ اور بات ہے۔
پھر کچھ لوگ ایسے ہیں جو حق مہر کے نام پر اپنی لڑکیوں کو حقیقتاً فروخت کرتے ہیں۔ وہ حق مہر کی کثیر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور وصول کر کے یہ رقم لڑکی کو نہیں دیتے بلکہ خود کھاتے ہیں اور جب تک انہیں اپنی حسب ِپسند رقم نہ ملے، وہ لڑکیوں کا نکاح ہی نہیں کرتے خواہ وہ بوڑھی ہونے لگیں۔ ایسے لوگ چند در چند کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ حق مہر کی رقم لڑکی کا حق ہوتا ہے، اس کے والدین کا نہیں اور اس پر دلیل نکاح شغار کی ممانعت ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے اور نکاحِ شغار یہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو اس شرط پر دوسرے شخص سے بیاہ دیتا تھا کہ وہ دوسرا اسے اپنی بیٹی بیاہ دے اور حق مہر کسی کو بھی نہ دینا پڑے۔" (مسلم: کتاب النکاح ،باب تحريم نکاح الشغار و بطلانه)
یعنی ہر لڑکی کا ولی یا باپ حق مہر کا ذکر تک اس لیے نہ کرتا تھا کہ وہ اسے ادا کرنا پڑتا تھا اس طرح وہ حق مہر سے لڑکیوں کو محروم کر کے یہ رقم خود ہضم کر جاتے تھے۔
پھر کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اگر عورت حق مہر کی رقم معاف نہ کرے تو اسے طرح طرح سے دکھ پہنچانا شروع کر دیتے ہیں اور اس دکھ پہنچانے کی بھی بہت سی صورتیں ہیں۔ ایسی سب باتیں حرام اور گناہ ہیں۔ راہِ صواب یہی ہے کہ جو حق مہر طے ہوا ہو، وہ بیویوں کو بخوشی ادا کر دیا جائے۔
(2) ﴿وَالمُحصَنـٰتُ مِنَ النِّساءِ إِلّا ما مَلَكَت أَيمـٰنُكُم ۖ كِتـٰبَ اللَّهِ عَلَيكُم ۚ وَأُحِلَّ لَكُم ما وَر‌اءَ ذ‌ٰلِكُم أَن تَبتَغوا بِأَمو‌ٰلِكُم مُحصِنينَ غَيرَ‌ مُسـٰفِحينَ ۚ فَمَا استَمتَعتُم بِهِ مِنهُنَّ فَـٔاتوهُنَّ أُجورَ‌هُنَّ فَر‌يضَةً ۚ وَلا جُناحَ عَلَيكُم فيما تَر‌ٰ‌ضَيتُم بِهِ مِن بَعدِ الفَر‌يضَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا ﴿٢٤﴾... سورة النساء
نیز تمام شوہروں والی عورتیں بھی (حرام ہیں) مگر وہ کنیزیں جو تمہارے قبضہ میں آجائیں۔ تمہارے لیے یہی اللہ کا قانون ہے۔ ان کے ماسوا جتنی بھی عورتیں ہیں، انہیں اپنے مال کے ذریعہ حاصل کرنا تمہارے لیے جائز قرار دیا گیا ہے۔ بشرطیکہ اس سے تمہارا مقصد نکاح میں لانا ہو، محض شہوت رانی نہ ہو ...
(40) موجودہ دور کے مہذب معاشرہ میں فاتح قوم قیدی عورتوں سے جس طرح کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرتی ہے، اسلامی نقطہ نظر سے یہ صریح زنا ہے اور جس طرح آج کل قیدی عورتوں کو ایک کیمپ میں رکھا جاتا ہے اور فوجیوں کو عام اجازت دی جاتی ہے کہ جس عورت سے چاہیں، زنا کرتے رہیں۔ یہ صرف زنا ہی نہیں رہتا بلکہ ایک وحشیانہ فعل بھی بن جاتا ہے۔ چنانچہ اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع پر چند در چند پابندیاں لگائی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
"ابو سعید خدری  سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک لشکر اَوطاس کی طرف روانہ کیا۔ ان کا دشمن سے مقابلہ ہوا، مسلمانوں نے فتح پائی اور بہت سے قیدی ہاتھ آئے۔ صحابہ کرام نے ان قیدی عورتوں سے صحبت کرنے کو گناہ سمجھا کہ ان کے مشرک شوہر موجود تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (النساء : ۳۴) نازل فرما کر عدت کے بعد ان لونڈیوں کو ان کے لیے حلال کر دیا۔ (مسلم : کتاب الرضاع، باب جواز وطی المسبیہ)
اس آیت اور مندرجہ بالا حدیث سے درج ذیل باتوں کا پتہ چلتا ہے :
1۔ صرف اس قیدی عورت سے تمتع کیا جا سکتا ہے جو امیر لشکر دیگر اَموالِ غنیمت کی طرح کسی مجاہد کی ملکیت میں دے دے۔ اس سے پہلے اگر کوئی شخص کسی عورت سے تمتع کرے گا تو وہ دو گناہوں کا مرتکب ہوگا۔ ایک زنا کا اور دوسرے مشترکہ اَموالِ غنیمت کی تقسیم سے پیشتر ان میں خیانت کا۔
2۔ امیر لشکر کا کسی عورت کو کسی کی ملکیت میں دینے کے بعد اس سے نکاح کی ضرورت نہیں رہتی۔ ملکیت میں دے دینا ہی کافی ہوگا اور اس کا سابقہ نکاح از خود ختم ہو جائے گا۔
3۔ تقسیم کے بعد ایسی عورت سے فوری طور پر جماع نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک اسے کم از کم ایک حیض نہ آ لے اور یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں۔ اور اگر وہ حاملہ ہو گی تو اس کی عدت تا وضع حمل ہے۔ اس سے بیشتر اس سے جماع نہیں کیا جا سکتا۔ اور مزید اَحکام یہ ہیں :
4۔ ایسی عورت سے صرف وہی شخص جماع کر سکتا ہے جس کی ملکیت میں وہ دی گئی ہو۔ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔
5۔ اگر اس قیدی عورت سے اولاد پیدا ہو جائے تو پھر اس 'امّ ولد' کو فروخت نہیں کیا جا سکتا۔
6۔ اگر ایسی قیدی عورت کو اس کا مالک کسی کے نکاح میں دے دے تو پھر یہ مالک اس سے دوسری خدمات تو لے سکتا ہے لیکن صحبت نہیں کر سکتا۔
7۔ جب عورت سے مالک کی اَولاد پیدا ہو جائے تو مالک کے مرنے کے بعد وہ ازخود آزاد ہو جائے گی۔ شرعی اصطلاح میں ایسی عورت کو اُمّ ولد کہتے ہیں۔
8۔ اگر امیر لشکر یا حکومت ایک عورت کو کسی کی ملکیت میں دے دے تو پھر وہ خود بھی اس کو واپس لینے کی مجاز نہیں ہوتی، اِلا یہ کہ اس تقسیم میں کوئی ناانصافی کی بات واقع ہو جس کا علم بعد میں ہو۔
اس طرح چند در چند شرائط عائد کر کے اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع کی پاکیزہ ترین صورت پیش کر دی ہے جس میں سابقہ اور موجودہ دور کی فحاشی، وحشت اور بربریت کو حرام قرار دے کر اس کا خاتمہ کیا گیا ہے اور تمتع کے بعد اس کے نتائج کی پوری ذمہ داری مالک پر ڈالی گئی ہے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
"جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو وہ اس کی تعلیم و تربیت کرے، اسے ادب سکھائے پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔" (بخاری: کتاب العتق، باب فضل من أدّب جارية و علمها)
ان سب باتوں کے باوجود یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ لونڈیوں سے تمتع ایک رخصت ہے، حکم نہیں ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ایسی اجازت دے دی ہے کیونکہ جہاد اور اس میں عورتوں کی گرفتاری ایسی چیز ہے جس سے مفر نہیں اور ایسا بھی عین ممکن ہے کہ جنگ کے بعد قیدیوں کے تبادلہ یا اور کوئی باعزت حل نہ نکل سکے۔ اسی لیے اللہ نے سے کلیةً حرام قرار نہیں دیا۔
(41) یعنی مذکورہ بالا عورتوں کے علاوہ باقی آزاد عورتوں میں سے جس کے ساتھ تم چاہو، درج ذیل شرائط کے ساتھ نکاح کر سکتے ہو :
1۔ طلب سے مراد ایجاب و قبول ہے۔
2۔ یہ نکاح مستقلاً ہو، محض شہوت رانی کی غرض سے نہ ہو۔ اس سے نکاحِ متعہ کی حرمت ثابت ہوئی۔
3۔ حق مہر مقرر کرنا اور اس کی ادائیگی۔ اِلا یہ کہ بیوی اپنی مرضی سے یہ مہر یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دے اسی طرح مرد مقررہ مہر سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔
4۔ اعلانِ نکاح، جیسا کہ اگلی آیت میں ﴿وَلا مُتَّخِذ‌ٰتِ أَخدانٍ﴾ سے واضح ہے اور سنت سے اس کی صراحت مذکور ہے یعنی نکاح کے کم از کم دو گواہ موجود ہونے چاہئیں۔
5۔ نکاح میں والدین کی اجازت یعنی ولی کی رضامندی
واضح رہے کہ شیعہ حضرات اس آیت اور بعض صحیح احادیث سے نکاحِ متعہ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔ لہٰذا نکاحِ متعہ کے جواز یا حرمت کی تحقیق ضروری ہے۔ اس آیت سے استدلال کی صورت یہ ہے کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ ﴿فَمَا استَمتَعتُم بِهِ مِنهُنَّ﴾ کے آگے اِلیٰ اَجَلٍ مُّسَمًّی کے الفاظ بھی موجود تھے جو بعد میں منسوخ ہو گئے مگر ابن عباس  اس کے نسخ کے قائل نہیں۔
دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نکاحِ متعہ تین مواقع پر مباح کیا گیا اور پھر ساتھ ہی اس کی حرمت کا اعلان کیا۔ یہ جنگ ِخیبر، فتح مکہ ،اَوطاس اور جنگ ِتبوک ہیں۔ ان مواقع پر ابتداء ً نکاحِ متعہ کی اجازت دی جاتی تھی اور جنگ کے اختتام پر اس کی حرمت کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ گویا یہ ایک اضطراری رخصت تھی اور صرف ان مجاہدین کو دی جاتی تھی جو محاذِ جنگ پر موجود ہوتے تھے اور اتنے عرصہ کے لیے ہی ہوتی تھی۔ اور اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ جنگ بدر، اُحد اور جنگ ِخندق کے مواقع پر ایسی اجازت نہیں دی گئی اور جن حالات میں یہ اجازت دی جاتی تھی، وہ درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے :
1۔ ابن ابی عمرو کہتے ہیں کہ متعہ پہلے اسلام میں ایک اضطراری رخصت تھی جیسے مجبور و مضطر شخص کو مردار، خون، اور خنزیر کے گوشت کی رخصت ہے پھر اللہ نے اپنے دین کو محکم کر دیا اور نکاح متعہ سے منع کر دیا گیا۔ (مسلم: کتاب النکاح، باب نکاح المتعہ)
2۔ عبداللہ  کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس عورتیں نہ تھیں اور ہم نے کہا کہ کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور اس بات کی اجازت دی کہ ایک کپڑے کے بدلے ایک معین مدت تک عورت سے نکاح کریں۔ (حوالہ ایضاً)
3۔ اور اس کا طریق کار یہ ہوتا تھا کہ صحابہ کی التجا پر متعہ کی اجازت کا اعلان تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صحابی  سے کرواتے تھے مگر جنگ کے خاتمہ پر اس کی حرمت کا اعلان خود فرماتے تھے۔ چنانچہ جابر بن عبداللہ  اور سلمہ بن اکوع  دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ا کا منادی ہمارے پاس آیا اور پکار کر کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی ہے۔ (حوالہ ایضاً)
4۔ ربیع بن سمرہ اپنے باپ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کی اجازت دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔ سو اگر کسی کے پاس ایسی عورت ہو تو وہ اسے چھوڑ دے اور جو کچھ تم دے چکے ہو وہ واپس نہ لو۔(حوالہ ایضاً)
متعہ کی حرمت کا یہ اعلان حجة الوداع ۱۰ھ میں ہوا تھا جیسا کہ اس دن سود اور جاہلیت کے خون کی بھی اَبدی حرمت کا اعلان ہوا تھا۔
5۔ ایاس بن سلمہ بن اکوع  کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر مرد اور عورت متعہ کی مدت مقرر نہ کریں تو تین دن رات مل کر رہیں۔ پھر اگر چاہیں تو مدت بڑھا لیں اور چاہیں تو جدا ہو جائیں۔ (بخاری: کتاب النکاح، باب نهی النبی ﷺ عن نکاح المتعة أخيرا)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاحِ متعہ کی صورت ایسی نہ تھی جیسے کہ آج کل کے قحبہ خانوں میں ہوا کرتی ہے کہ ایک بار کی مجامعت کی اُجرت طے کر لی جاتی ہے بلکہ اس کی کم سے کم مدت تین دن ہے، زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔یہ تین دن کی مدت بھی صرف صحابہ کرام کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ بعد میں حضرت علی کے بیان کے مطابق اسے منسوخ کردیا گیا۔
6۔ ابن عباس  جو متعہ کے قائل تھے، وہ بھی صرف اضطراری حالت میں اس کی رخصت کے قائل تھے عام حالات میں نہیں۔ چنانچہ ابن جمرہ کہتے ہیں کہ ابن عباس  سے کسی نے پوچھا کہ عورتوں سے متعہ کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کی رخصت ہے۔ اس پر ان کا ایک غلام (عکرمہ) کہنے لگا، متعہ اس حالت میں جائز ہے جب مردوں کو سخت ضرورت ہو یا عورتوں کی کمی ہو یا کچھ ایسا ہی اضطراری معاملہ ہو۔ ابن عباس  نے کہا: ہاں! (بخاری: ایضاً)
ہم یہاں تمام روایات تو درج نہیں کر سکتے کیونکہ اخذ ِنتائج کے لیے یہ بھی کافی ہیں اور وہ نتائج درج ذیل ہیں :
(1) إلیٰ أجل مسمیٰ کی قراء ت کے راوی صرف عبداللہ بن عباس  ہیں جن کی عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت صرف ۱۳ سال تھی۔ جمع و تدوین قرآن کے وقت آپ قسم اٹھا کر کہتے ہی رہے کہ یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی ہے (اور ممکن ہے کہ جن ایام میں متعہ کا جواز تھا، یہ قراء ت بھی پڑھی گئی ہو۔ لیکن ایسی قراء ت بھی رخصت اور نسخ کے ضمن میں آتی ہیں) مگر آپ کی اس بات کو دو وجوہ کی بنا پر پذیرائی نہ ہو سکی۔ ایک یہ کہ جمع و تدوین قرآن کے معاملہ میں خبر متواتر کو قبول کیا گیا تھا اور آپ کی یہ خبر واحد تھی جس کا دوسرا کوئی راوی نہ تھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ پہلے سے دو مکی سورتوں موٴمنون اور معارج میں یہ محکم آیات موجود تھیں :﴿وَالَّذينَ هُم لِفُر‌وجِهِم حـٰفِظونَ ٥ إِلّا عَلىٰ أَزو‌ٰجِهِم أَو ما مَلَكَت أَيمـٰنُهُم فَإِنَّهُم غَيرُ‌ مَلومينَ ٦ فَمَنِ ابتَغىٰ وَر‌اءَ ذ‌ٰلِكَ فَأُولـٰئِكَ هُمُ العادونَ ٧ ﴾... سورة المومنون" یعنی حفاظت ِفروج کے دو ہی ذریعے ہیں ایک بیوی ، دوسرا لونڈی۔ ان کے علاوہ جو کچھ ہے وہ حد سے گزرنا ہے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ ممتوعہ عورت نہ بیوی ہوتی ہے نہ لونڈی۔ لونڈی نہ ہونے میں تو کوئی کلام نہیں اور بیوی اس لیے نہیں ہوتی کہ بیوی کو میراث ملتی ہے اور ایسی عورت کو میراث نہیں ملتی۔
(2) حضرت ابن عباس  بھی متعہ کے معاملہ میں صرف نرم گوشہ رکھتے تھے، آپ کو اصرار قطعاً نہ تھا۔ جبکہ کثیر تعداد میں صحابہ متعہ کو حرام قرار دینے میں شدت اختیار کرتے تھے اور ابن عباس  کو ٹوکتے بھی تھے۔ چنانچہ حضرت علی  ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ (مسلم: حوالہ ایضاً) حضرت ابن عباس  اپنی آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور جب یہ جوازِ متعہ کی بات کرتے تو حضرت عبداللہ بن زبیر  نے کہا کہ اللہ نے ان کی آنکھوں کو اندھا کرنے کے ساتھ ان کے دلوں کو بھی اندھا کر دیا ہے جو متعہ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ اس وقت عبداللہ بن زبیر  خلیفہ تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم زیادتی کر رہے ہو، میری عمر کی قسم! دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں متعہ ہوتا رہا ہے۔ تو عبداللہ بن زبیر  نے کہا کہ اس متعہ کو اپنے آپ پر آزماؤ۔ خدا کی قسم! اگر تو ایسا کرے تو میں تمہیں پتھروں سے سنگسار کر دوں۔ (مسلم، حوالہ ایضاً)
(3) معلوم ایسا ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری ابدی حرمت کا اعلان تمام صحابہ کرام تک نہ پہنچ سکا جو کہ دور دراز علاقوں تک پہنچ چکے تھے۔ یا یہ حضرت ابن عباس کی لچک کا اثر تھا کہ دورِ صدیقی اور دورِ فاروقی کی ابتدا تک درپردہ متعہ کے کچھ واقعات کا سراغ ملتا ہے۔ حضرت عمر  چونکہ متعہ کے شدید مخالف تھے لہٰذا آپ اس ٹوہ میں رہتے تھے کہ ایسا کوئی واقعہ سامنے آئے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک شخص شام سے آیا اور اس نے اُم عبداللہ ابی فتیحہ کے ہاں قیام کیا اور اسے کہا کہ میرے متعہ کے لیے کوئی عورت تلاش کرو۔ ام عبداللہ نے ایک عورت کا پتہ بتلایا تو اس آدمی نے اس سے متعہ کیا اور کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہا۔ پھر شام کو واپس چلا گیا۔ کسی نے اس واقعہ کی حضرت عمر  کو اطلاع کر دی۔ حضرت عمر  نے اُم عبداللہ کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے اس واقعہ کی تصدیق کردی۔ حضرت عمر  نے اسے کہا کہ جب وہ شخص پھر آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب وہ دوبارہ آیا تو اُم عبداللہ نے حضرت عمر  کو اطلاع کر دی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا کہ تم نے متعہ کیوں کیا تو وہ کہنے لگا کہ "میں دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، دورِ صدیقی اور آپ کے عہد میں بھی متعہ کرتا رہا مگر کسی نے منع نہیں کیا۔" حضرت عمر  نے کہا:
"اللہ کی قسم!جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں آج سے پہلے ممانعت کا حکم نہ دے چکا ہوتا تو تمہیں سنگسار کر دیتا۔ اچھا اب جدائی اختیار کر لو تاکہ نکاح اور سفاح (بدکاری) میں تمیز ہو سکے۔"
یہ واقعہ دراصل مسلم میں جابر بن عبداللہ  کی اِجمالی روایت کی تفصیل ہے اور اس واقعہ سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں :
1۔ حضرت عمر  اور آپ کی پوری شوریٰ متعہ کی مخالف تھی۔ اگر ان میں بھی اختلاف ہوتا تو آپ ایسا تعزیری حکم نافذ نہ کر سکتے تھے۔
2۔ جو چند لوگ متعہ کے قائل تھے، وہ بھی چوری چھپے یہ کام کرتے تھے۔ اگر یہ عام ہوتے تو حضرت عمر  کو ٹوہ لگانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
3۔ معاشرہ کی اکثریت متعہ کو ناجائز اور مکروہ فعل ہی سمجھتی تھی۔ اگر یہ رسم عام ہوتی تو اس شامی کو ایسی عورت کا پتہ پوچھنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس نے یہ معاملہ اُم عبداللہ سے کیوں نہ طے کر لیا جس کے ہاں وہ ٹھہرا تھا۔
اس تعزیری قانون کے بعد ابن عباس  اور آپ کے شاگردوں مثلاً عطاء بن ابی رباح، طاوس، سعید بن جبیر اور ابن جریج کے لیے اس کے بغیر چارہ نہ رہا کہ وہ متعہ کے لیے عقلی دلیل مہیا کر کے اپنے دل کا غبار نکال لیں۔ اور وہ دلیل عقلی یہ تھی جو ابن عباس  کہا کرتے تھے کہ
"متعہ کا جائز ہونا اللہ کی طرف سے اپنے بندوں پر رحمت کی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر عمر  نے اس کی ممانعت نہ کر دی ہوتی تو کبھی کسی کو زنا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔" (تفسیر مظہری: ص ۲۰۸)
پھر جب دورِ عثمانی میں حضرت ابن عباس  کی قراء ت إلیٰ اَجَلٍ مُّسَمّیٰ کو خبر متواتر نہ ہونے کی وجہ سے شرفِ قبولیت حاصل نہ ہو سکا اور یہ اَلفاظ کتاب اللہ میں شامل نہ ہو سکے تو متعہ کا فائدہ بتلانے کا میلان بھی ختم ہو گیا۔ اور بالآخر آپ نے اپنے اس فتویٰ رخصت سے بھی رجوع کر لیا (تفسیر حقانی : ۲ / ۱۴۵)

٭٭٭٭٭