موسم کی خرابی کی بنا پر نمازوں کوجمع کرنا، بہشتی دروازہ کی حیثیت
کیا قنوتِ نازلہ منسوخ ہوچکی؟شدید غصہ کی حالت میں طلاق


غیر مسلم مزنیہ سے نکاح کا حکم
سوال:امریکہ میں ایک صاحب نے کسی غیر مسلم لڑکی سے جنسی تعلقات قائم کئے، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی اور ایک بچہ کو جنم دیا۔کیا وہ اس لڑکی سے شادی کرسکتا ہے تاکہ اس بچے کا والد بن سکے؟ اسے بتلایا گیا ہے کہ تم اس لڑکی اور بچے کی کوئی مدد نہیں کرسکتے اور یہ کہ وہ بچہ تمہارا شمار نہیں ہوگا اورتم بچے سے نہیں مل سکتے۔ براہِ کرام فتویٰ عنایت فرمائیں ، جزاکم اللہ
حافظ عبدالعظیم اسد (دارالسلام، لاہور)

جواب: مذکورہ شخص اگر زنا سے تائب ہوجائے تو سورة المائدة (آیت نمبر 5) کے مطابق غیر مسلم کتابیہ عورت سے نکاح ہوسکتا ہے، دوسری کافر عورتوں سے نکاح کی شرعاً اجازت نہیں ۔ البتہ ولد الزنا کا نسب مذکورہ شخص سے قائم نہیں ہوسکتا اور نہ اس بچے کا اس زانی سے سلسلۂ وراثت قائم ہوسکتا ہے۔ ہاں البتہ انسانی ہمدردی کے تحت اس بچے سے کوئی حسن سلوک کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ۔ واللہ اعلم!

حرمت ِمصاہرت کا مسئلہ
سوال:تقریباً دس سال پہلے میری شادی ہوئی تھی اور شادی کے پانچ ماہ بعد ایک دن میں تیار ہورہی تھی کہ میرے سسر اچانک میرے کمرے میں آگئے اور اُنہوں نے میرا منہ چوما، ان کی اس حرکت کے بعد میں کمرے سے باہر نکل گئی، پھر شام کو میں نے اپنے شوہر سے بات کی، اُنہوں نے اپنی باجی سے بات کی اور ان سب نے مجھے کہا کہ یہ بات کسی سے نہ کرنا ،وہ بڑے ہیں ہم اُنہیں سمجھا دیں گے لیکن اب تقریباً دس سال بعد درس میں میں نے یہ مسئلہ سنا تو پتہ چلا کہ یہ مسئلہ کافی پیچیدہ ہے اور اسی دوران میرے تین بچے ہوگئے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل مسئلہ بیان فرماکر ماجور ہوں ۔ ( ع ف)
جواب:سسر کی بوسہ بازی سے حرمت ِمصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔ حدیث میں ہے :
(لا یحرم الحرام الحلال) وإسنادہ أصلح من الأول 1
''یعنی حرام کے ارتکاب سے حلال شے حرام نہیں ہوتی۔ ''

حافظ ابن حجر نے جمہور کا مسلک یہی نقل کیا ہے۔ 2 مسئلہ ہذا کی تفصیل پہلے محدث میں شائع ہو چکی ہے۔3

نمازِ عید سے پہلے کی ہوئی قربانی کا حکم!
سوال: گاؤں کے کچھ افراد ہر سال نمازِ عید سے پہلے قربانی کردیتے ہیں ۔ جب میں ان کو اس فعل کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں تو وہ میری بات کو ردّ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن وسنت کی روشنی میں دلائل پیش کرو، میں ایک طالب علم ہوں اور اس کے متعلق زیادہ نہیں جانتا۔ آپ سے التماس ہے کہ قرآن و حدیث کامکمل حوالہ دے کر اس مسئلے کے متعلق آگاہ کریں ۔ (حاجی محمد سلیمان ،راو لپنڈی)
جواب: نمازِ عید سے پہلے قربانی نہیں کی جاسکتی، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ سے مروی حدیث ہے کہ (من ذبح قبل الصلاة فلیعد)
''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح کرلیا اُسے چاہیے کہ دوبارہ ذبح کرے۔ '' 4

'بہشتی دروازے' کی شرعی حیثیت
سوال: پاکپتن میں بابافرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر باب الجنة کے نام سے ایک دروازہ ہے جسے عوام الناس بہشتی دروازہ کہتے ہیں ۔عرس کے موقعے پر مزار کا 'مجاور اکبر' سجادہ نشین اس دروازے کی قفل کشائی کرتا ہے اور ہزاروں لوگ اس دروازے سے گزرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں ،گویا اُنہوں نے جنت کا دروازہ عبور کرلیا ہے ۔ اب جواب طلب مسئلہ یہ ہے کہ
(1)  جنت کا دروازہ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھلوائیں گے، کیا یہ توہین رسالتؐ اور گستاخی نہیں ۔
(2) جو لوگ اس دروازے سے گزرتے ہیں ، ان کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ (مرزا سجاد انور،فیصل آباد)

جواب:(1) شریعت کی نگاہ میں 'بہشتی دروازے' کا اطلاق صرف اُخروی جنت کے دروازے پرہوتا ہے۔چنانچہ صحیح مسلم میں حدیث ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وأنا أول من یقرع باب الجنة) 5
''سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا''

صحیح مسلم ہی کی دوسری روایت میں الفاظ یوں ہیں :
(آتي باب الجنة یوم القیامة)6
''قیام کے روز میں جنت کے دروازہ میں آؤں گا۔''

اور صحیح بخاری میں ہے : (في الجنة ثمانیة أبواب)7
''جنت میں آٹھ دروازے ہیں ۔''

ان نصوص سے معلوم ہوا کہ بطورِ شعار بہشتی دروازہ کااطلاق صرف جنات ِ خلد پر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی محترم و مکرم چیز کی طرف منسوب دروازہ کو باب الجنة نہیں کہاجاسکتا۔ امکانی حد تک اگر اس کاجواز ہوتا تو سلف صالحین اور صحابہؓ کے زمانے یعنی خیر القرون اس کے زیادہ حقدار تھے۔ اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس سے 'بہشتی دروازے' کے جواز کاپہلو مترشح ہوتاہو۔ لہٰذا اس کا ڈھا دینا ضروری ہے تاکہ افرادِ اُمت کو شرک کی نجاست سے بچایا جاسکے جس طرح حضرت عمرؓ نے بیعت الرضوان کی طرف منسوب درخت کو کٹوا دیا تھا جبکہ عامتہ الناس اسے متبرک سمجھ کر اس کی زیارت کا قصد کرنے لگے تھے، ملاحظہ ہو فتح الباری (7؍448)

اس طرح مسند احمد (5؍218) اور سنن نسائی کبریٰ (حدیث نمبر 11185) میں مذکور ہے کہ حنین سے واپسی پرایک بہت بڑی بیری کے قریب سے گزرتے ہوئے بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمارے لئے 'ذاتِ انواط' مقرر کردیں جیسا کہ کفار کے لئے ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم نے وہی بات کہی جو موسیٰ علیہ السلام سے ان کی قوم نے کہی:{ٱجْعَل لَّنَآ إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿١٣٨...سورۃ الاعراف}
''ہمارے لئے بھی ایک الٰہ بنا دیجئے جس طرح انکے الٰہ ہیں ۔ فرمایا: تم بہت جاہل لوگ ہو۔''

(2) یاد رہے کہ اس دروازے کے متعلق بہشتی دروازہ ہونے کا اعتقاد رکھنا شرکیات وکفریات میں داخل ہے کیونکہ یہ ایسی بات ہے جس کا علم نصوصِ شریعت کی راہنمائی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا، جب کہ یہاں سرے سے کوئی نص اور دلیل موجود ہی نہیں ۔لہٰذا عزم بالجزم کے ساتھ اس کو بہشتی دروازہ قرار دینا اُمور دین میں مداخلت ہے جس کی سزاانتہائی خطرناک ہے۔ ایسے اعتقاد سے فی الفور تائب ہونا ضروری ہے، ورنہ ڈر ہے کہ کہیں جہنم کا ایندھن نہ بن جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کتاب وسنت کی روشنی میں صحیح عقائد کی توفیق عطا فرمائے تاکہ حقیقی جنت میں داخلہ ہمارا مقدر ہو۔ آمین!

موسم کی خرابی کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنا
سوال:(1) موسم کی خرابی کی بنا پراذان میں کون سے لفظ اور کتنی مرتبہ کہنے چاہئیں ؟
(2) دورانِ بارش کی صورت میں دو نمازیں جمع ہوسکتی ہیں یانہیں ؟
(3) جمع کی اس صورت میں سنتیں ادا کرنا پڑیں گی یا نہیں ؟
(4) عورتیں گھر میں مردوں کی طرح مذکورہ مسئلہ پرعمل کرسکتی ہیں یانہیں ؟

جواب: (1) ایسی صورت میں الصلاة في الرحال یا ألاصلوا في الرحال یا صلُّوا في بیوتکم جیسے الفاظ کہے جائیں ۔ حَیَّعَلتین کا بدل یا اس سے ملحق ہونے کی بنا پر بظاہر گنتی ان جیسی ہوگی، یعنی دودو دفعہ۔ ابن عمر رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کے مطابق اذان کے بعد بھی یہ کلمات کہنے کا جواز ہے ، البتہ ایسی شکل میں بظاہر ایک دفعہ ہی کافی ہے۔

(2) ہمارے شیخ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بارش کی وجہ سے جمع جائز ہے۔ نیل الاوطار میں اس پربحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ بھی جمع کرلیتے تھے جو سنت کے بڑے متبع تھے۔ جہاں شرعاً جمع کرنے کی اجازت ہو وہاں سنتیں معاف ہیں ، چنانچہ ابن عباسؓ کی حدیث میں مدینہ میں جمع کرنے کا ذکر ہے اور سنتیں نہیں پڑھیں ، صرف ظہرو عصر کی آٹھ رکعتیں پڑھیں اور مغرب وعشا کی سات رکعتیں پڑھی ہیں اور اس حدیث سے بارش میں جمع کرنے کا استدلال کیاجاتاہے۔8
(3) اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے۔
(4) بارش میں نمازیں جمع کرنا ایک شرعی عذر ہے جس کے لئے مسجد کا وجود شرط نہیں لہٰذا ایسی صورت میں عورتیں بھی گھر میں نمازیں جمع کرسکتی ہیں ۔ ملاحظہ ہو، مجموع فتاویٰ شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز (ج4؍ص474)

شدیدغصہ کی حالت میں طلاق
سوال: محمد وسیم نے اپنی منکوحہ مدخولہ بیوی مسماة ف کو دس بارہ سال قبل خانگی تنازع کے دوران بحالت ِغصہ ایک طلاق زبانی دی۔ دس روز بعد دورانِ عدت ہی رجوع کرکے مطلقہ کو آباد کرلیا تھا۔
4؍5 سال بعد پھر خانگی تنازع کی وجہ سے بحالت ِشدیدغصہ ،جس میں وہ گھر کی اشیا کو توڑ پھوڑ کرتا ہے اور مرنے مارنے پر تل جاتا ہے، بیوی کو قتل کردینے یاخودکشی کرلینے کا مضبوط عزم کرلیتا ہے، یہ سب کچھ شدید غصہ کی وجہ سے ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ جنونی حد تک غصہ کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور طلاق دے بیٹھتا ہے۔ حواس بحال ہونے پر وہ اس عمل پرشدید نادم ہوتا اور روتا ہے۔ پھر اس طلاق میں بھی دورانِ عدت رجوع کرلیا جاتاہے۔
تیسرے موقعہ پر مارچ 2006ء میں پھر بعینہٖ متذکرہ بالا کیفیت یعنی شدید غصہ، جنونی غصہ کی حالت میں اس نے پھر طلاق دے دی اور واضح ہو کہ پہلے موقعہ کے علاوہ دوسرے دونوں موقعوں پر وہ ایک مجلس میں دو دفعہ دہرا کرکہتا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ۔ کیا عدت ابھی تک باقی ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں فتویٰ درکار ہے کہ کیا دوسرے اور تیسرے موقعہ پرشدید غصہ والی طلاق شرعاً واقع ہوگئی یا نہیں ؟ اور کیا ایک مجلس کی مکرر طلاق ایک ہوتی ہے یا متعدد؟ اور کیا وہ اب رجوع کرسکتا ہے یا نہیں ؟ (محمد وسیم چوہدری، لندن)

جواب: غصہ کی بالاکیفیت پر اگر گواہ موجود ہیں تو دوسری اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی، بصورتِ دیگر رجوع کی گنجائش نہیں ، یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرے ۔ نیز واضح ہو کہ ایک وقت میں متعدد طلاقیں راجح مسلک کے مطابق ایک ہی شمار ہوتی ہیں ۔ پہلی صورت میں نکاح قائم ہے اور دوسری شکل میں رجوع نہیں ہوسکتا۔

کیاقنوت ِ نازلہ منسوخ ہوچکی ہے؟
سوال: تفسیر ابن کثیر میں قصہ اُحد کے ضمن میں ذکر کردہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ِکریمہ {لَيْسَ لَكَ مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌ} کے نزول کے بعد قنوتِ نازلہ ترک کردی تھی تو کیا آج بوقت ِضرورت نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں ۔

جواب: جمہور کے قول کے مطابق غزوہ ٔاُحد ماہ شوال سن تین ہجری میں ہوا ہے جب کہ واقعہ بئر معونہ سن چار ہجری کے شروع میں پیش آیا۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ کی روایت میں ہے: وذلک بدء القنوتکہ'' قنوت کا آغاز اس واقعے کی وجہ سے ہوا۔'' اس سے معلوم ہوا کہ آیت {لَيْسَ لَكَ مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌ}کا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوہ اُحد میں زخمی ہونے سے ہے جس طرح کہ روایات میں بھی تصریح موجود ہے کہ یہی قصہ آیت کاسبب ِنزول ہے۔ جن روایات میں آیت ِمذکورہ کا شانِ نزول قصہ بئر معونہ یا قصہ رعل و ذکوان کوبتایا گیا ہے، وہ درست نہیں کیونکہ یہ واقعات اُحد کے بعد پیش آئے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ سبب بعد میں پیدا ہو اور آیت کا نزول پہلے ہوچکا ہو؟ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
''درست بات یہ ہے کہ اس کا شانِ نزول وہ لوگ ہیں جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصہ اُحد کے سبب بدعا کی تھی۔'' 9

اصل بات یہ ہے کہ اس حدیث میں اِدراج ہے، یعنی حتی أنزل اﷲ کے الفاظ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں عمن بلغہ (یعنی جس سے ان کو یہ روایت پہنچی ہے) منقطع ہے، امام مسلم نے یونس کی روایت میں اس بات کی تصریح کی ہے۔ نیز زہری کا یہ کہنا کہ ''ہمیں یہ بات پہنچی ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قنوت پڑھنا ترک کردی۔'' یہ بلاغ درست نہیں ، وجہ وہی ہے جو پہلے گذر چکی ہے۔10

ان دلائل سے معلوم ہوا کہ بوقت ِضرورت نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھی جاسکتی ہے، ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ۔


حوالہ جات
1. فتح الباری: 9؍156
2. فتح الباری :9؍157
3. دیکھیں : شمارہ بابت مارچ 2005ء
4. باب من ذبح قبل الصلاة أعاد
5. رقم:196
6. رقم:197
7. رقم:3257
8. فتاویٰ اہلحدیث: جلد 2؍ ص278
9. فتح الباری :7؍366
10. ملاحظہ ہو ،فتح الباری :8؍286