1970ء میں جب پہلی بار حدیث کی عظیم کتاب مصنف عبد الرزاق ہندوستان سے مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے طبع کرائی تویہ صراحت بھی کی کہ اس کتاب کے آغاز کے چند صفحات اور پانچویں جلد کے بعض صفحات تاحال مل نہیں سکے۔ بعد میں کئی اہل علم ان ناقص صفحات کی تلاش میں رہے۔ برصغیر کے بریلوی مسلک کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ رسالت میں غلو کرتے ہوئے آپ کی ذاتِ گرامی کو 'نور' قرار دیتے ہیں اور یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس نور کی تخلیق ہر شے سے قبل ہوئی اور نور ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ بھی نہیں تھا۔ کچھ عرصہ قبل ہندوستان سے محمد امین برکاتی قادری نے یہ دعویٰ کیا کہ اسے مصنف عبدالرزاق کا یہ ناقص حصہ مل گیا ہے اور اس ناقص حصہ میں نبی کریمؐ کے نور ہونے پر حدیث ِجابربھی موجود ہے۔ بعد ازاں یہ مخطوطہ دوبئی پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹر عیسیٰ بن عبد اللہ بن محمد بن مانع حمیری نے اپنی تحقیق اور محمود سعید ممدوح کی تقدیم کے ساتھ 2005ء میں اسے ناشر کے تذکرہ کے بغیر 105صفحات میں خوبصورت انداز میں شائع کردیا۔ 2004ء میں پاکستان کے بعض بریلوی دینی رسائل میں بھی 'احادیث ِنور' ملنے کی خوشخبری کا اعلان کیا گیا اور لاہور میں بھی اسی نسخہ کو دسمبر2005ء میں محمد عبدالحکیم شرف قادری نے دوسرے ایڈیشن کے طورپر شائع کردیا۔

دوبئی میں مصنف عبدالرزاق کا یہ مزعومہ حصہ شائع ہونے سے عالم عرب میں اور لاہور میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہونے سے پاکستان کے علمی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ اس حصے کی حقیقت کیا ہے؟

پاکستان میں سب سے پہلے مولانا زبیر علی زئی نے اپریل 2006ء کے شمارہ 'الحدیث 'میں اس گم شدہ حصے کو من گھڑت اور ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے اپنے موقف پر متعدد علمی دلائل پیش کئے۔ بعد ازاں ماہنامہ 'نداء الاسلام' کے مئی کے شمارہ میں مولانا یحییٰ گوندلوی نے یہی موقف اپناتے ہوئے بعض دیگر دلائل کا اضافہ کیا، یہ مضمون مختصر طور پر 'تنظیم اہل حدیث' کے 11؍مئی کے شمارے میں بھی شائع ہوا۔ فیصل آباد کے مولانا دائو د ارشد صاحب نے اسی موضوع پر ایک مختصر تحقیقی مضمون قلم بند کیا جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے محافظ ِحدیث و سنت مولانا ارشاد الحق اثری نے زیر نظر تفصیلی تجزیاتی مضمون تحریر کیا جو اس موضوع پر جامع ومفصل ترین اور خالص محدثانہ دلائل سے آراستہ ہے جس کے بعد اس جزئِ مفقود کی حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔

لیکن ظاہر ہے کہ پاکستان مں جاری یہ علمی مباحثہ دراصل دوبئی میں ہونے والے واقعہ کی بازگشت ہے جو ڈاکٹر مانع حمیری کی غیر ذمہ دارانہ حرکت کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ ڈاکٹر مانع حمیری دبئی کی وزارتِ اوقاف کا کئی سال منسٹر رہ چکا ہے اورقبوری، صوفی اور جہمی عقائدکا حامل ہے۔ اپنی وزارت کے دوران سنت اور عقیدہ سلف صالحین کو نقصان پہنچانے کے لئے سرگرم رہا اور ہمیشہ اہل بدعت کی جمعیت اس کے گرد جمع رہتی۔ بدعات اور فاسد عقائد کو پھیلانے کے لئے اس نے کئی کتب تصنیف کیں مثلاً البدعة أصل من أصول التشریع اور التأمل في حقیقة التوسل وغیرہ۔ بعد میں اسے اوقاف سے معزول کردیا گیاا ور ان دنوں یہ کلیة إمام مالک میں اُستاد ہے اور اپنے انہی عقائد کو فروغ دے رہا ہے۔ ڈاکٹر مانع حمیری کے گذشتہ برس اس کتاب کو شائع کرنے کے بعد اِمسال فروری 2006ء میں عالم عرب میں اس حرکت کا نوٹس لیا گیا، ریاض سے محمد زیاد بن عمر تُکلہ نے مصنف عبد الرزاق سے منسوب اس اضافہ کا عالمانہ ومحققانہ جائزہ لیا اور173صفحات پر مشتمل تحقیقی مقالہ لکھا۔اس مقالہ میں اس جزئِ مفقود کے حصول کا سارا پس منظر، مکالمات اور مخطوطہ کی فنی حیثیت وغیرہ کے علاوہ ایک مستقل حصہ میں اسناد ومتن میں غلطیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ریاض کے جامعہ ملک سعود کے پروفیسرسعد بن عبد اللہ بن عبد العزیز الحمیدنے 8مارچ 2006ء کو اس بارے میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ''ہم یہ سمجھتے تھے کہ وضع حدیث کا فتنہ ختم ہوچکا ہے، لیکن اس حصہ کی اشاعت نے اس دور میں ہمیں دوبارہ فتنۂ وضع حدیث کی طرف متوجہ کردیا ہے۔ شناعت اور کذب بیانی کے لحاظ سے یہ واقعہ ڈنمارک میں اہانت ِرسولؐ کے واقعہ سے کم نہیں ہے۔ جو آدمی بھی ان الفاظِ حدیث پر غور کرے گا تو وہ عجمی تراکیب ِالفاظ اور بے تکی اسانید ِحدیث جن کی کمزوری فن حدیث سے واقف اہل علم پر مخفی نہیں ، کی بنا پر اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک الزام ہی قرار دے گا۔'' مزید برآں جن علما نے اس جزئِ مفقودکا مطالعہ کیا ہے، اُنہیں بھی اس کے موضوع اور بناوٹی ہونے میں کوئی شبہ نہیں ، مثلاًشیخ خالد دریس، شیخ عمر حفیان، شیخ بندر شویقان، شیخ صالح عصیمی،شیخ احمد عاشور، شیخ عبدالقدوس محمد نذیر، شیخ سعد سعدان اور شیخ عبد الوہاب زید وغیرہ

دلچسپ امر یہ ہے کہ مطبوعہ نسخہ میں تو ڈاکٹر مانع حمیری کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ مخطوطہ اسے ہندوستان سے محمد امین برکاتی قادری نے دیا ہے جو 933ھ میں بغداد کے کاتب اسحق سلیمانی کا لکھا ہوا ہے۔ دوسری طرف اس کے ساتھ کام کرنے والے فن حدیث کے باذوق عالم شیخ کمدانی کی شہادت یہ ہے کہ 2001ء میں جب اُس نے یہ مخطوطہ شیخ کمدانی اور محمود سعید ممدوح کو دکھایا تو شیخ کمدانی نے مخطوطہ کی ظاہری کیفیت دیکھ کر ہی اس کے بناوٹی ہونے دعویٰ کر دیا اور مخطوطات کی تحقیق کے لئے دبئی کے مرکز جمعہ الماجد میں لے جانے کا عندیہ ظاہر کیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر ڈاکٹر حمیری نے یہ مخطوطہ اسے دینے سے انکار کردیا ۔پھر شیخ کمدانی نے حمیری سے کہا کہ اس مخطوطہ کا اصل نسخہ تو ہندوستان سے منگوائے جس کا جواب اُسنے یہ دیا کہ یہ نسخہ سوویت یونین کی ایک لائبریری سے نقل کیا گیا ہے جو افغان جہاد کے دوران جنگ کی نذر ہوگئی۔ یہاں سے حمیری کے اپنے مخطوطہ کی اصل کے بارے میں دو مختلف موقفوں کا پتہ چلتا ہے جس سے اس مخطوطہ کی بنیاد ہی مشکوک ہوجاتی ہے۔ مخطوطہ کی فنی کیفیت پربھی بے شمار ایسے سوالات ہیں جن کے بعدیہ بات ثابت نہیں کی جاسکتی کہ یہ مخطوطہ اُس قدر قدیم ہے جتنا دعویٰ کیاجاتا ہے۔ شیخ زیاد تکلہ کے بقول یہ مخطوطہ ہندوستان کے کسی ماہر کاتب کا تحریر کردہ ہے جو حال میں ہی لکھوایا گیا ہے ۔ان کا موقف یہ ہے کہ ڈاکٹر حمیری اس سنگین جرم کا مرکزی کردار ہے جس نے نہ صرف اس کو پہلی بار شائع کیا بلکہ بے شمار باتوں کو عمداً چھپانے کی کوشش کی اوربعض مغالطے بھی دیے۔ ایسے ہی اس جرم میں مقدمہ لکھنے والا محمود سعید ممدوح برابر کا شریک ہے جس نے فن حدیث میں باذوق ہونے کے باوجود متعدد حقائق چھپائے، جبکہ اس کے اُستاذ عبد اللہ غماری کا اسی موضوع پر مستقل رسالہ ہے جس میں اُنہوں نے حدیث ِجابر کو غیر ثابت شدہ قرار دیا اور مصنف عبدالرزاق کی طرف اس حدیث کی نسبت کو جھوٹ بتایا ہے۔ مزید تفصیل کے شائقین ادارہ محدث سے رجوع کریں ، جہاں عرب علماء کے موقف بھی موجود ہیں ۔ اُردو زبان میں اس موضوع پر سب سے جامع تنقید ہدیۂ قارئین ہے۔ (حافظ حسن مدنی)
.................................
 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس اُمت کو جن خصائص اور اعزازات سے نوازا ہے، ان میں سے ایک عظیم الشان خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو خاتم النّبیین سید المرسلین حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو بالاسناد محفوظ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اس اُمت کے علاوہ پہلے جتنی اُمتیں ہوگزری ہیں ، کسی کو اپنے نبی کے آثار و ارشادات متصل سند کے ساتھ جمع کرنے کی سعادت حاصل نہیں ہوئی۔ امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ
''الإسناد من الدین ولولا الإسناد لقال من شاء ماشاء'' 1
''اسناد'' دین میں سے ہیں ، اگر سند نہ ہو تو ہرکوئی جو چاہے کہے۔''

خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے الکفایة ص393 میں ان کا یہ قول بھی نقل کیا ہے ''جو شخص دینی اُمور کو بلا سند لیتا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو چھت پر بغیر سیڑھی کے چڑھتا ہے۔''سند کا یہ اہتمام احادیث و آثار تک ہی محدود نہیں بلکہ لغت، شعر و ادب، تاریخ و رجال بھی بالاسناد بیان کئے جاتے ہیں ۔ سند کے اسی اہتمام کی بنا پر کتب ِمصنفہ کی روایت بھی قرناً بعد قرن بالاسناد ہوتی رہی،بلکہ کتاب کی ابتدا یا اس کے اختتام پر اس کی مسموعات کو بھی ناسخین نے سند کے اہتمام کی بنا پر محفوظ کیا اور کتاب نقل کرنے کے اُصول وضوابط مقرر کئے، نقل شدہ نسخہ کی صحت اور عدمِ صحت متعین کی، جس کی تفصیل الکفایة،الجامع لأخلاق الراوي والسامع الإلماع في ضبط الروایة وتقیید السماع اور علوم الحدیث لابن الصلاح وغیرہ کتب میں دیکھی جاسکتی ہے۔

سند اورکتاب کی اس قدر حفاظت و صیانت کے باوصف وضاعین و کذابین اور متساہلین سے جوباتیں صادر ہوئیں وہ بڑی حیرت ناک اور عجیب ہیں ۔ شیوخ اور محدثین کی روایات میں اپنی روایت بنا کر داخل کردینا، کتابیں لکھ کر ثقہ محدثین اور اہل علم کی طرف منسوب کردینا، محدث کی کتاب میں اپنے لکھے ہوئے اجزا شامل کرکے باور کرانا کہ یہ بھی اس کا حصہ ہے، کذابین اور ضعفا کا مشغلہ رہا ہے جس کی تفصیل بڑی طویل ہے۔ اس حوالے سے شائقین سفیان بن وکیع، قیس بن ربیع الاسدی، عبداللہ بن صالح، حبیب بن ابی حبیب الورّاق اور خالد بن نجيح   کے تراجم ملاحظہ فرمائیں ۔

یحییٰ بن حسان کا بیان ہے کہ میں نے دیکھا ایک جماعت کے پاس ایک جز تھا جسے اس نے ابن لہیعہ سے سنا تھا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس میں (حقیقة) ایک حدیث بھی ابن لہیعہ کی نہ تھی۔ میں پھر ابن لہیعہ سے ملا تو اُنہیں اس کی اطلاع دی۔ اُنہوں نے فرمایا:میں کیا کروں ، میرے پاس کتاب لے کر آتے ہیں تو کہتے ہیں :یہ آپ کی احادیث ہیں ( اُنہیں بیان کیجئے) تو میں اُنہیں بیان کردیتا ہوں ۔ حافظ ابن صلاح فرماتے ہیں : اسی نوعیت کا واقعہ ہمارے شیوخ میں ہوتا ہے۔ 2

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ امام معمر کا بھتیجا رافضی تھا۔ امام معمر اسے اپنی کتابیں پکڑا دیتے، اس نے ایک حدیث امام معمر کی کتاب میں داخل کردی (3)وہ روایت امام معمر نے امام عبدالرزاق سے بیان کی، جسے اُنہوں نے بیان کیا۔ جس کی تفصیل التہذیب وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

حاجی خلیفہ نے مقدمة ابن اللیث کی شرح __جو شیخ مصلح الدین مصطفی بن زکریا المتوفی 809ھ نے کی اور اس کانام التوضیح رکھا__ کے بارے میں علامہ شعرانی سے نقل کیا ہے کہ یہ شرح بڑی عظیم ہے ۔اس کے مؤلف مصر گئے تو بعض حاسدین نے ان کی کتاب میں ایک عبارت داخل کردی جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توہین ہوتی تھی، اسی بنا پر اُنہوں نے ان کے کفر اور قتل کا فتویٰ دیا۔ شیخ مصلح الدین نے وہاں سے بھاگ کر جان بچائی۔ 4

علامہ شعرانی نے الیواقیت والجواہر ج1؍ ص7 میں ذکر کیا ہے کہ شیخ ابن عربی کی فتوحات میں جو عبارتیں ظاہر شریعت سے معارض ہیں ، وہ سب دسیسہ کاری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس حقیقت سے سیدی ابوطاہر مغربی نے آگاہ کیا جو اس وقت مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ اُنہوں نے مجھے فتوحات کا وہ نسخہ دکھایا جس کا مقابلہ انہوں نے قونیہ میں ابن عربی کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے سے کیا۔ اس نسخہ میں وہ فقرات نہیں تھے جومیرے نسخہ میں تھے اور میں نے ان فقروں میں توقف کیا تھا۔ اسی طرح اُنہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ملاحدہ اور زنادقہ نے امام احمد، علامہ مجدالدین فیروزآبادی اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف خصوصاً إحیاء العلوم میں تدسیس کی۔وہ لکھتے ہیں کہ باطنیہ کے ایک شخص نے ایک کتاب لکھ کر میری طرف منسوب کردی اور تین سال تک یہ کتاب میری زندگی میں متداول رہی۔ زنادقہ نے امام احمد کے مرض الموت کے ایام میں ایک کتاب لکھ کر پوشیدہ طور پر ان کے تکیے کے نیچے رکھ دی، اگر امام احمد کے تلامذہ ان کے عقائد سے بخوبی واقف نہ ہوتے تو جو کچھ اُنہوں نے تکیے کے نیچے پایا تھا، اس کی بنا پر لوگ بڑے فتنہ میں مبتلا ہوجاتے۔

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے رافض کے مکروفریب شمارکرتے ہوئے بتیسویں مکر میں ذکر کیا ہے کہ ان کے علما کی جماعت نے اہل سنت کی کتابوں ،بالخصوصتفسیر اور تاریخ کے موضوع پر جو اکثر علما اور طلبا کے ہاتھوں میں بھی نہ تھیں ،نیز بعض کتب ِاحادیث میں جومشہور نہ تھیں اوران کے نسخے بھی متعدد نہیں ملتے،میں نہایت جھوٹی باتیں بنا بنا کر جن سے شیعہ مذہب کو تقویت ملے اور سنیوں کے مذہب کوباطل قرار دیں ، شامل کی ہیں ۔5

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی طرف ایک کتاب کتاب الصلاة کے نام سے منسوب ہے جو مصر سے شائع ہوئی ہے۔ حافظ ابن جوزی نے اسے امام صاحب کی تصنیف قرار دیا ہے مگر حافظ ذہبی صاف صاف فرماتے ہیں : ''ھو موضوع علی الإمام'' یہ امام صاحب پر افتراء ہے (6) اسی طرح السیر (ج11؍ ص787) میں بھی اُنہوں نے اس کی نسبت امام احمد کی طرف 'باطل' قرار دی ہے۔ نیز فرمایا ہے کہ الرد علی الجھمیة اور احمد بن جعفر اصطخری کا اس حوالے سے رسالے کا انتساب بھی امام صاحب کی طرف درست نہیں ۔

یہاں اس قسم کے واقعات کا استیعاب(مکمل شمار) تو مقصود نہیں ۔ تاہم مزید دیکھئے کہ اباء بن جعفر نے تین سو سے زائد احادیث وضع کرکے امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کردیں (7) عبداللہ بن محمد بن جعفر قزوینی نے 'سنن الشافعی' کے نام سے کتاب لکھی ۔ امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ اس میں اس نے دو سو احادیث ایسی درج کیں جن کو امام شافعی نے بیان نہیں کیا۔(8) الفقه الأکبر کے نام سے امام شافعی کی ایک کتاب مطبوع ہے اور الکوکب الأزھر شرح الفقہ الأکبر کے نام سے المکتبة التجاریة مکہ مکرمہ سے شائع ہوئی ہے۔ شیخ علامہ مشہور بن حسن آل سلمان فرماتے ہیں : ''الفقه الأکبر المکذوب علی الإمام محمد بن إدریس الشافعي'' کہ ''فقہ اکبر امام شافعی پر افترا اورجھوٹ ہے۔'' (9) حاجی خلیفہ نے بھی فرمایا ہے : لکن فیه شك والظن الغالب أنه عن تألیف بعض أکابر العلماء ''الفقہ الأکبر کا انتساب امام شافعی کی طرف ہے لیکن اس انتساب میں شک ہے، ظن غالب یہی ہے کہ یہ بعض اکابرعلما کی تصنیف ہے۔'' 10

ان گزارشات سے واضح ہوجاتا ہے کہ دین کی بنیاد اور اس کی صیانت و حفاظت کا سب سے بڑا ذریعہ سند ہے جو اس علت اور اُمت کا خاصہ ہے۔ مگر زنادقہ نے مختلف حربوں سے اسکو گد لاکر نے کی کوشش کی لیکن محدثین کرام اور دیگر اہل علم نے ان کی ان سازشوں سے خبردار کیا اور دودھ کا دودھ، پانی کا پانی کردکھایا۔ جزاء ھم اﷲ أحسن الجزاء عنا وعن جمیع المسلمین

مصنف عبدالرزاق کا جزئِ مفقود
ذخیرئہ کتب ِاحادیث میں ایک کتاب امام عبدالرزاق کی المصنف ہے جو سب سے پہلے مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی تحقیق سے 1390ھ یعنی 1970ء میں حیدرآباد دکن سے زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر شائع ہوئی۔ مگر یہ طبع اپنی ابتدا کے اعتبار سے ناقص ہے بلکہ اس کی پانچویں جلد کی ابتدا میں بھی نقص پایاجاتا ہے، جیسا کہ خود اُنہوں نے پہلی جلد کی ابتدا میں اس کا اظہار فرمایا ہے۔ چنانچہ ان کے الفاظ ہیں :
''إن النسخ التي عثرنا علیھا أو التی أحرزناھا مصورة أومخطوطة __ کلھا ناقصة إلا نسخة مراد علي __ فإنھا کاملة إلا نقصا بسیطا في أولھا وفي خاتمة المجلد الخامس عن مجلدات الأصل فیما نرٰی''


اب حال ہی میں المصنف کا ابتدائی حصہ ڈاکٹر عیسیٰ بن عبداللہ حمیری کی تحقیق سے 2005ء میں طبع ہواجس پرناشر کا کوئی نام نہیں ۔البتہ اسی نسخہ کا عکس بعد میں دسمبر 2005ء ہی میں مؤسسة الشرف لاہور کے تحت جناب محمد عبدالحکیم شرف قادری صاحب کے مقدمة الطبعة الثانیةکے ساتھ طبع ہوا۔ اسی نسخہ کے بارے میں پہلے ماہنامہ 'نور الحبیب' بصیرپور میں جولائی 2004ء کی اشاعت میں اور اس کے بعد ماہنامہ 'اہلسنّت' گجرات میں اگست 2004ء کی اشاعت میں ،پھر ماہنامہ 'سوے حجاز' لاہور اکتوبر 2004ء کی اشاعت میں 'عالم اسلام کے لئے عظیم الشان خوشخبری' کے عنوان سے اشتہارات شائع ہوئے جن میں یہ خوشخبری دی گئی کہ حدیث ِنور اور حدیث ِعدمِ سایہ کی بازیافت ہوچکی جو المصنف عبدالرزاق کا ابتدائی حصہ ہے اورعنقریب منصہ شہود پر آنے والا ہے۔ بلکہ 'سوے حرم' نے تو اس حوالے سے سات احادیث شائع بھی کردیں جو اسی موضوع سے متعلق تھیں ۔

حدیث شریف کی خدمت بلا شبہ بڑی عظیم الشان سعادت ہے اور احادیث ِمبارکہ کے نایاب جواہرپاروں کو تلاش کرکے زیورِ طبع سے آراستہ کرنا دین کی بہت بڑی خدمت ہے۔ تاہم یہ بات بہرنوع ضروری ہے کہ پوری ژرف نگاہی اور دیانت داری سے یہ کھوج لگایا جائے کہ اس کتاب یا جز کا پایۂ استناد و انتساب کس حد تک درست ہے۔ محدثین کرام نے اس کیلئے جو اُصول و ضوابط مقرر کئے ہیں کیا یہ رسالہ اور جز اس میزان پر صحیح طور پر پورا اُترتا ہے یا نہیں ؟ ہم جب اسی حوالے سے المصنف کے اس حصہ کاجائزہ لیتے ہیں تو کئی اعتبار سے اسکا انتساب امام عبدالرزاق کی طرف درست ثابت نہیں ہوتا جس کی تفصیل حسب ِذیل ہے :
(1) پہلی بنیادی اورقابل غور بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عیسیٰ حمیری نے اس نسخہ کے بارے میں لکھا ہے کہ
''ولیس علی النسخة التي بین یدینا أیة سماعات وھي نسخة کاملة أملك منھا الآن المجلدین الأوّل والثاني فقط وأترك الحکم للقاري الکریم وأھل الاختصاص وأضع بین أیدیھم الجزء المفقود'' 11
''ہمارے سامنے جو نسخہ ہے، اس پرکوئی سماعات نہیں ۔ یہ نسخہ کامل ہے اورمجھے اس کی صرف جلد اوّل اور ثانی دستیاب ہوئی ہے۔ اس بارے میں فیصلہ قارئین کرام اور متخصصین پرچھوڑتا ہوں اور اس میں سے گمشدہ حصہ کو ان کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔''

سماعاتسماع کی جمع ہے ، جب ایک قلمی نسخہ اہل علم خود پڑھتے یا تلامذہ استاد پر اس کی قرا ء ت کرتے تو وہ اس پر لکھ دیتے تھے کہ یہ فلاں فلاں نے پڑھا یا سنا ہے۔مگر اس نسخہ کے بارے میں ڈاکٹر حمیری نے فرمایا ہے کہ اس پر کوئی سماعات نہیں ہیں ۔ پھر خود ان کا یہ فرمانا کہ ''اس کے بارے میں فیصلہ قارئین کرام اور متخصصین پر چھوڑتا ہوں ۔'' بجائے خود اس بات کا اظہارہے کہ اُنہیں بھی اس کے بارے کامل اعتمادنہیں کہ اس کی نسبت المصنف للإمام عبدالرزاق کی طرف درست ہے یا نہیں ؟

(2) اس مخطوطہ کے ناسخ اسحق بن عبدالرحمن سلیمانی ہیں ۔ اس کا جز اوّل اُنہوں نے 9؍رمضان المبارک 933ھ میں لکھا،جیسا کہ اس جز کے عکس سے معلوم ہوتاہے۔ یہ ناسخ کون ہیں ؛ ثقہ ہیں یانہیں ؟ اس کے بارے میں ڈاکٹر حمیری بھی خاموش ہیں ۔ اس کا ترجمہ وتوثیق بھی متداول کتب میں کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ جب کہ ناسخ کے بارے میں یہ شرط بھی ہے کہ وہ ثقہ اور معروف الخط ہو، چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ
''جس طرح یہ شرط ہے کہ کتاب کے بارے میں یہ اطمینان ہوناچاہئے کہ اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوئی، اگر اس کے بارے میں شک ہو تو اس سے روایت درست نہیں ، اس طرح یہ بھی شرط ہے کہ اس کا ناسخ ثقہ ہو، لیکن: إن لم یکن الکتاب بخط ثقة بلا خلاف (تدریب الراوی: ج2؍ ص68 النوع 26)
''اگر کتاب ثقہ ناسخ سے نہ ہو تو بھی بلا اختلاف اس پر اعتماد درست نہیں ۔ ''

یہی بات اس سے قبل النوع 25 میں علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دوسرے اُسلوب میں فرمائی ہے۔ لہٰذا جب اس نسخہ کے ناسخ کاثقہ ہوناثابت نہیں ، نہ اس نے اس میں اپنے سماع کاذکر کیا اور نہ ہی کسی محدث سے اس نسخہ کے بارے میں اعتمادنقل کیاتو اس نسخہ کااعتبار کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔

(3) جناب ڈاکٹر حمیری نے یقینا خدمت ِحدیث کے جذبہ سے الجزء المفقود من الجزء الأول من المصنف طبع کرایا۔ مگر کیا ان کے علم میں یہ نہیں کہ المصنف کے مطبوعہ نسخہ کی جلد خامس بھی ابتدا سے ناقص ہے جس کا اظہار مولانا حبیب الرحمن صاحب نے پہلی جلد کی ابتدا ہی میں کیاہے۔ اب جب کامل نسخہ دستیاب ہوا ہے تو خدمت ِسنت کاکیایہ تقاضا نہ تھا کہ اس حصہ کو بھی طبع کیاجاتا یا کم از کم اس کااظہار ہی کردیا جاتا کہ دوسرے نقص کاجواشارہ مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے کیا ہے، وہ غلط ہے اور وہاں کوئی نقص نہیں ۔ خدمت سنت کا یہ جذبہ آخر اس بارے میں خامو ش کیوں ہے؟

(4) المصنف کے مطبوعہ نسخہ سے عیاں ہوتا ہے کہ امام عبدالرزاق نے المصنف میں باقاعدہ کتاب اور اس کے تحت ابواب مرتب کئے ہیں ۔ مثلاً پہلی جلد کی ابتدا میں کتاب الطھارةنہیں ۔ اس کے بعد ابواب کا بظاہر تسلسل نہیں جو اس کے نقص کی دلیل ہے۔ اس کے بعد پہلی جلد ہی میں کتاب الحیض، کتاب الصلاة، یہ کتاب تیسری جلد تک مسلسل ہے اور اس کے تحت تمام متعلقہ ابواب ہیں ۔ اس کے بعد تیسری جلد ہی میں کتاب الجمعہ، کتاب صلاة العیدین، کتاب فضائل القرآن، کتاب الجنائز۔ اسی طرح چوتھی میں کتاب الزکوٰة، کتاب الصیام وغیرہ آخر کتاب تک۔ علامہ الکتانی نے بھی لکھا ہے:رتَّبه علیٰ الکتب والأبواب
''امام عبدالرزاق رحمۃ اللہ علیہ نے اسے کتب اور ابواب پرمرتب کیا ہے۔'' 12

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ الجزء المفقود کے نام سے اس نسخہ کا آغاز کتاب الإیمان سے نہیں ۔ ڈاکٹر حمیری نے وضاحت کردی ہے کہ موقعہ کی مناسبت سے ہم نے یہ اضافہ کیا ہے۔ (الجزء المفقود: ص51) ،کتاب الطھارة بھی نہیں ، یہ عنوان بھی ڈاکٹر حمیری نے دیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح مولانا اعظمی صاحب نے(کتاب الطھارة) کو قوسین میں ذکر کیا۔ یہ کیسا کامل نسخہ ہے کہ کتاب کے پورے اُسلوب کے برعکس اس میں 'کتاب' کانام ہی نہیں ۔ کیا ڈاکٹر حمیری اور ان کے ہم نوا بتاسکتے ہیں کہ ان کے کامل نسخہ میں 'کتاب'نام کاکوئی عنوان ہی نہیں ۔ دیدہ باید

(5) حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی المصنف کی سند متعدد طرق سے ذکر کی ہیں ۔ ملاحظہ ہو تغلیق التعلیق(ج5 ص455)، امام ابوبکر محمد بن خیراشبیلی المتوفی 575ھ نیفہرسة ابن خیر ص107 رقم 174میں المصنف کی اسانید ذکر کی ہیں ۔ اسی طرح دیگر حضرات جنہوں نے المصنفکی روایت کی ہے، وہ اپنی روایت میں کسی نوعیت کے نقص کاذکر نہیں کرتے۔ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ نقص کا یہ گھپلا کب اور کیسے واقع ہوا؟

(6) جناب ڈاکٹر حمیری نے مطبوعہ اور مخطوط کے مابین ایک تقابلی جائزہ پیش کیا ہے مگر افسوس کہ مخطوط میں جگہ بہ جگہ جو تساہل بلکہ تغافل پایا جاتا ہے، اس کی طرف کوئی اشارہ اُنہوں نے نہیں کیا۔ اسی تغافل سے اس مخطوط کی حیثیت متعین کی جاسکتی ہے۔

یحییٰ بن ابی زائدة کون ہیں ؟
چنانچہ اسی الجزء المفقودمیں جو چالیس روایات پائی جاتی ہیں ،ان میں پانچ روایات یحییٰ بن ابی زائدة سے منقول ہیں اور ان تمام روایات میں اسناد کے اعتبار سے عجیب گھپلا پایا جاتا ہے۔ چنانچہ یحییٰ کی ایک روایت جو الجزء المفقود کے ص 61 رقم 15 پر ہے۔ اس کی سند یوں ہے :''عبد الرزاق عن معمر عن ابن أبي زائدة عن ابن عون''

معمر سے مراد امام معمر بن راشد ہیں اور ڈاکٹر صاحبنے اس کے بارے میں یہ وضاحت کردی ہے کہ معمر لایروي عن ابن أبي زائدة کہ ''معمر، ابن ابی زائدہ سے روایت نہیں کرتے''، گویا یہ روایت منقطع ہے۔لیکن معاملہ اس پر ختم نہیں ہوتا ،کیونکہ یحییٰ بن ابی زائدة 120ھ میں پیدا ہوئے اور 183، 184 ھ میں ان کا انتقال ہوا، جیساکہ التہذیب للمزيج2 ص81 وغیرہ میں ہے اور ڈاکٹر حمیری نے بھی الجزء المفقود ص60 میں لکھا ہے کہ یحییٰ بن ابی زائدة، دراصل یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدة ہیں جو 183 یا 184ھ میں فوت ہوئے۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اُنہیں طبقہ تاسعہ میں شمار کیا ہے۔(13) جبکہ امام معمر سابعہ طبقہ کے ہیں ۔(14) جو 153 یا154ھ میں فوت ہوئے، اُنہوں نے 58سال عمر پائی، اس حساب سے ان کی پیدائش 95،96ھ میں بنتی ہے۔ گویا امام معمر کی وفات پر یحییٰ کی عمر 29،30 سال تھی۔ چاہئے تو یہ کہ یحییٰ بن ابی زائدة امام معمر سے روایت کرتے کہ وہ امام معمر سے بہرنوع بعدمیں ہوئے ہیں لیکن یہاں گنگا اُلٹی بہتی ہے کہ امام معمر،یحییٰ سے روایت کرتے ہیں ۔ ممکن ہے کوئی صاحب دل کی تسلی کے لئے اسے روایة الأکابر عن الأصاغر قرار دیں لیکن اس کے لیے دونوں کے مابین ثبوتِ سماع کی ضرورت ہے،اس لئے یہ بہانہ سازی بھی یہاں نہیں چل سکتی۔غالباً اسی لئے ڈاکٹر حمیری نے اعتراف کیا ہے کہ امام معمر کی یحییٰ سے روایت نہیں ۔

یحییٰ بن ابی زائدةکی دوسری روایت
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدة کی ایک روایت کی سند یوں ہے :
''قال عبد الرزاق أخبرني یحییٰ بن أبي زائدة عن سلیمان بن یسار قال علّمني أبو قلابة'' 15

ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں کہ یحییٰ بن زکریا 120ھ میں پیدا ہوئے اور 183 یا184ھ میں ان کا انتقال ہوا۔ اور اس سند میں وہ سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں ۔ جن کی وفات علیٰ حسب الاختلاف 100ھ میں ،103ھ ،104ھ، 107ھ یا 109ھ بتلائی گئی ہے اور اکثر محدثین نے فرمایا ہے کہ وہ 107ھ میں فوت ہوئے جبکہ ان کی عمر 73سال تھی۔(16) حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں کبار الثالثة یعنی ثالثہ طبقہ کے کبار محدثین میں شمار کیا ہے۔(17) اس اعتبار سے سوال یہ ہے کہ یحییٰ جو 120ھ میں پیدا ہوئے، وہ 107 ھ میں تیرہ سال پہلے فوت ہوجانے والے سلیمان بن یسار سے کیونکر روایت کرسکتے ہیں ؟ کہاں نویں طبقہ کا یحییٰ بن زکریا اور کہاں تیسرے طبقہ کے کبار محدثین میں شمار ہونے والے سلیمان سے اس کی روایت! افسوس ہے ڈاکٹر حمیری یہاں خاموش ہیں ۔ آپ کہیں گے کہ یہاں انقطاع ہے۔ یہ بات بجا سہی، لیکن اس کادوسرا پہلو بھی ہے جو یحییٰ بن زکریا کی روایات سے سامنے آرہا ہے کہ اسے کس کس کا استاد اورکس کس کاشاگرد بنایاجارہا ہے؟

یحییٰ بن ابی زائدة کی تیسری روایت
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی تیسری روایت الجزء المفقود کے ص83 رقم 22 پرہے جس کی سند حسب ِذیل ہے:
''عبدالرزاق عن مالك عن یحییٰ بن أبي زائدة عن أبي سعید الخدري''

انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ڈاکٹر حمیری اپنے علم و فضل کے باوصف اس سند کے بارے میں بالکل خاموش ہیں جبکہ امام مالک بھی طبقہ سابعہ کے ہیں جو 179ھ میں فوت ہوئے جبکہ ان کی پیدائش 93ھ میں ہوئی۔ ڈاکٹر حمیری جب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ معمر اور زائدہ کے مابین انقطاع ہے تو یہاں امام مالک اور یحییٰ کے مابین انقطاع کیوں نہیں ؟ بالخصوص جبکہ یحییٰ بن زکریا تو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں ۔ ملاحظہ ہو التهذیب للمزي (ج17؍ ص384 اورج20؍ ص78) اور یہ قطعاً ثابت نہیں کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یحییٰ سے بھی روایت لی ہے۔ چلئے ہم اس پہلو سے اسے نظر انداز کرتے ہیں ۔مگرثانیاً یہ بھی لطیفہ ہی ہے کہ یحییٰ بن ابی زائدہ جو تاسعہ طبقہ سے ہے اور 120ھ میں پیدا ہوئے ہیں وہ حضرت ابوسعید خدریؓ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ اس صریح دھاندلی کے باوجود افسوس کہ فاضل ڈاکٹر حمیری اس پرخاموش ہیں اور دوسری اسانید سے حضرت ابوسعیدؓ کی روایت کاحوالہ ذکر کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا یہاں یہ روایت اسی سند سے موجود ہے۔ إناﷲ وإناإلیه راجعون

یحییٰ کی چوتھی حدیث
اسی طرح یحییٰ کی چوتھی حدیث الجزء المفقود کے ص91، رقم 34 کے تحت جس کی سند یوں ہے:
''عبدالرزاق عن مالك عن یحییٰ بن أبي زائدة عن علي رضي اﷲ عنه''

یہاں بھی وہی معاملہ ہے جو حدیث نمبر تین میں ہے اور یحییٰ تاسعہ طبقہ کے ہوتے ہوئے حضرت علیؓ سے روایت کرتے ہیں ۔سبحان اﷲ، اور جناب ڈاکٹر حمیری حسب ِسابق یہاں بھی خاموش ہیں اور اس کی تخریج میں ترمذی، احمد، البزار وغیرہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ ان کتابوں میں یہ أبو إسحق عن أبي حیة عن علي کی سند سے موجود ہے،مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اس سند سے تو یہ المصنف عبدالرزاق رقم 120،121 میں بھی موجود ہے۔ کیا کتاب کے صحیح انتساب کے لئے تنہامتن کا مل جانا کافی ہے؟

یحییٰ کی پانچویں حدیث
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدة کی پانچویں حدیث اسی صفحہ 91 حدیث 35 پر ہے۔ جس کے متعلق کہا گیا ہے : ''وبھذا الإسناد عن ابن عمر''
کہ'' اسی سند سے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے۔''

لیجئے جناب! یہاں یحییٰ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے ہیں اور وہ طبقہ تاسعہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ مگر اس کے بارے میں بھی ڈاکٹر حمیری خاموش ہیں ۔ اندازہ کیجئے کہ الجزء المفقودکی چالیس روایات میں پانچ روایات یحییٰ بن ابی زائدہ سے مروی ہیں جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یحییٰ کثیر الروایہ ہیں ۔ اور الجزء المفقود میں اس کی تین روایات امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے ہیں ۔ مگر کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اس کے باوجود یحییٰ امام مالک کے شاگرد ہیں ،کسی نے اُنہیں امام مالک کا استاد قرار نہیں دیا۔ اور نہ پوری المصنف عبدالرزاق میں اس کے علاوہ کہیں مالک عن یحییٰ بن ابی زائدة کی کوئی روایت پائی جاتی ہے۔ بلکہ مختلف ذرائع سے ہم نے اس کاتتبع کیا کہ المصنف کے مطبوعہ نسخہ میں ایک روایت بھی یحییٰ بن ابی زائدہ کی مروی نہیں ، آخر یہ کیوں ؟

ایک اور سند اور لطیفہ
الجزء المفقود ص55 حدیث 2 کی سند ملاحظہ فرمائیں :
''عبدالرزاق عن ابن جریج قال أخبرني البراء قال ما رأیت شیئًا قط أحسن من رسول اﷲ ﷺ''

قارئین کرام یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ اس الجزء کے فاضل محقق جناب ڈاکٹر حمیری فرماتے ہیں : '' ابن جریج حافظ ثقة وکان یدلس فقد صرح ھنا بالإخبار''
'' ابن جریج ثقہ حافظ اور مدلس تھے مگر یہاں اُنہوں نے 'اخبرنی'کہہ کرسماع کی تصریح کی ہے۔''

بے خبری اور اندھی عقیدت کی بھی کوئی انتہاہوتی ہے،جس کی بنا پر وہ اس سند کو أخبرني دیکھ کرسماع پر محمول کرتے ہیں اور اتنی سی بات بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے کہ ابن جریج تو 80ھ میں پیدا ہوئے،جیسا کہ التہذیب ج6؍ ص405 اور السیر ج6؍ ص333،334 میں ہے بلکہ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ان کی عمر ستر سال تھی، ان کااور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کاسن مولد 80ھ عمر 70سال اور وفات 150ھ ایک ہی ہے۔بتلائیے 80ھ میں پیداہونے والے، حضرت برائؓ __جو 72ھ میں فوت ہوئے(18)__ سے سماع کا اظہار کیونکر کر سکتے ہیں ؟ اگر براء بن عازبؓ معروف صحابی نہیں ، کوئی اور ہیں تو بتلایاجائے۔ براء نام کا اور کون سا صحابی ہے جس سے براہِ راست امام ابن جریج نے روایت لی ہے؟ بصورتِ دیگر تسلیم کیا جائے کہ یہ جسارت کرنے والا کوئی کذاب ہے جس نے یہ سلسلہ سند جوڑا ہے۔

تیسری سند ... ایک اور لطیفہ
الجزء المفقود کے ص84 حدیث 24 کی سند ملاحظہ فرمائیں :
''عبدالرزاق عن ابن جریج عن الزھري أنه سمع عقبة بن عامر''

ڈاکٹر حمیری نے فرمایا ہے کہ کتب ِجرح و تعدیل میں زہری رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت عقبہ بن عامرؓ سے سماع ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ زہری 50ھ میں پیدا ہوئے جبکہ عقبہ حضرت معاویہؓ کی خلافت کے آخر میں 60ھ میں فوت ہوئے۔یوں ان کی وفات کے وقت زہری کی عمر دس سال تھی۔ لیکن احتمال ہے کہ اُنہوں نے حضرت عقبہ سے سنا ہو، کیونکہ حدیث کے لئے سن تحمل پانچ سال ہے جیسا کہ امام ابن صلاح نے اپنے المقدمةمیں ذکر کیا ہے۔ یوں یہ روایت متصل ہے ورنہ منقطع۔ فاضل ڈاکٹر اس روایت کو متصل بنانے کے لئے بڑی دور کی کوڑی لائے۔

اوّلاً تو عرض ہے کہ فاضل ڈاکٹر نے60ھ کو حضرت عقبہ کاسن وفات کس دلیل سے متعین کیا ہے جبکہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے الاصابہ: ج3؍ ص466،التهذیب ج7؍ ص243 ، میں اورعلامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے السیرج2؍ ص468،469 وغیرہ میں بالصراحت ان کی وفات 58 میں ذکر کی ہے۔ آخری عمر میں ان کا مدینہ طیبہ میں ہونا بھی ثابت نہیں ۔ مصر میں فوت ہوئے، مقبرہ المقطم میں دفن ہوئے۔ اس لئے سن تحمل کی بنا پر امکانِ سماع کا دعویٰ بہرحال مخدوش ہے بلکہ علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد (ج1 ص331) باب کیف الأذان میں صراحت کی ہے: ''والزھري لم یسمع من عقبة بن عامر'' کہ زہری نے حضرت عقبہؓ سے نہیں سنا۔ یہ روایت جس کے بارے میں علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حکم لگایا ہے،یہ طبرانی کبیر ج17؍ ص344 میں ہے اور یہ مُعنعن ہے یعنی زھري عن عقبة مگر یہ شرف صرف الجزء المفقود کے ناسخ یاراوی کو حاصل ہوا کہ اس نے امام زہری کاحضرت عقبہؓ سے سماع ثابت کردیا ۔ ماشاءاﷲ!

متن میں نکارت
حضرت عقبہؓ کی اسی روایت کے الفاظ ہیں : ''من توضأ فأتم وضوء ہ ثم رفع رأسه إلی السماء۔۔۔الخ'' فاضل ڈاکٹر حمیری نے اس کی تخریج میں صحیح مسلم اورابن ابی شیبہ وغیرہ کاحوالہ دیا اور فرمایا: ''من طریق ابن عثمان بن نفیر عن جبیر أبي عثمان بن مالك الحضرمي'' لیکن یہ کمپوزنگ کی غلطی ہے، صحیح ''من طریق أبي عثمان عن جبیر بن نفیر بن مالك ہے۔ اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ کیا اس سند سے محولہ کتابوں میں ''ثم رفع رأسه إلی السماء'' کے الفاظ موجود ہیں ؟ ڈاکٹر حمیری تک تو شاید ہماری یہ گزارشات نہ پہنچ پائیں مگر پاکستان میں ان کے ہم نوا اور اس نسخہ کی تحسین کرنے والے تو موجود ہیں ، کیا وہ بتاسکتے ہیں کہ محولہ کتب میں حاشیہ کی بیان کی ہوئی سند میں یہ اضافہ موجود ہے؟ {وَٱدْعُوا شُهَدَآءَكُم مِّن دُونِ ٱللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ﴿٢٣...سورۃ البقرۃ}

امر واقعہ یہ ہے کہ یہ اضافہ أبوعقیل عن ابن عمہ عن عقبة کی سند سے ابوداود ج1؍ ص66 مع العون، ابن ابی شیبہ ج1؍ ص4، مسنداحمد ج4؍ ص150،151 اور سنن دارمی ج1؍ ص182 میں ہے اور اس میں ابن عم ابی عقیل مجہول ہے، جیساکہ علامہ منذری نے مختصر ابی داود میں کہا ہے۔ غور فرمائیے ڈاکٹر حمیری نے کس ہوشیاری سے اس متن کو صحیح بنانے کی کوشش کی ہے۔ رہی الجزء المفقود کی سند تو اس کا قصہ آپ کے سامنے ہے۔

چوتھی سند اور ڈاکٹر حمیری کی دھاندلی
الجزء المفقود (ص88 رقم 28) کی ایک سند دیکھئے :
''عبدالرزاق قال أخبرني الزھري عن سفیان بن شبرمة عن سعید بن جبیر''

اوّلاً سوال یہ ہے کہ سفیان بن شبرمہ کون ہے؟ ڈاکٹر حمیری کی دھاندلی دیکھئے کہ وہ یہاں تو اس کے تعارف سے خاموش ہیں مگر رجال کی فہرست ص104 میں اس کو ثقہ قرار دیتے ہیں ۔إنا ﷲ وإنا إلیه راجعون! چلئے ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ طباعتی غلطی ہوگی صحیح 'سفیان عن ابن شبرمہ'' ہے کیونکہ المصنف (ج1؍ ص15) میں یہی اثر یحییٰ بن الیمان عن سفیان عن ابن شبرمةکی سند سے موجود ہے اور ابن شبرمہ،عبد اللہ بن شبرمہ ہیں اور ان سے سفیان ثوری اور سفیان بن عیینہ دونوں سفیان روایت کرتے ہیں ۔ مگر سوال پھر یہ ہے کہ کیا امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ یا سفیان بن عیینہ سے روایت کرتے ہیں ؟ تہذیب الکمال وغیرہ اُٹھا کر دیکھئے؛ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ میں ان کا نام آتا ہے؟ بلکہ سفیان بن عیینہ تو امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور شاگرد ہیں اور باکثرت ان سے روایات بیان کرتے ہیں ،مگر یہاں انہیں امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کا ماشاء اللہ اُستاد بنا دیا گیا۔

اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ کہا گیا''عبدالرزاق قال أخبرني الزھري'' حالانکہ امام عبدالرزاق 126ھ میں پیدا ہوئے جیسا کہ خود محترم حمیری صاحب نے ص23 پر نقل کیا ہے، جبکہ امام زہری 123 یا124، 125ھ میں فوت ہوئے (19)وغیرہ ۔ لہٰذا جب امام عبدالرزاق امام زہری کی وفات سے علیٰ حسب الاختلاف ایک یادو یا تین سال بعد پیدا ہوتے ہیں تو اب ان سے أخبرني الزھري بیان کرنے والا کون کذاب ہے؟ بینوا توجروا !!

مزید برآں ڈاکٹر صاحب نے متن میں فإذا نبتت له یغسلھا نقل کیا ہے جس کے کوئی معنی نہیں بنتے۔ صحیح لم یغسلھا ہے، جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے۔ممکن ہے کہ لَہٗ کمپوزنگ کی غلطی ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم!

پانچویں سند کالطیفہ
الجزء المفقود ص89، حدیث 30 میں ایک سند یوں ہے :
''عبدالرزاق عن معمر عن الزھري عن أبی عیینة عن یزید الرقاشي''

ابھی ہم عرض کر آئے ہیں کہ امام زہری، امام ابن عیینہ کے اُستاد ہیں ، شاگرد نہیں ۔ علاوہ ازیں ابن عیینہ کا سماع یزید بن ابان رقاشی سے نہیں ۔ ابن عیینہ 107ھ میں پیدا ہوئے جبکہ یزید رقاشی کے بارے میں ہے کہ وہ 110 سے120 ھ کے مابین فوت ہوئے۔ (20) کوئی حتمی تاریخ وفات کاذکر نہیں ملا۔ اب محض اس الجزء المفقودکی بنیاد پر ابن عیینہ کو یزید رقاشی کاشاگرد کیونکر قرار دیا جاسکتا ہے؟ بالخصوص جبکہ خود ابن عیینہ فرماتے ہیں :
''أول من جالست عبد الکریم أبوأمیة وأنا ابن خمس عشرة سنة قال وقرأ ت القرآن وأنا ابن أربع عشر سنة'' 21
''سب سے پہلے جس کے سامنے میں نے زانوے تلمذ طے کئے ہیں وہ عبدالکریم بن ابی المخارق ابواُمیہ ہیں ، تب میری عمر 15 سال تھی اور میں نے قرآنِ مجید 14 سال کی عمرمیں پڑھا۔''

جب صورتِ واقعہ یہ ہے کہ امام ابن عیینہ کاسن تحمل 15ھ ہے تو اس حساب سے110ھ سے120ھ کے مابین فوت ہوجانے والے یزید رقاشی بصری سے ان کاسماع کیونکر متعین ہوسکتا ہے؟ اس لئے یہ سند بھی خانہ ساز ہے اور علم الروایہ کے بالکل منافی ہے۔

چھٹی سند
الجزء المفقود ص94 کی حدیث 40 کی سند ملاحظہ فرمائیں :
عبدالرزاق عن الزھري عن جندب عن الأسود بن یزید أن ابن عمر توضأ ۔۔۔ الخ

ابھی ہم 'چوتھی سند' کے تحت ذکر کرآئے ہیں کہ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے امام عبدالرزاق رحمۃ اللہ علیہ کی ملاقات ہی ثابت نہیں ۔ امام عبدالرزاق رحمۃ اللہ علیہ ، امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد پیدا ہوئے،لہٰذا حسب ِسابق یہ سند بھی بناوٹی ہے۔ انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر حمیری اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں : ھٰذا الإسناد فیه انقطاع بین عبدالرزاق والزھري'' کہ اس سند میں زہری اور عبدالرزاق کے مابین انقطاع ہے مگر اس سے قبل ص88 حدیث 28 میں جہاں عبدالرزاق أخبرني الزهري کہہ کر دونوں کے مابین سماع کی صراحت کی گئی ہے، اس کے بارے ڈاکٹر صاحب بالکل خاموش ہیں ۔ ہمارا سوال یہی ہے کہ جس سے سماع نہ ہو اس کے باوجود راوی اس سے سماع کا اظہار کرے تو اسے کیاکہا جائے گا؟ امام عبدالرزاق رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں غلط بیانی اور کذب کاالزام بہرنوع غلط ہے۔اب اس کی جسارت کسی غلط کاراور کذاب نے نہیں کی تو اور کس نے کی ہے؟ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جائے کہ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ جو جندب سے روایت کرتے اور الاسود بن یزیدکے شاگرد ہیں ، وہ کون ہیں ؟نیز یہ بھی کہ سند میں أن ابن عمر بھی بہرحال غلط ہے۔ صحیح أن عمر ہے، جیساکہ الاسود بن یزیدہی سے یہ اثر حضرت عمر ؓسے مصنف ابن ابی شیبہ ( ج1؍ ص18) میں ہے۔

ساتویں حدیث
الجزء المفقود ص80،81 میں ایک روایت ابوسعید خدریؓ سے بایں سند نقل کی گئی ہے :
''عبدالرزاق عن معمر عن الزھري عن أبي سعید عن أبیه عن جدہ أبي سعید قال رسول اﷲ ﷺ: )لاوضوء لمن لم یذکر اسم اﷲ علیه22 

یہ روایت بظاہر سند کے اعتبار سے حسن ہے مگر درحقیقت بات یہ ہے کہ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کے استاد ابوسعید ربیح بن عبدالرحمن بن ابی سعید سے یہ روایت کثیربن زید بیان کرنے میں منفرد ہیں ۔ چنانچہ کثیر بن زید کی سند سے یہی روایت مصنف ابن ابی شیبہ: ج1؍ ص2، العلل الکبیر از ترمذی:ج1 ؍ص112،113، مسنداحمد: ج3؍ ص41، سنن دارمی: ج1؍ ص171، ابن ماجہ : رقم 397، مسند ابویعلی: رقم 1060، سنن دارقطنی :ج1؍ ص207، سنن بیہقی :ج1؍ ص43، مستدرک حاکم: ج1؍ ص147 اور مسند عبد بن حمید :رقم 910 وغیرہ کتب میں اسی سند سے مروی ہے اور امام حاکم اور امام بیہقی نے امام احمد سے نقل کیا ہے کہ
''أحسن ما یروی في ھذا الحدیث کثیربن زید''
''اس باب میں سب سے بہتر وہ ہے جو کثیر بن زید بیان کرتے ہیں ۔ ''

یہی بات امام ابن عدی نے الکاملج3؍ ص1034 میں ربیع کے ترجمہ میں نقل کی ہے۔ بلکہ مزید یہ بھی فرمایا ہے کہ' ' لا أعلم یروی ھذا الحدیث عن ربیع غیرکثیر'' کہ ''میں نہیں جانتا کہ یہ حدیث ربیع سے کثیرکے علاوہ کوئی اور بھی روایت کرتاہے۔'' امام اسحق بن راہویہ فرماتے ہیں : ''ھو أصح ما في الباب'' کہ ''یہ حدیث اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔''23

امام بزار فرماتے ہیں : ''لا نعلمه یروي عن أبي سعید إلا بالإسناد المذکور'' ''ہم نہیں جانتے کہ حضرت ابوسعیدؓ سے اس سند کے علاوہ بھی کسی نے روایت کیا ہے۔'' 24

ہم اس حدیث کی صحت وضعف کے بارے میں بحث نہیں کرناچاہتے بلکہ صرف یہ عرض کرناچاہتے ہیں کہ امام احمد، امام اسحق کا فرمانا کہ اس باب میں سب سے بہتر روایت کثیر بن زید کی ہے۔ امام بزار، امام ابن عدی کا فرمانا کہ کثیر کے علاوہ کسی اور نے یہ روایت بیان نہیں کی۔ امام احمد، امام اسحق براہ راست امام عبدالرزاق کے شاگرد ہیں ۔ امام حاکم، امام بیہقی نیز علامہ ابن ملقن اور حافظ ابن حجر وغیرہ اسحق بن ابراہیم الدبری جو المصنف عبدالرزاق کے راوی ہیں کے واسطہ سے المصنفکی جابجا روایات ذکر کرتے ہیں ۔ اگر یہ روایت ان کی المصنف میں زہری عن ربیع کی سند سے ہوتی تو کیا یہ حضرات کثیر کاتفرد اور اس کی سند سے اسے سب سے بہتر قرار دیتے؟ ... ہرگز نہیں !

ان محدثین کے تبصرہ کے بعد اس روایت کی یہ سند بھی خانہ ساز اور وضعی معلوم ہوتی ہے۔

آٹھویں حدیث اور ڈاکٹر حمیری
الجزء المفقود ص82 میں حدیث 21 کی سند یوں ہے:
''عبدالرزاق عن ابن جریج أخبرہ رجل عن أبي ھریرة''

یہ روایت بھی تسمیة في الوضوء کے بارے میں ہے جو مسند امام احمد، سنن ابی داود، ابن ماجہ وغیرہ کتب میں یعقوب بن سلمة عن أبیه عن أبی هریرة کی سند سے معروف ہے۔ امام حاکم نے یعقوب بن سلمہ کو یعقوب بن أبي سلمة الماجشون قرار دیا ہے،مگر علامہ ابن صلاح، علامہ نووی، علامہ ابن دقیق العید، علامہ ذہبی، علامہ ابن مُلقن اور علامہ زیلعی وغیرہ نے خبردار کیا کہ یہ امام حاکم کاوہم ہے، صحیح یعقوب بن سلمة ہے۔

یہاں ڈاکٹر حمیری کی لیاقت دیکھئے، فرماتے ہیں : اس سند میں ابن جریج کا استاد رجل مبہم ہے اور وہ ہے یعقوب بن سلمة اللیثي،ا ن کے الفاظ ہیں : إن الرجل ھو یعقوب بن سلمة اللیثي مگر یہ بات ان کے حاشیہ خیال میں نہ آئی کہ جن مراجع کی بنیاد سے المصنف میں رجل کو یعقوب بن سلمہ قرار دیاہے، وہ تو انہی مراجع میں اپنے باپ سلمة سے روایت کرتے ہیں جبکہ رجل براہِ راست حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتا ہے، اس لئے یہ یعقوب کیونکر ہوسکتا ہے؟

حدیث ِنور
اب آئیے اس روایت کو بھی ایک نظر دیکھ لیجئے جس کے لئے یہ الجزء المفقود طبع کیا گیا۔ جس کی تخریج میں کہا گیا کہ شیخ ابن عربی نے تلقیح الفھوم میں انہی الفاظ سے ذکر کیا ہے، الخرکوشی نےشرف المصطفیٰ میں حضرت علیؓ سے اس معنی میں روایت بیان کی ہے، عجلونی نے کشف الخفاء میں عبدالرزاق سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اور قسطلانی نے اسے المواھب اللدنیة میں ذکر کیاہے، اور عبدالملک الطبنی نے اپنے فوائد میں اسے حضرت عمرؓ سے نقل کیا ہے۔
 
قارئین کرام غور فرمائیں کہ کیا شیخ ابن عربی نے اسے المصنف عبدالرزاق کی سند سے نقل کیا؟ حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ کی روایت سے سند کیا ہے؟اور وہ بھی المصنف کی روایت کے ہم معنی ہیں ۔ عبدالرزاق کے حوالے سے کشف الخفاء کاحوالہ بھی ثانوی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ علامہ عجلونی نے جو کچھ نقل کیا، المواھب اللدنیة سے نقل کیا ہے۔ گویاالمصنف کے حوالہ سے حضرت جابرؓ کی یہ روایت سب سے پہلے علامہ قسطلانی نے ذکر کی ہے اور وہ بھی بلاسند، اور اب المصنف عبدالرزاق میں مل گئی جس کی بظاہر سند بھی درست ہے،مگر مقامِ غور ہے کہ علامہ قسطلانی نے جو الفاظ المصنف سے نقل کئے ہیں کیا انہی الفاظ سے یہ الجزء المفقود میں ہے؟ قطعاً نہیں ۔نسخوں کے اختلاف میں الفاظ کے مختلف ہونے کی بات اپنی جگہ مگر یہاں تو سرے سے اصل موضوع ہی بدلا ہواہے۔ اور وہ یوں کہ المواھب میں ہے کہ نور نبیک من نورہ جبکہ الجزء المفقود میں ہے : ''نور نبیك یا یا جابرخلقه اﷲ'' اس کے بعد الجزء میں ہے: ''ثم خلق فیه کل خیر وخلق بعدہ کل شیء وحین خلقه أقامه قدامه من مقام القرب اثنی عشر ألف سنة'' کہ'' پھر اس نور میں ہر قسم کی خیرپیداکی اور اس کے بعد ہر چیز کو پیداکیا، اور جب سے اسے پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے سامنے مقامِ قرب میں بارہ ہزار سال رکھا۔'' جبکہ المواھب میں ہے:
''فجعل ذلك النور یدور بالقدرة حیث شاء ولم یکن في ذلك الوقت لوح ولا قلم ولا جنة ولا نار ولا ملك ولاسماء ولا أرض ولا شمس ولاقمر ولا جني ولا إنسي''

غور فرمائیے، آخری حصہ تو ''الحدیث یفسر بعضه بعضا'' کا مصداق ہے جبکہ پہلے حصہ میں فرمایا گیا ہے کہ یہ نور قدرت سے جہاں چاہا، چکر لگاتارہا۔ اندازہ کیجئے دونوں میں کتنا نمایاں فرق ہے۔الجز میں ربّ ذوالجلال کے سامنے مقامِ قرب میں ٹھہرنے کاذکر ہے جبکہ المواھب میں اپنی مرضی سے چکر لگانے کا ہے۔الجزء میں مقامِ قرب میں یہ حضوری بارہ ہزار سال بتلائی گئی جبکہ المواھب میں سرے سے اس کاذکر ہی نہیں ۔پھر الجزء میں ہے کہ اس نور کے چار حصے کئے، ایک قسم سے عرش اور کرسی، ایک قسم سے حاملین عرش اور خزنة کرسی، اور چوتھی قسم مقامِ محبت میں بارہ ہزار سال کھڑی رہی۔چنانچہ اسکے الفاظ ہیں :
''ثم جعله أربعة أقسام فخلق العرش والکرسي من قسم وحملة العرش وخزنة الکرسي من قسم وأقام القسم الرابع في مقام الحب اثنی عشر ألف ثم جعله أربعة أقسام''

اوّلاً تو یہاں اس نور کے تیسرے حصے سے جو کچھ بنا، اس کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں ۔ شاید یہ حصہ جناب دکتور حمیری صاحب کی نورِ نظر سے اوجھل ہوگیا ہے۔
ثانیاً: المواھب میں اس کے برعکس اس نور سے جن تین چیزوں کے وجود میں آنے کاذکر ہے، وہ یہ ہیں پہلے حصہ میں القلم، دوسرے حصہ سے اللوح، تیسرے حصے میں العرش، چنانچہ المواھب کے الفاظ ہیں :
''فخلق من الجزء الأول القلم،ومن الثاني اللوح،ومن الثالث العرش، ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء''

الفاظ کے تغیر سے قطع نظر یہاں نور کے چوتھے حصہ کا بارہ ہزار سال تک مقامِ محبت میں کھڑے رہنے کا بھی ذکر نہیں ۔ اور نور کے اجزا سے تخلیق ِ کائنات میں فرق بھی نمایاں طور پر ظاہر ہورہا ہے۔

اس کے بعد الجزء المفقود میں ہے کہ اس چوتھے حصہ نور کو چارپر تقسیم کیا گیا تو ایک حصہ سے القلم، ایک حصہ سے لوح، ایک حصہ سے جنت اور چوتھا بارہ ہزار سال تک مقامِ خوف میں رہا۔ چنانچہ اس کے الفاظ ہیں :
''فخلق القلم من قسم واللوح من قسم والجنة من قسم ثم أقام القسم الرابع في مقام الخوف اثنی عشر ألف سنة''

جبکہ اس کے بالکل برعکس المواھب میں المصنف کے حوالے سے ہے کہ
''فخلق من الجزء الأول حملة العرش ومن الثاني الکرسي ومن الثالث باقي الملائکة ثم قسم الجزء الرابع أربعة أجزاء''

اس دوسری قسم میں نور کے ایک حصہ سے حاملین عرش، دوسرے سے کرسی، تیسرے سے باقی تمام ملائکہ؛ انصاف فرمائیے،دونوں میں کوئی توافق ہے؟ جن چیزوں کی تخلیق کا ذکر الجزء المفقود میں ہے، ان کا تذکرہ المواھب کی نقل کردہ روایت میں سرے سے موجود ہی نہیں ۔ اور نہ ہی اس میں چوتھے حصہ نور کا بارہ ہزار سال تک مقامِ خوف میں رہنے کا ذکر ہے۔

آگے دیکھئے الجزء المفقود میں اس کے بعدذکر ہے کہ اس چوتھے حصہ کو پھر چار پر تقسیم کیا گیا، جس کے ایک حصہ سے فرشتے، ایک حصہ سے سو رج، ایک حصہ سے چاند اور تارے اور چوتھا حصہ مقام رجاء میں بارہ ہزار سال تک ٹھہرا رہا۔چنانچہ اس کے الفاظ ہیں :
''جعلہ أربعة أجزاء فخلق الملائکة من جزء والشمس من جزء والقمر والکواکب من جزء وأقام الجزء الرابع في مقام الرجاء اثنی عشر ألف سنة''

جبکہ المواھب میں اس کے برعکس ہے:
''فخلق من الأول السموات ومن الثاني الأرضین ومن الثالث الجنة والنار ثم قسم الرابع أربعة أجزاء''
'' پھر اس نور کے ایک حصہ سے آسمان ،دوسرے حصہ سے زمینیں ، تیسرے سے جنت اور جہنم پیدا کئے گئے، پھر چوتھے حصہ کو چار میں تقسیم کیا گیا۔''

ایمانداری سے بتلایا جائے؛ دونوں میں کوئی موافقت ہے؟ جن اشیا کا تیسری تقسیم میں الجزء المفقود میں ذکر ہے، کیا ان میں کوئی چیز المواھب کی بیان کردہ روایت میں پائی جاتی ہے؟ اور الجزء المفقود میں بارہ ہزار سال تک مقام رجاء میں ٹھہرے رہنے کا ذکر اس پرمستزاد ہے۔ اس کے بعد الجزء المفقود میں ہے: وہ چوتھا حصہ پھر چار اجزا میں تقسیم کیا گیا، ایک جز سے عقل کو، ایک جز سے علم و حکمت اور عصمت و توفیق کوپیدا کیا اور چوتھا حصہ بارہ ہزار سال تک مقام حیا میں کھڑا رہا۔چنانچہ اس کے الفاظ ہیں :
''ثم جعلہ أربعة أجزاء فخلق العقل من جزء والعلم والحکمة والعصمة والتوفیق من جزء وأقام الجزء الرابع في مقام الحیاء اثنی عشر ألف سنة''

اوّلاً تو یہاں تیسرے حصۂ نور سے تخلیق کاذکر ہی نہیں ۔ شاید یہاں بھی ڈاکٹر حمیری کی نظر سے چوک ہوئی ہو، مگر کیا کیا جائے المواھب میں المصنف کے حوالے سے اس کے بالکل برعکس ہے کہ
''فخلق من الأول نور أبصار المؤمنین، ومن الثاني نور قلوبھم وھي المعرفة باﷲ،من الثالث نور إنسھم وھو التوحید لا إله إلا اﷲ محمد رسول اﷲ''الحدیث۔
''اسکے ایک حصہ سے مؤمنوں کی آنکھوں کا نور، دوسرے سے ان کے دلوں کا نور یعنی اللہ کی معرفت اور تیسرے سے ان کے انس کا نور پیدا کیا یعنی توحید لاإله إلا اللہ محمد رسول اللہ۔''

دونوں روایتوں میں فرق ہر اس شخص کونظر آتا ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نورِ ایمان سے نوازا ہے۔ اس کے باوجود الجزء المفقود کو المصنف عبدالرزاق باور کرانا اور اس کی سند دیکھ کر خوشی کے ڈونگرے برسانا کہ المواھب میں عبدالرزاق کی بیان کردہ سند مل گئی، ہمارے نزدیک نہایت طفلانہ شوخی ہے۔علم الروایہ سے معمولی شد بد رکھنے والابھی اس فرق کو سمجھ سکتاہے مگر افسوس! ڈاکٹر حمیری اور ان کے ہم نوا ڈھنڈورچی اسے محض نسخوں کا فرق قرار دینے پر اُدھار کھائے بیٹھے ہیں ۔علامہ قسطلانی نے اس کے بعد کا حصہ نقل نہیں کیا، جس سے پتہ چلتا کہ دونوں کے الفاظ کیاہیں ؟ المواھب کے شارح علامہ زرقانی کو المصنف کانسخہ نہیں ملا، اس لئے اُنہوں نے فلیراجع من مصنف عبدالرزاق مع تمام الحدیث کہہ کر خاموشی اختیار کی۔

الجزء المفقود کی پہلی حدیث اور حدیث ِ نور
اول تخلیق کے حوالے سے حضرت جابرؓ کی روایت تو معروف ہے۔ اس کے بارے میں معنوی اعتراضات اور ان کے جوابات معلوم شد، ہم یہاں اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتے، نہ ہی یہ ہمارا موضوع ہے۔ لیکن اسی حوالے سے الجزء المفقود کی پہلی روایت کی سند اور ابتدائی الفاظ ملاحظہ ہوں :
''عبدالرزاق عن معمر عن الزھري عن السائب بن یزید قال إن اﷲ تعالیٰ خلق شجرة ولھا أربعة أغصان فسماھا شجرة الیقین،ثم خلق نور محمدﷺ في حجاب من درة بیضاء مثله کمثل الطاؤس ووضعه علی تلك الشجرة فسبح علیھا مقدار سبعین ألف سنة''

سند کے سب راوی ثقہ ہیں ۔ سائبؓ بن یزید صحابی ہیں ۔یہ روایت گو مرفوع نہیں لیکن حکماً مرفوع ہے،کیونکہ حضرت سائب نے جوکچھ بیان فرمایا ہے، وہ عقل و فکر کا مسئلہ نہیں نہ ہی وہ اہل کتاب سے لینے والے ہیں ۔ اس کا تعلق بدء الخلق سے ہے، اس لئے یہ حکما ًمرفوع ہے۔ حضرت سائب ؓفرماتے ہیں کہ
''اللہ تعالیٰ نے ایک درخت پیدا کیا،جس کی چار شاخیں تھیں ۔اس کا نام شجرة الیقین رکھا پھر نورِ محمدؐ کو پیدا کیا،ایک سفید موتی کے پردہ میں اس کی شکل و صورت طاؤس کی سی تھی اور اسے اس درخت پررکھا تو اس نے ستر ہزارسال تک اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی۔ ''

یہ بعد کی کہانی ہمارا موضوع نہیں ۔ ہم صرف اتنی بات عرض کرناچاہتے ہیں کہ اس روایت میں نورِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تخلیق شجرة الیقین کے بعد بیان ہوئی ہے۔ اس روایت میں تخلیق حقیقی اور اضافی کی تاویل کی بھی گنجائش نہیں ، کیونکہ اس کا بیان یہاں ثُمَّ سے ہوا جو تراخي چاہتا ہے اور بیان ہے کہ طاؤس کی صورت میں یہ نورِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس درخت پربٹھایا گیا جس سے تخلیقا ً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی اوّلیت ثانوی حیثیت میں رہ جاتی ہے۔ڈاکٹر حمیری نے حضرت جابرؓ کی روایت کے تحت پیدا ہونے والے اشکالات کا جواب دینے کی کوشش کی مگر حضرت سائب ؓکی روایت سے جواشکال وارد ہوتا ہے اور تخلیق کی جو کہانی اس میں بیان ہوئی ہے، وہ حضرت جابر کی روایت کے بالکل برعکس ہے۔ افسوس ہے کہ چارہ گروں نے اس طرف مطلق توجہ نہیں دی۔ یہ پہلی روایت جو تقریباً تین صفحات پرمشتمل ہے، اس کا پورا مضمون اس کے وضعی اور من گھڑت ہونے کی دلیل ہے۔آپ اندازہ لگائیں کہ اس روایت میں فرمایاگیاکہ آپؐ کے نور کو جو طاؤس کی شکل دی گئی، اس کے سر کے پسینہ سے فرشتے پیدا ہوئے۔ چہرے کے پسینہ سے عرش، کرسی ،لوح وقلم ،شمس وقمر ،ستارے اور دیگر آسمانی اشیا بنیں ، اس کے سینہ کے پسینہ سے انبیاء و رسل، علماء و صلحاء و شہدا پیداہوئے۔ پھر باقی اعضا کے پسینہ سے دیگر مخلوقات بننے کاذکر ہے۔ اس کے بعد پھر کہاگیا :
''ثم سبح سبعین ألف سنة ثم خلق نور الأنبیاء من نور محمد ﷺ''
''پھرطاؤس نے ستر ہزار سال تک اللہ کی تسبیح بیان کی، پھر انبیاء علیہم السلام کا نور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے پیداکیا۔ ''

قابل غور بات یہ ہے کہ آپ کے عرقِ صدر سے انبیاء علیہم السلام کی تخلیق تو پہلے ہوچکی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے انبیا کے نور کا پیدا ہونا چہ معنی دارد؟ پھر اس میں تمام آسمانی اشیاء کو چہرے کے پسینہ سے پیدا ہونا بتلایا گیا،جبکہ حضرت جابرؓ کی روایت میں معاملہ اس کے برعکس ہے جیساکہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اس لئے یہ پہلی روایت ہی اپنی سند صحیح ہونے کے باوجود حضرت جابر ؓکی روایت کے مخالف اور اس کا متن اس کے وضعی ہونے کی دلیل ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایات کسی کذاب یاوضاع کی گھڑی ہوئی ہیں ۔

امام عبدالرزاق کی ہمشیرہ کا بیٹا احمد بن عبداللہ تھا جسے احمد بن داود بھی کہا گیا ہے، وہ کذاب تھا اور حدیثیں بنا بناکر امام عبدالرزاق کی احادیث میں داخل کردیتا تھا۔ (25)کیا بعید ہے کہ یہ کارستانی کہیں اسی کی نہ ہو۔ ورنہ المصنف کاراوی تو اسحق بن ابراہیم الدبری ہے اور جن حضرات نے اس کی سند سے المصنف کاسماع کیا ہے وہ نہ تو المصنف کے ناقص ہونے کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی کہیں ان روایات کا اشارہ کرتے ہیں جیساکہ پہلے ہم ذکر کر آئے ہیں ۔ ہماری ان گزارشات سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ الجزء المفقود المصنف کا قطعاً حصہ نہیں ۔تفصیل کاخلاصہ یہ ہے کہ
(1)  ڈاکٹرعیسیٰ حمیری خود اس کے انتساب میں پوری طرح مطمئن معلوم نہیں ہوتے۔
(2) اس کاناسخ مجہول ہے، نہ اس پرمحدثین کی سماعات ہیں اور نہ ہی کسی سے ا س کی توثیق منقول ہے۔
(3) المصنف کتاب اور ابواب کے تحت مرتب کی گئی ہے جبکہ الجزء المفقود میں کتاب کاعنوان نہیں __ آخر کیوں ؟
(4) نویں صدی تک کے ائمہ محدثین المصنف کی سماعات کاذکر کرتے ہیں نہ وہ نقص کا اشارہ کرتے ہیں اورنہ ہی اُنہوں نے ان اسانید سے روایات کااشارہ کیاہے۔
(5) یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کی اسانید سے پانچ روایات الجزء المفقود میں ہیں اور ان کی اسانید سے عیاں ہوتاہے کہ یہاں سند سازی کی گئی ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ یحییٰ کثیر الروایہ ہیں ، الجزء المفقود کی چالیس روایات میں پانچ روایات اس سے مروی ہیں ،مگر المصنف میں ان کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں پائی جاتی، آخر کیوں ؟
(6)ابن جریج أخبرني البراء کی سند اس کے وضعی ہونے کی دلیل ہے۔
(7) الزہري سمع عقبة بن عامر کی سند بھی اس کے بناوٹی ہونے کا ثبوت ہے۔
(8) عبدالرزاق أخبرني الزهري کی سند بھی کسی کذاب کی کارستانی ہے۔
(9) امام ابن عیینہ کو امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کا استاد ظاہر کرنا اس کی ثقاہت کے منافی ہے۔
(10) تسمیہ وضو کی روایت کی سند تمام محدثین کی تصریحات کے خلاف اس کے بناوٹی ہونے کی دلیل ہے۔
(11) حضرت جابرؓ کی حدیث ِنور کا متن، المواہب میں المصنف کے حوالہ سے نقل کئے گئے متن کے بالکل برعکس ہے۔ اگر یہی اس کی سند ہے تو اتنا گھپلا کیوں ؟ دونوں میں صحیح متن کون سا ہے اور کس ترتیب سے ہے؟ الجزء المفقود کے بعد المواھب کے بیان و تفصیل کی پوزیشن کیا ہے؟
(12) الجزء المفقود کی پہلی روایت بھی حضرت جابرؓ کی حدیث کے منافی ہے۔ بلکہ وہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی پیدائش ثانوی درجہ میں رہ جاتی ہے اور اس کا پورا متن بھی حضرت جابرؓ کی روایت کے خلاف ہے اورکسی قصہ گو کی کارستانی معلوم ہوتی ہے۔

اُمید ہے کہ ہماری ان گزارشات کو ٹھنڈے دل و دماغ سے پڑھ کر سنجیدگی سے فیصلہ کیاجائے گا کہ الجزء المفقود المصنف کا حصہ ہے یا نہیں ؟ کسی کتاب کے جز کاکسی امام کی طرف انتساب کوئی اچنبھے کی بات نہیں ، ایسی کارستانی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے جیسا کہ ہم آغاز میں بحوالہ ذکر کر آئے ہیں ۔
حوالہ جات
1. مقدمہ مسلم: 1؍12
2. مقدمہ ابن الصلاح: ص187
3. التہذیب: ج1؍ ص12
4. کشف الظنون: ج2؍ ص1795
5. تحفہ اثنا عشریہ ص49، باب ثانی
6. السیر: ج11؍ ص330
7. میزان : ج1؍ ص17 وغیرہ
8. میزان: ج3 ص495
9. کتب حذر منھا العلماء:2 ؍293
10. کشف الظنون: ج2 ص1288
11. ص14،15
12. الرسالة المستطرفة:ص36
13. تقریب: ص375
14. تقریب: ص344
15. الجزء المفقود:ص60 رقم 13
16. التهذیب للمزي ترجمہ 2559 وغیرہ
17. تقریب: 136
18. تقریب: ص43
19. تہذیب الکمال :ج17؍ ص232
20. التاریخ الصغیر للبخاري:ج2؍ ص343
21. السیر: ج8؍ ص464
22. رقم: 20
23. التخلیص: ج1 ص74
24. البدر المنیر:ج2 ص78
25. میزان و اللسان: ج1؍ ص170،197