بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے والد کے نام سے بلایا جائے گا یا والدہ کے نام سے ؟ استاذِ محترم شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ کے فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ میں بھی یہ سوال موجود ہے اوراُنہوں نے اس کا مختصر سا جواب دیا ہے کیونکہ فتاویٰ کا عام طور پریہی اُسلوب ہے۔

چونکہ یہ سوال لوگ عموماً پوچھتے رہتے ہیں ، اس لئے اس بارے میں تفصیل پیش کرنا مناسب ہے۔ درست بات یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے باپوں ہی کے نام سے بلایاجائے گا، ماؤں کے نام سے نہیں ،جیسا کہ عام لوگوں میں مشہور اوربعض علما کا موقف ہے۔

امام بخاری نے 'کتاب الادب' میں ایک باب یوں قائم کیا ہے: ''باب ما یدعی الناس بآبائهم ''(1)اوراس کے تحت وہ عبداللہ بن عمرؓ کی درج ذیل حدیث لائے ہیں :
إن الغادر ینصب له لواء یوم القیامة فیقال:ھذہ غدرة فلان بن فلان 2
''خائن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی خیانت ہے۔''

ابن بطال اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
وفي قوله:ھذہ غدرة فلان بن فلان ردّ لقول من زعم أنه لایدعی الناس یوم القیامة إلا بأمهاتم لأن في ذلك سترا علی آبائهم۔۔۔ 3
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: ھذہ غدرة فلان بن فلان میں ان لوگوں کے قول کاردّ ہے جن کاخیال ہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کی ماؤں ہی کے نام سے بلایا جائے گا، کیونکہ اس میں ان کے باپوں پرپردہ پوشی ہے۔ ''

اور یہ حدیث ان کے اس قول کے خلاف ہے۔ اس حدیث کی بنا پر دیگر علما نے بھی اس قول کے قائلین کاردّ کیا ہے۔ 4

مزید برآں اس کے بارے میں ایک صریح حدیث بھی ہے مگر وہ اسنادی اعتبار سے ضعیف ہے اوروہ حدیث ابوالدردائؓ سے بایں الفاظ مروی ہے :
إنکم تدعون یوم القیامة بأسمائکم وأسماء آبائکم فحسنوا أسمائکم 5
''یقینا تم قیامت کے دن اپنے اور اپنے آبا کے نام سے بلائے جاؤ گے لہٰذا تم اپنے اچھے اچھے نام رکھو۔''

حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں ان لوگوں کی تردید ہے جنہوں نے کہاکہ لوگ قیامت کے دن اپنی ماؤں کے نام سے بلائے جائیں گے، باپوں کے نام سے نہیں ۔ 6

جن علما نے یہ کہاہے کہ قیامت کے دن آدمی کو اس کی ماں کے نام سے بلایاجائے گا، باپ کے نام سے نہیں ، ان کے دلائل دو نوعیت کے ہیں :
پہلی دلیل
قرآنِ کریم میں ہے :

يَوْمَ نَدْعُواكُلَّ أُنَاسٍۭ بِإِمَـٰمِهِمْ...﴿٧١﴾...سورۃ بنی اسرائیل
''قیامت کے روز ہم لوگوں کو ان کے اماموں کے ساتھ بلائیں گے۔''

محمد بن کعب نے بـإمامهم کی تفسیر میں کہا ہے :

قیل: یعني بأمهاتهم
''کہا گیا ہے یعنی ان کی ماؤں کے ناموں سے۔''

ان کے اس قول کوامام بغوی رحمۃ اللہ علیہ اور امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے اورکہا ہے کہ اس میں تین حکمتیں ہیں :
(1)  عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے
(2) حسن اور حسین ؓ کے شرف کی بنا پر
(3) اولادِ زنا کی عدم رسوائی کی وجہ سے۔ 7

مگر محمد بن کعب کا یہ قول بے بنیاد ہے، اسی لئے علامہ شنقیطی نے ان کے اس قول کاردّ ان الفاظ میں کیا ہے :
قول باطل بلاشك وقد ثبت في الصحیح من حدیث ابن عمر 8
''یہ قول بلاشک باطل ہے کیونکہ صحیح (بخاری) میں ابن عمر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے ابن عمر ؓ کی صفحہ اول پر مذکور حدیث کاتذکرہ کیا ہے۔

اسی طرح زمخشری نے بھی 'امام 'کی تفسیر 'اُمہات' سے کی ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں :
ومن بدع التفسیر أن الإمام جمع أمّ وأن الناس یدعون یوم القیامة بأمهاتهم وأن الحکمة في الدعاء بالأمهات دون الآباء۔۔۔ 9
''منفرد تفسیروں میں سے ایک تفسیر یہ ہے کہ إمام اُ مّ کی جمع ہے اور لوگوں کو قیامت کے دن ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا، باپوں کے بدلے ماؤں کے نام سے بلانے میں حکمت یہ ہے: (اس کے بعد اُنہوں نے انہی تین حکمتوں کاذکر کیا ہے جن کو بغوی وغیرہ نے ذکر کیا ہے)''

زمخشری کی اس انوکھی تفسیرکا ردّ امام ناصر الدین احمد بن منیرمالکی نے ان الفاظ سے کیا ہے :
ولقد استبدع بدعا لفظا ومعنا فإن جمع الأم المعروف:الأمهات أما رعایة عیسی علیه السلام بذکر أمهات الخلائق لیذکر بأمه فیستدعی أن خلق عیسی من غیر أب غمیزة في منصبه وذلك عکس الحقیقة، فإن خلقه من غیر أب کان له آیة و شرفا في حقه۔ واﷲ أعلم 10
''زمخشری نے لفظی اور معنوی بدعات ایجاد کی ہیں کیونکہ 'امّ 'کی معروف جمع 'اُمہات' ہے۔ رہا عیسیٰ علیہ السلام کی رعایت کی خاطر لوگوں کا ان کی ماؤں کے ساتھ ذکر تاکہ حضرت عیسیٰ کی ماں کا ذکر کیاجائے۔ تو یہ امر اس بات کا متقاضی ہے کہ عیسیٰ کی بغیر باپ کے خلقت سے ان کے منصب پر حرف آتا ہے جبکہ یہ بات حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ ان کابغیر باپ کے پیدا کیا جانا ان کے لئے معجزہ اور ان کے حق مں شرف ہے۔ واللہ اعلم!''

بعض دیگر علما نے مذکورہ تمام حکمتوں کا ردّ کیا ہے اور بعض نے اس ردّ کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ 11
نوٹ: استاد محترم نے'فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ' (ص242) میں 'اُمہات '(12)کی تفسیر کو قراء تِ شاذہ قرار دیا ہے مگر مجھے کوئی ایسی قراء ت نہیں ملی۔(i) واللہ أعلم بالصواب

واضح رہے کہ 'امام' کی معتبر مفسرین نے تین چار تفسیریں ذکر کی ہیں مگر ان میں سے سب سے معتبرتفسیر یہ ہے کہ 'امام' سے مراد آدمی کا اعمال نامہ ہے، کیونکہ یوم ندعوا کل أناس بـإمامہم کے بعد اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: {فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِ۔۔۔ الآیة}
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اسی تفسیر کو اختیارکیاہے اور علامہ شنقیطی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی تائید کی ہے۔ 13

إمام کی تفسیر نبی اور پیشوا سے بھی کی گئی ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
قال بعض السلف: ھذا أکبر شرف لأصحاب الحدیث لأن إمامهم النبيﷺ 14
''بعض سلف نے کہا ہے کہ یہ اہل الحدیث کے لئے بہت بڑا شرف ہے، کیونکہ ان کے امام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔''

دوسری دلیل
بعض بے کار اور سخت ضعیف قسم کی روایات ہیں ، جودرج ذیل ہیں :
(1) حدیث ِانسؓ ،جس کے الفاظ یہ ہیں :
یُدعی الناس یوم القیامة بأمهاتهم سترا من اﷲ عزوجل علیهم 15
''روزِ قیامت لوگوں کو اللہ عزوجل کی طرف سے ان پر پردہ پوشی کی خاطر ان کی ماؤں کے ساتھ بلایا جائے گا۔''
مگر اس حدیث کی سند سخت ضعیف ہے۔ 16

علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث کی تقویت کی طرف رجحان ہے، چنانچہ اُنہوں نے اس حدیث پر ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ کاتعاقب کرتے ہوئے لکھا ہے:
قلت:صرح ابن عدي بأن الحدیث منکر فلیس بموضوع وله شاھد من حدیث ابن عباس أخرجه الطبراني 17
''میں کہتا ہوں : ابن عدی نے صراحت کی ہے کہ یہ حدیث منکر ہے، چنانچہ یہ موضوع نہیں ، اور اس کا ابن عباسؓ کی حدیث سے ایک شاہد ہے جسے طبرانی نے روایت کیا ہے۔''

جبکہ امام سیوطی کا دعویٰ درست نہیں ، طبرانی والی حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں :
إن اﷲ یدعو الناس یوم القیامة بأسمائهم سترا منه علیٰ عبادہ 18
مگر یہ حدیث درج ذیل دو وجوہ کی بنا پر شاہد بننے کے قابل نہیں :
(1) اس میں بأسمائهم ہے، بأمهاتهم نہیں ۔
(2) اس کی سند بھی سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے۔ 19

نوٹ: مزید برآں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری (10؍563) میں ابن بطال کا یہ قول ''في ھذا الحدیث رد لقول من زعم أنهم لا یدعون یوم القیامة إلا بأمهاتهم سترا علی آبائهم (20)ذکر کرنے کے بعد کہا ہے:
قلت: ھو حدیث أخرجه الطبراني من حدیث ابن عباس وسندہ ضعیف جدا وأخرج ابن عدي من حدیث أنس مثله،وقال: منکر أوردہ في ترجمة إسحاق بن إبراھیم الطبري
میں کہتا ہوں کہ حدیث ابن عباس میں بھی بأسمائھم ہے، بأمہاتہم نہیں ۔ اسی طرح ان کا حدیث أنس مثلہ کہنا بھی درست نہیں کیونکہ اس حدیث میں بأمہاتہم ہے۔

یہی وہم علامہ ابوطیب شمس الحق عظیم آبادی کو ہوا ہے کہ اُنہوں نے حدیث ابن عباس کو لفظ بأمہاتہم سے ذکر کیا ہے۔ نیز اُنہیں ایک غلطی یہ بھی لگی ہے کہ اُنہوں نے کہا ہے کہ حدیث ِابن عباس کو طبرانی نے بہ سند ضعیف روایت کیا ہے، جیسا کہ ابن قیم نے حاشیة السننمیں کہا ہے جبکہ ابن قیم نے حدیث ابن عباس کا ذکر تک نہیں کیا بلکہ اُنہوں نے حدیث ِابوامامہ کا ذکر کیا ہے جوعنقریب آرہی ہے۔ 21
(2) حدیث ابن عباس ؓ :اس حدیث کا ابھی حدیث انس ؓ کے ضمن میں ذکر ہوا اور یہ بھی بیان ہواکہ دو وجوہ کی بنا پر اس سے حجت لینا درست نہیں ۔
(3) حدیث ابوامامہؓ :یہ ایک طویل حدیث ہے جس میں میت کو دفن کردینے کے بعد اسے تلقین کرنے کا ذکر ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
إذا مات أحد من إخوانکم فسویتم التراب علی قبرہ فلیقم أحدکم علی رأس قبرہ ثم لیقل: یا فلان بن فلانة فإنه یسمعه ولا یجیب ثم یقول: یا فلان بن فلانة ۔۔۔ فقال رجل: یارسول اﷲ فإن لم یعرف أمه قال: فینسبه إلی حواء یا فلان بن حواء 22
''جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی فوت ہوجائے اور تم اس کی قبر پر مٹی کو برابر کرلو تو تم میں سے کوئی ایک اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر یہ کہے: اے فلاں فلاں عورت کے بیٹے، تو وہ یقینا اس کی بات کو سنتا ہے، لیکن جواب نہیں دے پاتا۔ پھر کہے: اے فلاں فلاں عورت کے بیٹے۔ ایک آدمی نے سوال کیا : یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر وہ اس کی ماں کو نہ جانتا ہو تو فرمایا :وہ اس کو حوا کی طرف منسوب کرے کہے: اے فلاں ، حوا کے بیٹے۔ ''
مگر اس حدیث سے بھی حجت لینا درست نہیں ،کیونکہ یہ سخت ضعیف ہے۔ 23

حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو اس لئے بھی ردّ کیا ہے کہ یہ صحیح احادیث کے خلاف ہے،چنانچہ لکھتے ہیں :
ولکن ھذا الحدیث متفق علی ضعفه فلا تقوم به حجة فضلاً عن أن یعارض به ما ھو أصح منه 24
''لیکن اس حدیث کے ضعف پر اتفاق ہے۔ چنانچہ اس سے حجت قائم نہیں ہوسکتی، چہ جائیکہ اس کو جو اس سے أصح (زیادہ صحیح) ہے ،کے مقابلے میں لایا جائے۔''

ما ھو أصح سے ان کی مراد حدیث عبداللہ بن عمرؓ اور حدیث ابو الدردائؓ ہے جو اس مضمون کے شروع میں گزرچکی ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی تردید حضرت عثمان بن عفان ؓ کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو فرماتے:
استغفروا لأخیکم واسئلوا له بالتثبیت فإنه الآن یسأل 25
''اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو اور اس کے لئے ثابت قدمی کا سوال کرو، کیونکہ اب اس سے سوال کیا جارہا ہے ۔''

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس موقع پر میت کے لئے استغفار اور ثابت قدمی کا سوال کیا جائے گا، نہ کہ اس کو تلقین کی جائے گی۔
ابن علان نے اس حدیث کو حدیث ابی امامہ کے شواہد میں ذکر کیا ہے۔ 26

اور یہ کس قدر عجیب بات ہے، کیونکہ استغفار ، ثابت قدمی اور تلقین میں بہت فرق ہے۔ اور صحیح احادیث سے جو تلقین ثابت ہے وہ قریب الموت آدمی کے بارے میں ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لقنوا موتاکم لا إلـٰہ إلا اﷲ 27
''اپنے مردوں (یعنی قریب المرگ لوگوں ) کو لا إلہ اﷲ کی تلقین کرو۔''

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی قابل اعتماد حدیث ایسی نہیں ہے کہ جس کی بنا پر یہ کہا جاسکے کہ روزِ قیامت آدمی کو اس کی ماں کے نام سے بلایاجائے گا بلکہ عبداللہ بن عمرؓ کی صحیح حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آدمی کو اس کے باپ کے نام سے بلایاجائے گا۔

بعض علما نے ان روایات میں تطبیق دینے کی کوشش کی ہے اوروہ یوں کہ جس حدیث میں باپ کے نام سے بلائے جانے کا ذکر ہے ،وہ صحیح النسب آدمی کے بارے میں ہے اور جس میں ماں کے نام سے بلائے جانے کا ذکر ہے، وہ دوسرے آدمی کے بارے میں ہے۔ یا یہ کہ کچھ لوگوں کو ان کے باپ کے نام سے اور کچھ کو ان کی ماں کے نام سے بلایا جائے گا۔

اس جمع یا تطبیق کو مولاناشمس الحق عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے علقمی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے۔(28) بعض نے ایک دوسرے طریقے سے تطبیق دی ہے، وہ یہ کہ خائن کو اس کے باپ کے نام سے اور غیر خائن کو اسکی ماں کے نام سے بلایا جائے گا اور اس تطبیق کو ابن علان نے شیخ زکریا سے نقل کیا ہے۔ 29

بعض نے حدیث ابن عمرؓ کو اس پر محمول کیا ہے کہ یہ اس آدمی کے بارے میں ہے جو ولدالزنا نہ ہو یا لعان (30)سے اس کی نفی نہ کی گئی ہو۔ 31

مگر یہ سب تکلّفات ہیں ، کیونکہ جمع اور تطبیق کی ضرورت اس وقت پیش آتی جب دونوں طرف کی روایات صحیح ہوتیں جبکہ حدیث ِابن عمرؓ کے خلاف جو روایات ہیں ، وہ انتہائی ضعیف قسم کی ہیں ۔ نیز اصل یہ ہے کہ آدمی کو اس کے باپ ہی کے نام سے پکارا جائے ۔ ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
والدعاء بالأباء أشد في التعریف وأبلغ في التمییز وبذلك نطق القرآن والسنة'' 32

باپوں کے نام سے بلانا پہچان میں زیادہ واضح اور تمیز میں زیادہ بلیغ ہے اور قرآن و سنت بھی اسی پر شاہد ہیں ۔''

 


 حوالہ جات

1. بخاری کی شرح ابن بطال والے نسخے میں باب ھل یدعی الناس بآبائهم ہے۔
2. اس حدیث کو امام مسلم نے بھی روایت کیا ہے، ملاحظہ ہو ،حدیث نمبر 1735
3. شرح البخاری لابن بطال (3549) وایضاً فتح الباری (56310)
4. مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: تفسیر قرطبی (6285) تہذیب السنن از ابن قیم (2507) عمدة القاری از علامہ عینی (20122) فتح البیان از نواب صدیق حسن خان (7 427، 428) اور أضواء البیان للشنقیطي (3222)
5. اس حدیث کو امام احمد (1945) ابوداود (4948) ابن حبان (5287، حدیث 5777) اور بغوی نے شرح السنة (32512) میں عبداللہ بن ابی زکریا کی سند سے ابوالدرداء سے روایت کیا ہے۔اس کی سند ضعیف اس لئے ہے کہ ابن ابی زکریا نے ابوالدرداء کا زمانہ نہیں پایا، جیسا کہ امام ابوداود نے سنن ابی داودمیں مذکورہ روایت کے تحت اورحافظ ابن حجر نے 'فتح الباری' (57710) میں کہا ہے۔ اور حافظ منذری نے مختصر السنن (2517) میں کہا ہے کہ ان کا ابوالدرداء سے سماع ثابت نہیں ہے۔اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام نووی کا الأذکار(ص255) میں اس کی سند کو جید کہنا درست نہیں ۔ابن علان نے الفتوحات الربانیة علی الذکار النواویة (1036 ، 104) میں کہا ہے: قال الشیخ زکریا في تحفة القار: وحدیث أبي الدرداء منقطع،وھو لایناف قول المصنف بإسناد جید لجودة إسناد لا تناف نحو انقطاع یعنی ''سند کا جید ہونا انقطاع جیسی علت کے منافی نہیں ۔''
6. ملاحظہ ہو، تہذیب السنن (2507)
7. ملاحظہ ہو معالم التنزیل للبغوي 1005 اور الجامع لأحکام القرآن للقرطبي 6285
8. أضواء البیان في إیضاح القرآن بالقرآن 3222
9. تفسیر الکشاف 3692
10. کتاب الانتصاف فیما تضمنه الکشاف من اعتزال (3692 بھامش الکشاف)
11. ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی از علامہ آلوسی (12115)
12. فتاویٰ میں طباعت کی غلطی سے بأمهاتهم کی بجائے بإمامهم چھپ گیا ہے۔
13. ملاحظہ ہو، تفسیر ابن کثیر (1275) اور ضواء البیان (3222)
14. تفسیر ابن کثیر (1265)
15. اس حدیث کو ابن عدی نے الکامل (3361) میں اور ان سے ابن جوزی نے الموضوعات (2483) میں روایت کیا ہے۔اس حدیث کو علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال (1771) میں ابن عدی کے حوالے سے ذکر کیا ہے اور اس میں بأمهاتهم کی بجائے بسماء أمهاتهم ہے۔
16. اس حدیث کی سند سخت ضعیف ہے، اس میں اسحق بن ابراہیم طبری ہے۔ ابن عدی نے اسے منکر الحدیث کہا ہے اور مذکورہ حدیث کو روایت کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث اس سند سے منکر المتن ہے۔
 ابن جوزی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ، اس کے بارے میں اسحاق متہم ہے۔ اس کے بعد اُنہوں نے اس بارے میں ابن عدی کا مذکورہ کلام اور ابن حبان کا کلام ذکر کیاہے جودرج ذیل ہے : منکر الحدیث جدّا یت عن الثقات الأشیاء الموضوعات لایحل کتابة حدیثه لا علی جهة
گذشتہ حاشیہ :التعجب (المجروحون لابن حبان : 1381) ''بہت زیادہ منکر الحدیث ہے، ثقہ راویوں سے من گھڑت چیزیں بیان کرتا ہے۔ اسکی حدیث کو لکھنا جائز نہیں الا کہ تعجب کے طور پرلکھا جائے۔'' علامہ ذہبی نے اس حدیث کو تلخیص الموضوعات (حدیث 1215) میں ذکر کیا ہے اورکہا ہے کہ اس میں اسحق بن ابراہیم طبری ہے جو متہم ہے۔امام البانی نے اس حدیث کو الضعیفة (حدیث 433) میں ذکر کیا اور موضوع کہا ہے۔
17.  التعقبات علی الموضوعات (ص51)
 18. اس کوطبرانی نے'معجم کبیر' (12211 حدیث 11242) میں روایت کیا ہے اور یہ حدیث سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے، جیساکہ اگلے حاشیے میں تفصیل آرہی ہے۔
 19. کیو نکہ اس کی سند میں اسحق بن بشر ابو حذیفہ بخاری ہے۔ حافظ ہیثمی نے اسے متروک کہا ہے۔( مجمع الزوائد (36210۔ مؤسسة المعارف) اور علامہ ذہبی نے کہا ہے کہ محدثین نے اس کو ترک کردیا تھا اور ابن مدینی نے اس کی تکذیب کی ہے اور دارقطنی سے نقل کیا ہے کہ اُنہوں نے اس کو کذاب متروک کہا ہے۔ (میزان الاعتدال :1841) اور حافظ ابن حبان اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ ثقات کے نام پر احادیث وضع کرتا تھا،مالک جیسے ثقات سے یہ ایسی چیزیں لاتا ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی، ملاحظہ ہو: المجروحون (1351) حافظ ابن حجر نے اس کی سند کو سخت ضعیف کہا ہے، جیسا کہ ان کے عنقریب آنے والے کلام میں ہے اورامام البانی نے اس کو الضعیفة (رقم434) میں موضوع کہا ہے۔
 20. ابن بطال کا یہ قول اس مضمون کے شروع میں گزر چکا ہے۔
 21. ملاحظہ ہو عون المعبود (2838) اور تہذیب السنن (2507)

نوٹ : حاشیہ السنن اور تہذیب السنن ایک ہی چیز ہے، دو مختلف کتابیں نہیں ۔
22. اس کوطبرانی نے'معجم کبیر' (2988حدیث 7979) اور الدعاء (حدیث 1214) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے جیسا کہ عنقریب تفصیل آرہی ہے۔
23. اس کوطبرانی نے سعیدبن عبداللہ اودی کی سند سے ابو امامہ سے روایت کیا ہے۔حافظ ہیثمی نے کہا ہے: ''وفي أسنادہ جماعة لم عرفهم''مجمع الزوائد (453) ''اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن کو میں پہچان نہیں سکا۔'' یعنی ان کو ان کے تراجم نہیں ملے۔جماعت سے شاید ان کی مراد ابوعقیل انس بن سلم، عبداللہ بن محمد قرشی اور سعید بن عبداللہ اودی ہوں کیونکہ محقق کتاب الدعاء نے کہاہے کہ مجھے ان کے تراجم نہیں ملے۔ کتاب الدعاء کی تین جلدوں میں سے پہلی جلد اس کتاب کے رواة کے تراجم پر مشتمل ہے۔ محقق کتاب نے اس جلدمیں 'دعا' کے تمام راویوں کا ذکر کیا ہے اور کتاب الدعاء کی ابتدا دوسری جلد سے ہوتی ہے۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن علاء حمصی ہے جو متہم ہے۔ دارقطنی نے اسے کذاب کہاہے، حاکم اور نقاش نے کہا ہے کہ اس نے من گھڑت روایات بیان کی ہیں ۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھئے تہذیب التہذیب (139)
اس حدیث کی ابوامامہ سے ایک دوسری سند بھی ہے اور وہ جابر بن سعید ازدی کی سند ہے اور اس سند سے اسے قاضی خلعی نے اپنے فوائد میں روایت کیاہے جیساکہ الحادیث الضعیفة (599) میں ہے۔ شیخ البانی نے اس کی سند کے بارے میں کہا ہے کہ یہ سند سخت ضعیف ہے۔ اس کے راویوں میں سے عتبہ بن سکن کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا ہوں ۔ دارقطنی نے اسے متروک الحدیث کہاہے اور بیہقی نے کہا ہے کہ بہت کمزور ہے اور اسے وضع احادیث کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔حافظ ابن حجر نے کہا ہے:''ھذا حدیث غریب وسند الحدیث من الطریقین ضعیف جدا'' (الفتوحات الربانیة لابن علان :1964)
''یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند دونوں ہی طریق سے سخت ضعیف ہے۔''
ابن قیم نے زاد المعاد (5231) میں کہا ہے کہ اس حدیث کامرفوع ہونا صحیح نہیں ، اسی طرح دیگر علما نے بھی اس حدیث کو غیر صحیح قرار دیا ہے اور مذکورہ تفصیل سے معلوم ہو ا کہ یہ حدیث سخت ضعیف ہے۔
24. تہذیب السنن (2507)
25. اس کو ابوداود (3221) اور حاکم (3701) وغیرہ نے روایت کیا ہے ۔اس کی سند حسن درجے کی ہے، حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
26. ملاحظہ ہو الفتوحات الربانیة از ابن علان (1964)
27. اس حدیث کو مسلم ،رقم 916نے ابوسعید خدری اور ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، اسی طرح یہ دیگر صحابہ سے بھی مروی ہے۔
28. ملاحظہ ہو عون المعبود (2838)
29. ملاحظہ ہو الفتوحات الربانیة (1046)
30. لعان کے بارے میں سورة النور کی آیات (6 تا 9) کو دیکھا جائے۔
31. ملاحظہ ہو، الفتوحات الربانیة (1964)

32.  شرح البخاری لابن بطال (3549) وایضاً فتح الباری (56310)


i. قرأتِ شاذّة کی نسبت میں راقم الحروف کاتساہل ہے ۔ جزاہ الله... (حافظ ثناء اللہ مدنی)