اسلام اور انسانی حقوق
آج ہر طرف انسانی حقوق کا چرچا ہے اور حقوقِ انسانی کا موضوع ہر شخص کی زبان کا وِرد، وقت کی آواز اور عالمی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملکی او ربین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد اور قراردادیں پاس ہورہی ہیں،حتیٰ کہ حقوقِ انسانی کانفاذ اس امر کو جانچنے کا معیار سمجھا جانے لگا ہے کہ ایک حکومت کس حد تک عدل و انصاف کے اُصولوں کا التزام، اپنے باشندوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی آزادی کا پاس رکھتی ہے۔ بلکہ حقوقِ انسانی کانفاذ جمہوری نظام کا ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے جس طرح کہ جمہوریت پسندوں کا یہ کہنا ہے کہ جمہوریت سے مراد دراصل انسانی حقوق کی تائید و حمایت ہے۔
آج جب انسان قانونِ الٰہی سے دستبردار ہو چکا ہے اور اپنے خود ساختہ نظام کے سایہٴ عافیت میں پناہ ڈھونڈ رہا ہے تو ہم بغیر کسی تردّد کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح انسان ایک ایسے جامع نظام اور دائمی سہارے سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے جو اس کے حقوق کا حقیقی محافظ اور ترقی کا ضامن تھا اور ایک ایسے قانون سے محروم ہوگیا ہے جسے نہ زمانہ کی گردشیں بوسیدہ کر سکتی ہیں، نہ حالات کی کروٹیں اسے زنگ آلودکرسکتی ہیں بلکہ وہ آج بھی ویسے ہی قابل عمل ہے جیسے ۱۴ سو سال پہلے تھا۔اس دعویٰ کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ انسانی تاریخ کا کوئی بھی قانون اور نظام ان انسانی حقوق کو دوسروں پرنافذ نہ کرسکا لیکن اسلام وہ واحد نظام حیات ہے جس نے سب سے پہلے بڑی صراحت اور وضاحت کے ساتھ ان حقوق کا ذکر کیا، ان کا جامع تصور دیا او رانہیں دوسروں پر نافذ کر کے دکھایا۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک اسلامی حکومت کا قیام رہا، حقوقِ انسانی کانفاذ جاری و ساری رہا اور اسلامی نظام حکومت کے زیر سایہ کسی حق کا دامن بھی پامالی کے داغ سے آلودہ نہیں ہوا۔کسی نے خوب کہا :
حکمنا فکان العدل منا سجيةً     ولما حکمتم سال بالدم أبطح
"ہم نے حکومت کی تو انصاف ہمارے انگ انگ میں بسا ہوا تھا۔ اور جب تمہاری حکومت تھی تو وادیٴ بطحا خون سے بہہ پڑی تھی۔ "
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسانی حقوق کا ایشو ایک میدانِ جنگ کا روپ دھار چکا ہے جہاں اسلام او رمغرب کے درمیان شدید نظریاتی اور فکری جنگ بھڑک اٹھی ہے۔ شاید آتش جنگ کے یہ شعلے اس قدر شدید نہ ہوتے، اگر اہل مغرب ہماری فقہی میراث سے تغافل یا تجاہل کا مظاہرہ نہ کرتے ۔ یا اس کا سبب وہ گمراہ کن خیالات ہیں جو رائے عامہ اور اسلام کے درمیان دیوار حائل کرنے کے لئے مستشرقین کی طرف سے وسیع پیمانے پر پھیلائے گئے۔ یا وہ اس بات کو بھول گئے کہ انہوں نے خود اسلامی تہذیب سے بہت زیادہ استفادہ کیا تھا اور انہوں نے اپنی تہذیب کی بنیاد انہی علوم پر استوار کی تھی جو مسلمانوں سے حاصل کئے تھے اور یہی وہ بنیاد تھی جس نے یورپ کی خاموش علمی فضا میں حرکت پیدا کردی تھی1۔لیکن حیرت ہوتی ہے کہ وہ اُصول جو ہم نے صدیاں ہوئیں، دنیا کے سامنے واضح کئے تھے، آج انہیں اُصولوں کا درس ہمیں دیا جاتا ہے ، گویا یہ نئی انسانی دریافت ہے اورہم آج تک اس سے واقف نہیں تھے۔
ہم اس میراث کے مالک ہیں جس نے دنیا کو وہ سنہری اُصول ، شاندار روایات اور اعلیٰ اقدار بخشیں کہ آج تک کوئی قوم اس کی نظیر پیش نہیں کرسکی اور نہ کرسکتی ہی۔کیا یہ مقامِ حیرت نہیں کہ وہ مغرب جو کبھی انسان اور حیوان کے فرق سے ناآشنا تھا، آج ہمیں جسمانی صفائی اور ہاتھ پاؤں، چہرہ دھونے کی تعلیم دے رہا ہے ۔ اگر آپ ان سے کہیں کہ اس کے لئے تو اسلام نے ہمیں وضو کی تعلیم دی ہے تو احساسِ برتری کا شکار اور خودسری میں مبتلا یہ مغربی آپ سے کہیں گے کہ تم اپنی پسماندگی اورہماری ترقی، اپنی کمتری اورہماری برتری ،اپنی فقیری او رہماری امیری کا اعتراف کیوں نہیں کرلیتے؟
حقیقت یہ ہے کہ جب قرونِ اخیرہ میں مسلمان بدترین سستی و کاہلی کا شکار ہوگئے، مسلمانوں نے غفلت کی چادریں تان لیں تو نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری عظیم علمی میراث جو ہم نے اسلاف سے پائی تھی، یورپ کے لئے مالِ غنیمت بن گئی ۔انہوں نے پہلے توبے دردی سے ہماری میراث کو لوٹا پھر ان غاصبوں نے بدترین بددیانتی کا ارتکاب کرتے ہوئے اس سے ہمارے تمام تر نشانات مٹا کر اپنے نام کا لیبل لگا دیا۔2 اس کے بعد یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ اہل عرب نے دنیا کے لئے خیر کا کوئی کام نہیں کیا اوراسلام اور اس کوماننے والے علمی لحاظ سے تہی دست ہیں۔مسلمانوں نے علمی میدان میں کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ لعنت ہو، ایسے خیانت کار دروغ گو ظالموں پر!
﴿لَعنَةُ اللَّهِ عَلَى الظّـٰلِمينَ ٤٤ الَّذينَ يَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَيَبغونَها عِوَجًا وَهُم بِالءاخِرَ‌ةِ كـٰفِر‌ونَ ٤٥ ﴾... سورة الاعراف "خدا کی لعنت ہوان ظالموں پر جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کے منکر ہیں۔"
(حقوق الانسان بين تعاليم الاسلام وإعلان الأمم المتحدة از شيخ محمد الغزالی 
یعنی انسانی حقوق اسلامی تعلیمات اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تناظرمیں، صفحہ ۶ تا ۱۰ کا خلاصہ)
مغرب کو چاہئے کہ وہ انسانی حقوق کے چارٹر میں دوسری اقوام ... خصوصاً وہ اقوام جو سیاسی، عسکری، اقتصادی اور ثقافتی بحران کا شکار ہیں... کے عقیدہ ،زبان ، تہذیب و ثقافت اوران کی فکر کے مختلف انفرادی اور اجتماعی لوازمات کی آزادی کا بنیادی حق تسلیم کرلے ۔ اس کے بعد جن مختلف میدانوں میں ترقی کی معراج پر وہ خود پہنچ چکا ہے، اسے یہ حق دوسروں کے لئے بھی تسلیم کرلینا چاہئے۔لیکن خود سر مغرب جواپنے آپ کو انسانی حقوق کا محافظ، اجارہ دار اور ٹھیکیدار سمجھتا ہے ،ان قوموں کے حقوق کے حصول کے راستے میں ا س طرح دشواریاں اور مشکلات کھڑی کررہا ہے کہ ان مجبور اقوام کے مناسب اور جائز مقاصد اور حقوق بھی ناقابل حصول ہوکے رہ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ ممالک امریکہ اور یورپی ممالک کے یرغمال اور دست نگر بن کر رہ گئے ہیں، ان کی قسمت کا فیصلہ ان ظالموں کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان اقوام کو معاشی، تعلیمی، علاج معالجہ اورامن وامان کے تمام چھوٹے بڑے حقوق سے محروم کررہے ہیں۔
ان حالات میں مسلمانوں کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ ہوں کہ اسلام نے حقوقِ انسان کا جو تصور پیش کیا ہے ،وہ کونسی خصوصیات کا حامل ہے جو اسے باقی دنیا کے قوانین پر ممتاز کرتی ہیں اور کون سے وہ اُصول اور اَقدار ہیں جن پریہ دستور مشتمل ہے، تاکہ مسلمان یہ جان لیں کہ انسانی حقوق کے موجودہ چارٹر پر نظرثانی کی شدید ضرورت ہے اور اس کے بعد ہی وہ دیگر اقوام کو متنبہ کر سکتے ہیں کہ موجودہ چارٹر نظر ثانی اور تشکیل نو کا شدید متقاضی ہے اورایک ایسا چارٹر دنیا والوں کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے جو ہر لحاظ سے مکمل اور منظم ہو۔
پھر اسلام نے بنیادی انسانی حقوق کا جو جامع دستور دیا ہے، اس کو عالمی سطح پر نافذ کرنے اور دوسروں کو اس دستور کا قائل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ان حقوق کو دنیا کے سامنے واضح کرنے کے بعد خود ان حقوق کو نافذ کرکے دکھائیں۔ یقینا ہمارا یہ عملی اقدام اسلام کو رِجعت پسند اور جنگجو ثابت کرنے والوں کا منہ بند کرنے کے لئے ایک بہترین کوشش ہوگی۔
شریعت ِاسلامیہ میں انسانی حقوق کا کیا تصور ہے؟ یہ موضوع نہایت دلچسپ او رکئی پہلوؤں کا حامل ہے۔لیکن ہم اس موضوع کو صرف دو پہلوؤں پر منحصر کریں گے :
1۔ شریعت اسلامیہ میں انسانی حقوق کی خصوصیات
2۔ وہ انسانی حقوق جن میں شریعت ِاسلامیہ منفرد ہے
(1) اسلام میں انسانی حقوق کی خصوصیات
(1) اسلام میں انسانی حقوق کے تصور کی سب سے بڑی خوبی جو اسے دیگر تصورات سے ممتاز کرتی ہے ، اس اصول پر مبنی ہونا ہے کہ حاکمیت اور اقتدارِ اعلیٰ کا مالک فقط اللہ تعالیٰ ہے۔فرمانِ الٰہی ہے
﴿إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ الحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيرُ‌ الفـٰصِلينَ ٥٧ ﴾... سورة الانعام "حکم تو بس اللہ ہی کے لئے ہے وہی حق کی باتیں بیان کرتا ہے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔"
دوسری جگہ فرمایا : ﴿أَلا لَهُ الحُكمُ وَهُوَ أَسرَ‌عُ الحـٰسِبينَ ٦٢ ﴾... سورة الانعام
"اس بات کو فراموش نہ کرنا کہ حکم اسی (اللہ) کا حکم ہے اور حساب لینے والوں میں اس سے جلد حساب لینے والا کوئی نہیں۔"
پس اسلام کا انسانی حقوق کا دستور کائنات کو الٰہیاتی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کون سی چیز انسان کے لئے نفع رساں ہے اور کون سی ضرر رساں ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنّا هَدَينـٰهُ السَّبيلَ إِمّا شاكِرً‌ا وَإِمّا كَفورً‌ا ٣ ﴾... سورة الانسان
"بے شک ہم نے انسان کی راہنمائی سیدھے راستے کی طرف کردی۔ اب اس کو اختیار ہے کہ شکر گزار رہے یا ناشکرا بن جائے ۔"
(2) اسلام میں انسانی حقو ق کی دوسری نمایاں خوبی ان کا دوام اور استحکام ہے۔ حالاتِ زمانہ کی گردشیں ان پراثر انداز نہیں ہوسکتیں۔ علما نے جو حق کی تعریف کی ہے، اس سے اسلامی انسانی حقوق کی یہ فوقیت اور اَفضیلت کھل کر سامنے آجاتی ہے : «هوالحق الثابت الذی لا يجوز إنکارہ»
"حق سے مراد وہ مسلمہ صداقت و و اقعیت ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا۔"
یہ مسلمان دانشور ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے حقوق وفرائض کی تعریف کی اور ان کا دائرئہ کار متعین کیا۔ (مشروعية الحقوق و آدابها: ص۲۵)
(3 ) اسلام میں انسانی حقوق کی بنیاد 'احسان' پر رکھی گئی ہے ۔ اسلام میں انسانی حقوق ایسے چشمہ صافی سے پھوٹتے ہیں، جہاں ایک بندے کوہر وقت اللہ کا خوف دامن گیر رہتا ہے ۔جہاں ہر وقت ،ہر لمحہ انسان کو یہ خیال رہتا ہے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا خدا اسے دیکھ رہا ہے ۔ظاہر ہے اس مقام پر کھڑا ہوکر انسان حقوق کی پامالی کا تصور بھی نہیں کرسکتا اور اس مقامِ احسان کی تعریف نبی نے یوں بیان فرمائی ہے :
«أن تعبد الله کأنک تراه فإن لم تکن تراه فإنه يراک »(بخاری : حدیث ۵۰)
" تو اس طرح اللہ کی عبادت کر جیسے تو اللہ کو دیکھ رہا ہے ۔ اگرتو اللہ کو نہیں دیکھ سکتا تو کم از کم یہ تصور ضرور ہو کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔"
(4) پھراسلام نے انسانی حقوق کا جو تصور دیا ہے ،اس کے درمیان اور اس دین کی فطرت کے درمیان مکمل یکجہتی، یکسانیت اورہم آہنگی پائی جاتی ہے۔آپ دیکھیں گے کہ اسلام نے حقوق کو یوں ہی مطلق اور بے مہار نہیں چھوڑ دیا بلکہ ان کے اوپر احکامِ شریعت اور مقاصد ِشریعت کا فریم چڑھایا، ان کو آداب، اخلاق اور دین کا پابند بنایا اور پھر ان آداب اور اخلاقیات اور دین کی پامالی کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیا۔ گویا اسلام نے تمام حقوق کو الٰہی بنیادوں پر استوار کیا ہے اوراس بنیاد کو مکمل طور پر فطرتِ ربانیہ یعنی فطرتِ اسلام سے ہم آہنگ اور مربوط کردیا ہے۔ (مشروعية الحقوق وآدابها: صفحہ ۲۵)
(5) پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اسلام میں حقوقِ انسانی کی بنیاد اس اصول پرقائم ہے کہ معاشرہ کی بالادستی فرع اور افراد کی بالا دستی اصل ہے۔ معاشرہ کی بالادستی کواصل اور فرد کی بالادستی کو اس کے تابع قرار دینا اسلام کی رو سے غلط ہے ۔ لیکن دور حاضر کے انسان کا خود ساختہ نظام اسی اصول کا مرہونِ منت ہیں۔ (انسانی حقوق کا بہترین محافظ کون: اللہ یا انسان؟ از محمد سعید رمضان البوطی: صفحہ ۱۲،۱۳)
چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
﴿مِن أَجلِ ذ‌ٰلِكَ كَتَبنا عَلىٰ بَنى إِسر‌ٰ‌ءيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفسًا بِغَيرِ‌ نَفسٍ أَو فَسادٍ فِى الأَر‌ضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ النّاسَ جَميعًا وَمَن أَحياها فَكَأَنَّما أَحيَا النّاسَ جَميعًا...٣٢ ﴾... سورة المائدة
"اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے (تورات) میں لکھ دیا تھا کہ جس شخص نے کسی انسان کوجان کے بدلہ کے علاوہ یا زمین میں فساد برپا کرنے کی غرض سے قتل کیا تو گویا اس نے سب انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو (قتل ناحق )سے بچا لیاتو وہ گویا سب لوگو ں کی حیات کا موجب ہوا"۔
(6) پھر یہ خوبی کیا کم ہے کہ اسلام نے اس وقت یہ حقوق دنیا کو دیئے، جب یورپ تو مکمل اندھیرے میں تھا ہی، ایران و روم جیسی روشن خیال ریاستیں بھی ان حقوق سے ناآشنا تھیں۔ پھر یہ حقوق جو اسلام نے انسان کو عطا کئے، کسی فکری کشمکش، انقلاباتِ زمانہ اور تحریکوں کے دباؤ کے نتیجے میں ظہور پذیر نہیں ہوئے، بلکہ اسلام میں حقوقِ انسانی کے تمام اُصول و احکام چودہ سو سال قبل وحی الٰہی کے چشمہ صافی سے پھوٹے تھے اور اس سے پہلے کوئی انسان بھی ان اصولوں سے آشنا نہیں تھا لیکن تاریخ شاہد ہے کہ فرانس اور برطانیہ میں انسانی حقوق کے شعور نے مختلف تحریکوں اور انقلابات کے بطن سے جنم لیا، وگرنہ یہ لوگ اس سے قبل حقوق انسانی کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھے ۔
اسلام میں انسانی حقوق کی بعض منفرد اور امتیازی خصوصیات
مجموعی لحاظ سے ان حقوق کی بازگشت انسانی حقوق کی ان بے شمار قراردادوں کے ضمن میں سنائی دیتی ہے، جو اسلامی پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کے حوالے سے پاس ہوئیں۔ ا ن میں سرفہرست حقوق مندرجہ ذیل ہیں:
1) اسلام کی رو سے تمام انسان مساوی ہیں۔اگر کسی کو کسی انسان برتری اور کوئی مقام حاصل ہے تو وہ عمل اور عقیدہ کی بنیاد پر ہے۔
2) جنگ کے دوران بے گناہ افراد بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کے تحفظ کا حق اور زخمیوں کی دیکھ بھال کا حق، قیدیوں کے حقوق، مقتولین کے مثلہ کی حرمت ،یہ سب ایسے حقوق ہیں کہ انسانی حقوق کا عالمی چارٹر ان حقوق سے یکسر خالی ہے۔ ہاں بعض بین الاقوامی معاہدوں اور قرار دادوں میں ان کا ذکر ملتا ہے مثلاً جینوا کا معاہدہ ہے۔ اسی طرح اقتصادی، اجتماعی، تمدنی وثقافتی اور سیاسی حقوق کے حوالہ سے منعقد ہونے والی بعض کانفرنسوں میں ان کا ذکر ہے جن کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
3) دورانِ جنگ فصلوں کو تباہ کرنے اور شہری عمارتوں کو گرانے کی ممانعت انسانی حقوق کے تحفظ کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
4) اہل خانہ کے لئے کفالت کا حق۔ یعنی اسلام گھر کے سربراہ پر فرض عائد کرتا ہے کہ وہ افرادِ خانہ کی کفالت کا بندوبست کرے۔
5) ماں کے پیٹ میں پرورش پانیوالے بچے کے حقوق کاتحفظ۔یعنی اگر خاوند اپنی حاملہ بیوی کوطلاق دے دیتا ہے تو اس جنین کی وجہ سے جوماں کے پیٹ میں ہے، خاوند مطلقہ عورت کے نفقہ کا ذمہ دار ہوگا۔
(6) اولاد کے ذریعے والدین کے حقوق کا تحفظ کیا ۔
(7) رشتہ داروں کے باہمی حقوق کا تحفظ۔
(8) اسلام نے تعلیم کو ہر فرد کا لازمی حق قرار دیا تاکہ دینی اور دنیاوی ہر لحاظ سے اس کی تربیت ہو سکے۔ اور پھر اس حق کواس قدر تفصیل اورتاکید کے ساتھ بیان کیا کہ انسانی حقوق کا عالمی چارٹر اس کے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا ۔
(9) خود مختاری اور استعماری زنجیروں سے آزادی کا حق۔عالمی چارٹر میں اس کا ذکر مختلف نوعیت کا ہے
(10) کسی بھی جائز ذریعہ معاش کو اختیار کرنے کا حق اور سود لینے کی مخالفت۔
(11) اچھے کاموں کی طرف دعوت دینے اوربرے کاموں سے روکنے کا حق یعنی آزادی تقریر و تحریر کا حق
(12) فردکے لئے اپنے مقدسات کی توہین پر احتجاج کا حق ۔
حقوقِ انسانی کا نعرہ مغرب کے ہاتھ میں ایک سیاسی ہتھیار ہے!
یہ بات آپ پر مخفی نہیں کہ انسانی حقوق کے حوالے سے دیگر نظریات کے برعکس اسلام اپنی ساری توجہ انسان کے جذباتی شعور کو بیدار کرنے اور جھنجھوڑنے پر مرتکزکرتا ہے کہ وہ اللہ کی واحد ذات پر ایمان لے آئے اور اسی کو اپنا حاکم او رمقتدرِ اعلیٰ مان لے اور اس کے ساتھ یہ با ت بھی ذہن نشین کروا دینا چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس نظامِ حیات میں روئے ارض پربسنے والی ہر مخلوق کو مکمل طور پر ایک منظم اور مربوط شکل میں انسانی مصالح کا تابع او رمطیع بنا دیا ہے۔
اسی طرح انسانی حقوق کے حوالہ سے مغرب اسلام پرجو اعتراضات وارد کرتا ہے، اس سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اصل جھگڑا کیاہے ۔وہ یہ ہے کہ آج مغرب جملہ حقوق کا ٹھیکیدار بن کر اس مسئلے کو ہر اس قوم اور ملک کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے جہاں اس کے سیاسی اور معاشی مفادات خطرے میں ہوں۔ جہاں ایسا نہ ہو تو اس کے نزدیک کہاں کے حقوق اور کہاں کا انسان ؟
اسلام میں انسانی حقوق نہایت واضح اور حقائق پر مبنی ہیں اور انسانی زندگی سے ان کا گہرا تعلق ہے پھریہ حقوق انسانی ضروریات کو اپیل کرتے ہیں،لیکن اس کے برعکس غیر اسلامی قوانین میں حقوق ازم فلسفہ کے رنگ میں رنگا ہوا اورکاغذ کا وہ ٹکڑا ہے جسے کارگاہِ عمل میں پورا کرنا کسی طور ممکن نہیں۔اس لئے آپ دیکھ رہے ہیں کہ مغرب نے انسانی حقوق کے حوالے سے جتنابھی سفر کیا ہے، وہ اس لئے رائیگاں جارہا ہے کہ اس نے انسان کے حقوق واضح تو کردیئے لیکن ان کے پاس وہ قوتِ نافذہ نہیں ہے جس کے ذریعے ان حقوق کو کارگاہِ عمل میں لایا جاسکے۔3
اور یہ واقعہ ہے کہ مغرب کی پوری سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ان انسانی حقوق کو نافذ کرنا تو دور کی بات، مغرب نے کبھی بھی ان مصالح اقدار و روایات اور حدود و قیود کی پابندی نہیں کی جو انسانی حقوق کے نفاذ میں ممدومعاون ہوسکتے تھے۔ اس لئے مغرب نے انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنا بھی سفر کیا ہے، وہ سب رائیگاں ہے۔ مغربی حلقوں کی طرف سے مذہبی فسادات کے خطرہ کو پس پشت رکھ کر سلمان رشدی کی کتاب وسیع پیمانہ پر شائع کرکے جو مسلمانوں کے جذبات کوجو ٹھیس پہنچائی گئی، آخر یہ کیا ہے؟ فلسطین اور کشمیر میں استعمار کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دینا یہ سب کچھ کیا ہے؟ تمہیں علم ہوگاکہ جب ۱۵/ امریکی قیدیوں کو لبنان میں بند کردیا گیا تو مغربی دنیا کس طرح چیخ اٹھی تھی، کیوں؟ اس لئے کہ ان کا تعلق گوروں کی نسل سے تھا۔ دوسری طرف اسرائیل کے عقوبت خانوں میں آج بھی ۱۰ ہزار سے زائد فلسطینی سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں،لیکن خود سری میں مبتلا مغرب اور امن کا نام نہاد محافظ 'امریکہ' خاموشی سے یہ سارا تماشا دیکھ رہا ہے۔کسی نے سچ کہا تھا:
«رَمتْنی بدائها فانسلّتکه» "اپنا عیب دوسروں کے سر تھوپا اور خود کھسک گیا"
امریکہ او راس کے گماشتے خود انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں اور خود ہی اس کے محافظ بنے بیٹھے ہیں آج ساری دنیا یہ طرفہ تماشا دیکھ رہی ہے اور اب مغرب کا دوہرا معیار اور منافقانہ پالیسیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔(حقوق الانسان والسياسة الدولية، ڈیوڈ بی فورسایث:تعریب محمد مصطفی غنیم)
اسلام؛ حقوقِ انسان اور غلامی
آج مغرب اپنی کج فہمی اور کوتاہ بینی کی وجہ سے جس مسئلہ پر اسلام کو سب سے زیادہ مطعون ٹھہرا رہا ہے او راسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے،وہ مسئلہ غلامی ہے ۔ مغرب کا اس مسئلہ کو اچھالنا دراصل اسلامی احکام کی غلط تفہیم کا نتیجہ ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ غلامی کے بارے میں جو نقطہ نظر اسلام نے دیا ہے وہ اس کے کامل و برتر، روشن خیال، بلندظرف ہونے کی بڑی واضح دلیل ہے اور اسلام میں غلامی کا جو تصور اس کا دشمن (مغرب) پیش کررہا ہے، وہ سراسر غلط اوربے بنیاد ہے۔
یہ قرآنِ مجید کا اعجاز ہے کہ ربّ العالمین نے اس میں اسلام کے قانونِ غلامی کونہایت تفصیل اور وضاحت سے بیان کردیا ہے :﴿يَقُصُّ الحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيرُ‌ الفـٰصِلينَ ٥٧ ﴾... سورة الانعام
'وہی (اللہ) حق کو بیان کرتاہے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔"
پھر وہ حقوق کسی مفسر کے استنباط کانتیجہ نہیں بلکہ صریحاً وہ حقوق موجود ہیں جن کا تحفظ مطلوب ہے۔ پھر اسلام کا قانونِ غلامی، عدل و انصاف کا ایسا نمونہ ہے جس میں عدل کی وسعت درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے ۔ اس سے بڑھ کر کیا انصاف ہوگا کہ اسلام جہاں غلام کویہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے آقا کے حقوق پورے کرے، وہاں آقا کوبھی یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے غلام کے حقوق پورے کرے اور اسے خبردار کرتا ہے کہ روزِقیامت تجھے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔
اصولاً اور عملاً اسلام کا قانونِ غلامی وہ واحد قانون ہے جس نے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کا جامع تصور دیا بلکہ وہ شخصی اغراض اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شروع دن سے ان حقوق کا محافظ اور علمبردار بھی ہے اور اس نے غلام اور آقا کے درمیان مساوات ،یکسانیت اور باہمی رحم دلی اور ہمدردی کا ایسا تعلق پیدا کردیا ہے جس سے عظمت ِاسلام کی ایسی دلکش اور خوبصورت تصویر صاف جھلکتی دکھائی دیتی ہے جو دھوکہ ، فراڈ، مبالغہ اور لوگوں کے لئے ملمع ساز ی سے یکسر پاک ہے۔اس کے برعکس مغرب کا انسانی حقوق کا نعرہ سراسر، فراڈ، دھوکہ اور صریح ڈھونگ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو کچلنے کیلئے رچایا گیا ہے
اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیے ان انسانی حقوق کا مطالعہ کرتے ہیں جوفقہاءِ اسلام نے شریعت ِمحمدی کی روشنی میں 'غلاموں' کے بارے میں مدوّن کئے ہیں :
اسلام وہ مذہب ہے جس نے کسی بھی شخص کو محض نسل، وطن، رنگ، زبان اور دین و مذہب کی بنیاد پر غلام بنانا حرام قرار دیا ہے۔جب مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص کے بیٹے نے ایک قبطی کو بلا وجہ مارا تھا تو حضرت عمر نے برسرعام اس کو سزا دی اور ساتھ ہی گورنر کو قہرآلود نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فرمایا:
«متی استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا»4
"تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنانا شروع کیا ہے، جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا"
اسی طرح صحیح بخاری میں ابوہریرة سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«ثلاثة أنا خصمهم يوم القيٰمة وذکرمنهم ورجل باع حرّا فأکل ثمنه» "روزِ قیامت تین شخص ایسے ہوں گے کہ میں ان کے خلاف وکیل بن کر اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گا، ایک ان میں سے وہ شخص ہوگا جس نے کسی آزاد آدمی کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھائی ہوگی۔"
2۔ اسلام غلامی کا سبب صرف کفر کو قرار دیتا ہے کیونکہ جو شخص اللہ کے احکام او رپیغمبر کے فرمان کو تسلیم کرنے سے انکار کررہا ہے، وہ خواہ شکل و صورت کے لحاظ سے پوری کائنات سے حسین کیوں نہ ہو اور حسب و نسب ، جاہ وجلال او رمقام و مرتبہ کے اعتبار سے لوگوں سے معززکیوں نہ ہو،لیکن درحقیقت ایسا شخص انسان کہلوانے کا بھی روادار نہیں ہے کہ اس کے حقوق کا تحفظ کیا جائے بلکہ وہ عظمت ِآدم اور شرفِ انسانیت کی سطح سے گر کر ڈھور ڈنگروں بلکہ ان سے بھی حقیر ترین مخلوق کا فرد بن چکا ہے ۔ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿أُولـٰئِكَ كَالأَنعـٰمِ بَل هُم أَضَلُّ﴾
"یہ لوگ ڈنگر ہیں بلکہ ڈنگروں سے بھی زیادہ بدتر۔"
چونکہ کفر اور شرک اسلام کے نزدیک ظلم عظیم ہے: جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ الشِّر‌كَ لَظُلمٌ عَظيمٌ ١٣ ﴾... سورة لقمان"بے شک شرک البتہ بہت بڑا ظلم ہے"
لہٰذا اس کا مرتکب ظالم اور مجرم ہے : ﴿وَالكـٰفِر‌ونَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ٢٥٤ ﴾... سورة البقرة
"یقینا یہی لوگ ظالم ہیں"
3۔ پھر اسلام ہر کافر کو غلام نہیں بناتا بلکہ صرف اس کافر کو غلامی کا طوق پہناتا ہے جو اسلام کے خلاف صف آرا، مسلمانوں سے برسرپیکار اور دعوة الی اللہ کے راستے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے ،جو دوسروں کو کفر و شرک کے ظلمت کدوں سے نکلنے او راسلام کی تجلیات سے فیض یاب ہونے سے روکتا ہے۔ جو بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالنے اور اللہ کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالنے سے منع کرتا ہے اوراسلام کی تبلیغ کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔ ایسے شخص کو غلام بنانا کسی طور بھی ظلم قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
نیز جب کافر مسلمانوں سے برسرپیکار اور اسلام کے خلاف صف آرا ہوجائے تو تب بھی اسلام ہر کسی کو قطعاً یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ جس کو چاہے پکڑ کر غلام بنالے اور کہے: یہ میرا غلام ہے، بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ، حکیم و خبیر ذات نے اس کے لئے ایک ضابطہ اور قانون بنا دیا ہے کہ کس کافر کو غلام بنایا جا سکتا ہے اور کس کو نہیں ۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص خلیفة المسلمین کی اجازت کے بغیر کسی کافر کو غلام نہیں بنا سکتا،گویا اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کو امیرالمومنین کی صوابدید سے مربوط کرکے اسے ایک قانون او رضابطہ کے تابع کردیا ہے۔فرمانِ الٰہی ہے:
﴿فَإِمّا مَنًّا بَعدُ وَإِمّا فِداءً حَتّىٰ تَضَعَ الحَر‌بُ أَوزارَ‌ها...٤ ﴾... سورة محمد
"پھر اس کے بعد ان پراحسان کرو یا تاوان لے کر چھوڑ دو۔"
4۔ پھر اس پر بس نہیں کیا بلکہ غلاموں کو غلامی کے طوق سے نجات دلانے کے لئے ان کو آزاد کرنے کی ترغیب دی او راس پر بہت بڑے اجروثواب کی نوید سنائی۔ اس کے علاوہ ان کی آزادی کے لئے مختلف دروازے کھول دیئے۔ مثلاً غلام کی آزادی کو کفارہ قرار دیا اور قتل، ظہار اور دیگر متعدد صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کے لئے اس کفارہ کو واجب ٹھہرایا۔
آزادی کی ایک صورت'مکاتبت'کو جائز قرار دے کر غلام کو یہ حق دیا کہ وہ کچھ رقم دے کر اپنے آقا سے معاہدہ کرکے اپنی آزادی کا پروانہ حاصل کرلے اور پھر ایسے غلاموں کو رقم بہم پہنچانے کے لئے انہیں زکوٰة کا مستحق قرار دیا اور قرآن میں فی الرقاب کے جملہ سے فرض زکوٰة میں سے ایک حصہ ان کے لئے مقرر کردیا۔اسی طرح لوگوں کو غلامی کے چنگل سے نکالنے کے لئے ایک اور نظام رائج کیا،جو کتب ِفقہ اسلامی میں'تدبیر'کے نام سے معروف ہے۔ یعنی اگر آقا اپنے غلام سے کہہ دے کہ تو میری وفات کے بعد آزاد ہے تو شرعی لحاظ سے آقا کی وفات کے بعدکوئی شخص اسے غلام بنانے کا مجاز نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح اگر کوئی لونڈی اپنے آقاکے کسی بچے کو جنم دے تو وہ اس کے بعد آزاد تصور ہوگی اور آقا کے لئے اس کو غلام بنانا یا اسے بیچنا حرام ہوگا۔
پھر اسلام نے غلاموں کی آزادی پر اجر ِعظیم کی نوید سنائی۔ حتیٰ کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک باندی سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا آسمان میں۔ پوچھا :میں کون ہوں؟ باندی نے کہا :آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو آپ نے اس کے آقا کو حکم دیا کہ اسے آزاد کردو، یہ موٴمنہ ہے۔ (مسلم:۵۳۷)
البتہ اسلام نے جھوٹ اوراسلام قبول کرنے کے جھوٹے دعوؤں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے غلاموں کے محض اسلام میں داخل ہونے کو آزادی کا سبب قرار نہیں دیا۔
5۔ اسلام آقا پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ غلام کے اخراجات کا بندوبست کرے۔ اگر اسے سواری کی ضرورت ہو تو اسے سواری مہیا کرے۔ پھر اخراجات کی یہ ذمہ داری اس کی محنت کا معاوضہ نہیں بلکہ اسلام اسے غلام کا بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ نیز آقا کے لئے حرام قرار دیا کہ وہ غلام کو ایسے کام کی مشقت دے جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔ آپ نے فرمایا:
«للمملوک طعامه وکسوته ولا يکلف من العمل إلا ما يطيق» (مسلم:۱۶۶۲)
"غلام کو کھلاؤ اور پہناؤ اور اسے وہ کام نہ دو جو اس کی طاقت سے باہر ہو۔"
اسی طرح شریعت نے غلام کو کسی ایسے کام کی مشقت سے دوچار کرنا حرام قرار دیا جو اس کی بیماری کا باعث بن جائے۔ پھر آقا کا یہ فرض قرار دیا کہ وہ غلام کو آرام اور نماز کے لئے وقت فراہم کرے۔ امام جحاوی  اپنی کتاب زاد المستقنع میں فرماتے ہیں:
"آقا کا یہ فرض ہے کہ وہ غلام کو قیلولہ، نیند اور نماز کے لئے وقت دے۔ اس کی اولاد سے ان کے بڑے ہونے تک کسی قسم کا کام نہیں لیا جائے گا، حتیٰ کہ شریعت نے انہیں مالِ غنیمت سے حصہ عطا فرمایا ہے ۔ اسی طرح اگرمالک اپنی وراثت کا کچھ حصہ غلام کے لئے مقرر کردے تو اسلام اسے اس وراثت کا حق دار قرار دیتا ہے۔" فرمانِ لٰہی ہے:
﴿قَد عَلِمنا ما فَرَ‌ضنا عَلَيهِم فى أَزو‌ٰجِهِم وَما مَلَكَت أَيمـٰنُهُم...٥٠ ﴾... سورة الاحزاب
"ہم جانتے ہیں کہ ہم نے موٴمنوں پر ان کی بیویوں اور مقبوضہ کنیزوں کے بارے میں کیا فرض کیا ہے۔"
پھر غلام اپنے آقا کی جو خدمت انجام دیتا ہے اس کے عوض شریعت نے اس سے بعض شرعی احکام ساقط کردیئے ہیں۔ مثال کے طورپر غلام پر جمعہ اور حج اور بعض دیگر احکام فرض نہیں ہیں۔
6۔ اسلام غلاموں کے جسمانی حقوق کے ساتھ معنوی حقوق کے تحفظ کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ لہٰذا ان کی توہین اور تحقیر کرنا اور انہیں مارنا حرام قرار دیا۔امام نووی نے اپنی کتاب 'ریاض الصالحین' کے باب :غلام، جانور، عورت اور بچے کو بغیر کسی عذر کے مارنا اور مار میں حد ِادب سے تجاوز کرنے کی ممانعت کے ضمن میں حضرت ابومسعود بدری کے متعلق ایک حدیث ذکر کی ہے اور امام مسلم نے بھی اس حدیث کو اپنی صحیح میں ذکر کیاہے۔ حضرت ابومسعود بدری بیان کرتے ہیں:
"میں ایک دفعہ اپنے غلام کو کوڑے سے پیٹ رہا تھا تو مجھے پیچھے سے آواز سنائی دی : "اے ابومسعود! ہوش سے کام لو؟" لیکن میں شدتِ غضب سے مغلوب ، آواز کو سمجھ نہ سکا۔ پھر جب آواز قریب ہوئی تو میں نے مڑ کر دیکھا کہ اللہ کے پیغمبر پکار رہے تھے: اے ابومسعود، ہوش کرو! اے ابومسعود،ہوش سے کام لو۔ میں نے سنا او رکوڑا زمین پر پھینک دیا ۔ پھر آپ نے فرمایا :اے ابومسعود! اس بات کو قطعاً فراموش نہ کرناکہ جتنااختیار تجھے اس غلام پرہے ، اللہ کو تجھ پر اس سے زیادہ اختیار ہے، میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آج کے بعد کسی غلام کو ہاتھ تک نہیں لگاؤں گا اور اس غلام کو اللہ کی راہ میں آزاد کرتا ہوں۔ یہ سن کر پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا: اگر تو ایسے نہ کرتا تو آگ کی لپیٹ سے بچ نہ سکتا۔" (مسنداحمد: ۶/۲۹۰)
اسلام نے جس قدر غلاموں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے، ا س کا اندازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وصیت سے لگایا جاسکتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں اپنی اُمت کو الوداع کہتے ہوئے فرمائی تھی، فرمایا:
«الصلوة وما ملکت أيمانکم» "نماز اور غلاموں کا خیال رکھنا" (مسلم، رقم:۱۶۵۹)
یقینا یہ حدیث دشمنانِ اسلام کے تمام اعتراض کا نہایت بلیغ انداز میں ردّ کرتی ہے اور وہ مسلمان جو دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ان کے نظریاتی حملوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لئے پرتول رہے ہیں انہیں ثابت قدمی اور نیا ولولہ عطا کرتی ہے۔ اور وہ مسلمان جو مغربی پروپیگنڈے سے متاثرہوکر یہ کہہ رہے ہیں کہ قانونِ غلامی بتقاضا ضرورت مشروع کیا گیا تھا اور اب یہ منسوخ ہوگیا ہے، ان کے تمام شکوک کو رفع کرتی دیتی ہے۔اسلام کا یہ دستور ہمیشہ باقی رہے گا اور ہمارا یہ یقین ہے کہ جب تک دنیاباقی ہے اور لیل ونہار کی گردش جاری ہے، اس وقت تک اسلام کا یہ قانون غلامی قائم و دائم ہے۔ خواہ کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے: ﴿وَاللَّهُ غالِبٌ عَلىٰ أَمرِ‌هِ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ‌ النّاسِ لا يَعلَمونَ ٢١ ﴾... سورة يوسف
"اور اللہ اپنا حکم نافذ کرنے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے ۔" **
(5) محمد مصطفی ا کے عہد میں غلاموں پر نہایت وحشیانہ مظالم توڑے جاتے تھے اور غلامی کی غلط صورتیں معاشرے میں اس طرح رَچ بس چکی تھیں کہ ان کا ختم کرنا فوری طور پر ممکن نہ تھا۔لہٰذا آپ نے ابتدائی طور پر اس طبقہ مظلوم کو ظلم و ستم سے بچانے کے لئے سخت ہدایات جاری فرمائیں اور ان کو وہ حقوق دیئے جس سے آقا اور غلام کی تمیز بالکل ختم ہوگئی۔
نوٹ
1.  یورپ کا دورِ احیاے علوم مسلمانوں کے علوم وفنون کا ہی شرمندئہ احسان ہے۔ جب مسلمانوں نے مغرب کی سرزمین سپین اور سسلی میں قدم رکھا اور ان علاقوں کوفتح کیا تویہ صرف ایک ملک یا جزیرہ کی فتح نہ تھی بلکہ تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کے ایک نئے اور انقلاب آفریں دور کا آغاز تھا۔ ایسا دور جس نے بقول مشہور فرانسیسی مستشرق پروفیسرمیسی نیون، تہذیبی اعتبار سے یورپ کو بیدار کیا اور مغرب کی ترقی کے لئے نت نئے امکانات پیدا کردیئے ۔عربوں کے علوم کو حاصل کرنے، ان کی مذہب کی حقیقت کو سمجھنے او ران کی علمی سربلندی کا راز دریافت کرنے کا جذبہ اس بات کامحرک ہوا کہ اسلام کا حقیقی مطالعہ کیا جائے۔( مستشرقین کے افکار و نظریات کے مختلف دور از پروفیسر خلیق احمد نظامی) متر جم
2.  جب اسلامی ممالک پر سامراجی طاقتیں قابض ہوگئیں تو انہوں نے ان ملکوں پر اقتدار کے پنجوں کو مضبوط کرنے کے لئے یہ ضروری سمجھا کہ مسلمان کی تاریخ کے پیچ و خم ،ان کے افکار و احساسات کی ایک ایک خلش او ران کے سماجی رجحانات اور دینی شعور کے ایک ایک نشیب و فراز کا پتہ لگایا جائے۔ کیونکہ ان کے دل و دماغ تک پہنچے بغیر قبضہ کو برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔اس مقصد کوبروئے کار لانے کے لئے یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لانے کے بعد ان میں عربی پڑھانے کا بندوبست کیا گیا۔ اور اسلام کے علمی ذخائر کو سمیٹ سمیٹ کر لانے کے منصوبے بنائے گئے۔ آکسفورڈ کے عربی کے پروفیسر ایڈورڈ پوکاک Edward Pocack نے 'حلب' سے عربی مخطوطات کے بیش بہا ذخیرے حاصل کئے اور عربی تصانیف کے خلاصے کرنے شروع کردیئے۔ نپولین نے ۱۷۹۸ء کے بعد مصر کے علمی ذخیروں کو فرانس منتقل کرنا شروع کردیا۔ انگریزوں نے ۱۸۵۷ء کے بعد ہندوستان کے نادر قلمی نسخے لندن پہنچا دیئے۔ انڈونیشیا، ہندوستان، ایران، مصر، شام اور عراق کے کتنے ہی انمول موتی جن کو غیرملکوں میں دیکھ کربقول اقبال 'دل سی پارہ' ہوتا ہے ،یورپین کتب خانوں کی زینت بن گئے۔(مستشرقین کے افکار و نظریات کے مختلف دور ،از پروفیسر خلیق احمد نظامی) مترجم
3.  لہٰذا مشہور ماہر قانون سرہرش لیٹر پاش Sir Hertch Laiter Pathit نے انسانی حقوق کے چارٹر پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حقوقِ انسانی کو قانون بین الملک سے منسلک نہیں کیاجائے گا۔ ان کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں۔اسی طرح انسانی حقوق کے چارٹر کے مشہور مسودّہ نگار Franklin O-Roosevelt نے یہ تسلیم کیا کہ
''حقوق انسانی کا اعلان کوئی معاہدہ نہیں ہے ۔یہ اعلان کسی قانون کی وضاحت نہیں کرتا۔ ۴؍ نومبر ۱۹۶۴ء کو اقوامِ متحدہ کی طرف سے کابل میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی ۔ایجنڈا تھا: ترقی پذیر ممالک میں انسانی حقوق۔ اس کانفرنس میںمتفقہ طور پر یہ قرارداد منظو رکی گئی کہ انسانی حقوق کا بل ان ممالک میںمؤثر نہیںہوسکتاجہاںمعاشی وسائل بہت کم ہوں اور آبادی کا غالب حصہ قوتِ لایموت پر گزارا کررہا ہو۔( اسلامی ہیومن رائٹس کے چند روشن رُخ از ڈاکٹر غزل کاشمیری : محدث، جولائی ۹۶ء)
گویا انسانی حقوق کے نام نہاد خالق خود تسلیم کررہے ہیں کہ ان پرعمل پیرائی مشروط ہے۔ اور کون نہیں جانتا کہ شرو ع دن سے ہی اقوام متحدہ پرمغربی ممالک کی اجارہ داری رہی ہے اور یہ ادارہ مکمل طور پر امریکی اور دیگر مغربی قوتوں کی لونڈی بن چکا ہے۔ انہوں نے کبھی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں کی اگر کی ہے تو اپنے مفادات اور ترجیحات کو مدنظر رکھ کر۔ امریکہ اس سلسلہ میںاس قدر آگے نکل چکا ہے کہ ۱۹۵۳ء میں خود اس کے اپنے سیکرٹری آف سٹیٹ جان فوسٹرڈلس John Foster Dulles کو کہنا پڑا :
''آئزن ہاور کی انتظامیہ نہ تو معاہدات کی سختی سے پابندی کرتی ہے اور نہ ہی دنیا میں انسانی آزادی کوحاصل کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اور مؤثر قدم اٹھا رہی ہے۔'' مترجم
4.  یہ وہ فصیح و بلیغ جملہ تھا جو آج سے چودہ سو سال قبل امیرالمومنین حضرت عمر بن الخطابؓ کی زبان سے ادا ہوا تھا۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے اپنے مزاج و نفسیات پر مغرب کو مکمل طورپر سوار کرلیا ہے۔ ہمارا جدت پسند طبقہ ان کے فیشن کی نقالی اور خیالات کی جگالی میں فخر محسوس کرتا نظر آتا ہے۔ حدیہ کہ محاورات اور اصلاحات تک کے لئے ہم مغرب کے کاسہ لیس بن گئے ہیں ۔اس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور فرانسیسی مفکر روسو نے اپنی کتاب سوشل کنٹریکٹ میں ایک جملہ لکھا تھا کہ'' انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن وہ ہرجگہ زنجیروں میںجکڑا ہوا ہے۔ ''
بس پھر کیا تھا کہ ہمارے روشن خیال اور جدت پسند طبقہ نے اسے الہامی کلام سمجھ لیا ۔ ۔ ہم نے اسے اپنی تحریروں کا عنوان بنایا۔ تقریروں کا موضوع بنایا اور کئی تنظیموں نے اسے اپنا ماٹو قرار دیا۔ہمارے روشن خیال مفکرین کی ذہنی مرعوبیت کی انتہا دیکھئے کہ یہ جملہ ۱۷۵۰ میں روسو کی قلم سے نکلا تھا لیکن کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ روسو کی یہ بات نرالی اور انوکھی نہیں بلکہ اسلام ہی کا چربہ ہے اس لئے کہ اس سے کہیں زیادہ فصیح و بلیغ اور پراثر جملہ روسو سے تقریبا گیارہ سو سال قبل ۶۱۴ء کے لگ بھگ امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ کی زبانِ مبارک سے آشنا ہوچکا ہے۔ (مترجم)