اسلام سیاسی، مذہبی، ملکی، تاریخی ہر قسم کی جملہ خوبیوں کا حامل دینہے۔ اس میں جہاں تہذیب اور تزکیہٴ نفس کی تعلیم دی گئی ہے، وہاں گذشتہ اَقوام و ملل کے حالات و واقعات بھی بتلائے گئے ہیں۔ جس طرح قرآن و حدیث میں اَمثال و عبر اور بصائر و حکم ذکر کئے گئے ہیں، اسی طرح اُمم سابقہ کے اَخبار وقصص بھی جا بجا بیان کئے گئے ہیں۔ اوریہی وجہ ہے کہ اسلام میں مذہبی اَسفار و کتب کے علاوہ تواریخ وسیر میں بھی بے شمار کتابیں علماءِ اسلام کی لکھی ہوئی موجود ہیں۔ کیونکہ مذہبی حیثیت سے انہیں ان جملہ علوم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جس طرح ا ن کے پاس مذہبی اَحکام و مسائل کا ایک نہایت اہم او رجامع مجموعہ ہے، اسی طرح تاریخی معلومات کا بھی اہم ذخیرہ ان کے پاس موجود ہے۔
چنانچہ وہ مغربی اَقوام جنہیں آج اپنے علم و فضل اور تاریخ دانی پر بڑا ناز ہے، انہوں نے صاف لفظوں میں اس امرکا اعتراف کیا ہے کہ اہل اسلام نے اپنے مذہب کے ماتحت اس فن میں جو کمال دکھایا ہے اور اپنے بزرگوں کی تاریخ کاجس قدر عظیم الشان ذخیرہ جمع کیاہے وہ تمام دنیا کیلئے قابل حیرانگی ہے۔
ائمہ اسلام کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے کہ ان بزرگوں نے نہ صرف قرآن و حدیث کے جمع وتدوین اور اس کی تالیف و تصنیف تک اپنی مساعی جمیلہ کو پھیلایابلکہ تین سو برس تک کے ہزاروں لاکھوں امامانِ دین اور حاملانِ شریعت کے ہر ہر واقعہ کو قلمبند کردیا۔ اور ولادت سے وفات تک ان کے واقعات کو مع تاریخ و سال کتابی صورت میں جمع کر دیا۔
جس قوم کا مذہبی اور تاریخی معیار اس قدر بلند اور ہمہ گیر ہو کہ اس نے اپنی جماعت کے حالات وواقعات کے جمع و ترتیب میں اس قدر سعی بلیغ کی ہو اور تفتیش و تحقیق میں کسی قسم کا تغافل نہ برتا ہو، کیا اس کے لئے یہ ممکن ہے کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ جیسی مقدس اور محترم ہستی کی نسبت اس قسم کا تغافل برتیکہ بجائے ۱۶ برس کے آپ  کے نکاح کی عمر کو ۶برس اور آپ کی رخصتی کی عمر کو ۱۹/ برس کے بجائے صرف ۹ برس لکھ دے۔ اور پھر چودہ صدیوں کے تمام مسلمان ایک خلافِ واقعہ امر کو آنکھ بند کئے مانتے چلے آئے ہوں۔ اور اسی طرح اس چودھویں صدی میں اس کا انکشاف ہواکہ آپ کے نکاح کی صحیح تاریخ ۱۶/ برس اور رخصتی ۱۹/ برس ہے۔
گویا آج تک کے تمام علماءِ اسلام ،کیا فقیہ ،کیا محدث ،کیا مفسر اورکیا موٴرخ سب کے سب اس واقعہ کے متعلق دس برس کی نہایت زبردست اور فاش غلطی کے جرم کا ارتکاب کرتے آئے۔( معاذ اللہ) کیونکہ سلف سے خلف تک کسی نے بھی یہ بات نہیں کہی کہ امّ الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ  کی عمر بوقت نکاح ۱۶/ برس اور بوقت ِرخصتی ۱۹/ برس کی تھی۔ بلکہ سب کے سب اس امر پر متفق ہیں کہ جناب عائشہ کا نکاح چھ یا سات برس کی عمر میں ہوا تھا اور آپ کی رخصتی ۹ برس کی عمر میں عمل میں آئی تھی۔
آپ کی تاریخ اَزدواج کے متعلق کتب ِاسلامیہ کا متفقہ بیان
چونکہ آپ کے واقعہ نکاح کو مذہب، اَخلاق، معاشرت ہرایک سے یکساں تعلق تھا، اس لئے علماءِ حدیث، فقہ، اوراصحابِ سیرت ہر ایک نے آپ کے واقعہ نکاح کو لیا ہے اور سب نے یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ  کی عمر بوقت ِنکاح چھ یا سات برس کی تھی اور بوقت ِرخصتی ۹ برس ۔ چنانچہ صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، ابوداود اور نسائی ان چاروں کتابوں کی متفقہ روایت یہ ہے :
«عن عائشة قالت تزوجنی رسول اللهﷺ وأنا بنت ست سنين فقدمنا المدينة فنزلنا فی بني الحارث بن خزرج فوعکت فتمزق شعري فوفی جميمة فاتتنی أمی أمّ رومان وإنی لفی أرجوحة ومعی صواحب لی فصرختْ بی فأتيتها لا أدری ما تريد بی فأخذت بيدي حتی أوقفتنی علی باب الدار وإنی لأنهج حتی سکن نفسی ثم أخذت شيئا من ماء فمسحت وجهي ورأسی ثم أدخلتنی الدار فاذا نسوة من الأنصار في البيت فقلن علی الخير والبرکة وعلی خير طائر فأسلمتنی إليهن فأصلحن من شأنی فلم يرعنی إلارسول اللهﷺ ضحی فأسلمننی إليه وأنا يومئذ بنت تسع سنين» (صحیح بخاری : حدیث نمبر ۳۸۹۴)
"حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا، اس وقت میری عمر چھ برس کی تھی۔ اس کے بعد ہم لوگ (ہجرت کرکے) مدینہ گئے اور وہاں قبیلہ بنی حارث میں قیام ہوا۔ ا س کے بعد مجھے ایسا بخار آیا کہ سر کے تمام بال جھڑ گئے، پھر (از سر نو نکل کر) کندھوں تک ابھی پہنچے تھے کہ میری ماں (اُمّ رومان) میرے پاس آئیں اور میں اس وقت لڑکیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھی۔ میں ماں کے پاس چلی گئی۔ مجھے کچھ خبر نہیں کہ آج کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر دروازہ پر (تھوڑی دیر) رکے رہیں۔ میری سانس (کھیل کی وجہ سے) چڑھ رہی تھی۔ جب سکون ہوا تو ماں نے پانی لے کر میرا منہ اور سر دھویا۔ پھر مکان میں لے کر گئیں۔( گھر میں پہنچ کر دیکھتی ہوں کہ )اَنصار کی عورتیں وہاں موجود ہیں، وہ مجھے دعاءِ خیر اور مبارک باد دینے لگیں۔ ماں نے مجھے ان عورتوں کے حوالہ کیا، انہوں نے میرا بناؤ سنگھار کیا۔ اب تک مجھے کچھ خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا۔ اور پھر مجھے ان عورتوں نے آپ کے سپرد کردیا۔ اور اس وقت میری عمر کل ۹ برس کی تھی۔"
ابوداود، نسائی، صحیح مسلم اور صحیح بخاری کی یہ متفقہ روایت ہے اور لطف یہ ہے کہ اس واقعہ کی راوی بھی خود حضرت عائشہ  ہی ہیں اور آپ خود اپنا واقعہ اپنی زبان سے فرما رہی ہیں۔ اور نہایت صراحت کے ساتھ بتلا رہی ہیں کہ مکہ مکرمہ میں چھ برس کی عمر میں میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہوا۔ اور مدینہ منورہ میں ۹ برس کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔ کیا ایسی پختہ اور معتبر روایت مل جانے کے بعد بھی کسی اور طرف نظر کرنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ کیونکہ یہ حدیث نہ صرف سنن کی ہے بلکہ صحیحین کی بھی ہے جس میں صحیح بخاری بھی شامل ہے۔ اور صحیح بخاری کی صحت اور اعتبار کا جو درجہ اسلام میں تسلیم کیا گیاہے کسی سے مخفی نہیں کہ"روئے زمین پر قرآن شریف کے بعد سب سے زیادہ معتبر کتاب صحیح بخاری ہے۔"
تمام فقہاءِ امت بھی نکاح کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اسی عمر کے قائل ہیں۔ اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کتنے مسائل کی کتب ِفقہ میں 'تفریع' کی گئی ہے۔ کتاب الاستیعاب فی معرفة الأصحاب جو صحابہ کے حالات میں نہایت جامع، مبسوط اور معتبر کتاب ہے، اس میں بھی آپ کی عمر یہی مذکور ہے ۔ چنانچہ آپ کے ترجمہ میں اس کتاب کی عبارت یہ ہے :
«عائشة بنت أبی بکر الصديق زوج النبیﷺ تزوجها رسول اللهﷺ بمکة قبل الهجرة بسنتين هذا قول أبی عبيدة وقال غيره بثلاث سنين وهي بنت ست سنين وقيل سبع سنين وابتنی بها بالمدينة وهي ابنة تسع لاأعلمهم اختلفوا فی ذلک» (استيعاب ص۳۵۶ علی هامش الإصابة)
"حضرت عائشہ  : (آپ) حضرت ابوبکر  کی بیٹی ہیں۔ آپ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں ہواتھا۔ ابوعبیدہ کا بیان ہے کہ ہجرت کے دو سال قبل یہ نکاح ہوا تھا اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ تین سال قبل ہوا تھا۔ اس وقت آپ کی عمر چھ برس کی تھی اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سات برس کی تھی۔ اور جس وقت آپ کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر رخصتی ہوئی ہے، اس وقت آپ کی عمر کل نو برس کی تھی۔ مجھے اس بارے میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں۔"
یعنی آپ کے نکاح کی عمر میں تو ذرا سا اختلاف ہے کہ کسی نے چھ، کسی نے سات برس کی عمر بتلائی ہے مگر رخصتی کی عمر سب کے نزدیک ۹ برس مسلم ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ اب رہا یہ چھ سات کا اختلاف تو اہل نظر کے نزدیک کچھ اہم نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر اپنی کتاب 'اصابہ' میں لکھتے ہیں:
«عائشة  بنت أبی بکر الصديق ولدت بعد المبعث بأربع سنين أو خمس فقد ثبت فی الصحيح أن النبیﷺ تزوجها وهي بنت ست وقيل سبع و يجمع بأنها کانت أکملت السادسة ودخلت فی السابعة ودخل بها وهي بنت تسع» (۴/۳۵۶)
"عائشہ... حضرت ابوبکر کی لڑکی ہیں۔ نبوت کے چوتھے یا پانچویں سال آپ کی ولادت ہوئی ہے کیونکہ صحیح حدیث سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ساتھ نکاح کیا تھا تو اس وقت آ پ کی عمر چھ برس یا بقول بعض سات برس کی تھی۔ اور ان دونوں اَقوال میں کچھ اختلاف نہیں۔اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ چھ برس کی عمر پوری کرکے ساتویں برس میں داخل ہوچکی تھیں۔ اور آپ کی رخصتی ہوئی جبکہ آپ کی عمر ۹ برس کی تھی۔"
یعنی یہ اختلاف کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ آپ چھ برس کی ہوچکیں تو ساتویں سال میں پہنچ گئیں۔ لہٰذا جس نے چھ سال کہا، اس نے کامل سال مراد لیا اور جس نے سات سال بتلایا، اس نے اس نئے سال کو بھی داخل کرلیا۔ الغرض آپ کی نکاح کی یہ عمر بالکل صحیح اور یقینی ہے۔ اور ان کتب مذکورہ کے علاوہ بھی جتنی کتابیں حدیث و سیر کی ہیں، سب میں آپ کی عمر یہی مذکور ہے کہ بوقت ِنکاح چھ برس اور بوقت ِرخصتی نو برس تھی۔
موجودہ صدی کی نئی تحقیق کی واضح غلطی
اس اہم اور مشہور واقعہ پراسلام کی تیرہ صدیاں گذر چکیں مگر کسی نے اس واقعہ کی تاریخ کو غلط ثابت کرنے کی ہمت نہیں کی۔ کیونکہ اسلام کے جملہ دوادین و کتب میں کہیں ایک حرف بھی اس کے خلاف نہیں ہے۔ کتب ِاسلامیہ اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت عائشہ  کی نکاح کی عمر چھ برس اور رخصتی کی عمر نو برس ہے مگر آج کے بعض تجدد پسند اصحاب نے، مشکوٰة شریف کے اخیر میں جو ایک رسالہ امام خطیب کا لگا ہوا ہے، اس کی ایک عبارت دیکھ کر فوراً یہ لکھ دیا اور اخباروں کے ذریعہ تمام ملک میں اس کی اشاعت بھی کردی کہ حضرت عائشہ  کی عمر بوقت نکاح ۱۶/ برس اور بوقت ِرخصتی ۱۹/ برس تھی۔
امام خطیب (موٴلفِ مشکوٰة ) کی جس عبارت سے یہ اخذ کیا گیا ہے ، وہ حضرت اسماء جو حضرت عائشہ کی بڑی بہن تھیں، کا ترجمہ (حالات ِزندگی) ہے ۔ اس کی اصل عبارت یوں ہونی چاہئے :
«هي أکبر من أختها عائشة بعشرين سنين وماتت وله مائة سنة وذلک سنة ثلاث وسبعين» (الاکمال :ص ۳ ملحقہ مشکوٰةشریف) "اسماءبنت ابی بکر... اپنی بہن حضرت عائشہ  سے بیس برس بڑی تھیں، ۷۳ ہجری میں ایک سو برس کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔"
امام خطیب کی اصل عبارت تو یوں تھی جو ہم نے درج کی لیکن اللہ کاتب پررحم کرے کہ اس نے عشرین کی جگہ عشر لکھ دیا جس سے ۱۰ عدد کا فرق پڑ گیا۔ یعنی بیس کی بجائے دس ہوگیا۔ اب اس عبارت کا ترجمہ یہ ہوگیا کہ حضرت اسماء حضرت عائشہ  سے صرف دس برس بڑی تھیں۔
اور اس صورت میں حضرت عائشہ جو اپنی بہن اسماء  سے بیس برس چھوٹی تھیں، عمرمیں صرف دس برس کم رہ گئیں۔ اور یہاں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت اسماء ایک ہجری میں ۲۷ برس کی تھیں۔ کیونکہ ۷۳ ہجری میں آ پ کی عمر سو برس کی ٹھہری تو ایک ہجری میں ۲۷ برس یقینی امر ہے۔ اسی غلطی پر بنیاد بناتے ہوئے جب حضرت عائشہ کی عمر ایک ہجری میں نکالی جائے تو دس برس چھوٹی ہونے کی وجہ سے ۱۷ برس بنتی ہے ۔اگر عمر کا فرق ۲۰ برس کا ہو تو ایک ہجری میں حضرت عائشہ کی عمر ۷ برس بنی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے ہمارے واقعہ نگار کو غلطی لگی۔
لیکن ہمارے عجلت پسند بزرگ اسی رسالہ کا وہ مقام دیکھ لیتے جو خاص حضرت عائشہ  ہی کے ترجمہ کے ساتھ مخصوص ہے تو ہرگز اس فاش غلطی کا ارتکاب نہ کرتے۔چنانچہ یہی امام خطیب اسی رسالہ میں حضرت عائشہ  کے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ
«عائشة الصديقة أم الموٴمنين: عائشة بنت أبی بکر الصديق خطبها النبیﷺ وتزوجها بمکة في شوال سنة عشر من النبوة قبل الهجرة بثلاث سنين وأعرس بها بالمدينة فی شوال سنة اثنتين من الجهرة علی رأس ثماني عشر شهراً ولها تسع سنين وقيل دخل بها بالمدينة بعد سبعة أشهر من مقدمه وبقيت معه تسع سنين ومات عنها ولها ثماني عشرة سنة» (الاکمال :ص۲۸)
"عائشہ صدیقہ اُمّ المومنین: یہ عائشہ  حضرت ابوبکر کی لڑکی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نکاح کا پیغام دیا اور آپ سے مکہ میں شوال کے مہینہ میں نکاح کیا۔ (یہ واقعہ) ۱۰/ نبوت میں ہوا یعنی ہجرت سے تین برس پہلے اور آپ نے ان کو ۱۸/ مہینہ گذرنے کے بعد ۲ ہجری میں اپنی دلہن بنایا جس وقت آپ کی عمر کل ۹ برس کی تھی اور بعض کا بیان ہے کہ یہ خلوت مدینہ میں تشریف آوری کے صرف سات ماہ بعد واقع ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کا قیام بھی (مکہ کے قیام کی طرح) صرف ۹ ہی برس رہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی کل عمر صرف اٹھارہ برس کی تھی۔"
اس صاف و صریح بیان کے بعد کہ ۶ برس کی عمر میں نکاح ہوا اور ۹ برس کی عمر میں رخصتی ہوئی اور ۱۸ برس کی عمر میں بیوگی کا صدمہ اٹھایا، کیا کوئی منصف اور عقل مند شخص اس کے بعد اس امر کے یقین کرنے میں تامل کرسکتا ہے کہ حضرت اسماء  کے ترجمہ میں عشرین کی بجائے عشر کا لفظ،محض کتابت کی غلطی ہے۔ ہمیں سخت تعجب ہے کہ لائق مضمون نگار نے اس اصل مضمون سے کیونکر غفلت کی اور ایک غلط عبارت کے ذریعہ تمام دنیا کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی۔ اگر واقعتہً یہ مقام آپ کی نظر سے نہیں گزرا تو یہ ایک اہل علم کے لئے یہ ناقابل معافیجرم ہے۔کیونکہ یہ مضمون اسی رسالہ میں ہے جس میں سے آپ مضمون لکھ رہے ہیں اوریہی مقام آپ کے ماخذ کا اصل سرچشمہ ہے۔ اور اگر دیدہ دانستہ اس بددیانتی کا ارتکاب کیا گیا ہے تو ہمارے خیال میں اس سے بڑھ کر ظلم و خیانت کی شاید کوئی اور مثال نہیں ملے گی۔ اب رہا کتابت میں اس قسم کی غلطیوں کا ہوجانا یہ تو روز مرہ کی بات ہے۔ اہل نظر کے لئے ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، اکائی دہائی کی آئے دن غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ مگر قرائن بھی تو کوئی چیز ہیں خصوصاً اس حالت میں کہ اسی واقعہ کو دوسری جگہ بالکل صاف اور واضح کردیا گیا ہو اور جملہ دوادین و کتب بھی اس کی تصدیق کرتی ہوں۔
اس موقع پر ہمیں اپنے ان محترم معاصرین سے بھی شکایت ہے جنہوں نے اس صحیح مسلک کی تائید کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ امام خطیب سے اس جگہ غلطی ہوگئی ہے یا یہ کہا گیا کہ یہ رسالہ کوئی ایسا اہم رسالہ نہیں ہے۔ کیونکہ جب تک کسی کی غلطی یقینی طور پر معلوم نہ ہو، تب تک اس قسم کا لفظ بولنا بالکل غیر موزوں ہے بالخصوص امام خطیب جیسے بلند پایہ شخص کی طرف جو اس میدان کا اعلیٰ شہسوار ہے۔
حضرت عائشہ کے نکاح پر عقلی اعتراضات
اہل اسلام میں جب تک وسعت ِعلم اور دقت ِنظر کا عنصرغالب رہا، کسی فرد نے اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس عمر میں شادی کو غیر معقول خیال نہیں کیا۔ مگر آج جبکہ ہر طرف کفر والحاد کا غلبہ ہے اور تجددو نیچریت کا دور دورہ ہے، اس نکاح پر عقلی اعتراضات وارد کئے جارہے ہیں۔ اس موقع پر جو سوالات آج کل عموماً اٹھائے جاتے ہیں ، وہ درج ذیل ہیں:
1۔ حضرت عائشہ  جیسی کمسن لڑکی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟
2۔ آیا اس عمر کی لڑکی دلہن بننے اور ازدواجی ضرورت کے رفع کرنے کی اہلیت رکھتی ہے یا نہیں؟
3۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس سے زیادہ عمر کی لڑکی نہیں مل سکتی تھی کہ اس کمسن بچی کے ساتھ عقد کیا؟
یہی وہ شکوک و اوہام ہیں جو بطریق سوال پیش کئے جارہے ہیں۔ اس لئے ضرورت ہے کہ اس موقعہ پر ان کا جواب بھی دے دیا جائے۔
پہلا سوال اور اس کا جواب
یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی بعثت تمام دنیا کے واسطے تھی اور ہے۔ اور دین اسلام کی تکمیل آپ ہی کے ہاتھوں ہونے والی تھی اور ہوئی۔ ایسی صورت میں یہ ضروری تھا کہ طبقہ اناث کو احکام ومسائل بتلانے کے لئے آپ کے عقد میں جہاں کئی ایک عمر رسیدہ خواتین ہوں، وہاں ایک کمسن خاتون بھی ضرور ہونی چاہئے تاکہ وہ کمسن اور کنواری بچیاں جو فرطِ حیا سے ماں برابر جیسی عورتوں سے اپنے مخصوص مسائل پوچھنے میں حیا محسوس کریں،وہ خاص آپ سے مل کر اپنے حالات کا اظہار کرکے اپنی تشفی کرسکیں۔ اور اس کے لئے صرف حرم نبوی میں داخل ہونا ہی ضروری نہ تھا بلکہ اس کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی قابلیت کا پایا جانا بھی ضروری تھا جو احکام و مسائل کے سمجھنے میں کافی مدد دے سکے۔
حالات و واقعات اس امر پر شاہد ِعدل ہیں کہ اس مخصوص انداز میں جو حضرت عائشہ کو قدرتی طور پر فضیلت حاصل تھی، وہ ازواجِ مطہرات میں سے کسی اور کو باوجود زیادتی ٴسن کے حاصل نہ تھی۔ اوریہی وجہ ہے کہ جس قدر احکام و مسائل حضرت عائشہ سے منقول ہیں، کسی اور بیوی سے اس کا عشرعشیر بھی نہیں پایا جاتا۔ اسی لئے تمام دنیائے اسلام بھی آپ کے فضل و کمال کی معترف ہے۔ 'الاستیعاب 'میں عطار بن ریاح جیسے جلیل القدر بزرگ سے مروی ہے کہ
«کانت عائشة أفقه الناس وأعلم الناس وأحسن الناس رأيا فی العامة» (استیعاب علی الاصابة: جلد۴/ ص۲۵۸ ) "حضرت عائشہ تمام لوگوں میں زیادہ سمجھدار اور سب سے زیادہ علم والی اور عام طور پر نہایت پختہ رائے رکھنے والی تھیں۔"
اسی کتاب میں امام ابوالضحیٰ سے مروی ہے کہ حضرت مسروق فرماتے تھے کہ
«رأيت مشيخة من أصحاب رسول اللهﷺ الأکابر يسئلونها عن الفرائض»
"میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے جلیل القدر اصحاب کو دیکھا کہ وہ حضرت عائشہ سے فرائض کے مسائل دریافت کیا کرتے تھے"
ہشام بن عروہ کا بیان ہے کہ میرے والد مکرم فرمایا کرتے تھے
«ما رأيت أحدا أعلم بفقه ولا بطب ولا بشعر من عائشة رضی الله عنها»
"میں نے کسی کو حضرت عائشہ  سے زیادہ عالم نہیں پایا۔ فقہ، طب، شعر ان میں سے کسی ایک میں بھی کوئی ان کا ہم پلہ عالم نہ تھا۔"
امام زہری جوصحابہ کرام کے حالات سے بہترین واقفیت رکھنے والے اور علم حدیث اور فقہ کے مسلمہ امام ہیں، ان کا بیان ہے کہ
«لو جمع علم عائشة إلی علم جميع أزواج النبیﷺ وعلم جميع النساء لکان علم عائشة أفضل»
"اگر حضرت عائشہ کا علم ایک پلہ میں رکھا جائے اور تمام ازواجِ مطہرات اور دیگر تمام عورتوں کا دوسرے پلہ میں اور یہ تمام علم سے آراستہ ہو کر آئیں تو پھر بھی حضرت عائشہ ہی کے علم کا پلہ بھاری رہے گا۔"
ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ  سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے
«ما أشکل علينا أمر فسألنا عنه عائشة إلا وجدنا عندها فيه علما»
"مشکل سے مشکل مسئلہ بھی حضرت عائشہ  سے دریافت کیا جاتا تو اس کے متعلق بھی علم کا خزانہ ان کے پاس موجود نظر آتا تھا۔"
یہ تمام حالات کتاب'الاستیعاب' اور'الاصابه' سے لئے گئے ہیں جو اس فن کی اعلیٰ درجہ کی معتبر کتابیں شمار ہوتی ہیں۔ان واقعات و حالات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ حضرت عائشہ کو قدرت کی طرف سے ایسی مافوق العادت استعداد و قابلیت ودیعت کی گئی تھی کہ عرب کیا ساری دنیا کی عورتوں میں اب تک اس کی نظیر نہیں پائی گئی۔ حتیٰ کہ وہ ازواجِ مطہرات جو آپ سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت سے مستفیض ہو رہی تھیں اور ان میں سے اکثر کا تعلق اعیانِ قریش اور صنادید عرب ہی سے تھا، ان میں سے ہر ایک نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بھی آپ سے کہیں زیادہ پائی تھی مگر پھر بھی جو فضل و کمال اس کمسن اور خورد سال میں پایا گیا، وہ کسی اور معمر، عمررسیدہ میں نظر نہ آیا۔ ایسی صورت میں جبکہ قدرت نے پہلے ہی سے آپ کو فضل و کمال کے بے انتہا محاسن عطا کر رکھے تھا اورنکاح کے بعد آپ کی ذات ِ گرامی سے وہ علم و فضل کے چشمے جاری ہوئے کہ اس وقت سے لے کر آج تک کے تمام اہل اسلام اس کے بغیر تشنہ کام نظر آرہے ہیں، کیا کسی کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ آپ نے تمام عرب میں سے اسی کمسن اور خورد سال بچی کو کیوں منتخب فرمایا!!؟
امرواقعہ بھی یہ ہے کہ جس قدرت کی طرف سے آپ کے اندر فضل وکمال کے یہ جواہرات ودیعت کئے گئے تھے اور دنیا کی ہدایت کے لئے آپ کی ذاتِ گرامی کو منتخب کیا گیاتھا، اسی کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسم ازدواجی کے پورا کرنے کا اشارہ بھی فرما دیا گیا تھا۔ چنانچہ حافظ ابن عبدالبر 'الاستیعاب' میں لکھتے ہیں کہ
«کان رسول اللهﷺ قدرأی عائشة فی المنام فی سرقة من حرير فتوفيت خديجة فقال إن يکن هذا من عند الله يمضه فتزوجها بعد موت خديجة»
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ  کو ریشم کے کپڑے میں خواب میں دیکھا۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ کا انتقال ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ خواب خدا کی طرف سے ہے تو وہ اس کو سچا کر دکھائے گا (چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ) حضرت خدیجہ کے بعد آپ نے حضرت عائشہ سے نکاح کیا"
'الاصابہ' میں حافظ ابن حجر اس خواب کا ذکر خود حضرت عائشہ  ہی کی زبان سے نقل کرتے ہیں کہ آپ کہا کرتی تھیں:
«أعطيت خلالا ما أعطيتها امرأة: ملکنی رسول اللهﷺ وأنا بنت سبع وأتاه الملک بصورتی فی کفه لينظر إليهاو بنی بی لتسع" ... الخ»
"مجھے بعض ایسی فضیلتیں عطا کی گئیں کہ وہ کسی اور بی بی کو نصیب نہ ہوئیں: (ایک) یہ کہ سات سال کی عمر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی بیوی بنایا، (دوسرے) : یہ کہ فرشتہ میری صورت اپنی ہتھیلی میں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھلانے کے لئے لایا، (تیسرے): یہ کہ ۹ برس کی عمر میں میرے ساتھ آپ نے خلوت کی... الخ"
بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو بار آپ کو اس نکاح کی طرف بذریعہ خواب توجہ دلائی گئی۔ چنانچہ حضرت عائشہ  کی ہی زبانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ان لفظوں میں مذکور ہے:
«أريتک فی المنام مرتين إذا رجل يحملک فی سرقة حرير فيقول هذه امرأتک فأکشفها فإذا هي أنت فأقول إن يکن هذا من عندالله يمضه» (بخاری : کتاب التعبیر حدیث نمبر ۷۰۱۱)
"تم مجھے دو بار خواب میں اس طرح سے دکھلائی گئیں کہ ایک شخص تم کو ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر دکھلاتا ہے کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ میں جب کپڑا اٹھا کر دیکھتا تو تمہاری صورت نظر آتی تھی۔ میں نے کہا کہ اگر یہ خواب خدا کی طرف سے ہے تو پورا ہو کر رہے گا۔"
بعض روایات میں تین بار کا بھی ذکر آیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قدرت کو پہلے ہی سے یہ بات مدنظر تھی کہ آپ کی ذات سے اسلام کو تقویت ہو۔ چنانچہ اس کا ثبوت ان خوابوں سے واضح ہوگیا۔ کیونکہ اسلامی مفاد مدنظر نہ ہوتا تو بذریعہ خواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دیے جانے کی ضرورت نہ تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ پہلے ہی سے آپ کے روحانی اور جسمانی حالات قدرتی طور پر مافوق العادت ترقی پذیر تھے۔ قدرت کی یہ تربیت خاص انداز میں آپ کے ساتھ اسی لئے تھی کہ آپ سے بڑے بڑے کام اس کو لینا منظور تھے۔ چنانچہ دنیا نے اس کو دیکھ لیا کہ آپ باوجود کمسن اورصنف ِ نازک ہونے کے بڑے بڑے فقہاصحابہ سے علمی طور پر برترتھیں۔
دوسرا سوال اور اس کا جواب
دوسرا سوال جو اس موقع پر کیا جاتا ہے کہ ۹ برس کی لڑکی صحیح معنی میں دلہن بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ اس سوال کا جواب خود واقعات دینے کوتیار ہیں۔ اگر کسی کی نظر ہی وسیع نہ ہو تو اس کا کیا علاج ہے۔ ہم نے خود اپنے اس زمانہ میں بعض واقعات اس قسم کے سنے ہیں کہ فلاں مقام پر اس عمرکی کمسن لڑکی حاملہ پائی گئی یا اس کو وضع حمل ہوا ہے۔ اخبارات میں بھی ایسے واقعات شائع ہوتے رہتے ہیں۔مگر ہم اس موقع پر ائمہ اسلام کی شہادت پیش کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے یہ لکھا ہے کہ اس سن کی عورتیں حاملہ یا ذات الولد پائی گئیں چنانچہ دارقطنی جو حدیث کی مشہور کتاب ہے۔ اس میں عباد بن عباد مہلبی کا بیان مذکور ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ
«أدرکت فينا يعنی المهالبة امرأة صارت جدة وهي بنت ثمان عشرة سنة ولد لتسع سنين ابنة فولدت ابنتها لتسع سنين فصارت هي جدة وهي بنت ثمانی عشرہ سنة ... الخ»
"میں نے اپنی قوم مہالبہ میں ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اٹھارہ برس کی عمر میں نانی بن گئی تھی۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ خود اس کو ۹/ برس کی عمر میں لڑکی پیدا ہوئی او رپھر وہ لڑکی ۹/ برس میں لڑکے والی ہوگئی اور اس طرح سے ۱۸ /برس میں نانی بن گئی۔"
اصل یہ ہے کہ لڑکے لڑکیوں کا شباب و بلوغ صرف عمر ہی پر موقوف نہیں۔ زیادہ تر ملکی آب و ہوا اور جسمانی نشوونما کو بھی اس میں بہت کچھ دخل ہے۔ ایک ہی ملک کے قوی الاعضا اور نحیف الاعضامیں چار چار، چھ چھ برس کافرق پڑ جاتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات چھوٹا لڑکا یا لڑکی بلوغ کوپہنچ جاتے ہیں اور بڑے ابھی برسوں پڑے رہ جاتے ہیں۔امام شافعی جو ائمہ اربعہ میں جلیل القدر امام ہیں ، آپ کا چشم دید واقعہ نقل کیا جاتاہے :
«أنه رأی جدة بنت إحدی عشرين سنة وإنها حاضت لاستکمال تسع ووضعت بنتها لاستکمال عشر ووقع ببنتها مثل ذلک» (فتح الباری: ص۲۰۳ جلد ۵)
"آپ نے دیکھا کہ ایک عورت اکیس برس کی عمر میں نانی بن گئی۔ اس کی صورت یوں ہوئی کہ نویں برس میں حیض آیا، دسویں برس میں لڑکی جنی اور اس لڑکی کا حیض و حمل بھی اسی طرح وقوع پذیر ہوا جس سے اکیس برس کی عمر میں نانی کہلانے لگی۔"
اسی طرح صحیح بخاری میں بھی حسن بن صالح کے ذریعہ ایک واقعہ مذکور ہے۔ ان کابیان ہے کہ
«کنت أدرکت جارة لنا جدة بنت إحدیٰ و عشرين» (بخاری: جلد۱/ص۴۶۶ )
"میں نے اپنے پڑوس کی لڑکی کو دیکھا کہ وہ اکیس برس کی عمر میں نانی ہوگئی تھی۔"
ان واقعات اورحالات کے معلوم کرلینے کے بعد غالباً اس عمر میں عورت کے بلوغ میں کسی کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ ہاں یہ ہمیں بھی تسلیم ہے کہ علی العموم اس سن میں بہت کم عورتیں بالغ پائی جاتی ہیں مگر اس سے یکدم نفی کا ثبوت کیونکر ہوسکتا ہے اور خاص کر ایسی لڑکی کی نسبت جس کی جسمانی اور روحانی نشوونما کا کمال سب پر ظاہر ہو۔
ہاں ممکن ہے کہ کسی کو اس واقعہ سے شبہ پڑے کہ آپ کی کمسنی اور جھولا وغیرہ کا ذکر آ پ کے بلوغ کو تسلیم کرنے سے مانع ہے تو اس کے جواب میں آپ کی توجہ عہد رفتہ کی طرف منعطف کرنے کا مشورہ دیں گے اور اس زمانہ کی سادگی اور معاشرتی حالات کی طرف غائر نظر ڈالنے کی رائے دیں گے، جس سے تمام شکوک رفع ہوجائیں گے۔
تیسرا سوال اور اس کا جواب
اس موقع پر تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی اور لڑکی اس سے زیادہ سن کی آپ کو نہیں مل سکتی تھی۔ اس کے جواب میں گذارش ہے کہ ہاں ضرور مل سکتی تھی لیکن وہ فضل و کمال جو آپ کے شامل حال تھا، وہ کیونکر کسی او رمیں مل سکتا تھا۔ آپ کو معلوم ہے کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ  کے علاوہ اور بھی ۸،۹ بیویاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عقد میں تھیں۔ لیکن کوئی بیوی بھی آپ کے ہم پلہ نہیں ہوئی ۔ ہم نے جو اوپر آپ کے حالات میں ائمہ کرام کے کلمات کو پیشکیا ہے، اس سے ہر شخص آ پکی قابلیت کا بآسانی اندازہ لگا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی مسلمہ امر ہے کہ حضرت ابوبکر نہ صرف اہل اسلام میں معزز و محترم تسلیم کئے جاتے تھے بلکہ کفارِ عرب نے بھی ہمیشہ آپ کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھا۔ چنانچہ آپ کا یہ واقعہ صحیح بخاری میں مذکور ہے کہ آپ اپنی قوم سے تنگ آکر جب حبشہ کی طرف اوّل اوّل ہجرت کرنا چاہی تھی اور اس قصد سے آپ مکان سے نکل چکے تھے تو راستہ میں 'ابن دغنہ' سردارِ قبیلہ آپ سے ملا۔ اوراسے جب یہ معلوم ہوا کہ آپ ترکِ وطن کرکے اور جگہ جانا چاہتے ہیں تو وہ آپ کو راستہ سے واپس لایا اور کہا کہ آپ جیسا شخص بھی قوم سے الگ کیا جاسکتا ہے؟
مقامِ غور ہے کہ کفارِ عرب جودین اسلام کے سخت ترین دشمن اور مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے ایسی حالت میں ایک ایسے شخص کو جو اسلام کا سخت فدائی اور دین کا کامل جاں نثار ہے ، اس کو ان کی قوم کا سردار راستہ سے واپس بلا رہا ہے۔ کوئی شخص اس واقعہ سے بخوبی اندازہ کرسکتا ہے کہ عرب میں آپ کس شان و شوکت اور عزت و وقار کے مالک تھے۔اس سے یہ واضح ہے کہ عرب میں آپ کی شخصیت ایک بے نظیر شخصیت تھی اور مذہب ِاسلام میں تو اہل حق کا اس امر پرکامل اتفاق ہی ہے کہ
«إن أفضل الناس بعد الأنبياء بالتحقيق أبوبکر الصديق»
"یقینا انبیاء کے بعد تمام انسانوں سے افضل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔"
ایسے عظیم الشان اور معززخاندان کی لڑکی جو خاندانی شرافت کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے جسمانی اور روحانی محاسن سے بھی مالا مال ہو۔ کیا ایسی معزز خاتون بجز نبی کے کسی اور کے لائق ہوسکتی تھی۔ اور کیا کوئی دوسری لڑکی ا ن تبلیغی فرائض کی انجام دہی کر سکتی تھی۔
اس کے علاوہ ایک نہایت اہم مصلحت یہ بھی تھی کہ دنیا آگے چل کر یہ نہ کہہ سکے کہ ایسا اولوالعزم نبی باوجود متعدد نکاح و بیاہ کے کسی باکرہ لڑکی سے ہم آغوش نہ ہوسکا۔ جیسا کہ کفارِ عرب نے آپ کے سامنے آپ کے چچا ابوطالب کی معرفت آپ کو راہ حق سے روکنے کے لئے آخری تدبیر پیش کرتے ہوئے کہا :
1۔ آپ اگر حکومت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا سردار تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ مگر آپ ہمارے مذہب کی تردید سے باز آجائیں۔
2۔ اگر آپ مال چاہتے ہوں تو ہم تمام قبائل آپ کے لئے اس کا انتظام کردیں گے۔ مگر آپ ہمارے مذہب کی توہین نہ کریں۔
3۔ اگر آپ ہماری لڑکیوں میں سے کسی لڑکی کو چاہتے ہیں تو آپ کو اختیار دیتے ہیں کہ اَعیان قریش کے خاندان سے بہتر سے بہتر لڑکی منتخب کرسکتے ہیں، مگر ہمارے مذہب کی مخالفت نہ کریں۔
یہ وہ چیزیں تھیں جو آپ کو مذہب ِاسلام سے روکنے کے لئے آپ کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔ مگر آپ نے اس کے جواب میں جوچچا سے عرض کیا ہے، وہ تمام دنیا کے لئے مقامِ فکر ہے ، فرمایا:
" اے چچا ! اگر میری قوم میرے ایک ہاتھ پرآفتاب اور دوسرے پر ماہتاب رکھ دے تو پھر بھی میں اَحکامِ الٰہی کی تبلیغ سے باز نہیں آسکتا۔"
آپ کی اس ثبات قدمی اور اولوالعزمی کے صلہ میں خدا نے دولت ِحکومت کے ساتھ عرب کے بہترین سردار کی قابل ترین لڑکی کو بھی آ پ کے عقد میں عطا فرمایا جس سے درج ذیل مصالح کی تکمیل باحسن وجوہ عمل میں آئی:
(1) مسلم خواتین کی اہم اور ضروری مصلحتیں آپ کے ذریعہ انجام پذیر ہوئیں۔
(2) آپ نے صنف ِنازک میں اس امر کا حوصلہ بتلایا کہ ایک لڑکی عقل و شعور سے کام لے اور محنت کرے تو علم وفضل میں نمایاں مرتبہ پاسکتی ہے۔
(3) نبی جس طرح اُخروی نعمتوں سے سرفراز ہوگا، دنیا بھی اس کی خواہش اورارادہ سے زیادہ، اس کی خدمت کے لئے موجود تھی۔
(4) آپ کی عزت و شرافت کا معیار اس قدر اعلیٰ اور اہم تھا کہ عرب کا بڑے سے بڑا سردار اپنی کمسن بچی کو آپ کے عقد میں دے دینا بھی اپنے لئے باعث ِفخر سمجھتا تھا۔
(5) دنیا سے بے رغبتیآپ کی کسی مجبوری /عاجزی پر منحصر نہ تھی بلکہ آپ کا زہد و تقدس آپکو دنیا سے دور رکھے ہوئے تھا۔ ورنہ دنیا آپ کی تمام خواہشات کے لئے آپ کے قدم مبارک پر سرنگوں تھی۔
مزيد شُبهات
متفق علیہ احادیث کی تکذیب کوئی معمولی گناہ نہیں ہے۔ انہی پر اسلام اور قرآنی احکام کا دارومدار ہے۔ اگر ایسی ہی 'درایت' سے آج روایتوں کی تکذیب ہونے لگے تو کل قرآن مجید بھی اسی نام نہاد 'درایت' کے قربان گاہ پرچڑھ جائے گا اور ساری دنیائے اسلام میں الحاد و نیچریت کا نقارہ بجنے لگے گا اور ہمارے اسلام کے پیچھے پڑی ہوئی قوم خود ہمارے ہاتھوں کامیاب ہوجائے گی۔
ہرچند کہ اس کے بعد کچھ بھی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ اس کے متعلق کچھ مزیدلکھا جائے مگر چونکہ مضمون نگار حضرات نے اس خلافِ واقعہ تحقیق پر اعتماد رکھتے ہوئے کچھ اور دلائل عقلیہ بھی لکھے ہیں جو بناء فاسد علی الفاسد ہونے کے علاوہ احادیث سے حددرجہ بدگمان کرنے والے ہیں۔ لہٰذا ان کی مزعومہ درایت پر بھی نظر ڈال لینا مناسب سمجھتے ہیں اور ان کے دلائل کاذکر کرتے ہوئے ساتھ ساتھ جواب بھی لکھتے ہیں :
مدعی کی پہلی دلیل اور اس پر تنقید
"حضرت خدیجة الکبریٰ کی وفات سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغی تکلیفات کے علاوہ گھر کی ویرانی کی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ خانہ داری کا انتظام تتر بتر ہورہا تھا اور گھر میں بال بچوں کا سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔ ایسے حالات میں ضروری تھا کہ گھر کے انتظام کے لئے ایک قابل جوان عورت ہو نہ کہ ۶برس کی بچی عائشہ کا نکاح جواکثر راویوں کے نزدیک حضرت سودہ سے پہلے ہوا، اور بالفرض اگر یہی سچ ہو کہ سودہ ہی کا پہلے نکاح ہوا تو وہ بے چاری بڑھیا، بھاری بھرکم تھی جس کا ہلنا جلنا بھی مشکل تھا گھر کا کام کیا کرسکتی؟"
اس کے جواب میں عرض ہے کہ بلاشبہ حضرت خدیجہ اور ابوطالب کی وفات سے آپ کی اندرونی وبیرونی مشکلات میں اضافہ ہوگیاتھا اور خانہ داری کے انتظام کے لئے ایک قابل عورت کی بروقت ضرورت بھی تھی۔ لیکن اس کا ثبوت آپ کے ذمہ ہے کہ بوقت ِضرورت حضرت عائشہ خانہ آباد بھی ہوگئی تھیں حالانکہ آپ خود پہلے لکھ چکے ہیں کہ "ہجرت سے پہلے مکہ میں نکاح ہوا اور ہجرت کے دو سال بعد مدینہ میں رسول اللہ کے گھر میں آباد ہوئیں۔ پس آپ ہی بتلائیں کہ انتظام کی ضرورت تو بروقت مکہ میں ہو اور منتظمہ دو سال کے بعد گھر میں قدم رکھے۔ وہ بھی مکہ کے بجائے مدینہ میں۔پھر تو ویران گھر ویران ہی رہا یا آباد ہوگیا۔ اب آپ حضرات کی وہ خانہ آبادی والی مصلحت اور بال بچوں کی نگرانی کی ضرورت کہاں گئی اور بالخصوص اس صورت میں کہ آپ حضرات نے حضرت سودہ کوحضرت عائشہ سے قبل گھر میں آنا ہی ممنوع قرار دے رکھا ہے جو خلاف ِتحقیق کے ساتھ ساتھ عقل کے بھی خلاف ہے۔
اصل یہ ہے کہ اوّلاً تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا انتظام کوئی بڑا بھاری انتظام نہیں تھا اور نہ زیادہ بال بچے۔ ایک حضرت فاطمہ کبریٰ جو بقول آپ کے ۱۵/۱۶ برس کی تھیں اور ایک آپ سے چھوٹی رضی اللہ عنہما اور بس۔ ثانیاً: جو کچھ بھی ہو انتظام کے لئے با ل بچوں کی نگرانی کے لئے سن رسیدہ تجربہ کار عورت کی ضرورت ہواکرتی ہے جس کو سب جانتے ہیں اور اس کے لئے حضرت سودہ بروقت کافی ہوگئیں۔انہیں سے پہلے نکاح بھی ہوااور یہی پہلے آباد بھی ہوئیں۔ طبقات ابن سعد صفحہ ۳۷ میں ہے کہ حضرت خدیجہ  کی وفات کے بعد آپ کے پاس حضرت عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ آئیں اور کہا کہ حضور کو خدیجہ کی وفات سے بہت صدمہ ہوا۔ آپ نے فرمایا:
«أجل کانت أمّ العيال وربة البيت»" ہاں وہ بچوں کی ماں اور گھر کی منتظمہ تھیں اور اب کوئی نہیں"
تب خولہ نے حضرت سودہ کے تجربہ کاری اور سن رسیدگی کا تذکرہ کرکے اجازت مانگی کہ اگر حکم ہو تو میں درمیان میں پڑوں۔ چونکہ آپ کو سردست ایسی ہی اہل بیت کی ضرورت تھی، آپ نے اجازت دی۔ بات پختہ ہوگئی، نکاح ہوا اور مکہ ہی میں خانہ آباد ہوگئیں۔
اس کے بعد حضرت عائشہ کی طرف خیال کیا گیا، اس لئے کہ آپ کو ازغیب بشارت ہوچکی تھی۔چنانچہ آپ نے پیغام دیا اور اس وقت آپ کی عمر ۶ برس کامل ہو کرساتویں برس میں داخل ہوچکی تھی (اسی وجہ سے آپ کی عمر کی بابت چھ برس اور کہیں سات برس کا ذکر آتا ہے) نہ اس وجہ سے کہ آپ سے گھر کا کام چلے گا بلکہ محض مبشر من اللہ ہونے کی وجہ سے (کذا فی الطبقات والا ستيعاب)۔ اس نکاح سے بشارتِ ربانی حاصل کرنامطلوب تھا، نہ کہ خانہ آبادی۔ ہاں جن سے کام چلنے والا تھا، وہ خانہ آباد ہوگئیں یعنی حضرت سودہ اور روایتہ یہی صحیح ہے ۔
بالفرض حضرت عائشہ ہی کے ساتھ پہلے نکاح ہونا مان لیاجائے اور وہ بھی بقول آپ کے زیادہ سے زیادہ سولہ برس کی عمر میں تو اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا کام چلا۔ کیونکہ ان سے تو گھر آباد ہوا مدینہ میں اور بروقت ضرورت تھی مکہ میں۔ پس ان سے پہلے نکاح ہوا تو کیا، نہ ہوا تو کیا ۶ کی عمر میں یا ۱۶ کی ! فافھم
باقی آپ کے یہ الفاظ کہ وہ بے چاری بڑھیا بھاری بھر کم جس کے لئے ہلنا جلنا بھی مشکل تھا، بھلا گھر کا کام کیا کرسکتی، خلاف تہذیب ہونے کے علاوہ کسی قدر خلافِ واقعہ ہے۔ کیانعوذ باللہ وہ اپاہج تھیں یا گھر میں کدال چلانی تھی۔ کیا حضور کی دل دہی، گھر کے معمولی انتظام اور بچوں کی دیکھ بھال سے بھی قاصر تھیں۔ پھر تو حضور نے ان سے نکاح کرکے اپنی مشکلات میں ایک اور مشکل کا اضافہ کرلیا۔
دوسری دلیل اور اس پر تنقید
کتابوں میں لکھا ہے کہ بعض مرتبہ حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ میں مقابلہ کی گفتگو ہوجایا کرتی اور یہ صرف ہم عمروں میں ہی ہوا کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ عائشہ کی عمر ہجرت کے وقت ضرور سترہ سال ہوگی۔
اس کے متعلق سوائے اس کے کہ آپ کے قوتِ استدلالیہ کی تعریف کروں اور کیا عرض کروں۔ اولاً تو حضرت فاطمة الزہرا بحکم فاطمة بضعة منی بالکل اپنے بزرگوار باپ سید المرسلین رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی نمونہ تھیں، وہ مقابلہ کی گفتگو کیا جانیں۔ ثانیاً : بالفرض تسلیم کربھی لیا جائے تو ایسا ہونا لازمی نہیں۔ثالثاً اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ حضرت عائشہ  اور حضرت زینب دونوں میں گاہے بگاہے (نہ ہونے کے برابر) مقابلہ کی گفتگو ہوجایا کرتی تھی لہٰذا یہ دونوں بھی ہی ہم عمر ہوں «واللازم باطل فاللزوم مثله»
تیسری دلیل اور اس پرتنقید
یہ ثابت ہے کہ عائشہ  کی منگنی جبیر بن مطعم کے بیٹے کے ساتھ ہوئی تھی مگر ان لوگوں نے منگنی توڑ دی کہ ان کے آنے سے ان کے گھر میں اسلام کا قدم آجائے گا۔ یہ ظاہر ہے کہ اسلام کی تبلیغ ہجرت کے سال سے پہلے ہوئی تھی اس لئے ضروری ہے کہ منگنی اس سے بھی پہلے ہوئی ہوگی ، الخ
اوّلاً یہ غلط ہے کہ جبیر بن مطعم کے بیٹے سے ہوئی بلکہ خود جبیر سے ہوئی تھی۔ ثانیاً یہ بھی غلط ہے کہ مطعم بن عدی کی طرف سے منگنی توڑ دی گئی یہ اور بات ہے کہ ان لوگوں نے حمیت ِجاہلیت کی وجہ سے پہلو تہی برتی تھی مگر منگنی توڑی نہیں تھی۔ طبقات ابن سعد صفحہ ۳۵ میں ہے :
«عن ابن عباس قال خطب رسول اللهﷺ إلی أبی بکر الصديق عائشة فقال أبوبکر يا رسول! قد کنت وعدت بها أو ذکرتها لمطعم بن عدی لابنه جبير فدعنی حتی أسئلها منهم ففعل ثم تزوجها رسول الله ﷺ»
ثالثاً کیا یہ ضروری ہے کہ سن تبلیغ سے پہلے منگنی ہوئی ہو۔ کیونکہ ان کو لڑکی لینی تھی، دینی نہیں تھی۔ البتہ یہ کہئے کہ احکامِ نکاح کے نزول سے پہلے ہوئی ہوگی۔
چوتھی دلیل اور اس پرتنقید
حضرت عائشہ کے علمی اجتہادات کا زور وشور سے اعلان کیا جاتاہے ۔ بلکہ ان کو نصف دین مانا گیا ہے۔یہ کارنامے دس بارہ سال کے بچے سے نہیں ہوسکتے... الخ
اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ کہ دنیا کے اندر بچوں کی نشوونما میں قدرت کے اَطوار مختلف ہیں۔ بعض بچے پیدا ہوتے ہی اپنے کمالِ سلامتی اعضا او رہرے بھرے بدن اور قدوقامت کے لحاظ سے دیکھنے والوں کی نظر میں ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ دیکھتے ہی لوگ اس کو مہینوں کی عمر کا تجویز کرتے ہیں اور بعض ایسے نحیف ولاغر ہوتے ہیں کہ مہینوں کی عمر پربھی ایک ہفتہ کی عمر تجویز کرنے میں تامل کرتے ہیں۔ علیٰ ہذاالقیاس عقل و ذکا اور فہم رسا میں بھی بعض بچے ایسے ہونہار و ممتاز نکل جاتے ہیں کہ صغرسنی ہی سے ان کے فہم و ادراک کی مثالیں ملنے لگتی ہیں۔ یہ سب تو قدرتی آثار ہیں۔ پھر اگر وہ مولود کسی امیر اور علمی خاندان کا ہو تو اس کی نشوونما اور ترقی علم و فہم کا کیا پوچھنا ہے۔ حضرت عائشہ اُمّ المومنین بھی اسی زمرہ کی ایک ممتاز فرد اور نمونہ قدر ت تھیں۔ حضرت ابوبکر کی امارت اور فقاہت کوئی مخفی چیز نہیں ہے اور پھر حضور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے انتساب و ازواج و معیت و فیض صحبت سب پر بالا بلکہ سونے پر سہاگہ ہوگیا جس سے ان کے جوہر عقل و ذکا میں ایسی جلا آگئی اور عامہ و خاصہ تمام امورمیں معاملہ فہمی کا ایسا ملکہ راسخہ حاصل ہوگیا کہ اکابر صحابہ کرام بھی ان کے محتاج ہوگئے اور بڑے بڑے مسائل شرعیہ وسیاسیہ ان سے حاصل کرنے لگے بلکہ فرائض جو نصف علم مانا گیا ہے، اکابر صحابہ اس کے مسائل اسی کم عمر فاضلہ صدیقہ سے دریافت فرمانے لگے
«قال مسروق والذي نفسی بيده لقد رأيت مشيخة أصحاب محمدﷺ الأکابر يسئلونها عن الفرائض» (طبقات: صفحہ ۴۵)
"میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے جلیل القدر اصحاب کو دیکھا کہ وہ حضرت عائشہ سے فرائض کے مسائل دریافت کیا کرتے تھے"
«قال عطاء کانت عائشة أفقه الناس وأعلم الناس وأحسن الناس رأيا فی العامة قال هشام ما رايت أحدا أعلم بفقه ولا بطب ولا بشعر من عائشة»
"حضرت عائشہ تمام لوگوں میں زیادہ سمجھدار اور سب سے زیادہ علم والی اور عام طور پر نہایت پختہ رائے رکھنے والی تھیں۔...میں نے کسی کو حضرت عائشہ  سے زیادہ عالم نہیں پایا۔ فقہ، طب، شعر ان میں سے کسی ایک میں بھی کوئی ان کا ہم پلہ عالم نہ تھا۔" (استیعاب: صفحہ ۷۶۵)
پانچویں دلیل اور اس پرتنقید
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اقوال اُمت کے لئے نمونہ ہیں، اس واسطے آپ کی پیروی سب کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے سو یہ بات بھی ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶ برس کی بچی سے نکاح نہیں کیا۔
چھ برس کی بچی سے نکاح کرنا نہ عقلاً کوئی عیب ہے نہ شرعاً کوئی حرج :
«أجمع المسلمون علی جواز تزويجه بنته البکر الصغيرة لهذا الحديث»
"حضرت عائشہ کی حدیث کہ چھ برس کی عمر میں حضور سے نکاح ہوا، سے تمام علماء نے اجماعی طور پر یہ مسئلہ نکالا ہے کہ باپ اپنی چھوٹی بچی کا نکاح اگر کردے تو جائز ہے"( مسلم شریف مع نووی)
اسی طرح اس مسئلہ کا انکشاف تمام کتب ِفقہ میں بھی موجود ہے ۔
چھٹی دلیل اور اس پرتنقید
یہ بات سب جانتے ہیں کہ ابتدا میں پیدائش کے وقت کوئی نہیں جانتا کہ مولود دنیا میں نامور ہوگا یا گمنام۔پھر دنیا میں رہ کر اپنی قابلیت سے نامور ہوجاتا ہے تو اس کا سن وفات اکثر صحیح اور پھر اس کی عمر کا حساب لگا کر سن پیدائش نکالا جاتاہے جو اکثر غلط ہوتا ہے ... الخ
آپ کا مطلب ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ  کا سن وفات جو ۵۸ھ کتابوں میں لکھا ہے، وہ تو صحیح ہے مگر سن پیدائش غلط ہے۔ اس بنا پر حدیثوں میں جو عندالنکاح چھ یا سات برس کی عمر مروی ہے، وہ بھی غلط ہے اور 'اکمال' کی سند کا یقین کرتے ہوئے اپنی کوتاہ نظر اور قصور فہمی سے ۱۶ برس کی عمر جو سمجھ لیاہے،بس وہی صحیح ہے باقی غلط۔ کیونکہ ا س کے بعد آخر میں بطورِ نتیجہ کے آپ لکھتے ہیں
"ہم لوگ خوش اعتقادی سے راویوں کی اس بات پر آمنا و صدقنا تو کہتے ہیں مگر دل میں یہ بات ضرور کھٹکتی رہی۔ سو خدا کا شکر ہے کہ وہ کھٹکا دور ہوگیا۔ اب ناظرین کو اختیار ہے کہ راویوں کی بات مانیں یا 'اکمال' کی سند کا یقین کریں۔"
اس کے متعلق ہم زیادہ کہنا نہیں چاہتے۔ ہمیں بھی اکمال کی سند کا یقین ہے۔ بس آپ مہربانی کرکے 'اکمال' کے دونوں متعارض بیانوں کو ملا کر عندالنکاح سولہ برس کی عمر پر چسپاں کردیجئے۔ مگر یاد رکھئے کہ ایسا قیامت تک آپ نہ کرسکیں گے !

فإن کنت لا تدري فتلک مصيبة           وإن کنت تدری فالمصيبة أعظم

٭٭٭٭٭