نزولِ قرآن مجید کی یادگار اور اُسوہٴ محمدی کے قیام کے ہدایت
﴿شَهرُ‌ رَ‌مَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُر‌ءانُ هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّنـٰتٍ مِنَ الهُدىٰ وَالفُر‌قانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ‌ فَليَصُمهُ ۖ وَمَن كانَ مَر‌يضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ‌ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ‌ ۗ يُر‌يدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ‌ وَلا يُر‌يدُ بِكُمُ العُسرَ‌ وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُ‌وا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ١٨٥ ﴾... سور ةالبقرة
"رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآنِ حکیم نازل ہوا، جو انسانوں کے لئے موجب ہدایت ہے، اور جس کی تعلیم میں ہدایت و ضلالت اور حق و باطل کی تمیز کے لئے کھلے نشان موجود ہیں، پس جو اس مہینے میں زندہ موجود ہو،وہ روزے رکھے، اور جو مریض ہو یا مسافر وہ ان کے بدلے دوسرے دنوں میں پھر روزے رکھ لے۔خدا تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں چاہتا، تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو، اور روزے اس لئے فرض ہوئے کہ تم اس عطاے ہدایت پر خدا کی بڑائی کرو اور شکر بجا لاؤ۔"
قرآنِ مجید نے مذکورہ آیات میں روزے کاحکم دیتے ہوئے ہمیں ماہِ صیام کی اصل حقیقت، مقصد اور اس کے نتائج کی اطلاع دی ہے، ہم ان آیاتِ قرآنی کے مضامین کو ان تین عنوانوں کے تحت تقسیم کرسکتے ہیں :
اوّل: اصل حقیقت ماہِ صیام   دوم : مقصد صیام    سوم : نتائج صیام
اوّل : حقیقت ِماہِ صیام
سب سے پہلے یہ فرمایا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اقلیم رسالت اور کشورِ نبوت کے سب سے بڑے تاجدار محمد بن عبداللہ علیہ الصلوٰة والسلام پر نامہ خیرو برکت اور دستورِ ہدایت قرآنِ حکیم کا نزول ہوا اور یہ اس وقت ہوا جبکہ آپ غارِ حرا کے اندر انسانی آبادی سے دور، مادّی ضروریات سے کنارہ کش ہوکر کئی کئی روز بھوکے اور پیاسے رہ کر راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر مشغولِ دعا تھے اور انسانوں کو گمراہی، باطل پرستی، سرکشی اور تمرد سے نکالنے کے لئے سربسجود رہتے تھے۔ پس رمضان المباک یا ماہِ صیام کی اصل حقیقت نزولِ قرآن کی یادگار اور تذکار ہے، فرمایا:
﴿شَهرُ‌ رَ‌مَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُر‌ءانُ...١٨٥ ﴾... سورة البقرة
"رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن حکیم نازل ہوا"
اور حامل و مبلغ قرآن علیہ الصلوٰة والسلام کے اُسوہ حسنہ کی اقتدار اور اتباع ہے۔ فرمایا:
﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ‌ فَليَصُمهُ...١٨٥ ﴾... سورة البقرة
"تم میں سے جو شخص اس مہینے میں زندہ موجود ہو، وہ روزے رکھے"
انبیاء کرام کا اُسوہٴ حسنہ
قرآنِ کریم میں انبیاءِ کرام کے اَعمالِ حیات اور وقائع زندگی کو اس لئے پیش کیا گیا ہے کہ ان کی اقتدا کی جائے اور ان کے اسوئہ حسنہ کی تأسی (پیروی) کی جائے۔ انبیاء کرام میں سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے اعمالِ حیات کو ایک خاص عظمت و شرف اور اہمیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور لوگوں کو اس کے اتباع کی اس طریق پر دعوت دی، اور فرمایا:
﴿قَد كانَت لَكُم أُسوَةٌ حَسَنَةٌ فى إِبر‌ٰ‌هيمَ وَالَّذينَ مَعَهُ...٤ ﴾... سورة الممتحنة
"یقینا تمہارے لئے ابراہیم کی زندگی میں اور ان لوگوں کی زندگی میں جو ایمان کے اعلیٰ مدارج میں ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، پیروی اور اتباع کے لئے بہترین نمونہ ہے۔"
جس طرح قرآنِ کریم نے حضرت ابراہیم  کی مبارک زندگی کو بطورِ'اُسوہٴ حسنہ' کے دنیا کے سامنے پیش کیا ، اسی طرح ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی اور اَعمال حیات کو بھی 'اسوہٴ حسنہ' کے طور پر پیش کیا اور فرمایا:
﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ...٢١ ﴾... سورة الاحزاب
"یقینا تمہارے لئے رسول اللہ کے اعمالِ حیات میں بہترین نمونہ رکھا گیا ہے۔"
یہی دو انبیا ہیں جنہیں یہ شرفِ مخصوص حاصل ہے کہ قرآن نے ان کی پاکیزہ زندگیوں کے لئے 'اسوہ ٴ حسنہ' کا لفظ استعمال کرکے دنیا کے لئے انہیں بہترین نمونہ کے طور پر پیش کیا اور ان کے عملوں کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کرکے ضائع ہونے سے بچا دیا۔
اُسوہ ٴ ابراہیمی 
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بے آب و گیاہ سرزمین پر لاکر بسایا کہ خدا کی تحمید وتقدیس بجا لائیں۔ خدا نے حضرت ابراہیم  سے ان کے عزیز فرزند کی قربانی طلب کی۔ باپ بیٹا دونوں نے اس قربانی کو پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیارے بندوں کی یہ مخلصانہ ادائیں کچھ اس طرح بھا گئیں کہ اس موقع کی ہر حرکت کو ہمیشہ کے لئے قائم کردیا اور اس کو ہمیشہ دنیا میں زندہ رکھنے کے لئے اس موقع کی ہرہر ادا کو پیروانِ دین حنیفیپر فرض کردیا گیا، اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہر سال جب حج کا موسم آتا ہے تو لاکھوں انسانوں کے عمل سے اُسوہ ٴ ابراہیمی جلوہ نما ہوتا ہے، اور ان میں سے ہر متنفس وہ سب کچھ کرتا ہے جو آج سے کئی ہزار برس پہلے خدا کے دو مخلص بندوں نے وہاں کیا تھا۔ یہی وہ دائمی بقا ہے جس کا ذکر یوں ہے:
﴿وَوَهَبنا لَهُم مِن رَ‌حمَتِنا وَجَعَلنا لَهُم لِسانَ صِدقٍ عَلِيًّا ٥٠ ﴾...سورة مريم
"ہم نے حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد کو اپنی رحمت سے بہت بڑا حصہ دیا اور ان کے لئے اعلیٰ واشرف ذکر ِخیر دنیا میں باقی رکھا۔"
اُسوہٴ محمدی
حضرت ابراہیم  نے خدا کے حضور یہ دعا و التجا کی تھی کہ
﴿رَ‌بَّنا وَابعَث فيهِم رَ‌سولًا مِنهُم يَتلوا عَلَيهِم ءايـٰتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتـٰبَ وَالحِكمَةَ وَيُزَكّيهِم ۚ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ ١٢٩ ﴾... سورة البقرة
"اے پروردگار! میری اولاد میں سے ایک ایسا رسول بھیج جو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے، کتاب وسنت کی تعلیم دے اور تمام ناپاک عقائد سے ان کو پاک کردے۔"
خدا نے حضرت ابراہیم  کی دعا قبول کی اور اس معلم کتاب و سنت کو مبعوث فرمایا اور دنیا کے سامنے 'اُسوئہ محمدی' کو پیش کیا۔ اس اُسوہٴ عظیمہ کا سب سے پہلا منظر عالم ملکوتی میں وہ استغراقِ تام تھا، جبکہ صاحب ِسنت یا صاحب ِاُسوہ انسانوں کو ترک کرکے خدا کی صحبت اختیار کئے ہوئے تھا اور انسانوں کے بنائے ہوئے گھروں کو چھوڑ کر غارِ حرا کے تیرہ و تاریک حجرے میں گوشہ نشین ہوگیا تھا۔ وہ اس عالم میں کئی کئی راتیں جمالِ الٰہی کے بے کیف نظارے میں بسر کرتا رہتا تھا تاآنکہ اس تنگ و تاریک غار کے اندر قرآن کانورطلوع ہوا، اور خدا کو اپنے پیارے بندے کی ا س ماہ میں مخلصانہ عبادت، گوشہ نشینی، بھوک پیاس اور راتوں کو جاگنا کچھ ایسا پسند آیا کہ دنیا میں اُسوہ حسنہ کے طور پر اس کو ہمیشہ زندہ رکھا۔ پس جس طرح خدا تعالیٰ نے دین حنیفی کے داعی ٴاوّل کے اُسوئہ حیات کو دوامیت بخشی، اسی طرح دین حنیفی کے آخری مکمل اور مُتمَّم وجود کے اُسوہ حسنہ کو بھی ہمیشہ کے لئے قائم کردیا۔
آپ راتوں کو بارگاہِ الٰہی میں مشغولِ عبادت رہتے تھے، پس پیروانِ اُسوئہ حسنہ اور متبعین سنت ِمحمدیہ بھی رمضان المبارک کی راتوں میں قیامِ لیل کرنے لگے اور تلاوت و سماعت ِقرآنِ مجید سے وہ تمام برکتیں ڈھونڈنے لگے جو اس ماہِ مبارک کو قرآنِ حکیم کے نزول سے حاصل ہوئیں۔ آپ اپنا گھر بار چھوڑ کر ایک تنہا گوشہ میں خلوت نشین ہوتے تھے۔ پس ہزاروں موٴمنین قانتین اس ماہِ مقدس میں اعتکاف کے لئے مساجد میں گوشہ نشین ہونے لگے، اور اس طرح غارِ حرا کے اعتکاف کی یاد ہر سال زندہ ہونے لگی۔ آپ بھوکے پیاسے رہتے تھے، لہٰذا تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم بھی بھوکے پیاسے رہو، تاکہ ان برکتوں اور رحمتوں میں سے حصہ پاؤ جو نزولِ قرآن کے مبارک دنوں کے لئے مخصوص تھیں۔
چنانچہ جس طرح اُسوہ ابراہیمی کی یادگار حج کو فرض کرکے قائم رکھی گئی، اسی طرح اُسوئہ محمدی کی بھی یادگار ماہِ رمضان المبارک کی صورت میں قائم رکھی گئی جو چودہ سو برس گزر جانے کے بعد بھی زندہ ہے اور ان شاء اللہ ابد الآباد تک زندہ رہے گی۔
رمضان المبارک
رمضان المبارک کیا ہے؟ سعادتِ انسانی اور ہدایت ِاقوام و ملل کے ظہور کی وہ عظیم الشان یادگار ہے جس کا دروازہ قرآنِ حکیم کے نزول سے دنیا پر کھلا۔ یہی مہینہ خدا کی سب سے بڑی رحمت وبرکت کے نزول کا ذریعہ بنا اور اسی مہینہ میں خدا کی رحمتوں کی صدیوں کے بعد بارش ہوئی اور اسی عہد میں دنیا کی وہ سب سے بڑی خشک سالی ختم ہوئی جو چھ سو سال سے بنی نوعِ انسان کے قلب و روح پر چھائی ہوئی تھی اور اسی موسم میں اَیام اللہ کی وہ بہار آئی جس میں کوہِ فاران کی چوٹیوں پر ابر ِرحمت نمودار ہوا تاکہ کشورِ انسانیت کی سوکھی کھیتیوں کو سرسبز کرے اور کائناتِ ارضی کی تشنگی ہدایت کو سیراب کرے۔
لیلة القدر
اور وہ کون سی رات تھی؟ جس میں سعادتِ انسانی کا یہ مبارک پیغام آیا جس کی تبلیغ صادق ومصدوق محمد عربی علیہ الصلوٰة والسلام کے سپرد ہوئی، جس میں وحی الٰہی کا دروازہ غارِ حرا کے گوشہ نشین پر کھلا، وہ عزت و حرمت کی رات تھی۔ وہ ہزاروں راتوں بلکہ ہزاروں مہینوں سے بہتر رات تھی، کیونکہ اس رات ہم پر برکاتِ ربانی کی سب سے پہلی بارش ہوئی۔ اس رات خزینہ نبوت کے حامل قلب پر کلام الٰہی کے اسرار سب سے پہلے منکشف ہوئے۔ یہ فرشتوں کی آمد کی رات تھی۔ اس رات آسمان کی باتیں زمین والوں کو سنائی گئیں اور اسی رات عصیاں و سرکشی کی تاریکی میں مبتلا اور ظلم و تعدی سے مضطرب اور بے چین دنیا کو امن اور سلامتی کا پیغام ملا
﴿إِنّا أَنزَلنـٰهُ فى لَيلَةِ القَدرِ‌ ١ وَما أَدر‌ىٰكَ ما لَيلَةُ القَدرِ‌ ٢ لَيلَةُ القَدرِ‌ خَيرٌ‌ مِن أَلفِ شَهرٍ‌ ٣ تَنَزَّلُ المَلـٰئِكَةُ وَالرّ‌وحُ فيها بِإِذنِ رَ‌بِّهِم مِن كُلِّ أَمرٍ‌ ٤ سَلـٰمٌ هِىَ حَتّىٰ مَطلَعِ الفَجرِ‌ ٥﴾... سور القدر
"ہم نے قرآن کو عزت و حرمت والی رات میں اتارا، اور ہاں تمہیں کیا معلوم کہ عزت وحرمت والی رات کیا ہے؟ وہ رات ہزار مہینہ سے بہتر ہے، جس میں ارواحِ مقدسہ اور فرشتے حکم الٰہ سے اَحکام لے کر نازل ہوتے ہیں۔ اس رات میں طلوعِ صبح تک سلامتی ہی سلامتی ہے"
قیامِ رمضان
یہ انہی احسانات و انعاماتِ الٰہیہ کا شکریہ ہے کہ مسلمان دن بھر کی بھوک اور پیاس کے بعد عجب جوش اور محویت کے عالم میں رات کو خدا کی یاد کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دنیا کا ذرّہ ذرّہ خاموش اور محو ِخواب ہوتا ہے، لیکن شیفتگانِ سنت ِمحمدیہ اپنے بستروں کو خالی کردیتے ہیں اور اسی کی حمدوثنا میں مشغول ہوجاتے ہیں، جس نے اس ظلمت کدہ عالم میں صرف ہمیں ایک ایسا چراغ بخشا جس سے ہمارے قلوب منور ہوگئے۔ اسی کی تسبیح و تقدیس کے نغمے بلند کرتے ہیں جس نے اقوام عالم میں ہمیں یہ عزت بخشی کہ ہم نے اس کے رسول کی دعوت کو قبول کیا اور اس کی سنت کو زندہ کیا
«سبحان ذی الملک والملکوت، سبحان ذی العزة والعظمة والهيبة والقدرة والکبرياء والجبروت، سبحان الملک الحي الذی لاينام ولا يموت، سبوح قدوس ربنا رب الملائکة والروح» (کنز العمّال: ۲۰۶۳، ۲۲۶۶۱)
"اس حکومت اور شہنشاہی والے کی تقدیس، اس عزت و عظمت، ہیبت و قدرت، کبریائی اور جبروت والے کی تقدیس ہو۔ اس زندہ بادشاہ کی تقدیس ہو جو نہ کبھی سوتا ہے اور نہ کبھی مرتاہے، پاک اور قدوس ہے ہمارا رب، اور تمام فرشتوں اور روحوں کا رب۔"
دوم :مقصد ِصیام
یہ ایک حقیقت ِمسلمہ ہے کہ انسان جسم اور روح سے مرکب ہے، اورجس قدر روح میں پاکیزگی اور طہارت ہوگی، اسی قدر انسان ملکوتی صفات کا مظہر اور حامل ہوگا، اور جس قدر انسان کھانے پینے اور لذائذ شہوانی میں زیادہ منہمک ہوگا، اسی قدر قوائے بہیمیہ مشتعل اور قوائے ملکیہ کو شکست دینے کے درپے ہوں گے۔ چونکہ قوائے بہمییہ کی قوت وطاقت کا دارو مدار کھانے پینے اورلذاتِ شہوانیہ میں انہماک پر ہے، اسی لئے ظاہر ہے کہ نفس کی قہر مانی کو شکست دینے اور قوائے بہیمییہ کو کمزور کرنے کے لئے ان اسباب و دواعی کو کم کرنے کی ضرورت ہے جن سے قوائے بہمییہ کوطاقت اور ملکوتی صفات کو شکست ملتی ہے۔ اور یہی مقصد روزہ کا ہے جس کی طرف آیت زیب ِعنوان میں اشارہ کیا گیا ہے، لیکن اصل مقصد چونکہ عبادتِ روح ہے نہ کہ تعذیب ِجسم، اس لئے اسلام نے تکلیف ِجسم کو اس قدر شدید اور ناقابل برداشت نہیں بنایا کہ اس سے اصل مقصد فوت ہوجائے۔ اس لئے سال بھر میں صرف ایک مہینہ روزوں کے لئے مخصوص کردیا، جس میں قرآن مجیدکا نبی ُالرحمہ پر نزول ہوا، تاکہ یہ مبارک مہینہ قرآنِ مجید کے نزول کی یادگار ہو اور روزوں کے ذریعے روح کی پاکیزگی اور طہارت کا سبب بھی ہو۔
چونکہ اصل مقصد تقویٰ اور تزکیہٴ روح ہے، نہ کہ تعذیب ِجسم جیسا کہ دوسرے مذاہب میں خیال کیا جاتا ہے، اس لئے تقلیل غذا اور لذائذ ِشہوانیہ کی ایسی صورت قائم کردی جو سوائے معذور انسانوں کے باقی سب کے لئے قابل عمل اور آسان ہو۔ کیونکہ تقلیل عذا کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں: ایک تو یہ کہ مقدارِ غذا کم کردی جائے اور دوسرا یہ کہ خوراک کے مختلف اوقات میں معتاد وقفہ سے زیادہ وقفہ کردیا جائے۔ اسلام نے اور دوسرے مذاہب نے بھی تقلیل غذا کی دوسری صورت کو تجویز کیا ہے۔
اس لئے کہ پہلی صورت یعنی مقدارِ غذا کو کم کردینا اگر روزہ قرار دیا جاتا تواوّل یہ کسی قاعدہ اور ضابطہ کے ماتحت نہ ہوتا کیونکہ اگر کم وزن مقرر کردیا جاتا تو یہ اختلافِ ملک، اختلافِ آب و ہوا، اختلافِ مزاج اور ا ختلاف ِقویٰ کی بنا پر کسی حالت میں درست نہ ہوتا اور اگر ہرایک شخص کے لئے انفرادی طور پر حکم ہوتا کہ اپنی معتاد غذا کا نصف کھاؤ یا اس سے کم و بیش تو یہ بھی ایک ناقابل عمل چیز تھی، کیونکہ ہر ایک انسان کی اگرچہ ایک معتاد غذا ضرور ہے لیکن پھر بھی ہر شخص کو اپنی معتاد غذا کا ٹھیک نصف یا تہائی کرنا اور ایک لقمہ بھی کم و بیش نہ ہونے دینا قریباً ناممکن ہے، اور ثانیاً اس سے قانون اور ضابطہ کی وہ عمومیت جو اس کی سب سے بڑی صفت ہے، جاتی رہتی لہٰذا تقلیل غذا کی دوسری صورت اختیار کی، یعنی خوراک کے اوقات میں معتاد اوقات سے زیادہ فاصلہ جس سے بھوک اور پیاس محسوس ہو اور قوائے بہمییہ کی پامالی ہو اور روح کو طہارت اور پاکیزگی حاصل ہو۔
اسلام نے اس بھوک، پیاس اور ترکِ لذائذ ِشہوانیہ کو اس قدر سخت اور ناقابل عمل نہیں بنایا کہ یہ مقصود بالذات ہوجائے اور جو اصل مقصد ہے، وہ فوت ہوجائے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ اسلامی عبادت وریاضت کا دوسرے مذاہب سے مقابلہ کرکے دکھایا جائے تاکہ معلوم ہو کہ ارشادِ خداوندی ﴿يُر‌يدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ‌ وَلا يُر‌يدُ بِكُمُ العُسرَ‌...١٨٥ ﴾... سورة البقرة"کس قدر اپنے اندر ناقابل تردید صداقت رکھتا ہے۔
دوسرے مذاہب نے تکلیف و تعذیب ِجسمانی کو بھی ایک قسم کی عبادت بلکہ بہترین اقسامِ عبادت میں سے قرار دیا ہے۔ اور اسی تخیل کا یہ اثر ہے کہ یہودیوں کے ہاں قربانی اس قدر طویل و کثیر رسوم پر مشتمل تھی جس کی صرف شرائط اور لوازمات کا بیان تورات کے چار پانچ صفحوں میں مذکور ہے۔ افطارکے وقت صرف ایک دفعہ کھا سکتے تھے، اس کے بعد دوسرے روز کے وقت ِافطار تک کچھ نہیں کھا سکتے تھے(یعنی مستقل سحری کھانے کی اجازت نہ تھی)۔ اور اگر بغیر کھائے ہوئے بدقسمتی سے نیند آگئی تو پھر کھانا مطلق حرام تھا۔ ایامِ صیام کی پوری مدت میں بیویوں کی مقاربت بھی حرام تھی۔
عیسائی راہبوں نے رہبانیت کی بنیاد ڈالی تو انہوں نے شرعی بیاہ کو بھی اپنے اوپر حرام کردیا، اور ترکِ آسائش و لذائذ ِجسمانی ان کے ہاں بہترین عبادت تھی۔ قربان گاہ ، صلیب اور کنواری کے بت کے آگے گھٹنوں کے بل گھنٹوں جھکے رہنا، کئی کئی روز کھانا پینا چھوڑ دینا زہد و تقویٰ کی انتہا سمجھی جاتی تھی۔
ہندو جوگیوں نے تپسیا اور ریاضت ِشاقہ کی اور بھی عجیب و غریب رسم ایجاد کی۔ ان کے ہاں سالہاسال تک کھڑے رہنا، سخت دھوپ میں بغیر کسی سائے کے کھڑا رہنا، جاڑوں میں ننگے بدن رہنا، تمام جسم پر راکھ ملنا، دس دس برس تک ایک ہاتھ کو ہوا میں بلند رکھنا اور ایک ایک چلہ تک کھانا پینا بالکل چھوڑ دینا تقرب اِلی اللہ کے حقیقی راستے سمجھے جاتے تھے۔
ان میں جَینیوں کا فرقہ پیدا ہوا تو اس نے ناک، منہ اور کان کو بند رکھنا شروع کیا تاکہ ان کے تنفس کے ذریعے کسی کیڑے کو اذیت نہ ہو۔ ہندوؤں میں 'بدھ' کا فرقہ پیدا ہوا تو اس کے بھکشو جنگلوں اور پہاڑوں میں رہنے لگے اور گھاس،پتوں اور بھیک کے ٹکڑوں پر گزر کرنے کو زہد و اِتقا کی علامت سمجھنے لگے، جس کی معمولی سی یادگار اس وقت بھی برما میں موجود ہے۔
لیکن اسلام نے رہبانیت کی تمام شکلوں کو ناجائز قرار دیتے ہوئے یہ اعلان فرمایا: «لا رهبانية فی الاسلام» (اسلام میں کسی قسم کی رہبانیت نہیں ہے) یہود و نصاریٰ جس رہبانیت پر فخر کرتے تھے، اس کے متعلق یہ فرما کر رہبانیت کی حقیقت بے نقاب کردی کہ
﴿وَرَ‌هبانِيَّةً ابتَدَعوها ما كَتَبنـٰها عَلَيهِم...٢٧ ﴾... سورة الحديد
"یہ رہبانیت ان کی اپنی ایجاد ہے، ہم نے ان کو اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیا"
غرض اسلام نے تعذیب ِجسمانی اور ریاضت ِشاقہ کو خلاف ِمنشا دین اور انسان کی ضعیف گردن کے لئے بارِگراں سمجھ کر اس کو غلط قرار دیا اور پیغمبر اسلام کی تعریف میں یہی فرمایا:
﴿وَيَضَعُ عَنهُم إِصرَ‌هُم وَالأَغلـٰلَ الَّتى كانَت عَلَيهِم...١٥٧ ﴾... سورة الاعراف
"اور اس طوق و زنجیر کو جو شدید احکام کی، ان کی گردن پر پڑی ہوئی تھی، علیحدہ کرتا ہے۔"
اور روزوں کے حکم کے بعد خاص طور پر فرمایا :
﴿يُر‌يدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ‌ وَلا يُر‌يدُ بِكُمُ العُسرَ‌...١٨٥ ﴾... سورة البقرة
"خدا تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں۔"
* اسلام نے صیام کے سلسلہ میں جو آسانیاں اُمت ِمسلمہ کے لئے پیش کی ہیں، ان کے مطالعہ سے اس آیت کی پوری پوری تشریح سامنے آجاتی ہے، مثلاً اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں شب و روز کا روزہ ہوتا تھا، اسلام نے روزے کی مدت صرف صبح صادق سے شام تک قرار دی
﴿حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيطُ الأَبيَضُ مِنَ الخَيطِ الأَسوَدِ مِنَ الفَجرِ‌ ۖ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى الَّيلِ...١٨٧ ﴾... سورة البقرة
"کھاؤ پیو یہاں تک کہ رات کے تاریک خط سے صبح کا سپید خط ممتاز ہوجائے۔ پھر روزے کو ابتداے شب (شام) تک پورا کرو۔"
بعض لوگ عمر بھر روزے رکھتے تھے، اسلام نے اس کو بالکل ممنوع قرار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لاصام من صام الأبد» (ابن ماجہ)
"جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، اس نے کبھی روزہ نہیں رکھا۔"
٭ ایامِ صیام میں رات کو سوجانے کے بعد پھر کھانا حرام تھا، اسلام نے اس کو منسوخ قرار دیا جیسا کہ بخاری کی روایت ہے کہ صحابہ کرام ابتداے اسلام میں جب روزہ رکھتے اور افطار کا وقت آجاتا اور وہ افطار کرنے سے پہلے سو جاتے تو پھر رات بھر اور دن بھر دوسرے دن کی شام تک کچھ نہ کھاتے۔ اس اثنا میں قیس بن صرمہ انصاری جو روزہ سے تھے، افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے، انہوں نے کہا:ہے تو نہیں لیکن چل کر ڈھونڈتی ہوں، قیس دن بھر کام کرکے تھکے تھے، سوگئے۔ بیوی آئیں توافسوس کرکے رہ گئیں، جب دوپہر ہوئی تو قیس کو غش آگیا، یہ واقعہ آنحضرت سے بیان کیا گیا، اس وقت یہ آیت نازل ہو:
﴿وَكُلوا وَاشرَ‌بوا حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الخَيطُ الأَبيَضُ...١٨٧ ﴾... سورة البقرة
"کھاؤ پیو، یہاں تک کہ رات کے تاریک خط سے صبح کا سپید خط ممتاز ہوجائے۔"
٭ اسلام سے پہلے ایامِ صیام کی پوری مدت میں مقاربت سے محترز رہتے تھے لیکن چونکہ یہ ممانعت انسان کی فطری خواہش کے بالکل منافی تھی، اس لئے اکثر لوگ اس میں خیانت کے مرتکب ہوتے تھے۔ اسلام نے اس حکم کو صرف روزہ کے وقت تک محدود رکھا جو صبح سے شام تک کا زمانہ ہے۔ فرمایا:
﴿أُحِلَّ لَكُم لَيلَةَ الصِّيامِ الرَّ‌فَثُ إِلىٰ نِسائِكُم ۚ هُنَّ لِباسٌ لَكُم وَأَنتُم لِباسٌ لَهُنَّ ۗ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُم كُنتُم تَختانونَ أَنفُسَكُم فَتابَ عَلَيكُم وَعَفا عَنكُم ۖ فَالـٔـٰنَ بـٰشِر‌وهُنَّ وَابتَغوا ما كَتَبَ اللَّهُ لَكُم...١٨٧ ﴾... سورة البقرة
"تمہارے لئے روزہ کی شب میں اپنی بیویوں سے مقاربت حلال کی گئی، تمہارا ان کا ہمیشہ کا ساتھ ہے۔ خدا جانتا ہے کہ تم اس میں خیانت کرتے تھے، پس اس نے تم کو معاف کردیا۔ اب ان سے ملو جلو اور خدا نے تمہاری قسمت میں جو لکھا ہے، اس کو ڈھونڈھو"
٭ اسلام میں بھول چوک اور خطأ ونسیان معاف ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت ِمسلمہ کو اس شرف سے مخصوص کرتے ہوئے فرمایا:
«رفع عن أمتی الخطأ والنسيان» "میر ی اُمت سے خطا و نسیان معاف کیا گیا"
اس لئے اگر حالت ِصوم میں کوئی شخص بھول چوک سے کچھ کھالے یا پی لے، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، آپ نے فرمایا:
«من أکل أوشرب ناسيا فلا يفطر فانما هورزق الله» (ترمذی)
"جو بھول کر کھا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا، وہ تو خدا کی روزی ہے"
٭ اسی طرح وہ افعال جو گو روزہ کے منافی ہیں لیکن انسان سے قصداً سرزد نہیں ہوئے بلکہ وہ اس میں مجبورہے ،مثلاً مُحتلم ہوجانا، بلا قصد قے ہوجانی، ان چیزوں سے بھی نقض صوم نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اس حدیث کی بنا پر کہ "ایک بار آپ کو استفراغ (قے) ہوا تو آپ نے روزہ توڑ دیا" یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ استفراغ ناقض صوم ہے، حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آپ نے نفلی روزہ رکھا تھا۔ اتفاقی استفراغ سے بنظر ضعف آپ نے روزہ توڑ دیا جیسا کہ امام ترمذی نے 'جامع ترمذی' میں لکھا ہے۔
٭ اسلام سے پہلے دوسرے ادیان میں بوڑھوں، کمزوروں، بیماروں اور معذوروں کے لئے کوئی استثنا نظر نہیں آتا، لیکن اسلام نے ان تمام اشخاص کو مختلف طریق سے مستثنیٰ قرار دیا۔ بیمار اور مسافر کے لئے فرمایا کہ وہ رمضان کے علاوہ اور دنوں میں قضا روزے رکھ لیں۔
٭ عورتوں کے فطری عذرات کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے ایامِ عادیہ، ایام حمل، اور ایام رضاعت میں رمضان کے روزے معاف کردیئے اور ان کی بجائے دوسرے دنوں میں روزوں کی قضا یا فدیہ مقرر کردیا۔ ابن عباس نے بھی آیت﴿وَعَلَى الَّذينَ يُطيقونَهُ فِديَةٌ طَعامُ مِسكينٍ...١٨٤ ﴾... سورة البقرة" کی تفسیر میں یہی لکھا ہے۔
سوم : روزہ کے نتائج
مقصد ِصوم اور اس کے نتائج کی تشریح کے لئے آیات زیب عنوان کے مندرجہ ذیل جملوں کی طرف توجہ فرمائیے:
﴿لَعَلَّكُم تَتَّقونَ﴾ تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
﴿وَلِتُكَبِّرُ‌وا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم﴾ اللہ نے جو تم کو راہ راست دکھائی ہے اس پر اللہ کی تکبیر وتقدیس کرو․
﴿وَلَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ﴾ تاکہ تم اس نزول خیروبرکت پر خدا کا شکر بجا لاؤ۔
ان آیات سے معلوم ہوا کہ روزہ کے مقصد اور اس کے نتائج و آثار میں ان تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے: (۱) اِتقا (۲) تکبیر و تقدیس (۳) حمد و شکر
اگر روزہ دار نے اپنی زندگی میں روزہ کے نتائج کے طور پر ان تینوں اُمور کو نہ پایا تو پھر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ روزہ رکھا گیا اور اس فرض کی انجام دہی ہوگئی۔
کیونکہ انسانی اَعمال و اَشغال کا وجود فی الحقیقت ان کے نتائج و آثار کا وجود ہے۔ اگر نتائج و آثار ظہور پذیر نہ ہوئے تو پھر یہ نہ کہئے کہ ان اَعمال کا وجود تھا۔ اگر آپ دوڑتے چلے جارہے ہیں کہ راستہ ختم ہو اور منزل قریب ہو، لیکن آپ غلطی سے بھٹک کر دوسرے راستہ پر جا پڑتے ہیں، جس سے آپ کی مسافت لمبی اور منزل دور تر ہوتی جاتی ہے، تو آپ کی سعی لا حاصل اور ساری تگ و دو عبث ہوتی ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے مسافت طے کرلی اور منزل پر پہنچ گئے۔ علیٰ ہذا القیاس اگر روزہ دار روزہ رکھتا ہے، کھانے پینے اور جماع سے پرہیز کرتا ہے، لیکن روزہ کے نتائج یعنی اِتقا، تکبیروتقدیس اور شکر و حمد الٰہی اس کے اندر نمایاں نہیں ہوتے تو اس کو روزہ دار نہیں کہاجاسکتا۔ ہم یہ کہیں گے کہ وہ فاقہ کش ہے، وہ پیاسا ہے، لیکن افسوس کہ اس کی گرسنگی(بھوک) اور تشنگی کی حیثیت اس پھول سے زیادہ کچھ نہیں جس میں رنگ وبو نہیں۔ یقینا اِس روزہ دار کی مثال ایک بے جوہر آئینہ اور بے روح جسم کی ہے، اور ہر شخص سمجھتا ہے کہ ایک جسم بے روح، ایک آئینہ بے جوہر، اور ایک بے رنگ و بو گل ایسی چیزیں ہیں جن کی کوئی قدروقیمت نہیں، اسی حقیقت ِکبریٰ کی طرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے :
«رُبّ صائم ليس له من صيام إلا الجوع و ربّ قائم ليس له من قيام إلا السهر» (ابن ماجہ)
"کتنے روزہ دار ہیں جن کو روزہ سے بجز بھوک کچھ حاصل نہیں اور کتنے رات کا قیام کرنے والے ہیں جن کو نماز سے جاگنے کے سوا کچھ فائدہ نہیں۔"
یہ کون بدقسمت لوگ ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پیٹ نے روزہ رکھا لیکن دل نے روزہ نہیں رکھا، ان کی زبان پیاسی تھی لیکن دل پیاسا نہ تھا، پس یہ لوگ کیونکر حوضِ کوثر سے اس دن اپنی پیاس بجھانے کی توقع رکھتے ہیں جس دن ہر ایک کی زبان پر العطش العطش ہوگا۔
آج روزہ داروں کی کتنی محفلیں ہیں کہ ان میں غیبت کا مشغلہ نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس گناہ کی آلودگی اور ارتکاب سے روزہ نہیں ٹوٹتا، حالانکہ وہ اپنا روزہ توڑ چکے ہیں، لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ وہ روزہ توڑ رہے ہیں :
«الصائم فی عباده من حين يصبح إلی أن يمسی ما لم يغتب فإذا اغتاب خرق صومه» (دیلمی)
"روزہ دار صبح سے شام تک عبادتِ خدا میں ہے، جب تک کسی کی غیبت نہ کرے اور جب وہ کسی کی برائی کرتا ہے تو اپنے روزہ کو پھاڑ ڈالتا ہے۔"
وہ سمجھتے ہیں کہ نفس کی اطاعت اور ہوا و ہوس کی بندگی اور عمل شر، منافی ٴروزہ نہیں، لیکن ان کو سچا سمجھا جائے یا اس ہادیٴ برحق کو جس نے فرمایا:
«ليس الصيام من الاکل والشرب إنما الصيام من اللغو والرفث »(حاکم)
"روزہ کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں بلکہ لغو اور عمل شر سے پرہیز کا نام ہے۔"
جو لوگ جھوٹ اور عمل بد کو روزہ کے لئے مضر نہیں خیال کرتے اور دن بھر روزہ کے ساتھ اس میں مصروف رہتے ہیں، ان کو اپنی طرف سے کیا کہا جائے؛ اس مخبرصادق کا ارشاد پہنچائے دیتے ہیں جس کی کوئی تکذیب نہیں کرسکتا :
«من لم يدع قول الزور والعمل به والجهل فليس لله حاجة أن يدع طعامه وشرابه»
"جو روزہ کی حالت میں جھوٹ اور جہالت کے کاموں کو نہیں چھوڑتا تو خدا کو کوئی ضرورت نہیں کہ یہ روزہ دار بے کار اس کے لئے اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔" (صحیح بخاری: ۶۰۵۸)
پس اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ روزہ کی حقیقت کیا ہے۔ روزہ ایک ملکوتی حالت کے ظہور کا نام ہے۔ صائم کا جسم انسان ہوتا ہے لیکن ا س کی روح فرشتوں کی زندگی بسر کرتی ہے جو نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں۔ وہ تمام مادیاتِ عالم سے پاک اور ضروریاتِ دنیوی سے منزہ اور مصروفِ تسبیح و تحمید و تقدیس ہوتے ہیں۔ اس لئے صائم بھی نہ کھاتا ہے، نہ پیتا ہے۔ وہ مادّیات سے پاک اور ضروریاتِ دنیوی سے منزہ رہنے کی، جہاں تک اس کی خلقت اور فطرت اجازت دیتی ہے، کوشش کرتا ہے۔ پس صائم مجسم نیکی ہوتا ہے، وہ کسی کی غیبت نہیں کرتا، وہ کسی کو برا نہیں کہتا، وہ کسی سے جہالت نہیں کرتا، وہ اس حکم کی تعمیل کرتا ہے :
«وإذا کان يوم صوم أحدکم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابَّه أحد أو قاتله فليقل: إنی امرؤ صائم» (صحیح بخاری:۱۹۰۴)
"تم میں سے جب کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ بدگوئی کرے، نہ شوروغل کرے۔ اگر اسے کوئی برُا کہے یا اس سے آمادہ ٴ جنگ ہو تو کہہ دے: میں روزہ سے ہوں۔"
روزہ فی الحقیقت نفس کشی کے لئے بہترین حربہ ہے اور شیطانی حملوں کی مدافعت کے لئے بہترین سپر ہے۔ وہ دنیا میں بھی سپر ہے اور آخرت میں بھی سپر ہے، دنیا میں بغاوت نفس کے لئے اور آخرت میں جہنم کے حملوں کے لئے اور کیوں نہ ہو جبکہ روزہ خیر محض اور نیکی ٴخالص ہے اور روزہ کی جزا خود خدا دینے والا ہے
«قال رسول اللهﷺ قال الله تعالیٰ: کل عمل ابن آدم له إلا الصيام فإنه لی، وأنا أجزی به والصيام جنة» (صحیح بخاری:۱۹۰۴)
"حدیث ِقدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انسان کا تمام عمل اس کے لئے ہے لیکن روزہ میرے لئے ہے، میں اس کی جزا دینے والا ہوں اور روزہ سپر ہے۔"
پس مبارک اور خوش قسمت ہے وہ جو اس سپر کو لے کر دنیا کے کارزارِ اعمال میں آتا ہے اور خدا کی رحمت کا مستحق ہوتا ہے، کیونکہ یہ شرف روزہ داروں کو ہی حاصل ہے کہ جب رمضان المبارک آتا ہے تو ان کے لئے رحمت ِخداوندی کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں، جیسا کہ اس صادق و مصدو ق نے فرمایا:
«إذا دخل رمضان فتحت أبواب الجنة وفی رواية أبواب الرحمة وغلقت أبواب جهنم وسلسلت الشياطين» (صحیح بخاری: ۱۸۹۹)
"جب رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے اور دوسری روایت میں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے"
پس مبارک ہے وہ جو روزہ کو سپر بنا کر شیاطین کے حملوں سے اپنے کو بچاتا ہے۔ مبارک ہے وہ جس پر رحمت ِخداوندی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ مبارک ہے وہ جو اِن ایام میں خدا کے لئے اپنے کھانے پینے اور جماع کو چھوڑتا ہے اور اس شرف سے مشرف ہوتا ہے جس کا اعلان اشرف الانبیا نے اپنی زبانِ حق سے فرمایا:
«کل عمل ابن اٰدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلی سبع مأة ضعف قال الله تعالیٰ: إلا الصوم فإنه لی وأنا أجزی به يدع شهوته و طعامه من أجلی»
"ابن آدم کے ہرنیک کام کا بدلہ دس سے سات سو نیکیوں تک دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مگر روزہ اس سے مستثنیٰ ہے،وہ میرے لئے ہے، میں اس کا بے حساب اجر دوں گا، کیونکہ روزہ دار میرے لئے اپنی شہوانی خواہشات اور کھانے پینے کو چھوڑتا ہے۔" ( مسلم:کتاب الصیام، ۲۷۰۱)
( ہفت روزہ 'توحید ' امرتسر ... ۱۳/فروری ۱۹۲۹ء جلد ۴/ شمارہ ۱۵، ۱۶،۱۷)

٭٭٭٭٭