۱۱/ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں وقوع پذیرہونے والے ہولناک طیارہ بموں کے دھماکوں نے امریکی قیادت کوبالخصوص اور اہل مغرب کوبالعموم شدید غم و غصہ اور جنونیت میں مبتلا کردیاہے۔ ان کے دلوں میں انتقام کے شعلے بھڑک رہے ہیں اوران کی زبانیں لفظوں کی بجائے انگارے برسا رہی ہیں۔ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کوشدید نفرت اور حقارت کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور متعدد مقامات پر مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملے کئے گئے ہیں۔ پبلک مقامات، دفاتر، بازار، جہازوں اور ریل گاڑیوں میں سفر کے دوران مسلمانوں کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کیا جارہا ہے۔ جارج بش جونیئر جنہیں خود امریکی 'نالائق ترین' صدر ہونے کا طعنہ دیتے آئے ہیں، آج کل اٹھتے ، بیٹھتے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ کا طبل بجا رہے ہیں۔ ابھی تک ٹھوس شہادت میسر نہ آنے کے باوجود وہ نہایت تواتر سے طالبان کولسانی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ان کا لب و لہجہ ایک 'عظیم قوم' کے عظیم صدر کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہے۔ قوموں کو بڑے المناک حادثات سے گزرنا پڑتا ہے، ایسے عالم میں قیادت کو حکمت اور تدبر سے اپنی قوم کے ایسے حادثات سہنے کے لئے تیار کرنا چاہئے، نہ کہ کسی بڑے حادثے اور تصادم کے لئے تیار کرنا چاہئے۔
امریکی صدور کا مزاج ہمیشہ رعونت، فرعونیت اور تکبر کے اظہار پر مبنی رہا ہے۔ واحد سپر پاور ہونے کے گھمنڈ نے ان کی بددماغی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہیں اپنی عسکری قوت پر اس قدر ناز ہے کہ وہ ٹھنڈے دل سے حقائق و واقعات کا معروضی تجزیہ کرنے کے لئے ذہنی طور پر کبھی تیار ہی نہیں ہوتے۔ پوری دنیا پر بزورِ بازو اپنی برتری کی دھونس جمانا ان کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین عنصر ہے۔ وہ ہمیشہ نرگسیت کے خول میں بند رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے وہ سب سے بڑے چمپئن ہیں۔ لہٰذا وہ پوری دنیا سے توقع رکھتے ہیں کہ ان کی ظالمانہ اور غیر منصفانہ خارجہ پالیسی کی تائید کی جائے گی۔ ان کا تکبر انہیں یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ پوری دنیا کی پسی ہوئی اقوام بالخصوص مسلمان ملکوں میں امریکہ کے خلاف پائی جانے والی نفرت کے حقیقی اسباب و محرکات کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کریں۔امریکی پوری دنیا میں ہر دلعزیز ہونا چاہتے ہیں، مگر ان کی اکثر پالیسیاں ان کے خلاف نفرت اور اشتعال کے جذبات کو پروان چڑھاتی ہیں۔
۱۱/ ستمبر کی شام کو امریکی صدر جارج واکربش نے دہشت گردی کے واقعات کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ " امریکہ کو ان حملوں کا ہدف اس لئے بنایا گیا ہے کیونکہ ہم دنیا میں آزادی کی روشن ترین کرن ہیں۔" ۲۱/ ستمبر کوکانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنے 'تاریخی' خطاب میں جارج بش نے ایک دفعہ پھر کہا:"امریکی عوام پوچھتے ہیں، آخر وہ ہم سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ وہ (دہشت گرد) ہم سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ہم جمہوری طور پر منتخب شدہ حکومت ہیں۔ وہ ہماری آزادیوں؛ آزادی ٴ مذہب، آزادی ٴ تقریر، ووٹ دینے اور اجتماع کرنے کی آزادی اور اختلافِ رائے کی آزادی سے نفرت کرتے ہیں" (برطانوی روزنامہ گارجین: ۲۱/ ستمبر)
امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ کولن پاول نے مذکورہ حملوں کو انسانی تہذیب، اعلیٰ امریکی اقدار اور آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ ہیلری کلنٹن جو نیو یارک سے سینٹر منتخب ہوئی ہیں، انہوں نے بھی ان حملوں کو اعلیٰ تہذیبی اقدار اور انسانی آزادیوں پر حملہ قرار دیا۔ متعدد دیگر امریکی راہنماؤں کے بیانات بھی اس سے ملتے جلتے ہیں۔ کیا واقعی دہشت گردوں نے امریکہ پر حملے اس لئے کئے ہیں کہ انہیں اس بات کا شدید رنج تھا کہ امریکہ دنیا میں 'آزادی کی روشن ترین کرن' کیوں بنا ہوا ہے؟ کیا یہ دہشت گرد انسانی قدروں کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے؟ عقل عام امریکی راہنماؤں کے اس غیرمنطقی اور غیر معروضی تجزیہ کو کبھی قبول نہیں کرے گی، حقائق سے چشم پوشی کا یہی وہ رویہ ہے جو مسائل کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھانے کا باعث بناہوا ہے!!
مسلمان دانشوروں کی اکثریت امریکہ میں لرزہ خیز دہشت گردی کے پس پشت یہودی سازش کو کارفرما قرار دے چکی ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کی کئی ایجنسیوں نے بھی اس عدیم النظیر دہشت گردی اور منصوبہ بندی کے پس پشت 'موساد' کے ملوث ہونے کے خدشات بیان کئے ہیں۔اگریہ دہشت گردی اسرائیلی ایجنسی 'موساد' نے کرائی ہے تو ان کامقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ امریکہ کو مسلمانوں کے خلاف اشتعال دلا کر عالم اسلام کو سخت نقصان پہنچایاجائے اور امریکہ و یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا راستہ بند کردیا جائے۔ مگر مسلم اور غیرمسلم دانشوروں کی ایک کثیر تعداد جو ان دھماکوں کے متعلق کسی مسلمان تنظیم کے متعلق شبہات کا اظہار کررہے ہیں، ان کے خیال میں بھی امریکہ پریہ حملے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف ردّعمل کانتیجہ ہیں۔ یہ بات باعث ِاطمینان ہونی چاہئے کہ امریکہ میں بھی ابھی کچھ ایسے ہوش مند افراد موجود ہیں جو چیزوں کو صحیح تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت سے محروم نہیں ہیں۔ اس وقت جب کہ امریکی قیادت پر انتقام کے جذبات غالب ہیں اوروہ کسی معقول بات کو سننے کے لئے قطعاً تیار نہیں ہے، کچھ امریکی دانشور اور راہنما امریکی قوم کو اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنے قومی کردار کا منصفانہ جائزہ لینے کی تلقین کررہے ہیں۔ برطانیہ اور یورپ کے دیگر ملکوں میں بھی اہل دانش امریکہ کے خلاف نفرت کے حقیقی اسباب کا کھوج لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے درمیان مثبت ربط کو تلاش کرنے کی بحث شدت سے کی جارہی ہے۔ ذیل کی سطور میں امریکہ اور برطانیہ کے اخبارات سے چند حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں جو تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتے ہیں :
ہنری براؤن جو ۲۰۰۰ء کے امریکی انتخابات میں صدارتی امیدوار تھے، انہوں نے ۱۲/ ستمبر کو اپنا ردِعمل بیان کرتے ہوئے تحریر کیا:
"امریکہ کے خلاف دہشت گردی کے یہ حملے ایک خوفناک المیہ سے کم نہیں ہیں لیکن یہ زیادہ تعجب کا باعث نہیں ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جنگ کے دوران پہلی چیز جو ہلاک ہوتی ہے، وہ سچائی ہے۔ حالت ِجنگ میں پراپیگنڈہ کے زور پر سچائی کا خو ن کردیا جاتا ہے... گذشتہ کئی دہائیوں سے ہماری خارجہ پالیسی غیر دانش مندانہ (insane) رہی ہے۔ ا س کی وجہ سے امریکی عوام کو مصائب سے بالآخر دوچار ہونا ہی تھا۔ یہ زندگی کا ایک لرزہ خیز المیہ ہے کہ معصوم اوربے گناہ لوگ مجرموں کے گناہوں کی یوں سزا پائیں۔ زندہ ضمیر رکھنے والے امریکی دریافت کرنے کاحق رکھتے ہیں کہ ہم آخر کب یہ سبق سیکھیں گے کہ ہم اپنے سیاستدانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ دنیا پر اپنی دھونس جماتے پھریں، جس کے نتیجے میں بالآخر امریکی عوام دھونس اور دہشت کا شکار ہوں۔"
امریکی صدور کی غیردانش مندانہ پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے ہنری براؤن لکھتے ہیں:
"صدر بش نے عراقی عوام پربمباری کو جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔ صدر بل کلنٹن نے سوڈان، افغانستان اور عراق کے بے گناہ لوگوں پربمباری کرائی، بش سینئر نے عراق اور پانامہ پرحملے کرائے، صدر ریگن نے لیبیا کے بے گناہ لوگوں اور گریناڈا کوبمباری کا نشانہ بنایا اور علیٰ ہذا القیاس۔ کیا ہم نے ذرّہ بھر بھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ وہ لوگ جو اپنے خاندانوں، دوستوں اور مال ومتاع سے محروم ہوئے، کیا وہ امریکہ سے اس برتاؤ کے نتیجہ میں 'محبت' کریں گے؟ ہم آخر کب یہ سبق سیکھیں گے کہ تشدد ہمیشہ جوابی تشدد ہی کو جنم دیتا ہے۔ صدر ریگن نے معمر قذافی کو سبق سکھانے کے لئے لیبیا پربمباری کرائی۔ لیکن تھوڑے ہی عرصہ بعد سکاٹ لینڈ کے اوپر جہاز کو دہشت گردوں نے تباہ کردیا۔ہماری حکومت کو یقین ہے کہ یہ کارروائی لیبیا کے باشندوں نے کی۔ آخر ہم کب یہ جان پائیں گے کہ کسی کو سبق سکھانے کا نتیجہ سوائے ایک جوابی رنجش اور اشتعال کے اور کچھ نہیں ہوتا، یہ ہمیشہ مظلوم کو مزید مزحمت پر ابھارتا ہے۔" (روزنامہ دی نیوز، ۱۷ /ستمبر)
۱۴/ ستمبر کے 'واشنگٹن پوسٹ' میں معروف امریکی صحافی Jim Hoagland کاایک مضمون 'سچائی کا لمحہ' (Moment of Truth) کے عنوان سے شائع ہوا۔اس میں وہ واشگاف الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
"It was not democracy or western civilization that the bombers attacked on 11 sep. It was the United States they struck for specific reasons that almost certainly have roots on the persion Gulf."
"یہ نہ تو جمہوریت تھی اور نہ مغربی تہذیب جس پر ۱۱/ ستمبر کو بمباروں نے حملہ کیا، یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہی تھا جسے انہوں نے ان مخصوص وجوہات کی وجہ سے نشانہ بنایا جن کی جڑیں یقینی طور پر خلیج فارس میں ہیں۔"
ایک اور امریکہ مصنف سوسان سن ٹیگ Susan santag نے ایک جرمن اخبار Zeitung میں تحریر کردہ اپنے مضمون میں امریکی میڈیا اور سیاستدانوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ "وہ امریکی عوام کو دہشت گردی کے اس واقعہ کے متعلق دھوکہ اور فریب دے رہے ہیں۔انہوں نے لکھاکہ میڈیا اور سیاستدان مذکورہ حملوں کے بارے میں مشترکہ طور پر 'ڈس انفارمیشن' کی مہم چلا رہے ہیں" (روزنامہ ڈان، ۱۶/ ستمبر)
برطانیہ کے معروف اخبار 'دی گارجین' نے ۱۷ ستمبر کی اشاعت میں قارئین کے خطوط کو اس عنوان سے شائع کیا :
"The seeds of hatred tht led to attacks on U.S cities."
"نفرت کے بیج جو امریکی شہروں پرحملہ کا باعث بنے!"
گارجین کی اسی اشاعت میں ایک قاری مسٹر پیٹر گڈ چائلڈ Peter Goodchild کا خط شائع ہوا ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں:
"مغرب کے لئے اس نفرت اور رنجش کو سمجھنا آخر کیونکر دشوار ہے جو اس کے خلاف عرب اور مسلم معاشروں میں پائی جاتی ہے؟ سائنس اور ٹیکنالوجی میں عربوں نے اوّلین کارنامے انجام دیئے مگر مغرب اس میدان میں صرف اپنی ہی کامیابیوں کو اہمیت دیتا ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران یورپی نو آبادیت اور غلبہ نے ان بجا طو رپر فخر کرنے والی اقوام میں ذلت کے احساس کو پیدا کیا، یہ ذلت آج بھی جاری ہے۔ مغرب عرب سرزمین پر طاقت کے زور پر ایک ایسی تہذیب کو غالب کرنا چاہتا ہے جسے عرب اجنبی سمجھتے ہیں۔ مغرب ایک ایسا عالمی نظام مسلط کرنا چاہتا ہے جو صرف اس کے لئے موزوں ہے۔ ا س کے علاوہ یہ اپنی سیکولر زم اور صارفیت کی اَقدار کو مسلط کرناچاہتا ہے جسے عرب قبول نہیں کرتے۔ اس پس منظر میں نفرت کا الاؤ بھڑکنا ایک ناگزیر بات ہے اور یہ بات زیادہ تعجب انگیز نہیں ہونی چاہئے کہ ایسے عالم میں چند نوجوان مایوس کن اقدام اٹھانے کی طرف مائل ہوجائیں۔بالآخر یہ صورتحال ناقابل بیان انتقام تک پہنچ جاتی ہے۔"
سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہودا بارک کا ۱۳/ ستمبر کو بیان شائع ہوا جس میں اس نے عرب دہشت گردوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کے لئے سخت ترین اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ جم سائلرز Jim Sielars جو برطانوی پارلیمنٹ کے رکن اور سکاٹش نیشنل پارٹی کے راہنما ہیں، نے ایہودا بارک کے اس بیان پراپنا ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے گارجین کے ایڈیٹر کو خط لکھا :
"جناب ایہودا بارک نے مغربی تہذیب میں قانون کی حاکمیت کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ ہم دہشت گردوں اور ان کو پناہ دینے والوں کو کس طرح نیست و نابود کرسکتے ہیں۔ میں یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ برطانیہ جسے فلسطین پر انتداب حاصل تھا، اگر اسی سخت گیری کا مظاہرہ کرتا جس کی وکالت آج جناب ایہودا بارک فرما رہے ہیں تو یقینی بات ہے پھر روئے زمین پرنہ تو کوئی اسرائیل نام کی ریاست ہوتی اور نہ بیگن اور شمیر نام کے کوئی وزیراعظم ہوتے۔ جہاں تک قانون کی حکمرانی کا تعلق ہے، جناب ایہود بارک کے ذہن میں اقوام متحدہ کے منظو رکردہ بین الاقوامی قانون کے علاوہ شاید کسی اور قانون کا خاکہ ہے۔اسرائیل نے سیکورٹی کونسل کی منظور کردہ قرارداد نمبر 242 کی خلاف ورزی کی ہے جس میں کسی علاقے کو جنگ کے ذریعے ہتھیانے کی مذمت کی گئی ہے اور اسرائیل کو مقبوضہ علاقے خالی کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس طرح اسرائیل نے قرار داد نمبر 452 کو بھی نظر انداز کیا ہے جس میں اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے میں آبادکاری کی مذمت کی گئی ہے۔ سیکورٹی کونسل کی قرار داد نمبر 495 جس میں جنیوا کنونشن کی رو سے فلسطینی آبادی کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے، پر آج تک عملدرآمد نہیں کیا گیا۔یہ محض چند مثالیں ہیں جن میں اسرائیل نے بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کیا ہے اور اس پر اس کا محاسبہ نہیں ہوا۔"
اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد مسٹر جم یوں تبصرہ فرماتے ہیں:
"یہ بات حیران کن ہے کہ بہت سے لوگ ہٹلر کی طرف سے یہودیوں کے قتل عام (Holocaust) اور اسرائیل کے قیام کے درمیان اسباب و علل کا منطقی تعلق تو سمجھتے ہیں لیکن وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کی طرف سے وحشیانہ مظالم اور رویے کی وجہ سے اس کے اور اس کے مربی امریکہ کے خلاف مشرقِ وسطیٰ میں نفرت پائی جاتی ہے۔ اگر اسرائیل پر بین الاقوامی قانون لاگو کیاجاتا، تو نیویارک اور واشنگٹن کے بے گناہ لوگوں کو وہ قیمت نہ چکانی پڑتی جو بالآخر انہوں نے چکائی ہے۔ مسٹر بش اورمسٹر ٹونی بلیر جو آج 'اِقدامِ جنگ'کی بات کر رہے ہیں، یہ ان کے لئے دانش مندانہ امر ہوتا کہ وہ اسباب و علل بالخصوص 'اسباب' پر ذرا زیادہ گہرائی سے توجہ فرماتے۔" (گارجین، انٹرنیٹ ایڈیشن)
برطانوی وزیر خارجہ مسٹر جیک سٹرا (Jack Straw) نے ضمیر کی آواز سے مجبور ہوکر یا ڈپلومیسی کی زبان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کی ہمدردیاں جیتنے کے لئے چند دن پہلے یہ بیان دیا:
"دہشت گردی کو فروغ دینے میں بہت سے اسباب میں سے ایک سبب وہ غصہ ہے جو اس خطے (مشرقِ وسطیٰ) کے لوگ گذشتہ برسوں میں فلسطین میں ہونے والے واقعات کے متعلق رکھتے ہیں"
اسرائیل نے برطانوی وزیر خارجہ کے اس بیان کے خلاف ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مسٹر جیک سٹرا کی ہونے والی ملاقات کو یک طرفہ طور پر منسوخ کردیا ہے۔" ('دی نیوز': ۲۷/ ستمبر)
امریکی قیادت کی متکبرانہ پالیسیوں کے خلاف مغربی دانشور بھی گاہے بگاہے صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں۔امریکہ میں دہشت گردی کوبعض افراد نے امریکی لیڈروں کی رعونت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ جوناتھن پاور (Jonathan Power)نیویارک ٹائمز کے سینئر کالم نگار ہیں، انہوں نے حال ہی میں اپنے کالم کا عنوان "Paying a price for arrogance." (رعونت کی قیمت چکاتے ہوئے) رکھاہے۔ جو ناتھن لکھتے ہیں:
"امریکی قوم موجودہ دہشت گردی سے نہ صرف شدید پریشان اور غصہ میں ہے بلکہ کافی حد تک حیران بھی۔یہ ابھی تک نہیں سمجھ سکی ہے کہ آخر اس کے خلاف کوئی اس قدر نفرت کیسے کرسکتاہے۔ اسے اپنے خلاف عالمی سطح پر اٹھنے والی مخالفانہ موجوں کاصحیح ادراک نہیں ہے۔ انہیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ پوری دنیا میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہورہا ہے۔"
مسٹر جوناتھن کے خیال میں امریکی اس قدر مغرور ہیں کہ وہ اپنے قریبی ترین اتحادیوں کے مشوروں کو بھی اہمیت نہیں دیتے، وہ یہ پسند ہی نہیں کرتے کہ کوئی انہیں یہ بتائے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔ جوناتھن نے امریکہ کی اسرائیل کے متعلق پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، لکھتے ہیں:
"واشنگٹن کو سابقہ چھ اسرائیلی صدور کو سختی سے بتا دینا چاہئے تھا کہ جب اس نے انتہائی احمقانہ اور متحارب پالیسی اپنائی تھی جس کی رو سے فلسطین کے علاقے میں یہودیوں کو آباد کرنا تھا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ یہ فلسطینی زمین ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پالیسی ابھی تک جاری و ساری ہے ... جب عرب حکومتیں کچھ امداد نہیں کرتیں اورنوجوان فلسطینیوں کو دنیا کی ایک منظم ترین فوج کے خلاف پتھروں سے لڑنا پڑتا ہے، تو ان میں سے بعض نوجوان ایسے بھی ہوتے ہیں جو فلسطین کاز کیلئے تشدد کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں، فدائی مشنوں کی صورت میں۔ اگرچہ ہمیں ابھی تک ورلڈ ٹریڈ سنٹر پربمباری کرنے والوں کا صحیح طور پر علم نہیں، مگر اس واقعہ کی وضاحت اس طرح ہی کی جاسکتی ہے۔"
برطانیہ سے شائع ہونے والے عالمی سطح کے موقر ہفت روزہ 'اکانومسٹ' نے اپنی حالیہ اشاعت میں ایک مفصل مضمون "The Roots of Hatred" (نفرتوں کی جڑیں) کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں امریکہ کے خلاف نفرت کی ممکنہ وجوہات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کالم میں ایک تصویر میں احتجاج کرنے والوں کے ہاتھ میں ایک پوسٹر دکھایا گیا ہے جس پر تحریر ہے: "امریکیو! ذرا غور کرو تم سے ساری دنیا میں نفرت کیوں کی جاتی ہے؟" اکانومسٹ اس موضوع پر بحث کا آغاز یوں کرتا ہے :
"آخر کسے الزام دیا جائے؟ اس کاایک سادہ سا جواب تو یہی ہے ...امریکہ پر خود کش حملہ آور اور ان کے معاون! مگر یہ مشکل سے ہی مناسب جواب ہوگا۔ بالکل اسی طرح کہ جیسے دوسری جنگ عظیم کا الزام ہٹلر پر دھرا جائے مگر 'معاہدئہ ورسلیز' کا تذکرہ نہ کیا جائے۔ ایک حیران کن تعداد ایسے لوگوں کی ہے جس میں سب مذہبی انتہا پسند نہیں ہیں، جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ کافی حد تک امریکہ نے جو کچھ بویا تھا وہ اب کاٹا ہے۔ امریکہ پر یہ الزام کہ یہ عالمی سیاست میں بہت متکبرانہ کردار ادا کرتا ہے، بھی کچھ حد تک توجہ کا متقاضی ہے۔ مگریہ بہتر ہوگاکہ ذرا ماضی میں جھانک کر دیکھا جائے۔سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے سوویت یونین اورکمیونزم کو شکست دینے کے لئے بلاشبہ اپنے ہی قائم کردہ اصولوں کی پامالی کی۔ اس نے افریقہ اور ایشیا میں آمروں کی سرپرستی کی۔مشرقِ وسطیٰ میں حکومتوں کے تختے اُلٹے۔ عراق اورلیبیا پربے رحمانہ حملے کئے۔ عراق کے خلاف پابندیاں درحقیقت بے گناہ عراق عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔ صدام حسین کو بجا طور پر ہزاروں بچوں کی اموات کا الزام دینے کا موقع ملتا ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کی بعض اوقات مہارت اور بعض اوقات بے ڈھنگے طریقے سے حفاظت کرتا ہے۔حقیقت میں گذشتہ ہفتے کے خوفناک حملوں کی وجوہات تلاش کرنا مشکل ہوگا سوائے ان لوگوں کے دلوں میں نفرت کے جذبات کے جنہوں نے یہ کام کیا۔" ( اکانومسٹ: ۲۲ /ستمبر ۲۰۰۱ء)
امریکی ہفت روزہ 'ٹائم'(یکم اکتوبر) نے Why they Hate: Roots of Rage (وہ نفرت کیوں کرتے ہیں: غصے کی جڑیں) کے عنوان سے تین صفحات پر پھیلا ہوا ایک جامع مضمون شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں امریکہ کے خلاف عالم اسلام میں موجود ہ نفرت کو مغربی استعماریت، استحصال، مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی امتیازی ظالمانہ پالیسی، عراقی عوام کے خلاف مسلسل وحشیانہ بمباری، سعودی عرب میں امریکی افواج کی اشتعال انگیز موجودگی اور امریکہ کی جانب سے یہودیوں کی بے جا ناز برداری کے خلاف ردِعمل قرار دیا گیا ہے۔
۱۱/ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کی تباہی کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ نے اس واقعہ کو اس قدر 'کوریج' دی ہے کہ لگتا ہے، امریکی و یورپی ذرائع ابلاغ کو ہسٹریا کا مرض لاحق ہوگیاہے۔ اگرچہ اکثر اخبارات اور ٹیلی ویژن امریکی موقف ہی پیش کررہے ہیں،مگر ان میں سے بعض استثنائی صورتیں بھی ہیں۔ برطانوی اخبارات میں سے 'گارجین' نے کافی حد تک کوشش کی ہے کہ دوسرا موقف بھی پیش کیا جائے۔ خاص طور پر اس اخبار نے اپنے Comments کے صفحہ کو کافی متوازن بناکر پیش کیا۔ اس صفحہ کے انچارج Suemas Miln کا ۱۳/ ستمبر کے گارجین میں مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا:
"They can't see why they are hated."
اس مضمون کی حمایت میں مصنف کو دوہزارسے زیادہ ای میل موصول ہوئیں جس میں قارئین نے مصنف کی اس رائے سے اتفاق ظاہر کیا کہ امریکہ میں ہونے والی تباہی اور امریکی خارجہ پالیسی کے درمیان علت اور معلول کا رشتہ ہے۔سینکڑوں خطوط ایسے بھی تھے جس میں مسٹر ملن کو امریکہ مخالف خیالات کے اظہار پر قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس کے علاوہ گارجین کو اس ہفتہ کے دوران روزانہ اوسطاً ۹۰۰ ای میل موصول ہوئیں جن میں سے اکثریت کا تعلق اسی موضوع سے تھا۔ ملن کے مضمون کے جواب میں ایک خاتون نے لکھا:
"اس مضمون میں امریکہ کے خلاف بیان کردہ نفرت نے میرا جی متلا دیا۔ میں ایک نرس ہوں جواس واقع کے متاثرین کے علاج معالجہ پر مامور ہے، میں متاثرین اور ان کے خاندانوں کو بتاؤں گی کہ جو کچھ ہوا، وہ ان کا قصور تھا کیونکہ وہ امریکی ہیں۔" (حوالہ گارجین: ۲۲/ ستمبر ۲۰۰۱ء انٹرنیٹ)
قارئین کرام! مندرجہ بالا سطور میں محض چند غیر ملکی اخبارات اور رسالہ جات کے مختلف حوالوں کی بنیاد پر چند مغربی دانشوروں کی آرا پیش کی گئی ہیں، دیگر اخبارات کی سکروٹنی (جانچ پڑتال) کی جائے تو اس طرح کے سینکڑوں مضامین یا کالم مل سکتے ہیں جس میں امریکی خارجہ پالیسی کے منفی نتائج کا ذکر کیا گیا ہوگا۔ امریکی صدر جارج بش اور ان کے رفقا دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ یا Crusade کا اعلان کرتے ہوئے یہ بات یکسر فراموش کردیتے ہیں کہ ان افسوسناک واقعات کے اصل محرکات کیا ہیں۔ جب تک اصل محرکات موجود ہیں، اسامہ بن لادن کی گرفتاری یا طالبان کی حکومت کے خاتمہ سے امریکہ کے خلاف نفرت کا خاتمہ نہیں ہوجائے گا۔ مصر کے حسنی مبارک نے امریکہ کو بالکل صحیح مشورہ دیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اپنی پالیسی پرنظرثانی کرے۔
اس وقت امریکی حکومت کی طرف سے پاکستان پر طالبان کے خلاف تعاون کے لئے شدید دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ حکومت ِپاکستان نے امریکہ سے اسامہ بن لادن کے خلاف ثبوت طلب کرلئے ہیں، مگر بعض سہولتوں کے دینے کی حامی بھری ہے جس کی وجہ سے اسے اندرونی طور پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امریکی دباؤ میں کمی لانے کے لئے ضروری ہے کہ امریکیوں پرجرأت مندی سے واضح کیا جائے کہ وہ عالم اسلام کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کریں۔امریکیوں کی نفسیات یہ ہے کہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جو بات کرتا ہے، وہ اس پر اپنی دھونس کم جماتے ہیں۔ پاکستان میں جو لوگ امریکہ کی مخالفت کررہے ہیں، انہیں 'فتویٰ فروش مولوی' یا 'مٹھی بھر عناصر' کہہ کر ان کی تحقیر نہ کی جائے۔ امریکی دیو استبداد کے خلاف مزاحمت کرنے والے ہی دورِ حاضر میں صحیح طور پر ترقی پسند کہلانے کے مستحق ہیں۔
امریکی جارج بش اور دیگر قائدین چرچ میں باقاعدگی سے سروس ادا کررہے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ مظلوم فاقہ زدہ افغانیوں کو ظالمانہ جنگ میں مبتلا کرنے کی بجائے اپنی کوتاہیوں پر غور کریں۔ انہیں اپنے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے اصل اسباب کاٹھنڈے دل سے جائزہ لینا چاہئے، ابھی تک جو وہ منصوبے بنا رہے ہیں، وہ بذاتِ خودجوابی دہشت گردی اور عظیم فساد کے زمرے میں آتے ہیں۔

٭٭٭٭٭