میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز کھڑے ہوئے تاکہ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ نے غنیمت کے مال میں چوری کرنے کو بڑا گناہ قراردیا۔ آپ نے فرمایا:
"میں قیامت کے دن تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ آئے اور اس کی گردن پرایک اونٹ بلبلا رہا ہو اورکہتا ہو کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری مدد فرمائیں اورمیں اسے کہوں کہ مجھے کچھ اختیار نہیں ہے ... (پھر فرمایا) کہ میں تم میں سے نہ پاؤں قیامت کے دن کہ وہ میرے پاس آئے، اپنی گردن پر ایک گھوڑا لادے ہوئے ہو جو ہنہنا رہا ہو اور کہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے! میں کہوں کہ مجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں توتجھے بتاچکا تھا کہ چوری کی بہت بڑی سزا ہے۔ پھر تو نے کاہے کو چوری کی۔ (پھر آپ نے فرمایا کہ) میں نہ پاؤں تم میں سے کسی کو کہ قیامت کے روز میرے پاس آئے اور اپنی گردن پر ایک بکری اٹھائے ہوئے ہو جو ممیارہی ہو اور کہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہوں کہ مجھے کوئی اختیار نہیں (کہ تجھے اس جرم کی سزا سے بچا سکوں) میں نے تو تجھے چوری کی سزا کے بارے میں اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن کسی کو نہ پاؤں کہ وہ کسی جان کو اُٹھائے ہوئے ہو جو چلا رہی ہو (کہ اس نے اس جان کو تلف کیا تھا) پھر کہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میری مدد کیجئے۔ میں کہوں کہ مجھے تجھے چھڑانے کا اختیار نہیں ہے میں تو تجھے اللہ کا حکم پہنچا چکا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں قیامت کے روز کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ اپنی گردن پر کپڑوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو جو اس نے اوڑھے ہوں (اور جنہیں اس نے چرایا تھا) یا کاغذ کے چند ٹکڑے اٹھائے ہوئے آئے جن پر وہ حقوق لکھے ہوں جو اس کے ذمہ تھے یا اور چیزیں جوہل رہی ہوں جنہیں اس نے دنیا میں چرایا تھا۔ پھر مجھے کہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری مدد کیجئے اور میں اسے کہہ دوں کہ میں تو ا س سلسلے میں تمہیں اللہ کا حکم پہنچا چکا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس حالت میں میرے پاس آئے کہ اپنی گردن پر سونا چاندی وغیرہ کا بوجھ اٹھائے ہو اور کہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اورمیں کہہ دوں کہ میں کوئی اختیار نہیں رکھتا، میں تو تمہیں اللہ کا حکم پہنچا چکا تھا۔1
سنن ابو داود میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ہم خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ غنیمت میں سونا اور چاندی حاصل نہیں ہوا بلکہ کپڑے اور مال واسباب ملا۔ آپ جب وادی القریٰ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ کو ایک حبشیغلام 'مدعم' نامی ہدیہ میں دیا گیا۔ مدینہ واپس پہنچ کر یہ شخص آپ کے اونٹ کا پالان اتار رہا تھا کہ اچانک اسے ایک تیر لگا اور وہ مرگیا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کے لئے جنت مبارک ہو۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، وہ کمبل جس کو اس نے خیبر کی لڑائی کے مالِ غنیمت میں چرایا تھا، آگ بن کر اس پر لپٹ کر جل رہا ہے۔ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص ایک یا دو تسمے آپ کے پاس لے کر آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ایک یا دو تسمے آگ کے تھے۔"2
غنیمت کا مال چرانا تودور کی بات ہے، آپ نے تو اس بات سے بھی منع فرما دیا کہ غنیمت کے کسی جانور کو وقتی طور پر سواری کے لئے استعمال نہ کیا جائے، نہ ہی کوئی کپڑا پہنا جائے، سنن ابوداود میں فرمانِ نبوی ہے، فرمایا:
«من کان يوٴمن بالله وباليوم الاخر فلا يرکب دابة من فئ المسلمين حتیٰ إذا اعجفها ردّها فيه ومن کان يوٴمن بالله وباليوم الاخر فلا يلبس ثوبا من فئ المسلمين حتیٰ إذا خلفه ردّہ فيه»3
"جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے مال میں سے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ اسے دبلا پتلا کرکے غنیمت میں واپس لوٹا دے اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر یقین رکھتا ہو تو مسلمانوں کے مال میں سے کوئی کپڑا نہ پہنے حتیٰ کہ کپڑے کو پرانا کردے اور غنیمت کے مال میں واپس کردے۔"
اس حدیث ِمبارکہ کا یہ معنی نہیں ہے کہ اگر سواری کے جانور کے دبلے پتلے ہوجانے او رپہننے کے کپڑے کے پرانا ہوجانے کا خدشہ نہ ہو تو اس جانور او رکپڑے کو استعمال کرنا جائز ہے۔ بلکہ فرمایا یہ گیا ہے کہ سواری کرنے کا مطلب یہی ہے کہ جانور کمزور ہوجاتا ہے اور کپڑے پہننے سے پرانے ہوجاتے ہیں لہٰذا نہ جانور استعمال کرو، نہ کپڑا پہنو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد فرامین اس سلسلے میں بھی منقول ہیں کہ آپ نے ایسے شخص کے لئے جنت کی بشارت سنائی ہے جو کسی منصب پر فائز کیا گیا اور اس نے کسی مالی بددیانتی کا ارتکاب نہیں کیا۔ ترمذی شریف میں ہے کہ آپ نے فرمایا: "جو شخص فوت ہوا اور وہ تین باتوں سے پاک ہے تو وہ شخص جنت میں داخل ہوا۔ یہ تین باتیں تکبر، مالی بددیانتی (غلول) اور قرض ہیں۔ان تین باتوں میں آخری دو کا تعلق حقوق العباد کے ساتھ ہے اور حقوق العباد میں مداخلت کرنے والے کے لئے ویسے بھی حکم یہ ہے کہ صرف متاثرہ شخص کے معاف کرنے سے ہی معاف ہوتے ہیں اور جب تک وہ معاف نہ کرے، کوئی شخص خواہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ گویا مال غنیمت میں بددیانتی کرنے والے کے لئے دونوں طرح سے وعید سنائی گئی ہے کہ وہ جہنم کا مستحق بھی ٹھہرایا گیا او رجنت سے بھی محروم قرا ردیا گیا۔عبداللہ بن مغیرہ سے روایت ہے :
«أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم أتی الناس فی قبائلهم يدعونهم وأنه ترک قبيلة من القبائل قال وإن القبيلة وجدوا فی بردعة رجل منهم عقد جزع غلولا فأتاهم رسول الله ﷺ فکبر عليهم کما يکبر علی الميت»4
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی جماعتوں کے سامنے تشریف لائے تو سب جماعتوں کے لئے آپ نے دعا فرمائی مگر ایک جماعت کے لئے دعا نہیں فرمائی۔ کیونکہ اس جماعت میں ایک شخص ایسا تھا جس کے پاس سے ایک کنٹھا نکلا تھا۔ جب آپ اس جماعت کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس طرح تکبیر کہی جیسے جنازے پر کہتے ہیں۔"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر واضح فرما دیا کہ غنیمت کے مال میں بددیانتی بہت بڑا جرم ہے۔ یہ مالی بدعنوانی بھی ہے، چوری بھی۔ یہ اخلاقی جرم بھی ہے اور قومی جرم بھی۔ یہ دھوکہ دہی بھی ہے اور حقوق العباد اور حقوق اللہ میں مداخلت بھی۔ اخلاقی اعتبار سے بھی اس جرم کے بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: "جو قوم غنیمت کے مال میں بددیانتی کرتی ہے، ان کے دلوں میں بزدلی پیدا ہوجاتی ہے"۔ طبرانی میں اس روایت کا رفع رسول اللہ تک موجود ہے۔5
حضرت سمرة بن جندب سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: "جو شخص غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپائے۔ یعنی امام کے سامنے ظاہر نہ کرے کہ فلاں شخص نے خیانت کی ہے تو وہ بھی خیانت کرنے والے جیسا ہے" یعنی گناہ میں برابر کا شریک ہے۔6
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالی بدعنوانیوں کے تمام راستے مسدود کردیئے۔ آپ نے حکمران کو منع فرما دیا ہے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ تجارت نہ کرے۔ فرمایا :
«من أخون الخيانة تجارة الوالی فی رعيته»7
"بدترین خیانت یہ ہے کہ والی اپنی رعایت کے ساتھ تجارت کرے۔"
اس کا سبب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے والی اپنے منصب کے بل بوتے پر لوگوں کو متاثر کرے اور ناجائز مراعات حاصل کرے۔
مالِ غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب تم دیکھو کہ کسی نے مالِ غنیمت کے مال میں سے چوری کی ہے تو اس کا سامان جلا ڈالو اور اسے مارو" راوی نے بتایا کہ اس شخص کے سامان میں ایک مصحف (قرآن مجید کا نسخہ) بھی تھا... یہ مصحف بیچ ڈالا گیا او راس کا ہدیہ اللہ کی راہ میں کسی کو دے دیا گیا۔8
ابوداود میں اس سلسلے میں مزید روایات بھی ہیں ۔ ایک روایت میں راوی کا بیان ہے کہ ہم نے ولید بن ہشام بن عبدالملک بن مروان کے ساتھ جہاد کیا او رہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر اور عمر بن عبدالعزیز بھی تھے۔ ایک شخص نے مالِ غنیمت میں سے چوری کی۔ ولید نے حکم دیا کہ اس کا سامان جلا ڈالا جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پھر اس شخص کو لوگوں میں پھرایا گیا اور مالِ غنیمت میں سے اس کا اپنا حصہ بھی نہ دیا گیا۔ ابوداود لکھتے ہیں کہ یہ روایت بہت صحیح ہے اور اسے بہت سے اور لوگوں نے بھی روایت کیا ہے۔ اسی جگہ ابوداود میں یہ روایت بھی ہے کہ ولید نے زیاد بن سعد کا سامان بھی جلا ڈالا۔ کیونکہ اس نے بھی مالِ غنیمت میں سے چوری کی تھی۔ اسی جگہ ایک اور سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر نے غنیمت میں خیانت کرنے والے کا سامان جلا ڈالا۔ اسے مارا گیا اور اسے غنیمت میں سے اس کا حصہ بھی نہ دیا گیا۔9
اس روایت کے بارے میں امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے۔ امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ یہ حضرت سالم کا اپنا فتویٰ ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل اور ان کے ساتھیوں، اسی طرح حضرت حسن اور حضرت علی کا یہی نقطہ نگاہ ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ اسے کچھ سزا بھی دی جائے اور مالِ غنیمت میں سے اس کاحصہ بھی اسے نہ دیا جائے۔10
امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور جمہور ائمہ کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ اس کا سامان جلایا نہ جائے، صرف اس کے جرم کے مطابق اسے تعزیر کے طور پر سزا دی جائے۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خائن کے جنازے میں شرکت نہیں فرمائی لیکن اس کا سامان جلایا نہیں۔11 خود ابوداود نے بھی باب قائم کیا ہے کہ جب کوئی غنیمت میں سے حقیر سی چیز چرائے تو مال جلایا نہ جائے۔12
علامہ نووی  فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ غلول یعنی غنیمت کے مال میں سے چوری کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ اگر چرایا ہے تو اسے واپس کردے۔ اگر لشکر بکھر جائے اوریہ مال حقداروں میں تقسیم کرنا ممکن نہ ہو تو اس میں علما کا اختلاف ہے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ وہ مال امام کے سپرد کردیا جائے، اس میں علما کا ایک گروہ ان کا ہم نوا ہے۔ البتہ حضرت ابن مسعود، ابن عباس، معاویہ اور حسن، زہری، اوزاعی، مالک،ثوری ،لیث بن سعد اور امام احمد اور جمہور علما کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ اس کا پانچواں حصہ (خمس) امام کو ادا کردیا جائے اور باقی کا صدقہ کردیا جائے۔ چرانے والے کو امام جس طرح کی سزا چاہے دے لے، لیکن اس کا مال و اسباب اور گھر جلایا نہ جائے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کا یہی نقطہ نگاہ ہے۔ مکحول، حسن اور اوزاعی کے نزدیک اس کا گھر اور اسباب سب جلا دیا جائے گا۔ صرف ہتھیار اور جوکپڑے اس نے پہنے ہوں، وہ نہیں جلائے جائیں گے۔13
مالِ غنیمت میں سے جو شخص کوئی چیز چراتا ہے اسے 'غال' (خائن) اور اس فعل کو' غلول' (خیانت) کہا جاتاہے۔ غالّ کے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کا جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا۔ زید بن خالدجہنی سے روایت ہے کہ خیبر کے دن ایک جہنی شخص فوت ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس شخص کی وفات کا ذکر کیا گیا توآپ نے فرمایا: «صلوا علی صاحبکم» (یعنی اپنے ساتھی کا جنازہ 'تم خود ہی' پڑھو) آپ کی بات سن کر لوگوں کے چہرے متغیر ہوگئے۔ یہ دیکھتے ہوئے آپ نے فرمایا: «إن صاحبکم غلّ من الغنیمة» (تمہارے ساتھی نے غنیمت کے مال میں سے کوئی چیز چرائی تھی)14 امام احمد نے اس سے یہ اخذ کیا ہے کہ آپ کا یہ فرمانا کہ تم جنازہ پڑھ لو اور خود نہیں پڑھا، کہ امام کے لئے مناسب نہیں کہ وہ 'غال' کی نمازِ جنازہ پڑھے۔ اس کے علاوہ باقی تمام لوگ جنازہ پڑھیں گے۔15 یہ درحقیقت بددیانتی کے جرم کی شدت کے اظہار کی ایک صورت ہے۔
زکوٰة جمع کرنے والے کا ظالمانہ رویہ
مالیاتی شعبے میں ایک اورشعبہ جس میں عام طور پر خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور جو حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھا دیتی ہیں وہ مال جمع کرنے والوں کا عوام کے ساتھ ظالمانہ رویہ ہے۔ یہ لوگوں سے محصول اور زکوٰة کے نام پر مقررہ شرح سے زائد وصول کرتے ہیں۔ ایسا کرنے والے شخص کو صاحب ِمکس کہا گیا ہے ۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو متعینہ شرح سے زیادہ ازراہِ زیادتی وصول کرتا ہے۔ ان لوگوں کا طریق کار یہ ہوتا ہے کہ ٹیکس وصول کرتے وقت اپنی ذاتی جیب کے لئے لوگوں سے زیادہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جو ٹیکس دہندہ ان کا مطالبہ پورا کردیتا ہے، اسے کسی نہ کسی طرح چھوٹ اور رعایت مل جاتی ہے اور جو ایسا نہیں کرپاتے، ان کے لئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ آج کے دور میں ان لوگوں کے طرزِعمل کو سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سخت ترین الفاظ میں متنبہ فرمایا کیونکہ یہ اپنے منصب سے ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے ہیں اورملکی خزانے کی آمدنی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«لا يدخل الجنة صاحب مکس»16 (صاحب ِمکس جنت میں داخل نہیں ہوگا)
آپ نے فرمایا: «إن صاحب المکس فی النار» 17(صاحب ِمکس آگ میں ڈالا جائے گا)
عثمان بن ابی العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت داود علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ رات کے ایک حصے میں جاگتے اور عبادت کیا کرتے تھے... کیونکہ رات میں ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جس میں جو دعا بھی کی جائے،18 قبول ہوتی ہے۔ سوائے جادوکرنے والے او رٹیکس وصول کرنے والے کے۔ "
اس موضوع کی دیگر بھی کئی روایات موجود ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آدھی رات کو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اورایک پکارنے والا (فرشتہ) پکارتا ہے کہ ہے کوئی سائل کہ اس کی دعا کے مطابق اسے عطا کیا جائے۔ ہے کوئی تکلیف میں مبتلا کہ اس کو تکلیف سے نجات دی جائے۔ اس طرح کوئی ایسا مسلمان نہیں بچتا کہ اس کی دعا کو قبولیت حاصل نہ ہو۔ سوائے زانیہ عورت یا زیادتی سے محاصل وصول کرنے والے شخص کے کہ ان کی دعا قبول نہیں کی جاتی۔
اس موضوع کی ایک روایت یوں ہے کہ آدھی رات کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے (مزید) قریب ہوجاتا ہے، ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔ ان کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، سوائے زانیہ اور زیادتی سے ٹیکس وصول کرنے والے کے۔19
حضرت ابوسعید خدری اور ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تمہارے اوپر ایسے حکمران اور عمال مقرر ہوں گے کہ ان کے اردگرد شریر لوگ جمع ہوجائیں گے۔ یہ لوگ نمازوں کو موٴخر کردیں گے۔ تم میں سے جوکوئی ان کے زمانے میں موجود ہو تو نہ ان کا عریف (لوگوں کے حالات حکومت تک پہنچانے والا) بنے، نہ ان کا صاحب الشرطہ (پولیس مین) بنے اور نہ ان کے محاصل وصول کرنے والے محصلین بنیں، نہ ان کے خازن"۔20
ان احادیث میں جن لوگوں کو وعید سنائی گئی ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو زکوٰة، عشر یا کوئی او رٹیکس وصول کرتے وقت لوگوں کو ناجائز طور پر چھوٹ دینے کے لئے ان سے رشوت وصول کرتے ہیں اور جو لوگ رشوت نہیں دیتے ،ان سے اصل سے زائد ٹیکس وصول کرتے ہیں یا کسی او رطریقے سے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰة وصول کرنے والوں کو بھی تلقین فرمائی ہے کہ وہ لوگوں سے ان کے بہترین مال وصول نہ کریں۔ لیکن یہ لوگ آپ کی اس تلقین کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ازراہِ ظلم ان کے بہترین مال وصول کرنے لگیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عریف کو تنبیہ
اسی طرح کا ایک منصب جس سے ناجائز طور پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور جو لوگوں پر ظلم و زیادتی کا باعث بن جاتا ہے 'عریف' کہلاتا ہے۔ عریف ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو حاکم کی طرف سے رعایا کے حالات معلوم کرنے کے لئے مقرر ہوتا ہے۔ اور ضرورت کے وقت اپنی قوم کے مختلف افراد کا رویہ اور کردار رپورٹ کی صورت میں حاکم کے سامنے پیش کرتا ہے۔ زیادہ گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے رشوت وصول کریں گے اور رشوت لے کر لوگوں کی غلط سلط رپورٹیں حکمران تک پہنچائیں۔ ا س لئے اس طبقے کے بارے میں بھی آپ نے بڑا تنبیہی انداز اختیار فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں ارشاد فرمایا :
«أفلحت يا قُدَيْمُ إن مُتّ ولم تکن أميرًا ولا کاتبًا ولا عريفًا»21"اے مقدام! تو نے نجات پائی، اگر تو اس حال میں فوت ہوا کہ تو نہ لوگوں کا امیر ہوا ،نہ منشی اور نہ عریف ۔"
ایک اور روایت جو ابوداود میں ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ" اسے اس کے باپ کے بعد جو کہ اب بوڑھا ہوچکا ہے، ایک چشمے کا عریف بنا دیا جائے "۔ آپ نے فرمایا:
«إن العرافة حق ولا بد للناس من العرفاء ولکن العرفاء فی النار»22
"عرافت بے شک ایک ضروری منصب ہے، اس کے بغیر گزارا نہیں مگر اکثرعریف جہنم میں جائیں گے"
مسند بزاز میں اس سلسلے میں حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إن فی النار حجرا يقال له ويل ليصعد عليه العرفاء وينزلون»23
"جہنم میں ایک پتھر ہے جسے 'ویل' کہا جاتا ہے۔ عرفاء کو اس پر چڑھایا جائے گا اور پھر نیچے پھینکاجائے گا۔"
مسند ابویعلی میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے پاس سے گزرے۔ آپ نے فرمایا: اس جنازے والے کے لئے خوشخبری ہے بشرطیکہ یہ 'عریف' نہ ہو۔24
رشوت اور اس کے بارے میں وعید
مالی بدعنوانیوں کی ایک شکل رشوت بھی ہے۔ رشوت کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ جس کام کامعاوضہ لینا شرعاً درست نہ ہو، اس کا معاوضہ وصول کیا جائے۔ مثلاًایک کام کسی شخص کے فرائض میں داخل ہو اور اسے اس کام کی انجام دہی پر سرکاری طور پر معاوضہ اور تنخواہ ملتی ہو، ایسا کام کرنے پر وہ صاحب ِضرورت شخص سے کوئی معاوضہ وصول کرے۔25 قرآن مجید نے رشوت کے لئے سُحت کا لفظ استعمال کیا ہے۔لفظ سُحت کامعنی ہلاکت و بربادی ہے۔ رشوت نہ صرف لینے دینے والوں کو اخلاقی اور معاشی طور پر تباہ وبرباد کرتی ہے بلکہ ملک و ملت کی جڑ اور امن عامہ کی بنیادیں ہلا دیتی ہے۔ جس ملک میں رشوت کی لعنت چل پڑتی ہے وہاں قانون بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے، لوگ رشوت دے کر ہر کام کروا لیتے ہیں۔ حقدار کا حق مارا جاتا ہے اور غیر حقدار مالک بن بیٹھتے ہیں۔ قانون، جو کہ لو گوں کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ قانون کی حاکمیت جس معاشرے میں کمزور پڑ جائے وہ معاشرہ زیادہ دیر چل نہیں سکتا، نہ کسی کی جان محفوظ رہتی ہے نہ مال و عزت، قرآن مجید نے اسے سُحت کہہ کر 'اشد حرام' قرار دے دیا ہے۔ رشوت کے دروازے بند کرنے کے لئے اسلام نے یہ اصول دیا ہے کہ اُمراء و حکام کو تحفے دینا حرام ہے۔26 اس سلسلے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿وَلا تَأكُلوا أَمو‌ٰلَكُم بَينَكُم بِالبـٰطِلِ وَتُدلوا بِها إِلَى الحُكّامِ لِتَأكُلوا فَر‌يقًا مِن أَمو‌ٰلِ النّاسِ بِالإِثمِ وَأَنتُم تَعلَمونَ ١٨٨﴾... سورة البقرة
"آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ اور نہ مال کو حاکموں تک پہنچاؤ کہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہ گناہ کے طریقے سے جانتے بوجھتے کھا جاؤ۔"
قرآن مجید نے یہود کے مذہبی اجارہ دار طبقے کی یہ خرابی بیان کی ہے کہ وہ لوگوں کو ان کی پسند کے فتوے جاری کرکے ان سے رشوت کھاتے ہیں۔ قرآن مجید نے ان لوگوں کا ذکر یوں فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذينَ يَكتُمونَ ما أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الكِتـٰبِ وَيَشتَر‌ونَ بِهِ ثَمَنًا قَليلًا ۙ أُولـٰئِكَ ما يَأكُلونَ فى بُطونِهِم إِلَّا النّارَ‌ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَومَ القِيـٰمَةِ وَلا يُزَكّيهِم وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ ١٧٤﴾... سورة البقرة
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پالیسی بظاہر بڑی سخت نظر آتی ہے لیکن مالیاتی معاملات میں نظم اسی صورت میں پیدا ہوسکتا ہے جب بدعنوانی کا سبب بننے والے ہر چھوٹے سے چھوٹے سوراخ کو بھی مکمل طور پربند کیا جائے۔ چھوٹے سے چھوٹے سوراخوں سے جب پانی کو رسنے دیا جائے تو یہی سوراخ بڑے ہو کر بند کو اپنے ساتھ بہا کرلے جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں سے اگر درگزر کیا جائے تو یہی غلطیاں پورے معاشی ڈھانچے کو زمین بوس کردیتی ہیں۔ آج کا دور اس کی واضح مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل فرمایا ہے، یہ لوگ (یہود) اسے چھپاتے ہیں اور اس کے ذریعے معمولی معاوضہ حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن بات نہیں کرے گا او رنہ انہیں پاک کرے گا۔یہودیوں کی اس خرابی کو قرآن مجید یوں بھی بیان کرتا ہے
﴿سَمّـٰعونَ لِلكَذِبِ أَكّـٰلونَ لِلسُّحتِ...٤٢﴾... سورة النساء
"یہ لوگ جھوٹ (افواہیں) بڑے شوق سے سنتے ہیں او رحرام خوری میں بڑے تیز ہیں۔"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لعن رسول الله ا الراشی والمرتشی»27(آپ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی)
آپ نے فرمایا: «کل لحم نبت بالسحت فالنار أولی به» (جس گوشت نے سُحت (حرام) سے پرورش پائی، آگ اس کے لئے زیادہ مناسب ہے) پوچھا گیا: سُحت کیاہے؟ آپ نے فرمایا: «الرشوة فی الحکم» (فیصلے صادر کرنے میں رشوت وصول کرنا)28
اسی طرح کی ایک حدیث مبارکہ حضرت عبداللہ ابن مسعود سے بھی مروی ہے۔
ابن خویز منداد نے سُحت کی ایک شکل یہ بیان کی ہے کہ ایک شخص کا کسی صاحب ِاختیار شخص کے ساتھ کوئی کام اورحاجت ہو لیکن اس کی صاحب ِمنصب شخص تک رسائی نہ ہو ، جبکہ کسی دوسرے شخص کا اس صاحب ِمنصب کے ساتھ تعلق موجود ہو اور وہ سائل کی رسائی متعلقہ افسر تک کروانے کے لئے کوئی فیس اور معاوضہ طلب کرے۔29
سُحت اور رشوت کی ایک شکل یہ بھی روایات میں بیان کی گئی ہے کہ کسی صاحب ِمنصب شخص کو کوئی چیز دی جائے تاکہ کسی کا حق مار کر خود حاصل کر لیا جائے۔ اگر کوئی شخص رشوت لے کر کسی کا کام حق کے مطابق کرتا ہے تووہ شخص رشوت لینے کی وجہ سے گنہگار ہوگا اور یہ مال اس کے لئے سُحت ہوگا۔ لیکن اگر رشوت لے کر حق کے خلاف فیصلہ کیا اور غیر حقدار کو حق دے دیا تو یہ جرم کئی گنا بڑھ جائے گا۔ اس میں رشوت، ظلم، حق تلفی او راللہ تعالیٰ کی حد کو توڑنا بھی شامل ہوجاتاہے۔30
امام ابوحنیفہ کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رشوت وصول کرتا ہے تو وہ اسی وقت معزول کردیا جائے۔ اگر اسے معزول نہ کیا گیا تو اس فعل کے ارتکاب کے فوراً بعد سے اس کے تمام احکام غیر قانونی سمجھے جائیں گے۔31
صاحب ِتفسیر امام قرطبی فرماتے ہیں کہ رشوت وصول کرنا فسق ہے اور کسی فاسق کے لئے فیصلہ کرنا جائز نہیں۔32 حدیث شریف میں رشوت کے لینے دینے میں واسطہ بننے والے کو بھی اتنا ہی مجرم قرار دیا گیا ہے جتنا رشوت لینے اور دینے والے کو۔33
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قرآنی تعلیمات کو عملی شکل دی۔ آج کے دور میں مالی بدعنوانیوں کے انسداد کے لئے یہ واقعہ بڑا بنیادی راہنما ثابت ہوسکتا ہے کہ خیبر کے یہودیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر مصالحت فرمائی تھی کہ وہ اپنی آدھی زرعی آمدنی مسلمانوں کوادا کیا کریں گے۔ آپ کی طرف سے حضرت عبداللہ بن رواحہ کومحاصل وصول کرنے کے لئے متعین فرمایا گیا۔ ان لوگوں نے اپنی عورتوں کے زیورات بیچ کر رقم جمع کی اور صحابی رسول کوپیش کرنا چاہی کہ یہود کا حصہ بڑھا دیا جائے۔ عبداللہ بن رواحہ کا جواب نہ صرف یہود کے لئے بلکہ آج کے دور کے لئے روشنی کا مینار ہے۔ آپ نے فرمایا: "اے یہودیو! اللہ کی قسم تم اللہ کی مخلوق میں سے مبغوض ترین مخلوق ہو لیکن تمہاری یہ رشوت مجھے ظلم پر آمادہ نہیں کرسکتی، تمہاری یہ رشوت حرام ہے ہم مسلمان اسے نہیں کھاتے"۔ یہودیوں نے ان کی تقریر سن کر کہا کہ یہی وہ انصاف ہے جس سے آسمان و زمین قائم ہے۔34
بدعنوانی کی ایک شکل یہ ہے کہ حکمران لوگوں کو سرکاری خزانے سے رشوت کے طور پر مال دیں اور اس سے ان کامقصد یہ ہو کہ سیاسی یا معاشی مقاصد حاصل کریں۔ اس طرح کی بدعنوانی کے انسداد کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اے لوگو! اگر تمہیں کوئی چیز عطا کریں تو لے لیا کرو جب تک کہ وہ عطا ہی رہے یعنی (یہ عطیہ کسی خدمت اور استحقاق کے طور پر ہو اور اس کی شرعی بنیاد موجود ہو) پھرجب قریش اقتدار کی خاطر ایک دوسرے سے لڑیں اور عطائیں قرض کے بدلے میں ملیں تو ان عطیات کو چھوڑ دیں اور قبول نہ کرو"35
آپ نے فرمایا: " جب قریش آپس میں حکومت کے لئے لڑنے لگیں اور رشوت کے طور پر لوگوں کو عطیات دیئے جائیں( اور یہ مستحق لوگوں کو نہ دیئے جاتے ہوں) تو یہ عطیات قبول نہ کرو۔36 آج کے دور میں یہ دونوں طرح کی رشوت موجود ہے۔ سرکاری کارندے قومی خزانے کو اپنی ذاتی دولت سمجھ کر ناجائز طور پر لوگوں کو بھاری رقوم دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ عوام کی بہت بڑی تعداد اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوتی جارہی ہے۔ رشوت نے لوگوں کی اخلاقی حس کو زنگ آلود کرکے ان کے ضمیر کو سلا دیا ہے۔ دوسری طرف عوام میں یہ خیال اب جڑ پکڑ چکا ہے کہ رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا او ررشوت کے ذریعے ہر ناممکن کام ممکن ہوجاتا ہے۔
ابوامامہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی حاکم یا امیر سے کسی کی سفارش کرے او رپھر اس حاکم کو ہدیہ بھیجے او روہ اس ہدیہ کوقبول کرے تو اس کا یہ فعل ایسا ہے گویا کہ وہ سود کے بڑے دروازے میں داخل ہوگیا۔37
مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ اسلام کے معاشی نظام میں انتقالِ دولت کا جواز تین طریقوں سے جائز ہے۔ ان میں وراثت، ہبہ اور محنت و کسب شامل ہیں۔ ا س کے علاوہ عطیات بھی انتقالِ دولت کا ایک ذریعہ ہے۔ لیکن عطیات صرف وہی معتبر ہوتے ہیں جو کسی چیز یا مال کے حقیقی مالک نے شرعی حدود کے اندر کسی کو ہبہ اور عطیہ دیا ہو۔ اگر عطیہ کسی حکومت کی جانب سے ہو تو وہ اسی صورت میں جائز ہوگا جب وہ کسی صحیح خدمت کے صلے میں یا معاشرے کے مفاد کے لئے حکومتی املاک میں سے جائز اور معروف طریقے پر دیا گیا ہو۔ عطیہ دینے کا حق بھی اسی حکومت کو حاصل ہوگا جو شرعی دستور کے مطابق شوریٰ کے طریقہ کے مطابق چلائی جارہی ہو اور جس کا محاسبہ کرنے کا حق اور آزادی قوم کو حاصل ہو۔38
ملک میں مالی بے قاعدگی بیت المال کو غلط طور پر استعمال کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس غلط استعمال کا ایک طریقہ یہ ہے کہ خزانہ غیر مستحق لوگوں کے لئے کھول دیا جائے، اس سے ملکی خزانہ کئی پہلوؤں سے منفی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ ایک تو غیر مستحق لوگ ملکی خزانے پر ناروا بوجھ بن جاتے ہیں۔ خزانہ غلط طور پر استعمال ہونے لگتا ہے۔ حق دار محروم رہ جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگوں کو محنت کی بجائے مفت خوری کی عادت پڑ جاتی ہے او رجس ملک کے لوگ محنت سے گریز کرنے لگیں، اس کی معیشت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔
اس سلسلے میں شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں کہ اگر بیت المال سے وہ لوگ وظائف اور مستقل امداد لینا شروع کردیں جو درحقیقت ا س کے مستحق نہیں ہوتے تو یہ لوگ حقداروں کا حق مارنے کے مرتکب بھی ہوتے ہیں او رملکی خزانہ بھی غلط طور پر استعمال ہونے لگتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر اس طرح کی صورت پیدا ہوجائے تو باشندوں کی اکثریت بادشاہ پرانحصار کرنے لگتی ہے اور بیت المال پر بوجھ بن جاتی ہے۔ غیر مستحق لوگ کبھی یہ کہہ کر وظیفہ حاصل کرتے ہیں کہ وہ غازی ہیں اور ملک کے سیاسی راہنما ہیں۔ وہ کبھی یہ کہہ کر وظائف حاصل کرتے ہیں کہ وہ درباری شاعر ہیں اور بادشاہوں کی درباری شاعروں پر عنایات ہوا ہی کرتی ہیں۔ وہ یہ وظائف کبھی یہ کہہ کر حاصل کرتے ہیں کہ وہ صوفی اور درویش ہیں اور خلیفہ اس بات کو معیوب سمجھتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے حالات کی تفتیش کرے کہ کیا یہ حقیقت میں ان وظائف کے مستحق ہیں بھی یا نہیں؟... ان کا معاشی انحصار صرف بادشاہوں کی مصاحبت، ان کی خوشامدی، جی حضوری اور ان کی مدح میں چرب زبانی پر ہوتا ہے اور آخر کار یہ ایک ایسا فن بن جاتا ہے کہ ان کے تمام خیالات اور فکریں اس برے فن پر صرف ہونے لگتی ہیں اور وقت کی تباہی کا باعث بن جاتے ہیں۔39
ملکی خزانے کے غلط استعمال کی ایک شکل سربراہِ مملکت یا سربراہِ حکومت کے مالیاتی اختیارات بھی ہیں۔ ان اختیارات کے تحت سرکاری خزانہ سربراہ کی ذاتی ملکیت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ خصوصی طور پر ایسی مدات جن کا کوئی آڈٹ نہیں ہوتا یا جنہیں آج کی اصطلاح میں (Unforeseen) مدات کہا جاتا ہے۔ ان مدات میں سے عموماً سیاسی رشوتوں کا کام لیا جاتاہے۔ پاکستان کے سیاسی ماحول میں تو اس طرزِعمل سے عوام بھی آگاہ ہوچکے ہیں کہ سیاسی لوگوں کو ہم نوا بنانے کے لئے کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔ یہ بات بالکل بجا ہے کہ قومی او ربین الاقوامی میدان میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے تاکہ دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی ہو۔ اس سلسلے میں قرنِ اوّل سے شواہدملتے ہیں کہ ملک وملت کے لئے کارہائے نمایاں سرانجام دینے والوں کی قدرشناسی کی گئی، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ غیر مستحق لوگوں اور سرکاری افسران کے چہیتوں کو بھاری انعامات و وظائف سے نوازا جائے اورہزاروں حق دار اور اہل لوگوں کی کسی کو خبر بھی نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ یہ انعامات ملکی خزانے پر ناروا بوجھ نہ بن جائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ انعامات ملک میں غیر عادلانہ تقسیم دولت کی شکل اختیار نہ کرلیں۔ جن لوگوں پر ملکی خزانہ خرچ کیا جائے، ان کی خدمات ملکی نظریے کے ساتھ مطابقت بھی رکھتی ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ جن شعبوں کو اللہ اور اس کا رسول حرام قرار دیں، جن کے انسداد کے احکام دیئے گئے ہوں ہم ان شعبوں میں 'خدمات' سرانجام دینے والوں کو انعامات سے نوازیں۔
اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل لاہور ہائی کورٹ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ وزیراعظم پاکستان یا صدرِ مملکت یا کسی اعلیٰ عہدیدار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات کو کام میں لاتے ہوئے کسی کو پلاٹ یا خصوصی انعامات سے نواز سکے یا نہیں؟ عدالت نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ کسی بڑے سے بڑے عہدیدار کو اس بات کا حق حاصل نہیں کہ وہ بیت المال میں تصرف کرے اور اپنی پسند کے لوگوں کو انعامات سے نوازے۔ جن لوگوں کو حکومت نے اونے پونے داموں پلاٹ فروخت کئے تھے، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ ان پلاٹوں کی حقیقی قیمت ادا کریں۔ عدالت نے سابق وزراے اعظم اور وزیراعلیٰ کو حکم دیا کہ وہ بیت المال سے رقوم نکلوانے اور سستے داموں پلاٹ فروخت کرنے کے مسئلے کی عدالت میں وضاحت کریں۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان بیت المال ایکٹ ۱۹۹۱ء کے تحت بیت المال سے تصرف کے حوالے سے وزیراعظم کے پاس کوئی اختیارات نہیں او رپاکستان بیت المال مینجمنٹ بورڈ اس کے فنڈز کو ایکٹ کے مطابق خرچ کرنے کا مجاز ہے۔ پنجاب ہائی کورٹ کے فاضل جج نے قرار دیا کہ وزارتِ خزانہ بیت المال سے کوئی بھی رقم وزیراعظم سیکرٹریٹ کو منتقل نہیں کرسکتی۔ عدالت نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مستحق افراد کی شناخت کے لئے کوئی مناسب منصفانہ اور منظم طریقہ موجود نہیں ہے او رنہ ہی فی کس امداد کے لئے کوئی ضابطہ موجود ہے۔ عدالت کے خیال کے مطابق کسی فردِ واحد کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی مرضی سے بیت المال میں تصرف کرے۔ بدعنوانی کے انسداد کے لئے عدالت نے کہا کہ کسی بھی فرد کے پاس کوئی صوابدیدی مالیاتی اختیارات نہیں ہونے چاہئیں۔

حوالہ جات :
1. مسلم، کتاب الامارة، باب غلظ تحریم الغلول (اس جگہ اس موضوع کی چار احادیث موجود ہیں) ، جلد سوم، صفحہ ۱۴۶۱، حدیث نمبر ۱۸۳۱
2.  ابوداؤد، کتاب الجهاد، باب فی تعظيم الغلول، جلد سوم، صفحہ ۶۸، حدیث نمبر ۲۷۱۱،(المکتبة العصریہ ، مصر)
3.  ایضا ً، کتاب الجهاد، باب فی الرجل، ينتفع من الغنيمة شيئ جلد سوم، صفحہ ۶۷، حدیث نمبر ۲۷۰۸۔ ترمذی، کتاب السیر، باب ماجاء فی الغلول، حدیث نمبر ۱۵۷۲
4. موٴطا امام مالک، باب ماجاء فی الغلول، جلد اول، صفحہ ۳۴۵

5. ایضا ً، جلد اول، صفحہ ۳۴۶
6. ابوداؤد، کتاب الجہاد، باب النبی عن الستر علی من غل، ۳/۷۰، حدیث ۲۷۱۶، (مکتبہ عصریہ، مصر)
7.  کنزالعمال فی سنن الا قوال والافعال(الخيانة) جلدسوم، صفحہ ۴۶۸، حدیث نمبر ۷۴۶۶
8. ابوداود، کتاب الجہاد، باب عقوبة الغال، جلد سوم، صفحہ ۶۹، حدیث نمبر ۲۷۱۳۔۲۷۱۵
9. ایضا ً، حدیث نمبر ۲۷۱۴

10. ایضا ً، حدیث نمبر ۲۷۱۵

11. ایضا ً،...؟
12. ایضا ً، باب فی الغلول اذا کان يسيرا يترکه الامام ولا يحرق رحله ، حدیث نمبر ۲۷۱۲
13. مسلم، کتاب الامارة، (حاشیہ مترجم) جلد پنجم، صفحہ ۱۲۳
14. ابوداود، ابن ماجہ، نسائی اور موطا امام مالک میں اس روایت کا ذکر ہے، آپ نے فرمایا : "إن صاحبکم قد غل فی سبیل اللہ" تمہارے ساتھی نے اللہ کے مال میں سے بددیانتی کی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ یہ بددیانتی صرف حقوق العباد میں غصب نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے حقوق میں بھی مداخلت ہے۔ روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ جب اس کا سامان کھولا گیا تو اس میں یہودیوں کے چند موتی (منکے) اس میں پائے گئے، ابوداود، کتاب الجہاد، باب فی تعظيم الغلول، جلد سوم، صفحہ ۶۸، حدیث نمبر ۲۷۱۰۔۲۷۱۱
15. ابن قدامہ، المغنی، تحقیق الدکتور عبداللہ بن عبدالمحسن تربی اور الدکتور عبدالفتاح محمد الحلو:۳/ ۵۰۴

16. ؟؟؟
17. ابوداؤد، کتاب الخراج والامارة، باب السعايه علی الصدقة، جلد سوم، صفحہ ۱۳۲، حدیث نمبر ۲۹۳۷
18. منذری، الترغیب والترہیب، باب ليستجاب الدعا من کل أحد ال االزانی والعشار: ۲/۸۷۔ ایضا ً

19. ایضا ً

20. ایضا ً

21. ابوداؤد، کتاب العرافة، حدیث نمبر ۲۹۳۳
22. ایضا ً، حدیث نمبر ۲۹۳۴

23.  الترغیب والترہیب، جلد دوم، صفحہ ...؟

24. ایضا ً
25. محمد شفیع مفتی، معارف القرآن، جلد سوم، صفحہ ۱۵۱۔۱۵۲

26. جصاص، احکام القرآن
27. ترمذی، کتاب الاحکام، باب ماجاء فی الراشی والمرتشی فی الحکم، جلد سوم، صفحہ ۳۲۲، حدیث ۱۳۳۶
28. قرطبی، جامع لاحکام القرآن

29. ایضا ً

30. ایضا ً

31. ایضا ً

32. ایضا ً
33. کنزالعمال، جلد پنجم، صفحہ ۸۲۵، حدیث نمبر ۱۴۴۹۵

34. موطا ٴامام مالک، کتاب المساقات، جلد اول، صفحہ ۵۱۶
35. ابوداؤد، کتاب الخراج ولامارة، باب فی کراهية الافتراض فی آخرالزمان، جلد سوم،
صفحہ ۱۳۷، حدیث نمبر ۲۹۵۹، (المکتبة العصریہ ، بیروت)

36. ایضا ً
37. ابوداود، کتاب البيوع، باب فی الهدية لقضاء الحاجة، جلد دوم، صفحہ ۲۹۱، حدیث نمبر ۳۵۴۱
38. مودودی، مولانا اسلامی ریاست، صفحہ ۶۱۵، ۶۱۶

39. شاہ ولی اللہ، حجة اللہ البالغہ