عمادالدین ابوفدا اسمٰعیل بن عمر بن کثیر ۷۰۱ ھ1 میں شام کے شہر بصریٰ کے مضافات میں 'مجدل' نامی بستی میں پیدا ہوئے2 اور دمشق میں تعلیم و تربیت پائی۔ آپ نے اپنے عہد کے ممتاز علماء سے استفادہ کیا اور تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، تاریخ، علم الرجال اور نحو و لغت ِعربی میں مہارت حاصل کی 3۔آپ نے ۷۷۴ ھ میں دمشق میں وفات پائی اور مقبرئہ صوفیہ میں مدفون ہوئے۔4
امام ابن کثیر بحیثیت ِمفسر، محدث، موٴرّخ اور نقاد ایک مسلمہ حیثیت کے حامل ہیں۔ آپ نے علومِ شرعیہ میں متعدد بلند پایہ کتب تحریر کیں۔ تفسير القرآن العظيم اور ضخیم تاریخ البداية والنهاية آپ کی معروف تصانیف ہیں جن کی بدولت آپ کو شہرتِ دوام حاصل ہوئی۔ زیرنظر مضمون اول الذکر کتاب کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔
تعارفِ تفسیر
علامہ ابن کثیر نے قرآن کی جو تفسیر لکھی وہ عموماً تفسیر ابن کثیر کے نام سے معروف ہے اور قرآنِ کریم کی تفاسیر ماثورہ میں بہت شہرت رکھتی ہے۔ اس میں موٴلف نے مفسرین سلف کے تفسیری اَقوال کو یکجا کرنے کااہتمام کیا ہے اور آیات کی تفسیر اَحادیث ِمرفوعہ اور اَقوال و آثار کی روشنی میں کی ہے۔ تفسیر ابن جریر کے بعد اس تفسیر کو سب سے زیادہ معتبر خیال کیا جاتا ہے۔ اس کا قلمی نسخہ کتب خانہ خدیویہ مصر میں موجود ہے۔ یہ تفسیر دس جلدوں میں تھی۔ ۱۳۰۰ھ میں یہ پہلی مرتبہ نواب صدیق حسن خان کی تفسیر'فتح البیان' کے حاشیہ پر بولاق، مصر سے شائع ہوئی۔ ۱۳۴۳ھ میں تفسیر بغوی کے ہمراہ نوجلدوں میں مطابع المنار، مصر سے شائع ہوئی۔ پھر ۱۳۸۴ھ میں اس کو تفسیر بغوی سے الگ کرکے بڑے سائز کی چار جلدوں میں مطبع المنار، مصر سے شائع کیا گیا۔ بعد ازاں یہ کتاب متعدد بار شائع ہوئی ہے۔ احمدمحمدشاکر نے اس کو بحذفِ اسانید شائع کیا ہے۔ محققین نے اس پر تعلیقات اور حاشئے تحریر کئے ہیں جن میں سید رشید رضا کا تحقیقی حاشیہ مشہور ہے۔ علامہ احمدمحمدشاکر (م۱۹۵۸ء) نے عمدة التفسير عن الحافظ ابن کثير کے نام سے اس کی تلخیص کی ہے۔ اس میں آپ نے عمدہ علمی فوائد جمع کئے ہیں، لیکن یہ نامکمل ہے۔ اس کی پانچ جلدیں طبع ہوچکی ہیں اور اِختتام سورة الانفال کی آٹھویں آیت پر ہوتا ہے۔
محمد علی صابونی نے تفسیر ابن کثیر کو تین جلدوں میں مختصر کیا اور 'مختصر تفسیر ابن کثیر' کے نام سے اسے ۱۳۹۳ھ میں مطبع دارالقرآن الکریم، بیروت سے شائع کیا۔ بعد ازاں محمد نسیب رفاعی نے اس کو چار جلدوں میں مختصر کیا اور اسے تيسير العلي القدير لاختصار تفسير ابن کثير کے نام سے موسوم کیا ۔ یہ ۱۳۹۲ھ میں پہلی مرتبہ بیروت سے شائع ہوئی۔
مصادر و مآخذ
علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیرکی ترتیب و تشکیل میں سینکڑوں کتب سے استفادہ کیا اور بے شمار علما کے اَقوال و آراء کو اپنی تصنیف کی زینت بنایاہے۔ چند اہم مآخذ کے نام یہ ہیں :
تفاسیر قرآن:طبری، قرطبی، رازی، ابن عطیہ، ابومسلم الاصفہانی، واحدی، زمخشری،وکیع بن جراح، سدی، ابن ابی حاتم، سنید بن داود، عبد بن حمید، ابن مردویہ وغیرہ
علوم قرآن:فضائل القرآن از ابوعبید القاسم، مقدمہ فی اصول تفسیر ابن تیمیہ وغیرہ۔
کتب ِحدیث:صحاحِ ستہ، صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمہ، موطأ امام مالک، مستدرک حاکم، سنن دارقطنی، مسند شافعی، مسند دارمی، مسند ابویعلی موصلی، مسند عبدبن حمید، مسند ابوبکر بزار، معجم کبیر طبرانی وغیرہ۔
کتب ِتراجم اور جرح و تعدیل:التاریخ الکبیر از امام بخاری، مشکل الحدیث ازابوجعفر طحاوی، الجرح و التعدیل از ابن ابی حاتم، الاستیعاب فی معرفة الاصحاب از ابن عبدالبر، الموضوعات از ابن جوزی وغیرہ۔
کتب ِسیرت و تاریخ:سیرت ِابن اسحاق، سیرتِ ابن ہشام، مغازی سعید بن یحییٰ اموی، مغازی واقدی، دلائل نبوة ازبیہقی، الروض الانف ازسہیلی، التنویر في مولد السراج المنیر ازعمر بن دحیہ کلبی، تاریخ ابن عساکر وغیرہ۔
فقہ و علم کلام: کتاب الام ازامام شافعی، الارشاد فی الکلام از امام الحرمین، کتاب الاموال ابوعبید القاسم، الاشراف علی مذاہب الاشراف از ابن ہبیرہ وغیرہ۔
لغات:الصحاح از ابو نصر جوہری، معانی القرآن از ابن زیاد الفراء وغیرہ۔
ان مصادر کے علاوہ فضائل شافعی از ابن ابی حاتم ، کتاب الآثار والصفات از بیہقی، کشف الغطاء فی تبیین الصلوٰة الوسطیٰ از دمیاطی، کتاب التفکر والا عتبار از ابن ابی الدنیا، السرالمکتوم از رازی اور دیگر متعدد کتب کے حوالے بھی ہمیں اس تفسیرمیں ملتے ہیں، جن سے حافظ ابن کثیر کے وسعت ِمطالعہ اور تحقیقی میدان میں دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔
حافظ ابن کثیر نے اپنی کئی تصانیف کے حوالے بھی تفسیرمیں دیئے ہیں، مثلاً البدایہ والنھایہ، کتاب السیرة، الاحکام الکبیر، صفة النار، اَحادیث الاصول، جزء فی ذکر تطہیر المساجد، جزء فی الصلوٰة الوسطیٰ، جزء فی ذکر فضل یوم عرفہ، جزء فی حدیث ِالصور وغیرہ ۔5
منہج : ذیل میں تفسیر ابن کثیر کے منہج کا تذکرہ بالاختصار پیش خدمت ہے :
تفسیر کے اصولوں کا التزام
علامہ ابن کثیر نے زیر تبصرہ کتاب کا نہایت مفصل مقدمہ تحریر کیا ہے اور تفسیر کے درج ذیل اُصول متعین کئے ہیں:
تفسیر القرآن بالقرآن                  تفسیر القرآن بالسنة
تفسیر القرآن باقوال الصحابہ         تفسیر القرآن باقوال التابعین6
یہ مرکزی او ربنیادی اُصول تفسیر ابن کثیر میں یکساں طور پر بالترتیب نظر آتے ہیں۔ امام موصوف سلیس اور مختصر عبارت میں آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔ ایک آیت کے مفہوم کو واضح کرنے کے لئے کئی قرآنی آیات یکے بعد دیگرے پیش کرتے ہیں اور اس سے متعلق جملہ معلوم احادیث ذکر کرتے ہیں، بعدازاں صحابہ، تابعین اورتبع تابعین کے اقوال و آثار درج کرتے ہیں۔ اسی انداز میں مثالیں ان کی تفسیر میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔
سورة المومنون کی آیت:۵۰ ﴿وَجَعَلنَا ابنَ مَر‌يَمَ وَأُمَّهُ ءايَةً وَءاوَينـٰهُما إِلىٰ رَ‌بوَةٍ ذاتِ قَر‌ارٍ‌ وَمَعينٍ ٥٠ ﴾... سورة المومنون" کی تفسیر میں متعدد روایات و اَقوال نقل کئے ہیں اور مختلف مفاہیم بیان کئے ہیں۔ ایک مفہوم کو ترجیح دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
"یہ مفہوم زیادہ واضح اور ظاہر ہے، اس لئے کہ دوسری آیت میں بھی اس کا تذکرہ ہے، اور قرآن کے بعض حصے دوسرے حصوں کی تفسیر کرتے ہیں اور یہی سب سے عمدہ طریقہ تفسیر ہے، اس کے بعد صحیح حدیثوں کا اور ا ن کے بعد آثار کا نمبر آتا ہے"7
نقد و جرح
حافظ ابن کثیر ایک بلند پایہ محدث تھے، اس لئے انہوں نے محدثانہ طریق پر یہ کتاب مرتب کی ہے اور نہایت احتیاط سے صحیح حدیثوں کے انتخاب کی کوشش کی ہے۔ وہ دورانِ بحث جرح و تعدیل کے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے صحیح روایات کو نکھار کر پیش کرتے ہیں، بعض روایات کو ضعیف قرار دیتے ہیں جبکہ غلط اور فاسد روایتوں کی تردید کرتے ہیں، مثلاً آیت ﴿يَومَ نَطوِى السَّماءَ كَطَىِّ السِّجِلِّ لِلكُتُبِ...١٠٤ ﴾... سورة الإنبياء" کے بار ے میں ابن عمر سے روایت ہے کہ 'سجل' آنحضور کے ایک کاتب کا نام تھا۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے ابن کثیر تحریر کرتے ہیں:
"یہ منکر روایت ہے اور قطعاً صحیح نہیں۔ ابن عباس سے بھی جو روایت بیان کی جاتی ہے، وہ ابوداود میں ہونے کے باوجود غلط ہے۔ حفاظ کی ایک جماعت نے اس کی وضعیت پر ایک مستقل رسالہ تحریر کیا ہے اور ابن جریر نے بھی اس کا نہایت پرزور ردّ کیا ہے۔ اس روایت کے ضعیف ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کاتبین وحی نہایت مشہور لوگ ہیں اور ان کے نام معروف ہیں۔ صحابہ میں بھی کسی کا نام 'سجل' نہ تھا"
علامہ ابن کثیر مختلف روایتوں کے متعدد طرق و اسناد کا ذکر کرکے رواة پر بھی جرح کرتے ہیں، مثلاً ًسورة البقرة کی آیت:۱۸۵ ﴿هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّنـٰتٍ مِنَ الهُدىٰ﴾ کے تحت ابو معشر نجیح بن عبدالرحمن مدنی کو ضعیف قرار دیا ہے۔9 اسی طرح سورئہ مذکور کی آیت :۲۵۱ ﴿وَلَولا دَفعُ اللَّهِ النّاسَ بَعضَهُم بِبَعضٍ لَفَسَدَتِ الأَر‌ضُ﴾ کی تفسیر میں مختلف طرق سے روایت ایک بیان کی ہے اور یحییٰ بن سعید کو ضعیف قرار دیاہے۔10 سورة نساء کی آیت : ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقرَ‌بُوا الصَّلو‌ٰةَ وَأَنتُم سُكـٰر‌ىٰ حَتّىٰ تَعلَموا ما تَقولونَ وَلا جُنُبًا إِلّا عابِر‌ى سَبيلٍ حَتّىٰ تَغتَسِلوا...٤٣ کی تفسیر میں سالم بن ابی حفصہ کو متروک اور ان کے شیخ عطیہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔11اسی سورت کی آیت:﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ٩٣ کے سلسلے میں فرماتے ہیں:
"ابن مردویہ میں حدیث ہے کہ جان بوجھ کر ایماندار کو مار ڈالنے والا کافر ہے، یہ حدیث منکر ہے اور اس کی اسناد میں بہت کلام ہے"12
ابن کثیر نے احادیث کے ساتھ ساتھ آثارِ صحابہ اور اقوالِ تابعین بھی کثرت سے نقل کئے ہیں، لیکن ان کی صحت جانچنے کے لئے یہاں بھی انہوں نے بحث و تنقید کا معیار برقرار رکھا ہے اور ان کی تائید یا تردید میں اپنی معتبر رائے کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً سورة نساء کی آیت:﴿ فَكَيفَ إِذا جِئنا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهيدٍ وَجِئنا بِكَ عَلىٰ هـٰؤُلاءِ شَهيدًا ٤١ کی تفسیر میں ابوعبداللہ قرطبی کی کتاب 'تذکرہ' کے حوالے سے حضرت سعید بن مسیب کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
"یہ اثر ہے اوراس کی سند میں انقطاع ہے۔ اس میں ایک راوی مبہم ہے، جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا نیز یہ سعید بن مسیب کا قول ہے، جسے انہوں نے مرفوع بیان نہیں کیا ۔"13
جرح وقدح کے ضمن میں ابن کثیر تاریخی غلطیوں او رحوالوں کی بھی تردید کرتے ہیں، مثلاً ﴿وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايـٰتُنا قالوا قَد سَمِعنا لَو نَشاءُ لَقُلنا مِثلَ هـٰذا ۙ إِن هـٰذا إِلّا أَسـٰطيرُ‌ الأَوَّلينَ ٣١ ﴾سورة الانفال" کے تحت لکھتے ہیں:
"حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے روز تین قیدیوں کے قتل کا حکم دیا تھا: (۱) عقبہ بن ابی معیط (۲) طعیمہ بن عدی اور(۳) نضر بن حارث... سعید بن جبیر نے ایک روایت میں طعیمہ کی بجائے مطعم بن عدی کا نام بتایا ہے۔یہ بات غلط ہے، کیونکہ مطعم بن عدی تو بدر کے روز زندہ ہی نہیں تھا، اس لئے اس روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر آج مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور ان مقتولین میں سے کسی کا سوال کرتا تو میں اس کو وہ قیدی دے دیتا۔ آپ نے یہ اسلئے فرمایاتھا کہ معطم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تحفظ دیا تھا جب آپ طائف کے ظالموں سے پیچھا چھڑا کر مکہ واپس آرہے تھے"14
شانِ نزول کا بیان
اگر کسی سورة یا آیت کا شانِ نزول ہے توامام ابن کثیر اپنی تفسیر میں اس کا تذکرہ کرتے ہیں، مثلاً سورة بقرہ کی آیت:﴿وَدَّ كَثيرٌ‌ مِن أَهلِ الكِتـٰبِ لَو يَرُ‌دّونَكُم مِن بَعدِ إيمـٰنِكُم كُفّارً‌ا حَسَدًا مِن عِندِ أَنفُسِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الحَقُّ ۖ فَاعفوا وَاصفَحوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّهُ بِأَمرِ‌هِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ١٠٩ کے تحت لکھتے ہیں:
"ابن عباس سے روایت ہے کہ عرب یہودیوں میں حیی بن اَخطب اور ابویاسر بن اَخطب دونوں مسلمانوں کے شدید ترین حاسد تھے اور وہ لوگوں کو اسلام سے روکتے تھے۔جہاں تک ان کا بس چلتا وہ مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، زہری کہتے ہیں کہ کعب بن اشرف شاعر تھا اور وہ اپنی شاعری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا۔ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی"15
سورة اِخلاص کا شانِ نزول اس طرح بیان کیا ہے :
"مسند احمد میں ہے کہ مشرکین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کے اوصاف بیان کرو، اس پر یہ آیت اتری، اور حافظ ابویعلی موصلی کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوا ل کیا تھا، اس کے جواب میں یہ سورة اُتری"16
فقہی اَحکام کا بیان
ابن کثیر اَحکام پر مشتمل آیات کی تفسیر کرتے ہوئے فقہی مسائل پر بحث کرتے ہیں اور اس سلسلے میں فقہا کے اِختلافی اقوال و دلائل بھی بیان کرتے ہیں، مثلاً سورة بقرہ کی آیت ﴿قَد نَر‌ىٰ تَقَلُّبَ وَجهِكَ فِى السَّماءِ...١٤٤﴾... سورة البقرة" کے تحت لکھتے ہیں :
"مالکیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نمازی حالت ِنماز میں اپنی نظریں اپنے سامنے رکھے نہ کہ سجدہ کی جگہ جیسا کہ شافعی، احمد او رابوحنیفہ کا مسلک ہے۔ اس لئے کہ آیت کے لفظ یہ ہیں ﴿فَوَلِّ وَجهَكَ شَطرَ‌ المَسجِدِ الحَر‌امِ "یعنی مسجدحرام کی طرف منہ کرو اور اگر وہ سجدہ کی جگہ نظر جمانا چاہے گا تو اسے قدرے جھکنا پڑے گا اور یہ جھکنا مکمل قیام کے منافی ہوگا۔ بعض مالکیہ کا یہ قول بھی ہے کہ قیام کی حالت میں اپنے سینے پر نظر رکھے۔ قاضی شریک کہتے ہیں کہ نمازی قیام میں سجدے کی جگہ نظر رکھے جیسے کہ جمہور علماء کا قول ہے، اس لئے کہ اس میں پورا پورا خشوع خضوع ہے۔ اس مضمون کی ایک حدیث بھی موجود ہے اور رکوع کی حالت میں اپنے قدموں کی جگہ نظر رکھے اور سجدے کے وقت ناک کی جگہ اور قعدہ کی حالت میں اپنی آغوش کی طرف"17
﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ‌...١٨٥ ﴾... سورة البقرة"کی تفسیر میں موٴلف نے چار مسائل ذکر کرکے اس بارے میں علماء کے مختلف مسالک اور ان کے براہین و دلائل بیان کئے ہیں:18
سورہ نساء کی آیت:۴۳، کے تحت تیمم کے مسائل اور احکام ذکر کئے گئے ہیں۔19
﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمـٰنِكُم ...٨٩ ﴾... سورة المائدة" کے تحت قصدا ً قسم کے سلسلے میں کفارہ اَدا کرنے کے مسائل بیان کئے گئے ہیں۔20
امام ابن کثیر فقہی سائل میں عموماً شافعی مسلک کی تائید کرتے ہیں۔
روایات و اَقوال میں تطبیق
ابن کثیر مختلف و متضاد روایات میں جمع و تطبیق کی کوشش کرتے ہیں اوران کے مابین محاکمہ کرتے ہیں، مثلاً سورة آلِ عمران کی آیت :﴿وَلا تَحسَبَنَّ الَّذينَ قُتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ أَمو‌ٰتًا ۚ بَل أَحياءٌ عِندَ رَ‌بِّهِم يُر‌زَقونَ ١٦٩... سو رة آل عمران"کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"صحیح مسلم میں ہے، مسروق  کہتے ہیں: ہم نے عبداللہ بن مسعود سے اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: شہیدوں کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور ان کے لئے قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹک رہی ہیں۔ وہ ساری جنت میں جہاں کہیں چاہیں، کھائیں ، پئیں اور ان قندیلیوں میں آرام کریں، لیکن مسنداحمد میں ہے کہ شہید لو گ جنت کے دروازے پر نہرکے کنارے سبزگنبد میں ہیں، صبح و شام انہیں جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں۔ دونوں حدیثوں میں تطبیق یہ ہے کہ بعض شہداء وہ ہیں جن کی روحیں پرندوں کے قالب میں ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا ٹھکانہ یہ گنبد ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جنت میں سے پھرتے پھراتے یہاں جمع ہوتے ہوں او رپھر انہیں یہیں کھانے کھلائے جاتے ہوں۔ واللہ اعلم!"21
آپ مختلف تفسیری اَقوال میں بھی تطبیق دیتے ہیں مثلاً سورئہ قصص کی آیت:۸۵ ﴿لَر‌ادُّكَ إِلىٰ مَعادٍ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس کے تین قول نقل کئے ہیں: (۱)موت (۲)جنت اور(۳) مکہ۔ ان تینوں اَقوال میں یہ تطبیق دی ہے کہ مکہ کا مطلب فتح مکہ ہے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی قربت کی دلیل ہے اور روزِقیامت مراد لینے کامطلب یہ ہے کہ وہ بہرحال موت کے بعد ہی ہوگا اور جنت اس لئے کہ تبلیغ رسالت کے صلہ میں آپ کا ٹھکانہ وہی ہوگا۔22
قرآنی آیات کا ربط و تعلق
ابن کثیر قرآن مجید کے ربط و نظم کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنی تفسیر میں آیات کے باہمی تعلق اور مناسبت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قرآنِ پاک ایک مربوط و منظم کتاب نظر آتی ہے، اس سلسلے میں متعدد مثالیں تفسیر ابن کثیر میں نظر آتی ہیں، مثلاً آیت ﴿إِنَّمَا الصَّدَقـٰتُ لِلفُقَر‌اءِ وَالمَسـٰكينِ...٦٠﴾... سورة التوبة" کے سلسلے میں رقم طراز ہیں :
"سورة توبہ کی آیت:﴿وَمِنهُم مَن يَلمِزُكَ فِى الصَّدَقـٰتِ....٥٨ میں ان جاہل منافقوں کا ذکر تھا جو ذاتِ رسول پر تقسیم صدقات کے سلسلے میں اعتراض کرتے تھے۔ اب یہاں اس آیت میں فرمایا کہ تقسیم زکوٰة پیغمبر کی مرضی پر موقوف نہیں بلکہ ہمارے بتلائے ہوئے مصارف میں ہی لگتی ہے، ہم نے خود اس کی تقسیم کردی ہے، کسی او رکے سپرد نہیں کی۔"23
﴿أُولـٰئِكَ يُجزَونَ الغُر‌فَةَ بِما صَبَر‌وا...٧٥ ﴾... سورة الفرقان" کے متعلق فرماتے ہیں
"چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیات میں اپنے موٴمن بندوں کے پاکیزہ اَوصاف اور عمدہ طور طریقوں کا ذکر کیا تھا، اس لئے اس کی مناسبت سے اس آیت میں ان کی جزا کا ذکر کیاہے۔"24
قرآن مجید میں بعض مقامات پر موٴمن او رباطل فرقوں کے لئے اُسلوبِ تقابل اختیار کیا گیا ہے جو اس کے منظم و مربوط ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔ علامہ ابن کثیر نے یہاں بھی آیتوں کی مناسبت اور ان کاباہمی ربط بیان کیا ہے، مثلاً ﴿وَبَشِّرِ‌ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ...٢٥ ﴾... سورة البقرة" کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:
"چونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنے دشمنوں یعنی بدبخت کفار کی سزا اور رسوائی کا تذکرہ کیا تھا، اس لئے اب اس کی مناسبت سے یہاں اس کے مقابلہ میں اپنے دوستوں یعنی خوش قسمت ایماندار صالح و نیک لوگوں کے اَجر کا ذکر کر رہا ہے، اور صحیح قول کے مطابق قرآن مجید کے 'مثانی' ہونے کا یہی مطلب ہے کہ ایمان کے ساتھ کفر اور سعادت مندوں کے ساتھ بدبختوں یا اس کے برعکس یعنی کفر کے ساتھ ایمان اور بدبختوں کے ساتھ سعادت مندوں کا تذکرہ کیا جائے۔ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ اگرکسی چیز کے ساتھ اس کے مقابل کاذکر کیا جائے تو یہ 'مثانی' کہلائے گا اور اگر کسی چیز کے ساتھ اس کے 'امثال و نظائر' کا تذکرہ کیا جائے تو یہ 'متشابہ' ہوگا۔"25
حروفِ مقطعات پر بحث
حروفِ مقطعات کے بارے میں امام ابن کثیر  کا نقطہ نظر یہ ہے:
"جن جاہلوں کا یہ خیال ہے کہ قرآن کی بعض چیزوں کی حیثیت محض تعبدی ہے، وہ شدید غلطی پر ہیں۔ یہ تو بہرحال متعین ہے کہ ان حروف (مقطعات) کے کوئی نہ کوئی معنی ضرور ہیں، خدا نے ان کو عبث نازل نہیں فرمایا، اگر ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات ثابت ہوگی تو ہم اسے بیان کریں گے اور اگر حدیث سے کوئی بات معلوم نہ ہوگی تو ہم توقف کریں گے اور یہ کہیں گے کہ ﴿ءامَنّا بِهِ كُلٌّ مِن عِندِ رَ‌بِّنا ۗ وَما يَذَّكَّرُ‌ إِلّا أُولُوا الأَلبـٰبِ ٧ ﴾... سورة آل عمران
حروفِ مقطعات کے متعلق علمائے امت کا کسی ایک قول اور مفہوم پر اجماع نہیں ہے بلکہ اختلافات ہیں، اس لئے اگر کسی دلیل سے کسی کے نزدیک کوئی مفہوم زیادہ واضح ہے تو اس کو وہ مفہوم اختیار کرلینا چاہئے، ورنہ حقیقت ِحال کے انکشاف تک توقف کرنا چاہئے۔"26
ابن کثیر نے زیربحث کتاب میں حروفِ مقطعات پر عمدہ بحث کی ہے، اس سلسلے میں وہ مختلف مفسرین کے اَقوال کی روشنی میں ان کے معانی و مفاہیم متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔27
فضائل سور و آیات
تفسیر ابن کثیر میں سورتوں اور آیتوں کے فضائل و خصوصیات ، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کاان پر تعامل اور امت کو ترغیب و تلقین کا تذکرہ بھی پایا جاتا ہے۔ ا س سلسلے میں ابن کثیر نے اہم کتب ِاحادیث کے علاوہ امام نسائی کی معروف تصنیف عمل اليوم والليلة اور امام بیہقی کی کتاب الخلافيات سے بھی استفادہ کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب کے آغاز میں سورة بقرہ اور سورہ آل عمران کے فضائل کا مفصل بیان ہے۔ اسی طرح آیت ﴿وَلَقَد ءاتَينـٰكَ سَبعًا مِنَ المَثانى... ٨٧ ﴾... سورة الحجر" کے تحت سبع مثانی کی تفسیر میں سات مطول سورتوں بشمول سورة البقرہ و آل عمران کے فضائل و خصائص تحریرکئے گئے ہیں۔28
امام ابن کثیر سورة حشر کی آخری تین آیتوں کے متعلق فرماتے ہیں:
"مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ جو شخص صبح کو تین مرتبہ أعوذ بالله السميع العليم من الشيطن الرجيم پڑھ کر سورة حشر کی آخری تین آیتوں کو پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کرتا ہے جو شام تک اس پر رحمت بھیجتے ہیں اور اگر اسی دن اس کا انتقال ہوجائے تو شہادت کا مرتبہ پاتا ہے اور جو شخص انکی تلاوت شام کے وقت کرے ، وہ بھی اسی حکم میں ہے"۔29
امام صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ "جادو کو دور کرنے اور اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے سب سے اعلیٰ چیز معوذتین یعنی سورة الفلق اور سورة الناس ہیں۔ حدیث میں ہے کہ ان جیسا کوئی تعویذ نہیں۔ اسی طرح آیت الکرسی بھی شیطان کو دفع کرنے میں اعلیٰ درجہ کی چیز ہے"۔30
اشعار سے استشہاد
ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ایک انداز یہ بھی اختیار کیا ہے کہ وہ کسی آیت کے معنی و مفہوم کو واضح کرنے کیلئے حسب ِموقع عربی اشعار پیش کرتے ہیں۔ یہ طرز غالباً انہوں نے طبری سے حاصل کیا ہے۔
آیت ﴿قُل مَتـٰعُ الدُّنيا قَليلٌ وَالءاخِرَ‌ةُ خَيرٌ‌ لِمَنِ اتَّقىٰ... ٧٧ ﴾... سورة النساء" کی تفسیر بیان کرتے ہوئے موصوف نے ابومصہر کے یہ اَشعار بیان کئے ہیں:

ولا خير فی الدنيا لمن لم يکن له      من الله فی دار المقام نصيب
فان تعجب الدنيا رجالا فإنها       متاع قليل والزوال قريب31

"اس شخص کے لئے دنیا میں کوئی بھلائی نہیں جس کو اللہ کی طرف سے آخرت میں کوئی حصہ ملنے والا نہیں۔ گویا دنیا بعض لوگوں کو پسندیدہ معلوم ہوتی ہے، لیکن دراصل یہ معمولی سا فائدہ ہے اور وہ بھی ختم ہونے والاہے"
آیت ﴿وَإِنّى لَأَظُنُّكَ يـٰفِر‌عَونُ مَثبورً‌ا ١٠٢ ﴾... سورة الإسراء" میں لفظ مثبورکے معنی ہلاک ہونا۔ ابن کثیر کہتے کہ یہ معنی عبداللہ بن زبعریٰ کے اس شعر میں بھی ہیں :

إذا جار الشيطن فی سنن الغی      و من مال ميله مثبور32

"جب شیطان سرکشی کے طریقوں پر چلتا ہے اور پھر جو لوگ بھی اس کے طریقے پر چلیں تو وہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔"
لغت ِعرب سے استدلال
ابن کثیر  تفسیرمیں لغت سے بھی استدلال کرتے ہیں اور اَقوال عرب کو نظائر و شواہد کے طور پر پیش کرتے ہوئے آیت کی تشریح و توضیح کرتے ہیں مثلاً ﴿فَقَليلًا ما يُؤمِنونَ ٨٨ ﴾... سورة البقرة" کے متعلق لکھتے ہیں
"اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ یہ بالکل ایمان نہیں رکھتے، جیسے عرب کہتے ہیں "قلما رأيت مثل هذا قط" مطلب یہ ہے کہ میں نے اس جیسا بالکل نہیں دیکھا"33
﴿ يَسـَٔلونَكَ ماذا أُحِلَّ لَهُم ۖ قُل أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبـٰتُ ۙ وَما عَلَّمتُم مِنَ الجَوارِ‌حِ مُكَلِّبينَ...٤﴾... سورة المائدة" کی تفسیر میں لفظ 'جوارح' کو زیربحث لاتے ہوئے لکھتے ہیں:
"شکاری حیوانات کو 'جوارح' اس لئے کہا گیا ہے کہ 'جرح' سے مراد کسب او رکمائی ہے، جیسے کہ عرب کہتے ہیں: فلان جرح أهله خيراً یعنی فلاں شخص نے اپنے اہل و عیال کے لئے بھلائی حاصل کرلی ہے۔ نیز عرب کا ایک قول یہ بھی ہے: فلان لا جارح له "یعنی فلاں شخص کا کوئی کمانے والانہیں"34
جمہور مفسرین اور ابن کثیر
ابن کثیر اپنی تفسیر میں متقدمین علماءِ تفسیر کے مختلف اَقوال کا قدرِ مشترک تلاش کرکے اس کو ہم معنی ثابت کرتے ہیں اور اکثر جمہور علماء اہل سنت والجماعت کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں مثلاً آیت ﴿وَمَن كانَ مَر‌يضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ‌ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ‌...١٨٥﴾... سورة البقرة" کے تحت ابن کثیر قضا روزوں کے مسئلہ پر جمہور کا یہ مسلک اختیار کرتے ہیں کہ قضا روزے پے در پے رکھنا واجب نہیں بلکہ یہ مرضی پر منحصر ہے کہ ایسے روزے الگ الگ دنوں میں رکھے جائیں یا متواتر دنوں میں۔35
ابن کثیر نقل و روایت میں مقلد نہ تھے بلکہ ان کی تنقید و تردید بھی کرتے تھے،اس لئے وہ سلف کی تفسیروں کے پابند ہونے کے باوجود بعض اوقات ان کی آرا سے اختلاف بھی کرتے ہیں، مثلاً آیت ﴿فَلَمّا ءاتىٰهُما صـٰلِحًا جَعَلا لَهُ شُرَ‌كاءَ فيما ءاتىٰهُما...١٩٠﴾... سورة الاعراف" کی تفسیر میں ابن عباس کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت حوا کی جو اولاد پیدا ہوتی، وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے مخصوص کردیتی تھیں او ران کانام عبداللہ، عبید اللہ وغیرہ رکھتی تھیں لیکن یہ بچے مر جاتے تھے۔ایک دن ابلیس حضرت آدم  و حوا کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر تم اپنی اولاد کا کوئی اورنام رکھو گے تو وہ زندہ رہے گی۔ اب حوا کا جو بچہ پیداہوا تو ماں باپ نے اس کا نام عبدالحارث رکھا۔ اسی بنا پر اللہ نے فرمایا:﴿جَعَلا لَهُ شُرَ‌كاءَ فيما ءاتىٰهُما "اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے۔"
پھر ابن کثیر لکھتے ہیں:
"اس روایت کو ابن عباس سے ان کے شاگرد مجاہد، سعید بن جبیر، عکرمہ او رطبقہ ثانیہ کے قتادہ اور سدی وغیرہ نے نقل کیا ہے ۔ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ اہل کتاب سے لیا گیا ہے، اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ ابن عباس اس واقعہ کو اُبی بن کعب سے روایت کرتے ہیں، جیسے کہ ابن ابی حاتم میں ہے لہٰذا میرے نزدیک یہ اثر ناقابل قبول ہے۔"36
سورئہ حج کی آیت:﴿وَما أَر‌سَلنا مِن قَبلِكَ مِن رَ‌سولٍ وَلا نَبِىٍّ إِلّا إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطـٰنُ فى أُمنِيَّتِهِ...٥٢ کے متعلق ابن کثیر کو جمہور کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
"یہاں اکثر مفسرین نے 'غرانیق' کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبشہ یہ سمجھ کر کہ اب مشرکین مکہ مسلمان ہوگئے ہیں، واپس مکہ آگئے، لیکن یہ سب مرسل روایتیں ہیں جو میرے نزدیک مستند نہیں ہیں۔ ان روایات کو محمد بن اسحق نے سیرت میں نقل کیا ہے، لیکن یہ سب مرسل اور منقطع ہیں۔ امام بغوی نے بھی اپنی تفسیر میں ابن عباس اور محمد بن کعب قرظی سے اس طرح کے اقوال نقل کرنے کے بعد خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ جب رسول کریم کی عصمت کا محافظ خود خدا تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی؟ پھراس کے کئی جوابات دیئے ہیں، جن میں سب سے صحیح اور قرین قیاس جواب یہ ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ مشرکین کے کانوں میں ڈالے، جس سے ان کو یہ وہم ہوگیا کہ یہ الفاظ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں تھا بلکہ یہ صرف شیطانی حرکت تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کوئی تعلق نہیں"۔37
علم القراء ت اور لغوی تحقیق
ابن کثیر قرآنی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے حسب ِموقع اختلافِ قراء ت و اِعراب ، صرفی و نحوی ترکیب اور اَلفاظ کی لغوی تحقیق کے علاوہ ان کے مصادر، تثنیہ، جمع اور اصطلاحی مفہوم بھی بیان کرتے ہیں، مثلاً آیت﴿وَلَقَد مَكَّنّـٰكُم فِى الأَر‌ضِ وَجَعَلنا لَكُم فيها مَعـٰيِشَ...١٠﴾... سورة الاعراف" میں لفظ 'معایش' کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں :
"لفظ معایش کو سب لوگ 'ی' کے ساتھ پڑھتے ہیں یعنی ہمزہ کے ساتھ معائش نہیں پڑھتے، لیکن عبدالرحمن بن ہرمز اس کو ہمزہ کے ساتھ پڑھتے ہیں، اور صحیح تو یہی ہے جو اکثر کا خیال ہے یعنی بلا ہمزہ، اس لئے کہ معايش جمع معيشة کی ہے۔ یہ مصدر ہے، اس کے اَفعال عاش، يعيش، معيشة ہیں۔ اس مصدر کی اصلیت ہے معیشة، کسرہ'ی' پرثقیل تھا، اس لئے عین کی طرف منتقل کردیا گیا ہے۔ اور لفظ مَعْيِشَة، مَعِيْشَة بن گیا۔ پھراس واحد کی جب جمع بن گئی تو 'ی' کی طرف حرکت پھر لوٹ آئی کیونکہ اب ثقالت باقی نہیں رہی۔ چنانچہ کہا گیا کہ معایش کا وزن مفاعل ہے، اسلئے کہ اس لفظ میں 'ی' اصل ہے بخلاف مدائن، صحائف اور بصائر کے کہ یہ مدینہ، صحیفہ اور بصیرة کی جمع ہیں، چونکہ'ی' اس میں زائد ہے ، لہٰذا جمع بروزن فَعَائل ہوگی اور ہمزہ بھی آئے گا"38
﴿وَإِذ تَأَذَّنَ رَ‌بُّكَ لَيَبعَثَنَّ عَلَيهِم ...١٦٧﴾... سورة الاعراف" میں لفظ تَأَذَّنَ پر اس طرح بحث کرتے ہیں :
"تأذن بروزن تَفَعَّلَ اذان سے مشتق ہے یعنی حکم دیا یا معلوم کرایا اور چونکہ اس آیت میں قوتِ کلام کی شان ہے، اس لئے لَيَبْعَثَنَّ کا 'ل' معنی قسم کا فائدہ دے رہا ہے، اس لئے 'ل' کے بعد ہی یبعثن لایا گیا۔ عَلَيْهِمْ کی ضمیر یہود کی طرف ہے"۔39
لغوی بحث کی عمدہ مثال ہمیں زیر تبصرہ کتاب کے آغاز میں تعوذ، تسمیہ اور سورة الفاتحہ کی تفسیر میں نظر آتی ہے۔ ابن کثیر لفظ 'صلوٰة' کی تحقیق فرماتے ہیں:
"عربی لغت میں 'صلوٰة' کے معنی دعا کے ہیں، اعشیٰ کا شعر ہے :

لها حارس لا يبرح الدهر بيتها       وان ذبحت صلی عليها و زمزما

یہ شعر بھی اعشیٰ سے منقول ہے :

وقابلها الريح فی دنها      وصلی علی دنها وارتسم

ان اشعار میں'صلوٰة' کا لفظ دعا کے معنوں میں استعما ل ہوا ہے۔ شریعت میں اس لفظ کا استعمال نماز پرہے۔ یہ رکوع و سجود اور دوسرے خاص اَفعال کا نام ہے جو جملہ شرائط، صفات اور اقسام کے ساتھ سرانجام دیئے جاتے ہیں۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ نماز کو 'صلوٰة' اس لئے کہا جاتا ہے کہ نمازی اللہ تعالیٰ سے اپنے عمل کا ثواب طلب کرتا ہے او راپنی حاجتیں اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے او ریہ بھی کہا جاتاہے کہ جو دو رگیں پیٹھ سے ریڑھ کی ہڈی کے دونوں طرف آتی ہیں، انہیں عربی میں صلوین کہتے ہیں۔ چونکہ نماز میں یہ حرکت کرتی ہیں، اس لئے نماز کو صلوٰة کہا گیا ہے، لیکن یہ قول ٹھیک نہیں ہے۔ بعض نے یہ کہا کہ یہ ماخوذ ہے صلی سے، جس کے معنی ہیں: چپک جانا اور لازم ہوجانا، جیسا کہ قرآن میں ہے ﴿ لاَ يَصْلَاهَا ﴾ یعنی جہنم میں ہمیشہ نہ رہے گا مگر بدبخت۔ بعض علما کا قول ہے کہ جب لکڑی کو درست کرنے کے لئے آگ پر رکھتے ہیں تو عرب اسے تَصْلِیَة کہتے ہیں ۔چونکہ نمازی بھی اپنے نفس کی کجی اور ٹیڑھ پن کو نماز سے درست کرتا ہے، اس لئے اسے صلوٰة کہتے ہیں جیسے قرآن میں ہے: ﴿إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ تَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ‌ ۗ وَلَذِكرُ‌ اللَّهِ أَكبَرُ‌...٤٥﴾... سورة العنكبوت "یعنی نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اور اللہ کاذکر ہی بڑا ہے" لیکن اس کا دعا کے معنی میں ہونا ہی زیادہ صحیح ہے اور زیادہ مشہور ہے۔واللہ اعلم"40
ابن کثیر مترادفات پربھی خوبصورت انداز میں بحث کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں قلیل اور تھوڑی مقدار کے لئے بطورِ تمثیل نَقِیْر، فَتِیْل اور قِطْمِیْرکے اَلفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ موصوف سورة نساء کی آیت﴿وَمَن يَعمَل مِنَ الصّـٰلِحـٰتِ مِن ذَكَرٍ‌ أَو أُنثىٰ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولـٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ وَلا يُظلَمونَ نَقيرً‌ا ١٢٤ ﴾... سورة النساء" کے تحت مذکور الفاظ کی تشریح کرتے ہیں :
«وهو النقرة التی فی ظهر نواة التمر، وقد تقدم الکلام علی الفتيل وهو الخيط الذی فی شق النواة وهذا النقير وهما فی نواة التمرة والقطمير وهو اللفافة التی علی نواة التمرة والثلاثة فی القرآن »
"کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو ذرا سی جھلی ہوتی ہے، اسے نقیرکہتے ہیں۔ گٹھلی کے شگاف میں جو ہلکا سا چھلکا ہوتا ہے، اس کو فتیلکہتے ہیں۔یہ دونوں کھجور کے بیج میں ہوتے ہیں اور بیج کے اوپر کے لفافے کو قِطمیرکہتے ہیں اور یہ تینوں لفظ اس موقع پر قرآن میں آئے ہیں"41
ناسخ و منسوخ
ناسخ و منسوخ کی شناخت فن تفسیر میں نہایت اہم ہے۔ ا س علم سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم کی کون سی آیت محکم ہے او رکون سی متشابہ۔ مفسر قرآن کے لئے اس علم میں مہارت نہایت ضروری ہے تاکہ وہ صحیح معنوں میں اَحکامات و مسائل کی توضیح و تشریح کرسکے۔ ابن کثیر اس علم میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ وہ ناسخ و منسوخ آیات کی وضاحت ، ان کے بارے میں مفسرین اور فقہا کی اختلافی آرا اور جمہور کی تائید میں اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہیں، مثلاً﴿ وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَر‌ونَ أَزو‌ٰجًا وَصِيَّةً لِأَزو‌ٰجِهِم مَتـٰعًا إِلَى الحَولِ...٢٤٠﴾... سورة البقرة" کے متعلق اکثر صحابہ و تابعین سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت چار مہینے دس دن والی عدت کی آیت یعنی ﴿وَالَّذينَ يُتَوَفَّونَ مِنكُم وَيَذَر‌ونَ أَزو‌ٰجًا يَتَرَ‌بَّصنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَر‌بَعَةَ أَشهُرٍ‌ وَعَشرً‌ا...٢٣٤﴾... سورة البقرة" سے منسوخ ہوچکی ہے۔42
﴿انفِر‌وا خِفافًا وَثِقالًا وَجـٰهِدوا بِأَمو‌ٰلِكُم وَأَنفُسِكُم فى سَبيلِ اللَّهِ...٤١﴾... سورة التوبة" کے تحت لکھتے ہیں :
"کہ اس آیت میں غزوئہ تبوک کے لئے تمام مسلمانوں کو ہرحال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جانے کا حکم دیا گیا ہے، خواہ کوئی آسانی محسوس کرے یا تنگی،بڑھاپے کی حالت ہو یا بیماری کا عذر۔ لوگوں پر یہ حکم گراں گزرا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے آیت ﴿لَيسَ عَلَى الضُّعَفاءِ وَلا عَلَى المَر‌ضىٰ وَلا عَلَى الَّذينَ لا يَجِدونَ ما يُنفِقونَ حَرَ‌جٌ إِذا نَصَحوا لِلَّهِ وَرَ‌سولِهِ...٩١﴾... سورة التوبة" سے منسوخ کردیا۔ یعنی ضعیفوں ، بیماروں اور تنگ دست فقیروں پر جبکہ ان کے پاس خرچ تک نہ ہو، اگر وہ دین خدا اور شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حامی، طرفدار اور خیرخواہ ہوں تو میدانِ جنگ میں نہ جانے پر کوئی حرج نہیں"43
تلخیص کلام
ابن کثیر کے اندازِتفسیر کی ایک خصو صیت یہ بھی ہے کہ وہ کسی آیت کی تفسیر میں جامع بحث اور تبصرے کے بعد اس کا خلاصہ تحریر کرتے ہیں اور اخذ کردہ نتائج کوسامنے لاتے ہیں، مثلاً آیت ﴿فَمَن كانَ مِنكُم مَر‌يضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ‌...١٨٤﴾... سورة البقرة" کے متعلق اَحادیث و اقوال کی روشنی میں طویل گفتگو کے بعد اس کا لب ِلباب تحریرکیا ہے۔44
آیت ﴿ قُل إِنَّما حَرَّ‌مَ رَ‌بِّىَ الفَو‌ٰحِشَ ما ظَهَرَ‌ مِنها وَما بَطَنَ وَالإِثمَ وَالبَغىَ بِغَيرِ‌ الحَقِّ...٣٣﴾... سورة الاعراف" کے تحت تشریح و توضیح کے بعد لکھتے ہیں:
"حاصل بحث تفسیر یہ ہے کہ إثم سے مراد وہ خطائیں ہیں جو فاعل کی اپنی ذات سے متعلق ہیں اور بغی وہ تعدی ہے جو لوگوں تک متجاوز ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کو حرام فرمایاہے۔"45
خصوصیات
تفسیر ابن کثیر کی چند نمایاں خصوصیات جو اسے دیگر تفاسیر سے ممتاز کرتی ہیں، درج ذیل ہیں :
اسرائیلیات
منقولی تفاسیر کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ ان میں اسرائیلی خرافات کثرت سے نقل کی گئی ہیں، ایسی روایات کے بارے میں ابن کثیر اپنانقطہ نظر 'تفسیر القرآن العظیم' میں یوں بیان کرتے ہیں:
"ہمارا مسلک یہ ہے کہ تفسیر میں اسرائیلی روایات سے احتراز کیا جائے۔ ان میں پڑنا وقت کا ضیاع ہے۔ اس قسم کی اکثر روایتوں میں جھوٹ بھی ہوتا ہے، کیونکہ اس امت کے ائمہ فن اور ناقدین حدیث کی طرح اہل کتاب نے صحیح و سقیم میں تفریق نہیں کی"46
اگرچہ تفسیر ابن کثیر بھی اسرائیلیات سے خالی نہیں ہے تاہم اس کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں موٴلف اسرائیلی واقعات محض استشہاد کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ جن پر اجمالاً اور بعض اوقات تفصیلاً نقد و جرح کرتے ہیں، مثلاً سورة البقرة کی آیت :۶۷ ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأمُرُ‌كُم أَن تَذبَحوا بَقَرَ‌ةً کی تفسیر کرتے ہوئے بنی اسرائیل کی گائے کا طویل قصہ ذکر کیا ہے۔ پھراس میں سلف سے منقول روایات تحریر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
"ابوعبیدہ، ابوالعالیہ اور سدی سے جو روایات منقول ہیں، ان میں اختلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ روایات بنی اسرائیل کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ بلاشبہ ان کو نقل کرنا درست ہے مگر ان کی تصدیق و تکذیب نہیں کی جاسکتی، لہٰذا ان پر اعتماد کرنادرست نہیں ماسوا اس روایت کے جو اسلامی حقائق کے مطابق ہو"47
اسی طرح سورة انبیاء کی آیت﴿وَلَقَد ءاتَينا إِبر‌ٰ‌هيمَ رُ‌شدَهُ مِن قَبلُ وَكُنّا بِهِ عـٰلِمينَ ٥١ کے تحت تحریر کرتے ہیں:
"یہ جو قصے مشہور ہیں کہ حضرت ابراہیم  کے دودھ پینے کے زمانے میں ہی ان کی والدہ نے انہیں ایک غار میں رکھا تھا جہاں سے وہ مدتوں بعد باہر نکلے اور مخلوقاتِ خدا پر خصوصاً چاند، تاروں وغیرہ پر نظر ڈال کر خدا کو پہچانا، یہ سب بنی اسرائیل کے افسانے ہیں۔ ان میں سے جو واقعہ کتاب و سنت کے مطابق ہو وہ سچا اور قابل قبول ہے اس لئے کہ وہ صحت کے مطابق ہے اور جو خلاف ہو وہ مردود اور ناقابل قبول ہے اور جس کی نسبت ہماری شریعت خاموش ہو، مخالفت و موافقت کچھ نہ ہو، گو اس کا روایت کرنا بقول اکثر مفسرین جائز ہے، لیکن نہ تو ہم اسے سچا کہہ سکتے ہیں نہ غلط۔ ان (اسرائیلیات) میں سے اکثر واقعات ایسے ہیں جو ہمارے لئے کچھ سند نہیں اور نہ ہی ان میں ہمارا کوئی دینی نفع ہے۔ اگر ایسا ہوتاتو ہماری جامع، نافع، کامل و شامل شریعت اس کے بیان میں کوتاہی نہ کرتی"48
لیکن زیر بحث تفسیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن کثیر اسرائیلیات کے بارے میں اپنے موٴقف اور نظریہ پر مکمل طور پر کاربند نہ رہ سکے اور تساہل و تسامح اختیار کرتے ہوئے بعض ایسی روایات بھی بیان کی ہیں جن کو فی الواقع خود ان کے اصول کے مطابق اس تفسیر میں شامل نہیں کرنا چاہئے تھا، مثلاً ﴿وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبر‌ٰ‌هيمَ خَليلًا ١٢٥ ﴾... سورة النساء" کے متعلق ابن جریر کے حوالے سے ایک اسرائیلی روایت ذکر کی ہے جس کی حقیقت داستان سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
"بعض کہتے ہیں کہ ابراہیم  کو خلیل اللہ کا لقب اس لئے ملا کہ ایک دفعہ قحط سالی کے موقع پر آپ اپنے دوست کے پاس مصر یا موصل گئے تاکہ وہاں سے کچھ اناج وغیرہ لے آئیں ، لیکن یہاں کچھ نہ ملا اور خالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ جب آپ واپس اپنی بستی کے قریب پہنچے تو خیال آیا کہ ریت کے تودے میں سے اپنی بوریاں بھر کر لے چلوں تاکہ گھر والوں کو قدرے تسکین ہوجائے، چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور ریت سے بھری بوریاں جانوروں پر لاد کر چلے۔ قدرتِ خداوندی سے وہ ریت سچ مچ آٹا بن گئی۔ آپ تو گھر پہنچ کر لیٹ گئے، تھکے ہارے تھے، آنکھ لگ گئی۔ گھر والوں نے بوریاں کھولیں اور انہیں بہترین آٹے سے بھرا ہوا پایا، آٹا گوندھا اور روٹیاں پکائیں۔ جب یہ جاگے اور گھر میں سب کو خوش پایا اور روٹیاں بھی تیار دیکھیں تو تعجب سے پوچھنے لگے: آٹا کہاں سے آیا جس سے روٹیاں پکائیں؟ انہوں نے کہا کہ آپ ہی تو اپنے دوست کے ہاں سے لائے ہیں۔ اب آپ سمجھ گئے اور فرمایا: ہاں! یہ میں اپنے دوست اللہ عزوجل سے لایا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو اپنا دوست بنا لیا اور آپ کا نام خلیل اللہ رکھ دیا"49
اسی طرح ﴿وَأَيّوبَ إِذ نادىٰ رَ‌بَّهُ أَنّى مَسَّنِىَ الضُّرُّ‌ وَأَنتَ أَر‌حَمُ الرّ‌ٰ‌حِمينَ ٨٣﴾... سورة الأنبياء" کے تحت بعض ایسی روایات نقل کی ہیں جن کا کوئی ثبوت نہیں۔50
﴿وَءاتَينـٰهُ أَهلَهُ وَمِثلَهُم مَعَهُم رَ‌حمَةً...٨٤﴾... سورة الأنبياء" کی تفسیر میں ایک روایت تحریر ہے کہ حضرت ایوب کی بیوی کا نام 'رحمت' ہے۔51
ابن کثیر اس قسم کی روایات میں یہ انداز اختیار کرتے ہیں کہ ان کی تصدیق یا تکذیب کئے بغیر واللہ اعلم کہہ کر ان پر نقد و تبصرے سے گریز کرتے ہیں۔
غیر ضروری مسائل کی تحقیق و تجسس سے اِحتراز
کتب ِتفسیر کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ ان میں غیر ضروری اور بے سود باتوں کی تحقیق بڑے اہتمام سے کی جاتی ہے جو قرآن کے مقصد ِتذکیر و استدلال کے بالکل خلا ف ہے۔ ابن کثیر نے ایسے مسائل کی تحقیق و جستجو کی نہ صرف مذمت کی ہے۔ اپنی تفسیر میں نہ صرف غیر ضروری اور غیراہم مباحث کے ذکر سے حتی الامکان پرہیز کیاہے بلکہ ایسے مسائل کی تحقیق وجستجو کی پرزور مذمت کی ہے، مثلاً ﴿فَخُذ أَر‌بَعَةً مِنَ الطَّيرِ‌...٢٦٠﴾... سورة البقرة" کے متعلق لکھتے ہیں:
"ان چاروں پرندوں کی تعیین میں مفسرین کا اختلاف ہے ، حالانکہ ان کی تعیین بے سود اور غیر ضروری ہے۔ اگر یہ کوئی اہم بات ہوتی تو قرآن ضرور اس کی تصریح کرتا"52
وسیع معلومات
ابن کثیر نے تفسیر قرآن مرتب کرنے کے لئے ہر اس حدیث اور اثر کو جمع کیا جو اس میدان میں ممکن تھی۔ قاری اس کتاب کے مطالعے سے نہ صرف احادیث و روایات کے وافر ذخیرے سے مستفیض ہوتا ہے بلکہ اسے تفسیر، فقہ و کلام اور تاریخ و سیرت کی وسیع اور مستند معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں۔
عدمِ تکرار
ابن کثیر کی تفسیر میں تکرار نہیں پایا جاتا ماسوا ان بعض روایات کے جو انہوں نے مقدمہ کی بحث میں نقل کی ہیں۔ وہ کسی آیت کی تفسیر و تشریح کو دہرانے کی بجائے اس کا اجمالاً ذکرکرتے ہیں اور اس کی تفسیر کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں، مثلاً موصوف سورة بقرہ کی تفسیر میں حروفِ مقطعات پر شرح و بسط کے ساتھ بحث کرچکے ہیں، اس لئے بعد میں جن سورتوں میں یہ حروف آئے ہیں، ان کو زیر وضاحت نہیں لاتے، اسی طرح ﴿مَرَ‌جَ البَحرَ‌ينِ يَلتَقِيانِ ١٩﴾... سورة الرحمان" کے متعلق لکھتے ہیں:
"ہم اس کی پوری تشریح سورة فرقان کی آیت ﴿وَهُوَ الَّذى مَرَ‌جَ البَحرَ‌ينِ...٥٣﴾... سورة الفرقان" کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں"53
ماثور دعاؤں کا بیان
تفسیر ابن کثیر میں موقع و محل کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے معمول کی بعض دعاؤں کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کے وقت جو دعائیں پڑھتے تھے، ان کو نقل کیا گیا ہے54سنن ابن ماجہ کے حوالے سے روزہ افطار کے وقت صحابہ کرام کی یہ دعا ذکر کی گئی ہے:
«اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْألُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتِیْ وَسِعَتْ کَلَّ شَيْیٍٴ اَنْ تَغْفِرَلِیْ»55 حضرت ابوبکر کے سوال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک سے بچنے کی یہ دعا سکھائی
«اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذِ بِکَ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ وَاَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ مِمَّا لاَ اَعْلَمُ»56
قصص و اَحکام کے اَسرار
تفسیر ابن کثیر کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں واقعات اور احکام کے اسرار و رموز بھی بیان کئے گئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اسلوب مصنف نے امام فخر الدین رازی کی پیروی میں اختیار کیا ہے۔ چنانچہ ابن کثیر نے مختلف واقعات اور قصص کو بحث و تحقیق کا موضوع بنایا ہے اور حقائق تک پہنچنے کی سعی کی ہے۔ اسی طرح قرآنِ مجید کے اَحکام کو بھی انہوں نے دقت ِنظر سے لکھاہے۔مثلاً سورئہ فاتحہ کے تمام مطالب کی حکیمانہ تشریح کی ہے اور پھر لکھتے ہیں :
"یہ سورئہ مبارکہ نہایت کارآمد مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کی بزرگی، اس کی ثناء و صفت اور اس کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں کا بیان ہے۔ اس سورة میں قیامت کے دن کا ذکر ہے اور بندوں کو اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے کہ وہ صرف اسی سے سوال کریں، اس کی طرف تضرع و زاری کریں، اپنی مسکینی و بے کسی کا اقرار کریں، اس کی عبادت خلوص کے ساتھ کریں، اس کی وحدانیت واُلوہیت کااقرار کریں اور اسے شریک، نظیر اور مماثل سے پاک اور برتر جانیں۔ اس سے صراطِ مستقیم اور اس پر ثابت قدمی طلب کریں۔ یہی ہدایت انہیں قیامت کے دن پل صراط سے بھی پار پہنچا دے گی اور نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے قرب میں جنت الفردوس میں جگہ دلوائے گی۔ یہ سورة نیک اعمال کی ترغیب پر بھی مشتمل ہے تاکہ قیامت کے دن نیک لوگوں کا ساتھ ملے اور باطل راہوں پر چلنے سے خوف دلایا گیا ہے تاکہ قیامت کے دن ان کی جماعتوں سے دوری ہو"57
﴿وَيُقيمونَ الصَّلو‌ٰةَ وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ٣﴾... سورة البقرة" کے تحت لکھتے ہیں:
"قرآن کریم میں اکثر جگہ نماز قائم کرنے اور مال خرچ کرنے کا ذکر ملا جلا ملتا ہے، اس لئے کہ نماز خدا کا حق ہے اوراس کی عبادت ہے جو اس کی توحید، اس کی ثنا، اس کی بزرگی، اس کی طرف جھکنے، اس پر توکل کرنے، اس سے دعا کرنے کا نام ہے اور خرچ کرنا مخلوق کی طرف احسان ہے جس سے انہیں نفع پہنچے۔ اس کے زیادہ حقدار اہل و عیال اور غلام ہیں، پھر دور والے اجنبی، پس تمام واجب خرچ اخراجات اور فرض زکوٰة اس میں شامل ہے"58
سورة ہود کی آیت :۹۴ ﴿وَأَخَذَتِ الَّذينَ ظَلَمُوا الصَّيحَةُ کے سلسلے میں لکھتے ہیں:
"یہاں صیحة، اعراف میں رجفة اور سورة شعراء میں عذاب یوم الظلة کا ذکر ہے۔ حالانکہ یہ ایک ہی قوم کے عذاب کا تذکرہ ہے، لیکن ہر مقام پر اس لفظ کو لایا گیا ہے جس کاموقع کلام متقاضی تھا۔ سورة اعراف میں حضرت شعیب  کو قوم نے بستی سے نکالنے کی دھمکی دی تھی، اس لئے رجفة کہنا مناسب تھا۔ یہاں چونکہ پیغمبر سے ان کی بدتمیزی اور گستاخی کا ذکر تھا، اس لئے صیحةکا لفظ لایا گیا ہے اور سورة الشعراء میں انہوں نے بادل کا ٹکڑا آسمان سے اتارنے کا مطالبہ کیا تھا، اس لئے وہاں ﴿فَأَخَذَهُم عَذابُ يَومِ الظُّلَّةِ کہا گیا اور یہ سب اسرارِ دقیقہ ہیں"59
حیرانگی کی بات ہے کہ یہی اسلوب بعد میں علامہ محمود آلوسی نے اپنایا ہے۔
مصادر و مراجع کی نشاندہی
امام ابن کثیر آیات کی تفسیر کرتے ہوئے بوقت ِضرورت اضافی معلومات اور اختلافی نکات کو نمایاں کرنے کے لئے اکثر موٴلفین کے نام اور بعض اوقات ان کی کتابوں کے حوالے دیتے جاتے ہیں، جن کو تصنیف ِممدوح میں مرجع بنایا گیاہے۔ اس طریقہ کار کے ضمنی فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ محققین کے لئے ان مصادر سے براہِ راست مستفیض ہونے کی سہولت ہوگئی، دوسرا یہ کہ سابقہ موٴلفین کی بیش قیمت آراء اور ان کی بہت سی ایسی کتابیں جو اب نایاب ہیں، ان کے نام اور اقتباسات/ نمونے بھی محفوظ ہوگئے۔
تفسیر ابن کثیر کی قدرومنزلت
موٴرخین اور اصحابِ نظر اس تفسیر کی تعریف اور توصیف میں رطب اللسان ہیں :
امام سیوطی کی رائے ہے کہ "اس طرز پر اب تک اس سے اچھی کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی"60
صاحب ِ'البدر الطالع' فرماتے ہیں:
"ابن کثیر نے اس میں بہت سا مواد جمع کردیاہے ۔ انہوں نے مختلف مذاہب و مسالک کا نقطہ نظر اور اخبار و آثار کا ذخیرہ نقل کرکے ان پر عمدہ بحث کی ہے۔ یہ سب سے بہترین تفسیر نہ سہی، لیکن عمدہ تفاسیر میں شمار ہوتی ہے"61
ابوالمحاسن الحسینی کا بیان ہے:
"روایات کے نقطہ نظر سے یہ سب سے مفید کتاب ہے کیونکہ (ابن کثیر) اس میں اکثر روایات کی اسناد پر جرح و تعدیل سے کلام کرتے ہیں او رعام روایت نقل کرنے والے مفسرین کی طرح وہ مرسل روایتیں ذکر نہیں کرتے"62
علامہ احمد محمد شاکر لکھتے ہیں:
"امامِ مفسرین ابوجعفر طبری کی تفسیر کے بعد ہم نے عمدگی اور گہرائی میں (تفسیر ابن کثیرکو ) سب سے بہتر پایا ہے اورہم نہ تو ان دونوں کے درمیان اور نہ ہی ان کے بعد کی کسی تفسیر سے جو ہمارے سامنے ہیں، موازنہ کرسکتے ہیں۔ ہم نے ان دونوں جیسی کوئی تفسیر نہیں دیکھی اور نہ کوئی تفسیر ان کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ علماء کے نزدیک یہ تفسیر، حدیث کے طالب علموں کے لئے اسانید و متون کی معرفت اور نقد و جرح میں بہت معاون ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک عظیم علمی کتاب ہے اور اس کے بہت فوائد ہیں"63
انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کا 'تفسیر ابن کثیر' کے بارے میں یہ بیان ہے:
"ابن کثیر کی تفسیر بنیادی لحاظ سے فقہ اللغة کی کتاب ہے اور یہ اپنے اسلوب کے لحاظ سے اوّلین کتب میں شمار ہوتی ہے۔ بعد میں سیوطی نے جو کام کیا، اس پر اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں"64
خلاصہ کلام یہ کہ امام ابن کثیر ان تمام علوم و شرائط پر حاوی نظر آتے ہیں جن کا جاننا ایک مفسر کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے نہایت تحقیق اور دِقت نظری سے تفسیر قرآن کو مرتب کیاہے جو قیمتی معلومات کا گنجینہ اور نہایت گراں بہا تفسیری ورثہ ہے۔اگرچہ توسع کی بنا پر اس کتاب میں بعض مقامات پراعلیٰ اور بلند محدثانہ معیار خاطر خواہ قائم نہیں رہ سکا ہے، تاہم اہل نظر کو اعتراف ہے کہ محدثانہ نقطہ نظر سے یہ سب سے زیادہ قابل اعتماد تفسیر ہے۔ کتب ِتفسیر بالماثور میں اس کو امتیازی مقام حاصل ہے اور متاخرین نے ایک بنیادی مصدر کی حیثیت سے اس سے خوب استفادہ کیا ہے۔ جوشخص قرآن حکیم کے مطالب و معانی اور اسرار ورموز سے آگاہ ہونا چاہتا ہے وہ تفسیر ابن کثیر سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔


حوالہ جات
1. الداودی، طبقات المفسرین، ۱/۱۱۲۔ بعض موٴرخین نے ابن کثیر کاسن ولادت ۷۰۰ہجری قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو، شذرات الذھب لابن العماد، ۶/۲۳۱، ذیل طبقات الحفاظ لجلال الدین السیوطی، صفحہ ۳۶۱، مطبعة التوفیق بدمشق، ۱۳۴۷ھ، عمدة التفسیر عن الحافظ ابن کثیر لاحمدمحمدشاکر،۱/۲۲، دارالمعارف القاہرة، ۱۳۷۶ھ/۱۹۵۶ء۔ اسماعیل پاشا بغدادی، امام ابن کثیر کا زمانہ ولادت ۷۰۵ہجری بیان کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو، ہدیة العارفین، اسماء الموٴلفین و آثار المصنیفین، ۱/۲۱۵، وکالة المعارف، استانبول، ۱۹۵۵ء امام صاحب کے سن ولادت کے بارے میں اسماعیل پاشا البغدادی کا بیان درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ امام صاحب کے والد ۷۰۳ہجری میں فوت ہوئے۔ امام ابن کثیر کا اپنا بیان ہے کہ میں اپنے والد کی وفات کے وقت تقریباً تین سال کا تھا۔ ملاحظہ ہو، البدایہ والنھایة لابن کثیر، ۱۴/۳۲، خود امام ابن کثیر اپنی کتاب "البدایہ والنھایة" میں ۷۰۱ھ کے واقعات بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں "وفیھا ولد کاتبہ اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی" (البدایہ والنھایہ، ۱۴/۲۱)
2. احمدمحمدشاکر، عمدہ التفسیر، ۱/۲۲۔ بعض مآخذ کے مطابق ابن کثیر دمشق کے مضافات میں مشرقی بصریٰ کی ایک بستی "مجدل القریة" میں پیدا ہوئے۔ (ملاحظہ ہو، ذیل تذکرة الحفاظ لابی المحاسن شمس الدین الحسینی، صفحہ ۵۷، مطبعة التوفیق، دمشق، ۱۳۴۷ھ) جبکہ مطبوعہ 'البدایہ والنھایہ' میں'مجیدل القریة' منقول ہے (البدایہ والنھایہ لابن کثیر، ۱۴/۳۱) عمر رضا کحالہ نے مقام ولادت "جندل" تحریر کیا ہے۔ (معجم الموٴلفین، ۳/۲۸۴، مطبعة الترقی بدمشق، ۱۳۷۶ھ/۱۹۵۷ء)
3. الذہبی، شمس الدین، تذکرة الحفاظ، ۴/۱۵۰۸، مطبعة مجلس دائرة المعارف العثمانیہ، حیدرآباددکن الھند، ۱۳۷۷ھ / ۱۹۵۸ء ابن العماد، شذرات الذھب، ۶/۲۳۱، الشوکانی، محمدبن علی، البدر الطالع بمحاسن من بعد القرن السابع، مطبعة السعادة القاھرہ، الطبعة الاولیٰ، ۱۳۴۸ھ
4. النعیمی، عبدالقادر بن محمد، الدارس فی تاریخ المدارس، ۱/۳۷، مطبعة الترقی، دمشق، ۱۳۶۷۔۷۰ھ
5. ابن کثیر، عمادالدین اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، ملاحظہ کیجئے بالترتیب:۱/۳۶۳،۳/۴۷۸، ۱/۷۹، ۳۲۷،۴۵۷،۴/۵۴۳،۱/۵۵۵،۳/۲۹۲،۱/۲۹۴،۱/۲۴۳،۲/۱۴۹، امجد اکیڈمی لاہور، الباکستان ۱۴۰۳ھ/۱۹۸۲ء
6.  تفصیل کے لئے دیکھئے، تفسیر ابن کثیر ، ۱/۳۔۶

7. ایضاً: ۳/۲۴۶
8. ایضاً: ۳/۲۰۰، خود ابن کثیر نے بھی حدیث سجل کے رد میں ایک جزء تحریرکیا ہے جس کا حوالہ انہوں نے اپنی تفسیر میں دیا ہے، ملاحظہ ہو صفحہ مذکور
9. ابن کثیر، تفسیر: ۱/۲۱۶

10. ایضاً:۱/۳۰۳

11. ایضا ً: ۱/۵۰۱
12. ایضاً: ۱/۵۳۶

13. ایضاً: ۱/۴۹۹

14. ایضاً:۲/۳۰۴
15. ایضاً: ۱/۱۵۳

16. ایضاً: ۴/۵۶۵

17. ایضاً: ۱/۱۹۳

18. ایضاً: ۱/۲۱۶۔۲۱۷

19. ایضاً:۱/۵۰۴۔۵۰۵

20. ایضاً: ۲/۸۹۔۹۱
21. ایضاً:۱/۴۲۶۔۴۲۷

22. ایضاً:۳/۴۰۳

23. ایضاً:۲/۳۶۴
24. ۳/۳۳۰

25. ایضاً: ۱/۶۲

26. ایضاً:۱/۳۷
27. ایضاً: ۱/۳۵۔۳۸

28. ایضاً: ۱/۳۲۔۳۵، نیز ملاحظہ کیجئے ۲/۵۵۷

29. ایضاً: ۴/۳۴۴
30. ایضاً: ۱/۱۴۸

31. ایضاً: ۱/۵۲۶

32. ایضاً: ۳/۶۷

33. ایضاً: ۱/۱۲۴
34. ایضاً: ۲/۱۶

35. ایضاً: ۱/۲۱۷
36. ایضاً:۲/۲۷۵

37. ایضاً: ۳/۳۲۹،۳۳۰

38. ایضاً:۲/۲۰۲
39. ایضاً: ۲/۲۵۹

40. ایضاً: ۱/۴۲۔۴۳

41. ایضاً: ۱/۵۵۹
42. ایضاً:۱/۲۹۴

43. ایضاً: ۲/۳۵۹

44. ایضاً: ۱/۲۱۵
45. ایضاً: ۲/۲۱۱

46. ایضاً:۳/۱۸۱۔۱۸۲

47. ایضاً:۱/۱۱۰
48. ایضاً: ۳/۱۸۱

49. ایضاً:۱/۵۵۹۔۵۶۰

50. ایضاً: ۳/۱۸۸۔۱۸۹
51. ایضاً: ۳/۱۹۰

52. ایضاً: ۱/۳۱۵

53. ایضاً: ۴/۲۷۲
54. ایضاً:۱/۲۵۰۔۲۵۱

55. ایضاً: ۱/۲۱۹

56. ایضاً: ۲/۴۹۵

57. ایضاً: ۱/۳۰

58. ایضاً: ۱/۴۲، نیز ملاحظہ کیجئے ۲/۲۸۶
59. ایضاً:۲/۴۵۸

60. ایضاً: السیوطی، ذیل طبقات الحفاظ، صفحہ ۳۶۱
61. الشوکانی، محمدبن علی، البدر الطالع بمحاسن من بعد القرن السابع، ۱/۱۵۳، مطبعة السعادة القاھرہ، الطبعة الاولیٰ، ۱۳۴۸ھ
62. الحسینی، ذیل تذکرة الحفاظ، صفحہ ۵۸۔۵۹
63.  احمدمحمدشاکر، عمدة التفسیر، ۱/۶
64.  H.Laoust, Article: Ibn Kathir, the Encyclopaedia of Islam,Vol-III, P.818.

 


 

نوٹ

مکتبہ قدوسیہ، لاہور  نے چند سال قبل اس تفسیر کا اردو ترجمہ از مولانا محمد جونا گڈھی ؒ، کمپیوٹر کتابت میں بڑے خوبصورت اندازمیں شائع کیا ۔ چونکہ زبان قدرے پرانی تھی لہٰذا محمد مسعود عبدہ ؒ سے اس کی زبان وبیان کی اصلاح بھی کرائی گئی۔ یہ ترجمہ ۴ جلدوں میں شائع ہواہے اور اردو دان طبقے میں اسے خاصی پذیرائی ملی ہے۔
اسی طرح معروف اشاعتی ادارے ’دارالسلام پبلشرز نے‘ عربی زبان میں المصباح المنیر في تہذیب ابن کثیر کے  نام سے اس تفسیر کی تلخیص دورنگوں میں اٹلی سے طبع کرائی ہے۔ یہ تلخیص مکہ مکرمہ میں مقیم مولانا ابوالاشبال شاغف نے کی ہے جس پر مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے نظرثانی فرمائی ہے۔ اس میں بہت سے ایسے امور کا دھیان رکھا گیاہے جس نے اس تفسیر کے حسن وخوبی کو چارچاند لگا دیے  ہیں،  مثلاً دار احیاء الکتب کے قدیم مصری نسخے سے دیگرپانچ محقق نسخوں کا تقابل … ملنے والے اضافہ جات کا بریکٹوں میں اندراج…اسماء الرجال میں ہونیوالی خطا پر تحقیق کرکے بریکٹوں میں اس کی تصحیح … مباحث پر عنوان بندی… آیات واحادیث ِمرفوعہ کو اعراب لگانا … مکرر اقوال واحادیث کا حذف… ضعیف احادیث کا  اِخراج … مولانا مبارکپوری کے مفید اضافہ جات  اورمشکل الفاظ کی تشریح وغیرہ
    اسی طرح تفسیر ابن کثیر کا انگریزی ترجمہ بھی ۱۰ جلدوں میں دار السلام نے شائع کیا ہے۔     (محدث)

وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ