س 1:﴿لا أَعبُدُ ما تَعبُدونَ ٢ وَلا أَنتُم عـٰبِدونَ ما أَعبُدُ ٣ ﴾...سورة الكافرون" یہاں بجائے مَنْکے جو عقلاء کے لئے بولا جاتا ہے، مَا کیوں استعما ل کیا گیا ہے جوکہ دراصل غیر عقلاء پراستعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا اِطلاق اللہ تعالیٰ پر کیسے درست ہوا؟
جواب:یہاں ایسے معبود کا ذکر مقصود ہے جو صحیح معنی میں عبادت کے لائق ہو۔ مَا کے ذکر سے اسی صفت کی طرف اشارہ ہے۔ مَنْکے بیان سے یہ مقصود حاصل نہ ہوسکتا،اس سے مراد صرف ذات ہوتی ہے یعنی ایسی ذات جس کی میں عبادت کرتا ہوں اور مَا کی صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ میں اس کی عبادت کرتا ہوں جوکہ عبادت کا اہل اور مستحق ہے۔ اس طرح سے باری تعالیٰ کی عبادت کرنے کی وجہ بھی معلوم ہوتی ہے۔ یہی معنی ہیں محققین نحویوں کے اس قول کے کہ 'ما' کاذکر صفات کے اظہار کے لئے ہوتا ہے۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے ﴿فَانكِحوا ما طابَ لَكُم مِنَ النِّساءِ...٣ ﴾... سورة النساء "نکاح کرو جو تم کو بھلی لگیں عورتوں میں سے"۔ یہاں اصل مقصودصفت ہے ، اسی بنا پر مَا ذکر کیا گیا ہے۔
س2: اس سورة میں ایک ہی مفہوم کو بار بار کیوں دہرایا گیا ہے؟
جواب: ﴿لا أَعبُدُ ما تَعبُدونَ ٢ ﴾... سورة الكافرون" میں عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ یعنی نہ تو اب میں زمانہٴ حال میں تمہارے معبودوں کی عبادت کرتا ہوں، نہ آئندہ کروں گا اور اس کے مقابلہ میں ہے: ﴿وَلا أَنتُم عـٰبِدونَ ما أَعبُدُ ٣ ﴾... سورة الكافرون" اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم نے عبادت کی یعنی وحی الٰہی آنے سے پہلے میں شرک سے بچا ہوا تھا۔ ماضی کا صیغہ لاکر اسی مفہوم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ گویا آیت کے معنی یہ ہوئے «لم أعبد قط ما عبدتم» "میں نے کبھی بھی ان کی عبادت نہیں کی جن کی تم کرتے ہو" اوریہ معنی اس کے مقابل آیت ﴿وَلا أَنتُم عـٰبِدونَ ما أَعبُدُ ٣ ﴾... سورة الكافرون" کے ہیں یعنی جس کی میں ہمیشہ عبادت کرتا رہا ہوں، اس کی تم نے گذشتہ زمانہ میں بھی عبادت نہیں کی۔اس تفسیر کی بنا پر تکرارِ افعال کا اعتراض اٹھ گیا اور سورت نفی کے تمام زمانوں (ماضی اور حال ومستقبل) کو شامل ہوگئی۔

س3: اس میں کیا حکمت ہے کہ رسول اللہﷺ کے لئے تو أعبد (مضارع کا صیغہ)استعمال کیا گیاہے اور کفار کے ذکر میں ماضی، مضارع دونوں قسم کے صیغے موجود ہیں؟
جواب:اس اندازِ بیان سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نبیﷺ کا معبود ہر زمانہ میں ایک ہی ہے۔ سیدھی راہ سے نہ پہلے کبھی کجی / ٹیڑھا پن ہوا ہے اور نہ کبھی آئندہ ہوسکتا ہے بخلاف مشرکین کے کہ وہ دراصل اپنی خواہشات اور جذبات کی پیروی کرتے ہیں۔ آج ایک معبود کی عبادت کی توکل دوسرے کے سامنے سرجھکا دیا۔ ہر زمانہ میں ایک نیا معبود تراش لیتے ہیں۔ اس لئے تَعْبُدُوْنَ اور عَبَدْتُّمْ ماضی، مضارع دونوں کو بیان کردیا۔
س 4: مشرکین کے بیان میں عَابِدُوْنَ اسم فاعل کا صیغہ دونوں بار لایا گیا ہے اورنبیﷺ کے ذکر میں ایک مرتبہ مضارع أَعْبُدُ اور دوسری آیت میں اسم فاعل عَابِدٌ بیان ہوا ہے۔ اس کی حکمت کیا ہے ؟
جواب:اس سورت کا مقصود یہ ہے کہ رسو ل اللہﷺ مشرکین کے معبودانِ باطل سے قطعی براء ت اور بیزاری ظا ہر کردیں۔ لاَ اَعْبُدُکے معنی ہیں کہ میں ہر وقت ہر طرح سے اس عبادت سے بیزار ہوں۔ وَلاَ اَنَا عَابِدٌ کے معنی ہیں کہ غیر اللہ کی عبادت کے وصف سے میں یکسر خالی اور بری ہوں۔ نہ عارضی طور پر میں شرک کرسکتا ہوں نہ دائمی طور پر۔ وَلاَ اَنْتُمْ عاَبِدُوْنَ کا منشا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا وصف دائمی طور پر ان میں نہیں پایا جاسکتا۔ کبھی وہ خدا کی طرف جھک جاتے ہیں اور کبھی اپنے خود ساختہ معبودوں کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ یہ دوام و استقلال تو اسی کو حاصل ہوسکتا ہے جوصرف ایک خدا کا عبادت گزار بنا رہے، اسی لئے وَلَا اَنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ نہیں کہا گیا۔ خدا کی عبادت تو وہ بھی کرتے ہیں مگر شرک کی آلائشوں کے ساتھ۔ مطلقاً عبادتِ الٰہی کی ان سے نفی نہیں کی گئی بلکہ ان کی صفت ِ'عابدیت' کا انکار کیا گیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے جو خدا کے ساتھ عبادت میں دوسروں کو شریک کرتا ہے، وہ خدا کا عابد کہلاہی نہیں سکتا۔ اس نکتہ کو سمجھ لینے کے بعد عبد کا مقام پوری طرح ظاہر ہوگیا۔ عبد یا عابد وہ ہوسکتا ہے جو بالکلیہ تمام معبودانِ باطل سے کٹ کر یکسوئی کے ساتھ خدا کے دامن سے وابستہ ہوجائے، اس تفسیر کے بیان سے اس امرکی وجہ بھی ظاہر ہوگئی کہ اس سورة کا نام 'اِخلاص'بھی کیوں ہے او ریہ چوتھائی قرآن کے ہم پلہ کیسے ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس سورة میں توحید کا مغز بھرا ہوا ہے۔
س5: یہاں نفی کے واسطے لَنْ کے بجائے لاَ کیوں لایا گیا ہے، حالانکہ لَن میں بظاہر تاکید زیادہ پائی جاتی ہے
جواب: لَن میں میں صرف زمانہٴ مستقبل کی نفی ہوتی ہے او رلا کی نفی پوری طرح حال اور مستقبل میں جاری ہوتی ہے لہٰذا یہاں لاَ کا ہی ذکر مناسب ہے۔لَنْ اور لاَ میں فرق کی ظاہر وجہ یہ ہے کہ لا کے آخر میں الف ہے جو کہ وسعت او رپھیلاؤ کے ساتھ اپنے مخرج سے نکلتا ہے، اس لئے اس کے معنی میں بھی وسعت ہی مراد ہوگی۔ لیکن لَنْ کے آخر میں 'ن' ہے جس کے مخرج میں اِمتداد اورپھیلاؤ نہیں ہے۔ ا س لئے اس کے معنی بھی محدود ہیں۔
ان کا واضح فرق حسب ِذیل آیتوں سے بخوبی ہوسکتا ہے: لَنْ تَرَانِیْ تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا یہاں رؤیت ِالٰہی کی نفی ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ ایک و قتی نفی اور انکار مراد ہے جبکہ﴿لا تُدرِ‌كُهُ الأَبصـٰرُ‌...١٠٣ ﴾... سورة الانعام"نگاہیں ذات باری کا اِدراک نہیں کرسکتیں سے دائمی نفی مراد ہے،اسی لئے لا بیان کیا گیا ﴿وَلَن يَتَمَنَّوهُ أَبَدًا﴾... سورة البقرة"﴿وَلا يَتَمَنَّونَهُ أَبَدًا...٧ ﴾... سورة الجمعة" ان دونوں آیتوں میں اندازِ بیان کے فرق کا راز بھی مذکورہ بالا قاعدہ کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے۔ (بدائع : ۱/۹۶)
س 6: اس سورت میں نفی محض ہے، حالانکہ توحید کے دو پہلو ہیں نفی اور اثبات...؟
جواب: اس سورة میں غیر اللہ کی عبادت کی نفی اور شرک سے بار بار برأت کی گئی ہے۔ یہ اس سورة کی خاص خوبی اور اہم مقصد ہے، اسی لئے موحدین اور مشرکین دونوں گروہوں کے بیان میں لائے نفی ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اس نفی کے ساتھ اثبات بھی ہے﴿لا أَعبُدُ ما تَعبُدونَ ٢ ﴾... سورة الكافرون" میں عبادتِ غیر سے صرف انکار وبرأت ہے۔ ﴿وَلا أَنتُم عـٰبِدونَ ما أَعبُدُ ٥ ﴾... سورة الكافرون"میں اس بات کا اعلان ہے کہ میرا ایک معبود ہے جس کی میں عبادت کرتا ہوں اور تم اس سے الگ ہو۔ پس نفی و اثبات اس سورت میں یکجا ہوگئے۔
امامِ حنفاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان بھی اسی کے ہم معنی ہے: ﴿إِنَّنى بَر‌اءٌ مِمّا تَعبُدونَ ٢٦ إِلَّا الَّذى فَطَرَ‌نى...٢٧ ﴾... سورة الزخرف"بے شک میں ان سے بری اور بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو مگر وہ جس نے مجھ کو پیدا کیا"۔ اور یہی مطلب ہے گروہِ موحدین اصحاب الکہف کے اس قول کا ﴿وَإِذِ اعتَزَلتُموهُم وَما يَعبُدونَ إِلَّا اللَّهَ...١٦ ﴾... سورة الكهف"اور جبکہ تم ان (مشرکین) سے الگ ہو گئے اور جن کی وہ عبادت کرتے تھے مگر اللہ سے"۔ غورکریں تو واضح ہوجائے گا کہ اس سورة الکافرون میں بھی لا الہ الا اللہ کی حقیقت پوری طرح جلوہ گر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ صبح اور مغرب کی سنتوں میں سورة الاخلاص اور اس سورت کو پڑھا کرتے تھے۔ یہ دونوں سورتیں توحید کی دو قسموں کو شامل ہیں جن کے بغیر بندے کی نجات و فلاح ناممکن ہے۔

٭٭٭٭٭