میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

تعلیم کامعاملہ ہو یا صحت ِعامہ کی بات، سائنسی ترقی کا سوال ہو یا معاشی خوشحالی کی بات ہو، پسماندگی اور بدحالی ہرجگہ ہمارے سامنے آتی ہے۔ دنیا بھر میں ہمارا تعارف ایک پسماندہ قوم کے طور پر موجود ہے۔البتہ ایک شعبہ ایسا ہے جس میں ہم نے 'ہوش ربا' ترقی کی ہے، وہ ہے 'ترقی پسندی'۔ ہمارا طرہٴ امتیاز یہ ہے کہ ہم ترقی کرنے کی بجائے'ترقی پسندی' کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ہمارے لئے یہی امر ہی راحت القلوب ہے کہ ہم ترقی پسند ہیں۔ ہم ترقی یافتہ ممالک کے دانشوروں کو بڑے فخر سے بتا سکتے ہیں کہ ترقی کے معاملے میں ہم ان سے بہت پیچھے سہی، مگر 'ترقی پسندی' میں ہم دنیا کی کسی بھی قوم کے کندھے سے کندھا ملا کر چل سکتے ہیں۔ ہمارے روشن خیال دانشور پوری قوم کے 'شکریہ' کے مستحق ہیں، کہ بالآخر انہوں نے اپنی شبانہ روز ابلاغی کاوشوں اور فکری محنتوں سے اس قوم کے اندر 'ترقی پسندانہ' جذبات کو 'فروغ' دے کر اسے احساسِ کمتری کی 'ذلت آمیز' منزل سے باہر نکالا ہے۔
۱۹۳۰ء کے عشرے میں برصغیر پاک و ہند میں مارکسی نظریات کی یلغار کے نتیجہ میں ادیبوں کا ایک گروہ وجود میں آیا جس نے روایت شکنی کو اپنا 'دین و ایمان' سمجھ لیا۔ الحاد پرست ادیبوں کے اس طائفہ نے جس تحریک کی بنیاد رکھی، وہ 'ترقی پسند تحریک' کہلائی او ریہ خود اپنے آپ کو 'ترقی پسند' کہلانے لگے۔ مذہبی طبقہ ان کی جارحانہ تنقید اور استہزا کا تختہٴ مشق بن گیا۔ مذہبی طبقہ سے ان کی منافرت بالآخر مذہب سے متعلق ہر فکر و عمل تک پھیل گئی۔ مذہب سے وابستہ ہربات ان کے نزدیک 'رجعت پسندی' کہلائی۔ مارکسی فکر والے ان دانشوروں کی زبانیں انگارے برساتی تھیں، غالباً یہی وجہ ہے کہ ان کی طرف سے جو ترقی پسند ادیبوں کے افسانوں کا پہلا مجموعہ شائع ہوا، اس کا نام 'انگارے' تھا۔ ان'انگاروں'کی تپش نے دین و ایمان ، شرم و حیا اور روحانی اقدار کے گلستان کوکافی متاثر کیا۔ مذہب بیزاری اور الحاد پرستی کے جذبات کو اس تحریک نے پروان چڑھایا۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں ایوب خانی آمریت کے دوران ان اشتراکی ترقی پسندوں نے وہ رسوخ حاصل کیا کہ اچھے خاصے دین دار ادیب اپنی دینداری کو چھپاتے پھر رہے تھے کہ کہیں ان پر رجعت پسندی کا ٹھپہ نہ لگ جائے۔
۱۹۸۰ء کی دہائی کے آخر میں سوویت یونین کے انہدام کے نتیجے میں جب اشتراکی نظریہ عالمی منظر سے روپوش ہونے لگا، تو پاکستان میں بھی ترقی پسند ادب کی تحریک کو زوال آگیا۔ اب کوئی ترقی پسند ادبی تحریک تو نظر نہیں آتی، البتہ 'ترقی پسندی' کا ڈھنڈورا خوب پیٹا جارہا ہے۔ ہر سیکولر، اشتراکی اور مذہب بیزار ترقی پسندی کے بخار میں مبتلا نظر آتاہے۔ شکست خوردہ اشتراکیوں کے وہ نام نہاد انقلابی جھتے جو اٹھتے بیٹھتے امریکہ کو گالیاں دیتے تھے، آج انسانی حقوق کی امریکی ٹرین کی اگلی بوگی پرسوار دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے انسانی حقوق کے انتھک منادوں میں اکثریت انہی بائیں بازو کے افراد کی ہے۔ ان 'انقلابیوں' نے ایک دفعہ پھر 'ترقی پسندی' کوقبضہ قدرت میں لے لیا ہے۔ یہ مولویوں کو مذہب کا ٹھیکیدار ہونے کا طعنہ دیتے تھے، آج یہ خود 'ترقی پسندی'کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔ اگر کسی نے اپنے آپ کو ترقی پسند کہلوانا ہو، تو ان جعل سازوں سے اسے مہر لگوانے کو کہا جاتا ہے۔
پوری دنیا میں جو چند ایک الفاظ مجلسی زندگی میں بے حد کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، ان میں لفظ 'ترقی'بے حد اہمیت اختیارکرچکاہے۔ جدید نظام معیشت اور ماہرین معاشیات کی اصطلاحات میں'ترقی' کی اصطلاح اہم ترین ہے۔ مختصراً اگر یہ کہا جائے کہ آج انسانی جدوجہد کا محور و مرکز بلکہ مقصد ِوحید ہی 'ترقی' ہے۔ مگر اسے علمی اعتبار سے ایک المیہ کہنا چاہئے کہ اس قدر اہم اصطلاح کا نہ ابھی تک صحیح مفہوم متعین کیا جاسکا ہے، نہ ہی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد 'ترقی' کے متعلق یکساں ادراک رکھتے ہیں۔ اشتراکی فلسفہ پر جان چھڑکنے والوں سے آپ استفسار کیجئے کہ ان کے نزدیک ترقی کا مطلب کیا ہے؟ وہ تاریخ کی مادّی تعبیرات کی بھول بھلیوں سے گذرتے ہوئے بالآخر ' مساواتِ شکم' پر ترقی کی تان توڑیں گے۔ سرمایہ دارانہ مغرب کے ماحول میں پروردہ ایک شخص زندگی کے مادّی پہلو میں بہتری، معیاراتِ زندگی اور سہولتوں میں اضافہ، اور زیادہ سے زیادہ جدید سائنسی اکتشافات اور ان کے معاشرتی استعمالات کو ہی تمام تر 'ترقی' قرار دے گا۔
آج کل انسانی حقوق اور انسانی ترقی کے مابین نئے رشتے تلاش کئے جارہے ہیں۔ ایک انسانی حقوق کا علمبردار فرد کی آزادیوں کے پیمانے سے ترقی کا مفہوم سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک ترقی یافتہ سماج وہی ہے جہاں ایک فرد کو زیادہ سے زیادہ آزادی ٴ ضمیر ، آزادی ٴ اظہار اور آزادی ٴانجمن سازی کے حقوق میسر ہیں۔ ایشیا بالخصوص مسلم ممالک میں مسلک ِتصوف پر یقین رکھنے والوں کے نزدیک مادّی ترقی روح کی تباہی پر منتج ہوتی ہے، ان کا منتہاے مقصود صرف ان کے متعین کردہ اصولوں کے مطابق روحانی ترقی ہے۔ ایک دیہات میں رہنے والا شخص ترقی کا جو مفہوم سمجھتا ہے، شہری تمدن کے مزے اڑانے والا شخص شاید ہی اس سے اتفاق کرسکے۔ صنعتی معاشرے میں ایک مزدور اور صنعت کار کے ترقی کے نصب العین میں واضح فرق ہے۔ایک غریب آدمی گھر، گاڑی، کچھ جائیداد، اچھی خوراک، اچھے رہن سہن کو ہی ترقی کی معراج گردانتا ہے، مگر ایک دولت مند جسے یہ سب کچھ وراثت میں ملا ہے، اس کے نزدیک ان اشیا کی ذرّہ برابر قدرومنزلت نہیں ہے، اس کے ترقی کے معیارات بالکل الگ ہیں۔ جدیدخواتین سے ترقی کے مفہوم کے بارے میں بات کیجئے، ان کے نزدیک ترقی جدیدیت کو اپنانے ہی میں ہے۔ وہ 'ماڈرن' ہونے کو ہی ترقی یافتہ سمجھتی ہیں۔ آج کل کی این جی اوز کی بیگمات، پاکستان میں جن کی قیادت عاصمہ جہانگیر کر رہی ہیں، کے نزدیک مرد کی 'غلامی' سے مکمل نجات یعنی مجرد زندگی ہی ترقی کی معراجہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 'ترقی' سے مراد صرف مادّی ترقی ہے جیساکہ ترقی کا مقبول ترین یونیورسل تصور آج کل پھیلا ہوا ہے؟ اس سوال کا براہِ راست تعلق ایک اور سوال سے بھی ہے یعنی انسان کا مقصد حیات کیا ہے؟ یا اس کا مقصد تخلیق کیا ہے؟ دراصل ترقی کے بارے میں تمام تصورات کی بنیاد ہی اس سوال کے جواب پر منحصر ہے۔ جدید سیکولر مغرب نے گذشتہ چار صدیوں میں جس مقصد حیات کو آگے بڑھایا ہے، اس کا دائرہ کار محض اسی دنیاوی زندگی تک محدود ہے، حیات بعد الممات کے بارے میں ان کا اعتقاد ہی ختم ہوگیا ہے، لہٰذا وہ اخروی زندگی کی بہتری کے متعلق سوچنے کا اپنے آپ کو مکلف ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یہ روش غیرمسلموں کی ہے کہ وہ دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔( الانعام: ۲۹)
انسان جسم اور روح کا مرکب ہے، مگر ان کی تگ ودو کا اصل محور انسان کے جسمانی تقاضوں کی تکمیل ہی ہے، روح اور روحانی معاملات کے متعلق وہ سنجیدگی سے سو چنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ پورا معاشرہ اپنے فکری منہج اور عقلی خدوخال کے اعتبار سے ایک خالصتا ً مادی معاشرہ ہے۔ اگرچہ وہاں اب بھی مذہب کی مسخ شدہ شکلیں موجود ہیں، لیکن وہ مادّیت ہی کے تابع ہیں، یہی وجہ ہے کہ چرچ مغربی معاشرے کو اپنے اُصولوں کے مطابق نہ ڈھال سکنے کے بعد اپنے آپ کو سیکولر سماج کے مطابق ڈھالنے میں مصروف نظر آتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم مغربی سماج کے اس مقصد ِحیات کو اپنا نصب العین قرار دے سکتے ہیں؟ اگر ہم بالفرض اسے اپنا مقصود بنا لیتے ہیں تو پھر ہمارے اسلام سے تعلق کی موجودہ بنیادیں کیا قائم رہ سکیں گی؟ او رپھر ایک اہم سوال، کیا ہم مادی ترقی کے حصول کے لئے اسلام اور اسلام کے روشن اصولوں کو قربان کرسکتے ہیں؟
ہمارے آج کل کے روشن خیال دانشور اسلام کو اس وقت تک قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں جب تک کہ اس کے ساتھ 'ترقی پسند' کا لاحقہ نہ لگا ہو۔ ان کے لئے محض 'مسلمان' کہلانا کافی نہیں ہے بلکہ وہ ترقی پسند مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں۔ 'ترقی پسند اسلام ' کی واضح تعریف کوئی بھی متعین نہیں کرتا۔مگر سیکولر دانشوروں کی گفتارِ متواترہ سے ترقی پسند اسلام کا جو مفہوم سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے مراد ایسا اسلام ہے جس میں سماجی انصاف، رواداری اور روشن خیالی کی اعلیٰ اقدار کا اظہار ہوتا ہے۔ اشتراکی دانشور جس 'سماجی انصاف' کا ڈھندوڑا پیٹتے ہیں، اس کی جزئیات اور باریکیوں کو نگاہ میں رکھا جائے تو اس کا مرجع و مصدر مارکسزم ہے نہ کہ اسلام۔ اشتراکی سماجی انصاف جس معاشی مساوات کا تصور پیش کرتا ہے، اس میں نجی ملکیت کے خاتمہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جبکہ اسلام نجی ملکیت کے خاتمہ کا قائل نہیں ہے، البتہ اس کے حصول کیلئے جائز ذرائع کی تلقین کرتا ہے۔ مغربی جمہوریت کے سحر میں مبتلا سیکولر دانشور اسلام اور جمہوریت کے درمیان شورائیت کی قدرِ مشترک رکھتے ہوئے جمہوریت کو عین اسلام تصور کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ترقی پسند اسلام صرف وہی ہے جس میں مغربی جمہوریت کی تائید کا پہلو نکلتا ہو۔ وہ حاکمیت ِجمہور اور حاکمیت ِالٰہیہ کے بنیادی فرق اور اس جیسے بہت سے امور کو فراموش کردیتے ہیں، مختصر الفاظ میں ان کے نزدیک ترقی پسند اسلام بس وہی ہے جس میں اشتراکیت اور جمہوریت کے ساتھ فکری اشتراک پایا جاتا ہو۔
اگر کوئی بات اسلام میں تو ہے مگر اشتراکیت یا مغربی جمہوریت سے متصادم ہے تو پھر ایسا 'اسلام' انہیں قبول نہیں ہے۔ قرآن مجید میں جنت او رجہنم کا تفصیل کے ساتھ ذکر موجود ہے، مگر ہمارے 'ترقی پسند' مسلمان جہنم، یا عذابِ قبر کاذکر سننے کو قطعاً تیار نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں مولوی جہنم کا ذکر کرکے لوگوں کو ڈرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ خوف کے مارے ان کی مالی معاونت کریں۔ 'ترقی پسند اسلام' میں صرف معاملات کے ذکر پر اکتفا کیا جاتاہے، عبادات کی تکرار ان کے خیال میں رجعت پسندی ہے۔ آج کل ترقی پسندوں نے 'انسان دوستی' کا بہت واویلا مچا رکھا ہے۔ انسان دوستی کا فلسفہ درحقیقت انسان پرستی کا دوسرا نام ہے۔ مغرب میں اس نظریہ کو خدا بیزار فلسفیوں نے متعارف کرایا۔ ان کا خیال تھا کہ انسان کو خدا کا ذکر چھوڑ کر اپنی سرگرمیوں کا محور و مرکز بس 'انسان' کو ہی سمجھنا چاہئے۔ ہیومن ازم درحقیقت ایک ملحدانہ نظریہ ہے مگر ہمارے ترقی پسند اسے ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اسلام میں 'جہاد' کو بھی بے حد اہمیت حاصل ہے، مگر ترقی پسند مسلمان جہاد کو 'بنیادپرستی 'کا مظہر سمجھتے ہیں۔اسلام میں گستاخِ رسول کی سزا موت ہے مگر 'ترقی پسند اسلام' کے پجاری قانونِ توہین رسالت کو انسانی حقوق کے منافی سمجھتے ہیں۔ اسلام عورتوں کو گھر بیٹھنے اور حجاب اپنانے کی ہدایت کرتا ہے مگر 'ترقی پسند مسلمانوں' کی ترقی پسندی کا اصلی نصب العین ہی یہ ہے کہ عورتوں کو زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ لایا جائے۔ اسلام سود خوری کو اللہ سے جنگ قرار دیتاہے مگر 'ترقی پسند مسلمان' سود کے بغیر امور ریاست کی انجام دہی کو ناقابل عمل سمجھتے ہیں۔ اسلام موسیقی، رقص و سرور ، بت گری اور مخلوط مجالس سے منع کرتا ہے۔مگر ترقی پسند مسلمان اسے فنونِ لطیفہ اور آرٹ کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ فرق ہمیں چند اُمور میں نہیں بلکہ تمام بنیادی اُمور میں دکھائی دیتا ہے۔ عام مسلمانوں کے 'اسلام' اور ترقی پسندوں کے 'اسلام' میں ہر اعتبار سے فرق ہے۔
ہمارا حکمران طبقہ اور سیکولر دانشور 'ترقی پسند اسلام' کی بات کرتے ہیں، جبکہ انہیں چاہئے کہ وہ 'اسلام پسند ترقی' کے تصور کو آگے بڑھائیں یعنی وہ ترقی ایسی ہو جس میں اسلام سے بھی ہمیں ہاتھ نہ دھونے پڑیں اور اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہم اس کو حاصل کرسکیں۔ وہ ترقی ایسی ہوجس میں دنیا کے ساتھ ساتھ دین کی پاسداری کی ضمانت بھی دی جاسکتی ہو۔ روحانی اور ا خلاقی زوال سے دو چار کرنے والی تحریک 'ترقی پسندانہ' ہو تو ہو، اسے 'اسلامی' نہیں کہا جاسکتا ۔

٭٭٭٭٭