ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • ستمبر
2001
مرزا عمران حیدر
جامعہ لاہور الاسلامیہ (جامعہ رحمانیہ) ایک تحریک ایک فکر کا نام ہے۔ جس کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ اسلام کو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق عملی صورت میں پیش کیا جائے۔ جس کے لئے ایک وسیع و عریض علماء کے نیٹ ورک کی ضرورت ہے۔ جو اسلامی نظام کو عمل کے پیراہن سے آراہستہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔جو یہ بات ثابت کرسکیں
  • ستمبر
2001
عبداللہ بن محمد المعتاز
مادّیت کے اس دو رمیں انسان کے وجود پرمادّی حوالے سے بہت کچھ لکھا جارہا ہے لیکن 'انسان' پر روحانی پہلو سے توجہ نہیں دی جارہی، نہ اس ضمن میں وحی الٰہی سے فائدہ اُٹھایا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان مادّی طور پر کسی حد تک مطمئن ہوجانے کے باوجود روحانی حوالے سے بہت کھوکھلا اور تشنہ ہے۔
  • ستمبر
2001
محمود اختر
ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز کھڑے ہوئے تاکہ ہمیں کوئی نصیحت فرمائیں۔ آپ نے غنیمت کے مال میں چوری کرنے کو بڑا گناہ قراردیا۔ آپ نے فرمایا:
"میں قیامت کے دن تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ آئے اور اس کی گردن پرایک اونٹ بلبلا رہا ہو اورکہتا ہو
  • ستمبر
2001
حافظ ثناء اللہ مدنی
سوال: محافل قراء ت میں قاری صاحبان تلاوت کرتے ہیں تو سامعین حضرات اونچی آواز سے اللہ اللہ کہہ کر قاری صاحب کو داد دیتے ہیں۔ قرآن و سنت کی رو سے اس کی کیا حیثیت ہے اور کہاں تک گنجائش ہے؟
جواب: قاری کی تلاوت کے دوران اللہ، اللہ کہہ کرداد دینے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں
  • ستمبر
2001
اکبر ربانی
عمادالدین ابوفدا اسمٰعیل بن عمر بن کثیر ۷۰۱ ھ میں شام کے شہر بصریٰ کے مضافات میں 'مجدل' نامی بستی میں پیدا ہوئے اور دمشق میں تعلیم و تربیت پائی۔ آپ نے اپنے عہد کے ممتاز علماء سے استفادہ کیا اور تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، تاریخ، علم الرجال اور نحو و لغت ِعربی میں مہارت حاصل کی ۔آپ نے ۷۷۴ ھ میں دمشق میں وفات پائی اور مقبرئہ صوفیہ میں مدفون ہوئے۔
  • ستمبر
2001
عبدالغفار حسن
سوال: ﴿لا أَعبُدُ ما تَعبُدونَ ٢ وَلا أَنتُم عـٰبِدونَ ما أَعبُدُ ٣ ﴾...سورة الكافرون" یہاں بجائے مَنْکے جو عقلاء کے لئے بولا جاتا ہے، مَا کیوں استعما ل کیا گیا ہے جوکہ دراصل غیر عقلاء پراستعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا اِطلاق اللہ تعالیٰ پر کیسے درست ہوا؟
جواب: یہاں ایسے معبود کا ذکر مقصود ہے جو صحیح معنی میں عبادت کے لائق ہو۔
  • ستمبر
2001
عطاء اللہ صدیقی
تعلیم کامعاملہ ہو یا صحت ِعامہ کی بات، سائنسی ترقی کا سوال ہو یا معاشی خوشحالی کی بات ہو، پسماندگی اور بدحالی ہرجگہ ہمارے سامنے آتی ہے۔ دنیا بھر میں ہمارا تعارف ایک پسماندہ قوم کے طور پر موجود ہے۔البتہ ایک شعبہ ایسا ہے جس میں ہم نے 'ہوش ربا' ترقی کی ہے، وہ ہے 'ترقی پسندی'۔ ہمارا طرہٴ امتیاز یہ ہے کہ ہم ترقی کرنے کی بجائے'ترقی پسندی' کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔