معاصر 'اِشراق' کی ایک تفسیری بحث کاجائزہ
﴿وَلَقَد فَتَنّا سُلَيمـٰنَ وَأَلقَينا عَلىٰ كُر‌سِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنابَ ٣٤ قالَ رَ‌بِّ اغفِر‌ لى وَهَب لى مُلكًا لا يَنبَغى لِأَحَدٍ مِن بَعدى ۖ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ ٣٥ فَسَخَّر‌نا لَهُ الرّ‌يحَ تَجر‌ى بِأَمرِ‌هِ رُ‌خاءً حَيثُ أَصابَ ٣٦ ﴾... سورة ص
"اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک جسم ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا۔ کہا کہ اے میرے ربّ ! مجھے بخش دے او رمجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے سوا کسی (شخص) کے لائق نہ ہو، تو بڑا ہی دینے والا ہے ۔ پس ہم نے ہوا کو اُن کے ماتحت کر دیا۔ وہ آپ کے حکم سے جہاں آپ چاہتے، نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی۔"
یہ آزمائش کیا تھی، کرسی پر ڈالا گیا جسم کس چیز کاتھا اور اس کا مطلب کیا ہے ؟ اس کی کوئی تفصیل قرآنِ کریم یا حدیث میں نہیں ملتی۔ البتہ بعض مفسرین نے صحیح حدیث سے ثابت ایک واقعہ کواس پر چسپاں کیا ہے جو یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ ا لسلام نے ایک مرتبہ کہا :
"میں آج کی رات اپنی تمام بیویوں سے (جن کی تعداد ۷۰ یا ۹۰ تھی) ہم بستری کروں گا تاکہ اُن سے شاہ سوار پید اہوں جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور اس پر إن شاء الله نہیں کہا (یعنی صرف اپنی ہی تدبیر پر سارا اِعتماد کیا ) نتیجہ یہ ہوا کہ سوائے ایک بیوی کے کوئی بیوی حاملہ نہیں ہوئی۔ اور حاملہ بیوی نے بھی جو بچہ جنا، وہ ناقص یعنی آدھا تھا۔"
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"اگر سلیمان إن شاء الله کہہ لیتے تو سب سے مجاہد پیدا ہوتے ۔"
(صحیح بخاری :کتا ب الانبیاء / صحیح مسلم :کتاب الایمان،باب الاستثناء)
اِن مفسرین کے خیال میں شاید إن شاء الله نہ کہنا یا صرف اپنی تدبیر پر اعتماد کرنا یہی فتنہ ہو، جس میں حضرت سلیمان مبتلا ہوئے اور کرسی پر ڈالا جانے والا جسم یہی ناقص ُالخلقت بچہ ہو ... واللہ اعلم
اس واقعے کے بعد حضرت سلیمان نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ یا اللہ! مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہو۔ اس دعا کا مطلب گویا یہ تھا کہ شاہ سواروں کی فوج پیدا ہونے کی آرزو تو تیری حکمت ومشیت کے تحت پوری نہیں ہوئی، لیکن اگر مجھے ایسی بااختیار بادشاہت عطا کر دے کہ ویسی بادشاہت میرے سوا یا میرے بعد کسی کے پاس نہ ہو، تو پھر اولاد کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ یہ دعا بھی اللہ کے دین کے غلبے کے لیے ہی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کی یہ دعا قبول کر لی اور ایسی بادشاہی عطا کی کہ جس میں ہوا بھی ان کے ماتحت تھی۔ یہاں ہواکو نرمی سے چلنے والا بتایا ہے ، جب کہ دوسرے مقام پراسے تندوتیز کہا ہے (الانبیاء :۸۱) جس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا پیدائشی قوت کے لحاظ سے تند ہے ۔ لیکن سلیمان کے لیے اسے نرم کر دیا گیا ، یا حسب ِضرورت وہ کبھی تند ہوتی کبھی نرم ،جس طرح حضرت سلیمان چاہتے۔ (فتح القدیر)
بعض لوگوں نے عقل ودرایت کی رو سے اس واقعے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک رات میں اتنی تعداد میں بیویوں کے ساتھ مباشرت کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ معجزات عطا فرماتا ہے ۔ انہی معجزات میں ایک معجزہ قوت ِمردانگی بھی ہے ، علاوہ ازیں ان کے اوقات میں برکت بھی ہے۔ اس اعتبار سے حضرت سلیمان کے واقعے کو عام انسانی معیار پر ماپنا اور پھر اسے عقل ودرایت کے خلاف باور کرانا یکسر غلط ہے ۔ چنانچہ حافظ ابن حجر اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
"اس واقعے میں انبیاء علیہم السلام کی اس خصوصیت کا بیان بھی ہے جو قوت ِجماع کی صورت میں اُن کو عطا کی جاتی ہے جو اُن کی بنیادی صحت، قوت ِبارآورگی اور کمالِ مردانگی پر دلالت کرتی ہے ، حالانکہ انہیں عبادت اورعلوم کے ساتھ بھی خصوصی اشتغال ہوتا ہے ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ معجزہ اس سے زیادہ بلیغ انداز میں عطا کیا گیا تھا۔ آپ کا اپنے ربّ کی عبادت میں، علومِ ربانی میں اور مخلوق کی فلاح وبہبود میں اشتغال بہت زیادہ تھا، علاوہ ازیں آپ نہایت کم خور تھے جو کثرتِ جماع والے شخص کے لیے جسمانی کمزوری کا باعث ہے، اس کے باوجود آپ (بعض دفعہ) ایک ہی رات میں غسل واحد کے ساتھ اپنی گیارہ بیویوں کے ساتھ مباشرت فرما لیا کرتے تھے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے جو جتنا زیادہ متقی ہوتا ہے، اس کی جنسی قوت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے ..." (فتح الباری: ج ۶، ص ۵۶۳، طبع دار السلام ،الریاض)
یہ بات تو اپنی جگہ صحیح ہے کہ حضرت سلیمان کا یہ واقعہ مباشرت حدیث میں آیت ِزیر بحث کی تفسیر کے طور پر بیان نہیں ہوا ہے ۔ بہت سے مفسرین نے اپنی فہم کے مطابق اس آیت پر اس کا انطباق کیا ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ دیگر تاویلات وتوجیہات کے مقابلے میں جو بیشتر اسرائیلی روایات پر مبنی ہیں،یہ انطباق زیادہ صحیح ہے اوراِس سے اس آیت کی ایک معقول توجیہ سامنے آجاتی ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب!
بعض قدیم مفسرین نے تو اس آیت کی تفسیر میں عجیب وغریب قصے بیان کئے ہی ہیں جو سرے سے شانِ نبوت ہی کے منافی ہیں ،لیکن زمانہٴ حال کے بعض جدید مفسرین نے بھی جن کو اپنی قرآن دانی کا بڑا دعویٰ ہے، اِ س کی دوراَزکار تاویل میں جو گل کھلائے ہیں اور جو ندرت آفرینی کی ہے ،اُس میں وہ قدیم مفسرین سے پیچھے نہیں رہے، بلکہ شاید گوئے سبقت ہی لے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب کی تاویل کا خلاصہ یہ ہے کہ
"حضرت سلیمان کو یہ سخت امتحان پیش آیا کہ دشمنوں نے یورش کر کے ان کے بیشتر علاقے چھین لیے اور باقی علاقوں میں ایسی گڑ بڑ پھیلا دی کہ نظم حکومت عملاً بالکل درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ ان کی تاخت سے صرف مرکز بچا جس میں حضرت سلیمان بالکل مجبور ومحصور ہو کر رہ گئے ... گویا وہ تخت پر ایک بالکل جسد ِبے جان بنا کر ڈال دئیے گئے۔ لفظ جَسَد یہاں بطور ِکنایہ حضرت سلیمان کی بے بسی او ران کے غم واَلم کی تصویر کے لیے استعمال ہوا ہے ..." (اشراق: اپریل ۱۹۹۹ء، ص ۴۵)
حالانکہ یہ تاویل قرآنی الفاظ سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی۔ اللہ تعالیٰ تو فرمارہا ہے کہ ہم نے اس کی کرسی (یعنی تخت) پر ایک دھڑ (جسم) ڈال دیا، ظاہر بات ہے کہ یہ دھڑ حضرت سلیمان سے الگ کوئی چیز ہے نہ کہ خود حضرت سلیمان کا وجود ِگرامی۔ اگر ایسا ہوتا تو ﴿وَأَلقَينا عَلىٰ كُر‌سِيِّهِ جَسَدًا ... ٣٤﴾... سورة ص" کی بجائے اَلْقَيْنَاہُ عَلَیٰ ... کے الفاظ ہوتے۔کیا اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان کی بے بسی کو واضح الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا تھا؟ کنایے کے طو ر پر بیان کرنا مقصود ہوتا تب بھی واضح تر الفاظ میں اس حقیقت کو بیان کیا جاسکتا تھا۔ ان صاحب نے پھر اپنی اس رکیک تاویل اور فاسد توجیہ کو صحیح باور کرانے کے لیے حضرت سلیمان کی دعا میں تحریف ِمعنوی کا بھی ارتکاب کیا :
حضرت سلیمان نے دعا کی تھی "مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو" یعنی کسی کو ایسی شان وشوکت والی بادشاہی عطا نہ ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ہواؤں اور جنوں کو بھی ان کے تابع کر دیا گیا ۔ لیکن اِن صاحب نے اس دعا کا مطلب یہ بیان کیا ہے
"میرے عدمِ استحقاق کے باوجود مجھے ایسی بادشاہی دے جس کے سزا وار اس طرح کے گناہ کے ساتھ دوسرے نہ ہوتے ہیں ، نہ ہوں گے۔" (تفسیر 'تدبر ِقرآن' :ج ۵ ،ص ۵۳۳)
ان کے نزدیک ... "اس دعا میں اصلی زور بادشاہی کی بے مثال عظمت وشوکت پر نہیں ،بلکہ بلا استحقاق دیے جانے پر ہے کہ مجھے میرے گناہ کے باوجود بادشاہی دے ، جب کہ میرے بعد کوئی اور اس کا سزاوار نہیں ٹھہرے گا۔" (حوالہ مذکور)
اول تو اِن صاحب اوراِن کے خوانِ علم کی ریزہ چینوں سے پوچھا جائے کہ جب آپ حضرت سلیمان کاکوئی گنا ہ تسلیم ہی نہیں کرتے،بلکہ اسے اللہ کی طرف سے محض ایک آزمائش قرار دیتے ہیں ، تو پھر یہاں گناہ کا حوالہ کیوں ؟... دوسرا یہ کہ اگر دعا کا مطلب صرف یہ ہے کہ مجھے بلا استحقاق بادشاہی دے ، تو پھر دوسروں سے اس کی نفی کیوں؟ ...کیا ایک پیغمبر کویہ پتہ نہیں کہ اللہ کی نعمتیں استحقاق کے بغیر ہی ملتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ جن کو تخت واقتدار سے بہرہ ور فرماتا ہے ،کیا وہ عام انسانوں سے مختلف ہوتے ہیں؟ یا اُن کا استحقاق دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے ؟ ...کیا اللہ بادشاہتیں صرف استحقاق کی بنیاد پر ہی عطا فرماتا ہے ؟ آخر اِن میں سے کون سی بات صحیح ہے ؟ اگر اللہ تعالیٰ استحقاق کے بغیر کسی کو بادشاہت سے سرفراز نہیں فرماتا یہ اس کا اَبدی اُصول ہے، پھر تو حضرت سلیمان کا یہ کہنا واقعی طور پر صحیح ہو سکتا ہے کہ یا اللہ! اگرچہ میں بادشاہت کا مستحق نہیں ہوں ، لیکن بلا استحقاق مجھے تو یہ عطا فرمادے ،البتہ آئندہ میرے بعد کسی کو یہ بلا استحقاق نہ دینا، لیکن اگر یہ ا للہ کا اَبدی اصول نہیں ہے (اوریقینا نہیں ہے ) تو پھر ایک پیغمبر ایک بے معنی دعاکیوں کر سکتا ہے ؟
اس لیے حضرت سلیمان  کی مذکورہ دعا کا یہ مطلب جو صاحب ِ'تدبر قرآن'نے بیان کیا، صریحاً قرآن کریم کی تحریف ِمعنوی ہے ۔ اس دعا کا وہی مطلب ہے جو ظاہری الفاظ سے واضح ہے اور تمام مفسرین اُمت نے بھی وہی مطلب سمجھا ہے کہ اس میں حضرت سلیمان نے اپنے لیے ایسی بے مثال پُرعظمت وشوکت بادشاہت کا سوال کیا ہے جو آئندہ کسی کو نہ ملے ۔ اور قرآنِ کریم کے بیان سے واضح ہے کہ اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ نے ایسی عظیم بادشاہت عطا فرمائی کہ ہوا اِن کے تابع تھی او روہ ہوا کے دوش پر جہاں چاہتے، تشریف لے جاتے۔ جیسے آج کل ہوائی جہازوں پر سفر ہوتا ہے ، حضرت سلیمان کو ہوا اللہ کے حکم سے اسی طرح اُڑالے جاتی تھی۔ جنات جیسی سرکش مخلوق ان کے تابع تھی او ربہت زیادہ سرکشی کرنے والے جنات کو پابند ِسلاسل کرنے پر قادر تھے۔ وہ پرندوں کی بولیوں کو سمجھتے تھے اور پرندے اُن کے تابع فرمان تھے۔ کیا اختیارات کی یہ وسعت وبے پناہی او ر عظمت وشوکت کی یہ فراوانی کسی اور بادشاہ یا صاحب ِاقتدار کو نصیب ہوئی ہے ؟ صحیح احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ
"گذشتہ رات کو ایک جن اچانک میرے پاس آدھمکا ، تا کہ میری نماز خراب کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اُس پر قدرت عطا فرمادی اورمیں نے اسے پکڑلیا اورمیرا اِرادہ ہوا کہ میں اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھوں،تاکہ صبح کو تم سب اُ سے دیکھ لو۔ پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آگئی کہ"میرے ربّ !مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما ،جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔ "چنانچہ میں نے اُس کو ذلیل وخوار کر کے چھوڑ دیا"... دوسری روایت کے الفاظ ہیں
"اللہ نے اس کو ذلیل وخوار کر کے لوٹا دیا "(صحیح بخاری: احادیث الانبیاء، وکتا ب التفسیر سورہٴ ص ٓ، رقم ۳۴۲۳،۴۸۰۸ / صحیح مسلم : المساجد ومواضع الصلاة ،باب جواز لعن الشیطان رقم ۵۴۱)
صحیح مسلم میں ایک اور صحابی سے یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا :"میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں" پھر آپ نے فرمایا" میں تجھ پر ا للہ کی لعنت کرتا ہوں۔" تین مرتبہ آپ نے یہ الفاظ ارشا د فرمائے۔ او رآپ نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا ،گویا آپ کوئی چیز پکڑ رہے ہوں ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو ہم نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو نماز میں ایسی بات کہتے ہوئے سنا جو اِس سے پہلے ہم نے آپ سے نہیں سنی اور آپ کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے بھی دیکھا۔ آپ نے فرمایا :اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیاتھا تا کہ اِسے میرے چہرے پر ڈال دے ، تو میں نے کہا :میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ،تین مرتبہ میں نے کہا پھر میں نے کہا :میں تجھ پر ا للہ کی مکمل لعنت کے ساتھ لعنت کرتا ہوں ۔ لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹا، میں نے تین مرتبہ لعنت کی پھر میں نے اس کو پکڑ نے کا ارادہ کیا ۔ اللہ کی قسم ! اگرہمارے بھائی سلیمان  کی دعا نہ ہوتی، تو صبح اِس حال میں ہوتی کہ وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوتا اور مدینے کے بچے اِس کے ساتھ کھیلتے۔ (صحیح مسلم : بابِ مذکور ،رقم ۵۴۲)
ان احادیث میں بھی حضرت سلیمان  کی دعا کا وہی مطلب لیا گیا ہے جومفسرین اُمت نے بیا ن کیا ہے ۔ جولوگ قرآن فہمی کے لئے احادیث کو بنیادی ماخذ ماننے کے لیے تیا ر نہیں، بلکہ ان کو احادیث کے مقابلے میں اپنے فہم وتدبر پر زیادہ ناز ہے ، ان کی تفسیر اس قسم کی باطل تاویلات ،فاسد توجیہات اور معنوی تحریفات سے پر ہیں ، اور یوں وہ ضَلُّوْا فَاَضَلُّوْا کے مصداق ہیں ۔اُردو میں اس گمراہانہ تاویل وتحریف کا رستہ سب سے پہلے سر سیدنے کھولا پھر چکڑالوی گروپ نے اِسے اختیار کیا ،پھر پرویز اور اس کے ہم نواؤں نے اسے بامِ عروج پر پہنچایا، اور اب رہی سہی کسر غامدی فرقہ فکر ِفراہی کے نا م پر پوی کر رہا ہے ۔ تفسیر 'تدبر ِقرآن' اسی غلط روش پر مبنی تحکمانہ تفسیر کا شاہکار ہے جس میں جگہ جگہ صحیح احادیث سے اِعراض وانکار ہی نہیں ہے بلکہ ا ن کا استخفاف واستہزاء بھی ہے ...!
جب منکرین حدیث کی طرح ،فکر ِفراہی کے نام پر انکار واستخفاف ہو گا تو نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو انکارِحدیث پر مبنی افکار ونظریات کا نکلا۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ تخم حنظل بو کر لذیذوشیریں پھلوں کی اُمید وابستہ کر لی جائے۔ جو بھی حنظل کے بیج بوئے گا ،چاہے وہ کوئی بھی ہو، اشخاص وافراد سے قطع نظر اس سے وہی فصل تیار ہو گی جو بوئی گئی ہے۔ اس سے آم او رانگور کی فصل پیدا نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح نظریاتی طو رپر جب سر سید ،عبداللہ چکڑالوی،پر ویز، امین ا حسن اصلاحی اور دیگر ان کے رفقا وتلامذہ ایک ہی ہیں، ان کا دبستانِ فکرایک ،ان کے سوچنے سمجھنے کا معیار ایک اور ان کے فکرونظر کا زاویہ ایک ہے تو پھر نتائج مختلف کیوں ہو ں گے؟ چنانچہ ان سب کے افکار ونظریات کا ایک ہی نتیجہ نکلا ہے او رنکل رہا ہے کہ جو بھی حدیث ان کے ذ ہنی اختراع،خانہ ساز نظریے او راپنی عقل نارسا کے خلاف محسوس ہوئی، چاہے وہ روایت ودرایت کے لحاظ سے کتنی ہی قوی ہو، اس کا انکار کرنے بلکہ اس کامذاق اڑانے میں انہیں کوئی تامل اور حجاب نہیں۔ ہماری بات کا یقین نہ ہو، تو خود ان حضرات کا اعتراف ملاحظہ ہو:
سر سید کی 'تفسیرالقرآن'کا ابھی فوٹو ایڈیشن شائع ہوا ہے، اس کے شروع میں مشہور منکرحدیث پروفیسر رفیع اللہ شہاب کا تعارف ہے ... اس میں یہ صاحب لکھتے ہیں :
"۱۹۵۰ء کے لگ بھگ کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کے لیڈر مولانا امین احسن ا صلاحی صاحب میانوالی تشریف لائے ،ان دنوں ان کی کتاب 'تفسیر قرآن' (غالباً یہ مبادی ٴتدبر قرآن ہوگی، ناقل) شائع ہوئی تھی، جس میں قرآنِ مجید کی تفسیر کے اصول بیان کئے گئے تھے۔ جماعت اسلامی کے حلقوں کی جانب سے اس کتاب کی بڑی تعریف کی جارہی تھی۔ اس قسم کی ایک تعریفی مجلس میں جس میں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب موجود تھے، راقم نے عرض کیا کہ سر سید احمد خان نے یہی اُصول اپنے رسالہ اصولِ تفسیر میں بیان کئے ہیں۔ اس پر مولانا کا رنگ فق ہو گیا اورفرمایا کہ کیا کسی کے پاس یہ رسالہ موجود ہے ۔ راقم نے اثبات میں جواب دیا تو مزید کچھ کہنے کی بجائے خاموش ہو گئے۔" (مطبوعہ دوست ایسوسی ایٹس ،الکریم مارکیٹ، اردو بازار، لاہور)
خود اس گروہ کے اپنے رسالہ اِشراق میں فکر ِپرویز کے عنوان سے ایک سوال اور ا س کا جواب شائع ہوا ہے ، وہ ملاحظہ فرمائیں:
سوال: غلام احمد پرویزکی فکر کیا ہے ...کیا وہ مسلمان ہیں؟
جواب: غلام احمد صاحب پرویز اس دور کی باقیات میں سے ہیں جب جدید سائنس اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اَفکار نے مذہب کوچیلنج کیا تھا او راس کے نتیجے میں بعض لوگ دین کو قابل قبول بنانے کے لیے دین کی صورت تبدیل کرنے پر راضی ہو گئے تھے ۔ پرویز صاحب کے بارے میں یہ بات غلط ہے کہ وہ حدیث کے منکر ہیں۔ حقیقت میں وہ ہر اس بات کے منکر ہیں جو جدید فکری ذہن کو قبول نہیں ہے خواہ وہ قرآن مجید ہی میں کیوں نہ بیان ہوئی ہے۔ جہاں تک ان کے مسلمان ہونے کا تعلق ہے اس سلسلے میں ہم یہی کہتے ہیں کہ کسی عام آدمی یا عالم کا کسی کو غیر مسلم قرار دینا ایک خلافِ دین امر ہے ۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دوسرے کو اس کی غلطی بتادیں۔" (ماہنامہ 'اشراق' :مارچ ۱۹۹۹ء ، ص ۶۵)
اس سوال جواب سے اس ہم آہنگی کا ا ندازہ کیا جاسکتا ہے جوغامدی اورپرویزی نظریات میں پائی جاتی ہے او رجس کی وضاحت ہم بھی کر رہے ہیں ۔ اس میں پرویز صاحب کو منکر ِحدیث ہی ماننے سے انکار نہیں ہے بلکہ انہوں نے جن قرآنی حقائق کا انکار کیا ہے، اس کا اعتراف بھی ہے ۔ لیکن ا س کے باوجود ان کی مسلمانی سے انکار کو خلاف ِدین امر بتلایا گیا ہے ۔ یہ جواب ان ذہنی تحفظات کا غماز ہے جس کا شکار یہ گروہ اپنے افکار ونظریات کی وجہ سے ہے۔ وہ جانتا ہے کہ پرویز کو منکر ِحدیث ماننے کے بعد،خود ہمارا شمار بھی منکرین حدیث میں ہی ہو گا ۔کیونکہ یہ گروہ بھی منکرین حدیث کی طرح
٭ معراجِ جسمانی کا منکر ہے ۔
٭ متفق علیہ اور اجماعی حد رجم کا منکر ہے ۔
٭ حد ِزنا کے اثبات کیلئے چار گواہوں کے ضروری ہونے کا منکر ہے (جس کا بیان قرآن میں ہے )
٭ عورت کی نصف گواہی کا منکر ہے ۔
٭ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت کے قریب ،آسمان سے نازل ہونے کا منکر ہے ۔
٭ ظہور ِمہدی اور خروجِ دجال کا منکر ہے ۔
٭ قرآن میں بیان کردہ بہت سے معجزات کا منکرہے۔
٭ اور صحیحین (بخا ر ی مسلم) کی متعدد روایات کا منکر ہے جن کی صحت پر اُمت کا اتفاق ہے۔جس کی بابت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے لکھا ہے :
«...أما الصحيحان فقد اتفق المحدثون علی أن جميع ما فیهما من المتّصل المرفوع صحيح بالقطع وأنهما متواتران إلی مصنفيهما وأنه کل من يهون أمرهما فهو مبتدع متبع غير سبيل المؤمنين» (حجة اللہ البالغہ: ۱/۱۳۴ مکتبہ سلفیہ، لاہور)
" صحیحین (صحیح بخاری ومسلم) کی بابت محدثین کا اس اَمر پر اتفاق ہے کہ ان میں جتنی بھی مرفوع متصل روایات ہیں، وہ قطعی طور پر صحیح ہیں اور یہ دونوں کتابیں اپنے مصنّفین تک متواتر ہیں۔ نیز جو شخص ان دونوں کتابوں کی شان گھٹاتا ہے وہ بدعتی ہے او رموٴمنوں کاراستہ چھوڑ کر کسی اور رستے کا پیرو کار ہے۔"

٭٭٭٭٭