محدث کے اِس شمارے میں پاکستان کی معروف دانش گاہوں اورعلمی مراکزکے محققین کے اُن تبصروں کو شائع کیا جارہا ہے جو انہوں نے فکر ِاصلاحی پر کئے ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہورہاہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی اور انکے تلامذئہ خاص نے سنت وحدیث کے بارے میں اُمت کے اجتماعی رویے سے انحراف کی جو روش اختیار کی ہے، اس کوپاکستان کے ثقہ علماء اور دانشور کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ یہاں ہم برصغیر کے نامور فقیہ اور محدث حافظ عبد اللہ محدث روپڑی کا خبرمتواتر اور خبر واحد کے طریقہ ہائے ثبوت کے بارے میں ایک مختصر اقتباس پیش کررہے ہیں تاکہ اس بحث کی اَساس پیش نظر رہے۔ ادارہ
"پہلی چیز جس سے گمراہ فرقوں کو رخنہ اندازی کی گنجائش ملتی ہے، وہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے طریق وصول اور حدیث کے طریق وصول میں فرق ہے یعنی قرآنِ مجید ہم تک بذریعہ تواتر پہنچا ہے جبکہ حدیث کچھ بذریعہ تواتر ملی ہے اور کچھ بذریعہ آحاد۔ تواتر کامطلب یہ ہے کہ خبر دینے والے بہت ہوں یہاں تک کہ عقل کے نزدیک عادتاً غلطی کا اِمکان نہ رہے۔ اور آحاد کے معنی افراد کے ہیں یعنی خبردینے والا ایک فرد ہو یا کئی افراد ہوں مگر عقل کے نزدیک عا دتاً غلطی کا اِمکان رہے۔ ایسی خبر کو خبر واحد یا خبر آحاد کہتے ہیں۔
تواتر کی مثال یوں سمجھئے جیسے حضرت فاطمة الزہرا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہونا یہ خبر ہمیں اتنے واسطوں سے پہنچی ہے کہ اس کا غلط ہونا عقل کے نزدیک عادتاً محال ہے۔ اگر کوئی اہل اسلام سے اس میں غلطی کا امکان مانے تو اسلامی دنیا اس کو پاگل سمجھے گی۔ اور خبر واحد کی مثال یہ ہے کہ حضرت فاطمة الزہرا آپ کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ اس خبر کے دینے والے اتنے افراد نہیں کہ عقل کے نزدیک ان کی غلطی عادتاً محال ہو بلکہ غلطی کا اِمکان ہے۔ مگر اس اِمکان کے یہ معنی نہیں کہ خبر سچی نہیں بلکہ خبر بالکل سچی ہے اور اس پر پورا اعتماد ہے۔ کیونکہ خبر دینے والے راوی معتبر اور ثقہ ہیں بلکہ اس اِمکان کامطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس راوی سے کوئی زیادہ ثقہ یا زیادہ معتبر اس کے خلاف خبر دے تو پھر اس کی روایت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ اس کو غلط سمجھ کر ترک کردیا جائے گا۔ اور اگر کوئی ا س کے برابر کا اس کے خلاف خبردے تو اس صورت میں دونوں روایتیں مشکوک ہوجائیں گی، کسی پر عمل نہیں ہوگا۔
بس غلطی کے اِمکان کا یہی مطلب ہے، نہ یہ کہ خلاف نہ ہونے کی صورت میں بھی اس کی تصدیق نہیں ہوگی یا معتبر نہیں سمجھی جائے گی۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی مقدمہ میں تحصیلدار کی شہادت پٹواری کی شہادت کے خلاف ہو تو پٹواری کی شہادت ردّ ہوجائے گی مگر یہ کوئی نہیں کہتا کہ اگر تحصیلدار خلاف نہ ہو تو پھر بھی پٹواری کی شہادت کا اعتبار نہ ہوگا، بلکہ وہ بالاتفاق معتبر ہوگی۔ اسی طرح ایک تحصیلدار کی شہادت کے خلاف دوسرے تحصیلدار کی شہادت ہو تو دونوں شہادتیں مشکوک ہوجائیں گی۔ اور اگر خلاف نہ ہو تو تحصیلدار کی شہادت بڑی زبردست اور مضبوط شہادت ہوگی۔ ایسے ہی ڈپٹی کمشنر، اوپر تک، سمجھ لیں۔
ٹھیک اسی طرح خبر واحد کو سمجھ لینا چاہئے۔ بس خبر دینے والا جتنا بڑا ہوگا، اتنی اس کی خبر مضبوط اور پختہ ہوگی۔ اور خبر متواتر مضبوطی اور پختگی میں چونکہ علم کا انتہائی درجہ ہے، اس لئے وہاں خلاف کی گنجائش ہی نہیں بلکہ خلاف عادتاً محال ہے۔ جیسے تواتر سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ 'مکہ 'وہی شہر ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے اور 'مدینہ' وہی شہر ہے جہاں آپ نے ہجرت کی ہے۔ اب اس کے خلاف کوئی خبر دے ہی نہیں سکتا۔ اگر دے تو وہ پاگل ہوگا کیونکہ اتنی دنیا کی خبر کا غلط ہونا عقل کے نزدیک عادتاً ناممکن ہے۔
خلاصہ یہ کہ خبر متواتر اور خبر واحد میں فرق محال اورعدمِ محال کا ہے، ورنہ دونوں معتبر و مصدقہ ہیں اور دونوں پراعتقاد رکھنا اور ایمان لانا ضروری ہے۔ چونکہ دونوں کے مراتب ِعلم میں فرق ہے، اس لئے ان دونوں کے حکم میں بھی فرق ہوگا۔ خبر متواتر کا منکر کافر اور خبر واحد کا منکر فاسق و فاجر اور گمراہ ہے اور اسی فرقِ مراتب کو ظاہر کرنے کے لئے علماء (فقہا ء و محدثین) نے ان دونوں کے علم کا نام علیحدہ علیحدہ رکھ دیا ہے۔ خبر متواتر سے جو علم حاصل ہوتا ہے، اس کا نام 'یقین' ہے۔ اور خبر واحد سے جو علم حاصل ہوتا ہے ا س کا نام 'ظن' ہے لیکن یہ وہ ظن نہیں جس کو عام بول چال میں ظن غالب کہتے ہیں بلکہ اس ظن کو ہم اپنی بول چال میں یقین سے تعبیر کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں: مجھے تو فلاں کی بات پر یقین ہے، مطلب اس کا یہ ہوتا ہے کہ مجھے تو فلاں کی بات پر بالکل اطمینان اور تسلی ہے، کسی قسم کا شبہ یا وہم نہیں۔ اور بعض دفعہ محدثین بھی ایسی بات پر جس کے متعلق پورا اطمینان اور تسلی ہو، یقین کا لفظ بول دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو مقدمہ مسلم: بحث عنعنہ اور ترمذی:بحث سجدۂ سہو زیر حدیث ذوالیدین۔
اور 'ظن غالب' سے مراد ہوتا ہے کہ پوری تسلی نہیں، کچھ تردّد ہے۔ اس مقام میں بہت لوگ غلطیاں کرتے ہیں۔ فقہاء و محدثین جب خبر واحد کی نسبت 'ظن' کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو یہ لوگ اپنی بول چال کے مطابق 'ظن غالب' سمجھ لیتے ہیں۔ اور اس سے پھر بڑے اُلٹ پلٹ نتائج برآمد کرتے ہوئے حدیث کو پایہٴ اعتبار سے ساقط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔"
(کتاب 'مودودیت اور احادیث ِنبویہ ' از حافظ عبد اللہ محدث روپڑی : صفحہ ۷۱ تا ۷۴ ، طبع دوم ۱۹۵۷ء)

٭٭٭٭٭