ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اگست
2001
عبدالرؤف ظفر
برصغیر پاک و ہند کے معروف دینی سکالر مولانا امین احسن اصلاحی بعمر ۹۴ سال ۱۵/ دسمبر ۱۹۹۷ء کو لاہور میں انتقال فرما گئے۔آپ نے مولانا حمید الدین فراہی، مولانا عبدالرحمن نگرامی اور مولاناعبدالرحمن محدث مبارکپوری (صاحب ِتحفة الاحوذی شرح ترمذی )جیسے ماہر اساتذہ سے مختلف علوم و فنون میں دَرک حاصل کیا۔
  • اگست
2001
محمد امین
محدث کے شمارہ اپریل ۲۰۰۱ء میں مولانا عبد الغفار حسن کا مضمون 'فہم قرآن کے بنیادی اُصول ' شائع ہوا ہے جو نہایت وقیع، مفید اور علمی مباحث پر مشتمل ہے لیکن قرآن فہمی میں حدیث و سنت کے کردار کے حوالے سے جو کچھ مولانا نے لکھا ہے، اس کے بارے میں ہمارا حسن ظن یہ ہے کہ مولانا محترم نے غالباً بے خیالی میں اور یہ دیکھے بغیر کہ اس کی زَد کہاں پڑتی ہے،
  • اگست
2001
صلاح الدین یوسف
مولانا امین احسن اصلاحی، جن کا انتقال ۱۴/دسمبر ۱۹۹۷ء کو لاہور میں ہوا، اپنے دور کے اُن چند سربرآوردہ اہل علم واہل قلم میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ذہانت وفطانت سے حصہ وافر عطا فرمایا ہوتا ہے۔ ان کی وفات کے بعدمتعدد حضرات نے ان کی علمی و دینی خدمات بالخصوص تفسیری خدمات اور ان کے علم وفضل پر روشنی ڈالی ہے اورانہیں اپنے وقت کا عظیم مفسر اِسلامی دانش ور اوربلند پایہ محقق باور کرایا ہے۔
  • اگست
2001
عبدالغفار حسن
حدیث کی عظمت و اہمیت گھٹانے اور انکارِ سنت کی راہ ہموار کرنے کے لئے عموماً ان آیات کا سہارا لیا جاتا ہے جن میں 'ظن' کی مذمت اور اس کے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ذیل کے مضمون میں 'ظن'کی اصل حقیقت قرآن و سنت اور لغت ِعرب سے واضح کرتے ہوئے یقین و ظن کے لحاظ سے سنت و حدیث کا جو مقام ہے، اس کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
  • اگست
2001
صلاح الدین یوسف

معاصر ’ اشراق ‘ کی ایک تفسیری بحث کا جائزہ :

﴿وَلَقَد فَتَنّا سُلَيمـٰنَ وَأَلقَينا عَلىٰ كُر‌سِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنابَ ٣٤ قالَ رَ‌بِّ اغفِر‌ لى وَهَب لى مُلكًا لا يَنبَغى لِأَحَدٍ مِن بَعدى ۖ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ ٣٥ فَسَخَّر‌نا لَهُ الرّ‌يحَ تَجر‌ى بِأَمرِ‌هِ رُ‌خاءً حَيثُ أَصابَ ٣٦ ﴾... سورة ص

  • اگست
2001
ادارہ
محدث کے اِس شمارے میں پاکستان کی معروف دانش گاہوں اورعلمی مراکزکے محققین کے اُن تبصروں کو شائع کیا جارہا ہے جو انہوں نے فکر ِاصلاحی پر کئے ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہورہاہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی اور انکے تلامذئہ خاص نے سنت وحدیث کے بارے میں اُمت کے اجتماعی رویے سے انحراف کی جو روش اختیار کی ہے،