میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے 'مغربی نظریہ' کو ایک اور اُبھرتے خطرے کا احساس ہو رہا ہے۔ مغربی اَقوام کا نیا دشمن اور امریکی خارجہ پالیسی کا موجودہ نقطہ ارتکاز 'سبز خطرہ' یا 'اسلامی خوف' ہے۔ اس خطرے کی بنیاد کیا ہے؟ اس خطرے کا اسلام سے کیا تعلق ہے جس سے مغرب کا سیاسی نظام برسرپیکار ہے اور اسلام سے وابستہ ہر چیز کے خلاف نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے!!
مغرب کے منفی رویوں نے مغربی ذہن کو صدیوں کی غلط فہمی، پراپیگنڈے اور خوف کے نتیجے میں بری طرح متاثر کیا ہے۔ اسلام کے متعلق منفی تصورات ہر ممکنہ ذرائع مثلاً لوک داستان، تعلیم، صحافت، سمعی و بصری آلات اور داخلی و خارجی پالیسیوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ ۱۲ ویں صدی سے لگاتار مسیحی چرچ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو طاقت و ہوس کے جنون میں مبتلا فرد باور کرانے کی کوشش اور مسلمانوں کو خون کے پیاسے اور شہوت پرست مطلق العنان عربوں کے روپ میں پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ یہ نقوش جان بوجھ کر اپنے تحریف شدہ تراجم قرآن، وعظ و تبلیغ حتیٰ کہ ممتاز یورپی اُدبا و شعرا جیسے دانتے، شیکسپیئر، والٹیر، بائرن اور شیلے اور ریکولڈس آف منٹی کروس جیسے مسیحی علما کے ذریعے پھیلائے گئے۔
یہ باعث تعجب امر نہیں کہ اسلام کو صدیوں تک اس طرح کے نازیبا انداز میں ،اسلامی تعلیمات کی مخالف لذت پسندی سیمتہم کیا جاتا رہا ۔ نبی اکرم کے وصال کے بعد ایک صدی کے اندر اندر اسلام نے آدھی سے زیادہ مسیحی سلطنتوں کو ختم کر دیا تھا۔ دوسروں کے لئے اس شکست کو قبول کرنا سخت دشوار تھا، اسی لئے اسلامی لشکروں کو روکنے کے لئے صدیوں تک جدوجہد ہوتی رہی حتیٰ کہ خلافت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور اسلامی سلطنت کے حصے بخرے ہوئے اور لادین آمرانہ ممالک کے قیام سے مغرب کی اسلام کو ضرر پہنچانے کی طمع ٹھنڈی ہوئی، تب ۱۴۰۰ سال میں پہلی مرتبہ مغرب نے اپنی توجہ 'سرخ خطرے' کی جانب مبذول کی لیکن (اس کے مٹ جانے کے بعد) اس کی 'نظر کرم' اب دوبارہ اسلام پر ہی آٹکی ہے۔
مغرب کے ہاتھوں میں سب سے مضبوط ہتھیار 'ذرائع ابلاغ' ہیں جنہیں وہ اسلام کی بھیانک تصویر کشی کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی، اسلام کی کردار کشی کرنے کی خواہش آپ ملاحظہ کریں کہ 'اوکلاہاما' میں بم دھماکے کے دو روز بعد تک یہ ذرائع ابلاغ واقعاتی ثبوت کے بغیر مسلمانوں کو اس میں بالواسطہ ملوث قرار دے رہے تھے، یہی انگلیاں TWA کے فضائی حادثے کے موقع پر پھر مسلمانوں پر دوبارہ اٹھائی گئیں۔ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی ذرائع ابلاغ کسی مسلمان کے مذہبی پس منظر کی نشاندہی کرنے میں مستعد نظر آتے ہیں۔
ہالی وڈ نے بھی توہین اسلام کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کا اسلام پر جدید بہتانTactical Combat نامی فلم ہے جس میں عراقی مسلمانوں کی حالت ِزار سے صرفِ نظر کرتے ہوئے خلیج میں امریکی دستوں کی مظلومیت دکھائی گئی ہے۔Executive Decision نامی فلم ہالی وڈ کا ایک اور حالیہ کارنامہ ہے جس میں چیچن مسلمانوں کو جہاز اغوا کرتے ہوئے 'اللہ اکبر 'کے نعرے بلند کرتے دکھایا گیا ہے اور ان روسی فوجیوں کا کوئی ذکر نہیں جنہوں نے چیچن بچیوں کے ساتھ 'گینگ ریپ'کیا۔ یہ دو فلمیں True LiesاورDelta Force جیسی فلموں کی طویل قطار میں ایک تازہ اضافہ ہیں۔
اس قسم کی بے ہودگیوں کے خلاف مسلمانوں کی کسی بھی کاوش کو پہلا سانس لیتے ہی درگور کر دیا جاتا ہے۔ اسلام اور اس کے شاندار ماضی پر بننے والی ہر دستاویزی فلم کا مسلمانوں کو بڑے خود غرض اور دولت پرست ظاہر کرنے والی فلموں سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ سربیائی قتل عام کا نشانہ بننے والوں کی ایک جھلک کا الجزائر میں' مسلمانوں'کے ہاتھوں قتل ہونے والے معصوم بچوں کی سینکڑوں قسطوں سے تقابل کیا جاتا ہے۔
اسلام کے پیغام کو مسدود کرنے کا اَدبی طریقہ اس کے ماخذوں کو بدلنا یا ٹکڑوں میں بانٹنا ہے۔ غیرمسلموں کے تراجم قرآن میں اب بھی مضحکہ خیز مفاہیم اور حاشیوں کی بہتات ملتی ہے۔ ایک مغربی زبان میں قرآن مجید کاپہلا ترجمہ ۱۱۴۲ ء میں رابرٹ آف کیٹن نے کیا تھا۔ اس کام میں زبردست معاونت ایک عیسائی (خانقاہ کے صدر) راہب پیٹروینریلے نے کی تھی جو اکثر کہا کرتا تھا
"میں تم (مسلمانوں) تک اسلحہ سے نہیں الفاظ سے، طاقت سے نہیں دلیل سے، نفرت سے نہیں محبت کے لبادے میں پہنچوں گا۔"
دلچسپ بات ہے کہ اس نے اپنے کام کا عنوان رکھا "قابل نفرت 'کفر'یا عربوں کا فرقہ"... دیگر تراجم میں ۱۷۳۴ء میں جارج سیلے کا ترجمہ، ۱۸۶۱ء میں راڈویل کا ترجمہ، ۱۸۸۰ء میں پالمر اور ۱۸۸۲ء میں ویرے کا ترجمہ سامنے آئے۔ مغربی علماء کی استعمال کردہ اصطلاحات جیسے 'محمڈن' اسلامی اصولوں کے غلط مفہوم کو مزید بڑھاتی چلی آ رہی ہیں۔ جامعات میں پڑھی اور پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتب غیر مسلم مستشرقین کی لکھی ہوئی ہیں جن میں انہوں نے اپنے مذہبی تعصب کا اظہار کیا ہے۔ حتیٰ کہ اسلامی علوم کے استاد بھی عموماً غیرمسلم ہوتے ہیں جو اسلام کا 'مخصوص' مفہوم اپنائے ہوئے ہیں جو مسلم اکثریت کے عقائد کے خلاف ہے۔ مثلاً آسٹریلیا کی بہت سی جامعات میں اشتعال انگیز تصورات کی تعلیم دی جاتی ہے جیسے کہ حجاب اسلامی حکم نہیں بلکہ صرف ایک تہذیبی مظہر ہے۔ معاملات میں سود بھی جائز ہے، اگر اس کی شرح بدلتی رہے اور عورت سے متعلق بہت سے اسلامی قوانین محض تہذیبی قوانین ہیں یا پھر نبی اکرم کی بجائے حضرت عمر بن خطاب کے عقیدے کا حاصل ہیں(یعنی حضرت عمر نے انہیں اسلامی شریعت کا حصہ بنایا) ۔ متعصب مصنّفین جیسے فاطمہ مرینسی کا نصاب میں کثیر حصہ ان اداروں میں تعلیم کے محرکات کے افسوسناک پہلوؤں کا عکاس ہے۔ حتیٰ کہ قرآن کے نام نہاد تضادات کو نمایاں کرنے کی کوشش میں لکھی گئی کتابیں بھی فریب خوردہ اور جھوٹ سے لبریز ہوتی ہیں۔ ان میں سیاق و سباق کو نظر انداز کرنے کا غیر اخلاقی اصول بھی اپنایا جاتا ہے۔ رابرٹ مورے اپنی کتاب 'اسلامی حملہ، دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مذہب کا مقابلہ' میں قرآن کی بعض آیات اور فرموداتِ نبوی کو اپنے ناشائستہ محرکات کی تائید کے لئے لاتا ہے۔ ایک مسلمان اس قسم کی کتب کو پڑھ کر ان کے غیر علمی معیار اور کھلی دشنام طرازی پر قہقہے لگائے گا۔ تاہم ایک غیر مسلم ان دلائل سے دامِ فریب میں بآسانی آ سکتا ہے ، ذیل میں اس کے خلاف چند ثبوت ہیں
1۔ وہ کہتا ہے کہ نبی نے سیاہ فاموں کو 'منقہ سر والے' کہہ کر نسل پرست ہونے کا ثبوت دیا۔ (ص:۱۸۲) حالانکہ اصل حدیث کا مطلب و مفہوم اس سے یکسر مختلف ہے
"سنو اور اطاعت کرو خواہ تم پر ایک منقہ سر والا حبشی غلام امیر بنا دیا جائے۔" (صحیح بخاری)
2۔ آپ نے کعبہ کے سیاہ پتھر کی پرستش کی (ص:۱۸۷) جب کہ نبی نے کبھی اللہ کے سوا کسی کی عبادت کا اشارہ تک نہ دیا۔
3۔ وہ (مورے) نبی کی طہارت کا مذاق اڑاتا ہے کہ آپ اس قدر وہمی (معاذ اللہ) تھے کہ رفع حاجت کے بعد اپنے جسم کو کئی بار دھوتے تھے۔ کوئی بھی مہذب آدمی اس بہتان پر مصنف کی دانش پہ کیا حکم لگائے گا۔
4۔ وہ کہتا ہے کہ نبی نے خود کشی کرنے کی کوشش کی (ص:۷۷) لیکن اس نامعلوم واقعہ کا کوئی حوالہ پیش نہیں کرتا ہے، یہ اس کی اسلام کی تضحیک کی ایک اور اوچھی حرکت ہے!
5۔ بائبل کو قرآن کا ماخذ قرار دے کر گویا قرآن کی تحقیر کرتا ہے۔ تضادات سے لبریز بائبل قرآن کا ماخذ کیسے ہو سکتی ہے؟؟
امریکی فوج نے اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کبھی بھی کسی اسلامی نشاة ِثانیہ کی تحریک کو دبانے کا موقع ضائع نہیں کیا بلکہ اس نے تو مسلمانوں کو اپنے وقار، خطے یا مذہب کے دفاع کے لئے لڑنے کے مسلمہ حق سے بھی محروم کر رکھا ہے۔ اس کی مثال بوسنیا کی جنگ ہے جہاں مسلمانوں کو نہ صرف ہر قسم کی بین الاقوامی فوجی معاونت سے محروم رکھا گیا بلکہ مکمل طور پر اپنا دفاع خود کرنے کا پابند کر دیا گیا۔ جو ملک مسلمانوں کے مفادات کی نمائندگی یا قرآن کو اپنا قانون قرار دے کر اُٹھنے کی کوشش کرتا ہے ہر طرف سے 'حملوں' کی زد میں آ جاتا ہے۔
جب افغان مجاہدین کی حمایت سے مغربی اَقوام کے مفادات وابستہ نہ رہے تو انہوں نے مسلمانوں کی ایک اسلامی ریاست کی اُمید کو سبوتاژ کرنے کے لئے داخلی خانہ جنگی شروع کرا دی۔ مالی مدد روک دی اور مسلمانوں (مجاہدین) کو وطن واپسی پر گرفتار کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پابند ِسلاسل کیا گیا حتیٰ کہ موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی دریغ نہ کیا گیا۔ سعودی عرب جیسا ملک بھی جس نے افغان جہاد کی زبردست حمایت کی تھی، امریکی پالیسیوں کے زیر اثر آکر ایسے افراد کو گرفتار کرنے کے لئے تیار ہے جس کامجاہدین سے کوئی تعلق ہو۔ اس دوران امریکی حکومت ان ممالک کو فوجی مدد کے ذریعے اور مسلم معاشروں کی تذلیل کے لئے مسلم حکمرانوں کو استعمال کر کے مسلم نقوش کو پراگندہ بنانے کا غلیظ عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ نابینا مذہبی رہنما ڈاکٹر عمر عبدالرحمن کی اسیری اس کی ایک مثال ہے۔ ڈاکٹر عمر پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں بم دھماکے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
قابل غور سوال ہیں کہ اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کو وہ مضامین شائع کرنے پر کیاچیز اکساتی ہے جن میں اس قسم کے بیانات ہوتے ہیں: "اسلامی بنیاد پرستی فوجی اور متشدد حیثیت سے ایک جارح انقلابی تحریک ہے جیسے ماضی میں بالشویک، فاشسٹ اور نازی تحریکیں تھیں"۔مشہور کالم نویس ایسی دہائیاں کیوں دیتے ہیں کہ "اسلام کی جمہوریت دشمن قوت کی حیثیت سے شناخت ضروری ہے جو کہ سردجنگ کے بعد اب امریکہ کا نیا عالمی دشمن ہے" یا آسٹریلوی سیاست دان گریمے کرپمپ بیل کیوں یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں "میں اپنے ملک میں اسلامی لوگوں کو رکھنا نہیں چاہتا اور ان کے لئے کوئی فنڈ نہیں ہے۔ اگر یہ فعل مجھے نسل پرست بناتا ہے تو میں نسل پرست ہوں۔" ان سوالات کا ٹھوس جواب مسلسل صدیوں سے جاری 'برین واشنگ' کے ساتھ ساتھ 'نیا سبز خطرہ' ہے جسے امریکی ایجنڈے میں مرکزیت حاصل ہے۔ امریکی کانگریس پہلے ہی اسلامی بنیاد پرستی کے عالمی خطرے پر کئی فیصلے صادر کر چکی ہے۔ وسط ایشیا میں ترکی زیر نگرانی رہنے والی 'قوت' بن چکا ہے، سعودی عرب میں امریکی رسوخ بہت بڑھ گیا ہے، سوڈان پہلے ہی پابندیوں کی زد میں ہے، اور الجزائر کی سوشلسٹ فوجی آمریت کے بھی غیر ملکی مدد سے ہاتھ مضبوط کئے جارہے ہیں۔
جیسے سرخ خطرے کو مٹانے میں تیسری دنیا کے ممالک نے امریکہ کی خوب مدد کی ہے، اسی طرح اب یہ ممالک 'سبز خطرہ' کو روکنے کی کوششوں کے ذریعے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششیں بھی کررہے ہیں۔ خلیجی جنگ نے مصر، ترکی، اسرائیل، پاکستان اوربھارت جیسے ممالک کو موقع دیا کہ مغرب کے اسلامی بنیاد پرستی کے خوف سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اسرائیل اپنے دفاعی سازوسامان کے لئے امریکی فنڈ لینے کے زیادہ قابل تھا۔ وہ عراق کے نیوکلیائی مراکز پر حملے کی توجیہ کرنے کی اہلیت بھی رکھتا تھا اورمتاثرین کو تل ابیب میں اُترنے کی پیشکش بھی کر سکتا ہے۔ ترکی نے عراقی پائپ لائنوں سے تیل کے بہاؤ کو روکنے میں تیزی دکھائی اور اپنے 'انجرلک' Incirulk ہوائی اڈے تک امریکی فوجی طیاروں کو کامل رسائی فراہم کی جس کے بدلے میں ترکی ، یورپی برادری سے جا ملنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ مصر کو امریکہ کی مالی مدد، دفاعی و فکری تعاون کی سخت ضرورت تھی تاکہ اپنی غیر مقبول حکومت کو جاری رکھ سکے۔ یہ امریکہ سے اپنا ۷/ ارب ڈالر کاقرض معاف کرا چکا ہے اور خطے کی سلامتی میں اہم کردار ادا کرنے کے وعدے کرتا پھرتا ہے۔ سعودی عرب اپنی داخلی سلامتی کے لئے امریکہ سے اتحاد برقرار رکھنے میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ سرد جنگ کے بعد کے دور میں بھارت کو خود کو مغرب سے مربوط کرنے میں دلچسپی تھی تاکہ خود کو ایشیا اور پاکستان کے 'اسلامی خطرے' کے خلاف ایک متحرک قوت کی حیثیت سے پیش کرے۔
مسلم معاشرے اپنے آپ کو مغربی تسلط کا ہدف سمجھ رہے ہیں کیونکہ دنیا کا سب سے 'مقدس ذخیرہ' تیل ان کے پاس ہے۔ آج کی جنگوں میں تیل اور اس کی فراہمی کے راستے پر قبضہ ایک اہم نقطہ ہے اور خلیج میں امریکی مفادات کے پس پردہ اسباب میں بھی ایک اہم سبب یہی ہے۔ جس مسلم آبادی کے ملک نے بھی اپنے تیل کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے ، جواب میں اسے مغرب کے زبردست فوجی یا ابلاغی ایکشن کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔یہی معاملہ عراق اور لیبیا کا ہے۔ ان امورکا ایک المناک پہلو یہ بھی ہے کہ 'ظالم حکومتوں /حکمرانوں 'کوتو سزا نہیں دی جاتی ہے بلکہ عام آبادی کو 'انقلابی' یا 'امن و استحکام کے لئے خطرہ' کے القاب دے کر تجارتی پابندیوں یا گولہ بارود کے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اسلام کی بدنامی بڑی حد تک یہودیوں کے 'کارناموں' کی بدولت ہے۔ اس کی تاریخ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت سے شروع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے آپ سے معاہدہ شکنی کی۔ نبی کے کردار کے متعلق جھوٹ پھیلائے اور بعد ازاں جھوٹی احادیث تراشیں اور پھر فیصلہ کن لمحہ اس وقت آیا جب ۱۹۰۱ء میں یہودیوں کے ایک وفد نے خلیفہ سلطان عبدالحمیددوم کو فلسطین کے بدلے ہتھیار اور سلطنت کے قرض کی ادائیگی کی پیشکش کی۔ ان کے انکار پر یہودی تلملا اٹھے۔ فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کر لیا اور یہاں کے باسیوں کو بے وطن کر ڈالا۔ یہودی مغربی دنیا کا دل جیتنے کے لئے ہرگندے سے گندا حربہ اختیار کرنے میں عار نہیں سمجھتے۔ دنیا کی توجہ قتل عام کی روح فرسا تاریخ سے ہٹانے کے لئے آگ پر ماتم کرنے کا ڈھونگ ایسی ہی ایک سازش رہی۔ ہالی وڈ، ذرائع ابلاغ اور کانگریس میں ان کی مداخلت سے 'صہیونی مقاصد' کو زبردست تقویت ملی ہے۔ اسرائیل مسلمانوں کی ناموس، زمین اور خون کی قیمت پر دنیا کی ہمدردی، مدد اور تائید وصول کرنا جاری رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کے بھیانک ریکارڈ کی توجیہ کے لئے انہیں اسلام سے بہتر قربانی کا کوئی اور بکرا میسر نہیں ہے جو صہیونی عزائم کی بھینٹ چڑھ سکے۔ انہیں اپنے نیوکلیائی اسلحہ خانے کی تعمیر کیلئے 'بنیاد پرستی کے جن 'کی ضرورت ہے وگرنہ انہیں اب کوئی 'عرب خطرہ' درپیش نہیں ہے۔
اس بات سے زیادہ اخلاق سوز کوئی اور بات نہیں کہ 'اسلام کا نام بکتا ہے'۔ بم دھماکے یا ہائی جیکنگ میں 'مسلم بنیاد پرستوں' کے ملوث ہونے کا اشارہ کر کے اسے صفحہ اوّل کی خبروں میں گھسا دیا جاتا ہے۔ ناقص مواد اور سستی تصویریں اس اشارے کے ساتھ پھیلائی جاتی ہیں کہ نیوکلیائی ہتھیاروں کے 'پجاری' مسلمان انقلاب پرست عالمگیر سلطنت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اسلامی عسکریت سے لڑنے کے نعرے کے ساتھ سیاسی مہم لڑی اور انتخابات جیتے جاتے ہیں۔ سابق امریکی صدر بش کی انتظامیہ نے بھی یہی داؤ کھیلا جب انہیں امریکی سیاسی تاریخ میں انتہائی کم حمایت حاصل تھی اور اس داؤ نے خلیج کی جنگ کے بعد ان کی مقبولیت میں اضافہ کر دیا۔جس کا ایک ثبوت حالیہ امریکی صدر جارج واکر بش ہیں جو انہی سابق صدر بش کے فرزند ہیں اور جن کی انتظامیہ کو عہدوں کے لئے جس میرٹ سے گزرنا پڑا، اس کا انحصار خلیج کی جنگ میں کارکردگی پر تھا۔
شاتم رسول سلمان رشدی ایک ایسی کتاب کو فروخت کرنے کے قابل ہوا جسے تنقید نگاروں نے درخورِ اعتنا نہیں سمجھا تھا جیسا کہ ایک نامور ادبی تجزیہ نگار جولین سموئیل کہتا ہے :
"شیطانی آیات، حفاظت اور بین الاقوامی ادبی شرافت کے نازک پردوں کے لئے بنائی گئی ایک عالمانہ و شائستہ مصلحت ہے جس کا کم از کم ایک مقصد تو 'سریلزم' کے بلند آہنگ کے ساتھ مربوط اور بھاری ادبی تخلیق ہے لیکن اس کا بڑا حصہ بے توجہی سے بیان کئے ہوئے بے ضرر تجربے پر مشتمل ہے۔ افسوس ناک امر ہے کہ کتاب بے مزہ ہے کیونکہ ٹھوس تاثر تخلیق کرنے کی کوشش غیر معیاری اور زیادہ تر بدتر اور غیر تجرباتی ہے۔" ... مزید "یہ کتاب من گھڑت، غیر اہم اور اکتا دینے والی ہے۔ یاد رکھنے کے لائق کوئی بھی بات یہ پیدا نہیں کرتی ہے۔"
دراصل سلمان رشدی کی کتاب ملول اور رنجیدہ کر دینے والی کتابوں کی فہرست میں آتی ہے۔ 'شیطانی آیات' محض مسلم معاشروں کو اپنے مذہب کی ناموس پر اشتعال دلا کر جو کہ ایک فطری امر تھا، بیچی گئی۔ اور جلتی پر تیل کا کام میڈیا نے کیا جس نے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواجِ مطہرات کی شانِ اقدس میں نازیبا کلمات کی تشہیر کر کے اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ بکنے والی کتب کے ساتھ لا کھڑا کیا۔
اسی طرح نائک(Nike) ایک کمپنی ہے جو اسلام کے ذریعے نفع کما رہی ہے۔ ان کامسئلہ ۱۹۹۷ء میں 'ایئرنائیک' کے نام سے مشہور ہوا جس میں AIRکو لفظ 'اللہ' سے ملتے جلتے انداز میں عربی رسم الخط میں لکھا گیا تو مسلم معاشروں کی طرف سے غم و غصے اور احتجاج کی ایک لہر دوڑ گئی۔ امریکہ میں انہیں بند کر دیا گیا لیکن آسٹریلیا میں ان کی مصنوعات کی فروخت جاری رہی اور نائیک آسٹریلیا نے اس اشتعال انگیز پروڈکٹ پر پابندی کی درخواستوں کو مسلسل نظر انداز کیا۔ اسی طرح امریکہ میں دسمبر ۱۹۹۰ء میں Ancheuser - Busch's Budwiserbeer نامی ٹی وی اشتہار میں ایک اداکارہ کو اپنی چھاتی پر (عربی میں) ' بسم اللہ الرحمن الرحیم ' لکھ کر دکھایا گیا اور خوب نفع سمیٹا گیا۔
'اسلام' نے ہمیشہ مغرب کے لئے ایک مفید کاروباری مشین کی خدمت سرانجام دی ہے۔ صلیبی جنگوں کے دور میں اس نے کمزور اور منتشر ریاست اور مذہبی نظام کو یکجا کرنے کا کام کیا۔ اس نے چرچ کو اپنے عوام پر دوبارہ کنٹرول کا موقع دیا اور اس کے اندھا دھند ٹیکسوں کو ایک جواز فراہم کر دیا۔
اسلامی عظمت کا خسارہ خلافت کے نقصان کی صورت میں ہوا ہے کیونکہ خلیفہ نے ہی ایسی فوج بھیجنے کی دھمکی دی تھی جس کا آخری سپاہی بغداد اور پہلا روم کے دروازے میں کھڑا ہو گا، اگر ایک بھی مسلم عورت کو رومی فوج نے آزاد نہ کیا۔ سلطان عبدالحمید نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں بھی اسلام کے دفاع سے نہ ہٹنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ فرانسیسی مصنف والٹیر کی تصنیفات کی بنیاد پر فرانس اور برطانیہ میں ایک 'کھیل' سٹیج ہوا جس کا عنوان تھا "محمد یا جنونی؟" جس میں نبی کے کردار پر حضرت زینب  و زید کے نکاح کے ذریعے گرد اُڑائی گئی، جب خلیفہ کو اس 'کھیل' کی اطلاع ملی توانہوں نے فرانس میں اپنے سفیر کے ذریعے فرانسیسی حکومت کو کھیل جاری رکھنے کی صورت میں سنگین ردعمل کی تنبیہ کی۔ فرانس نے فوراً 'کھیل ' روک دیا اور یہ گروہ انگلینڈ چلا گیا جب یہی وارننگ انگلستان پہنچی تو جواز تراشا گیا کہ ٹکٹیں فروخت کر دی گئی ہیں اور اب 'کھیل' پر پابندی شہریوں کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ اس پر سلطان عبدالحمید نے دوٹوک انداز میں یہ فرمان جاری کر دیا :
"میں اسلامی اُمہ کو ایک فرمان جاری کر دوں گا کہ برطانیہ ہمارے رسول کی توہین کر رہا ہے۔ میں جہاد کا اعلان کر دوں گا۔"
اس الٹی میٹم پر اظہارِ رائے کی آزادی کے سب دعوے بھلا دیے گئے اور فی الفور 'کھیل' روک دیا گیا۔ شاید مسلمانوں کے پاس اس طرح کی آزمائش میں سرخرو ہونے کا یہ واحد حل ہے!!
اسلام اب دنیا کا تیزی سے پھیلتا ہوا دین ہے۔ اس کے پیروکار، ذرائع ابلاغ سے اپنی تصویر کشی کے برعکس ، غربت یا قوت کے باعث مذہب تبدیل نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ مختلف اقوام، مناصب، مالی ترقیوں اور تعلیمی کارکردگیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور صدیوں کی برین واشنگ کے باوجود کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے پتہ چلے کہ یہ رجحان رک یا سست روی کا شکار ہو جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ متروک چرچ فروخت ہو رہے ہیں جنہیں مسلمان عموماً خرید کر مسجدوں میں بدل رہے ہیں، نفرت اور خوف بھی واضح سے واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔ افریقہ کی ایوینجلسٹ تحریکیں مسلم سماجی بہبودکی تنظیموں اور مجاہد گروہوں کے ظہور پر مٹتی جا رہی ہیں۔ مسیحی عقائد کی خامیاں اب بہت سے مسلمانوں کو ازبر ہیں۔ ہم احمد دیدات جیسے لوگوں کے شکرگزار ہیں جو کسی بھی پارسی کو کسی بھی جگہ چیلنج کرنے اور لاجواب کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ لیکن اپنے مسیحی مفادات یا طرزِ زندگی کے تحفظ کے کھیل میں بے ایمانی اور گندگی در آئی ہے۔ اسلام، نبی کے کردار، اسلامی تاریخ، یا اسلام سے متعلق کسی بھی چیز کو حقیر ظاہر کرنے کے لئے کتب تصنیف کی گئیں، ویڈیوز بنائی گئیں، مضامین لکھے گئے اور کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ یہ ساری کوششیں افسوس ناک ہیں مگر اس فریب و جھوٹ کا سب سے المناک حصہ وہ ہے جس میں اس دعوت کو دھندلا کر اس کے نام وہ سب کچھ لگا دیا گیا جو اس میں کسی طو رموجود نہ تھا۔
دوسری طرف مغربی اقوام کو اپنے موجودہ طرزِ حیات سے دلچسپی ہے۔ حکومتیں اپنے مالی مفادات اور قومی مقام سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ بڑی بڑی کارپوریشنیں جو دوسروں پر بدحالی ٹھونستی جا رہی ہیں اپنے وجود سے محروم ہو جائیں گی، اگر اس آبادی نے اسلام قبول کر لیا۔ مجرموں کو اسلام کے نظامِ عقوبات سے خطرہ ہے۔ جوئے، ناجائز تعلقات اور الکحل میں ملوث لوگ اسلام سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ اسلام معاشرے میں ایسی برائی برداشت نہیں کرتا۔ سیاست دانوں کو اسلام سے خار ہے کیونکہ یہ ان سے ان کی قوت چھین لے گا۔ مگر عام آبادی کو اسلام سے صرف اس لئے نفرت ہے کہ انہیں یہی کچھ سکھایا گیا۔ اسی لئے بہت سے 'تھنک ٹینکس' بنائے گئے ہیں مثلاً صہیونیوں کے پاس "فری مین سنٹر فار سٹرٹیجک سٹڈیز" ہے جو عام لوگوں کو اسلامی خطرے سے متنبہ کرنے کے لئے ان گنت کتابیں چھاپتا ہے۔ ۲۶/جنوری ۱۹۹۵ء کو سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے کانگریس سے امریکہ میں موجود مشتبہ دہشت گردوں پر سازشی الزامات عائد کرنے، ان پر چندہ جمع کرنے کی ممانعت، ان کی جبری جلاوطنی کی تائید کے لئے کہا۔ امریکی ہاؤس سپیکر نیوٹ گنرچ نے مسلح افواج کی ایک کانفرنس میں بتایا کہ امریکی فوج اور انٹیلی جنس کے اہلکار اسلام کے عالمگیر پھیلاؤ سے لڑنے کی حکمت ِعملی تیار کریں۔
کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ اسلام طویل المیعاد بنیاد پر اپنے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ ہو گا۔ مسلمان تاحال ظالموں کے زیر عتاب ہیں جو ناانصافی سے حکومت کرتے ہیں اور کسی طرح بھی اسلام کے پیروکاروں کے نمائندہ نہیں ہیں۔ مسلمان ہر جگہ ملامت کا شکار ہیں۔ 'سی بی ایس' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شکاگو کے مسلمان منشیات فروش، انشورنش میں دھوکہ دہی کرنے والے اور دھماکوں میں ملوث ہیں۔ اسرائیلی ایجنٹ سٹیون ایمرسن کی تیار کردہ پی بی ایس کی 'جہاد اِن امریکہ' کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے سارے اسلامی بنیاد پرست بنیادی طور پر دہشت گرد ہیں۔ بین الاقوامی شہرت رکھنے والے 'ریڈرز ڈائجسٹ' نے کئی توہین آمیز مضامین کے ذریعے مسلمانوں اور اسلام پر دشنام طرازی کی ہے جس میں دسمبر۱۹۹۳ء میں شائع ہونے والامضمون "ہم میں دہشت گرد"... جنوری۱۹۹۴ء میں شائع ہونے والا "سب اسلام کے نام پر" اور جنوری ۱۹۹۵ء کا مضمون "مقدس جنگ ہمارا راستہ بناتی ہے!" شامل ہیں۔ بوسنیائی جنگ کے دوران ہزاروں مسلم بچوں کو عیسائیوں نے پرورش کے لئے لیا اور بچوں کو مذہب بدلنے پر مجبور کر دیا حتیٰ کہ جب اصل خاندان نے اپنے بچوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو برطانوی عدلیہ نے انکار کرتے ہوئے انہیں مستقل طور پر ' مغربی والدین' کے حوالے کر دیا۔
اب اس کا انحصار مغربی قوم پر ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لئے پیش قدمی کرے اور ہیڈر کے الفاظ میں "اسلامی بنیاد پرستوں کو وہ مرض نہیں سمجھنا چاہئے جو ساری آبادی کو متاثر کرنے کے لئے پھیلتا ہے۔"
اسلام کوسمجھنے کے لئے ذرائع ابلاغ کو پرخلوص رویے کی عکاسی کرنی چاہئے، مسلم عوام کی مظلومیت کو واضح کرنا چاہئے اور اعتراف کرنا چاہئے کہ کیسے اسلام نے جدیدتہذیب کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ نبی کے اوصافِ حمیدہ پر تہمت درازی کی بجائے مغرب کو آپ کے اعلیٰ اخلاقی معیار کا ادراک کرنا چاہئے۔ انہیں سمجھنا چاہئے کہ اسلام نے ۱۴۰۰سال حکومت کی جس کے زیر سایہ یہود و نصاریٰ پرسکون اور محفوظ زندگی بسر کرتے رہے۔ انہیں ان کے عقائد کی بنا پر نشانہٴ ستم نہ بنایا گیا جیسا کہ مسلمانوں کو سقوطِ غرناطہ کے موقع پر اندلس (سپین) میں بننا پڑا۔ انہیں شیروں کے آگے نہیں ڈالا گیا جیسا کہ عیسائیوں نے روم میں مخالف عقائد کے لوگوں کوڈالا ۔ انہیں گھروں سے نکال کر جھونپڑوں میں پناہ لینے پر مجبور نہیں کیا گیا جیسا کہ صرف ۵۰سال قبل فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ ہو چکا ہے۔ مسیحی علما بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ معاشرے میں یہود و نصاریٰ مالی لحاظ سے خوش حال اور ترقی یافتہ تھے حتیٰ کہ بعض مسلم حکومت کے زیر سایہ اعلیٰ انتظامی عہدوں پر بھی فائز تھے۔
موجودہ اسلامی نشاة ِثانیہ غربت کے خلاف کوئی ردّعمل نہیں ہے جیسا کہ بہت سوں کا خیال ہے بلکہ اس حقیقت کی بیداری ہے کہ اسلام دورِ حاضر کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ لوگ اپنی آزادانہ مرضی اور خوشی سے مذہب تبدیل کر رہے ہیں۔ اسلام کو عورت کی فلاح و بہبود کے لئے خطرہ سمجھاگیا لیکن اس کی کیا توجیہ کی جائے کہ قبول اسلام کی شرح ۴ عورتیں اور ایک مرد ہے۔ اگر قرآن واقعتا تضادات سے بھرا ہوا ہے تو کم از کم ایک کتاب ایسی آنی چاہئے تھی جو گمراہ جائزوں کے بغیر ٹھوس ثبوت فراہم کر سکے!!
اسلام انفرادی و اجتماعی ہرسطح پر انسانیت کے مسائل کا حل پیش کرتا رہا ہے۔ اسلام ہر فرد خواہ مرد ہو یا عورت کے حقوق اور وقار کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ ہر اس محرک کا انسداد کرتا ہے جو معاشرہ کے کسی بھی رکن کے لئے مضر ہو اور اس کے قوانین کسی بھی نئے رجحان ، انتخابی مراحل، یا سیاسی رہنماؤں کی مرضی کے مطابق تبدیل نہیں ہوتے ہیں۔ نسلی امتیاز پر مغرب میں مشکل سے ۶۰ء کے عشرہ میں قابو پایا گیا جب آسٹریلیا میں Aborigines کو ووٹ کا حق دیا گیا جب کہ اسلام نے ہر قوم کو مساوی حقوق دیے۔ اسلام میں بدعنوانی، چوری، دھوکہ دہی، عصمت دری، جنسی لعنت اور والدین اور بزرگوں کی تحقیر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاتا۔ اسلام فیصلہ کرتے وقت ہر قسم کے امتیاز برتنے سے سختی سے منع کرتا ہے اور اس کا نظامِ عدل دوسروں سے بہتر ہے جسے مغرب رفتہ رفتہ اختیار کر رہا ہے۔ کسی شخص سے رعایت نہیں برتی جاتی، کسی رہنما، صدر، فوجی اہلکار یا پولیس افسر کو کسی قسم کی رعایت میسر نہیں ہوتی۔ عورت کو تحویل کا حق ہے، اگر وہ بچے کے مفاد میں بہتر ہو۔ ایک شخص کو مجرم ثابت ہونے سے پہلے بے گناہ سمجھا جاتا ہے اور کسی کو مجرم کہنے کے لئے ٹھوس ثبوت ہونا ضروری ہے۔
اسلام کا معاشی وانتظامی پہلو بھی مغربی معیارات سے بہت آگے ہے۔ اسلام نے منڈی میں مسابقت مخالف رویے سے ہمیشہ منع کیا ہے، اس اصول پر چلنے کے لئے مغرب کو۱۳۰۰ سال لگے جس کی مثال ۱۸ویں صدی کے اواخر میں امریکہ کا 'شرمن ایکٹ' اور ۱۹۷۰ء کے آخر میں سامنے آنے والا آسٹریلیا کا' ٹریڈ پریکٹسز ایکٹ' ہیں۔ آسٹریلیا کا ۱۹۷۰ء میں متعارف ہونے والا جدید ویلفیئر سسٹم مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور تبدیلیاں بھی زیادہ تراس کے اصل متن کے برعکس کی جاتی ہیں لیکن خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کا متعارف کردہ نظام زیادہ مساوات پر مبنی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ یہ اس وقت منتہائے کمال کو پہنچ گیا تھا جب کوئی ایسا فرد نہیں ملتا تھا جو حضرت عمر بن عبدالعزیزکے دورمیں ریاست سے اپنی ضروریات کے لئے رقم یا خیرات لے سکے۔ صرف اسلامی اصولوں کو جدید سودی نظام سے بدلنے کے وقت موجودہ بدحالی کا آغاز ہوا کیونکہ سودی نظام نے کئی اقتصادیات بالخصوص ایشیائی خطوں کو دیوالیہ کر کے رکھ دیا ہے۔
آج کے حکمران 'انوکھی مخلوق' ہیں۔ وہ فخر و غرور کے ساتھ سلامتی و عیش میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے کم کام کرتے ہیں جن کے وہ نمائندے ہیں۔ ان کی کم سے کم آمدن بھی آسٹریلیا میں اپنے عام آدمی کی نسبت دس گنا زیادہ ہے اور یہ شرح ۵۰ فیصد تک بھی پہنچی ہوئی ہے۔ وہ اپنے لوگوں سے فاصلے پر رہتے ہیں اور ان کی ضروریات کا انہیں کوئی احساس اور تجربہ نہیں ہے جب کہ نبی نے کبھی سیر ہو کر کھانا نہ کھایا، فاقے کرتے رہے، وہی کھاتے جو دوسروں کوکھانے کے لئے میسر ہوتا تھا۔ آپ نے اونٹ یا گھوڑے کی سواری کی اور دوسروں کو بھی اپنے ساتھ ایک ہی سواری پر سوار کرنا پسند فرمایا۔ آپ کے دروازے ہمیشہ ضرورت مندوں کے لئے کھلے رہتے اور آپ انہیں جانے کے لئے کہنے میں شرم محسوس کیا کرتے تھے۔ اگر جنگ کا موقع آتا تو آپ بھی اپنے صحابہ کے ساتھ لڑتے۔ آپ خود کھانا پکا لیتے، کپڑے سی لیتے، جوتوں کوگانٹھ لیتے اور خود سودا سلف لے آتے۔ آپ اپنے لوگوں میں اس انداز سے رہے کہ عام آدمی کے لئے یہ جاننا مشکل ہوتا تھا کہ ان میں نبی کون ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تادمِ آخر برقرار رہا، پھر آپ کے جانشین آپ کے اوصافِ عالیہ پر عمل پیرا رہے۔ حضرت ابوبکر صدیق اس قدر قلیل سامان چھوڑ کر سفر آخرت پر روانہ ہوئے کہ آپ کے جانشین عمر بن خطاب کو بھی یہ کہنا پڑا "اے ابوبکر ! آپ نے میرے لئے ایسی سخت مثال قائم کر دی ہے جس پر چلنا میرے لئے بہت مشکل ہے۔" عمر خود رات کے وقت گلیوں میں گھومتے پھرتے اور ضرورت مندوں، مظلوموں اور اسلامی ریاست کے زیر سایہ حقوق سے محروم لوگوں کو تلاش کرتے۔ اگر لوگ اس انداز میں خوش ہیں اور نبی یا آپ کے جانشینوں کی صفات رکھنے والے رہنما سے خوف زدہ ہیں تو پھر مانا جا سکتا ہے کہ اسلام ان کے لئے خطرہ ہے۔ لیکن اگر وہ خود اس طرح کا رہنما چاہتے ہیں تو پھر یہ ذہنی پسماندگی کی علامت ہے کہ وہ اسلام اور اس کے پیروکاروں سے خوف رکھتے ہیں۔
بطورِ مسلمان ہمارا مقصد ایک کٹھن اور دشوار گزار 'لڑائی' ہے۔ انفرادی سطح پر ہمیں کردار و اخلاق کا بلند ترین نمونہ قائم کرنا اور اسے ترقی دینا چاہئے۔ معاشرتی سطح پر کسی بھی ذریعہ ابلاغ سے ہمیں اسلام کے متعلق خالص اور آسان مواد کی فراہمی کو عام کرنا چاہئے۔ اگر ہم غلطی کو دیکھیں تو نتائج سے بے پروا ہو کر اس کی اصلاح ہمارا فرض ہے۔ خلافت کے انہدام کے بعد اب یہ کردار ادا کرنا اور بھی مشکل ہے کیونکہ غیرمسلم اسلام اور اس کے نظام کو وسیع پیمانے پر حالت ِتنفیذ میں دیکھنے سے محروم ہیں۔ وہ اس کی دیگر نظامات سے برتری کا تقابل نہیں کر سکتے کیونکہ اسے نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ صرف خلافت کی بحالی ہی اسلام مخالف تحریک کا زور توڑ سکتی اور عالمی برادری کو صحیح اسلام کے متعلق آگاہ کر سکتی ہے!
ایک اور فلم مگر کس لئے... ؟

"Empire of Faith"اسلام پر بنائی جانے والی دستاویز فلم کی ریلیز کے لئے ۸ مئی کی تاریخ کا اعلان ہوا ہے۔ ا س فلم کے بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اسلام کے متعلق رائج 'منفی تصویر کشی' سے گریز کرتے ہوئے مسیحی مسلم مفاہمت کے لئے قدم بڑھانے کی کوشش کی ہے جو امریکیوں کے ذہن پر پڑی گرد صاف کئے بغیر ممکن نہیں جو طبی پیش رفت یا ہر حد عبور کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ترقی سے مسلمانوں کا تعلق تسلیم کرنے سے عموماً انکار کرتے ہیں حالانکہ انہیں جاننا چاہئے کہ ہسپتال اسلامی ایجادیں ہیں۔ مسلمانوں نے ہی ارسطو اور دیگر یونانی فلاسفہ کے تخلیقی کام کو محفوظ کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا اور وسیع پیمانے پر کاغذ کے استعمال کو متعارف کرانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہی ہے۔ مگر فلم کے پرڈویوسر اور ہدایت کار راب گارڈنر کے الفاظ میں "امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔ لوگ افغانستان کے اس نوجوان کے متعلق تو سوچتے ہیں کہ جو مجسّمے گرا رہا ہے لیکن اس پر دھیان نہیں دیتے جو گلی گوچوں میں ڈاکٹر یا دندان ساز کے روپ میں لوگوں کا درد رفع کررہا ہے۔"
اڑھائی گھنٹے کے دورانیہ پر محیط ایک ہزار سالہ اسلامی فتوحات کے 'مثبت 'نقوش اُبھارنے والی اس فلم کے خالق گارڈنر نے جو انقلابِ ایران کے بعد سے وہاں کام کرنے والے پہلے فلم ساز ہیں، بتایا کہ ایرانی سب مسلمانوں سے زیادہ تعاون کرنے والے ہیں۔ انہوں نے اس فلم کا کام تیونس، مصر ، اسرائیل، شام ، سپین اور ترکی میں بھی کیا ہے۔ یہ فلم بھی (جیسا کہ اکثر مغربی ذرائع ابلاغ میں اسلام کے متعلق منفی پراپیگنڈہ ہوتا ہے) کسی حد تک منفی تاثرات کو اُبھارتی ہے جس کا اعتراف اسلامی فنون کی تاریخ کے ماہر Esim atil نے ان الفاظ میں کیا ہے "یہ سخت گیر ہوسکتی ہے لیکن اس نے عثمانیوں کے لئے مفید کام کیا ہے۔" خصوصاً فلم میں عثمانی سلطان کے ہاتھوں غلام بنائے جانے والے عیسائی بچوں کا منظر واقعی دلخراش اور دل آزار ہے لیکن اس فلم کے ہدایت کار کا ا صرار ہے کہ فلم بنیادی طور پر عیسائیوں، مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین اشتراکِ باہمی مثلاً توحید ِربانی وغیرہ پر زور دیتی ہے اور اختلافات سے صرفِ نظر کرتی ہے۔ گارڈنر توجہ دلاتا ہے کہ یہودی و مسیحی مخاصمت کی ایک طویل تاریخ کے بعد اب آپس میں وہ امریکہ میں تقریباً شیر وشکر ہوچکے ہیں اور یہی مسلمانوں کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عیسائیوں کے ساتھ محبت و مودّت کا رشتہ استوار کرلیں۔
ہدایت کار کے دعویٰ کے مطابق پہلی مرتبہ اس فلم میں توحید اور اسلامی عدلِ اجتماعی کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کو اس قدر مفصل انداز میں سکھانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کا اپنا بیان ہے"یہ سارا مذہب نہیں ہے اس کی وضاحت کے لئے وقت درکار ہے۔" دوسری طرف سنجیدہ مسلم حلقوں نے اس فلم کو 'محمدصلی اللہ علیہ وسلم ' کے چہرئہ مبارک کی پینٹنگ دکھانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آغازِ اسلام سے لے کر سلطنت ِعثمانیہ کے سلطان سلمان کی عہد تک کی عکاسی اس فلم میں کرنے کے علاوہ جزوی طور پر مسلم دنیا کے دیگر مسائل مثلاً مسلم ممالک کے کسانوں کے، مغرب کے کسانوں سے زیادہ نفیس وصاف ستھرے ہونے کے باوجود اَن پڑھ اور غریب رہ جانے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
مغربی دنیا سے اس قسم کی فلموں کی تیاری و اجرا کوئی نئی بات نہیں، ان سے مسلم مسیحی مفاہمت کا وہ ہدف بھی اس وقت تک ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا جب تک اہل مغرب کی کم از کم اسلامی بنیادی تعلیمات اور محسن انسانیت کے روشن کردار کے متعلق معاندانہ روش میں تبدیل نہیں آتی۔

٭٭٭٭٭