میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

گذشتہ ماہ 'اشراق' ميں عورت كى امامت كے جواز كے بارے ميں مضمون شائع ہونے پر اس كى نقول مختلف اہل علم كو بهجوائى گئيں اور 15/مئى كو مجلس التحقیق الاسلامى ميں چند اہل علم كا اسى موضوع پر تبادلہ خيال بهى ہوا-اس كے بعد فاضل علماء كرام نے ادارئہ محدث كواپنے مضامين ارسال كئے جو اس شمارے كى زينت بن رہے ہيں- راقم نے بهى اسى موضوع پر اُنہى دنوں ايك مضمون تحرير كيا تها،كبار علماء كرام كے مضامين شائع ہونے كے بعد تكرار سے بچنے كى خاطر ميں نے اب ان مباحث كو مختصركركے حواشى ميں ديگر اہل علم كے مضامين كے متعلقہ مباحث كى طرف اشارہ كرديا ہے -چونكہ اكثر مضامين ميں يہ بحثیں بار بار آ گئى ہيں، اس لئے ان حواشى كى مدد سے قارئين كا ان كى طرف رجو ع كرنا بهى آسان ہوگا-اس كے باوجود بعض جگہ باقى رہ جانے والى تكرار كو اُميد ہے، قارئين نظر انداز فرمائيں گے- (ح م)

جمہور اہل علم كے نزديك عورت، ديگر عورتوں كى امامت كراسكتى ہے- اس سلسلے ميں كتب حديث ميں اُمہات المومنين: حضرت عائشہ صديقہ اور حضرت اُمّ سلمہ كى امامت كا تذكرہ ملتاہے، جس كى تفصيلات سے ان كے طريقہ امامت پر بهى روشنى پڑتى ہے :
(1) عن ريطة الحنفية قالت أمتنا عائشة فقامت بينهن في الصلوة المكتوبة 1
" حضرت عائشہ نے ہمارى امامت كرائى اور آپ فرض نمازوں كے درميان ميں عورتوں كے درميان كهڑى ہوئيں-" 2
(2) عن عطاء عن عائشة أنها كانت توٴم النساء تقوم معهن في الصف3
"عائشہ عورتوں كى امامت كرايا كرتى تهيں اور آپ ان كے ساتھ ہى صف ميں كهڑى ہوتيں-"
(3) أنها أمت النساء في صلوة المغرب فقامت وسطهن وجهرت بالقراء ة
"سيدہ عائشہ نے مغرب كى نماز ميں عورتوں كى امامت كرائى ، پس عورتوں كے درميان كهڑى ہوئيں اور بلند آواز سے قراء ت فرمائى-" (المحلّٰى: 4/219)
(4) اور ايك روايت ميں ہے كہ حضرت عائشہ نے عورتوں كو نمازِ عصر پڑهائى- 4
(5) عن علي قال دخلت أنا ورسول الله علىٰ أم سلمة فإذا نسوة في جانب البيت يصلين فقال رسول اللهﷺ: (يا أم سلمة أي صلاة تصلين؟) قالت يا رسول الله! المكتوبة. قال رسول الله: (أفلا أمَمْتِهنَّ؟) قالت: يا رسول الله أو يصلح ذلك؟ قال ﷺ: (نعم تقومين وسطهن لا هن أمامك ولا خلفك وليكن عن يمينك وعن شمالك)
"حضرت على سے مروى ہے كہ ميں اور رسول اللہﷺاُم المومنين حضرت اُم سلمہ كے پاس آئے تو خواتين كو گهر كے ايك طرف نماز پڑهتے پايا- رسول اللهﷺ نے پوچها: اُم سلمہ! يہ كونسى نماز پڑھ رہى ہيں؟اُنہوں نے جواب ديا: فرض نماز تو آپ نے كہا: تم ان كى امامت كيوں نہيں كراتى؟ امّ سلمہ كہنے لگیں : كيا عورتوں كى امامت درست ہے؟ نبى ﷺ نے فرمايا: ہاں، تم ان كے درميان كهڑى ہوجاؤں، نہ تم ان كے آگے اور نہ وہ تمھارے پیچھے بلكہ وہ تمہارے دائيں بائيں كهڑى ہوجائيں-" 5
(6) عن أمّ سلمة أنها أمَّتْهُنَّ فقامت وسطًا 6
" حضرت اُمّ سلمہ سے مروى ہے كہ حضرت عائشہ نے ان عورتوں كى امامت كرائى اور آپ درميان ميں كهڑى ہوئيں -"
(7) عن أمّ الحسن أنها رأت أم سلمة زوج النبي ﷺ توٴم النساء فتقوم معهن فى صفهن 7
"امّ حسن سے مروى ہے كہ نبى كريم ﷺكى اہليہ محترمہ حضرت اُمّ سلمہ كو ديكها كہ وہ عورتوں كى امامت كرا رہى تهيں اور ان كے ساتھ ہى صف ميں كهڑى تهيں -"
علامہ ابن حزم اس حديث كے متعلق المُحلّٰى (4/220) ميں فرماتے ہيں:
"يہ بہترين سند ہے، اسكے سب راوى انتہائى ثقہ ہيں- يہ سند كيا ہے سونے كى ايك لڑى ہے"
(8) حُجیرہ سے مروى ہے كہ حضرت امّ سلمہ نے ہميں عصر كى نماز پڑهائى اور ہمارے درميان كهڑى ہوئيں- 8
(9) عن ابن عباس قال: توٴم المرأة النساء تقوم في وسطهن
"ابن عباس فرماتے ہيں كہ عورت عورتوں كى امامت كروا سكتى ہے، ليكن وہ عورتوں كے درميان كهڑى ہوگى-"9
(10) عن ابن عمر أنه كان يأمر جارية له أن توٴم النساء في ليالي رمضان
"ابن عمر سے مروى ہے كہ وہ اپنى ايك لونڈى كو حكم ديا كرتے كہ وہ رمضان ميں عورتوں كى امامت كرائے-"10

علامہ شمس الحق عظيم آبادى دار قطنى پر اپنى شرح التعليق المُغني ميں فرماتے ہيں:
وهذه الروايات كلها تدل على استحباب إمامة المرأة للنساء في الفرائض والنوافل وهذا هو الحق وبه يقول الشافعي والأوزاعي والثوري وأحمد وأبو حنيفة وجماعة رحمهم الله 11
"يہ تمام احاديث فرضى اور نفلى نماز ميں عورت كى امامت كے پسنديدہ ہونے كى دلیل ہيں اور يہى موقف درست ہے، اسى كو امام شافعى، احمد بن حنبل، ابو حنيفہ (ائمہ ثلاثہ) اور امام اوزاعى ، ثورى اور اہل علم كى ايك جماعت رحمہم اللہ نے اختيار كياہے-"

احناف كے ہاں عورت كى امامت كا زيادہ رواج نہيں ہے، جہاں تك احناف كے موقف كا تعلق ہے تو وہ اس كى حرمت كى بجائے كراہت كا موقف ركهتے ہيں اور نمازِ جنازہ وغيرہ ميں اس كے قائل ہيں- پهر احناف ميں بعض اہل علم نے اپنے اس موقف كے بارے ميں بهى نظر ثانى كركے عورت كى عورتوں كے لئے امامت كا بلا كراہت جواز ثابت كرنے پر دلائل پيش كئے ہيں- اس سلسلے ميں كراچى سے 'فقہ اسلامى' كے نام سے شائع ہونے والے وقیع فقہى ماہنامے ميں مفتى محمد رفيق الحسنى كا تفصيلى مضمون بہ تكرار شائع ہوچكا ہے، جس ميں انہوں نے عورتوں كى امامت كے جواز كا موقف اختيار كرنے كى ترغیب دى ہے- ياد رہے كہ اس مجلہ كے كارپردازان بريلوى مكتب ِفكر سے تعلق ركهتے ہيں- 12

چونكہ ان تمام احاديث ميں عورتوں كى امامت كرانے كا ہى تذكرہ ملتاہے، اس بنا پر ان سے يہ دليل نہيں لى جاسكتى كہ عورت مردوں كى بهى امامت كراسكے- اس امر كے مشروع ہونے كے لئے ضرورى ہے كہ اس كى تائيد ميں قرآن وحديث سے كوئى دلیل موجود ہو- عبادات كے بارے ميں يہ مسلمہ اُصول ہے كہ وہى عبادت باعث ِثواب ہوگى جس كا ثبوت كتاب وسنت سے ثابت ہو- اپنے پاس سے بنائى گئى عبادت ثواب كى بجائے بدعت كا درجہ ركھتى ہے- جب اسلام كى 14صد سالہ تاريخ ميں كوئى ايك مثال بهى ايسى نہيں ملتى جس ميں كسى عورت نے مردوں كى امامت كى ہو تو اب كيوں كر اس كو مشروع قرار ديا جاسكتا ہے ؟

سنن ابو داود ميں حديث اُمِ ورقہ آتى ہے جس ميں يہ تذكرہ ہے كہ نبى كريمﷺ نے انہيں گهر ميں رہنے كا حكم ديا، دين كے كاموں ميں غير معمولى شوق كى بنا پر پهر اُنہوں نے نبى كريم سے موٴذن كى اجازت طلب كى جو آپ نے دى دے- تو امّ ورقہ اپنے گهروالوں كى امامت كرايا كرتى تهيں- مختصراً 13

عورت كامردوں كى امامت كرانے كا دعوىٰ كرنے والوں كا تمامتر انحصار اسى حديث پر ہے جس ميں 'گهروالوں' كے لفظ ميں يہ احتمال پايا جاتا ہے كہ ان كے گهروالوں ميں مرد بهى شامل تهے- مزيد دعوىٰ يہ بهى ہے كہ دار كا لفظ چونكہ عربى زبان ميں گهر سے وسيع ترمعانى ميں بولا جاتاہے، اس لئے اس سے گهر كى بجائے اہل محلہ مراد لينے چاہئيں-گويا اگر ان كے گهر ميں كوئى مرد نہيں تها تو ان كے محلہ ميں تو كوئى مرد ضرور ہوگا اور امّ ورقہ ان سب كى امام تهيں-

آج تك اسلامى تاريخ ميں كسى نے مردوں كے لئے عورت كى امامت كا جواز پيش نہيں كيا، امريكہ ميں عورت كى امامت كا واقعہ پيش آجانے كے بعد مئى 2005ء كے ماہنامہ اشراق ميں پہلى بار يہ موقف اپنايا گيا ہے اور اس موقف كى تائيد كے لئے اشراق كے مقالہ نگار جناب خورشيد عالم كا نصوص سے استدلال كا كل مركز ومحور يہى ہے !!

اگر ذہن ميں اسلام كى خدمت كا مقصد ہو تو ايسے بعيد قياس پيدا ہى نہيں ہوتے ليكن اگر كوئى نئى بات كرنے كاسودا سما جائے اور تعامل امت كے فلسفے كا شور مچانے كے باوجود ائمہ اسلاف سے مخالفت كا شوق چرا جائے تو احتمالات سے بهى دلائل كى ٹهوس عمارت كهڑى كى جاسكتى ہے- ائمہ فقہا كا تو معروف اُصول ہے كہ إذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال جہاں احتمال آ گيا، وہاں استدلال ختم ہوگيا، ليكن يہاں بالكل اُلٹ قصہ ہے- اس كے برعكس اگر اسى واقعہ سے درست استدلال كرنا ہو تو اس كے امكانات بهى كم نہيں :
(1) پہلى بات تو يہ ہے كہ اس تمام واقعے كى بنياد اسى حديث ميں نبى كريم كا انہيں يہ حكم ہے قري في بيتك اپنے گهر ميں ہى ٹكى ره- اور اقعدي في بيتك 14
(2) پهر انہوں نے موٴذن كى اجازت طلب كى، اس سے تو يہ پتہ چلا كہ عورت اذان نہيں دے سكتى- ورنہ آپ انہيں خود اذان كى اجازت بهى دے ديتے، اور اگر ان كے گهر ميں كوئى مرد موجود ہوتاتو آپ اسے اذان كا حكم ديتے -
(3) نبى كريم ﷺكو ايك بوڑها موٴذن مقرر كرنے كى ضرورت ہى اس لئے پيش آئى كہ امّ ورقہ كے گهر ميں كوئى مرد موجود ہى نہ تها-
(4) حديث ِاُمّ ورقہ سے اس احتمال كو ثابت كرنے كى بنياد صرف يہ ہے كہ وہ موٴذن بهى امّ ورقہ كے پیچھے ہى نماز پڑھتا ہوگا-جہاں تك غلام كا سوال ہے تو احاديث ميں اس امر كى كوئى دليل نہيں كہ غزوئہ بدر كے بعد جب نبى كريم نے انہيں امامت كى اجازت دى تو اس وقت غلام موجود تها يا نہيں؟ غلام اور لونڈى كا اُنہيں شہيد كرنے كا واقعہ تو اس كے كم وبيش 20برس بعد پيش آيا- موٴذن كا حضرت اُمّ ورقہ كے پیچھے نماز پڑهنے كا احتمال اس بنا پر معتبر نہيں كيونكہ اس دور ميں مدينہ منورہ بہت مختصر تها، عین ممكن ہے كہ وہ موٴذن اذان دے كر مسجد ِنبوى ميں نبى كريم كى معیت ميں نماز پڑهنے كا ثواب حاصل كرنے چلا جاتا ہو- جيسا كہ مسند احمد بن حنبل كے شارح احمد عبد الرحمن البنااپنى شرح 'الفتح الربانى' ميں لكهتے ہيں:
فيحتمل أن الموٴذن كان يوٴذن لها ثم يذهب إلى المسجد ليصلي فيه
"ممكن ہے كہ موٴذن اذان دے كر مسجد نبوى ميں نماز پڑهنے كے لئے چلا جاتا ہو-" 15

مزيد برآں اذان سننے كے بعد مسلمان كے لئے يہ اجازت نہيں كہ وہ مسجدميں نہ آئے- جيسا كہ نبى كريم كے پاس ايك نابينا آدمى يہ عذر لے كر آيا كہ مجهے كوئى مسجد تك نہيں پہنچا سكتا (ليس لي قائد يقودني إلى المسجد) تو آپ نے پہلے تو اسے اجازت دى، پهر يہ ديكھ كر كہ وہ اذان كى آواز سنتا ہے، اس كو مسجد ميں آنے كا پابند كرديا- 16

ظاہر بات ہے كہ باجماعت نماز كے علاوہ مسجد ميں نماز پڑهنے كا مستقل ثواب ہے اور اُمّ ورقہ كے ہاں باجماعت نماز تو ہوتى تهى، ليكن كوئى مستقل مسجد نہ تهى جيسا كہ تاريخ ميں اُمّ ورقہ كى كسى مسجد كا تذكرہ نہيں ملتا-ايك طرف تو نبى كريم ايك نابينا كو مسجد ميں نماز پڑهنے سے مستثنىٰ قرار نہ ديں دوسرى طرف اشراق كے مقالہ نگار صرف ايك احتمال سے موٴذن كے مسجد ميں آنے كے خلاف امر كو ثابت كرنے كى كوشش كريں، تعجب ہے !!

(5) پهر اسى حديث كے ان محتمل الفاظ كى صراحت دارقطنى كى ايك حديث ميں يوں آئى ہے:أمرها أن توٴم نساء ها آپ نے انہيں حكم ديا كہ اپنے گهروالوں كى عورتوں كى امامت كرائيں-چونكہ حديث كے ان الفاظ سے ابوداود كى حديث ام ورقہ ميں مرد وزَن دونوں مراد لينے كا امكان باقى نہيں رہتا، اس لئے اشراق كے مقالہ نگار اس اضافہ كے بارے ميں كہتے ہيں كہ يہ دارقطنى كے اپنى طرف سے ہے كيونكہ يہ اضافہ ان كے علاوہ كسى نے ذكر نہيں كيا-

حالانكہ حقيقت يہ ہے كہ ان الفا ظ كو كئى اہل علم نے ذكر كيا ہے اور آج تك كسى نے بهى اسے دارقطنى كے الفاظ قرار نہيں ديا- حديث كے يہ الفاظ امام ابن جوزى نے التحقيق (ج1/ ص 471،طبع دار الكتب العلمیة1415ھ) ميں،امام شوكانى نے نيل الاوطار (ج3/ ص201) ميں،امام ابن قدامہ نے المغنى ميں دو مقامات: ج1/ص 235 اور ج2/ص 16 (طبع دار الفكر بيروت، 1405) پر،كشاف القناع ميں ج1/ص 235 پر، الموسوعة الفقھية (6/204)ميں اورڈاكٹر وہبہ زحیلى نے اپنى كتاب'الفقه الإسلامي وأدلته' (2/175)ميں ذكر كئے ہيں-ان حضرات كا ذكر كرنا بهى اس امر كى دليل ہے كہ وہ اسے درست سمجهتے ہيں اور آج تك كسى نے ان الفاظ كو دارقطنى كے اپنے الفاظ قرار نہيں ديا- يوں بهى يہ تقاضا بڑا عجيب ہے كہ حديث كے وہى الفاظ معتبر ہوں جو كئى احاديث ميں باربار آئے ہوں!!

اس تفصيل سے پتہ چلتا ہے كہ مردوں پر امامت كے سلسلے ميں جو احتمال بهى پيدا كيا جارہا ہے، اس ميں كوئى وزن نہيں اور قرآنِ كريم يا احاديث سے اس امر كا كوئى اشارہ بهى نہيں ملتا-

مزيد برآں جس حديث ِامّ ورقہ سے يہ سارا استدلال كيا جارہا ہے ، اس كى صحت بهى علما كے مابين اختلافى مسئلہ ہے- اس حديث كو صحيح قرار دينے والوں ميں امام حاكم(1/161، رقم 592)، امام ابن خزيمہ(3/89، رقم 1676)، بيہقى (3/130)، علامہ عينى اور شيخ البانى (سنن ابو داود، رقم 591) شامل ہيں- مسند احمد بن حنبل كى شرح (از احمد شاكر) ميں اس حديث كو صحيح قرار ديتے ہوئے يہ ذكر كيا گيا ہے كہ حاكم اور ذہبى كے انداز سے معلوم ہوتا ہے كہ اس حديث كى راويہ ليلىٰ بنت مالك صحابيہ ہيں- (18/494، رقم 27158) علامہ البانى نے بهى إرواء الغليل ميں تفصيلى بحث كے بعد اس حديث كو 'حسن' قرار ديا ہے- (2/256، رقم 493)
دوسرى طرف حافظ ابن حجر نے تلخيص الحبير(ص 121) ميں اور مسند احمد پر الموسوعة الحديثية كے محققين نے اس حديث كو ضعيف قرار ديا ہے-

فقہاكا نقطہ نظر
اشراق كے مقالہ نگار نے بعض فقہا سے اس امر كومنسوب كيا ہے كہ ان كے نزديك عورت كى امامت مردوں كے لئے درست ہے، ليكن حقيقت يہ ہے كہ ان بعض فقہا سے يہ نسبت غلط فہمى كا نتيجہ ہے- جب ان فقہا كے اقوا ل كو ہم ان كى اپنى كتابوں يا سياق وسباق كے ساتھ ملا كر پڑهتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے كہ ان كا ايسا كوئى موقف نہيں ہے۔ ملاحظہ فرمائيں :
فقہى انسا ئيكلوپيڈيا، كويت ميں امامت كى شرائط ميں 'مرد ہونا' بهى ذكر كيا گيا ہے:
يشترط لإمامة الرجال أن يكون الإمام ذكرًا، فلا تصح إمامة المرأة للرجال وهذا متفق عليه بين الفقهاء 17
"مردوں كى امامت كے لئے يہ بات شرط ہے كہ امام مرد ہو- كيونكہ عورت كى مردوں كے لئے امامت درست نہيں ہے- اور يہ مسئلہ فقہا كرام كے مابين اتفاقى ہے-"

دورِ حاضر كے نامور فقيہ ڈاكٹر وہبہ زحيلى اپنى كتاب ميں فرماتے ہيں :
فلا تصح إمامة المرأة والخنثى للرجال لا في فرض ولا في نفل أما إن كان المقتدي نساء فلا تشترط الذكورة في إمامهن عند الجمهور...
" مردوں كے لئے عورت اور مخنث كى امامت علىٰ الاطلاق درست نہيں ہے ، نہ فرض ميں ،نہ نفل ميں- البتہ اگر مقتدى صرف عورتيں ہى ہوں تب امام كے لئے مرد ہونا جمہور كے نزديك شرط نہيں ہے-" 18

امام الحرمين جوينى  كا دعوىٰ يہ ہے كہ يہ اس مسئلہ پرمسلمانوں ميں 'اجماع' ہے-
وأجمعوا على أن المرأة لا يجوز أن تكون إماما19

امام شافعى فرماتے ہيں كہ عورت كا كسى حال ميں بهى مردوں كا امام بننا ہرگز جائز نہيں:
لا تجوز أن تكون امرأة إمام رجل في صلاة بحال أبدًا 20

عورت كى امامت كے بارے ميں شيعہ كا موقف بهى ائمہ اسلاف سے مختلف نہيں جيسا كہ آغاز ميں حديث نمبر 5 كے تحت حضرت اُمّ سلمہ كے بارے ميں شيعہ كتب ميں مروى حديث گزر چكى ہے، مزيد برآں كتب ِشيعہ ميں ابو عبد اللہ سے مروى ہے كہ
توٴم المرأة النساء في الصلوة وتقوم وسطهن فيهن ويقمن عن يمينها وشمالها 21
"عورت ديگر عورتوں كى ہى نماز ميں امامت كراسكتى ہے- وہ ان كے درميان كهڑى ہوگى، اور عورتيں اس كے دائيں يا بائيں ..."

فقہا كا معمول يہ رہا ہے كہ وہ ايك مسئلہ ذكر كرتے ہوئے بعض اوقات امكانى طورپر پيش آجانے والے مسائل ميں بهى اپنى رائے ذكر كرديتے ہيں- حتىٰ كہ ايك حديث كے صحيح نہ ہونے كے باوجود وہ كہہ ديتے ہيں كہ بالفرض اگر يہ حديث صحيح بهى ہو تب بهى اس سے يہ مسئلہ ثابت نہيں ہوتا- ايسے ہى زير نظر مسئلہ ميں فقہا كے بعض اقوال ہيں جن كو سمجهنے ميں اشراق كے مقالہ نگار كو غلطى ہوئى ہے-جہاں تك ابو ثور اور مزنى كے قول كا تعلق ہے تو اس كا پس منظر اور حقيقت امام ابن قدامہ نے وضاحت سے پيش كردى ہے كہ وہاں يہ مسئلہ زير بحث ہى نہيں ہے بلكہ ايك فرضى سوال كا جواب ديا جارہا ہے كہ "اگر كوئى مشرك يا مخنث يا عورت كے پیچھے نماز پڑھ بیٹھے تو كيا اسكو نماز لوٹانا ہوگى يا نہيں؟" ان دونوں ائمہ فقہا كے نزديك كافر كے پیچھے پڑهى گئى نماز لوٹانا ضرورى نہيں اور يہى موقف ان كا عورت كے بارے ميں ہے-گويا اس سے پہلى بات تو يہ ثابت ہوتى ہے كہ كافر اور عورت كى مردوں كے لئے امامت كا حكم ايك ہى ہے- اس عبارت سے عورت كى امامت كا جواز نكالنا ايسے ہى ہے جيسے مسلمانوں پر كافر كى امامت كا جواز نكالا جائے- ان فقہاكے موقف كوسمجهنے كے لئے 'مغنى' كے مسئلہ نمبر 254 كا مكمل مطالعہ مفيد ہوگا-

جہاں تك ابن جرير طبرى كاتعلق ہے تو كتب ِفقہ ميں ان كا يہ موقف كہيں دستياب نہيں ہوسكا-البتہ ان سے ايك اور موقف ضرور منسوب كيا گيا ہے اور وہ يہ كہ مسالك ِاربعہ كے برعكس ابن جرير طبرى كے نزديك عورت قاضى بن سكتى ہے ليكن ابن جرير سے اس موقف كى نسبت بهى ايك اختلافى مسئلہ ہے-اكثر علما نے ابن جرير كى طرف اس موقف كى نسبت سے انكار كيا ہے - قاضى ابو بكر ابن العربى المالكى كہتے ہيں:
ونقل عن محمد بن جرير الطبري أنه يجوز أن تكون المرأة قاضية ولم يصح ذلك عنه 22
"يہ بات ابن جرير طبرى سے بهى منسو ب كى گئى ہے كہ عورت قاضى بن سكتى ہے حالانكہ يہ نسبت درست نہيں ہے-" آگے لكھتے ہيں كہ ممكن ہے كہ اس سے عام قاضى بننے كى بجائے يہ مراد ہو كہ عورتوں سے مخصوص كسى مسئلہ ميں اس كو وقتى طور پر يہ ذمہ دارى سونپ دى جائے۔

ابن جرير طبرى كا يہ موقف كتب ِفقہ ميں صراحت كے ساتھ تو كہيں موجود نہيں اور جہاں ان سے يہ نسبت كى گئى ہے ، وہاں بهى مشكوك لفظ یعنى قِيل بولا گيا ہے- لہٰذا ممكن ہے كہ اسى مسئلہ پر قياس كرتے ہوئے ان كى طرف مردوں كى امامت كا قول بهى منسوب كرديا گيا ہو- ليكن جب ان كى طرف قاضى بنانے كى نسبت بهى درست نہيں تو امامت كا قول كیسے تسليم كيا جاسكتا ہے-شيخ محمد امين شنقیطى لكھتے ہيں :
لعل كل ما نُسب إلى هوٴلاء الأعلام لم تصح نسبته إليهم لرسوخ أقدام القوم وأن لهم اليد الطولىٰ في العلم وإلا فكيف يصح أن يقول مثل هوٴلاء: بجواز تولية المرأة في الإسلام والرسول يقول: لن يفلح قوم ولَّو أمرهم امرأة 23
"شايد كہ ان نامور ائمہ كى طرف جو كچھ منسوب كيا گيا ہو، وہ فى الواقع درست نہ ہو كيونكہ يہ مسلمانوں كے راسخ العلم امام ہيں اور شريعت ميں ان كى مہارت معروف ہے- وگرنہ كيونكر ممكن ہے كہ يہ اسلام ميں عورت كى ولايت كے بارے ميں موقف اپنائيں جبكہ نبى كريم تو يہ فرما رہے ہوں كہ وہ قوم كبهى فلاح نہيں پائے گى جس كى ذمہ دارى ايك عورت كے ہاتھ ميں ہو-"

اشراق كے مقالہ نگار نے حنابلہ سے بهى ايك موقف منسوب كيا ہے جيسا كہ اُنہوں نے امير صنعانى وغيرہ كا نام ليا ہے- بعض حنابلہ كا موقف يہ ہے كہ كہ عورت نفلى نماز ميں مردوں كے پیچھے كهڑى ہوكر امامت كراسكتى ہے-ليكن امام ابن قدامہ نے ... جو خود بهى حنبلى ہيں... دلائل كے ساتھ ثابت كيا ہے كہ يہ موقف بلا دليل، تحكم پر مبنى او رمضحكہ خيز ہے- پهر دورِ حاضر كے حنبلى علما كا موقف بهى اس سلسلے ميں صريح طور پر سامنے آچكا ہے- فتاوٰى المرأة ميں سعودى عرب كے سابق قاضى القضاة شيخ صالح بن حميد كا يہ فتوىٰ موجود ہے :
"عورتوں كيلئے جائز نہيں كہ وہ مردوں كى امامت كرائيں، كيونكہ نبى كريم كا فرمان ہے كہ اُنہيں پیچھے ہى ركهو جہاں اللہ نے انہيں پیچھے كيا ہے- پهر مسجد كى امامت ولايت(ذمہ دارى) كى ايك قسم ہے اور ولايت مردوں كے لئے ہى درست ہے كيونكہ نبى كريم كا فرمان ہے كہ وہ قوم فلاح نہيں پائے گى جس كى ذمہ دار عورت بن جائے- البتہ حنابلہ كے ہاں اس حكم سے ايك مستثنىٰ قول بهى پايا جاتاہے كہ جب كوئى عورت مردوں سے زيادہ بہتر تلاوت كرنے پر قادر ہو تو عورت مردوں كے پیچھے سے ان كى امامت كرائے گى،ليكن يہ قول ضعيف ہے جس كى كوئى دليل نہيں ہے-ايسے ہى عورتيں مسجد ميں عام امامت بهى نہيں كراسكتیں-" 24

ان تفصيلات سے پتہ چلتاہے كہ يہ مسئلہ مسلمانوں كے مابين متفقہ حيثيت ركهتا ہے كہ عورت كى امامت مردوں كے لئے جائز نہيں- دلچسپ امر يہ ہے كہ خود حلقہ اشراق كے امام مولانا امين احسن اصلاحى كا موقف بهى اس كى مخالفت كرتا ہے، ليكن چونكہ مولانا كى پيروى كى بجائے اُنہيں صرف ان كے نام اور نسبت سے سروكار ہے، اس لئے انہيں ان كے موقف سے كوئى دلچسپى نہيں-مولانا اصلاحى نے ماہنامہ ميثاق كے شمارہ نومبر 1964ء ميں 'عورت كى امامت' كے عنوان پرمعركہ آرا بحث لكهى ہے- يہاں ان كے دو ديگر اقتباسات پيش كئے جاتے ہيں :
"اسلامى شریعت كى رو سے عورت نماز ميں مردوں كى امام نہيں ہوسكتى او راگر كسى مرد كى اقتدا ميں وہ نماز ادا كرے تو اس كے لئے بهى بعض شرطوں ہيں جن كا اہتمام ضرورى ہے-اس حكم كى وجہ عورت كى كمترى يا مرد كى فضيلت نہيں ہے بلكہ يہ سر تاسر اسلام كے اخلاقى اصولوں پر مبنى ہے- عورت كى فطرى وجنسى خصوصيات اور مرد كے جنسى میلانات كى وجہ سے عورت كى امامت ميں يہ كهلا انديشہ ہے كہ نماز كا اخلاقى وروحانى مقصد ہى فوت ہو جائے جس كيلئے نماز فرض كى گئى ہے-اس وجہ سے اسلام نے اس كى اجازت نہيں دى-" 25

اور مولانا اصلاحى كا يہ موقف تو واقعتا حلقہ اشراق كے لئے چشم كشا ہونا چاہئے :
"اگر كسى كو ايسى مجبورى پيش آجائے كہ اس كے سوا چارہ نہ ہوكہ ايك عابدہ وزاہدہ عورت كى اقتداميں نماز ادا كرے يا ايك گنہگار مسلمان مرد كى تو آخر وہ كيا كرے گا؟ عابدہ وزاہدہ عورت كو امام بنائے گا يا گنہگار مرد كو؟ اسلامى شریعت كى رو سے مس فاطمہ جناح تو دركنار حضرت رابعہ بصريہ كے پیچھے بهى ايك مرد كى نماز نہيں ہوسكتى- ليكن ايك فاسق مسلمان كے پیچھے ہوسكتى ہے-"26

حوالہ جات
1. سنن دار قطني، باب صلوة النساء جماعة وموقف إمامهن: ج1/ص404 ومصنف عبدالرزاق :ج3/ص141 حديث نمبر:5086
2. وقال النووي: سندہ صحيح. التعليق المغني
3. مصنف ابن أبي شيبة:ج1/ ص 430،رقم4954
4. الام: 1/164
5. مسند زيد بن على بن حسين :ص 111، دارالكتب العلمية
6. سنن كبرىٰ از بيہقى:3/131،رقم 5140
7. مصنف ابن أبي شيبه:ج1/ ص 430،رقم4953
8. مصنف عبد الرزاق: 5082، دار قطنى: 1/405، قال النووي: سندہ صحيح
9. مصنف عبدالرزاق:ج3/ص140 ، رقم:5083
10. المُحلّٰى: 3/137
11. ج1/ 405
12. ديكهئے شماره اكتوبر 2003ء و اكتوبر 2004ء
13. سنن ابو داود:591،592
14. الإصابة: 8/479
15. 5/234
16. صحيح مسلم:653
17. الموسوعة الفقهية: 6/204
18. الفقه الإسلامي وأدلته:ج2/ص 175
19. كتاب الارشاد: ص427
20. الام: 1/164
21. الاستبصار: 1/427، الكافى: 3/376، من لا يحضره الفقيه: 1/396
22. احكام القرآن: 3/1444 اور جامع الاحكام از قرطبى: 13/183
23. مواهب الجليل من أئمة الخليل بحوالہ ولاية المرأة: 220
24. ص 319
25. ميثاق: فرورى 1969ء ص 44
26. مقالاتِ اصلاحى:ج1/ص231