امام زركشى كے مختصر حالاتِ زندگى
نام و نسب: امام زركشى كا پورا نام محمد بن عبد اللہ بن بہادر ہے۔بعض كے نزديك ان كے باپ كا نام بہادر بن عبد اللہ ہے ۔
كنيت ابو عبد اللہ، جبكہ نسب زركشى اور مصرى ہے۔تركى الاصل اور شافعى المسلك ہيں۔
آٹهويں صدى ہجرى كے اہل نظر ومجتہد علما ميں سے ہيں۔ قرآنِ كريم، اَحاديث ِمباركہ اور اُصولِ دين وفقہ ميں امتيازى حيثيت كے حامل تهے۔
’زركش‘ فارسى كلمہ ہے- ’زر‘ كا معنى ’سونا‘ جبكہ ’كش‘ كا معنى ’والا‘ كے ہيں، يعنى سونے كا كام كرنيوالا- ان كو ’زركشى‘ اس لئے كہا جاتا ہے كہ طلب ِعلم سے پہلے وہ سنار كا كام كرتے تهے۔

امام زركشى كا زمانہ اور اس وقت كے عمومى حالات
امام زركشى نے آٹهويں صدى ہجرى ميں پرورش پائى اور يہ دور سياسى لحاظ سے بہت خراب، جبكہ علمى لحاظ سے بڑا سنہرى دور تها-سياسى لحاظ سے عالم اسلام تاتاريوں اور منگولوں كے سامنے سرنگوں ہوچكا تها، اور يہ لوگ عالم اسلام كو سخت زك پہنچاچكے تهے- ليكن پهر الله تعالىٰ كا كرم يہ ہوا كہ روس اور تركستان ميں كئى تاتارى اور منگول قبائل اسلام ميں داخل ہوگئے- ياد رہے كہ تركستان اس وقت سے اب تك اسلامى ملك چلا آتا ہے۔

مصر … جو امام زركشى كى جائے پيدائش ہے … اس زمانے ميں اُن بحرى حكمرانوں كے زير تسلط تها جو سلطان ناصر بن محمد قلاوون كى قيادت ميں 702ھ ميں تاتاريوں كو شكست دے چكے تهے- پهر سلطان ناصر كے بعد جب اس كا بيٹا ملك منصور سيف ابو بكر تحت پر بيٹها تو وہ مصر كے حالات پر كنٹرول نہ ركھ سكا اور مصر كے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور منصور كے لئے بہت سے داخلى فتنے پيدا ہوگئے، جن كا عيسائيوں نے خوب فائدہ اُٹهايا اور 767ھ ميں اسكندريہ پر قبضہ كرليا، اور پهر كچھ ہى دير بعد 784ھ ميں جراكسہ كے حكمرانوں نے سلطان ابوسعيد برقوق بن انس كى قيادت ميں پورے مصر پر قبضہ كر ليا، اور اس نے بحرى حكمرانوں كو چن چن كر قتل كرديا-پهر اسى صدى كے آخر ميں منگول چنگيز خان كے پوتے تيمور لنگ كى قيادت ميں نئے سرے سے اُٹھ كهڑے ہوئے اور انہوں نے بلادِ مسلمہ كو نئے سرے سے تباہ وبرباد كرديا۔

ا لمختصر يہ وہ حالات تهے جنہوں نے آٹهويں صدى ہجرى ميں عالم اسلام كے چہرے كو سياہ كيا- خطرہ مسلمانوں پر ہر طرف سے منڈلارہا تها۔ مسلمان بت پرستى اور زندقہ كے حصار ميں تهے، اور صليبى بهى كوئى دقيقہ فرو گذاشت نہيں كر تے تهے- جبكہ مسلمان خود باہمى اختلافات كى زد ميں تهے ۔باطنيہ اور حشيشى اسماعيليہ جيسے فرقے اُمت ِ مسلمہ كے جسم كو گھن كى طرح كها رہے تهے۔

يہ تو سياسى صورتحال تهى جبكہ علمى صورتحال اس كے بالكل برعكس تهى- يہ دور علمى لحاظ سے مسلمانوں كے لئے ايك سنہرى دور تها كہ اللہ تعالىٰ نے اس ميں بڑے بڑے علماء وفقہا پيدا كئے تهے جو دين اسلامى كے مختلف اختصاصات ميں يد ِطولىٰ ركهتے تهے اور سياسى حالات سے قطعاً متاثر نہ تهے بلكہ ايسے حالات نے ان كى صلاحيتوں كو خوب پروان چڑهايا اور اُنہوں نے ان فتنوں كا ڈٹ كر مقابلہ كيا اور علمى تحريك كو اوجِ ثريا تك پہنچاديا- لہٰذا اس زمانے ميں بڑے بڑے مدارس اور لائبريرياں معرضِ وجود ميں آئيں- اور مختلف ميدانوں اور اختصاصات ميں دائرة المعارف اور معركہ آرا قسم كى تصنيفات لكهى گئيں-

اس زمانے ميں اس علمى تحريك كے پروان چڑهنے كا ايك بڑا سبب يہ تها كہ منگول كے ہاتهوں بغداد كے سقوط كے بعد علما كرام مصر ميں جمع ہوگئے اور ان كا ايك ہى مقصد تها كہ ہم نے دينى علوم كو ضائع ہونے سے بچانا ہے، لہٰذا انہوں نے اپنى كوششوں كو كئى گنا بڑها ديا-

امام ابن حجر عسقلانى (852ھ) نے صرف آٹهويں صدى كے علما كے حالاتِ زندگى پر ايك كتاب تصنيف كى ہے جس كا نام اُنہوں نے الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنةركها- اس كتاب ميں اُنہوں نے آٹهويں صدى كے امام ابن تيميہ (م 728ھ)،امام مزى(م742ھ)، امام ابو حيان (م745ھ)، امام ذہبى (م748ھ)، امام ابن قيم جوزى (م751ھ)، امام مغلطائى  (م762ھ)، امام يافعى (م768ھ)، امام جمال الدين اسنوى (م772ھ)، امام ابن كثير (م774ھ)، امام ابن قدامہ مقدسى (م780ھ)، امام شہاب الدين اذرعى (م783ھ)، امام كرمانى  (م786ھ)، امام تفتازانى  (م791ھ)، امام زركشى  (م794ھ)، امام ابن رجب حنبلى  (م795ھ)، امام سراج الدين بلقينى (م805ھ)، امام زين الدين عراقى (م806ھ) اور امام ابن ملقّن جيسے پانچ ہزار سے زائد بڑے بڑے علما كا تذكرہ كيا ہے جو كہ اس زمانے ميں علمى تحريك كے بلنديوں پر پہنچنے كى واضح دليل ہے-

يہ وہ سياسى اور علمى حالات ہيں جن ميں امام زركشى  نے پرورش پائى- اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ ان حالات كا امام زركشى كى زندگى پر گہرا اَثر تها-

امام زركشى  كى ولادت، نشوونما اور ابتدائى تعليم
امام بدر الدين زركشى قاہرہ ميں 745ھ ميں ايك تركى خاندان ميں پيدا ہوئے- چهوٹى عمر ميں سنار كا كام سیكھا اور اس پيشہ سے منسلك ہوگئے- پهر خالص اللہ تعالىٰ كى رضا كے لئے تحصيل علم كى طرف متوجہ ہوئے تو اپنے معاشرے كو مدارس، علما، كتب اور دور دور سے علماءِ مصر سے استفادہ كے لئے آنے والے طلبہ كے حلقاتِ علم سے بهرا ہوا پايا- انہى حلقات ميں امام زركشىنے بهى شريك ہونا شروع كر ديا اور امام نووى  كى فقہ شافعى پر كتاب منهاج الطالبين وعمدة المفتیین كو زبانى حفظ كر ليا- اسى نسبت سے ان كو المنهاجي بهى كہا جاتا ہے-

پهر امام زركشى مدرسہ كامليہ ميں امام جمال الدين اسنوى كے حلقہ ميں داخل ہوگئے- امام اسنوى اس زمانے ميں مصر ميں شافعى مذہب كے سب سے بڑے فقيہ تهے- امام زركشى نے ان سے خوب استفادہ كيا اور ان كے سب سے ذہين وفطين شاگرد ثابت ہوئے-نيزامام سراج الدين بلقینى اور حافظ مغلطائى  جيسے محدثين سے علم حديث ميں كمال حاصل كيا-

رحلاتِ علميہ
سلف صالحين كا يہ طريقہ تها كہ سب سے پہلے اپنے شہر كے جيد علما سے استفادہ كيا كرتے تهے اور پهر دوسرے شہروں كے جيد علما كى طرف سفر كرتے اور ان سے اپنے علم كى پياس بجھاتے تهے- امام زركشى نے بهى سلف كى اسى سنت پر عمل كيا اور سب سے پہلے شام كى طرف سفر كيا اور وہاں شيخ صلاح الدين بن اميلہ سے حديث كا علم حاصل كيا- اور امام عماد الدين ابن كثير سے حديث وفقہ ميں مہارت حاصل كى اور ان كى مدح ميں شعر بهى كہے- پهر جب ان تك شہاب الدين اذرعى كى شہرت پہنچى تو ان سے استفادہ كے لئے حلب كا سفر كيا اور ان سے فقہ واُصول فقہ ميں مہارت حاصل كى-

بڑے بڑے علما سے مختلف علوم ميں مہارت حاصل كرنے كے بعد امام زركشى واپس مصر تشريف لے آئے اور تدريس كرنے كے ساتھ ساتھ افتا كے منصب پر بهى فائز ہوئے- اور پهر تدريس وافتا كے ساتھ ساتھ تصنيف وتاليف كى طرف بهى متوجہ ہوئے اور اپنى 49 سالہ مختصر عمر ميں متنوع موضوعات پر اپنے ہاتھ سے اتنى كتابيں تصنيف كر گئے كہ بڑے بڑے علما اتنى تصنيفات نہ كرسكے-

امام زركشى  كا مقام ومرتبہ
ابن قاضى شہبہ (م851ھ) فرماتے ہيں كہ مجهے امام زركشى  كے شاگرد شمس الدين برماوى نے بتايا كہ امام زركشى  صرف علم ميں مشغول رہا كرتے تهے اور ان كو تعليم وتعلّم سے كوئى اور چيز مشغول نہ كرتى تهى، جبكہ ان كے معاشى اُمور كى ذمہ دارى ان كے اقربا نے اُٹهائى ہوئى تهى-

حافظ ابن حجر  فرماتے ہيں :
”امام زركشى  اپنے گهر ميں ہر قسم كے كاموں سے كنارہ كش رہا كرتے تهے اور كتابوں كے بازار كے علاوہ كبهى بهى بازار وغيرہ نہيں جاتے تهے- اور جب بهى كتابوں كے بازار تشريف لے جاتے تو كچھ خريدارى نہ كرتے بلكہ وہيں بیٹھے بیٹھے پورا دِن كتابوں كے مطالعے ميں گزار ديتے اور جو بات پسند آتى وہ اپنے پاس موجود خالى اوراق ميں لكھ ليتے اور پهر واپس اپنے گهر آكر اس كو اپنى كتابوں ميں نقل كرليتے تهے-“

امام زركشى  كا علمى مقام اور ان كے بارے ميں علما كے تعريفى كلمات
امام زركشى  بيك وقت كئى علوم ميں مہارت ركهتے تهے جن ميں علومِ قرآن، حديث، فقہ، اُصول فقہ اور ادب شامل ہيں- اور ہر علم ميں ان كى متعدد تصانيف ہيں جو كہ ان علوم ميں ان كے تبحرعلمى پر واضح دلالت كرتى ہيں-امام مقريزى (م845ھ) فرماتے ہيں :
”امام زركشى شافعى مسلك كے بہت بڑے فقيہ تهے، كئى علوم كے ماہر اور مفيد كتب كے موٴلف تهے-“

ابن قاضى شہبہ نے اُنہيں اپنى كتاب طبقات الشافعية ميں بڑے شافعى ائمہ ميں شمار كيا ہے اور فرماتے ہيں :
”وہ بہت بڑے فقيہ، اُصولى اور اديب تهے اور اِن علوم ميں بڑى مہارت ركهتے تهے-“

ابن اياس حنفى(م930ھ) فرماتے ہيں:
”امام زركشى بہت بڑے عالم اور فاضل شخصيت تهے، متعدد كتب تصنيف كيں- اپنے زمانے كے سب سے بڑے عالم تهے-“

امام داوٴدى (م945ھ) نے اپنى كتاب طبقات المفسرين ميں ان كا شمار تفسير كے ائمہ ميں كيا ہے اور فرماتے ہيں :
”امام، عالم، علامہ اور انہوں نے نہايت قيمتى كتب تصنيف كيں-“

امام زركشى  كى تصانيف
امام زركشى  كى كتابوں كى تعداد تقريباً پينتاليس بنتى ہے، جن ميں سے اُنتيس كتابيں اس وقت دنيا ميں موجود ہيں-محققین نے ان كتابوں كى تحقیق اور نشر واشاعت كا بہت اہتمام كيا ہے اور ان ميں سے گيارہ كتابيں باقاعدہ طبع ہوچكى ہيں، اٹهارہ كتابيں ابهى تك مخطوط شكل ميں موجود ہيں، جبكہ سولہ كتابيں حالاتِ زمانہ كى نذر ہو گئيں ہيں-

امام زركشى  كا زيادہ اہتمام فقہ اور اُصولِ فقہ كے ساتھ تها، لہٰذا فقہ اور اُصولِ فقہ ميں ان كى بائيس كتابيں ہيں، حديث ميں نو كتابيں، لغت وادب ميں چار كتابيں، علومِ قرآن ميں تين كتابيں، توحيد وعقيدہ ميں تين كتابيں اور تراجم ميں ايك كتاب ہے-

امام زركشى كى اہم كتب حسب ِذيل ہيں:
الإجابة لإيراد ما استدركته عائشة على الصحابة
الأزهية في أحكام الأدعية
البحر المحيط (أصول الفقه)
البرهان في علوم القرآن
الذهب الإبريز في تخريج أحاديث فتح العزيز (الحديث)
الفتاوىٰ (الفقه)
الكواكب الدرية في مدح خير البرية امام بوصيرى كے قصيدہ بردہ كى شرح ہے-
اللآلي المنتثرة في الأحاديث المشتهرة
المعتبر في تخريج أحاديث المنهاج والمختصر
المنثور في القواعد الفقهية
النكت على مقدمة ابن الصلاح مقدمه ابن الصلاح كى شرح
إعلام الساجد بأحكام المساجد
تشنيف المسامع بجمع الجوامع امام سبكى كى اُصولِ فقہ پر’جمع الجوامع‘ كى شرح
 تفسير القرآن
تكملة شرح المنهاج للنووي: امام نووى كى فقہ شافعى ميں كتاب المنہاج كى شرح امام اسنوى  نے شروع كى تهى، ليكن وہ اسے مكمل نہ كرسكے تو امام زركشى نے اسے مكمل كيا اور پهر اس كا اختصار بهى الديباج في توضيح المنهاج كے نام سے كيا۔
خبايا الزوايا (الفقه)
خلاصة الفنون الأربعة
ربيع الغزلان (الأدب)
رسالة في كلمات التوحيد المعروف معنى لا إلٰه إلا الله
سلاسل الذهب (أصول الفقه)
شرح الأربعين النووية
شرح البخاري:يہ ايك بہت تفصيلى شرح ہے، حافظ ابن حجر الدرر الكامنة ميں فرماتے ہيں كہ امام زركشى نے صحيح بخارى كى شرح لكهى، جس كا كچھ حصہ ميں نے خود ديكها ہے، اور پهر اس شرح كى تلخيص بهى التنقيح كے نام سے ايك جلد ميں كى۔
شرح التنبيه للشيرازي (الفقه)
شرح الوجيز للغزالي (الفقه)
شرح عمدة الأحكام
عقود الجمان وتذييل وفيات الأعيان لابن خلكان حافظ ابن حجر نے اس كتاب كو نظم الجمان فى محاسن أبناء الزمانكے نام سے ذكر كيا ہے-
في أحكام التمني
لب الخادم (الفقه)
لقطة العجلان وبلَّة الظمآن (أصول الفقه)
مكاتبات (الأدب)
امام زركشى  كى وفات:امام زركشى  3/ رجب 794ھ بروز اتوار اپنے خالق حقيقى سے جا ملے اور قاہرہ ميں ہى دفن ہوئے-


البرها ن في علوم القرآن
وہ تمام علماء اور موٴرخين جنہوں نے امام زركشى كے حالات بيان كيے ہيں، ان كا اتفاق ہے كہ البرهان في علوم القرآن امام زركشى  كى ہى تصنيف ہے-

حافظ ابن حجر  فرماتے ہيں :
”ميں نے امام زركشى كى كتاب البرهان في علوم القرآن ان كے اپنے ہاتھ كى لكهى ہوئى ديكهى، علومِ قرآن پر بہت اچهى اور اوّلين كتابوں ميں سے ہے، جس ميں امام زركشى نے چاليس سے زائد علوم ذكر كيے ہيں-“

امام سيوطى اپنى كتاب حسن المحاضرة ميں امام زركشى كے حالات كے ضمن ميں اور اپنى كتاب الإتقان في علوم القرآنكے مقدمہ ميں اسى بات كى تصريح كرتے ہوئے فرماتے ہيں :
”مجهے يہ بات پہنچى كہ امام بدر الدين زركشى نے بهى علومِ قرآن پرالبرہان في علوم القرآن كے نام سے ايك كتاب لكهى ہے- تلاشِ بسيار كے بعد آخر وہ مجهے مل ہى گئى -“

امام داوٴدى، حاجى خليفہ اور بروكل مين نے بهى اپنى اپنى كتب ميں اسكا تذكرہ كيا ہے-

البرهان ميں امام زركشى  كا منہج تاليف
امام زركشى  كے زمانے تك علومِ قرآن اس طرح ايك كتابى صورت ميں مدوّن نہيں تهے جس طرح علومِ حديث شروع ميں ہى مدوّن ہوگئے تهے- اُنہوں نے البرہان ميں علومِ قرآن كے متعلق سلف صالحين كے متعدد اقوال كو جمع كيا ہے- امام زركشى البرہان كے مقدمہ ميں فرماتے ہيں:
”متقدمين علما قرآن كريم كے متعدد علوم كو ايك كتاب كى صورت ميں اس طرح مدوّن نہ كر سكے، جيسے اُنہوں نے علومِ حديث كو مدوّن اور جمع كر ديا تها، تو ميں نے ايك ايسى كتاب تصنيف كرنے ميں اللہ تعالىٰ سے مدد طلب كى جو ان تمام علومِ قرآن كا احاطہ كرنے والى ہو جن كے بارے ميں علما بحث ومباحثہ كرتے ہيں-“

امام سيوطى فرماتے ہيں :
”علوم قرآن پر ايك كتاب لكھنے كى غرض سے جب ميں نے سلف صالحين كى اس موضوع پر كتب كى تلاش شروع كى تو مجهے ديكھ كر تعجب ہوا كہ انہوں نے جس طرح حديث كے مختلف علوم پر مستقل كتب تاليف كى ہيں، اس طرح مختلف قرآنى علوم پر ان كى كتب موجود نہيں ہيں-“

اس سے معلوم ہوجاتا ہے كہ كم از كم امام زركشى كے زمانے تك علومِ قرآن نكهر كر سامنے نہيں آئے تهے-تو امام زركشى اُن اوّلين علماء ميں سے ہيں جنہوں نے علومِ قرآن كو ايك جامع صورت ميں تاليف كيا- ليكن اس كا مطلب يہ نہيں كہ اس زمانے تك علوم قرآن موجود ہى نہ تهے، بلكہ قرآنِ كريم كے فنون ميں سے ہر فن مثلاً تفسير، ناسخ منسوخ، متشابہ اور وقف وابتدا وغيرہ پر مستقل كتب تو بہت شروع كے زمانے سے ہى منظر عام پر آچكى تهيں اور اسى طرح البرہان سے پہلے قرآن كريم كے بعض علوم وفنون پر مشتمل كتب مثلاً فنون الأفنان از ابن جوزى 597ھ اور جمال القرآء از ابو حسن سخاوى 643ھ بهى لكهى جا چكى تهيں-

تو مطلب يہ ہے كہ امام زركشى وہ پہلے شخص ہيں جنہوں نے البرہان ميں قرآن كريم كے تمام علوم وفنون كا احاطہ كرنے كى كوشش كى اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ يہ ايك بہت ہى مشكل كام تها جس كو امام صاحب پہلى مرتبہ سرانجام دينے لگے تهے- اور يہ بهى واضح ہے كہ ہر فن پر اولين كتاب سب سے مشكل اور مختصر ہوا كرتى ہے اور بعد ميں آنے والے علما اس ميں اضافہ كرتے رہتے ہيں… ولٰكنّ الفضل للمتقدّم!

جب امام زركشى نے يہ كتاب تصنيف كرنا شروع كى تو ان كے سامنے سلف صالحين كى قرآنِ كريم كے مختلف علوم ميں مستقل تاليفات كى صورت ميں ايك بہت وسيع ذخيرہ موجود تها تو اُنہوں نے ہر فن پر موجود مواد كو الگ الگ ترتيب ديا اور اسے ايك نئى ترتيب اور اسلوب ميں ڈهال كر الگ الگ ابواب اور موضوعات كے تحت جمع كر ديا۔

امام زركشى نے البرہان كى تصنيف ميں پختہ علمى طريقہٴ كار اپنايا- سب سے پہلے تو وہ ہر فن كى تعريف اور اُس كا حدودِ اربعہ بيان كرتے ہيں اور پهر اس فن كے بڑے بڑے علما اور ان كى كتب كا تذكرہ كرتے ہيں اور پهر اس فن كا آغاز اور ارتقا ذكر فرماتے ہيں اور پهر ان فن كى اقسام، موضوعات اور مسائل كا تفصيل سے تذكرہ كرتے ہيں- اس طرح جب وہ ايك فن كا مكمل احاطہ كر ليتے ہيں تو پهر اگلے فن كى طرف منتقل ہوجاتے ہيں-

امام صاحب ايك فن كے مختلف موضوعات كا تذكرہ كرتے ہوئے اس فن كے ائمہ كے اقوال سے بهى استفادہ كرتے ہيں اور كبهى تو ان ائمہ كا نام ذكر كرتے ہيں اور كبهى ان كى كتابيں، ليكن وہ ان كے اقوال كو اپنے انداز اور اُسلوب سے بيان كرتے ہيں- ہم ديكهتے ہيں كہ اكثر وہ سلف صالحين كے لمبے كلام كو اپنے الفاظ ميں مختصراً ذكر فرماديتے ہيں-

امام زركشى نے البرہان ميں علومِ قرآن، لغت، حديث اور فقہ كے اَكابر علما اور بڑى بڑى كتب كا تذكرہ كيا ہے- نيز قرآن كريم، حديث، عربوں كى ضرب الامثال اور اشعار وغيرہ سے خوب استفادہ كيا ہے، گويا يہ كتاب علومِ قرآن كا ايك ايسا دائرة المعارف بن گئى ہے جس نے قرآنِ مجيد كے متعلق متعدد علوم كا احاطہ كر ليا ہے-

امام صاحب نے البرہان كے شروع ميں ايك جامع مقدمہ تحرير كيا ہے جس ميں قرآنِ كريم كے فضائل اور اس كے متعلق علما كے اقوال ذكر كرديے ہيں، پهر علومِ قرآن كے آغاز وارتقا كا ذكر كيا ہے اور ہر فن كے جيد علما كا ذكر بهى كيا ہے اور اس كے بعد اس كتاب كا سبب ِتاليف ذكر كيا ہے اور مقدمہ كے آخر ميں اس كتاب كے تمام موضوعات كى فہرست بيان كى ہے-

پهر علم تفسير پر ايك فصل قائم كى ہے جس ميں تفسير كى تعريف اور اس كے مباديات كا ذكر كيا ہے اور اس كى مختلف انواع پر كتب كا تذكرہ كيا ہے اور پهر تفسير كى اہميت پر بہت قيمتى اور وقيع بحث كى ہے-

اس كے بعد علومِ قرآن كى تعداد اور اقسام پر ايك فصل قائم كى ہے اور اس كے متعلق علما كے اقوال كا تذكرہ كيا ہے- اس كے بعد اصل كتاب كا آغاز ہوتا ہے جس ميں قرآن كريم كے مختلف انواع كا تفصيلى تذكرہ كيا ہے اور پہلى نوع اَسبابِ نزول كى معرفت كے بارے ميں ہے اور آخرى يعنى سنتاليسويں نوع مفرد اَدوات كے بارے ميں ہے-

امام زركشى نے البرہان ميں قرآنِ كريم كے علوم كى 47/انواع واقسام ذكر كى ہيں- ان كى بيان كردہ تمام انواع و تفصيل اور صفحات كے اعتبار سے برابر نہيں،بلكہ ان ميں بہت تفاوت ہے-مثلاً چهياليسويں نوع جو كہ قرآنِ كريم كے اُسلوب اور فصاحت وبلاغت كے متعلق ہے، وہ دار المعرفة بيروت كے طبع كے مطابق 779 صفحات پر مشتمل ہے، جبكہ چهبيسويں نوع جو قرآن كريم كے فضائل پر مشتمل ہے، صرف 2 صفحات پر مشتمل ہے- اور باقى انواع 2 اور 779 صفحات كے مابين ہيں- نيچے ہم ايك جدول ميں البرہان كى تمام انواع كے نام اور ان كے صفحات كى تعداد ذكر كرتے ہيں ،تاكہ البرہان في علوم القرآن كا مختصر سا خاكہ ذہن ميں آجائے :

نمبر               نوع كا نام                     صفحات                  نمبر               نوع كا نام                                  صفحات

1                      اسبابِ نزول                                 13                            2                     آيات كى باہمى مناسبت                              18

3                    علم الفواصل                                 49                             4                         وجوہ ونظائر                                             9

5                  متشابہ القرآن                                  44                             6                      مبہمات القرآن                                         9

7           سورتوں كے مطالع كے اسرار                 18                             8                     سورتوں كا اختتام                                       5                

9              مكى ومدنى سورتيں                                 19                            10                  شروع و آخر ميں نازل ہونيوالى آيات        5

11         قرآن كريم كى لغات                            18                           12                 قرآن كے نازل ہونے كى كيفيت                    4

13      قرآن كريم جمع وتدوين اورحفاظ صحابہ كرام   11                      14                 سورتوں اور آيات كى تقسيم                          29

15       قرآن كريم كے نام                                   10                       16                    قرآن ميں لغت ِقريش كے علاوہ الفاظ           4

17     قرآن كريم ميں معرب الفاظ                      4                         18                     قرآن كے مشكل الفاظ                                  6

19        تصريف كى معرفت                                   4                         20                     قرآن كريم كى بلاغت                                 10

21       قرآن كريم كى فصاحت                             7                         22                      قرآن كريم كى قراء ات                             21

23        قراء اتِ قرآنيہ كى توجيہ                           3                         24                        وقف وابتداء                                            34

25       رسم الخط                                                56                        26                      قرآن كريم كے فضائل                                2

27      قرآن كريم كے خواص                              4                         28                       بعض سورتوں كى فضيلت                             11

29      تلاوتِ قرآن كے آداب                        32                         30                         قرآن كريم سے اقتباس                              5

31        قرآن كريم كى مثاليں                             9                         32                        قرآن كريم كے فقہى احكام                        21

33          قرآن كريم كا اندازِ جدل                     4                        34                             ناسخ اور منسوخ                                         5

35         موہم اور مختلف                                   23                     36                              محكم اور متشابہ                                          10

37        صفات كے سلسلے ميں متشابہ آيات         12                     38                               اعجازِ قرآن كى معرفت                           35

39       قرآنِ كريم كے تواتر كا وجوب               22                     40                               سنت كى قرآن سے مخالفت                    18

41       قرآن كريم كى تفسير وتاويل                70                      42                               مخاطبات كے وجود كى معرفت                  38

43       قرآن ميں حقيقت ومجاز                       45                    44                                        كنايہ اور تعريض                            16

45      كلام كے معنى كى اقسام                         66                     46                                           قرآن كريم كا اُسلوب                 779

47       بعض ادوات كى معرفت                  270

البُرہان كے مصادر
جيسا كہ پہلے ذكر ہو چكا ہے كہ امام زركشى نے البرہان كى تصنيف ميں علمائے متقدمين كى قرآنِ كريم كے عليحدہ عليحدہ علوم پر مستقل كتب سے بہت استفادہ كيا ہے - امام زركشى علوم قرآن كى ہر نوع كو بيان كرتے ہوئے اس كے مصادر اور ان كے موٴلفين كا تذكرہ بهى كرتے ہيں اور بعض اوقات وہ متقدم علما كى بعض كتب كى نصوص ان كا حوالہ ديے بغير بهى ذكر كرديتے ہيں-امام زركشى نے البرہان ميں جن مصادر كى تصريح كى ہے،وہ 301 ہيں- اور وہ مصادر جن كى اُنہوں نے تصريح نہيں كى يا پهر جن كے صرف موٴلفين كے نام بتلائے ہيں، وہ بهى تقريباً اِتنے ہى ہيں- مصادر كى اتنى بڑى تعداد ان كى علم كے ساتھ محبت، محنت ِ شاقہ اور مطالعہ كى وسعت پر دلالت كرتى ہے۔

ان مصادر ميں سے بعض تو علومِ قرآن،مثلاً تفسير، اسبابِ نزول اور ناسخ ومنسوخ كے متعلق ہيں، بعض احاديث ِ مباركہ، مثلاً صحيحين اور سنن اَربعہ وغيرہ كے متعلق، جبكہ بعض متنوع قسم كے فنون مثلاً كلام وجدل، فقہ واُصول فقہ، لغت اور ادب وغيرہ كے متعلق ہيں۔

علوم قرآن كے مصادر … جن سے امام زركشى نے بہت استفادہ كيا ہے اور تصريح كى ہے كہ ”يہ وہ كتب ہيں جو علومِ قرآن پر مجھ سے پہلے لكهى گئى ہيں اور ان كے موٴلفين نے انہيں اپنى تفاسير كے مقدمات ميں ذكر كيا ہے يا وہ ايسى كتب ہيں جو قرآنِ كريم كے بعض علوم پر مستقل تصنيف كا درجہ ركھتى ہيں … ايسى كتب درج ذيل ہيں :
مقدمة تفسير جامع البيان للإمام الطبري310ھ
مقدمة مفردات القرآن للإمام راغب الأصفهانى505ھ
مقدمه تفسير المحرر الوجيز للإمام ابن عطية الغرناطي541ھ
مقدمة تفسير الجامع لأحكام القرآن للإمام القرطبي671ھ
البرهان في متشابه القرآن لأبي المعالي ابن عبد الملك494ھ
فنون الأفنان لابن الجوزي 597ھ
المغني في علوم القرآن لابن الجوزي 597ھ
جمال القرآء للسخاوي643ھ
المرشد الوجيز لأبي شامة المقدسي 665ھ

وہ تفاسير جن سے امام زركشى نے بہت استفادہ كيا، درج ذيل ہيں:
تفسير الكشاف للزمخشري538ھ
المحرر الوجيز لابن عطية 541ھ
إعجاز القرآن للباقلاني 403ھ
الانتصار للباقلاني 403ھ
فضائل القرآن لأبي عبيد القاسم بن سلام الهروي224ھ

البرہان ميں فقہ كے مصادر
أحكام القرآن لابن العربي543ھ
الرسالة للشافعي 204ھ
روٴوس المسائل للنووي 676ھ
فتاوىٰ لابن الصلاح 643ھ

البرہان ميں لغت كے مصادر
كتاب سيبويه
  فقه اللغة لابن فارس 395ھ
  منهاج البلغاء لحازم القرطاجني
مفتاج العلوم للسكاكي 626ھ

حواشى
(1) طبقات الشافعية: 4/139،الدرر الكامنة: 3/397،شذرات الذهب: 6/335
(2) البداية والنهاية: 14/14 وما بعده، النجوم الزاهرة: 7/47
(3) إنباء الغمر: 3/139
(4) طبقات المفسرين: 2/162،الدرر الكامنة: 3/397،طبقات الشافعية: 4/319،
إنباء الغمر: 2/139
(5) طبقات الشافعية: 4/319                             

(6)الدرر الكامنة: 3/398
(7) السلوك لمعرفة دول الملوك للمقريزي: 3/2/779
(8) طبقات الشافعية: 4/319                             

(9) بدائع الزهور: 1/2/452
(10) طبقات المفسرين: 2/162                         

(11) مقدمة البرهان في علوم القرآن: 1/17
(12)طبقات الشافعية: 4/320، الدرر الكامنة: 3/397، إنباء الغمر: 3/140، الرسالة المستطرفة:190
(13) الدرر الكامنة: 3/398، إنباء الغمر: 3/141
(14) إنباء الغمر: 3/140                 
(15)حسن المحاضرة: 1/437، الإتقان: 1/10
(16)طبقات المفسرين: 2/163،كشف الظنون: 1/240،تاريخ الأدب العربي: 2/108
(17) البرهان في علوم القرآن: 1/102               

(18) الإتقان في علوم القرآن: 1/4