يہ احاديث صحيح ہيں يا ضعيف؟
سوال: درج ذيل احاديث كے بارے ميں مكمل تحقيق دركار ہے- جزاك اللہ خيرًا
حدثنا موسىٰ بن اسماعيل ثنا أبان ثنا يحيىٰ عن أبي جعفر عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة قال بينما رجل يصلي مسبلًا إزاره إذ قال له رسول الله ﷺ اذهب فتوضأ فذهب فتوضأ ثم جاء ثم قال اذهب فتوضأ فذهب فتوضا ثم جاء فقال له رجل: يا رسول الله! مالك أمرته أن يتوضأ قال إنه كان يصلي وهو مسبل إزاره وإن الله جل ذكره لايقبل صلوٰة رجل مسبل إزاره1

امام نووى اپنى كتاب ’رياض الصالحين‘ باب 115، صفة طول القميص والكمّ والإزاروطرف العمامة وتحريم إسبال شيء من ذلك على سبيل الخيلاء وكراهة من غير خيلاء،رقم: 797 ميں مذكورہ حديث كو بيان كرنے كے بعد لكهتے ہيں:

رواہ أبوداود بإسناد صحيح على شرط مسلم

مشكوٰة المصابيح كى شرح ميں علامہ محمد عبدالسلام مباركپورى مذكورہ حديث، كتاب الصلوٰة: باب الستركى شرح ميں لكھتے ہيں:
”(رواه أبوداوٴد) في الصلوٰة واللباس، وفي سنده أبوجعفر وهو رجل من أهل المدينة لايعرف اسمه. قال الحافظ: أبوجعفر الموٴذن الأنصاري المدني ومن زعم أنه محمد بن علي بن الحسين (الباقر) فقد وهم،انتهىٰ

منهاج المسلمين‘ ميں مسعود احمد بى ايس سى ”وہ اُمور جن كے وقوع كے بعد دوبارہ وضو كرنا چاہئے-“ ميں مذكورہ حديث كو بيان كرتے ہيں اور لكھتے ہيں:   (ابوداوٴد، سندہ صحيح… مرعاة :ج 2 /ص 209)

شيخ حافظ عبدالمنان نور پورى اپنى كتاب’احكام و مسائل‘ جلد 1 ميں ’كتاب الطهارة‘ ميں ’وضو توڑنے والى چيزيں‘كے بيان ميں ابوداوٴد كى مذكورہ حديث كو مرعاة المفاتيح كے حوالے سے بيان كرنے كے بعد لكھتے ہيں :
ذكره الهيثمي في مجمع الزوائد (ج5/ص145) وقال: رواه أحمد ورجاله رجال الصحيح

چنانچہ مذكورہ تحقيق پراعتماد كرتے ہوئے ميں نے اس حديث كو صحيح سمجھا اور اپنے مضمون "Exposing Amkles" … شائع شدہ "Voice of Islam" جولائى 1999ء … ميں ذكر كيا- اس حديث كو اپنى كتاب ’آئينہ صلوٰة النبى ﷺ ‘ كے صفحہ 731 پر نقل كيا،ليكن ميرى كتاب كے ايك قارى نے مذكورہ حديث كے بارے ميں كہا كہ يہ حديث ضعيف ہے-چنانچہ ميں نے مزيد تحقيق كى تو درج ذيل باتيں سامنے آئيں :

علامہ ناصر الدين البانى  نے اس حديث كو ضعيف كہا ہے- ملاحظہ فرمائيں:
(ضعيف سنن أبي داوٴد كتاب الصلوٰة‘ باب الإسبال في الصلوٰة: 124-638)

كيونكہ اس ميں ابوجعفر راوى مجہول ہيں، جيسا كہ علامہ البانى  مشكوٰة كى ’كتاب الصلوٰة ، باب الستر، فصل دوم، رقم: 761 كے بيان ميں لكھتے ہيں:
”في كتاب الصلوٰة رقم:638 وفي اللباس رقم:4086 وإسناده ضعيف، فيه أبوجعفر وعنه يحيىٰ بن أبي كثير وهو الأنصاري المدني الموٴذن وهو مجهول كما قال ابن القطان وفي التقريب: أنه لين الحديث. قلت: فمن صحّح إسناد الحديث فقد وهم

شيخ البانى  كى تحقيق پر اعتماد كرتے ہوئے محترم حافظ صلاح الدين يوسف ’رياض الصالحين‘ كى تحقيق وتخريج ميں لكھتے ہيں:
”اس روايت سے بعض علما استدلال كرتے ہوئے كہتے ہيں كہ ٹخنوں سے نيچے شلوار، پاجامہ لٹكانے والے كا وضو ٹوٹ جاتا ہے، ليكن شيخ البانى نے وضاحت كى ہے كہ اس روايت كى سند كو صحيح قرار دينے والوں كو وہم ہوا ہے كيونكہ اس ميں ايك راوى ابوجعفر مدنى مجہول ہے، اس لئے يہ روايت صحيح نہيں ہے- چنانچہ شيخ نے اسے ضعيف سنن ابو داوٴد ميں درج كيا ہے- ملاحظہ ہو : ابواب مذكورہ و تخريج مشكوٰة ج1/ ص238…الخ“     (سائل : محمد شفيق كمبوہ ،والٹن لاہور )
جواب: يہ حديث ابوجعفر الانصارى مدنى موٴذن كے مجہول ہونے پر واقعى ضعيف ہے- علامہ البانى نے بحوالہ تقريب، مشكوٰة كے حاشيہ پر نقل كيا ہے: إنه لين الحديث ليكن يہ الفاظ تقريب ميں نہيں ہيں، اس كے نقل كرنے ميں موصوف كو وہم ہوا ہے- اس سے قبل الاعتصام ميں اپنے شائع شدہ فتوىٰ ميں بهى اس امر كى تصريح كرچكا ہوں-

سوال:شرح معانى الآثار ميں امام طحاوى اذان كے بعد كى دُعا(اللهم رب هذه الدعوة…الخ) كو اس سند كے ساتھ نقل كرتے ہيں
حدثنا عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قال ثنا علي بن عباس قال ثنا شعيب بن أبي حمزة عن محمد ابن المنكدر عن جابر بن عبدالله الخ (ملاحظه فرمائيں كتاب الصلوٰة: باب ما يستحب للرجل أن يقوله إذا سمع الاذان… مترجم كتاب كى حديث نمبر 821)
اس روايت ميں عبدالرحمن بن عمرو دمشقى كے علاوہ باقى سب راوى صحيح بخارى كى روايت كے ہيں- اس روايت ميں ’محمد‘ سے پہلے ’سيدنا‘ كے الفاظ ہيں- كيا يہ اضافہ صحيح ہے اور مزيد يہ كہ عبدالرحمن بن عمرو دمشقى صحاحِ ستہ كى كس كتاب كے راوى ہيں اور ان سے كس باب ميں كوئى روايت آئى ہے ؟
جواب: شرح معانى الآثار ميں مذكورہ حديث ميں سيدنا كا اضافہ شاذ مدرج ہے- علامہ البانى فرماتے ہيں: وهي شاذ ة مدرجة ظاهره الإدراج 2
اس روايت كے راوى عبدالرحمن بن عمرو بن عبداللہ بن صفوان النصرى ابوزرعہ دمشقى كے بارے ميں ’تقريب‘ ميں ہے: ثقة حافظ مصنف يعنى ”ثقہ حافظ اورصاحب ِتصانيف ہے-“ اور سنن ابوداود،كتاب الفتن والملاحم، باب فى تعظيم قتل الموٴمن ،رقم:3724 ميں اس كى روايت موجودہے-ائمہ فن نے اس پر /د كى علامت دى ہے جو اس امر كى واضح دليل ہے-

سوال:حدثنا أحمد بن محمد بن أيوب ثنا إبراهيم بن سعد عن محمّد بن إسحٰق عن محمّد بن جعفر بن الزبير عن عروة بن الزبير عن امرأة من بني النجار قالت كان بيتي من أطول بيت كان حول المسجد فكان بلال يوٴذن عليه الفجر … الخ“ 3
علامہ ناصر الدين البانى نے اس حديث كو ضعيف سنن ابوداوٴد ميں نقل نہيں كيا،جس سے معلوم ہوتا ہے كہ ان كے نزديك يہ حديث صحيح ہے،واللہ اعلم- البتہ شيخ حافظ عبدالمنان نورپورى اپنى كتاب ’احكام و مسائل‘ جلداوّل ميں ’اذان واِقامت‘ كے بيان ميں ’اذان سے قبل الصلوٰة والسلام كہنا‘ كے بيان ميں مذكورہ حديث كے بارے ميں لكھتے ہيں :
اوّلاً: تو اس لئے كہ اس روايت كى سند كمزور ہے اور اس كمزورى كى دو وجہیں ہيں:
(1)اس كى سند ميں احمد بن محمد بن ايوب نامى ايك راوى ہيں جن كے متعلق يعقوب بن شيبہ كہتے ہيں:”ليس من أصحاب الحديث وإنما كان ورّاقا“ اور ابواحمد حاكم فرماتے ہيں: ”ليس بالقوي عندهم“ نيز يحيىٰ بن معين كہتے ہيں:”هوكذاب“
(2) اس كى سند ميں محمد بن اسحق ہيں جن كے متعلق حافظ ابن حجر لكھتے ہيں :
”إمام المغازي صدوق يدلس ورمي بالتشيع والقدر“
اُصولِ حديث كى كتابوں ميں ہے كہ مدلس راوى جب تك اپنے شيخ سے سماع كى تصريح نہ كرے، تب تك اس كى روايت قابل قبول نہيں اور مندرجہ بالا روايت محمد بن اسحق نے بصيغہ عن‘ بيان كى ہے، اپنے سماع كى تصريح نہيں فرمائى-(محمد شفيق كمبوہ ،والٹن لاہور)
جواب: مشار اليہ حديث موصوف كى صحيح ابوداوٴد ميں ہے، انہوں نے كافى وافى بحث سے اس كا حسن ہونا ثابت كيا ہے- علامہ نورپورى حفظہ اللہ كا حديث ہذا كو دووجوہات سے ضعيف قرار دينامحل نظر ہے- اوّلاً راوى احمد بن محمدبن ايوب كے بارے ميں بعض اصحاب ِفن سے صرف جرح نقل كى ہے جبكہ ديانت و امانت اور انصاف كا تقاضا تها كہ معدلين كى تعديل بهى ذكر كرتے پهر جرح و تعديل كے قواعد و ضوابط كے مطابق صحت و ضعف كا حكم لگاتے-افسوس كہ ايسا نہيں ہوسكا- عثمان دارمى كا بيان ہے كہ امام احمد اور امام على بن مدينى اس كے متعلق اچهى رائے ركهتے تهے: يحسنان القول فيه- ايسے ہى عبداللہ بن احمداپنے والد سے بيان كرتے ہيں: ما أعلم أحدا يدفعه بحجة مجهے علم نہيں كوئى بدلائل اس ميں جرح و قدح كرسكتا ہو- ابن عدى نے جرح كے باوجود اس كو ’صالح الحديث‘ قرار ديا ہے- اور ابن حبان نے اس كا تذكرہ ثقات ميں كيا ہے-ابراہيم الحربى نے كہا: وراق ثقہ ہے، جهوٹ كى تلقين كى صورت ميں انكارى ہوتا،يعنى جهوٹ نہيں بولتا تها- حافظ ابن حجر رقم طراز ہيں كہ امام احمد بن حنبل نے اس كے بارے ميں يہ بهى كہا ہے: لابأس به (4) اس كا مطلب يہ ہے كہ چوتهے درجے كا راوى ہے جو بمطابق اصطلاحِ محدثين قابل حجت ہوتا ہے- اس سے معلوم ہوا كہ حافظ موصوف كا رجحان بهى اس كى توثيق كى طرف ہے- ان شواہد كى بنا پر علامہ البانى نے اس كو ثقات كے زمرہ ميں شمار كيا ہے۔

ثانياً: محمد بن اسحق كى تدليس كا جواب يہ ہے كہ سيرت ابن ہشام ميں ابن اسحق كى تحديث كى تصريح موجود ہے، اس طرح يہ اعتراض بهى رفع ہوجاتا ہے- الفاظ يوں ہيں:
قال ابن اسحٰق حدثني محمد بن جعفر بن الزبير

ان وجوہات كى بنا پر حافظ ابن حجر، ابن دقيق العيد اور شيخ البانى نے اس حديث كو حسن قرار ديا ہے اور يہى بات راجح ہے-جرح و تعديل كے سلسلہ ميں ’توضيح الافكار‘ كے حواشى پر علامہ محمد محى الدين عبدالحميد رقم طراز ہيں:
واختار شيخ الاسلام تفصيلاً حسنا،فإن كان من جرح مجملًا قد وثقه أحد من أئمة هذا الشأن لم يقبل الجرح فيه من أحد كائنا من كان إلا مفسرًا، لأنه قد ثبتتْ له رتبة الثقة فلا يزحزح عنها إلا بأمر جلي فإن أئمة هذا الشأن لا يوثقون إلامن اعتبروا حاله في دينه ثم في حديثه نقدوه كما ينبغي،وهم أيقظ الناس،فلا ينقض حكم أحدهم إلا بأمر صريح وإن خلا عن التعديل قبل الجرح فيه غير مفسر إذا صدر من عارف، لأنه إذا لم يعدل فهو في حيز المجهول وإعمال قول المجرح فيه أولىٰ من إهماله. انتهى كلامه 5
” (كس طرح كى جرح قبول ہو گى؟اس كے بارے ميں) شيخ الاسلام ابن حجر نے تفصيل كے پہلو كو اختيار كيا ہے- وہ كہتے ہيں كہ اگر كسى راوى كے بارے ميں جرح مجمل ہو،ليكن فن حديث كے كسى امام نے اس راوى كو ثقہ قرار ديا ہے تو اس صورت ميں خواہ كوئى بهى ہو،اس راوى پر اس كى مجمل جرح كو قبول نہيں كياجائے گا،بلكہ اس صورت ميں جرح مفسر ہى قابل قبول ہو گى،كيونكہ اس كى ثقاہت ثابت ہو چكى ہے اور كسى واضح امر كے بغير اس كى ثقاہت كو زائل نہيں كياجا سكتا ،كيونكہ ائمہ فن نہايت بيدار مغز لوگ تهے-وہ كسى شخص كو ثقہ قرار دينے سے پہلے اس كى دينى حالت كاجائزہ ليتے، اس كى حديث كو اچهى طرح پركہتے تهے -تو اگر ان ميں سے كسى نے پورى تحقيق اور چہان بين كے بعد كسى شخص كے ثقہ ہونے كا فيصلہ ديا ہے تو كسى واضح دليل كے ساتھ ہى اس فيصلہ كو ردّ كيا جا سكتا ہے ،البتہ اگر كسى نے اس كى تعديل نہيں كى تو تب غير مفسر جرح بهى قبول كر لى جائے گى، بشرطیكہ وہ كسى ماہر فن كى طرف سے ہو كيونكہ جب كسى نے بهى اس كى تعديل وتوثيق نہيں كى تو گويا وہ مجہول ہے اور كسى مجہول شخص پر جرح كرنيوالے كى بات كو قابل عمل قرار دينا اسے متروك اور مہمل قرار دينے سے زيادہ بہتر ہے-“

نومولود كے كان ميں اذان و اقامت كہنا
سوال: نومولو بچے كے كان ميں اذان اور اقامت كہنے والى حديث كہاں ہے اور كيا وہ حديث صحيح ہے؟ اگر وہ حديث صحيح نہيں ہے تو پهر جو عام طور پر كہا جاتا ہے كہ نومولود بچے كے كان ميں اذان و اقامت كہنے سے بچہ ’مسلمان‘ ہوجاتا ہے تو پهر نومولود بچے كو ’مسلمان‘ كرنے كا صحيح طريقہ كيا ہے؟ مفصل دلائل پيش فرمائيں- (محمد شفيق كمبوہ، والٹن لاہور )
جواب: نومولود بچے كے كان ميں اذان كے بارے ميں ابورافع كى حديث ميں تصريح موجود ہے-امام احمد، ابوداوٴد، ترمذى، علامہ البانى وغيرہ نے اس پر ’حسن ‘كا حكم لگايا ہے، لہٰذا قابل عمل ہے اور اقامت كا ذكر كسى قابل استناد حديث سے ثابت نہيں ہے-

واضح ہو كہ اسلام دين فطرت ہے- بچہ جب پيدا ہوتا ہے تو وہ مسلمان ہى ہوتا ہے، نئے سرے سے مسلمان كرنے كى ضرورت نہيں-اذان صرف تعميل شرع كى بنا پر ہے نہ كہ اسلام ميں داخل كرنا مقصود ہے۔

حوالہ جات

1. سنن ابوداود، كتاب الصلوٰة،باب الإسبال في الصلوٰة وكتاب اللباس: باب ماجاء في إسبال الإزار بألفاظ مختلفة

2. إرواء الغليل:1/261

3. سنن أبوداود: كتاب الصلوٰة،باب الأذان فوق المنارة

4. تهذيب التهذيب : 1/64

2/1355