گذشتہ شمارے ميں بعض اُصولى تصورات كے نكهاركے بعد اس موضوع كے نماياں پہلووں كو چند سوالات (تنقیحات) كى صورت ميں ہم پيش كرتے ہيں جن پرمستقل بحث آگے آرہى ہے :
(1) پارلیمانى اجتہاد سے مقصودپہلى مدوّن فقہوں پر كسى نئى تدوين كا اضافہ ہے يا كسى نئى فقہ كو قانونى حيثيت دے كر لوگوں كو اس كا پابند بنانا؟ جسے عربى ميں تقنين كہتے ہيں-
(2) كيا انفرادى تدوين سے اجتماعى تدوين كا تقابل كرتے ہوئے تقنین شخصى سے ادارہ جاتى تقنینكى طرف ارتقا يا بالفاظِ ديگر مصطفى كمال پاشا كے نئے تركى كے اجتہاد كى بنا پر خلافت كے بجائے منتخب اسمبلى كى اتهارٹى ثابت كى جاسكتى ہے؟
(3) فقہى تقليد اور اولى الامر كے احكامات كى پابندى ميں كيا فرق ہے؟
(4) پارليمنٹ ميں مختلف فقہى نمائندوں كى حيثيت يا ماہرين قانون و شریعت كى مشاورتى كونسل كے كيا اختيارات ہونے چاہئيں؟

اپنے ابتدائى تبصرے ميں ان سوالات كے بارے ميں بعض تصورا ت زير بحث آچكے ہيں تاہم تاريخى تسلسل سے موجودہ اسلامى دنيا ميں پائے جانے والے افكار كا مثالوں كے ساتھ تجزيہ بهى مناسب رہے گا، تاكہ بات مزيد واضح ہوجائے-

تدوين فقہ
(1)پہلا مسئلہ تدوين فقہ كا ہے- اس سلسلہ ميں بہت بڑا مغالطہ لفظ ’تشريع‘ سے ہوتا ہے جو جديد عربى زبان ميں قانون سازى كے معنوں ميں ليا جاتا ہے- اس لفظ كا عوامى استعمال سيكولر قانون كے بالمقابل دين و شريعت كى كسى حتمى تعبيركو قانونى حيثيت دينے اور اس كے نفاذكے مطالبہ ميں بهى ملتا ہے تاكہ جس طرح سركارى سطح پر قانون نافذ العمل ہوكر حكومت و رعايا كے لئے واجب التعمیل قرار پاتا ہے، اسى طرح شریعت كے احكام كو بهى يہى حيثيت مل جائے- سيكولر حضرات كے پاس اس كے خلاف بہت بڑا حربہ يہ ہے كہ وہ اس سلسلہ ميں شریعت كى دفعہ وار تدوين كا مسئلہ كهڑا كرديتے ہيں كہ جب تك احكامِ شریعت قانون كى طرح دفعہ وار مرتب نہ ہوں، ان كا نفاذ جديد دور ميں ممكن نہيں! … يوں بظاہر وہ شريعت كا انكار كرنے كى بجائے نفاذِ شريعت ميں ايك ايسے خلا كا عذر پيش كرتے ہيں كہ جس كى تكميل كے دوران انہيں اس بات كى اُميد ہوتى ہے كہ مسلم دانشور اور فقہا اسى ميں اُلجھ كر رہ جائيں گے، اوراگر ايك عرصہ كى محنت ِشاقہ اور جذبہ مفاہمت كے باوجود يہ كام ہوبهى گيا تو بہرحال يہ ايك انسانى محنت ہوگى كہ جس ميں حالات كى تبديليوں سے مفاہمت كے اطوار بهى بدلتے رہيں گے لہٰذا اس كى حيثيت دائمى نہ ہوگى- چنانچہ ہر دم تغير كى ضرورتوں سے جہاں شریعت كا تقدس مجروح ہوگا، وہاں ہر لحاظ سے يہ شكوك و شبہات كا مظہر بهى بنے گى اور يوں شریعت كے نفاذ كا مطالبہ اپنے ہى الجھاوٴ ميں محض نعرہ كى حد تك محدود رہے گا،پهراسى بنا پر شریعت كو بدنام كرنا بهى آسان ہوگا كہ دور جديد ميں نفاذِ شریعت كے فوائد حتمى نہيں ہيں- پاكستان ميں حدود آرڈيننس، قانون قصاص و ديت وغيرہ اس كى مثاليں ہيں۔

مذكورہ تفصیل سے يہ بات كهل كرسامنے آجاتى ہے كہ شريعت كى دفعہ وار تدوين كا مسئلہ كهڑا كرنا درحقيقت نفاذِ شریعت سے بچنے كى ايك كوشش ہے، تاہم مسلمان ايك عرصہ سے اس چيلنج كا مقابلہ بهى كرتے چلے آرہے ہيں- چنانچہ مجلة الأحكام العدلية (1876ء) كے بعد سے لے كر اب تك مختلف اسلامى ملكوں ميں اس سلسلہ كے متعدد مجموعے تيار كئے گئے جن ميں سے اكثر تو اپنے اپنے ملك كے لئے تهے، ليكن بعض اجتماعى كوششيں ايسى بهى ہوئيں كہ جن كا مطمح نظر پورى دنيائے اسلام كے لئے دستور العمل تيار كرنا تها- اس سلسلہ ميں ماضى قريب ميں مصر كے اہل علم كى اٹهارہ ركنى كميٹى كے تيار كردہ ايك دستورى خاكہ كى مثال دى جاسكتى ہے جو كميٹى كے ايك ركن ڈاكٹر مصطفى كمال وصفى كى اس موضوع پر اہم تاليف مصنفة النظم الإسلامية كے آخر ميں مطبوع ہے-1

اسى طرح انفرادى طور پر بهى بعض مفكرين نے اس موضوع پر اپنى تجاويز تحريرى شكل ميں پيش كى ہيں جوكتابى شكل ميں بهى طبع شدہ موجود ہيں، جبكہ اجتماعى سطح پر خاص اپنے ملك كى حد تك جن لوگوں نے يہ كوششيں كى ہيں- ان ميں سے قابل ذكر درج ذيل ہيں:
*     جامعہ ازہر وغيرہ كى علمى مجالس كى طرف سے مرتب قانونِ شریعت كے علاوہ ڈاكٹر مصطفى سباعى كى ايك سكيم كے مطابق مصر ميں فقہى انسائيكلو پيڈيا كى تدوين ہوئى- (ايسے بہت سے مسّوداتِ قانون كا اُردو ترجمہ بهى ہوچكا ہے)
*     اُردن ميں شريعت كے سول لاء كو 15 سال ميں مدوّن كيا گيا-
*     يمن ميں مجلة الأحكام العدلية كى طرز پر ايك مجموعہ قوانين شريعت تيار كيا گيا-
*     جمهورية الليبية الشعبية كے مسوداتِ قوانين ”نظام التجريم والعقاب“
*     متحدہ عرب امارات (ابوظہبى) ميں اسى طرح كا ايك شرعى مجموعہ قوانين رئيس القضاة احمد بن عبدالعزيز آل مبارك كى زيرنگرانى تيار ہوتا رہا ہے ،جس كى پندرہ، سولہ جلدوں كا اسّى كى دہائى ميں راقم بذاتِ خود مشاہدہ كرچكاہے -
*     كويت كى وزارتِ اوقاف كا تياركردہ 43 جلدوں ميں مايہ ناز فقہى انسائيكلوپيڈيا
*     پاكستان كى مشاورتى كونسل (اسلامى نظرياتى كونسل) بهى تقريباً نصف صدى سے يہى كام كررہى ہے-

*     سلطنت ِتركى ميں سقوطِ خلافت سے قبل مصر كو ايسى كوششوں ميں سبقت حاصل ہے- چنانچہ مصر نے 1914ء سے 1920ء تك ايك مجموعہ تيا ركرليا تها- اگرچہ منظر عام پر آنے كے بعد وہ اختلافات كا اس قدر شكار ہوا كہ اسے سردخانہ ميں ڈال ديا گيا-

ہمارى نظر ميں مذكورہ بالا مساعى تدوين فقہ جديد كى حد تك قابل قدر ہيں ليكن اگر مقصد ’تشريع‘ یعنى شریعت سازى ہو تو يہ تقنین اس معيار كى ہرگز نہيں كہ انہيں تغير وتبدل سے محفوظ ركھ كر حتمى قانون كى حيثيت دى جاسكے- اس كى ايك ادنىٰ سى مثال ميں پاكستان ميں جنرل محمد ضياء الحق كى نفاذِ شريعت كى كوششوں سے پيش كرتا ہوں:
جب جنرل محمد ضياء الحق نے مسلمانوں كے لئے نظامِ زكوٰة كا اعلان كيا تو فقہ جعفرى والے مخالفت پر تل گئے- اس پر جنرل صاحب كو مجبوراً يہ كہناپڑا كہ ہمارا يہ اعلان كوئى حكم الٰہى تو نہ تها، جو بدلا نہ جاسكے- چنانچہ اس آرڈى نينس ميں تبديلى كركے شیعہ حضرات كو نظامِ زكوٰة سے مستثنىٰ قرار دے ديا- اب سپريم كورٹ آف پاكستان نے اپنے ايك فيصلہ كے ذريعہ ملك ميں مروّج تمام فقہوں كے حاملين كو بهى ايسے ڈيكلريشن كا اختيار دے ديا ہے- حالانكہ سوچنے كى با ت ہے، اگر يہ حكم الٰہى نہ تها تو پهر كس اختيار كى بنا پر سنى مسلمانوں پر نظامِ زكوٰة نافذ كيا گيا؟ حتىٰ كہ وہ بے چارے حكومت كى طرف سے زكوٰة كى كٹوتى كے علاوہ مروّجہ (ٹيكس) بهى ادا كرنے پر مجبور ہيں-

انتہائى سيدهى اور آسان سى بات يہ ہے كہ انسان شریعت سازى كا نہ تو مكلف ہے اور نہ ہى يہ اس كے بس كا روگ ہے بلكہ تشريع كا حق صرف اور صرف اللہ ربّ العزت كو حاصل ہے- چنانچہ اللہ تعالىٰ نے اپنے آخرى رسول حضرت محمد ﷺ كے ذريعے شریعت نازل فرمائى ہے، جو مرتب ومدوّن موجود ہے اور جس كى حفاظت ِابدى كا ذمہ بهى اللہ تعالىٰ نے خود ليا ہے- چنانچہ يہ بغير كسى تغير و تبدل او ركمى بيشى كے تاقيامت نافذ ہے- باقى رہے قرآن و حديث كے علاوہ فقہ اور قانونِ شریعت كے جديد مجموعے تو وہ سب تدوينى مساعى كے علاوہ وحى سے ورے انسانى اجتہادات ہوسكتے ہيں جو مختلف بهى ہوتے ہيں اور متعدد بهى- اسى طرح بہت سے اجتہادات، معاملہ كى نوعیت يا حالات كى تبديلى سے بدل بهى جاتے ہيں- چنانچہ اُن كى حيثيت مستقل نہيں ہوسكتى- پس فقہ و اجتہاد پر تشريع كا اطلاق گويا مداہنت ہے، كيونكہ شريعت مكمل ہوچكى ہے اور تشريع كا يہ اختيار خلفاے راشدين تك كوبهى نہ تها- ہم ديكهتے ہيں كہ مہر كے تعین كے بارے ميں ايك عورت حضرت عمر كو برسرعام ٹوكتى ہے اور آپ بُرا منانے كى بجائے اس كا شكريہ ادا كرتے ہيں- اس كى مزيد تفصیل ہم تيسرے نكتے كے ذيل ميں بيان كريں گے- يہاں صرف يہ بتانا مقصود ہے كہ قانونِ شریعت كے نام پر كوئى بهى اعلىٰ سے اعلىٰ كوشش فقہ و اجتہاد كى قبيل سے ہوتى ہے، جبكہ اجتہاد سے مراد حكم الٰہى كى تلاش اور اس كا اطلاق ہے، لہٰذا وہ ايك اعتبار سے مجتہد كى اپنى ذات كے لئے، يا قاضى كے زيرسماعت قضیے كے فيصلے كى حيثيت سے فريقين كے لئے تو واجب التعمیل ہوتا ہے، تاہم وہ شریعت نہيں ہوتا- شريعت صرف وحى الٰہى كا نام ہے، جبكہ اجتہاد، فہم وحى كى قسم ہے، فى نفسہ وحى نہيں- پهرتدوين تو صرف ايك فنى ترتيب ہے، جسے خالص فنى اعتبار سے اجتہاد كہنا بهى درست نہ ہوگا…!!

حاصل يہ ہے كہ اجتہاد، تدوين اور تقنين الگ الگ مفہوم ركهتے ہيں او ران كوباہم خلط ملط كرنے سے موضوعِ زير بحث اختلافى بن رہا ہے، ورنہ اصل مسئلہ صرف اس قدر ہے كہ وحى (شریعت) كے علاوہ اہل علم كے لئے كسى قديم يا جديد اجتہاد كى تقلید ضرورى ہے يا نہيں؟ اور علىٰ و جہ البصیرت ہمارا جواب نفى ميں ہے … لہٰذا ائمہ سلف كى تقلید كى مخالفت كرنے والوں كو يہ زيبا نہيں كہ وہ جديد انفرادى يا اجتماعى اجتہاد كى تقليد كى دعوت ديں-

جہاں تك اسلامى قانون كى تدوين كا تعلق ہے، اوّل تو يہ چيز ہى بنيادى طور پر غلط ہے كہ كتاب وسنت جيسے ’دستورِ زندگى‘ كے علاوہ كسى دوسرے مدوّن قانون كو اسلامى رياست كا مستقل دستور قانون قرار ديا جا سكتا ہے بلكہ ايسے كسى بهى مدوّن قانون كى حيثيت ذيلى يا مددگار قانون كى ہو گى، كيونكہ مستقل حيثيت صرف كتاب وسنت كو ہى حاصل ہے جو ابدى دستور وقانون ہے، اسى ليے اس كى تدوين بهى ايسے انداز كى ہے جو زندگى كى فطرى رہنمائى سے مناسب ہے- باقى قانون خواہ انسانى ذہنوں كى اختراع ہوں يا كتاب وسنت سے انسانى سوچوں كا حاصل، وہ اپنى طرز كے معاشروں ميں مقامى اور ہنگامى رہنما قانون توقرار ديے جا سكتے ہيں، ليكن اسلامى رياست جيسے مستقل ادارے كا پائيدار قانون نہيں بن سكتے-

تا ہم كسى وقتى ضرورت كے پيش نظر ’تدوين‘ كو بڑى اہميت بهى دے دى جائے تو الحمد للہ اس سلسلہ ميں كسى سر دردى كى ضرورت نہيں- ہمارے ہاں محدثانہ اورمخصوص فقیہانہ انداز كے اتنے مدوّن مجموعہ جات موجود ہيں كہ ان كو گننے اور صرف تعارف كرانے كے ليے بيسيوں جلدوں پر مشتمل كتابيں تيار كى جا سكتى ہيں اور بفضلہ تعالىٰ ايسے بيش قیمت تذكرے دنيا بهر كى مشہور زبانوں ميں بهى موجود ہيں- فقہ وقانون كے تقابلى مطالعہ كى كتب تو جديد معاشروں ميں نئے پيدا شدہ مسائل پر بصیرت افروز رہنمائى كاكام بهى دے رہى ہيں اور نجى سطح پر علما اور مفتى حضرات انہى سے در پيش مسائل كا جواب ديتے بهى رہتے ہيں- آخر نجى طور پر يہ كام پہلے چل رہا ہے تو سركارى سطح پركيوں نہيں چل سكتا؟ ہمارے ہاں اس مقصد كيلئے اسلامى نظرياتى كونسل اور وفاقى شرعى عدالت جيسے آئينى ادارے موجود ہيں جن سے مذكورہ مقاصد حاصل كيے جاسكتے ہيں-

دوسرى و جہ يہ ہے كہ ذيلى اور مدد گار قانون ميں اگر اتفاقِ رائے ممكن ہو تو يہ الہامى قانون (كتاب وسنت) كے قائم مقام ہوگا،ليكن يہ حقيقت ہے كہ براہ راست خدائى رہنمائى (نبوت) كے سوا انسانى سوچ پہلو دار ہوتى ہے- اس ميں اتنى جامعیت اور ابديت نہيں ہو سكتى جو خدائى قانون كى جگہ لے سكے- بالفرض اگر ايسا پہلو دار قانون مستقل دستور وقانون قرار دے ديا جائے تو يہ ترقى پذير معاشرے كے ليے پاوٴں كى زنجير ثابت ہو گا-

تيسرى و جہ يہ ہے كہ كتاب وسنت كے علاوہ كوئى مدوّن قانون متفقہ بنايا ہى نہيں جاسكتا-كتاب وسنت كى تعبیر ميں اختلاف كے كچھ پہلو واقعى ضرر رساں ہيں،ليكن اس اختلاف كا ايك روشن پہلو قانون كى لچك دار اور ارتقا پذير شكل كو باقى ركهنے ميں مدد ديتا ہے- اس ليے بيك وقت يہ دوفائدوں كا حامل ہے؛در پيش مسئلہ ميں’فتوىٰ‘ كى حيثيت سے اور آئندہ كے مسائل ميں قانونى رہنما كى حيثيت سے- پهر جب مستقل قانونى حيثيت سے كتاب اللہ كے ليے سنت ِرسول اللہ كى صورت ميں ايك دائمى تعبیر اور سيرت رسول ﷺ كا اُسوئہ حسنہ (عملى نمونہ) كى صورت ميں موجود ہے تو اس ابدى تعبیر كو اپنانے كے دوران جزوى مسائل ميں اجتہادات كا جواختلاف رونما ہوتا ہے، اس كاضرر رساں پہلو مزيد كمزور پڑ جاتا ہے-

چوتهى بات جس كا تعلق اس بارے ميں تاريخى تجزيے سے ہے، يہ ہے كہ مسلمانوں كى چودہ صد سالہ تاريخ ميں عموماً كتاب وسنت ہى اسلامى رياستوں كادستور وقانون رہاہے- اگر كبهى جزئيات ميں كثرتِ اختلافِ آرا يا بعض سازشوں كے سد باب كے ليے كسى مدوّن كتاب كو دستورِ مملكت بنانے كا احساس ہوا بهى تو اختلافِ اُمت نے اسے گوارا نہ كيا،جيسا كہ اس كى تفصيلا ت پیچھے گزر چكى ہيں-

البتہ اسلامى حكومتوں كے زوال كے آخرى دور ميں مغل تاجدار اورنگ زيب عالمگیر  نے علما كى ايك جماعت كے ترتيب دادہ مجموعہ كو قانونى صورت ميں اختيار كيا جو’فتاوىٰ عالمگیرى‘ كے نام سے معروف ہے- ليكن ’فتاوىٰ‘ كا لفظ خود وضاحت كر رہا ہے كہ اس كى حيثيت بهى ’معاون قانون‘ كى تهى كيونكہ فتاوىٰ ان شرعى آرا كو كہتے ہيں جن سے ايك حاكم يا قاضى شریعت كے مطابق فيصلہ كرنے ميں مدد ليتا ہے- اس سے قبل شرعى رائے كا يہى كام حكومت كا شعبہٴ افتا كيا كرتاتها- آج كل اس كى مثال ہمارى عدالتوں ميں قانونى معاونين كى ہے- ايسے ہى ہمارے ہاں اعلىٰ عدالتوں كے فيصلہ جات جو مختلف مجموعوں PLJ, PLD وغيرہ ناموں سے برابر چھپتے رہتے ہيں، ان كے جوہر قانونى نكات(Citations)قانون كا حصہ شمار ہوتے ہيں، ليكن اسلامى شریعت ميں اجتہاد شریعت كے اطلاق ووسعت ميں تو بهرپور كام آتا ہے، بذاتہ شریعت كا حصہ نہيں ہوتا- اس سے يہ بات واضح ہوتى ہے كہ وحى اور انسانى كاوشوں ميں فرق ہے، لہٰذا اجتماعى اجتہاد بهى كتاب وسنت سے فروتر چيز ہے-

تاہم اُنیسويں صدى سے يورپ كى تقلید نے مسلمانوں كے اندر يہ احساس اُجاگر كيا كہ وضعى قانون كى طرح دفعہ وار اسلامى قانون كى تدوين كرنى چاہيے- چنانچہ سب سے پہلا مدوّن مجموعہ 1876ء ميں خلافت عثمانيہ تركى نے مجلة الأحكام العدلية كے نام سے اپناياجو صرف مروّ جہ ديوانى قانون كا ايك حصہ ہے- باقى رہا فوجدارى قانون كے علاوہ مسلمانوں كا اسلام كى بنياد پر عائلى اور شخصى قانون تو اگرچہ اس كے ليے بیسويں صدى عیسوى ميں مختلف مجموعہ جات تيار كرنے كى مثاليں ملتى ہيں ليكن يہ بهى ايك حقيقت ہے كہ بہت سى مسلم تو كيا غير مسلم رياستوں ميں بهى جن ميں غير منقسم ہند و پاك كا ڈهائى سو سالہ دور بهى شامل ہے، ميں غير مدوّن عائلى قانون نہ صرف نافذ رہا بلكہ اس كے مطابق نہ صرف مسلمان بلكہ غير مسلم ہندو اور انگريز وكلا بهى قانونى رہنمائى مہيا كرتے رہے اور غير مسلم جج صاحبان بهى فيصلے كرتے رہے ۔

واضح رہے كہ اسلام كے فوجدارى قانونى نظام كے اہم حصہ سزاوٴں (تعزيرات) كے ليے ليبيا، سوڈان اور پاكستان ميں اسلامى حدود و تعزيرات اور قصاص وديت وغيرہ كے علاوہ دوسرے اسلامى ممالك ميں سركارى سطح پر كسى دفعہ وار مدوّن مجموعہ قانون كى مثال نہيں ملتى- تقريباً پون صدى سے سعودى عرب شریعت كے نظامِ تعزيرات كو ہى اپنا كر دنيا بهر كے ترقى يافتہ معاشروں كو يہ چيلنج پيش كر رہا ہے كہ امن وامان صرف اسلامى شریعت كى عمل دارى سے ہى ممكن ہے- سعودى حكومت كو تو اقوام متحدہ كا ركن بننے كے ليے بهى كسى ’مسودہ قانون‘ كى ضرورت نہ تهى بلكہ اس نے وہاں بهى چند سال قبل تك صرف ’قرآنِ كريم‘ كو اپنے ’قانونِ مملكت‘ كى حيثيت سے پيش كر ركها تها- البتہ دس بارہ سال قبل سعودى عرب نے ديگر دساتير كى طرح اپنا بنيادى دستورى ڈهانچہ تيار كيا ہے جس كے تحت مجلس شورىٰ كى تشكيل بهى ہوئى- امسال وہاں بلدياتى سطح پر انتخابات بهى منعقد ہوئے ہيں - تجربہ ہى يہ بتائے گا كہ مستقبل كا سعودى عرب ماضى سے كتنا بہتر ثابت ہوتاہے؟ 2

اگرچہ تاريخ يہ بتلاتى ہے كہ اسلامى قانون كى تدوين كا ايسا تجربہ ماضى ميں عموماً ناكام ثابت ہوا ہے بلكہ كئى كوششوں كا انجام ہى عبرتناك ہے- خلافت ِعثمانيہ كے مجلہ عدليہ كى شكل پر مصر ميں مختلف مكاتب ِفكر سے متعلق علما اور ماہرين قانون كى چہ سالہ مشتركہ مساعى سے 1920ء ميں ايك مجموعہ قانون تيار ہوا تها، ليكن اس كاجو حشرہوا، وہ بڑا المناك ہے - يہ مجموعہ اتنى تنقيد كا شكار ہوا كہ شاہ مصر نے اسے سرد خانہ ميں ڈال كر ملك ميں فرانسیسى قانون نافذ كر ديا- پاكستان ميں اسلامى حدوداور قصاص وديت كى تقنین بهى ہمارے سامنے ہے جو ناقص ہونے كے باوصف لادين حلقوں كو اسلامى شريعت كے خلاف اعتراضات كے مواقع مہيا كرتى رہتى ہے-

اجتماعى اجتہاد بصورتِ پارليمانى اجتہاد
(2)دوسرا نكتہ، انفرادى اور اجتماعى تدوين كے تقابل اور پهر انفرادى اجتہاد سے پارلیمانى اجتہاد كے ارتقا كا ہے- ا س سلسلہ ميں ہم يہ گزارش كريں گے كہ اگرچہ بعض پہلووٴں سے اجتماعى اجتہاد جديد دور ميں اہم تر نظر آتا ہے كہ اس كى بدولت قرآن و سنت كى بصيرت ركهنے والوں كے علاوہ معاشرتى علوم كے حامل اور جديد قانون كے ماہرين بهى اس ميں شامل ہوسكتے ہيں- تاہم اندريں صورت اس خطرہ كو نظر انداز نہيں كيا جاسكتا كہ اس سے روحِ اجتہاد بُرى طرح مجروح بهى ہوسكتى ہے- كيونكہ اجتہاد كا اصل مقصود ’منشاء الٰہى كى تلاش‘ہوتا ہے،جبكہ اجتماعى فيصلوں ميں مفاہمت اور روادارى پر جس طرح زور ديا جاتا ہے، اس سے بسا اوقات منشاء الٰہى پرلحاظ واحترام كى اقدار اثر انداز ہوتى ہيں-

اسى نكتہ كے ضمن ميں دوسرى بات يہ ملحوظ رہنى چاہئے كہ اجتماعى اجتہاد كى صرف وہ قسم حجت ہے جو ’اجماع‘كہلاتى ہے- اگرچہ اجماع كى تعريف سے لے كر اس كے انعقاد اور اس كى حجیت تك جملہ پہلو شديد اختلافى ہيں، تاہم يہ بات اجماع كى حجیت تسليم كرنے والوں كے ہاں متفقہ ہے كہ اجماع صرف كل اُمت كا معتبر ہے، كسى خاص علاقے كا نہيں- (واضح رہے كہ مالكيہ اگر اہل مدينہ كے اجماع كى حجيت كو تسليم كرتے ہيں تو اس كى وجوہ بالكل دوسرى ہيں) جبكہ ہمارے زير بحث جو اجتہاد ہے وہ ايك خاص علاقے كى پارليمنٹ كا ہے، جسے نہ اجماعِ اُمت ِمسلمہ كہا جاسكتا ہے او رنہ اس علاقے كے جملہ مجتہدين ہى اس ميں جمع ہوتے ہيں، حالانكہ تمام مجتہدين كى اجماع ميں شركت لازمى ہوتى ہے-

اسى سے يہ بات بهى واضح ہوگئى كہ اجتماعى اجتہاد ؛ جسے اجماع كہتے ہيں؛ كسى خاص ادارے كا فيصلہ يا رائے نہيں ہوتى، جبكہ پارليمنٹ ايك ادارہ ہے جس كا زيادہ سے زيادہ تعلق اس مسئلہ سے ہے كہ حكومت شخصى كى بجائے ادارہ كے ہاتھ ميں ہونى چاہئے- پهر حكومت شخصى (خلافت) ہو يا صدارتى اور پارليمانى جمہوريت، پہلى صورت ميں يہ نيابت ِرسول ہوتى ہے اور دوسرى صورت (پارليمانى يا صدارتى جمہوريت) ميں بهى نمائندگى، دعوے كى حد تك بهى، اقتدار كى ہوتى ہے، منشا كى نہيں! جيسا كہ اسمبلى كے بارے ميں روسو كا مشہور قول ہے كہ
3"Power can be transmitted but not the will"
”(نمائندگانِ جمہور كو ايك محدود مدت كيلئے) اقتدار منتقل ہوتا ہے، منشا ومرضى منتقل نہيں ہوتى!“

پس اس نكتہ كا بهى حاصل يہ ہے كہ انفرادى اور اجتماعى اجتہاد اور شے ہے، اور حكومت كا شخصى و جمہورى ہونا اور شے- رہا يہ سوال كہ خلافت اور جمہوريت جمع ہوسكتى ہيں؟یعنى فرد كى بجائے منتخب نمائندگان كى جماعت خلافت كے منصب پر فائز ہوسكتى ہے؟ تو اس كا زيادہ ترتعلق طرزِ حكومت سے ہے جو ايك الگ موضوع ہے-تاہم شریعت و اجتہاد كے بارے ميں خلافت كے اختيارات پر ہم اگلے نكتے ميں گفتگو كرتے ہيں-

اولى الامر كے احكامات كى پابندى
(3) اس موضوع پر فيصلہ كن نكتہ يہى تيسرا ہے كہ كيا اولىٰ الامر كے احكامات كى پابندى كو تقلید كہا جاسكتا ہے؟ دراصل پارليمنٹ كى طرف سے شريعت كى تعبير يا شريعت كى قانون سازى اور حكومت و عوام پراس كى لازمى حيثيت ہى وہ بنياد ہے كہ يہ اختيارات اگر خليفہ يا امام كو حاصل ہيں تو جديد زمانہ ميں پارليمنٹ كو اس كے قائم مقام ہوكر يہى اختيارات مل سكتے ہيں- اس لئے پہلے ہم اس بات كى وضاحت كرتے ہيں كہ خلیفہ كى اطاعت اور فقہ و اجتہاد كا فرق كيا ہے؟ … قرآن كريم ميں اولى الامر كى اطاعت كے بارے ميں يہ آيت معروف ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿٥٩...سورۃ النساء4
اے ايمان والو! اللہ كى اطاعت كرو، رسول اللہ ﷺ كى اطاعت كرو او راپنے ميں سے صاحبانِ اختيار كى بهى … پهر اگر كسى معاملہ ميں تمہارا باہمى نزاع ہوجائے تو اس معاملہ كو اللہ اور رسول كى طرف لے جاوٴ، اگر تم اللہ اور آخرت پر ايمان ركهتے ہو، يہ بہت اچها اور انجام كے اعتبار سے بہت بہتر ہے-“

اس آيت ميں اللہ اور رسول ﷺ كى مستقل اطاعت كے علاوہ اولى الامر كے بارے ميں دو باتوں كا ذكر ہوا ہے؛ ايك ان كى اطاعت، اور دوسرے ان سے نزاع كے موقع پر فيصلہ كے لئے اللہ اور رسول (یعنى كتاب و سنت) كى طرف رجوع … مقام غور ہے كہ اگر نزاع واختلاف ميں بهى اولى الامر كى اطاعت فرض ہوتى تو كتاب و سنت كى طرف رجوع كاكچھ معنى ہى باقى نہيں رہتا- يہى وجہ ہے كہ اُمت ميں خلفا كے ساتھ مجتہدين كے جتنے بهى اختلافات ہوئے ہيں، ان ميں خلفا كو محض ان كے خلیفہ ہونے كى بنا پر كبهى بهى برحق قرار نہيں ديا گيا- بنوہاشم كے بنواُميہ سے سياسى اختلافات سے لے كر ائمہ اربعہ سميت فقہاء سلف كے عباسى خلفا سے متعدداجتہادى مسائل ميں اختلافات، تاريخ كا ايك اہم باب اور ائمہ كے اعلىٰ كردار كا حصہ ہيں- چنانچہ اگر خلیفہ كے اجتہاد كى بہرحال پابندى كا كوئى سوال موجود ہوتا تو يہ صاحب ِتقوىٰ بزرگ كبهى اس سے دست كش نہ ہوتے… پهر ’خلق قرآن‘ كا مسئلہ ہو يا ’طلاق مكرہ‘ كا، ان ميں امام احمد بن حنبل اور امام مالك  كو اذيت ناك سزاوٴں اور ناقابل بيان تذليل و تضحيك كا نشانہ بننے كى كيا ضرورت تهى؟ (5)اسى طرح امام ابوحنيفہ كو قاضى القضاة كے منصب كو قبول كرنے سے انكار كركے جيل جانے اور اسى راہ حق ميں جان نذر كرنے كى كيا ضرورت پڑى تهى؟(6)جبكہ خليفہ كا اجتہاد تو ايك حيثيت ركهتا ہے اور قاضى القضاة كو رضاء الٰہى كے ساتھ ساتھ خلیفہ كو راضى كرنے كا دوہرا فائدہ پہنچ سكتا تها ليكن امام صاحب نے يہ منصب قبول نہ كيا-

دراصل اولى الامر كے اجتہاد كى پابندى كا يہ مغالطہ تعبير شريعت اور انتظامى اختيارات كو خلط ملط كركے پيدا كيا جاتا ہے، حالانكہ جہاں تك تعبير شريعت كا مسئلہ ہے، يہ خالصتاً رسول كريم ﷺ كا منصب تهاجوپورا ہوچكا اور جہاں تك ان اجتہادى مسائل كا تعلق ہے جو شريعت (كتاب اللہ) اور ا س كى ابدى متعين تعبير (سنت ِ رسول اللہ) كى تكميل كے بعد فقہا يا خلفا كو پيش آئے يا آسكتے ہيں تو ان كى نوعيتيں دو ہيں- ايك ان كى منصبى يا ذاتى حيثيت اور دوسرى انتظامى اور تدبيرى … اوّلين حيثيت سے خلفاء كو جو مسائل پيش آتے ہيں، ان كا تعلق حكومت سے ہو يا رعايا سے، اگر خلیفہ خود عالم دين ہے تو اپنے اجتہاد سے، ورنہ كسى معتمد عالم دين كے اجتہاد سے شریعت كا علم حاصل كركے انہيں انجام ديتا ہے، جبكہ خلیفہ كى دوسرى انتظامى اور تدبيرى اُمور كى حيثيت وہ ہے كہ جس كے بارے ميں قرآن كريم اطاعت ِاولى الامر كا (مشروط) حكم ديتا ہے ليكن كبهى يہ ہر دو نوع كے اُمور باہم يوں خلط ملط ہوجاتے ہيں كہ ان كى بنا پر اطاعت ِامير اور تقليد ِفقہى كے ايك ہونے كا گمان ہونے لگتا ہے، جبكہ درحقيقت ايسا نہيں ہے-

الغرض خليفہ اگر عالم دين نہ ہو تو علماءِ مجتہدين كى تقليد كو واجب قرار دينے والوں كے نزديك اسے مجتہدين كى تقليد كرنى ہوگى جبكہ مخالفين تقليد كے نزديك اسے اہل علم سے مسئلہ سمجھ كر معاملہ كو حل كرنا ہوگا - ان دونوں صورتوں ميں خليفہ خود اتهارٹى قرار نہيں پاتا اور نہ ہى شرعى مسائل ميں خلیفہ كو صرف اس كے خلیفہ ہونے كى بنا پر كوئى اتهارٹى قرار دينے كا قائل ہے بلكہ اسے بہرصورت شريعت كے بارے ميں معلومات حاصل كرنا ہوں گى، خواہ وہ دوسروں سے سوال ہى كرے … قرآن كريم ميں ہے :
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧...سورۃ الانبیاء7
اگر تمہيں خود علم نہ ہو تو اہل معرفت و حافظہ سے پوچھ لو-“

چنانچہ اس سلسلہ ميں جيسے اہل علم سے پوچھنے كى بات ہے، ويسے ہى اہل علم سے تبادلہ خيالات كرنے ميں بهى كوئى حرج نہيں- كيونكہ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ ﴿٧٦...سورۃ یوسف”8ہر علم والے سے اوپر كوئى دوسرا عالم ہے-“ كى رو سے علم كى بے شمار قسميں او رجہتیں ہيں، لہٰذا مذاكراتِ علمیہ سے انشراحِ صدر حاصل ہوتا ہے- حضرت عمر بن خطاب اور ديگر خلفاء راشدين كا اپنے ساتهى علماء صحابہ سے مسائل پر تبادلہ خيالات اسى نوعیت كا تها جسے آج كل من مانى تعبیر سے ’مجلس شورىٰ كا اجتہاد‘ باور كرايا جاتا ہے-يہى وجہ ہے كہ اس نظريہ كے حاملين كو حضرت ابوبكر كى مانعینِ زكوٰة سے جنگ اور جنگ ِيمامہ ميں حضرت اسامہ بن زيد كى بحیثیت ِسالار لشكر روانگى ايسے فيصلوں كى تاويل كرنى پڑتى ہے كہ يہ نصوصِ شرعیہ كى تعمیل تهى- حالانكہ اصل بات انشراحِ صدر كى تهى- مسئلہ خواہ نص كا ہو يااجتہاد كا ، اگر يہ طے شدہ شرعى اُمور ہوتے تو ديگر صحابہ كبهى بهى اس كے خلاف كوئى دوسرا مشورہ نہ ديتے،كيونكہ تعمیل شریعت كا جذبہ ان ميں بهى كوٹ كوٹ كر بهرا ہوا تها- ہاں جب خليفہ نے ان مسائل ميں اپنا اطمينان ايك عزمِ صميم كى صورت ميں ظاہر كرديا تو يہ صحابہ  نہ صرف خاموش ہوگئے بلكہ اس كے فيصلہ ميں ان سے بهرپور تعاون بهى كيا-

اطاعت ِامير اور فقہى تقليد
چنانچہ يہاں معاملہ كى ايك دوسرى نوعيت يہ بهى سامنے آتى ہے كہ خليفہ كسى شرعى حكم كے بارے ميں شرحِ صدر كے ساتھ جب كوئى فيصلہ كرليتا ہے تو اُمت كو اس كى اطاعت كرنى پڑتى ہے كہ اس كى حيثيت شریعت پر عملدرآمد كرنے كرانے كى ہے- تاہم اگر مسئلہ ميں اجتہادى اختلاف سامنے آجائے تو خلیفہ كى ہر دو حیثیتیں الگ الگ واضح ہوجاتى ہيں-جس كى مثال حضرت عثمان  بن عفان اور حضرت ابوذرغفارى كے اختلاف سے دى جاسكتى ہے كہ جمع مال كے مسئلہ ميں حضرت ابوذر كو حضرت عثمان  نے تقلید پر تو مجبور نہ كيا لہٰذا حكم شريعت وہى باقى ركها جس كو وہ خود برحق سمجهتے تهے- ليكن انتشارِ فكرى كے خوف سے انہيں مقام ’ربذہ‘ ميں بهيج ديا- تاہم انہيں اُن كى واضح غلطى كے باوجود رائے بدلنے پر مجبور نہيں كيا-(9) واضح رہے كہ حضرت ابوذرغفارى مال جمع كرنے والوں كو بہرصورت ’كنز‘ كى وعيد كا مستحق قرار ديتے تهے، خواہ اس مال كى زكوٰة بهى دى جاچكى ہو، حالانكہ اگر يہ موقف مانا جائے تو اس صورت ميں مال ميں زكوٰة اور وراثت كے كوئى معنى ہى باقى نہيں رہتے-

دراصل خلیفہ انتظامى معاملات كو انجام ديتے ہوئے جب شرعى اُصولوں اور ہدايات كو عمل ميں لاتا ہے تو اس اعتبار سے اس كى شرعى حيثيت خود شرع پر عمل درآمد كى ہوتى ہے جس ميں وہ اپنے منصبى فرائض بهى انجام ديتا ہے ليكن رعايا كى حيثيت اس ميں صرف اطاعت ِامير كى ہوتى ہے- چونكہ بالفعل رعايا اس اجتہاد پر عمل كرتى نظر آتى ہے، لہٰذا اس كے اجتہاد كى لازمى حيثيت تقلید معلوم ہوتى ہے- حالانكہ خلیفہ اپنے اجتہاد پر عمل كرانے كے باوجود كسى عالم كو اپنے اجتہاد كے درست تسليم كرنے پر مجبور نہيں كرسكتا- لہٰذا علما سميت رعايا كى بالفعل اطاعت ليكن ذہناً علماء دين كا اپنے اجتہاد پر قائم رہنا، دو الگ الگ امر ہيں- جن كا لحاظ ركهنے سے اطاعت ِامير اور تقليد ِفقہى كا فرق واضح ہوگا-

مناسب معلوم ہوتا ہے كہ يہاں ہم ان مغالَطوں كى طرف بهى اشارہ كرديں جو جديد دانشوروں كو حضرت عمر كے بعض اجتہادات كے سلسلے ميں ہوتے ہيں او رجنہيں ’اولياتِ عمر ‘كے نام پر خليفہ كى طرف سے شريعت كى تبديلى كا اختيار قرار ديا جاتا ہے- تفصيلى مثالوں اور ان كى توضيح كا تو يہ موقع نہيں، مختصر يہ كہ ان ميں سے بيشتر انتظامى اختيارات سے متعلق ہيں، جن كى تدبير ميں مصالح شرعيہ كا لحاظ ركها گيا-

اس بحث سے حاصل يہ ہے كہ خلافت شخصى ہو يا پارليمنٹ كو خلافت كے قائم مقام ٹھہرايا جائے، اس كا تعلق صرف تدبير و انتظام سے ہے اور قواعد و ضوابط كا اختيار بهى خليفہ يا پارليمنٹ كو اِسى حد تك ہے- ليكن شريعت كے اندر اگر مداخلت ہو تو خواہ يہ تدوين كے نام سے ہو يا اجتہاد كى پابندى كے نام پر، يہ اِصْروتقلید گوارا نہيں كى جاسكتى- پچھلى اُمتوں كى گمراہى كا باعث بهى يہى تها اور افسوس يہ اُمت بهى اسى راستہ پر جارہى ہے- گزشتہ سطور ميں تدوين بائبل كى مثال سے اس كى تفصيل گزر چكى ہے-

پارليمنٹ ميں فقہى نمائندوں كى حيثيت
(4)ہم چوتهے نكتے كى طرف آتے ہيں كہ پارليمنٹ ميں مختلف فقہى نمائندوں كى حيثيت يا ماہرين قانون و شریعت كى كونسل كے اختيارات كيا ہونے چاہئيں؟

اس سلسلہ ميں يہ بنيادى بات اگرچہ فيصلہ طلب ہے كہ قانون ساز پارليمنٹ كى اسلامى شریعت ميں كيا حيثيت ہے؟ ليكن چونكہ ہم پہلے يہ واضح كرچكے ہيں كہ اسلامى حكومت كا دستور قرآنِ كريم ہوتا ہے، جس كى واحد ابدى تعبیر سنت ِرسول ﷺ بهى محفوظ و مصئون موجود ہے، لہٰذا اب پارليمنٹ كے بارے ميں قانون سازى كى جو بهى بحث ہوگى، وہ قواعد و ضوابط (Bye Laws) يا انسدادى اور تعزيرى احكام وغيرہ تك محدود ہوگى- چنانچہ فى الوقت ہم اس بحث سے قطع نظر كہ پارليمنٹ كو خلیفہ كے قائم مقام ٹھہرايا جاسكتا ہے يا نہيں؟ على سبيل التنزل پارليمنٹ كو خلافت اور ’شورىٰ‘ ہى كى حيثيت دے كر گفتگو كرتے ہيں-

اسلامى سياست كا يہ امتيازى پہلو ہے كہ يہاں بنيادى دستور اور اس كى تعبیر كا مسئلہ بهى چودہ صدياں قبل ہى طے پاچكا ہے جس كے بارے ميں حضور ﷺ كے ’خاتم النّبیین‘ ہونے اور آپ كے بعد تاقيامت كسى بهى نبى يا رسول كى گنجائش موجود نہ ہونے كى بنا پر نہ صرف اس دستور اور اس كى تعبير كى تنسيخ كا سوال ختم ہوچكا ہے بلكہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا...﴿٣﴾...سورۃ المائدہ 10 آيت ِقرآنى كے تحت اس ميں ترميم و اضافہ كا جواز بهى خارج از امكان ہے- يہى وجہ ہے كہ تاقيامت قائم ہونے والى ہر اسلامى حكومت كا دستور خود بخود كتاب و سنت بن جاتا ہے اور جو حكومت كتاب و سنت كى دستورى حيثيت تسليم نہيں كرتى وہ اسلامى كہلانے كى حقدار نہيں ہوتى-

جہاں تك خلافت كے منصب كا تعلق اور ضرورت ہے تويہ منصب حضرت محمد ﷺ كے دنيا سے تشريف لے جانے كے بعد صرف اس شخصى خلا كو پُر كرنے كى حد تك محدود ہے جو تدبير و انتظام كے ميدان سے متعلق ہے- چنانچہ خود خلیفہ كا يہ اختيار كہ وہ انتظام و انصرام كرے اور تدبيرى اقدامات بهى بجا لائے، سنت ِرسول سے ثابت ہے- تاہم خلفاء راشدين كے يہ اقدامات خود شریعت نہيں ہيں، ہاں ان كى حيثيت ہمارے لئے ايك اہم تاريخى سرمايہ كى ہے-

شریعت اور تاريخ كا يہ فرق ملحوظ نہ ركهنے كى بنا پر ہى اس بارے ميں يہ افراط و تفريط ہوئى ہے كہ متاخرين اصحابِ مذاہب نے جب سنت رسول ﷺ كى طرح خلفاء راشدين كے ايسے اقدامات كو بهى شریعت كى سى ابدى حيثيت دے دى تو اس كے رد عمل كے طور پر جديد دانشوروں نے سنت ِرسول كو ہى تاريخى مقام دينا شروع كرديا- حالانكہ جہاں پہلى صورت ميں سنت ِرسول كو جو ابدى اُسوہٴ حسنہ كى حامل ہے، سابقہ نظائر ميں ايسى نظير كا درجہ دينا غلط ہے كہ جس كا تسلسل خلفاء راشدين بلكہ بعد كے خلفا كے نظائر كى صورت ميں بهى قائم رہے كيونكہ يہ نبوت كا تسلسل ہوگا ، وہاں دوسرى صورت ميں ’مركز ِ ملت‘ كا نظريہ بهى گمراہ كن ہے كہ جس كے تحت سنت ِرسول كو جملہ خلفا كے تاريخى نظائر كے برابر حيثيت دے دى گئى ہے- گويا اس نظريہ كے موجد كے نزديك رسول كا معنى حكمران ہے-اور يوں اس نظريہ كا لازمہ بهى رسالت كا تاقيامت تسلسل ہے- اس ذہن نے مشہور مستشرق جوزف شاخت كے افكار كى تعمیل ميں ’سنت ِاجماع‘ كا نظريہ پيش كيا ہے ،جس ميں شخصى رائے جب عوام الناس ميں مقبول ہوجائے تو وہ بهى ’سنت‘كہلاتى ہے- گويا اس طرح متجددانہ اجتہادات كو نام نہاد ’اجماع‘كى حيثيت سے سنت قرار دينے كا حربہ اختيار كيا گيا ہے تاكہ سنت كے پسنديدہ لفظ سے من مانے اقدامات كواسلامى باور كرايا جاسكے- اسے وہ ’سنت ِجاريہ‘ سے بهى تعبیر كرتے ہيں،حالانكہ يہ حكمرانوں كى بجائے معاشروں كو شریعت سازى كا اختيار دينے كے مترادف ہے، چنانچہ يہ نظريہ بهى ’مركز ِملت‘ ہى كے افكار كى بازگشت ہے- پهر تعجب ہے كہ آج بعض سنى دانشور بهى اسى نظريہ ’سنت ِاجماع‘ يا ’تعامل مسلمین‘ كے نام سے سنت كى تعريف ميں توسيع كركے حكمرانوں كو خوش كرنے كى كوشش ميں مصروف نظر آتے ہيں-

رسالت و خلافت كى يكجائى كے اوّل الذكر نظريہ كى مخصوص جھلك شيعہ حضرات كے ہاں صرف اس صورت ميں ملتى ہے كہ ان كے ائمہ مذہبى رہنمائى كے ساتھ ساتھ بالقوة (Dejure) حكمران بهى تهے- لہٰذا ان كے نزديك ان ائمہ كى روايت و درايت سنت رسول كے قائم مقام ہوكر دين ورسالت كا حصہ متصور ہوتى ہے… ليكن سنى فقہا كے نزديك رسالت اور حكومت كا منصب فكرى اعتبار سے عليحدہ عليحدہ ہے- حضرت محمد ﷺ كى رسالت تو باقى ہے اور رہے گى، ليكن حكومت ميں خلافت كا سلسلہ چل رہا ہے- خلیفہ كا كام صرف تدبير و انتظام ہے، رسالت ميں اس كا دخل نہيں- تاہم تدبير و انتظام اور سياست ِملكى ميں وہ اس طريق كار كا پابند ہے جو تعلیماتِ رسالت ميں حكومت كے لئے طے ہوچكا ہے، كيونكہ حكومت كے رسالت سے الگ ہوجانے كے باوجود حكومت ان اُصول و ضوابط كى پابند ہوتى ہے جو كتاب و سنت ميں اس شعبہٴ حيات كے لئے ديے گئے ہيں اور يہى معنى اسلام كے كامل ضابطہ حيات ہونے كے ہيں-

رسالت اور خلافت و حكومت كى اطاعت كے فرق كو صحابہ كرام كس قدر ملحوظ ركهتے تهے، اس كا اندازہ اس بات سے لگائيے كہ حضرت عمر نے شرابى كى سزا 80 كوڑے كردى جو رسول اللہ ﷺ كے دور ميں چاليس تهى- (11)اسى تبديلى كى بنا پر حضرت عمر كى طرف سے حضرت على يہ فرماياكرتے تهے كہ اگر كوئى شخص چاليس پر، چاليس مزيد كوڑے كهاتا ہوا مرگيا تو اس كا خون بہا ديا جائے گا- ظاہر ہے اگر يہ اقدام ( سزا ميں اضافہ ) شريعت ہوتا تو نفاذِ حدود ميں خون بہا كا كوئى سوال پيدا نہيں ہوتا-

اسى سلسلہ كى دوسرى مثال حضرت عمر كے اس حكم سے دى جاسكتى ہے جو آپ نے كتابيہ (يہود و نصارىٰ كى عورتوں) سے نكاح كى ممانعت كے بارے ميں جارى كياتها اور جس پر حضرت حذیفہ نے عمل كرنے سے انكار كرديا تها ليكن پهر كچھ عرصہ بعد خود ہى انہوں نے اپنى كتابيہ منكوحہ كو طلاق بهى دے دى- حضرت حذیفہ نے اپنے اس طرزِ عمل كى جو وضاحت پيش فرمائى، وہ درج ذيل سطور سے ظاہر ہے:
قال (عمر) للذين تزوجوا من نسآء أهل الكتاب: طلِّقوهن، فطلَّقوهن إلا حذيفة فقال له عمر: طلِّقها قال تشهد أنها حرام؟ قال هي خمرة طلِّقها قال تشهد أنها حرام؟ قال هي خمرة،قال قد علمتُ أنها خمرة ولكنها لي حلال. فلما كان بعد طلَّقَها فقيل له اَلاَ طلَّقتَها حين أمرك عمر قال كرهت أن يرى الناس أني ركبت أمرا لا ينبغي لي 12
”حضرت عمر نے كتابيہ عورتوں سے نكاح كرنے والوں كو حكم ديا كہ ان عورتوں كو طلاق دے دى جائے تو سوائے حضرت حذیفہ كے سب نے طلاق دے دى- اس پر حضرت عمر نے انہيں بار بار فرمايا كہ ”اسے (اپنى بيوى كو) طلاق دے دو-“ حضرت حذیفہ نے جواب ديا:”كيا آپ اس كے حرام ہونے كى گواہى ديتے ہيں؟“ حضرت عمر نے فرمايا: ”وہ مدہوش كرنے والى ہے، اسے طلاق دے ديں-“ حضرت حذیفہ نے دوبارہ (زور دے كر) فرمايا: كيا آپ اس كے حرام ہونے كى گواہى ديتے ہيں؟“ حضرت عمر نے پهر وہى جواب ديا كہ ”وہ مدہوش كرنے والى ہے-“ حضرت حذیفہ بولے: ”يہ تو ميں جانتا ہوں كہ وہ مدہوش كرنے والى ہے، تاہم وہ ميرے لئے حلال ہے-“ (بات ختم ہوگئى) ليكن كچھ عرصہ بعد حضرت حذیفہ نے از خوداسے طلاق دے دى- لوگوں نے پوچها:” آپ نے يہ طلاق اس وقت كيوں نہ دى جب حضرت عمر نے آپ كو حكم ديا تها؟“ حضرت حذيفہ نے جواب ديا كہ ”ميں اسے بُرا سمجھتا تها كہ لوگ مجهے وہ كام كرتا ديكهيں جو (شرعى طور پر) مجهے لائق (لازم) نہ تها-“

ان واقعات سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ خلیفہ راشد بهى نہ تو شریعت ِمحمدى ميں تبديلى كرسكتا ہے، نہ اپنى تعبیر شریعت ہى ميں دوسروں كو پابند بنا سكتا ہے- پہلى مثال حدود ميں تعزير جمع كركے بظاہر شریعت كى تبديلى كى ہے تو دوسرى مثال قرآنى حكم وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِ‌كَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ...﴿٢٢١﴾...سورۃ البقرۃ13كى ايسى تعبيركى ہے جو كتابيہ عورت كو بهى شامل ہے- واضح رہے كہ حضرت عمرنے معارضہ كے وقت اس دور كے اہل كتاب كا مشرك ہونا واضح بهى كيا تها-

معلوم ہوا كہ تدبيرى معاملات ميں انتظامى اختيارات كے علاوہ اگر اجتہادى پہلو سے شرعى احكام كا سوال سامنے آئے تو اولى الامر كى مشروط اطاعت كى بنا پر، ان كے اجتہاد كى پابندى لازمى نہيں ہوتى- فقہا نے اطاعت ِاولى الامر والى مشہور آيت ِقرآنى كے آخرى حصہ سے بهى يہ استدلال كيا ہے، ارشادِ بارى تعالىٰ ہے:
فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴿٥٩...سورۃ النساء14
كسى بهى معاملے ميں اگر (رعايا كا باہمى يا اولى الامر سے اختلاف و) نزاع پيدا ہوجائے تواس معاملہ كو اللہ اور اس كے رسول كى طرف لوٹا دو-“

عربى گرامر كى رُو سے شيىٴ نكرہ حرفِ شرط كے تحت وارد ہوا ہے جو ايسى صورت ميں عموم كا فائدہ ديتا ہے، یعنى كوئى بهى معاملہ خواہ شرعى ہو يا اجتہادى، اگر اختلاف و نزاع كى صورت اختيار كرے تو اس كا فيصلہ كتاب وسنت سے ہوگا- (15)گويا تدبيرى معاملات ميں اجتہادى پہلو كے اختلافات كو كتاب و سنت سے ہى حل كيا جائے گا-

پارليمنٹ كا دائرئہ عمل مباح اُمور ميں تدبير وانتظام كى حد تك ہے !
حاصل يہ ہے كہ پارليمنٹ كا دائرہ كار صرف مباحات تك محدود ہے ،جيسا كہ صحيح بخارى ميں ہے:
وكانت الأئمة بعد النبي ﷺ يستشيرون الأمناء من أهل العلم في الأمور المباحة ليأخذوا بأسهلها فإذا وضح الكتاب والسنة لم يتعدوه إلى غير16
آپ كے بعد خلفا صرف مباح اُمور ميں اصحابِ علم و امانت سے مشورہ ليا كرتے تهے، تاكہ آسان ترين صورت اختيار كرسكيں،ليكن اگركتاب اللہ يا سنت رسول اللہ كى وضاحت موجود ہوتى تو كسى دوسرى جانب (ہرگز) نہ ديكهتے تهے-“

اور اباحت كا بهى ايك پہلو چونكہ شرعى حكم ہونے كا ہے، اس لئے اس پر نگرانى كتاب و سنت كى ر ہنى چاہئے- يہى وجہ ہے كہ اولى الامر كى اطاعت مشروط ہوتى ہے- مباح اُمور پر شريعت كى نگرانى كے لئے جنگ ِبدر كے قيديوں كى مثال بطورِ دليل پيش كى جاسكتى ہے- جنگى تدابير ميں اُولى الامر كو اجازت ہے كہ وہ مشورہ كے بعد كوئى سى بهى تدبير اختيار كرليں- لہٰذا رسول اكرم ﷺ نے مشورہ كے بعد اسارىٰ بدر كو فديہ لے كر رہا كرنے كا فيصلہ فرمايا تها- ليكن قرآن مجید نے اس مباح امر ميں بهى ايك شرعى حكم سے ہٹ جانے كى بنا پر سرزنش كى، يہاں تك كہ رسول اللہ ﷺ نے خود فرمايا:
اللہ تعالىٰ نے مجهے وہ عذاب دكهايا (جو اس فيصلہ كى بنا پر ہم پر مسلط ہوسكتا تها) اور اگر وہ عذاب آجاتا تو حضرت عمر (جن كا مشورہ ان قيديوں كے قتل كا تها) كے سوا كوئى نہ بچتا-“ 17

اس واقعہ سے متعلق قرآن كريم ميں ہے :
  مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَ‌ىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ تُرِ‌يدُونَ عَرَ‌ضَ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ يُرِ‌يدُ الْآخِرَ‌ةَ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٦٧...سورۃ الانفال18
نبى كى شان كے يہ لائق نہيں كہ اس كے قيدى (باقى) رہيں، يہاں تك كہ وہ زمين ميں اچهى طرح خوں ريزى نہ كرے- تم لوگ دنيا كا مال و اسباب چاہتے ہو، جبكہ اللہ تعالىٰ (تمہارے لئے) آخرت چاہتا ہے-“

مقصد يہ ہے كہ شورىٰ يا پارليمنٹ ميں بنيادى دستور (كتاب و سنت) كے علاوہ دوسرے اُمور ہى زير غور كيوں نہ ہوں، كتاب و سنت كے ماہرين كى پهر بهى ضرورت ہے- اس لئے اس بارے ميں جن حضرات نے اركانِ شورىٰ كے نمائندہ ہونے پر زور ديا ہے، تدبيرى اُمور كى حد تك اس كى اہميت تسليم ہے،كيونكہ تدبير وہى كامياب ہوتى ہے جس ميں تدبير كرنے والوں كو رعايا كا اعتماد حاصل ہو… ”وأمرهم شورٰى بينهم“ كے قرآنى حكم كا ايك فائدہ يہ بهى ہے كہ اس طرح اعتماد كى فضا پيداہوتى ہے- تاہم ان تدبيرى اُمور ميں شرعى احكام كى مطابقت كى جو شرط ہے، اس كے لئے ماہرين شريعت كى طرف سے نگرانى لازمى ہے-

شرعى اُمور كى نگرانى كسى اليكشن اور سلیكشن كے بغير بهى علماے دين پر فرض كفايہ ہے مگر پارليمنٹ خود اپنے اوپر اگر كچھ ماہرين شریعت و قانون كو نگران بنانا چاہے تو موجودہ حكومتى ڈهانچہ كے ايوانِ بالا (سينٹ) ميں انہيں اسى طرح لايا جاسكتا ہے جس طرح ٹيكنو كريٹس كو ليا جاتا ہے-

چونكہ ہر چيز كى اہميت اس كى ضرورت كے مطابق ہوتى ہے، اس لئے ماہرين شریعت كى غيرمعمولى ضرورت واہميت كى بنا پر ان كو حيثيت و وقار بهى ويسا ہى ملنا چاہئے-اور يہ امر زبانى تجاويز سے زيادہ عملاً ان كى اہميت كا احساس اُجاگر كرنے كامقتضى ہے- ہمارے ملك ميں پارليمنٹ كے ساتھ وفاقى شرعى عدالت يا اسلامى نظرياتى كونسل كا جو آئينى مقام ہے وہ ناكافى اور غيرموٴثر ہے-

چونكہ پاكستان كے قانون دان اور عام علما برطانوى سامراج كے دور سے اس امر كے عادى ہوچكے ہيں كہ حكمرانوں سے جب نفاذِ شریعت كا مطالبہ كيا جائے تو شریعت ِمحمدى اسى انداز ميں نافذ كى جائے جس طرح وضعى قانون كو دفعہ وار مرتب كركے نافذ كيا جاتا ہے-ہمارے اكثر اصحابِ اقتدار اتنى بڑى اكثريت والے مسلمان ملك ميں اس بات كى تو جرات نہيں كرپاتے كہ نفاذِ شريعت كا سرے سے ہى انكار كر ديں، تاہم اُنہوں نے پاكستان ميں فرقہ وارانہ تعصبات كے پيش نظر علما كو اسى مشكل ميں اُلجھا ركها ہے كہ وہ پہلے شریعت كو ايك ’متفقہ دفعہ وار قانون‘كى شكل ميں تياركريں جو درحقيقت پيش آمدہ تمام مسائل كے بارے ميں جملہ مكاتب ِفكركے علما اور قانون دانوں سے ايك مدوّنہ فقہ واجتہاد پر اجماع كا مطالبہ ہے، ايساآج تك دنيا بهر ميں كہيں نہيں ہوسكابلكہ اگر جزوى طورپر فقہ واجتہاد كو بعض ممالك ميں قانونى شكل دى بهى گئى تو وہ ہردم تغيرپذير رہى- آج ہمارے ہاں كے وہ شرعى قوانين جو قصاص وديت يا حدود آرڈيننس وغيرہ شكلوں ميں نافذ ہيں، اسى طرح كى تنقيد كا نشانہ ہيں-

بلكہ سيكولر طبقہ شریعت كے حوالے سے ايسے قوانين كى ناكامى ثابت كركے سارى شریعت ِمحمديہ كو دورِ حاضر كے لئے ناقابل عمل باور كرانے ميں كوشاں ہے- اسى لئے ميں نے اپنے مقالہ ميں ’شريعت كى تقنین كے مسئلہ‘ كو مركزى خيال كے طور پر پيش كرنے كى كوشش كى ہے-اگرچہ مجهے اس كا احساس ہے كہ بہت سے حضرات جو سعودى عرب سميت خلیجى ممالك كے دستورى اور قانونى نظام سے ناواقف ہيں، ان كے لئے يہ فكر اجنبى ہوگا-


 حوالہ جات
1. مصطفى كمال وصفى،ڈاكٹر: مصنفة النظم الإسلامية، مكتبة وهبة،قاہرہ (1977ء) ص 681 تا 713
2. اسحق زاہد، حافظ: سعودى عرب كا دستور ، اُردو ترجمہ ماہنامہ ’محدث‘:ج 23/ عدد 2، ص 210تا 225
3. فاروق اخترنجيب :سياست ورياست ،علمى كتاب خانہ ،اُردو بازار،(1981ء) ص108
4.سورة النساء /59                                               
5. ا . ابن عبد البر: الانتقاء،ص 43،44
ب. ابن جوزى : مناقب احمد بن حنبل،مطبعة عبد الفتاح الطويل،قاہرہ ،مصر : ص 416 تا 458
6. محمد ابو زہرہ : حيات امام ابو حنيفہ  ، مترجم غلام احمد حريرى ،ملك سنز،فيصل آباد(1983ء) ص 97
7.سورة الانبياء/7                                
8. سورة يوسف/76
9. ا طبرى ،ابو جعفر محمد بن جرير:جامع البيان في تاويل القرآ ن ، آيت 34 ،دار الكتب العلميہ، بيروت (1992ء) ج6/ص 361
ب. قرطبى ، ابو عبد اللہ محمد بن احمد الأنصاري:الجامع لأحكام القرآن ، مكتبة الغزالي دمشق ،ج 8/ص 124
10.  سورة المائدة /3
11. قلعہ جى ،محمد رواس، ڈاكٹر: فقہ حضرت عمر  ، مترجم: ساجد الرحمن صديقى ، ادارہ معارف اسلامى، منصورہ، لاہور (جنورى 1990ء)ص 77
12.  ابن قدامہ حنبلى، ابو محمد عبد اللہ بن احمد:المغنى ، مطبعة عبد الفتاح الطويل، قاہرہ ،مصر (1992ء) 9/ 546
13.  سورة البقرة/221                                           
14.  سورة النساء/59               
15.  شنقيطى، محمد امين بن المختار: تفسير اضواء البيان، مكتبہ ابن تيميہ، قاہرہ ( 1992ء) ج1/ص 292، 293
16.  بخارى، محمد بن اسمٰعيل: صحيح بخارى ، دار السلام ،الرياض ، ص 1544
17.  طبرى،ابو جعفر محمد بن جرير:جامع البيان في تاويل القرآ ن ،دار الكتب العلمية،بيروت (1992ء) 6/291
18.  سورة الانفال/67